00:00Bادشاہ اور ملکہ کی زندگی میں ننی شہزادی کی پیدائش تب ہوئی جب وہ اپنی ساری امیدیں کھو چکے تھے
00:06وہ اتنی خوبصورت بچی تھی جسی آج تک کسی نے نہ دیکھی ہو
00:10شاہی محل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی
00:13سب لوگ اس ننی شہزادی کے لیے ایسا نام سوچنے لگے جو ان کی محبت کی اکاسی کرتا ہو
00:19آخر کار اس کا نام ایمی رکھا گیا
00:22ملکہ نے ایک نلگو پتھر فیروزے پر یہ الفاظ کندہ کروائے
00:26ایمی خوشیوں کے جزیرے کے بادشاہ کی بیٹی اور وہ دل شہزادی کی گردن میں لٹکا دیا
00:32یہ سوچتے ہوئے کہ چونکہ فیروزہ خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے
00:36شاید یہ بھی اس کے لیے خوشی کا باعث بنے
00:39لیکن قسمت نے کچھ اور ہی سوچ رکھا تھا
00:42اس دن گرمی اپنے اروج پر تھی
00:44ننی شہزادی کو آیا کے ساتھ سمندر تفریح کے لیے بھیجا گیا
00:50اچانک ایک خوفنات توفان آ گیا
00:52زمین پر واپس آنا ناممکن ہو گیا
00:55چھوٹی کشتی پانی کا زور برداشت نہ کر سکی
00:58اور ٹکلوں میں بکھر گئی
00:59آیا اور ملاح ہلاک ہو گئی
01:03ننی شہزادی اپنے جھولے میں سو رہی تھی
01:06وہ پانی پر بہتی چلی گئی
01:10بل آخر وہ ایک خوبصورت ملک کے ساحل پر جا لگی
01:14جہاں بہت کم لوگ بستے تھے
01:15کیونکہ وہاں دیو، ریواجیو اور اس کی بیوی ٹھومینٹین آ کر رہنے لگے تھے
01:20اور وہ ہر کسی کو کھا جاتے تھے
01:23سمجھ رہے ہیں نا آپ لوگ
01:25وہ لوگ آدم خور تھے
01:32ٹھومینٹین آدھی پری تھی
01:34وہ جانتی تھی کہ کسی کو اپنی طرف کیسے لانا ہے
01:37اس نے شہزادی کی خوشبو میلو دور سے سونگ لی
01:41اور فوراں ساحل کی طرف دور پڑی تاکہ روازیو اس سے پہلے نہ پہنچ جائے
01:46دونوں اس معاملے میں ایک جیسے لالچی تھے
01:49ان جیسی خوفناک مخلوق آج تک کسی نے نہ دیکھی تھی
01:53ان کی پیشانی کے بیچ ایک بہنگی سی آنکھ
01:56مو ایسا جیسے بھٹی ہو
01:58چپٹی بڑی ناک
01:59لمبے گدھے جیسے کان
02:01اکرے بال
02:02جب دورمنٹین نے ایمی کو اس کے خوبصورت جھولے میں
02:06سنہرے کپڑے میں لپٹا دیکھا
02:08جو اپنے ننے ہاتھوں سے کھیل رہی تھی
02:11اس کے گلابی و سفید گال
02:13چھوٹا سا چیری جیسا مو
02:14جو مسکرا رہا تھا
02:16اور جیسے اس سے دیکھ کر ہسی آ رہی ہو
02:18تو اس بدصورت دیو عورت کے دل میں
02:21پہلی بار رحم کا جذبہ اُبھرا
02:24اس نے فیصلہ کیا
02:25کہ ابھی کے لیے وہ اس سے نہیں کھائے گی
02:28بلکہ پا لے گی
02:29اس نے بچی کو اٹھایا
02:30جھولا اپنی پیٹ پر باندھا
02:33اور اپنے غار کی طرف واپس چلی گئی
02:43اس نے اپنے شوہر سے کہا
02:46لیکن تمہیں میری قسم
02:48تم اسے نہیں کھا سکتے
02:50یہ بہت پیاری بچی ہے
02:52اور میں اسے پالنے والی ہوں
02:54ہم اسے اپنے چھوٹے دیو سے بیعہ دیں گے
02:57اور ان کے بچے ایک دن لوگوں کے لیے
03:00عجیب و غریب تماشا بنیں گے
03:02وہ بڑھاپے میں ہمارا دل بہلائیں گے
03:04روازیو نے کہا
03:06ٹھیک ہے
03:07تم واقعی اپنے کت سے بھی زیادہ ہوشیار ہو
03:10مجھے یہ بچی دکھاؤ
03:11یہ واقعی بڑی پیاری لگتی ہے
03:14ٹھیک ہے
03:15لیکن کھانا نہیں
03:16ترمنٹین نے کہا
03:18اور بچی اسے تھما دی
03:19نہیں
03:20نہیں
03:21روازیو بولا
03:22میں بھوک سے مر جاؤں گا
03:23لیکن اسے نہیں کھاؤں گا
03:25اور یوں روازیو
03:27ترمنٹین
03:28اور ان کا نننا دیو
03:29ایمی سے ایسے پیار اور شفقت سے پیش آنے لگے
03:32جیسے وہ لوگ انسان ہوں
03:34لیکن وہ معصوم بچی
03:35جسے اپنے اردی گرد
03:37خوفناک اور بدصورت مخلوق نظر آ رہی تھی
03:40اپنی آیا کو نہ پا کر
03:43اپنے چہرے کو بگاڑنے لگی اور رونے لگی
03:47ترمنٹین کو خدشہ ہوا
03:48کہ یہ شور واجو کو ناگوار نہ گزرے
03:50چنانچہ وہ اسے جنگل کی طرف لے گئی
03:53جبکہ نننا دیو
03:54وہ اس کی پیچھے پیچھے چل پڑے
03:55یہ چھے تھے
03:57اور ہر ایک دوسرے سے زیادہ بچ شکل
03:59ترمنٹین چکے آدھی پری تھی
04:01اس کی طاقت ایک ہاتھی دانت کی چھڑی میں تھی
04:04جسے وہ تب ہی پکڑتی جب کچھ مانگنا ہو
04:07چنانچہ اس نے چھڑی اٹھائی اور کہا
04:09شاہی پری ٹروسیوں کے نام پر
04:12میں حکم دیتی ہوں
04:13کہ ہمارے جنگل کی سب سے خوبصورت حیران
04:16ابھی اسی لمحے یہاں حاضر ہو
04:18اور اس پیاری بچی کو دودھ پلائے
04:21جسے قسمتیں میرے پاس بھیجا ہے
04:22اتنے میں ایک حیران ظاہر ہوئی
04:25اور نننے دیو خوشی سے جھوم اٹھے
04:27جبکہ نننی شہزادی اس کو دیکھتی
04:30اور اس سے مانوس ہوتی جا رہی تھی
04:32جب وہ جھولے میں روتی
04:34تو حیران فوراں اسے دودھ پلانے کو تیار ہو جاتی
04:37اور نننے دیو اسے جھولا جھولانے لگتے
04:40اس طرح اس بادشاہ کی بیٹی کی پرورش ہونے لگی
04:43جس کے والدین اس کے غم میں آسو بہا رہے تھے
04:46یہ سمجھ کر کہ اس کی بیٹی سمندر کی تیہ میں دفن ہو چکی ہے
04:50دل میں یہ تیہ کر لیا
04:52کہ اب انہیں اپنی سلطنت کا کوئی اور وارث چن لینا چاہیے
04:55کیونکہ پندرہ سال گزر چکے تھے
04:58اب اس کی واپسی کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی
05:01چنانچہ بادشاہ نے اپنے بھائی کو پیغاب بچھوایا
05:03کہ وہ اپنے بیٹوں میں سے جو سب سے زیادہ لائق ہو
05:06اسے منتخب کرے تاکہ وہ بادشاہت کا وارث بن سکے
05:10اور اسے فوراں بیجا جائے
05:13بھائی اپنے بادشاہ بھائی کا پیغام سن کر خوشی سے رو پڑا
05:16اس نے اپنے دوسرے بیٹے کو بھیجنے کا ارادہ کیا
05:19جو کردار میں اس کے عالی نصب کے مطابق
05:22اتنا مکمل اور شاندار تھا
05:25کہ ہر خوبی اس میں بہترین درجے میں موجود تھی
05:28شہزادہ اے میں
05:29جیہاں صحیح سنا اپنے
05:31اسی نام بالا
05:32وہ جہاز پر سوار ہوا
05:33اور کھلے سامندر کی طرف روانہ ہو گیا
05:36سفیروں نے اسے دیکھا
05:38تو حیران رہ گئے
05:40وہ اٹھارہ سال کا تھا
05:41لیکن اتنا خوبصورت
05:43کہ محبت کا دیوتا بھی
05:44اس کی خوبصورتی کے سامنے
05:46ماند پڑ جاتا
05:48لیکن اس کی خوبصورتی میں
05:50کوئی نرمی یا نزاکت نہ تھی
05:51بلکہ اس کے چہرے پر
05:53ایک شہانہ وقار
05:55اور بہادری جھلکتی تھی
05:57جو احترام بھی پیتا کرتی تھی
05:59اور محبت بھی
06:02ایمی وقت کے ساتھ ساتھ
06:04اور بھی حسین ہوتی گئی
06:06ان وحشی مخلوقات میں
06:08جو ظرم اور سنگدلی
06:09اس نے دیکھی
06:09وہ اسے مزید نرم دل
06:11شفیق اور ہمدرد بناتی گئی
06:14اور جب سے اسے یہ معلوم ہوا
06:16کہ یہ سب انسانوں کو
06:18کھانے کے شوقین ہیں
06:19اس کا دل
06:20ہمیشہ اس بات میں لگا رہتا
06:22کہ کسی بھی بیچارے انسان کو
06:24ان کے ہاتھوں سے بچا لے
06:27اسی نیت سے
06:28اس نے کئی بار
06:29خود اپنے اوپر
06:30ان دیو کے حسے کا خطرہ مول دیا
06:32اور یہ بات کسی دن
06:33ہو بھی جاتی
06:34اگر ننہ دیو
06:36اسے اپنی آنکھوں کی
06:37پتلی کی طرح نہ چاہتا
06:38سچی محبت
06:39کیا آپ کچھ نہیں کرا سکتی
06:42یہی ننہ دیو
06:43جو پہلے خود بھی سنگدل تھا
06:46شہزادی کے حسین چہرے کو
06:47دیکھتے دیکھتے
06:48نرم دل
06:49اور شاہستہ بن چکا تھا
06:51لیکن افسوس
06:52شہزادی کے دل کا درد
06:54بہت کہہ رہا تھا
06:56جب اسے یہ خیال آتا
06:57کہ اسے اسی بدصورت
06:59عاشق سے شادی کرنی ہوگی
07:01اسے اپنی پیدائش کے بارے میں
07:03کچھ معلوم نہ تھا
07:04لیکن پھر بھی
07:05اسے اپنے سونے کے لباس
07:07تلائی زنجیر
07:09اور فیروزے کے دل سے
07:10یہ اندازہ ہو چکا تھا
07:12کہ وہ کسی آلہ خاندان سے ہے
07:15اور اس کے دل کی آواز
07:17اس بات کو اور بھی واضح کرتی تھی
07:19نہ وہ پڑھنا جانتی تھی
07:20نہ لکھنا
07:23نہ ہی کسی زبان میں
07:24تعلیم حاصل کی
07:26وہ صرف دیووں کی
07:27سخت اور بد زبان بولی میں
07:29بات کرتی
07:29لیکن اس کے باوجود
07:31اس کے اصول
07:33ایسے نیک اور مزاج
07:34ایسا شیرین تھا
07:35جیسے وہ عمر بھر
07:37دنیا کے کسی
07:38سب سے محضب شاہی دربار میں
07:40پلی ہو
07:42اس نے خود اپنے لیے
07:43ایک لباس
07:44چیتے کی کھال سے
07:45بنایا ہوا تھا
07:46اس کے کندھے پر
07:48ایک ترکش تھا
07:49جس میں تیر بھرے ہوئے تھے
07:50اور کمر پر
07:51ایک کمان بندی تھی
07:52اس کے سہرے بال
07:54ایک لمبے سمندری جھار
07:55سے بندے ہوتے
07:56جو ہوا میں
07:57اس کی گردن
07:58اور کمر پر لہراتے
07:59اس کے جوتے بھی
08:01سمندری گھاس سے
08:01بنے ہوئے تھے
08:02وہ شان سے
08:03جنگلوں میں گھونتی
08:04وہ اپنی خوبصورتی
08:06سے کبھی
08:06واقف نہ ہو پاتی
08:07اگر جنگل کے
08:08شفاف چشمیں
08:09اسے قدرتی آئینے
08:10کی مانند نہ دکھاتے
08:12اس کی خوراک
08:13صرف وہی چیزیں ہوتی
08:14جوہو شکار
08:16یا مچھلی کے ذریعہ
08:17حاصل کرتی
08:17اکثر اوقات
08:19یہ مہم ایک بہانہ ہوتی
08:20تاکہ وہ
08:21اس غار سے
08:21نکل سکے
08:22وہ خدا سے
08:23فریاد کرتی
08:24ان سے مدد
08:25مانگتی رہتی
08:26جب موسم
08:27بہت توفانی ہوتا
08:28اور شہزادی
08:30کو یہ خیال آتا
08:31کہ کہیں
08:31سمندر نے
08:32کسی بیچارے کو
08:33کنارے پر
08:34نہ پھیک دیا ہو
08:35تو وہ فوراں
08:36وہاں پہنچتی
08:36ان کا خیال
08:38رکھنے کے لیے
08:39نرمی
08:39اور محبت سے
08:41اور یہ بھی
08:42یقینی بنانے کے لیے
08:43کہ وہ
08:44دیو کی غار کی طرف
08:45نہ آسکیں
08:47ایک رات
08:48شدید توفان آیا
08:51صبح ہوتے ہی
08:52وہ اٹھ کھڑی ہوئی
08:53اور سمندر کی طرف دوڑی
08:54وہاں اس نے
08:56ایک آدمی کو دیکھا
08:57جو ایک تختے سے
08:58چمٹا ہوا تھا
08:59اور موجو کی
09:00زد کے باوجود
09:01کنارے تک
09:02پہنچنے کی کوشش
09:03کر رہا تھا
09:04لیکن ہر بار
09:05لہرے اسے
09:06واپس تھکیل دیتی تھی