- 1 year ago
Ye kahani ak baby ki hai Jo susral sy
Category
🦄
CreativityTranscript
00:00بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:02السلام علیکم میری پیاری بہنوں اور بھائیوں
00:05آج کی اس ویڈیو میں ہم آپ لوگوں کو دو بہو کی سٹوری سنائیں گے
00:11یہ سٹوری بہت ہی دلچسپ
00:13فہلی آزا آپ لوگوں سے گزارشیں کی ویڈیو کو شروع سے لے کر آکر تک ضرور دیکھئے گا
00:19اگر اس چینل پہ پہلی بار آئے ہو تو چینل کو سبسکرائب ضرور کیجئے گا
00:24کسی پہاڑے علاقے کے چھوٹے سے گاؤں میں دو بہویں اپنے ساس کے ساتھ رہتی تھی
00:31ایک بہو کا نام انایا تھا اور ایک کا نام آسیا تھا
00:36اور ساس کا نام زیتون تھا
00:39وہ تینوں اس چھوٹے سے گھر میں رہتے تھے
00:42زیتون کے دو ہی بیٹے تھے
00:45ایک کا نام ایلی تھا اور ایک کا نام احمد تھا
00:48وہ دونوں بیٹے دور کہیں دوسرے ملک گئے ہوئے تھے
00:53زیتون کی بہو آسیا ایک گریب گھرانے سے تعلق رکھتی تھی
00:57اور اسلامی اصولوں پر سکت عمل کرتی تھی
01:00پانچ وقت کی نماز پابن کے ساتھ پڑتی تھی
01:04اور صبح صبح قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھی
01:08وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی ذکر میں مشغول رہتی تھی
01:13دوسری طرف انایا ایک امبیر گھرانے کی لڑکی تھی
01:17مگر اس کا رویہ بگڑا ہوا تھا
01:20اور وہ شادی کے موقع زیادہ جہز لائی تھی
01:24آسیا نے اپنے شادی میں کچھ بھی جہز نہیں لایا تھا
01:28کیونکہ آسیا کے ماں باپ بہت ہی زیادہ غریب تھے
01:32لیکن وہ دونوں محنت کشتے
01:34انہوں نے محنت مزدوری کر کے
01:37اپنی بیٹی آسیا کو دینی تحلیم دلوائی تھی
01:41اب آسیا کی ساز زیتون آسیا پر بہت ظلم کرتی تھی
01:46کیونکہ وہ غریب گھرانے کی لڑکی تھی
01:49اسے نوکرو کی طرح کام کرواتی تھی
01:52زیتون کے دو ہی بیٹے تھے
01:55احمد اور علی
01:56وہ دونوں اکثر باہر ملک میں ہی رہتے تھے
02:00زیتون آسیا کو ہر ممکن طریقے سے
02:03زلیل کرنا شروع کر دیتی ہے
02:05زیتون آسیا کو گھر کے تمام کام صوب دیتی ہے
02:10آسیا گھر کے تمام کام
02:12برتن دھونا کھانا پکانا
02:14جھاڑو لگانا اور اس کے ساتھ ساتھ
02:17وہ کھیتوں کا کام بھی کرتی تھی
02:19زیتون نے دھود کے لیے ایک گائے بھی رکھی تھی
02:23اور پانچ چھے بکریہ بھی تھی
02:25آسیا صبح صبح گھر کا پورا کام کر کے
02:29کھیتوں میں ان کے لیے گھاس لاتی
02:32اور ان کو گھاس چارہ پانی سب کچھ دیتی
02:35پھر گھر کا پورا کام خود ہی ایکیلی کیا کرتی
02:39وہ صبح سے شام تک کام میں لگی رہتی
02:42کسی کو اس پر ترس نہیں آتا
02:45آسیا ایک پرائیویٹ ادارے میں
02:47بچوں کو دینی تعلیم دیتی تھی
02:50یہاں اسے تھوڑی سی تنخوا ملتی تھی
02:53وہ اپنی تنخوا سے زیتون کو کچھ پینسے بھی دیتی تھی
02:57تاکہ گھر کے مالی حالات میں
03:00تھوڑی بہت مدد ہو سکے
03:02لیکن زیتون کے پاس آسیا کے لیے
03:05محبت اور قربانیوں کی قدر کرنے کا وقت نہیں ہے
03:09لیکن اس کے دماغ میں صرف پینسو کا لالج بھرا ہوا تھا
03:14جو کہ انائیہ کے پینسے اور احمد کی تنخوا ہی اس کے لیے اہم تھی
03:19اسی لیے وہ آسیا کو اہمیت نہیں دیتی تھی
03:22اس سے سارا دن نوکرو کی طرح کام کرواتی تھی
03:27آسیا اپنی محنت کے باوجود زیتون کی سکتیوں اور گھر کے کاموں میں
03:32الجی ہوئی تھی
03:34اس کا شہر علی جو کی باہر ملک میں محنت کرتا ہے
03:38ایک معمولی مزدور ہے اور اپنی کمائی سے ہی گھر کا خرچہ چلاتا ہے
03:44علی کی غیر موجودگی میں آسیا کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
03:51ایک دن جب علی گھر واپس آتا ہے زیتون نے آسیا پر تنقید کرنا شروع کر دی
03:59اس نے علی سے کہا آسیا گھر کا کوئی کام نہیں کرتی ہے
04:04یہ کچھ نہیں کرتی اس کا کام صرف گھر کے کاموں میں ہی وقت گزرتا ہے
04:10اور باقی باہر کھیتوں کا کام میں خود کرتی ہوں
04:15میں صبح سے شام تک کھیتوں میں لگی رہتی ہوں
04:19بہت دفعہ مجھے کھیتوں میں دھوب کی وجہ سے چکر آ گیا اور میں زمین پر گر پڑھی
04:25زیتون جھوٹ بول کر اپنے بیٹے علی کو آسیا کی خلاب بھڑکانا چاہتی تھی
04:32زیتون نے آسیا کی محنت اور اس کی قربانیوں کو نظر انداز کر دیا
04:38اور صرف اس کی مدد نہ کرنے کی بات کی
04:42علی کی ماں کی ان جھوٹی باتوں پر شک ہونے لگا
04:46علی من ہی من میں سوچنے لگا کہ آسیا تو مجھے کہتی تھی
04:50کہ میں کھیتوں کا سب کام اکیلی کرتی ہوں
04:54اب اس کے من میں شک پیدا ہو گیا
04:57کہ آسیا جھوٹ بول رہی ہے یا میری ماں جھوٹ بول رہی ہے
05:01علی نے یہ فیصلہ کیا کہ میں کچھ دنوں کے لیے اسی گاؤں میں کام کروں گا
05:07اس نے سوچا کہ اسی بہانے میں سچ کا پتہ بھی لگا سکتا ہوں
05:12اس نے اپنی ماں زیتون سے کہا
05:14ماں میں کچھ دنوں کے لیے اسی گاؤں میں کام کروں گا
05:18زینب اپنے بیٹے علی سے کہنے لگی
05:21بیٹا نہیں جہاں آپ پہلے کام کرتے ہو
05:24وہاں آپ کی اچھی کمائی ہو جاتی ہیں
05:27بعد میں وہ لوگ آپ کو وہاں سے نکال دیں گے
05:31اس لیے آپ کو وہاں جانا ضروری ہے
05:34زینب علی کو کسی نہ کسی بہانے گھر سے دور بھیجنا چاہتی تھی
05:39تاکہ پھر سے وہ زینب سے سب کام کروا سکے
05:43زینب علی کے سامنے آسیا سے بہت اچھا سلوک کرتی
05:48اور اس سے نرمی سے پیش آتی
05:50اور گھر کے کاموں میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتی
05:54اسی لیے زینب علی کو گھر سے دور بھیجنا چاہتی تھی
05:58تاکہ پھر سے وہ آسیا سے سب کام کروا سکے
06:03لیکن علی نے اپنی ماں زیتون کی بات نہیں مانی
06:07وہ کہنے لگا ماں ہمارے باس نے ہمیں دس دن کی چھٹی دی ہے
06:12اس لیے دس دن تک میں اسی گھوں میں کام کروں گا
06:17علی روزانہ صبح کام پہ جاتا اور شام کو گھر واپس آتا
06:22وہ اپنی بی بی اور ماں پر بھی نظر رکھتا تھا
06:26لیکن زیتون کو یہ پتہ نہیں تھا
06:29کہ علی ہم پر نظر رکھ رہا ہے
06:32جب علی صبح گھر سے کام پہ نکلتا تھا
06:35تب آسیا بھی وہاں نزدیک ہی ایک ادارے میں
06:39بچوں کو قرآن پڑھانے جایا کرتی تھی
06:42لیکن وہ ایک گھنٹے میں واپس آتی تھی
06:46واپس آ کر
06:47تیتون اس کو پورا گھر کا کام اور کھیتوں کا کام سوک دیتی تھی
06:52وہ صبح سے شام تک کام میں لگی رہتی تھی
06:56اور بہت زیادہ تھک جاتی تھی
06:58وہ دن کو کبھی بھی اس کو آرام کرنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا
07:04یہ سب علی دیکھ رہا ہوتا تھا
07:06کہ کون کھیتوں کا کام کر رہا ہے
07:09اور کون گھر کا کام کر رہا ہے
07:11جب شام کو علی گھر واپس آتا تھا
07:14اس کی ماں زیتون کہتی تھی
07:17بیٹا میں کھیتوں میں کام کر کے بہت تھک گئی ہوں
07:21وہ علی کو جھوٹ پہ جھوٹ بولی جا رہی تھی
07:25لیکن اب علی کو سب حقیقت کا پتا چل چکا تھا
07:29آسیا کو اپنے ساتھ زیتون کی باتیں بہت متاثر کرتی
07:34لیکن وہ سب برداشت کر جاتی
07:36وہ اپنے شوہر علی کو کبھی کچھ نہ کہتی
07:40کیونکہ اللہ پاک نے اسے صبر اور ایمان سے نوازا تھا
07:44علی سب کچھ دیکھ رہا تھا
07:46کہ کس طرح سے زیتون کے ذہن میں ایک خاص تصور بسا ہوا ہے
07:51انایا جو کی ایک امبیر گھرانے سے ہے
07:55اور شادی میں ایک قیمتی جہز لائی تھی
07:58انایا بھی پرائیویٹ سکول میں جوب کرتی ہے
08:02اور اپنے پینسو کا کچھ حصہ زیتون کو دے دیتی ہے
08:06جس کی وجہ سے زیتون اس کی تحریف کرتی ہے
08:11اس کے برعکس آسیا جو کی ایک گریب گھرانے سے آئی ہے
08:16اور وہ بچاری گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہے
08:20وہ آسیا کے بارے میں منفی منفی باتیں کرتی ہے
08:24وہ گاؤں کی عورتوں کی طرف یہی کہتی
08:27کہ آسیا کچھ بھی کام نہیں کرتی ہے
08:30گھر کے سب کام میں اور انایا کرتے ہیں
08:34علی کو ماں کے باتیں سن کر بہت تحجب ہوا
08:38اس کو آخر برداشت نہ آیا
08:41اس نے ایک دن ماں سے کہا
08:43ماں میں اتنے دنوں سے دیکھ رہا ہوں
08:46کہ آسیا گھر کے تمام کام کر رہی ہے
08:49اس کے باوجود بھی آپ لوگوں کی عورتوں کی طرف کہتے ہو
08:54کہ آسیا کچھ بھی کام نہیں کرتی
08:57اور میں اور انایا ہی سب کام کرتے ہیں
09:01ماں مجھے سب سمجھ آ گیا
09:03کہ آپ انایا سے اتنی محبت کیوں کرتی ہو
09:06اور آسیا کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کرتی تھی
09:10آپ نے انایا کو اسی لیے پسند کیا
09:14کیونکہ وہ ایک امبیر باپ کی بیٹی ہے
09:17اور اس کے پاس دولت ہے
09:19اس کے برقص آسیا ایک گریب باپ کی بیٹی تھی
09:23آپ نے پینسو اور دولت کو سب کچھ سمجھا
09:27لیکن ماں پینسے ہی سب کچھ نہیں ہوتے
09:31علی نے مزید کہا دنیا میں پینسے گاڑی
09:34بنگلہ اور عزت سب کچھ عارضی ہے
09:37ماں یہ سب کچھ یہاں ہی رہ جائے گا
09:41اور آپ نے جو پینسے اور عزت کو اہمیت دی
09:45وہ یہاں کے مادی چیزیں ہیں
09:47آخرت میں یہ سب کچھ ہمارے ساتھ نہیں جاتا ہے
09:52علی نے زیتون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا
09:55ماں افسوز ہیں
09:57مجھے یقین ہی نہیں تھا
10:00کہ آپ پینسو کے لالچ میں اتنے بدل جاؤ گے
10:03آپ آسیا اور رانایا میں فرق کرنے لگو گے
10:07اور یہ فرق پینسے کی بنیاد پر بنایا
10:11لیکن ماں امبیری اور گریبی صرف دنیاوی چیزیں ہیں
10:15اور آپ نے انہیں اپنی زندگی کے اہم حصہ بنا لیا
10:20علی نے مزید کہا یہ فرق جو آپ نے بتایا
10:24وہ بہت نقصاندہ ہے
10:26اگر آپ گریبی کے ساتھ ایسا سلوک کرے گی
10:30تو آپ آخرت میں کیا جواب دیں گے
10:34اللہ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں
10:37اور ہمیں چاہیے کہ ہم سب کو یقصہ احترام دے
10:41افسوز ہیں ماں آپ نے پینسو کی اہمیت کو
10:45اتنا زیادہ سمجھا کہ آپ نے انسانیت کی قدر کرنا بھول گئی
10:50لیکن یاد رکھئے ماں اللہ کے نزدیک انسانیت محبت اور احترام کی اصل اہمیت کیا ہے
10:57آپ یہ نہیں جانتے ہیں
11:00آپ اپنے دل میں تبدیلیاں لائے اور سب لوگوں کے ساتھ برابری کے اصول پر عمل کریں
11:07علی نے اپنی ماں زیتون سے کہا ماں میں نے سب کچھ اپنے آنکھوں سے دیکھا اور کانوں سے سنا ہے
11:16آپ نے آسیا کے ساتھ جو سلوک کیا ہے وہ بالکل غیر منصافنا ہے
11:22اس کی محنت اور قربانیوں کو سرانے کے بجائے آپ نے اسے زلیل کیا ہے
11:29علی کی باتیں سن کر زیتون کا چہرہ سرکھ ہو گیا
11:34علی نے اپنے ماں زیتون سے کہا ماں اگر آپ آسیا کو اسی طرح زلیل کرتے رہو گے
11:41پھر آسیا آپ کے ساتھ نہیں رہے گی پھر ہم دونوں الگ رہیں گے
11:47زیتون نے علی کی باتو کو نظر انداز کرنے کی کوشش لیکن علی کے عظم اور حوصلے کے سامنے اس کی مخالپت نہ کر سکی
11:57زیتون نے علی کو کہا اگر آپ الگ رہنا چاہتے ہیں تو یہاں کوئی جگہ نہیں ہے
12:04جاؤ یہاں سے چلے جاؤ
12:06علی اور آسیا نے زیتون کے گھر کو چھوڑ دیا اور ایک نیا راستہ تالاش کیا
12:13انہوں نے اپنی محنت اور عظم سے ایک نیا گھر بنایا اور اپنی زندگی کو بہتر بنایا
12:21علی نے اپنی ویوی کے ساتھ محبت اور احترام کا برطاو پر قرار رکھا
12:27اور آسیا نے اپنے نائے گھر میں خوشی اور سکون پایا
12:32زیتون کا شہر بہت پہلے ایکسیڈنٹ کی وجہ سے وفات پا چکا تھا
12:38اور اب گھر میں صرف زیتون اور انائیہ موجود ہیں
12:42زیتون کا دوسرا بیٹا احمد بھی دوسرے ملک میں نوکری کرتا ہے
12:48اور اپنے پینسو کا کچھ حصہ گھر بھیجتا ہے
12:52اب زیتون کو سب گھر کا کام سنبھالنا پڑتا
12:56زیتون انائیہ کو کہتی کی آپ کھانا بنا دو
13:01صفائی کر دو
13:02تو وہ اس کی بات کو ٹال دیتی
13:05ایک دن زیتون نے انائیہ سے کہا
13:08بہو آپ میرے کپڑے دھو دو
13:10مجھے بازو میں بہو درد ہو رہا ہے
13:13لیکن انائیہ جو کی گھر کے کاموں میں سست تھی
13:17وہ اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئی
13:20اور کمرے کو کنڈی لگا دی
13:22وہ زیتون کے باتو پر کوئی توجہ نہیں دیتی
13:26وہ نہ تو زیتون کے کپڑے دھوتی
13:29اور نہ ہی گھر کی صفائی کرتی
13:32اب سب کام زیتون کوئی سنبھالنا پڑتا تھا
13:35اب وہ خود ہی صبح سے شام تک کام میں لگی رہتی تھی
13:40انائیہ کی بے عملی اور سست روائے
13:43نے زیتون کو مزید پریشان کر دیا تھا
13:47اس کی ادم فعالیت کی وجہ سے گھر کی حالات بدتر ہوتی جاتی تھی
13:53اور زیتون کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا
13:58زیتون نے دیکھا کہ انائیہ کا کوئی بھی کام میں دل نہیں لگتا
14:04اور وہ گھر کے کاموں کو پورا کرنے میں دلچسپ نہیں رکھتی
14:08اب زیتون کو اس بات کا احساس ہونے لگا تھا
14:14کہ آسیہ کتنی شریف اور سمجھدار تھی
14:17آسیہ کا سنسکار اور دیانتداری کے اثرات نے زیتون کو متاثر کیا تھا
14:23اس نے دیکھا کہ آسیہ نے ہمیشہ گھر کے کاموں کو بڑے امنداری اور محبت سے کیا تھا
14:31جبکہ انائیہ کی طرف سے کوئی توجہ نہیں ملی
14:35زیتون کے دل میں آسیہ کے لیے قدر اور احترام پیدا ہوتا
14:41اسے اب سمجھ آتا تھا کہ آسیہ کی محبت دیانتداری اور تعمیل نے اسے ایک مثال بہو بنا دیا تھا
14:49زیتون اب سوچتی تھی کہ آسیہ کے ساتھ میں نے اچھا سلوک نہیں کیا
14:56میں نے بہت گلت کیا
14:57اس نے محسوس کیا کہ آسیہ نے گھر کی بہتری کے لیے جو کچھ کیا
15:03اس کی قدر کی جانی چاہے تھی
15:06اب زیتون کو آسیہ کی قدر آئی تھی
15:10اب زیتون نے اپنے دل میں آسیہ کے لیے احترام اور محبت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا
15:17اس نے آسیہ سے معذرت کی اور اس کی محنت کو سرہا
15:22اور اس نے آسیہ کے کاموں کی قدر کرتے ہوئے اسے مزید سپورٹ فرام کرنے کی
15:28کوشش کی اس کے ساتھ ہی زیتون نے انایہ کی بے عملی کے خلاف بات چیت کی اور اسے
15:36گھر کے کاموں میں زیادہ فال ہونے کا مشہورہ دیا کیونکہ اب
15:42زینب نے آسیہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے گھر کے تمام کام اپنے سر لے لئے تھے
15:49چونکہ انایہ گھر کے کام میں بے پروہ تھی اور صرف وہ سکول جاتی تھی
15:56لہٰذا زیتون کو ہر چیز خود ہی سنبھالنا پڑتا تھا
16:01اس صورتحال نے زیتون کو جسمانی اور ذہن طور پر تھکا دیا تھا
16:07اب زیتون کی بیماری نے گھر کے تمام ذمہ داریوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا
16:13اب زیتون بستر پر پڑی رہتی تھی اسے اٹھنے کی بھی حمد نہیں تھی
16:19اس کی حالات کی وجہ سے گھر کے حالات مزید خراب ہونے لگے
16:25انایہ جو کی پہلے ہی گھر کے کاموں میں دلچسپی نہیں رکھتی تھی
16:30کیونکہ اس کو گھر کا کام کرنے کی کوئی جاج بھی نہیں تھی
16:35زیتون کی بیماری کے دوران انایہ نے کچھ حد تک تبدیلی کا مظاہرہ کیا
16:42وہ زیتون کی دیکھ بھال کرنے لگی
16:44جب زینب کی زیادہ طبیت خراب ہوئی تو تب انایہ اس کے نزدیک نہیں آتی تھی
16:51اور نہیں اس کو ٹائم پر کھانا دیتی تھی
16:54خود کمرے میں چلے جاتی
16:56اور زیتون چار پائی پر پڑی رہتی
16:59اس کو کوئی پانی تک نہیں دیتا
17:01ایک دن ان کے مکان کے آگے راستے سے کوئی آدمی گزر رہا تھا
17:07زیتون چار پائی پر اکیلی باہر پڑی ہے اور وہ پانی پانی کرتی ہے
17:13وہ نیک بندہ جلدی سے زیتون کے پاس آیا
17:17اور اسے پوچھا
17:19ماں جی آپ اس گھر میں اکیلی رہتی ہو کیا آپ کو پانی چاہے
17:23زیتون نے کہا ہاں مجھے بہت پیاس لگی ہے
17:28وہ نیک اللہ کا بندہ جلدی سے گیا
17:30اور بارٹی میں سے ایک گلاس پانی لایا
17:34اور زیتون کو پانی پلایا
17:36اس کا گلا بلکل سوک چکا تھا
17:39اس نیک اللہ کے بندے نے زیتون سے کہا
17:44ماں جی آپ کے ساتھ گھر پر کوئی نہیں رہتا ہے
17:48کیا آپ اس گھر پر اکیلی رہتی ہو
17:50آپ کے ساتھ کوئی اور نہیں ہے
17:53زیتون نے اس نیک اللہ والے بندے سے کہا
17:57کہ میری ایک بہو ہے پتہ نہیں وہ کہاں چلے گئی ہے
18:02میرے نزدیک بھی کوئی نہیں آتا
18:05میں اسی حال میں تڑکتی رہتی ہوں
18:07کوئی مجھے پانی تک نہیں دیتا
18:10اس نیک اللہ والے بندے نے کہا
18:12کیا آپ کا کوئی اولاد نہیں ہے
18:15بڑی امہ کہنے لگی نہیں میرے دو بیٹے ہیں
18:18وہ اپنے اپنے کام سے دوسرے ملک گئے ہوئے ہیں
18:22اس نیک اللہ والے بندے نے زیتون سے کہا
18:26آپ کو اپنے بیٹے میں سے کسی ایک کا نمبر یاد ہے
18:30بڑی امہ کہنے لگی میں ایک انپڑھوں
18:33مجھے زبانی نمبر یاد نہیں ہے
18:36ہاں ایک ڈائری پہ دونوں بیٹوں کا نمبر لکھا ہے
18:40اس نیک اللہ والے بندے نے کہا
18:42آپ مجھے وہ ڈائری دکھا سکتے ہو
18:45بڑی امہ نے اس آدمی کو کہا
18:47کہ میں نے فلانی جگہ پہ رکھا ہے
18:50وہ آدمی گیا اور وہ ڈائری لے آیا
18:53اور اس نے ڈائری کھولی
18:55اس ڈائری پہ علی اور احمد کا نام تھا
18:59اس نیک بندے نے کہا
19:00کہ میں علی کو فون لگاؤ
19:02یا احمد کو
19:04بڑی امہ کہنے لگی علی کو فون لگاؤ
19:07مجھے اس سے بہت ضروری بات کرنی ہے
19:10اس نیک اللہ والے بندے نے علی کو فون لگایا
19:14اور کہا کہ آپ کی ماں کی طبیعت بہت زیادہ خراب ہے
19:19نیک اللہ والے بندے نے زیتون کے ہاتھ فون دیا
19:23زیتون نے علی سے بات کی اور اس کو زور سے چیکھیں نکل گئی
19:29علی نے اپنے ماں کو روتے ہوئے کہا
19:32ماں کیا آپ کو بہت زیادہ تکلیف ہے
19:35ماں کہنے لگی نہیں بیٹا
19:37مجھے بس آپ کو دیکھنا ہے
19:39آپ جلدی ہی میرے پاس آ جائے گا
19:43کیونکہ اب زینب کو اپنے بیٹے علی اور آسیا کی بہت یاد آتی تھی
19:49اور اس کو بہت پشتاوا تھا کہ میں نے ان کو گھر سے نکال دیا تھا
19:55علی نے کہا ماں آپ ٹینشن مت لو
19:58ٹینشن سے آپ کی طبیعت زیادہ خراب ہوگی
20:01میں اور آسیا کوشش کریں گے بہت جلد آپ کے پاس پہنچنے کی
20:06اب علی اور آسیا گھر واپس آ گئے
20:10اور واپس آ کر کیا دیکھتے ہیں
20:12کہ زیتون کی حالت بہت بگڑ چکی ہے
20:15اور وہ چار پاہی پر پڑی ہوئی تھی
20:18اور اس کی حالات بہت غراب تھی
20:21زیتون بہت کمزور اور بیمار تھی
20:24اور کوئی بھی اس کا خیال نہیں رکھ رہا تھا
20:28انائیہ جو کی پہلے ہی گھر کے کاموں میں سستی دکھا رہی تھی
20:33اب زیتون کو وقت پر کھانا نہیں دیتی تھی
20:37اور اس کی حالات کی طرف سے بے پروا تھی
20:41زیتون نے علی کو دیکھتے ہی گلے سے لگا لیا
20:45اور آسیا سے معافی مانگنے لگی
20:48آسیا دل کی بہت ساپ تھی اور نیک لڑکی تھی
20:52آسیا زیتون کو کہنے لگی
20:54ماں میں تو آپ کی بیٹی ہوں
20:56بیٹی سے کوئی معافی نہیں مانگتا ہے
20:59آپ میری ماں ہو
21:01ماں کو انسان معاف نہیں کرے گا
21:03میں نے آپ کو سب معاف کر دیا
21:05زیتون نے اپنی بیماری کے دوران علی سے معذرت کی
21:10کہ علی مجھے بہت افسوس ہیں
21:12کہ میں نے تمہیں گھر سے نکال دیا
21:15میں نے آسیا کے ساتھ بہت ظلم کیا ہے
21:18آج اس کی سزا میں بھگت رہی ہوں
21:21آسیا نے ہمیشہ ہم سب کی خدمت کی
21:24لیکن میں نے اسے ہمیشہ نظر انداز کیا
21:27آسیا کہنے لگی
21:29ماں جی آپ نے تو ہم سے معافی مانگ لی
21:32ہم نے معافی کر دیا
21:33اب پچھلے سب باتو کو بھول جاؤ
21:37اب نہ یہ سیرے سے
21:38ہم زندگی کا آگاز کرتے ہیں
21:41آج کے بعد میں آپ کی بیٹی ہوں
21:44پہلی تو آپ کا بیٹا ہے ہی
21:46ہم دونوں مل کر آپ کی خدمت کریں گے
21:49اور ہم یہاں سے اپنے گھر لے جائیں گے
21:53زیتون آسیا کی باتیں سن کر بہت خوش ہوئی
21:56اور اسے دعائے دینے لگی
21:59وہ زیتون کو اپنے گھر لے گئے
22:02اور وہاں آسیا نے زیتون کی اچھی طرح پرورش کی
22:06آسیا نے زیتون کو دوائی وقت پر دی
22:09اس کا خیال رکھا اور مناسب کھانا فرہم کیا
22:12آسیا کی محنت اور محبت سے
22:15زیتون کی حالات میں ترہتری آنے لگی
22:18زیتون جو کی پہلے آسیا کے ساتھ سکتی اور ظلم کر چکی تھی
22:23اب آسیا سے بے پناہ محبت کرنے لگی
22:27اس نے آسیا کے لئے دل سے دعائے کی اور اس کے نیک دل کی تحریف کی
22:34زیتون نے اپنے زندگی میں آسیا کی محبت کو بہت بڑی نعمت کرا دیا
22:40اور اس کے ساتھ اپنے تحلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی
22:45کچھ دنوں بعد زیتون کی طبیعت میں کافی وہتری آئی
22:50آسیا کی دیکھ بھال نے اسے صحتیاب ہونے میں مدد دی
22:55اور وہ دوبارہ سے صحت مند ہونے لگی
22:59زیتون نے اللہ کا شکریہ آدھا کیا
23:02اور آسیا کے سامنے اپنے گلتیوں کا احتراف کیا
23:06اس نے اپنی ساتھ سے محضرت کی
23:09اور اس کی محبت اور معافی کی طلب کی
23:12آسیا اور علی کی زندگی میں خوشیاں واپس آگئی
23:16پھر اللہ پاک نے ان کو ایک خوبصورت بیٹی سے نوازا
23:21جو کی ان کی زندگی کی خوشیوں کا نئے باپ تھا
23:25اس نئے آنے والے خوشحال دور نے ان کی زندگی کو مزید خوشگوار بنا دیا
23:31دو سال بعد آسیا اور علی کی زندگی میں خوشیوں کا سلہ جاری رہا
23:37زیتون کی صحت مکمل طور پر بحال ہو چکی تھی
23:42اب وہ اپنے بیٹے اور بہو کے ساتھ خوشی کے ساتھ رہ رہی تھی
23:47آسیا اور علی نے اپنے بیٹی کی پرورش بڑے پیار اور محبت کے ساتھ کی
23:53جب آسیا اور علی کی بیٹی دو سال کی ہو جاتی ہے
23:58اس کے بعد اللہ پاک نے ان کی خوشیوں میں مزید اضافہ کیا
24:02اور انہیں ایک خوبصورت بیٹے سے نوازا
24:06اس نئی خوشکبری نے آسیا اور علی کی زندگی کو مکمل کر دیا
24:11اور ان کے خاندان کو خوشیوں سے بھر دیا
24:15بیٹے کی پیدائش کے بعد آسیا اور علی کا گھر خوشیوں سے بھر گیا
24:20دونوں بچوں کی پرورش اور دیکھ بھال نے ان کی زندگی کو مزید خوبصورت بنا دیا
24:27اب علی اور آسیا کی زندگی میں خوشیہ کامیابیہ اور سکون واپس آ گئے تھے
24:33انہوں نے اپنے ماضی کی مشکلات کو پیچھے چھوڑا
24:37اور ایک خوبصورت خوشحال زندگی کی طرف قدم بڑھایا
24:42ان کے دل اللہ کی رحمت اور برکتو کے لئے شکر گزار تھے
24:47اللہ پاک ہم سب کو نیک ہدایت دے اور نیک آمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے
24:53آمین
24:54یارب العالمین