Skip to playerSkip to main content
Thousands of years ago, the Children of Israel were tested by the Golden Calf. The Quran tells us the story of Samiri, the man who led people toward a false object of worship.

But what if the Golden Calf is not only an ancient story?

In this documentary, we explore the story of Samiri, the Golden Calf, the warnings mentioned in the Quran, the different account found in the Torah, and the fascinating connection this story may have with modern wealth, money, banking, debt, and the staggering figure of approximately $353 TRILLION in global debt.

From ancient gold to modern paper money… from the desert to Wall Street — are we repeating the same human pattern in a different form?

The question is not only what we worship.

The question is: *WHAT HAS BECOME OUR GOLDEN CALF TODAY?*


#goldencalf #samiri #baniisrael #quran #islamichistory #quranstories #islamicdocumentary #money #hiddenhistory #ancienthistory #documentary #mystery #islamicreminder #imtinanahmad #pakistan #india #bangladesh

Category

🗞
News
Transcript
00:00ایک رات ریگستان میں سناٹا تھا
00:02صرف آگ اور لکڑیوں کے چٹکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی
00:07بنی اسرائیل اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے
00:10تھکے ہوئے تھے ڈرے ہوئے تھے
00:13اور ان کے پیغمبر حضرت موسیٰ علیہ السلام
00:15چالیس راتوں سے کوہے تور پڑ تھے
00:18اور اب ان کا صبر ٹوٹ رہا تھا
00:21بنی بنی اسرائیل میں موجود ایک شخص تھا
00:24اس کی نگاہیں کسی اور چیز پڑ تھیں
00:27کچھ ایسا تھا جو اس نے دیکھا
00:29جو اور کسی نے نہیں دیکھا
00:31اس کا نام سامری تھا
00:33سامری کوئی اجرمی نہیں تھا
00:35مگر اس کے دل میں ایک ایسی خواہش تھی
00:38جو اسے سب سے الگ کر دیتی تھی
00:41اگلے کچھ دنوں میں یہی سامری
00:43پوری قوم کو ایک ایسے رستے پر لے جاتا ہے
00:46جس کا ذکر قرآن مجید نے کیا
00:49اور قرآن مجید نے صدیوں کے لیے
00:51اسے محفوظ کر دیا
00:53اور جسے آج یہودی روایات بھی
00:56اپنے طریقے سے یاد رکھتی ہیں
00:58کون تھا یہ سامری
01:00اور سب سے زیادہ ضروری بات
01:02کہ جو نظام اس نے کھڑا کیا تھا
01:05آج وہ ہماری زندگیوں میں
01:07ہمارے بینک اکاؤنٹس میں
01:08کس طرح سے موجود ہے
01:10اور نیو یورک کی سٹاک ایکسچینج کے باہر
01:13جو ایک بل موجود ہے
01:15اس کا سامری کے بنائے ہوئے
01:17اس بچڑے سے کیا تعلق ہے
01:19اور یہ بل آج نیو یورک کی سٹریٹ میں
01:22کیا کر رہا ہے
01:23کہانی کیا ہے
01:24آئیے سمجھتے ہیں
01:34سورہ بقرہ کی آیت نمبر
01:36سرسٹ سے تہتر میں
01:37ایک اور واقعہ ہے
01:39جو سامری کی کہانی سے پہلے آتا ہے
01:42اور اس سورت کو اپنا نام بھی
01:44اسی وجہ سے ملتا ہے
01:46یعنی البقرہ
01:47یعنی دکاو
01:48حضرت موسیٰ علیہ السلام
01:50اپنی قوم سے کہتے
01:51کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ تمہیں حکم دیتے ہیں
01:55کہ ایک گائے زبا کرو
01:56حکم سمپل تھا
01:58اس میں کوئی سوال نہیں تھا
02:00لیکن بنی اسرائیل نے
02:01فوراں عمل کرنے کی بجائے
02:03سوال پر سوال پوچھنا شروع کر دیا
02:06کون سی گائے
02:07کس عمر کی گائے
02:09کس رنگ کی گائے
02:10کیسی ہونی چاہیے
02:12اور ہر جواب کے ساتھ
02:13اس گائے کی پہچار
02:15اور زیادہ سپیسفک ہوتی چلی گئی
02:17حضرت موسیٰ علیہ السلام
02:19نے جواب دیئے
02:20نہ بہت بوڑھی
02:21نہ بہت جوان
02:22درمیان عمر کی
02:24رنگ گہرا
02:25صاف پیلا
02:26ایسا کہ دیکھنے والے کو پسند آئے
02:29پھر ایک اور شرط
02:30کہ نہ وہ زمین جوتنے کے کام میں لگائی گئی ہو
02:34نہ کھیتی کو پانی دینے کے لیے
02:36اور آخر میں
02:37بلکل سلامت
02:39اس میں کوئی عیب
02:40یا کوئی داخ نہیں ہونا چاہیے
02:43یعنی اب بات صرف ایک گائے کی نہیں رہ گئی تھی
02:46ان کے اپنے سوالوں نے
02:48اس گائے کی پہچاران کو
02:49اتنا سپیسفک کر دیا تھا
02:51کہ انہیں
02:52وہی گائے تلاش کرنی پڑی
02:54جو ان تمام نشانیوں پر پوری اترے
02:57اور قرآن مجید بیان فرماتا ہے
03:00کہ پھر انہوں نے
03:01اسے زباہ کیا
03:02اور لگتا تھا
03:04کہ وہ ایسا کرنے والے ہی نہیں تھے
03:07ابن کسیر
03:08اپنی تفسیر میں
03:09عبیدہ السلیمانی کی روایت نقل کرتے
03:12کہ بنی اسرائیل میں
03:14ایک مالدار شخص تھا
03:16اس کی کوئی اولاد نہیں تھی
03:17صرف ایک بھتیجہ
03:19اس کا وارث تھا
03:20اس بھتیجہ نے
03:21جائداد کی لالچ میں
03:23اپنے چچا کو قتل کر دیا
03:25اور رات کو لاش
03:27کسی اور کے دروازے کے باہر پھینک دی
03:30صبح خود ہی شور مچانا شروع کر دیا
03:33اور پوری قوم
03:34آپس میں لڑنے کے قریب پہنچ گئے
03:37معاملہ
03:38حضرت موسیٰ علیہ السلام تک پہنچا
03:40اور وہی گائے کا حکم آیا
03:42گائے آخر
03:44ایک شخص کے پاس ملتی ہے
03:46جو اسے صرف اتنے سونے کے بدلے بیچنے پر راضی تھا
03:50جتنا گائے کی کھال میں بھر سکے
03:53گائے زبا ہوتی ہے
03:54اس کا ایک ٹکڑا
03:56مقتول کی لاش پر لگایا جاتا ہے
03:58اور وہ لاش اٹھ کھڑی ہوتی ہے
04:01اپنے قاتل بھتیجے کی طرف
04:03اشارہ کرتی ہے
04:04اور دوبارہ مر جاتی ہے
04:06تورہ کے مطابق اگر اسرائیل کی زمین میں
04:09کسی شخص کی لاش کھلے میدان میں ملے
04:12اور قاتل کا پتہ نہ ہو
04:14تو بزرگ اور ججز
04:16لاش کے آس پاس کے شہروں کا فاصلہ ناپتے ہیں
04:19اور جو شہر سب سے قریب ہو
04:21تو اس کے ایلڈرز ایک ایسی جوان گائے
04:25یعنی ہائفر لیتے ہیں
04:26جو کبھی کام میں نہ لگائی گئی ہو
04:29اور جس سے کبھی حل یا گاڑی نہ کھیچی گئی ہو
04:33وہ اسے ایک ایسی بے جوتی ہوئی وادی میں لے کر جاتے ہیں
04:37جہاں نہ کھیتی ہو
04:39نہ کوئی بیج بویا گیا ہو
04:41اور وہاں اس بچیا کی گردن توڑ دیتے ہیں
04:44پھر پریس کی موجودگی میں
04:46اس شہر کے ایلڈرز اپنے ہاتھ
04:49اس بچیا کے اوپر دھوتے ہیں
04:51اور کہتے ہیں
04:52کہ ہمارے ہاتھوں نے یہ خون نہیں بہایا
04:55اور ہماری آنکھوں نے یہ ہوتے ہوئے نہیں دیکھا
04:59اس کے بعد وہ اللہ سبحانہ و تعالی سے دعا کرتے ہیں
05:02کہ اپنی قوم اسرائیل کو ماف کرے
05:05اور ان پر بے گناہ خون کا جرم نہ رہنے دے
05:09تورہ کے مطابق
05:10اس عمل کے ذریعے
05:12بلڈ گلڈ اسرائیل میں سے دور کر دیا جاتا ہے
05:15جب حضرت موسیٰ علیہ السلام
05:17اللہ سبحانہ و تعالی کے مقرر کیے ہوئے
05:20وعدے کے لیے روانہ ہوئے
05:22تو اپنے پیچھے
05:23اپنے بھائی حضرت حارون علیہ السلام کو
05:26قوم کا نگران بنا کر گئے
05:28انہیں صاف حکم دیا
05:30کہ میری قوم کی اصلاح کرنا
05:32فساد پھیلانے والوں کی راہ نہ چلنا
05:35بنی اسرائیل کے پاس
05:37مصریوں کے چھوڑے ہوئے سونے کے زیور موجود تھے
05:40انتظار لمبا ہو گیا
05:42اور سامری نے
05:43اپنا کام شروع کر دیا
05:46قرآن خود سامری کے
05:47اپنے الفاظ میں اس کا جواب دیتا ہے
05:50سورہ تاہا کے آیت
05:52نمبر 96 کے مطابق
05:53سامری کہتا ہے کہ اس نے
05:55وہ دیکھا جو باقی لوگوں نے
05:57نہیں دیکھا
05:58اس نے حضرت جبریل علیہ السلام کے
06:00گھوڑے کا
06:01جہاں جہاں پیر پڑا
06:03وہاں سے ایک مٹھی مٹی اٹھائی
06:06اور اسے پھینک دی
06:07اور یہی اس کے نفس نے
06:09اسے سمجھایا
06:11سامری نے لوگوں سے سونا جمع کیا
06:14اور جمع کیا ہوئے سونے کا
06:15اس نے خوب استعمال کیا
06:17یعنی مٹی لینے کے بعد
06:19اس نے پگلے ہوئے زیورات کے اندر
06:22اسے ڈال دیا
06:23اور اسی مٹی کے اثر سے
06:25سامری نے ایک جسد
06:27یعنی ایک بچڑے کا جسم بنایا
06:29جس میں سے بچڑے کی آواز نکلتی تھی
06:32لیکن قرآن مجید
06:34یہ نہیں کہتا کہ وہ بچڑا
06:36حقیقتاً زندہ ہو گیا
06:37سامری بچڑے کو دیکھ کر
06:39کہنے لگا
06:40کہ یہی تمہارا
06:41اور حضرت موسیٰ علیہ السلام
06:43کا خدا ہے
06:44مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام
06:46بھول گئے ہیں
06:48حضرت حارون علیہ السلام
06:50نے انہیں فوراں روکا
06:51کہ اے میری قوم
06:53یہ صرف ایک امتحان ہے
06:54تمہارا رب تو رحمان ہے
06:56میری بات مانو
06:57پر لوگ نہ مانے
06:59کہنے لگے کہ جب تک
07:01حضرت موسیٰ علیہ السلام
07:02واپس نہیں آتے
07:03ہم اسی کی عبادت کریں گے
07:06جب حضرت موسیٰ علیہ السلام
07:08واپس آئے
07:09تو وہ غصے اور رنج کی حالت میں تھے
07:12انہوں نے حضرت حارون علیہ السلام
07:14سے پوچھا
07:14کہ جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے ہوئے دیکھا
07:17تو تم نے میرا انتظار کیوں کیا
07:20کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی
07:22حضرت حارون علیہ السلام نے ارض کی
07:25کہ اے میری ماں کے بیٹے
07:27میری داڑی اور سر نہ پکڑو
07:29مجھے خوف تھا
07:31کہ تم کہو گے
07:32کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفرقہ ڈال دیا
07:35اور میری بات کا انتظار نہیں کیا
07:38پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام
07:40نے سامری سے پوچھا
07:41کہ تیرا کیا معاملہ ہے
07:43سامری نے وہی جواب دیا
07:45جو ہم نے پہلے سنا
07:47یعنی نشانیوں والی بات
07:48تب حضرت موسیٰ علیہ السلام
07:50نے سزا سنائی
07:52جسے لا مساس کہتے
07:53کہ نہ تم کسی کو چھووگے
07:55نہ کوئی تمہیں چھوے گا
07:57پوری زندگی کے لیے
07:59ایک سماجی بوئیکوٹ
08:00بچڑے کو جلا دیا گیا
08:02اور راک کو سمندر میں بہا دیا گیا
08:05اب ذرا سامری کا بیگراؤنڈ دیکھتے ہیں
08:07تفسیر ابن کسیر کے حوالے سے
08:10ابن کسیر اپنی تفسیر میں
08:12محمد بن اسحاق کی روایت نقل کرتے
08:15جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے آتی ہے
08:19کہ سامری بجرمہ نامی قوم سے تھا
08:22جو گائے کی پوجہ کیا کرتی تھی
08:24اور اسی کے دل میں
08:26وہ پرانی محبت باقی تھی
08:28حالانکہ اس نے ظاہری طور پر
08:30بنی اسرائیل کے دین کو قبول کر لیا تھا
08:33اسی روایت میں
08:34اس کا نام محمد بن زفر بتایا گیا ہے
08:37اور امام قطادہ کے حوالے سے یہ بھی ملتا ہے
08:40کہ وہ سمرہ بستی کر رہنے والا تھا
08:42سورہ بقرہ میں
08:43اللہ سبحانہ وتعالی بنی اسرائیل
08:45کو یہی سلسلہ بار بار یاد دلاتے
08:48کہ فیرون کی گمراہی سے نجات
08:51سمندر کا پھٹنا
08:52چالیس راتیں
08:53اور اس کے بعد بچڑا پرستی
08:56اور پھر مافی
08:57اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب کا ملنا
09:00اور ہر واقعہ
09:02ایک ہی سبق دیتا ہے
09:03کہ جب بھی یقین کمزور ہوتا ہے
09:06قوم کسی نہ کسی
09:08نئے سہارے کی طرف لپکتی ہے
09:10اب ذرا اس قصے کو
09:12تورہ کے مطابق دیکھتے ہیں
09:14کیونکہ قرآن نے
09:15جو ایکسپلینیشن دی ہے
09:17وہ ہمارے پاس موجود ہے
09:18اور ہم نے اس کو ڈسکس کر لیا ہے
09:20تورہ میں گولڈن کاف کا واقعہ
09:23ضرور موجود ہے
09:24لیکن وہاں پر
09:25اس قصے کا سٹرکچر الگ ہے
09:28تورہ میں سامری کا کوئی ذکر نہیں ہے
09:30تورہ
09:31ایکسیڈس بتیس
09:32ایک سے چار کے مطابق
09:33جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے
09:35واپس آنے میں دیر ہوئی
09:37تب بنی اسرائیل
09:38حضرت حارون علیہ السلام کے پاس آئے
09:40اور کہنے لگے
09:41کہ ہمارے لیے ایسا معبود بناو
09:44جو ہمارے آگے چلے
09:46یہ موسیٰ جو ہمیں مصر سے یہاں لائے
09:48ہمیں نہیں معلوم
09:50کہ اس کا کیا ہوا
09:51حضرت حارون علیہ السلام نے
09:53ان سے سونے کے زیور مانگے
09:56لوگ سونا لائے
09:57اور تورہ کے مطابق
09:58نعوذب اللہ
09:59حضرت حارون علیہ السلام نے
10:01اسے بچڑے کی شکل میں ڈال کر
10:03ایک امیج بنا دیا
10:05اور پھر لوگ کہنے لگے
10:06کہ یہ تمہارا معبود ہے
10:08اسرائیل
10:09جو تمہیں مصر سے نکال کر لائے
10:12قرآن مجید
10:13حضرت حارون علیہ السلام کو
10:15ہر قصور سے
10:16اور ہر الزام سے بری کرتا ہے
10:18اور پوری ذمہ داری
10:19سامری پر ڈالتا ہے
10:21جو کہ ایک الگ کردار ہے
10:23لیکن تورہ میں خود
10:24حضرت حارون علیہ السلام کو
10:26نعوذب اللہ ذمہ دار
10:28ٹھہرایا جاتا ہے
10:29اور یہی قرآن
10:31اور تورہ کا فرق ہے
10:33اب ذرا ریگستان سے نکل کر
10:35نظر ڈالتے ہیں
10:36نیو یورک پر
10:36سر انیس سو نواسی میں
10:38نیو یورک کی
10:39وال سٹریٹ کا
10:40فانانشل ڈسٹرک
10:41اور ایک سکلپٹر
10:42جس کا نام
10:43ارتورو ڈی موڈی کا ہے
10:45ایک براؤنز کا
10:46بل کھڑا کرتا ہے
10:48نیو یورک کی
10:49سٹاک ایکسچینج کے باہر
10:50جس کو چارجنگ بل
10:52کہا جاتا ہے
10:53لیکن سمبل
10:54خود کیا کہتا ہے
10:55کہ بل اپنے سینگ
10:56اوپر اٹھاتا ہے
10:57یعنی مارکٹ اوپر
10:59امید اوپر
11:00اور ویلت بھی
11:01اوپر جاتی ہے
11:02اور یہاں
11:03اصل کنیکشن
11:04سمجھنا ضروری ہے
11:05سامری نے بھی
11:06لوگوں سے وہ چیز لی
11:08جو ان کے پاس
11:09اصل ویلت کی صورت میں تھی
11:11یعنی سونا
11:12اور بدلے میں
11:13ایک ایسی چیز دی
11:14جو خود خالی تھی
11:16صرف آواز تھی
11:17اور جان نہیں
11:19آج ہم اپنا پیسہ
11:20بینک میں جمع کراتے
11:22بلکل ویسے ہی
11:23جیسے بنی اسرائیل نے
11:24اپنا سونا دیا تھا
11:26سامری کو
11:27یقین کے ساتھ
11:28تو مان لیں
11:29کہ آج آپ
11:29سو روپے بینک میں
11:31جمع کراتے ہیں
11:31بینک ان میں سے
11:32پانچ روپے
11:33ریزرو میں رکھتا ہے
11:34اور پچانوے روپے
11:36کسی دوسرے انسان
11:37کو قرضے میں
11:38دے دیتا ہے
11:39جو پھر کسی اور
11:40اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے
11:41اور دوبارہ
11:42قرضہ بننا شروع ہوتا ہے
11:44اور یہ سلسلہ
11:45چلتا رہتا ہے
11:46چلتا رہتا ہے
11:47جب تک
11:48اس سو روپے کے
11:49کاغذ سے
11:50سینکڑوں روپے
11:51کا قرضہ
11:52جنم نہیں لے لیتا
11:53اور یہ وہ قرضہ تھا
11:55جو کبھی
11:55موجود ہی نہیں تھا
11:57آج کے
11:58گلوبل قرضے
11:59کا نظام
11:59بلکل یہی
12:00کام کرتا ہے
12:01بس نام
12:02بدل گیا ہے
12:03اس کی شروعات
12:0423 دسمبر
12:05سن 1913
12:06سے ہوئی تھی
12:07جب فیڈرل ریزرو
12:08ایکٹ
12:08پاس کر دیا گیا تھا
12:10اور وہی ایکٹ
12:11جو فریکشنل
12:12طریقے سے
12:13پورے ملک کے
12:14بینکنگ کے
12:15نظام کو
12:16قانونی حیثیت
12:17دے دیتا ہے
12:18اور اب
12:19جب آپ
12:19اصل نمبر
12:20دیکھیں گے
12:20آپ لٹرلی
12:21حیران رہ جائیں گے
12:23کہ
12:232026 میں
12:24اس پوری
12:25دنیا کے
12:26اوپر
12:26تقریبا
12:27353
12:28ٹریلین
12:29ڈالرز
12:29کا
12:29قرضہ
12:30ہے
12:30اور
12:31اس دنیا کی
12:32آبادی
12:32کتنی ہے
12:32اس دنیا کی
12:33آبادی
12:34تقریبا
12:358
12:35عرب
12:36ہے
12:36یعنی
12:36ہر انسان
12:37پر
12:38تقریبا
12:3842
12:39ہزار
12:39ڈالرز
12:40کا
12:40قرضہ
12:41ہے
12:41یعنی
12:42ہر انسان
12:43اس دنیا
12:43میں
12:43مقروض
12:44ہے
12:45یہ
12:45بچڑا
12:46آج
12:47وال
12:47سٹریٹ
12:48کے
12:48باہر
12:49کھڑا
12:49ہے
12:49بلکل
12:50ویسے ہی
12:50جیسے
12:51یہ
12:51بچڑا
12:52ریگستان
12:53کے
12:53بیچ
12:53میں
12:54کھڑا
12:54تھا
12:54دونوں
12:55خود
12:55کچھ
12:56نہیں
12:56کر
12:56سکتے
12:56اور
12:57جب
12:57لوگ
12:57اس
12:57پر
12:58یقین
12:58کرتے
12:59ہیں
12:59تو
12:59وہ
13:00دنیا
13:00کو
13:00ہلاتے
13:01رہتے
13:02ہیں
13:02یہاں
13:02پر
13:02ایک
13:02انسانی
13:03پیٹرن
13:03ضرور
13:04ہے
13:04جو
13:04صدیوں
13:05سے
13:05دہرائی
13:05جاتا
13:06ہے
13:06جب
13:07ایمان
13:07غائب
13:07ہوتا
13:08ہے
13:08تب
13:08انسان
13:09خالی
13:09جگہ
13:09کو
13:10کسی
13:10چیز
13:10سے
13:11بھر
13:11لیتا
13:11ہے
13:11اور
13:12وہی
13:12چیز
13:13اس کا
13:13خدا
13:14بن جاتی
13:14ہے
13:15سامری
13:15نے
13:15مٹی
13:16لی
13:16سونے
13:17میں
13:17ڈالی
13:17اور
13:18ایک
13:18خدا
13:18کھڑا
13:31ہمارا
13:32بچڑا
13:32کیا
13:32وہ
13:33کیا
13:33ہے
13:34جس
13:34کے
13:34سامنے
13:35ہم
13:35روز
13:36سر
13:36جھگاتے
13:36پیسہ
13:37پاور
13:38سٹیٹس
13:40ہمارا
13:40خدا
13:41کیا
13:41ہے
13:42کیونکہ
13:42ہر دور
13:43میں
13:43بچڑا
13:44ضروری
13:44نہیں
13:44کہ
13:45سونے
13:45کا
13:45کبھی
13:46وہ
13:46مال
13:47کا
13:47ہوتا
13:47کبھی
13:48طاقت
13:48کا
13:48ہوتا
13:49کبھی
13:49شہرت
13:50کا
13:50ہوتا
13:50اور
13:51کبھی
13:51خود
13:51انسان
13:52کی
13:52اپنی
13:52خواہش
13:53کا
13:53اور
13:53شاید
13:54آج
13:54ہمارا
13:55سب سے
13:55بڑا
13:56امتحان
13:56یہی
13:57ہے
13:57کہ
13:57کیا
13:58ہم
13:58اپنے
13:58بچڑے
13:59کو
13:59پہچان
13:59رہے ہیں
14:00اور
14:00اگر
14:01ہم
14:01اپنے
14:01بچڑے
14:02کو
14:02پہچان
14:03رہے ہیں
14:04تو
14:04کیا
14:05ہم
14:05میں
14:05ہمت
14:06ہے
14:06کیا
14:07آپ
14:07میں
14:07یہ
14:07ہمت
14:08ہے
14:08کہ
14:09آپ
14:09اسے
14:10اپنے
14:11دل
14:11سے
14:11باہر
14:12نکال
14:13سکیں
Comments

Recommended