00:00ایسا محسوس نہیں ہو رہا
00:02یہ تو ایسے لگ رہا کہ
00:03وہ اپنی زد
00:04ہاں تو پھر ان کے لیے میری خوشی جو ہے
00:06اپنی خوشی سے بڑھ کر رونی چاہیے نا
00:08لیکن مجھے تو
00:09نو نو نو نو نو
00:12جو گھر میں زلیل ہوتے ہو نا
00:14پھر پورے اور اپنی خوشیوں کی خاطر
00:15مجھے قربان کرنے کے لیے تیار ہیں
00:18جو بھی اسوہ میں
00:20میں گھر نہیں واپس ہوں گا
00:21well
00:45فاریہ عیسیٰ کے باپ
00:46ابراہیم کو بالکل بھی پسند نہیں کرتی
00:49اور عیسیٰ کی ماں نے
00:50اسے یہی بات کی ہوتی ہے
00:52کہ وہاں اپنے بابا کا بزنیس
00:55جوائن کر لے
00:56اور عیسیٰ اس بات کو لے کر
00:58بہت زیادہ خوش بھی ہو گیا ہوتا ہے
01:00اور جیسے ہی وہاں جا کر
01:02فاریہ کو یہاں بات بتائے گا
01:04کہ وہ اپنے باپ کا بزنیس جوائی کرنے والا ہے
01:07تو فاریہ عیسیٰ کو
01:08اس کے باپ ابراہیم کے خلاف
01:10بھڑکانا شروع کر دیتی ہے
01:12اور اسے یہی بات کہتی ہے
01:14مجھے لگتا ہے
01:14تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے
01:17اسی لیے تم ایسی بہکی بہکی باتیں کر رہی ہو
01:21جیسی انسل تمہارا باپ
01:23یہاں گھر پر تمہیں کرتا ہے
01:25ویسے ہی سارے آفیس کے سامنے کرے گا
01:28اور تمہاری کہیں
01:29کوئی بھی عزت نہیں ہوگی
01:31اور عیسیٰ بھی یہاں بات
01:32سوچنے پر مجبور ہو جائے گا
01:34کہ شاید
01:36فاریہ بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے
01:38فاریہ میرا برا تو نہیں چاہتی
01:40فاریہ تو یہی چاہتی ہے
01:41کہ میرا اچھا ہی ہو
01:43اسی لیے وہاں مجھے اچھا مشکل