Skip to playerSkip to main content
  • 1 week ago
پلوامہ: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں اونتی پورہ کے چرسو علاقے میں خصوصی بچوں یعنی بینائی، سماعت و گویائی سے محروم بچوں کے لیے ایک منفرد مدرسہ قائم کیا گیا ہے،  جہاں بچوں کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم دی جا رہی ہے۔ 
ادارے میں نابینا طلبہ کے لیے بریل جبکہ سماعت یا گویائی سے محروم بچوں کے لیے اشاروں کی زبان استعمال کی جاتی ہے۔ یہاں بچوں کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا جاتا ہے جو ادارہ عوامی عطیات سے چلا رہا ہے۔ ادارے میں ایک نابینا استاد بھی ہے جنہوں نے مہاراشٹر کے خصوصی ادارے سے تعلیم حاصل کی اور قرآن پاک حفظ کیا اور اب یہاں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔ 

Category

🗞
News
Transcript
00:10
00:14
00:23
00:24
00:25
00:26
00:26
00:27
00:27
00:28
00:38
00:39
00:40
00:41
00:41
00:42
00:42
00:43
00:43
00:45A B C D E
01:20I want to be a part of the world.
01:48This is about many conditions for the supernatural.
01:51they had a special electricity agency with
02:15. . . . . .
02:46. . .
03:16. . . .
03:17. . . .
03:17. . . . . .
03:17.
03:17.
03:17.
03:17.
03:17.
03:17.
03:17.
03:18.
03:20. . . .
03:48which I can find
04:17بحرے بچوں کو دینی تعلیم
04:19کے ساتھ ساتھ اصلی علوم کی
04:21تعلیم بھی دی جاتی ہے
04:22یہ نابین افراد جو
04:25یہاں پر پڑھنے کے لئے آتے ہیں
04:27ان کے لئے تعلیم کا نظام جو رکھا
04:29گیا وہ گریل زبان کے ذریعے
04:31ڈاٹ ڈاٹ کے ایک زبان ہے جو گریل کہا جاتا ہے
04:33اس کے ذریعے ان کو تعلیم
04:35دی جاتی ہے اسی طرح جو گنگے
04:37بحرے بچے ہوتے ہیں ہمارے ہاں
04:39ان کو انڈیا سائن لینگویج کے
04:41ذریعے تعلیم دی جاتی ہے
04:43جن کو اشاروں کی زبان کہا جاتا ہے
04:45ان کو انگلیش بھی سکھا جاتی ہے
04:47عربی بھی سکھا جاتی ہے
04:49قرآن کی تعلیم دعائیں حدیثیں
04:51تمام دی جاتی ہے ماشاء اللہ
04:52تعلیم
04:54کشمیر اور ادر اسٹیٹ کے لوگوں کو
04:57تمام ہی لوگوں سے اپیل کرتا ہوں
04:59کہ جہاں کہیں بھی ایسے معذورین
05:01بچے نظر آئے
05:02یا آپ کو ایسے سماج میں بچے نظر آئے
05:05تو اس مدرسے کے پاس پہنچائے
05:07اور رابطہ کریں مدرسے سے
05:09انتیپورا میں قائم یہ مدرسہ بتا رہا ہے
05:11کہ ہمت ہو تو معذوری بھی
05:13منزل کی راہ نہیں روک سکتی
05:14ایٹیوی بھارت کے لیے انتیپورا سے شبیر وٹ کیلپورٹ
Comments

Recommended