00:00Film story starts from 1990
00:02India and Punjab and in Hindi
00:06We can see that young people get beaten up to one girl
00:10to give a name
00:11which has been named
00:13This is the name of a girl
00:14She is named
00:15by her daughter
00:17But she is not even
00:18She is named
00:19She is a girl
00:20She is named
00:23She is named
00:25She
00:26F.I.R.D.R.D.R.D.R.J.
00:56F.I.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D.R.D
01:26It's been a long time.
01:56।
01:57।
02:26।
02:33दूस्तो
02:35वेडीयो को लाइक फॉटी पकड़ लेते हैं।
02:38पीर आइकश्टी जबाना
02:39ताके जब भी हमारी नई वीडियो आए
02:41तो आपको उसके बारे में पता चल जाए।
02:43सर्बजीत निकला तो अपने घर के लिए था
02:46पन्व बंदा इस से आकर कहता है
03:10सर्भ जीत शयद डरा होता है या शयद घबराया होता है
03:14Just explain, you understand that the expectation of it is A voice to a voice that's about him is not living anymore,
03:18Sarbajit کے ڈبے کو کھولا جاتا ہے
03:20اور اس کے ڈبے میں چوہیں ڈال دیا جاتے ہیں
03:23اور ڈبے کو بند کر دیا جاتا ہے
03:25اور Sarbajit ان چوہوں کے ساتھ
03:27اکیلا ہوتا ہے
03:28بہت دنوں یا مہینوں تک
03:30Sarbajit کے ساتھ بہت کچھ ہوتا ہے
03:32پھر ایک دن Sarbajit کو
03:33ڈبے سے باہر نکالا جاتا ہے
03:35اور اس کی حالت ایسی ہوتی ہے
03:37یہ Sarbajit کو
03:38Ranjit Singh کہہ رہے ہوتے ہیں
03:40Ranjit Singh نے پاکستان میں
03:42پانچ بم بلاسٹ کیے ہوتے ہیں
03:44Sarbajit کو الٹا لٹکا کر مارا جاتا ہے
03:47اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے
03:49Sarbajit کیمرہ کے سامنے
03:50اپنے آپ کو Ranjit Singh بول دیتا ہے
03:53اور وہ سب بولتا ہے
03:54جو اس سے بولا جاتا ہے
03:56جو کہ Sarbajit کو نہیں کرنا چاہیے تھا
03:58دوستوں مجبوری انسان سے
04:00بہت کچھ کرواتی ہے
04:02Sarbajit کو عدالت میں لائے جاتا ہے
04:04Sarbajit کی ایک آدمی سے بات چیت ہوتی ہے
04:07اور وہ Sarbajit کو
04:08چپکے سے ایک پین اور کاغذ دیتا ہے
04:10اس پین سے Sarbajit نے کاغذ پر لکھا
04:13اور وہ کاغذ ڈاک کے ذریعے
04:15انڈیا میں اس کی بہن کو مل گیا
04:17جو Sarbajit کے ساتھ پاکستان میں ہوا
04:19اس نے اپنی چٹھی میں
04:21اس بارے میں لکھا ہوتا ہے
04:22پھر کہانی آ جاتی ہے
04:2316 آگست 1991 میں
04:26دلبیر نے کافی چٹھیاں پاکستان میں
04:28Sarbajit کے پاس بھیجی ہوتی ہیں
04:30پر سب چٹھیاں واپس آ گئیں
04:32دلبیر کو ایک بچہ بتاتا ہے
04:34کہ Sarbajit کو ٹی وی پہ دکھایا گیا ہے
04:36پر جب وہ پہنچتی ہے
04:38تب تک Sarbajit کی خبر ہٹ چکی ہوتی ہے
04:40وہ ٹی وی پہ Sarbajit کو
04:42دیکھنے کے لیے انتظار کرتی ہے
04:44پر ٹی وی پہ Sarbajit نہیں آتا
04:46پھر وہی بچہ دلبیر کو
04:48اردو زبان والا اکبار دکھاتا ہے
04:50اور بتاتا ہے کہ اس میں لکھا ہے
04:52کہ رنجیت سنگھ کو سزائے موت
04:54اور وہ سمجھ جاتی ہے
04:55کہ رنجیت سنگھ کو نہیں
04:57بلکہ Sarbajit کو سزائے موت ہو گئی ہے
04:59اکبار میں Sarbajit کی تصویر بھی چھپتی ہے
05:02Sarbajit کا باپ دلبیر کو
05:04اکبار دیکھ کے بتاتا ہے
05:06کہ صرف سزا سنائی ہے تاریخ نہیں دی
05:08اب Sarbajit کی فیملی دکھی ہوتی ہے
05:11اور دوسری طرف
05:12Sarbajit پاکستانی جیل میں
05:14بری حالت میں ہوتا ہے
05:15دلبیر Sarbajit کے معاملے کو لے کر
05:17منتری نیتا
05:19پولیٹیشنز کے پاس جا رہی ہوتی ہے
05:21پر ایک پولیس والا اسے بتاتا ہے
05:23کہ Sarbajit کا پردان منتری ہی کچھ کر سکتا ہے
05:26پردان منتری یعنی کہ
05:28پرائم منسٹر Sarbajit کو
05:30جیل میں اس کی بیوی کی چٹھی آتی ہے
05:32وہ اس چٹھی کو پڑتا ہے
05:34پر دوستوں یہ چٹھی نہیں آئی ہوتی
05:36یہ Sarbajit کا محض
05:38ایک خیال ہوتا ہے
05:39اسے اپنی بیوی کی یاد آتی ہوتی ہے
05:41یہ اور اس کی بیوی ایک دوسرے کے ساتھ
05:44خوش تھے
05:44وہیں دوسری طرف دلبیر اب
05:46پرائم منسٹر سے ملنا چاہتی ہوتی ہے
05:48یہ دلی آئی ہوتی ہے
05:50یہ پرائم منسٹر کا
05:51اپوائنٹمنٹ لینے کے لیے
05:53کئی دن انتظار کرتی ہے
05:54ایک سال گزر جاتا ہے
05:56دلبیر پرائم منسٹر سے
05:57بات کرنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے
06:00اور Sarbajit جیل میں
06:01ہنٹنٹ ٹوڑ رہا ہوتا ہے
06:03دوستوں جیل میں جو چیز
06:04انسان کو سب سے زیادہ تنگ کرتی ہے
06:06وہ وقت ہوتا ہے
06:08کیونکہ وقت بہت آہستہ
06:09گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے
06:11اور Sarbajit کو ایسی ہی عالت میں
06:13چھ مہینے اور گزر جاتے ہیں
06:15اور آخر کار دلبیر کو
06:17پرائم منسٹر سے ملنے کا
06:19موقع مل جاتا ہے
06:20پرائم منسٹر Sarbajit والے
06:22ماملے کے بارے میں
06:23دلبیر سے
06:23بس یہ کہتا ہے
06:25کہ ہم دیکھتے ہیں
06:26کہ ہم کیا کر سکتے ہیں
06:27جیل میں نیا سپرنٹینڈنٹ آتا ہے
06:29اسے ہندوستانیوں سے
06:31خاص کر Sarbajit سے
06:32اسے بہت نفرت ہوتی ہے
06:34اور وہ Sarbajit کو
06:35کال کوٹھری میں
06:36ڈلوا دیتا ہے
06:37جیل میں Sarbajit کی
06:38اپنے گھر والوں سے
06:39چٹھیوں کے ذریعے
06:40بات ہو رہی ہوتی ہے
06:42دلبیر Sarbajit کے لیے
06:43جگہ جگہ پہ
06:44دعا کر رہی ہوتی ہے
06:46اور تو اور وہ
06:47قرآن بھی پڑھتی ہے
06:48دلبیر وہاں جاتی ہے
06:49جہاں سے چل کے
06:50Sarbajit پاکستان میں
06:51چلا گیا تھا
06:52وہاں پہ بارڈر
06:53لگ گیا ہوتا ہے
06:54اگر یہ بارڈر
06:55پہلے ہی لگ گیا ہوتا
06:57تو شاید Sarbajit
06:58اپنے گھر والوں کے
06:59ساتھ ہوتا
06:59Sarbajit کی بیٹیاں
07:01سکول جا رہی ہوتی ہیں
07:02پر اسے پتہ بھی نہیں
07:03ہوتا کہ اس کی
07:04بیٹیاں کیسی دکھتی ہیں
07:06ایک دن دیوالی ہوتی ہے
07:07اور Sarbajit کے
07:08پاپا مر جاتے ہیں
07:09سن 1998 میں
07:11اور سن 1999 میں
07:13پاکستان نے
07:14نیوکلیر ہتھیاروں
07:15کا ٹیسٹ کیا
07:16اور اس کے بعد
07:17سن 1999 میں
07:18انڈیا اور پاکستان میں
07:20کارگل میں
07:21جنگ شروع ہو گئی
07:22اور پھر کہانی
07:23سال 2001 میں
07:24آ جاتی ہے
07:25Sarbajit کے پاس
07:26جیل کے پولیس والے
07:27آتے ہیں
07:28عید کا دن ہوتا ہے
07:29اور جیل والا
07:30Sarbajit کو بتاتا ہے
07:32کہ آج
07:32سپرنٹینڈنٹ
07:33خوش ہے
07:34Sarbajit اس سے
07:35سپرنٹینڈنٹ سے
07:36اس کی ایک درخواست
07:37کرنے کا کہتا ہے
07:38جو کہ ہوتی ہے
07:40کہ میری ایک تصویر
07:41میرے گھر بجوا دو
07:42اور بتاتا ہے
07:43کہ میری آخری تصویر
07:44میرے گھر والوں نے
07:45دس سال پہنے دیکھی تھی
07:46تین سال سے
07:47کسی چٹھی سے بھی
07:48بات نہیں ہوئی
07:49اب ہوتا ہے
07:50سال 2002
07:51اور دلبیر
07:52چیف منسٹر سے
07:53ملنے آئی ہوتی ہے
07:54دلبیر نے
07:55چیف منسٹر کو
07:56پرائم منسٹر کی
07:57چٹھی دینی ہوتی ہے
07:58پر چیف منسٹر
07:59Sarbajit کو
08:00آتنک وادی کہتا ہے
08:01آتنک وادی
08:02دہشت گرد
08:03اور ٹیررلسٹ
08:04تین اور ایک ہی ہوتے ہیں
08:06وہ کہتا ہے
08:06تمہارے بھائی کی وجہ سے
08:08ناک کٹ گئی ہے
08:09ہماری پاکستان کے سامنے
08:10ہم کیا ان پر
08:11انگلی اٹھائیں
08:12ہمیں شرمندہ
08:13کرنے کے لیے
08:14اس کا مدہ ہی کافی ہے
08:15وہ دلبیر کے سامنے
08:16ایک اخبار پھینکتا ہے
08:18جس میں
08:18سربجیت کو
08:19ٹیررلسٹ چھاپا ہوتا ہے
08:21دلبیر وہاں سے جاتی ہے
08:22اور ایک بزار میں
08:24اس اخبار کو
08:24پکڑ کے بیٹھ جاتی ہے
08:26سربجیت کی بیوی
08:27اور بیٹیاں بھی
08:28اس کے ساتھ آ جاتی ہیں
08:29سربجیت کی بیٹیوں
08:31نے بینڈ پکڑے ہوتے ہیں
08:32جن پہ لکھا ہوتا ہے
08:33کہ ہمارے پاپا
08:34وقت گزرتا ہے
08:35اور لوگ ان کے ساتھ
08:37شامل ہو جاتے ہیں
08:38دس دن گزر جاتے ہیں
08:39اور یہ بھوک ہڑتال
08:40پہ بیٹھے ہوتے ہیں
08:41نیوز والے ان کے پاس آتے ہیں
08:43اور یہ نیوز پہ بھی
08:44آنے لگتے ہیں
08:45اور سربجیت کے گاؤں
08:47بیکی ونڈ کے لوگ
08:48ان کے ساتھ جڑ جاتے ہیں
08:49بیس دن گزر جاتے ہیں
08:51ان کی حالت خراب ہونے لگتی ہے
08:53اور نیوز پہ
08:54لوگ انہیں دیکھتے ہیں
08:55دوستو سربجیت کو
08:57پاکستان کے سپریم کورٹ
08:59نے پانسی کی سزا دی ہوتی ہے
09:01اور اس معاملے کے بارے میں
09:02انڈیا کے پارلیمنٹ میں
09:03بھی بات ہوتی ہے
09:04دلبیر کے لیے
09:05کینیڈا سے
09:06ہیومن رائٹس والوں کی طرف سے
09:08فون آتا ہے
09:09اور ان کے مطابق
09:10وہ سربجیت کے لیے
09:11کچھ کریں گے
09:12جس پہ یہ لوگ
09:13خوش ہو جاتے ہیں
09:14پھر سربجیت کے پاس
09:15جیل میں ایک بندہ آتا ہے
09:17وہ سربجیت کی
09:18بیڑیاں نکالنے کا کہتا ہے
09:20اور سربجیت کی
09:21جیل بھی
09:22ساف کرنے کا کہتا ہے
09:23کیونکہ اگر
09:24سربجیت کو
09:25ایسی حالت میں
09:25دیکھ لیا گیا
09:26تو فورن ایڈ
09:27بند ہو جائے گی
09:28فورن ایڈ
09:29یعنی کہ
09:29گیر ملکی امداد
09:31یہ بندہ پاکستانی ہوتا ہے
09:33اور یہ سربجیت
09:34کو ایک ڈبا دیتا ہے
09:35جو کہ
09:36سربجیت کے
09:36گھر وانوں نے
09:37بھیجا ہوتا ہے
09:38اس میں کھانا ہوتا ہے
09:39اور سربجیت
09:40وہ کھانا کھاتا ہے
09:42اور ایک کاغذ ہوتا ہے
09:43جس پہ
09:44ڈرائنگ بنی ہوتی ہے
09:45یہ ڈرائنگ
09:46سربجیت کی
09:47بیٹیوں میں سے
09:47کسی نے بنائی ہوتی ہے
09:48سربجیت کی
09:49بیڑیاں نکال دی جاتی ہیں
09:51دلبیر کو
09:52ایک جگہ پہ
09:53لوگوں کے سامنے
09:53بولنے کا موقع ملتا ہے
09:55یہ یہاں پہ
09:56سربجیت کے ساتھ
09:57ہو رہی
09:57نائنصافی کے بارے میں
09:59آواز اٹھانے کی
10:00بات کرتی ہے
10:01اور اس معاملے میں
10:02اس کا ساتھ
10:02دینے کی بات کرتی ہے
10:04پاکستان کے
10:05پریزیڈنٹ نے
10:05ہنڈیا اور پاکستان
10:07کے بہتر رشتوں کی طرف
10:08پہل کرتے ہوئے
10:09ایک ہندوستانی قیدی
10:11کو رہا کرنے کا
10:12فیصلہ کیا
10:13جو کہ پاکستان کی
10:14جیل میں پچھلے
10:1535 سال سے
10:16سزا کارڈ رہا تھا
10:18وہ بندہ نیوز پہ
10:19بتاتا ہے کہ وہ
10:20پاکستان میں
10:21انڈیا کا جاسوس
10:22بن کے گیا تھا
10:23اس کے بعد
10:24پاکستان کے لوگ
10:25گستے میں آ گئے
10:26اور وہ نیوز پہ
10:27اپنا گصہ دکھانے لگے
10:28اب سال 2008
10:30ہوتا ہے
10:31اور سربجیت
10:32پچھلے 18 سال سے
10:33پاکستان کی
10:34کوٹ لکپت
10:35جیل میں ہوتا ہے
10:36اور پاکستانی
10:37پریزیڈنٹ
10:38سربجیت کی
10:38فانسی کی سزا
10:39کس دن بعد
10:40مکرر کر دیتے ہیں
10:42دلبیر سربجیت
10:43کو بچانے کی
10:44کوشش میں لگی ہوتی ہے
10:45سربجیت کی
10:51میں تھک چکی ہوتی ہے
10:52سکھ پریت
10:53اس آگ کو
10:54بھجاتی ہے
10:54دلبیر کو
10:55اپنی بے بسی
10:56کا احساس ہوتا ہے
10:57پر وہ
10:58ہمت نہیں ہارتی
10:59یہ لوگوں کے ساتھ
11:00سڑک پہ بیٹھ جاتی ہے
11:02رستہ بند ہو جاتا ہے
11:03اور ایک بندہ
11:04یہاں پہ آکے
11:05انہیں دیکھ لیتا ہے
11:06اور یہ دلبیر
11:07اور اس کے پریوار
11:08کا ویزا لگوا دیتا ہے
11:09اور یہ اب
11:10پاکستان جا رہے ہوتے ہیں
11:12دلبیر کا پتی بھی
11:13دلبیر کے ساتھ
11:21اجازت مل جاتی ہے
11:22سربجیت کو
11:23اس بارے میں
11:23بتایا جاتا ہے
11:24اور وہ
11:25خوش ہو جاتا ہے
11:26سربجیت
11:27جیل والے سے
11:27اجازت لے کے
11:28چائے خود بناتا ہے
11:30وہ جیل کو
11:31اور اپنے آپ کو
11:32صاف کرتا ہے
11:33وہیں دوسری طرف
11:34سربجیت کے پاس
11:35آنے سے پہلے
11:36ان کی تلاشی
11:37لی جاتی ہے
11:37اور پھر انہیں
11:38سربجیت کے پاس
11:39لیا جاتا ہے
11:40اور کئی سالوں کے بعد
11:41یہ سربجیت کو
11:42ملتے ہیں
11:43اور سربجیت کی
11:44بیٹیاں
11:44اپنے باپ کو
11:45دیکھتی ہیں
11:46اور سربجیت
11:47اپنی بیٹیوں کو
11:48دیکھتا ہے
11:48سکھ پریت پوچھتی ہے
11:50کہ ٹھیک ہو
11:50جس پہ سربجیت
11:52کہتا ہے اب ہوں
11:53ان میں باتیں ہوتی ہیں
11:54سکھ پریت
11:55سربجیت کو
11:56کھانا دیتی ہے
11:56دلبیر
11:57سربجیت کو
11:58راکھی باندھتی ہے
11:59اور اسے کمبل
12:00دیتی ہے
12:01ملاقات کا
12:02وقت پورا ہو جاتا ہے
12:03اور انہیں
12:03واپس لے جایا جاتا ہے
12:05انہیں صرف
12:14لیکن اسے
12:15روک دیا جاتا ہے
12:16سربجیت کے
12:17رنجیت سنگھ
12:18ہونے کا
12:18جو چشمدی
12:19دکھوا ہوتا ہے
12:20وہ نیوز پہ
12:21اپنے بیان سے
12:22مکر جاتا ہے
12:23اس کے مطابق
12:24پولیس والوں نے
12:25سربجیت کو
12:25رنجیت سنگھ
12:26بولا
12:27اور اس نے
12:27مان لیا
12:28دلبیر
12:29سربجیت کی
12:29پھانسی
12:30رکوانا چاہتی
12:31ہوتی ہے
12:31پر اس کے
12:32باوجود بھی
12:33نہیں رکوانا پاتی
12:34اسے ایک
12:35مافی نامہ
12:35دیا جاتا ہے
12:36اگر وہ
12:37ستائیس فیملیز
12:38سربجیت کے
12:38مافی نامے پہ
12:39سائن کر دیں
12:40جن کے
12:41اپنے بم
12:41بلاسٹ میں
12:42مارے گئے
12:43تو سربجیت
12:43کو مافی
12:44مل جائے گی
12:45دوستوں
12:45دلی کی
12:46جامعہ مسجد
12:47کے شاہی امام
12:48سید احمد بخاری
12:49اپنی اپیل میں
12:50پاکستانی
12:51عوام اور
12:52صدر پاکستان
12:53سے
12:53سربجیت کے
12:54مدے کو
12:55انسانیت کی
12:56نظر سے
12:56دیکھنے کا
12:57کہتے ہیں
12:57دلبیر کے پاس
12:58ایک بندہ آتا ہے
12:59اور وہ
13:00اس مافی نامے پہ
13:01سائن کر دیتا ہے
13:02اس کے مطابق
13:03اس کے بھائی کے
13:04گناہوں کی سزا
13:05خدا تہہ کرے گا
13:06یہ لوگ
13:06پاکستان سے
13:07جا رہے ہوتے ہیں
13:08کہ انہیں پتہ چلتا ہے
13:10کہ سربجیت کی
13:10پھانسی روک دی گئی ہے
13:12کیونکہ پاکستان میں
13:13حکومت بدل گئی ہوتی ہے
13:15اور نئی حکومت
13:16نے سزائے موت پر
13:17سٹے لگا دیا ہوتا ہے
13:19وہیں دوسری طرف
13:20نیوز پہ بتایا جاتا ہے
13:21کہ انڈیا میں
13:22ممبئی میں
13:23کسی پاکستانی
13:24ٹیررسٹ
13:25اجمل کساب
13:25نے حملے کیے ہیں
13:27لہور سے
13:27امرت سر ایک بس آتی ہے
13:29یہ پاکستان اور
13:30انڈیا کی
13:31دوستی والی بس ہوتی ہے
13:32اور اس بس میں سے
13:33صرف ایک آدمی نکلتا ہے
13:35وہاں پہ
13:35کافی لوگ ہوتے ہیں
13:36اور پاکستان
13:37واپس جاؤ کے
13:38نعرے لگا رہے ہوتے ہیں
13:40پر صرف
13:47ایک وکیل ہوتا ہے
13:48یہ دلبیر کو بتاتا ہے
13:50کہ اب سے پاکستان میں بھی
13:51سربجیت کا کوئی اپنا ہوگا
13:54اویس کو پتا چلتا ہے
13:55کہ سربجیت کا وکیل
13:56پچھلی تین تاریخوں میں
13:58آیا ہی نہیں
13:58اویس ایک اور تاریخ کی
14:00اپیل کرتا ہے
14:01لیکن تاریخ نہیں ملتی
14:0348 گھنٹے ملتے ہیں
14:04سربجیت کے وکیل کو
14:06ایک آخری پٹیشن
14:07ڈالنے کے لیے
14:08یہ سربجیت کے وکیل سے
14:10ملتا ہے
14:10اور وہ اپیل ڈالنے کے لیے
14:12تیار نہیں ہوتا
14:13یہ دلبیر سے
14:14سربجیت کی
14:15پاور اوف اٹرنی
14:16ای میل کرنے کا کہتا ہے
14:17یہ جیل میں
14:18سربجیت سے ملنے جاتا ہے
14:20سربجیت کی حالت
14:21ایسی ہوتی ہے
14:22کہ جیسے وہ
14:22بس اپنی زندگی
14:23گزار رہا ہے
14:24اویس بنا بتائے
14:25اندر کاغذات
14:26لائے ہوتا ہے
14:27اور وہ سربجیت سے
14:28سائن کروا لیتا ہے
14:30اور یہ سربجیت
14:31کا وکیل بن جاتا ہے
14:32سربجیت اس سے
14:33کہتا ہے
14:34کہ دو منٹ
14:34بیٹھ جاؤ
14:35مجھ سے نہ
14:36زیادہ لوگ
14:36ملنے نہیں آتے
14:38اور اویس وعدہ
14:39کرتا ہے
14:39کہ جلد لوٹوں گا
14:40یہ دلبیر سے
14:41ملنے جاتا ہے
14:42یہ انہیں ایک
14:43لیپ ٹوپ دیتا ہے
14:44اور انہیں
14:44انٹرنیٹ پہ
14:45گوگل پہ
14:46رنجیت سنگھ
14:47کو ڈونڈنے کا
14:48کہتا ہے
14:48انٹرنیٹ پہ
14:49انہیں اصلی
14:50رنجیت سنگھ
14:51نظر آ جاتا ہے
14:52اور کینیڈا میں
14:53ایک بندہ
14:53دلبیر کو
14:54رنجیت سنگھ
14:55کے بارے میں
14:56خبر دیتا ہے
14:56اور پھر
14:57اسنی رنجیت سنگھ
14:58نیوز پہ آنے لگتا ہے
14:59ایک طرف
15:00پاکستان میں
15:01لوگ
15:01اویس شیک کے
15:02خلاف ہو جاتے ہیں
15:03اور وہیں
15:04دوسری طرف
15:04سربجیت
15:05جیل میں
15:06اپنا وقت
15:06گزار رہا ہوتا ہے
15:08سربجیت کی
15:08ایک بیٹی کی
15:09شادی ہو جاتی ہے
15:10دلبیر کو
15:11ایک پولیس والا
15:12بتاتا ہے
15:12کہ رنجیت سنگھ
15:14چنڈی گھڑ میں
15:14گرفتار ہوا ہے
15:16اس کی عدالت میں
15:17پیشی ہوتی ہے
15:18اور دلبیر
15:18کو وہ
15:19نظر آ جاتا ہے
15:20دلبیر اس کے پاس
15:21جاتی ہے
15:22اور اسے
15:22دھمکیاں دیتی ہے
15:23پر اسے
15:24کوئی پرواہ نہیں ہوتی
15:25وہ تو ایسے
15:26بات کرتا ہے
15:27کہ مانو جیسے
15:27اسے کسی بات
15:28کا ڈر ہی نہیں ہوتا
15:30ایک بندہ
15:30سربجیت کو
15:31بتاتا ہے
15:32کہ کوئی دوسرا
15:33قیدی مسلمان
15:34بن گیا ہے
15:34اور سنا ہے
15:35کہ اسے
15:36رہائی بھی
15:36ملنے والی ہے
15:37اور دوستوں
15:38سربجیت
15:38یہ بات
15:39صاف کر دیتا ہے
15:40کہ اسے
15:41بہت مشکل سے
15:42اپنی پہچان
15:43واپس ملی ہے
15:44اب وہ
15:44اپنی پہچان
15:45نہیں بدلے گا
15:46دوستوں
15:46مومبئی کے
15:47چھپیس گیارہ
15:48ملے حملے کا
15:49ملزم پاکستانی
15:50ہوتا ہے
15:51جس کا نام
15:51اجمل کساب
15:52ہوتا ہے
15:53اور انڈیا کے
15:54سپریم کورٹ
15:55کی طرف سے
15:55اس کی پھانسی کی
15:56سزا
15:57مکرڑ ہو جاتی ہے
15:58اس وجہ سے
15:59پاکستان میں
16:00اویس کو
16:00سربجیت سے
16:01ملنے ہی نہیں
16:02دیا جا رہا ہوتا
16:03اویس صرف
16:04دلبین کا
16:05ویزا لگوا پاتا ہے
16:06سربجیت کی
16:07جدائی سکھ پریت
16:08پہ برا اثر
16:09ڈال رہی ہوتی ہے
16:10اور وہیں
16:11سربجیت کو
16:1221 سال ہو گئے
16:13ہوتے ہیں
16:13کسی دوسرے
16:14انسان کو
16:15گلے لگائے
16:16سربجیت
16:16اپنا کابو
16:17کھو رہا ہوتا ہے
16:18پر تبی وہاں
16:19دلبیر آ جاتی ہے
16:20اور وہ
16:21اسے سنبالتی ہے
16:22اویس اور یہ
16:23جیل سے باہر آتے ہیں
16:24اور دیکھتے ہیں
16:25کہ اویس کے
16:26سکوٹر کو
16:26کسی نے آگ لگا دی ہے
16:28دلبیر کے پاس
16:29پاکستانی
16:30نیوز والے آتے ہیں
16:31اور دلبیر
16:32نیوز پہ
16:32بولتی ہے
16:33اور دلبیر کے
16:34بارے میں
16:34نیوز میں
16:35چھپتا ہے
16:36یہ اپنے بھائی سے
16:37ملنے جاتی ہے
16:38اور سربجیت
16:39اسے خود کھانا دیتا ہے
16:48آتی ہیں
16:49انڈیا میں
16:49ایک پاکستانی
16:50کو چھوڑنے کا
16:51فیصلہ کیا جاتا ہے
16:52اور پھر
16:53سربجیت کو
16:54چھوڑنے کا بھی
16:55حکم دیا جاتا ہے
16:56پر جب یہ
16:57بورڈر پہ جاتے ہیں
16:58تب انہیں
16:58سربجیت نہیں
16:59بلکہ کوئی اور
17:00نظر آتا ہے
17:01پتہ چلتا ہے
17:02کہ یہ سربجیت
17:03سنگھ کو نہیں
17:03بلکہ سرجیت
17:05سنگھ نام کے
17:05بندے کو
17:06چھوڑ رہے ہیں
17:07اس دکھ میں
17:07دلبیر خود
17:08کوشش کرتی ہے
17:10لیکن
17:10نکان ہو جاتی ہے
17:12سکھ پریت
17:12اسے سمجھاتی ہے
17:13کہ سربجیت
17:14اگر آج زندہ ہے
17:15تو وہ
17:16اسی کی وجہ سے ہے
17:17اور وہ
17:17اسے قدم
17:18پیچھے ہٹانے سے
17:19منہ کرتی ہے
17:20اور دلبیر
17:21اویس سے
17:22پٹیشن ڈالنے کا
17:23کہتی ہے
17:23سربجیت کی
17:24فیملی چار دن سے
17:25بھوکھڑ تال پہ
17:27بیٹھی ہوتی ہے
17:27اور ایک
17:28رویندر نام کا
17:29پولٹیشن
17:30ان کے پاس آتا ہے
17:31اور وہ
17:31وعدہ کرتا ہے
17:32کہ اب سے
17:33سرکار بھی
17:34ان کے ساتھ ہے
17:35یہ بندہ
17:35وہی ہوتا ہے
17:36جس نے ان کے
17:37پاکستان کے
17:38ویزے لگوائے تھے
17:39ممبئی
17:39چھبیس گیارہ
17:40والے پاکستانی
17:41اجمل کساب کو
17:42انڈیا میں
17:43پھانسی دے دی جاتی ہے
17:44اس وجہ سے
17:45پاکستان میں
17:46حالات اور
17:47خراب ہو جاتے ہیں
17:48اور دوستوں
17:48سربجیت کو
17:49پتا چلتا ہے
17:50کہ پاکستانی
17:51جیل میں
17:51وہ لوگ
17:52مارے جا رہے ہیں
17:53جو کہ