00:00جانے کیوں کہ نہیں آتا ہوں تم سے میں
00:09جانے کیوں دل میں ہی روں میں
00:22کھاسو منجرگاہ بٹھایا ہے آپ کے لئے
00:31وہی آپ کی سزا کا تائن کرے گا
00:39بڑے بھائی
01:07موسیقی
01:08موسیقی
01:08موسیقی
01:12موسیقی
01:19موسیقی
01:20موسیقی
01:20موسیقی
01:25موسیقی
01:36موسیقی
01:37موسیقی
01:37موسیقی
01:45موسیقی
01:46موسیقی
01:46موسیقی
01:46موسیقی
01:48موسیقی
01:48موسیقی
01:51موسیقی
01:53موسیقی
01:53موسیقی
01:55موسیقی
01:58موسیقی
02:13موسیقی
02:57موسیقی
03:27موسیقی
03:55موسیقی
04:25موسیقی
04:54موسیقی
05:24موسیقی
05:34موسیقی
05:35موسیقی
05:45موسیقی
05:47موسیقی
05:59موسیقی
06:06موسیقی
06:07موسیقی
06:16موسیقی
06:18موسیقی
06:18موسیقی
06:23موسیقی
06:29موسیقی
06:30موسیقی
06:31موسیقی
06:31موسیقی
06:32موسیقی
06:32موسیقی
06:32موسیقی
06:38موسیقی
06:49دودھ ابھی وہیں پہ رکھ دو
06:54کچھ کھایا تھا
06:55دلیا دیا تھا تھوڑا سا اب اس لئے دودھ لے کے آئی تھی
06:59ٹھیک ہے بس تم یہ دودھ وہیں پہ رکھ دو
07:35میرزاد اس کا خاص خیال رکھنا ہے
07:38صبح ہونے سے پہلے نہ تو یہ یہاں سے کہیں جائے گی
07:41اور نہ ہی تم اس کمرے سے ہلو گی
07:43نہ ہی کوئی باہر سے آئے گا
07:45جرگے سے پہلے تم نے اس کے اوپر خاص نگرانی رکھنی ہے
07:47جی بی بی جان ٹھیک ہے
08:10ان کو میرے باہر بہت پسند ہے
08:13کہتے ہیں چھوہ تو یہوں لگتا ہے
08:16کہ ریشم ہاتھ میں آگئی ہے
08:19میرے ہاتھوں کی بھی بڑی تاریخ کرتے ہیں
08:25کتے ہیں روئی کی طرح نرم
08:26کہتے ہیں شانور کے ہاتھ تو پتھا کی طرح ساتھ
08:31میری گود میں سارپ کے سوتے ہیں
08:34کہتے ہیں ساری پرشانی ہیں
08:37کہتے ہیں مجھے تو شانور کی شکل بھی پسند ہے
08:40کہ ہاتھ تو پتھا کی طرح ساتھ
08:42شکراتوں کو آپ کے پاس مہتے ہیں
08:45میرے ہاتھوں کی بھی بڑی تاریخ کرتے ہیں
08:48کہ مجھے تو شانور کی شکل بھی پسند ہے
08:53کہ مجھے تو شانور کی شکل بھی پسند ہے
08:56کہ روئی کی طرح نرم
08:57کہ مجھے تو شانور کی شکل بھی پسند ہے
08:59کہ مجھے تو شانور کی شکل بھی پسند ہے
09:02کہ شانور کے ہاتھ تو پتھا کی طرح ساتھ
09:05کہ چھوہ جنم لگتے ہیں
09:06کہ روئی کی طرح نرم
09:08مجھے ہاتھوں کی بھی بھی تاریقی تو
09:23میرے باس ہوتے ہیں
09:27میرے پاس ہو
09:58مجھے
10:26مجھے
10:27مجھے
10:27مجھے
10:37مجھے
10:38مجھے
10:39مجھے
10:39مجھے
10:39مجھے
10:40مجھے
10:42مجھے
10:43مجھے
10:44یہ دہ...
10:53زب麻 ELŒ اپنی
11:08میر provision
11:13میری پارو
11:44چھوٹی سے آس تھی
11:51شاید میری وہ مل رہی
12:03وہ میری رہی
12:06وہ نہیں رہی
12:16موسیقی
12:18موسیقی
12:18موسیقی
12:30موسیقی
12:31موسیقی
12:35موسیقی
12:36موسیقی
12:45موسیقی
12:46موسیقی
12:57موسیقی
12:58موسیقی
13:07موسیقی
13:08موسیقی
13:21موسیقی
13:23موسیقی
13:31موسیقی
13:33موسیقی
13:35موسیقی
13:41موسیقی
13:45موسیقی
13:54موسیقی
14:00موسیقی
14:04موسیقی
14:05موسیقی
14:16موسیقی
14:17موسیقی
14:19موسیقی
14:21موسیقی
14:29موسیقی
14:32موسیقی
14:37موسیقی
14:41موسیقی
14:42موسیقی
14:44موسیقی
14:47موسیقی
15:17موسیقی
15:47موسیقی
16:17موسیقی
16:32موسیقی
16:58موسیقی
17:09موسیقی
17:10موسیقی
17:20موسیقی
17:21موسیقی
17:51موسیقی
18:02موسیقی
18:10موسیقی
18:14موسیقی
18:15موسیقی
18:32موسیقی
18:33موسیقی
18:36موسیقی
18:36موسیقی
18:39موسیقی
19:09موسیقی
19:38موسیقی
19:50موسیقی
20:38موسیقی
21:07موسیقی
21:22موسیقی
21:26موسیقی
21:30موسیقی
21:36موسیقی
22:06موسیقی
22:19موسیقی
22:20موسیقی
22:41موسیقی
22:51موسیقی
22:53موسیقی
22:53موسیقی
22:55اس غددار اور ہمارے دشمن کو سزا دلوانا چاہتے ہو
23:05سوراب خان تم میں اور سربلند خان میں یہی فرق ہے
23:11کہ وہ غصے میں بھی اپنے روایات اور ذمہ داریاں نہیں بولتا
23:16سربلند خان ہم تمام قبیلے والوں کو تمہاری سرداری پر فخر ہے
23:24تم نے پٹکی پینتے وقت قبیلے والوں سے جو وعدہ کیا تھا
23:28کہ ان کے سردار شیر دل خان کے قاتل کو سب کے سامنے لاؤ گئی
23:33آج تم نے اپنا وہ وعدہ پورا کر دیا ہے
23:36تم نے پٹکی کا حق دا کر دیا ہے
23:40آج یہ جرگہ اس قبیلے کی رسوائی اور بدنامی کا باعث بننے والے ایک آدمی کے لیے بیٹھا ہے
23:47ایک بھائی نے سرداری کے خواہش میں اپنے ہی بھائی کا خون کر لیا
23:52اور دوسرے بھائی کے خون کا پیاسہ ہو گیا
23:56اس قبیلے کی عزت کو مٹے میں ملا دیا
24:04بہت افسوس کا مقام ہے
24:08تم غدار ثابت ہو چکے ہو سراب خان
24:11تم نے ایک سردار کو قتل کیا
24:13دوسرے پر قاتلانہ حملہ کروایا
24:17سر بھائی خان سچا تھا
24:19تم مسلسل اس پر جھوٹے الزام لگاتے رہے
24:22جو تعمتیں تم اس پر لگاتے تھے
24:24وہ غلط کام تم خود کرتے رہے
24:27جرگے میں عورت کو بولانا ہمارے روایت کے خلاف ہے
24:32لیکن جو شرمناک کام سوراب نے کی ہیں
24:35اس کی مثال بھی ہمارے نسل میں نہیں ملتی
24:40لہٰذا روایتوں کو ایک طرف رکھ کر
24:44شیرین کو یہاں جرگے میں بلائے جائے گا
24:52تمہارے پاس اپنے صفائی کا کوئی راستہ نہیں
24:55کیونکہ تمہارے خلاف تمام ثبوت اور دوا موجود ہے
25:01ہاتھ و ضمنت خان
25:03تم کو اس حویلی سے سردار کے بارے میں
25:05ساری خبریں ملتی تھی
25:10ہاں یہ سچ ہے
25:12ایسا ویلی کے ایک نوکرانی
25:15مجھے ساری خبریں دیتی تھی
25:37انسان جس کا نمک کھاتا ہے
25:40کم اس کم اس نمک کی ہی شرم رکھ لیتا ہے
25:44تم نے اپنے ہی مالکوں سے غداری کی
25:49کیا ملا تمہیں یہ سب کچھ کر کے
25:53جرگاہ سب جانتا ہے
25:55لیکن تمہارے موں سے سننا چاہتا ہے
25:58کہ تم سوراب کے ساتھ
26:01کن کن کاموں میں ملاویسو
26:16ہاں
26:20میں نے اپنے مالکوں سے نمک حرامی کی ہے
26:31یہ سردار بننا چاہتا تھا
26:36اس نے مجھے بھی شادی کے جھوٹے خواب دکھائے تھا
26:40اس لیے میں اس کا ساتھ دینے لگی
26:44میرا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ
26:47میں نے اس دغاب آزادنی پہ یقین کیا
26:52میں بھول گئی تھی
26:55کہ جو شخص
26:58نپالنے والی ماں کا نہ ہوا
27:01بھائیوں کا نہ ہوا
27:02سگی بہن کا نہ ہوا
27:04وہ میرا خاک ہوگا
27:15اس کی تو فطرت میں ہی دھوکہ ہے
27:25میں قبول کرتی ہوں کہ
27:29سہراب خان کے سب جرموں میں میں
27:31شامل تھی اس کے ساتھ
27:37شاید وہ شیر دلالہ کو زہر دینا ہو
27:40ان پہ قاتل آنا حملہ کروانا ہو
27:43سربلن لالہ کو زہر دینے کی کوشش ہو
27:46ان پہ حملہ کروانا ہو
27:48وہ یا بھانو بی بی کا قتل
28:07اس کے ہر جن میں شریک تھی اس کے ساتھ
28:09اے بھانو بھانو بھانی اے بھانو بھانو بھانو بھانو بھانے ہو
28:22اے تو صحبر عایس میں
28:31آپ سے کیا ربتی ہوگی
28:36تجھے سے میں اتنے بچوں کی طرح پالا تھا
28:41کیا کبھی رہ گئی میری مام تابی
28:45اللہ
28:53اپنے بائیوں کا تشمت تو کسے ہوگا صورا
29:03ایک ساعت
29:05ایکی پیار کتا ساعت میری تیدو گفالا
29:11تو تیرو گا
29:13ایکی بلیٹ سے اپنے ہاتھوں سے نوالے کلا تیدی بہتو
29:21تو جوتا سرابزم سے پیلے نوالا تیدی
29:26یہ تو اپنے بائیوں کا تشمت کیسے ہوگیا
29:34کیا کلامت ٹوٹ گئی اب سے آیا
29:39صورا پھن
29:41تم پر ہمارے سردار شیردل خان کے قتل کا جرم ثابت ہے
29:48لہذا جرگ کا فیصلہ ہے
29:50کہ تم کو سزائے موت دی جائے
30:02موسیقی
30:03موسیقی
30:03موسیقی
30:04موسیقی
30:31سر بلند خان
30:32کھیر دل خان کے بھائی ہونے کے ناتے
30:34تمہارا حق بنتا ہے کہ تم اپنے بھائی کے خون کا بدلہ خود لو
30:38لہٰذا کل نماز فجر کے بعد
30:40سوراب خان اور اس کے غدار ساتھی کو
30:43قبیلے کے سامنے سزائے موت دی جائے گی
30:52اور یہ کام سردار سر بلند خان خود کرے گا
31:02تمہارے دوسرے جرم بھی کچھ کم سنگیر نہیں ہے
31:05جرگا تمہیں سو کونوں کی سزا بھی دے رہا تھا
31:08لیکن سردار نے اپنا حق جتا کر
31:12تمہارے کونوں کی سزا ماف کروا دی
31:19پھر بلند خان
31:22شردل خان کے بھائی ہونے کے ناتے
31:26تمہارے یہ حق ہے
31:27کہ تم شردل خان کے خون کا بدلہ اپنے ہاتھ سے لے سکتے ہو
31:39لہٰذا کل صبح فجر کے نماز کے بعد
31:42سہراب خان اور اس کے غدار ساتھیوں کو
31:46اسی جگہ سزائے موت دی جائے گی
32:00اور یہ کام
32:01سردار سر بلند خان کرے گا
32:07غدار کسی رحم کا مستحق نہیں ہوتا
32:11اس کا انجام
32:12دنیا کو دکھانا چاہیے
32:20مسجد میں اعلان کروا دو
32:23کہ سب قبیلے والے
32:24صبح یہاں جمع ہو جائیں
32:27اور ان غداروں کا انجام دیکھ لیں
32:39موسیقی
32:40موسیقی
32:40موسیقی
32:52موسیقی
32:54موسیقی
33:00موسیقی
33:04موسیقی
33:06تک نظر دیکھ لو جان لو
Comments