"وضو قائم ہے یا نہیں؟ جب تک 100% یقین نہ ہو، کیا کرنا چاہیے؟ دیکھیے فرمانِ مصطفیٰ ﷺ اگر نماز کے دوران ایسا محسوس ہو کہ وضو ٹوٹ گیا ہے لیکن پکا علم نہ ہو، تو کیا کرنا چاہیے؟
صحیح بخاری، حدیث 177 میں عباد بن تمیم اپنے چچا (حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "وہ شخص اپنی نماز سے اس وقت تک نہ پھرے (نماز نہ توڑے) جب تک کہ آواز نہ سن لے یا بو نہ محسوس کر لے۔"
شرعی و فقہی نکات:
یقین کا فقہی قاعدہ: "اليقين لا يزول بالشك" (یقین شک سے زائل نہیں ہوتا)۔ اگر آپ باوضو ہیں تو صرف شک کی وجہ سے وضو باطل نہیں ہوگا۔
وسوسوں کا خاتمہ: شیطانی وسوسوں اور محض احساسات پر دھیان دینے کے بجائے یقین اور اطمینان سے نماز مکمل کرنی چاہیے۔
قطعیت کا حکم: جب تک آواز سننے یا بو محسوس کرنے جیسا واضح ثبوت نہ ہو، نماز جاری رکھنا فرض ہے۔