Skip to playerSkip to main content
  • 5 weeks ago
بارہمولہ، جموں وکشمیر (کوثر عرفات): وادی کشمیر کا سیب پورے ملک کے ساتھ ساتھ بیرون میں بھی اپنی کوالٹی کے لے کافی مقبول ہے اور ایسے میں سرکار اور مقامی فروٹ گروورس کی یونین اس کے تحفظ اور کوالٹی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے کافی پہل کرتی رہتی ہے۔ 
دراصل ضلع بارہمولہ کے سوپور کے فروٹ منڈی میں سال کے اس وقت سیب کا سیزن شروع ہو چکا ہے اور وادی کے مختلف اضلاع سے مختلف اقسام کے سیب کو سوپور فروٹ منڈی میں لایا جاتا ہے اور یہاں سے پھر یہ ملک ہندوستان کی مختلف ریاستوں میں لیا جاتا ہے۔  
اس ضمن میں فروٹ منڈی کے (buyurs union) خریدار یونین کے صدر مدثر احمد نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت فروٹ منڈی سوپور میں پیک سیزن چل رہا ہے ہمارے پاس شکایت ہے کہ مارکیٹ میں اس وقت جو کارڈ بورڈ ہے وہ بہترین قسم کا نہیں ہے اور ہم فروٹ منڈی میں اس وقت 95% اس کارڈ بورڈ ڈبہ کا استعمال کرتے ہے اور اس کے معیار اور کوالٹی میں کمی ہونے کی وجہ سے ہم پریشان ہے اور ہمارا سبب کو نقصان ہو رہا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے فروٹ گروورس سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ بہتر قسم کا کارڈ بورڈ ڈبہ کا استعمال کرے کیونکہ اس سیب کو ملک کی مختلف ریاستوں میں جانا ہوتا ہے اور ہم نہیں چاہتے ہے کہ جو اس سیب کا خریدار ہوں وہ سڈا ہوا سیب ہم سے نہ لے۔ 
انہوں نے کہا کہ فروٹ گروورس کو چاہیے کہ وہ اعلی قسم کے کارڈ بورڈ کا استعمال اپنے سیب کے لے کرے تاکہ پھر اس سے اس کا ریٹ میں اضافہ ہو گا۔ 
انہوں نے بتایا کہ آج ہم۔نے اس سلسلے میں فروٹ منڈی سوپور میں ایک اہم میٹنگ کی اور اس میں کارڈ بورڈ انڈسٹری سے وابستہ افراد نے شرکت کی اور ہم چاہتے ہے کہ جو ذیلی معیار کا کارڈ بورڈ مارکیٹ میں ہے اس کو استعمال نہیں کیا جائے کیونکہ اس کا سارا اثر ہم پر پڑتا ہے اور بحر ہم کو کافی نقصان ہوتا ہے۔ 
واضح رہے کہ کہ وادی کے مختلف اضلاع میں گزارش سالوں سے سیب کے لیے پہلے پہلے فروٹ گروورس لکڑی کے ڈبوں کا استعمال کرتے تھے لیکن وقت کے ساتھ اب گتے کے ڈبوں کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ زیادہ مہئگا بھی نہیں ہے اور جو مقامی فروٹ گروورس ہے وہ بھی اس بات سے خوش ہے کہ اب مارکیٹ میں کارڈ بورڈ یانہ گتے کے ڈبہ دستیاب ہے۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:00foreign
00:10foreign
00:11foreign
00:11foreign
00:18foreign
00:28foreign
00:33foreign
00:34foreign
00:35foreign
00:36foreign
00:41foreign
01:06500 gram you can't tolerate that.
01:09That's why it's not that it's 6 or 7 or 8
01:12to resist 1,000 or 1,500 km.
01:15We want to get a growth of 25 or 30
01:18rupees to get it.
01:20It's not that it will be 15 or 30 rupees.
01:22But we want to get it.
01:24We want to get 40 rupees to get it.
01:2715 rupees, 16 rupees to get it.
01:30So, 40 rupees to get it.
01:32There's no reward.
01:39foreign
01:41foreign
01:43foreign
01:43foreign
01:49foreign
01:51foreign
01:52foreign
01:52foreign
02:04is
02:13foreign
02:15foreign
02:17If we have 12 kilos, we should have a different rate of 12 kilos, and if we should have 18
02:20kilos, we should have an injustice with that.
02:24Look, the biggest challenge for us is that when we have a grower,
02:29he tells us to give us the grower to the man.
02:32At that time, we have a lot of heart to the taste.
02:36Because the grower doesn't think that we are selling the goods,
02:39we are selling the goods, and we will sell the goods.
02:47So, we will give you a message to the grower,
02:53and to the other people, we will give you a good price.
02:57We will give you the price of the goods,
02:57because we are the future generations of our products.
03:01We are selling the goods for the products of the products.
03:06We are selling the goods for the products of the products.
03:38Here, the tats
03:39that we can make it. Don't sell them. Don't sell them by union. Don't sell them low standard
03:44and under size pay to pay.

Recommended