Skip to playerSkip to main content
ترکمانستان کے صحرائے قراقوم میں ایک ایسا گڑھا موجود ہے جو پچھلے پچاس سالوں سے مسلسل جل رہا ہے۔ اس جگہ کو مقامی لوگ جہنم کا دروازہ کہتے ہیں۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں بلکہ ایک سائنسی حادثے کا نتیجہ ہے۔

سن انیس سو اکہتر میں سوویت انجینئرز یہاں قدرتی گیس کی تلاش میں ڈرلنگ کر رہے تھے۔ کام کے دوران اچانک زمین دھنس گئی اور ایک بڑا گڑھا بن گیا۔ اس گڑھے سے زہریلی گیسوں کا اخراج شروع ہو گیا جو آس پاس کی آبادی کے لیے انتہائی خطرناک تھا۔

سائنسدانوں نے سوچا کہ گیس کو ختم کرنے کے لیے اس میں آگ لگا دی جائے جو چند دنوں میں بجھ جائے گی۔ لیکن ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا اور یہ آگ آج تک مسلسل جل رہی ہے۔ یہ گڑھا ستر میٹر چوڑا اور بیس میٹر گہرا ہے۔

آج یہ جگہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے ایک انتہائی پراسرار اور دلکش مرکز بن چکی ہے۔ رات کے وقت اس گڑھے سے نکلنے والے شعلے صحرا میں دور سے دیکھے جا سکتے ہیں۔

#DarvazaGasCrater #Turkmenistan #AmazingPlaces #UrduFacts #UrduReels #NatureMysteries #WorldWonders

وضاحت: یہ ویڈیو صرف معلومات اور تفریح کے لیے ہے۔ تمام معلومات عام ذرائع سے لی گئی ہیں اور تصاویر اصل واقعے کی عکاسی کرتی ہیں۔

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Sahara میں یہ خندق 50 سال سے مسلسل جل رہی ہے
00:03Turkmenistan کا یہ گڑھا 70 میٹر چوڑا اور گہرا ہے
00:07Soviet engineers کی drilling کے دوران زمین اچانک دھنس گئی
00:11زہریلی gas روکنے کے لیے اس میں آگ لگائی گئی
00:14Science دانوں کا خیال تھا کہ آگ جلد بجھ جائے گی
00:16کیا انسان کو اس آگ کو بجھانا چاہیے

Recommended