Skip to playerSkip to main content
  • 1 week ago
Transcript
00:00Sanihai Pimz میں مرنے والے ایک بچے کے والد نے کہا کہ میرے گھر چار سال بعد اللہ تعالیٰ نے
00:06اولاد دی تھی
00:07یہ بارہ ربیل اول کا دن تھا فجر کے وقت میرا بیٹا پیدا ہوا
00:11میں نے اس کا نام بارہ ربیل اول کے مبارک دن کی مناسبت سے محمد رکھ دیا
00:16اس کے کان میں ازان دی اور اس کے بعد میرے بچے کو نرسری میں شفٹ کر دیا گیا
00:21اور مجھے کہا گیا کہ آپ ایک گھنٹے کے بعد آ کر اس کو لے سکتے ہیں
00:26لیکن ایک گھنٹے کے بعد وہاں آگ لگ گئی
00:29نرسری کے دروازے پر ایک تالہ لگا ہوا تھا
00:32میں نے اس کو توڑنے کی کوشش کی
00:34میں نے شیشے میں سے دیکھا کہ اندر بارڈ میں کالا دھوان بھر گیا ہے
00:38جس کے بعد میں نے شیشوں کو اپنے ہاتھ اور پیروں سے توڑنا شروع کر دیا
00:43کہ اسی دوران میرے ہاتھ اور پاؤں سخمی ہو گئے
00:46بچے کے والد نے کہا کہ وہاں آگ بجانے والے آلات پڑے ہوئے تھے
00:50لیکن اس سے آگ نہیں بجائی جا سکتی تھی
01:09اسی طرح دو جڑوان نو مولود بچے بھی پیدا ہوئے تھے
01:12ان جڑوان بچوں کے مامو نے کہا
01:14کہ ہسپتال انتظامیہ نے دو گوشت کے ٹکڑے جلے ہوئے لا کر ان کو دیئے
01:19اور کہا کہ یہ آپ کے بچے ہیں لے جائیں
01:22جس پر بچوں کے مامو نے جواب دیا
01:24ان کے تو ڈی ای نی ٹیسٹ ہوں گے تو پتا چلے گا
01:27کہ یہ کن بچوں کے گوشت کے جلے ہوئے ٹکڑے ہیں
01:30جڑوان بچوں کے مامو نے کہا
01:32کہ جب آگ لگی تو ڈاکٹرز اور نرسز وہاں سے بھاگ رہے تھے
01:35اگر ان ڈاکٹرز میں سے کچھ کوشش کرتے
01:37تو تین سے چار جانوں کو بچایا جا سکتا تھا
01:47یہ چودہ وہ معصوم بچے تھے
01:50جن کے نہ تو آئی ڈی کارچ بنے تھے
01:52نہ بے فارم
01:53ان بچوں کے پیدا ہونے کے فوراں بعد
01:55ان کو نرسری میں شفٹ کر دیا جاتا ہے
01:57اور ان کے ہاتھ میں بیبی ٹیگ لگا دیا جاتا ہے
02:00جس پر بچے کا جینڈر بچے کی ماں کا نام
02:03اور وہ کس وقت پیدا ہوا
02:04وہ تقصیلات درج ہوتی ہیں
02:06لیکن یہ آگ اتنی شدید تھی
02:08کہ اس نے ان بچوں کے بیبی ٹیکس کو بھی راک بنا دیا تھا
02:14ہسپتال میں ایک ماں اپنے بچوں کو بچاتی بچاتی
02:17اپنے پورے بال جلا بیٹھی
02:19لیکن اس کا بچہ جانبر نہ ہو سکا
02:21ایک ماں نے اپنے بچے کو آگ کے شولوں سے بچاتے بچاتے
02:25اپنی ٹانگ تڑھوالی
02:27لیکن اس کا بچہ بھی اپنی جان جان آفرین کے حوالے کر چکا تھا
02:31ریسکیوز رائے کے مطابق فائر پوائنٹ پر پانی تک نہیں تھا
02:34ایمرجنسی ایکزٹ پر بھی تالے لگے ہوئے تھے
02:37مطلب اندازہ کیجئے یہ ہوسپٹل کی ایمرجنسی تھی
02:40اور وہاں ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے کوئی تیاری ہی نہیں تھی
02:43تالے لگے ہونے کی وجہ سے جگار لگایا گیا
02:46اور ایک لوہے کی سیڑی کی مدد سے سمٹ کی کھڑکی کو توڑا گیا
02:50اور اس ٹوٹی ہوئی کھڑکی میں سے بچوں کو نکالا گیا
02:57کچھ خواتین وہ تھیں جن کے سی سیکشن ہوئے تھے
03:00ان کے پیٹ کے ٹانکیں نہیں کھلے تھے
03:02ان کے زخموں میں سے ریشے بہ رہے تھے
03:05لیکن وہ کھلے آسمان تلے تپتی سڑک کے اوپر
03:08فیمز کے باہر اپنے بچوں کے آخری دیدار کی منتظر تھی
03:11لوہہی کی ان کا یہ بھی الزام ہے
03:13کہ فائر برگیڈ کی گھاڑیاں بھی وہاں بہت دیر کے بعد پہنچی
03:18یہ میڈل کلاس پاکستانی غریب بچے تھے
03:21جن کے علاج سرکاری ہسپٹل میں ہوتے ہیں
03:24یہ جن کی ڈیلیوریاں سرکاری ہسپٹل میں ہوتی ہیں
03:27اگر یہ شرافیہ کے بچے ہوتے
03:28تو ان کو ریسکیو کرنے کے لیے شاید ہیلیکوپٹر بھی آ جاتے ہیں
03:32یہ ایک ایسی آگ تھی جس نے پندرہ میں سے
03:34ان چودہ معصوم پھولوں کو مرجہ دیا
03:36لیکن ہسپتال انتظامیہ حملہ یا ڈاکٹرز میں سے
03:39کسی ایک کو ایک چوٹ یا زخم تک نہیں آیا
03:42حکومت کے پاس اپنے وزیروں مشیروں بابوں بیوروکریٹس
03:46افسروں اور سرکاری ملازمین کی آیاشیوں کے لیے
03:49تو بے تہاشا پیسہ ہے
03:51لیکن ان کے پاس پیسے نہیں ہیں
03:52تو ان بچوں کے لیے نہیں ہیں
03:54یہ بچے جس وارڈ میں تھے
03:55وہاں جدید فائر سسٹم نصب کرنے تک کے پیسے نہیں تھے
03:59حکومت کے پاس
03:59یہ چودہ معصوم روحیں
04:01اللہ کے حضور ضرور گڑ گڑائیں گی
04:03اور اللہ کے حضور ان سرکاری افسروں
04:05ان حکمرانوں کی ضرور شکایت کریں گی
04:08کہ نو مہینے جن ماں نے
04:09ان بچوں کو اپنی کوک میں پالا تھا
04:11بڑی تکلیفیں اور عظیم درد کے بعد
04:14ان کو اس دنیا میں لے کر آئیں تھی
04:16وہ اس معاشرے اور اس سسٹم میں
04:18صرف چند گھنٹے کے مہمان رہے
04:20اور انہوں نے اس پورے سسٹم کو
04:22احتجاجن الودا کہہ دیا
04:24اور اپنی جان چانے آفرین کے حوالے کر دی
04:27اننا نللہ و اننا علیہ راجیو
Comments

Recommended