پلوامہ، جموں وکشمیر (سید عادل مشتاق)عام آدمی پارٹی (اے اے پی) یونٹ پلوامہ کی جانب سے ضلع ہیڈکوارٹر پلوامہ میں سینئر رہنما اور پارٹی ترجمان مدثر حسن کی قیادت میں رضاکاروں کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں درجنوں نوجوانوں اور بزرگوں نے عام آدمی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے نئے شامل ہونے والے ارکان کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان پر زور دیا کہ وہ ضلع میں پارٹی کی نچلی سطح پر موجودگی کو مزید مضبوط بنانے اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ اجلاس کے اختتام پر اے اے پی کے ترجمان مدثر حسن نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضلع میں بنیادی سہولیات اور عوامی مسائل کو نظر انداز کیے جانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کے منتخب نمائندوں کو اسمبلی میں غیراہم معاملات اٹھانے کے بجائے ان مسائل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو براہِ راست عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر رہے ہیں۔مدثر حسن نے ضلع اسپتال پلوامہ میں رات کے اوقات میں الٹراساؤنڈ (یو ایس جی) کی سہولت دستیاب نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہنگامی حالات میں یو ایس جی کی ضرورت پیش آنے پر مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کو علاج و تشخیص کے لیے سرینگر کے اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے، جس سے انہیں اضافی مشکلات اور مالی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اے اے پی ترجمان نے کہا کہ موجودہ دور میں، جب جدید طبی سہولیات تک بروقت رسائی کو بنیادی ضرورت سمجھا جاتا ہے، ضلع اسپتال میں رات کے وقت یو ایس جی کی سہولت کا دستیاب نہ ہونا انتہائی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق، جموں و کشمیر حکومت کی جانب سے عوام کو بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے زمینی سطح پر پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔انہوں نے ضلع میں بہتر سڑکوں، صاف اور محفوظ پینے کے پانی سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی ابتر صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور الزام عائد کیا کہ حکومت اور ضلع کے متعلقہ منتخب نمائندے ان مسائل پر مطلوبہ توجہ نہیں دے رہے۔ مدثر حسن کا کہنا تھا کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور انتخابی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ ضلع اسپتال پلوامہ میں رات کے اوقات میں یو ایس جی سمیت تمام ضروری طبی سہولیات کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے اور ضلع میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق عوامی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔