Skip to main content
Who was Ashoka the Great?
Ashoka the Great | From Ruthless Conqueror to Buddhist Legend
Ashoka the Great | برصغیر کا سب سے عظیم حکمران؟

Discover the incredible story of one of history's most fascinating rulers. From his rise to power in the Mauryan Empire and the brutal Kalinga War to his dramatic conversion to Buddhism, Ashoka transformed from a feared conqueror into a symbol of peace, tolerance, and wisdom.

In this documentary, we explore:
✔ The rise of Ashoka to the Mauryan throne
✔ The mystery of his succession struggle
✔ The devastating Kalinga War
✔ His conversion to Buddhism
✔ The spread of Buddhism across Asia
✔ The Ashoka Pillars and Edicts
✔ The Lion Capital and Ashoka Chakra
✔ His family, empire, and final years
✔ The legacy that still influences millions today

Chapters:
00:00 Intro
00:00 Intro


Ashoka remains one of the most influential rulers in world history, and his impact can still be seen across South Asia and beyond.

#ashoka #ashokathegreat #history #ancientindia #MauryanEmpire #buddhism #worldhistory #historicaldocumentary

Category

📚
Learning
Transcript
00:04273 قبل مسیح برے سہیر کی سرزمین پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہونے جا رہا تھا
00:11جس کا نام آنے والی صدیوں میں خوف، طاقت، خون ریزی اور پھر حیرانکل روحانی انقلاب کی علامت بن جائے
00:19گا
00:23یہ وہ شخص تھا جس نے جنگ کے میدانوں کو لاشوں سے بھر دیا
00:27لیکن ایک دن خون سے رنگے ہوئے میدان کالنگا میں کھڑا ہو کر اپنی ہی فتوحات سے نفرت کرنے لگا
00:35ایک صفاق فاتح آخر کیسے بن گیا تاریخ کا سب سے عظیم اور رحم دل بادشاہ
00:41کیا شوق کا واقعی عظم تھا یا اس کی زندگی کے پیچھے چھپا ہے ایک ایسا راز جسے تاریخ نے
00:48ہمیشہ دھند میں چھپائے رکھا
00:50یہ ہے کہانی موریہ سلطنت کے اس شہنشاہ کی جس نے تلوار سے دنیا جیتی
00:56اور پھر دلوں پر حکومت کرنا سیکھ لیا
00:59اشوق کا اعظم ایک ایسا نام جو آج بھی تاریخ کے اوراک میں گونچتا ہے
01:41آج بھارتی اشوقہ کو بھارت کا مایہ ناز پوت فخر سے کہتے ہیں
01:45اشوقہ واقعی اشوقہ اعظم کہلانے کا مستحق تھا
01:49اس نے اہد قدیم میں پہلی دفعہ بھارت کو متحد کر کے ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کی نظیر
01:56مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی
01:58اس کے بہت سے کتبہ اور اثار پورے برے صغیر میں بکھرے ہوئے ہیں
02:02اشوقہ نے اپنے کتبوں میں مختلف اخلاقی اور مذہبی احکام ریایہ کے لیے لکھے ہیں
02:08مہاراجہ اشوقہ سلطنت موریہ کا تیسرا چین شاہ گزرا ہے
02:12وہ سلطنت مغد کے راجہ چندر گبت موریہ کا پوتا ہے
02:16مہاراجہ اشوقہ کشتریہ کہلاتے تھے
02:19کشتریہ موریہ خاندان تھا
02:21اشوقہ دو سب ہتر قبل مسیح میں گدی پر بیٹھا
02:24اس نے چندر گبت سے بھی زیادہ شورت پائی
02:27اور اپنا داروت سلطنت ٹیکسلا کو بنایا
02:30اس کو اکثر اشوقہ اعظم کہا جاتا ہے
02:32کیونکہ اپنے اہد کا سب سے بڑا اور طاقتور راجہ تھا
02:37اشوقہ اموریہ خاندان کا تیسرا حکمران
02:40جس کی سلطنت برے صغیر پاکو ہند کے ایک بڑے حصے پر مہیت تھی
02:45مغرب میں موجودہ افغانستان سے لے کر
02:48مشرق میں موجود بنگلہ دیش تک پھیلی ہوئی تھی
02:51جس کا دارل حکومت پاٹلی پترہ تھا
02:55بودمت کے سرپرز انہیں قدیم ایشیا میں بودمت کے پھیلاؤں میں
02:59ایک اہم کردار کا سہرہ دیا جاتا ہے
03:02ایک تاریخی شہنشاہ کے طور پر اشوقہ کا وجود تقریباً فرموش کر دیا گیا تھا
03:08لیکن انیسویں صدی میں برہمی رسم الخط میں لکھے گئے ماخزوں کی وضاحت کے بعد سے
03:14اشوقہ ہندوستان کی عظیم شہنشاہوں میں سے ایک کے طور پر شہرت رکھتا ہے
03:19جدی جمہوریہ ہند کا ریاست انشان اشوقہ کے شیر کیپیٹل کی موافقی تھا ہے
03:24اشوقہ کا پیہ یا اشوقہ چکر ہندوستان کے قومی پرچم کے مرکز میں بنایا جاتا ہے
03:34اشوقہ کے بارے میں معلومات اس کے نفشتاجات سے ملتی ہیں
03:37دوسرے نفشتاجات میں اس کا ذکر یا ممکنہ طور پر اس کے دور حکومت سے ہے
03:42اور قدیم عدب خاص طور پر بودمت کے مطن سے یہ ذرائع اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہیں
03:52اشوقہ آزم کی بازیابی
03:54یورپی محقق جمیز پر نصیب نے 1830 تا 1840 اسوی کے دوران مختلف قدیم قطبوں اور سکھوں پر تحقیق کی
04:04اسے ایک نام پیا داسی یعنی دیوتاؤں کا پیارہ مختلف قطبات پر لکھا ملا
04:10اس نے ہندوستان کی مختلف قدیم کتاب کھنگالی کے ملوم ہو سکے کہ یہ نام کس کا ہے
04:16مگر اسے ہنوز کامیابی نہیں ہوئی
04:18حالانکہ اس نے اس کے لئے جان توڑ کشش کی مگر معاملہ حل نہیں ہوا
04:23کہ یہ قطبات کس کے ہیں جو پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے
04:26سیلون کی سیول سروس کا ایک اہدہ دار جار ٹرنور نے جب سیلون کی قدیم کتابوں کی چھانبین کی
04:33تو اس پر یہ حقیقت آیا ہوئی
04:35کہ قطبوں میں جو راجہ پیا داسی کندہ ہے وہ راجہ اشوکہ کا نام ہے
04:40جار ٹرنور نے پرنسیب کی توجہ اس طرف دلائی
04:44پرنسیب نے ان کتب کے متعلقے بعد اعلان کیا کہ پیا داسی اصل میں اشوکہ کا نام ہے
04:50جو چندر گبت کا پوتا اور بندو سار کا بیٹا ہے
04:53پرنسیب کے اس اعلان سے بھنچال برپا ہو گیا اور مختلف اترازات کیے گئے
05:04اشوکہ کا تخت پر چڑھنا
05:06کنو دنتیوں سے پتا چلتا ہے کہ اشوکہ ولی اہد نہیں تھا
05:10اور اس کے تخت پر چڑھنا متنازع تھا
05:13اشوکہ نے اپنے باپ مندسار کے اہد حکومت میں
05:16اپنی ولی اہدی کا زمانہ اولاً ٹیکسلا میں
05:19اور بعد میں اجین کے نائبل سلطنت کی حیثیت سے گزارا
05:23اور اسی زمانے میں اس نے سرکاری کاروبار اور سیاست مدن کی آلہ تلیم حاصل کی
05:28سری لنکر روایت کے مطابق اشوکہ نے اپنے باپ کے مرض الموت میں
05:33مبتلاب ہونے کی خبر سنی اور دارل سلطنت میں طلب ہوا
05:37وہ اس وقت اجین میں تھا اور اشوکہ کے سو بھائی تھے
05:41اور ان میں سے 99 بھائیوں کو قتل کر کے اس نے تخت حاصل کیا
05:45مگر اس کے اہد کے سترمیں یا اٹھارمیں سال تک
05:48اس کے بہن بھائی زندہ تھے
05:50اور وہ ان کے خاندانوں کی خبر گیری بڑی تندئی اور محبت سے کرتا تھا
05:54ممکن ہے کہ تخت کی وجہ سے اسے چند بھائیوں کا خون بہانا پڑا ہو
05:58اور بدھو نے اسے 99 بھائیوں کے قتل منصوب کر دیے
06:02یہ ممکن ہے کہ شمالی ہند کی یہ روایت کے جانشینی کے لیے اس میں
06:06اور اس کے بھائی سوسیم کے مبین کوئی تنازع ہوا ہو
06:10مہا ومس بیان کرتا ہے کہ جب بندو سار بیمار ہوا
06:13تو اشوکہ اجین سے پاٹلی پترہ واپس آیا
06:16اور دارل حکومت پر کنٹرول حاصل کر لیا
06:19اپنے والد کی موت کے بعد اشوکہ نے اپنے بڑے بھائی کو قتل کر کے تخت پر چڑھایا
06:24مطن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشوکہ نے اپنے ستیلے بھائیوں میں سے 99 کو قتل کیا
06:29بشمول سمانہ کے
06:31دیپا ومسہ بیان کرتا ہے کہ اس نے اپنے سو بھائیوں کو قتل کیا
06:35اور چار سال بعد اس کا تیاج پہنایا گیا
06:38ومسہ پاکستینی کا مزید کہنا ہے کہ ایک عجیوی کا سنیاسی نے
06:42اشوکہ کی ماں کے خواب کی تعبیر کی بنیاد پر
06:45اس قتل عام کی پیشین گوئی کی تھی
06:48ان اکاؤنٹس کے مطابق صرف اشوکہ کے رحم کے بھائی
06:51ٹیسا کو بچایا گیا تھا
06:5399 اور 100 جیسے عداد و شمار مبالغہ میز ہیں
06:57اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بتانے کا ایک طریقہ ہے
06:59کہ اشوکہ نے اپنے کئی بھائیوں کو مار ڈالا
07:03سری لنکا کے متون مہا ومسہ اور دیپا ومسہ کے مطابق
07:07اشوکہ گوتم بدھ کی موت کے 218 سال بعد تخت ور ویٹھے
07:12اور 37 سال حکومت کی
07:14بدھ کی موت کی تاریخ بزاتے خود ایک بحث کا موضوع ہے
07:17اور شمالی ہندوستانی روایت کہتی ہے
07:20کہ اشوکہ نے بدھ کی موت کے 100 سال بعد حکومت کی
07:23جس کی وجہ سے اس تاریخ کے بارے میں مزید بحثیں شروع ہوئیں
07:27یہ فرض کرتے ہوئے کہ سری لنکا روایت درست ہے
07:29تو اشوکہ کے میراج کی تاریخ
07:32تین سال پہلے یعنی 268 قبل مسیح میں بتائی جا سکتی ہے
07:39بدھ مت کی اثر سے پہلے حکومت
07:42سری لنکا اور شمالی ہندوستانی روایات
07:45دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں
07:47کہ اشوکہ بدھ مت سے پہلے ایک متشدد شخص تھا
07:50ترانات کا یہ بھی کہنا ہے
07:52کہ اشوکہ کو ابتدا میں کامہ اشوکہ کہا جاتا تھا
07:55کیونکہ اس نے کئی سال خوشگوار
07:57تاکوں میں گزارے
07:58اس کے بعد اسے چندہ اشوکہ
08:00یعنی شدید اشوکہ کہا جاتا تھا
08:03کیونکہ اس نے کچھ سال
08:05برے کاموں میں گزارے
08:06اور آخر کار وہ بدھ مت میں تبدیلی کے بعد
08:09دھما اشوکہ یعنی اشوکہ سالے کے نام سے
08:12جانا جانے لگا
08:13جن وزراء نے اس کی تختنشینی میں مدد کی تھی
08:16وہ اس کی تختنشین ہونے کے بعد
08:18اس کے ساتھ حکارت عمید سلوک کلنے لگے
08:21ان کی وفاداری کو جانجنے کے لیے
08:22اشوکہ نے انہیں ہر پھول اور پھل والے درخت کو
08:26کٹنے کا مزہ کا خیز حکم دیا
08:28جب وہ اس حکم پر عمل کرنے میں ناکام رہے
08:31تو اشوکہ نے ذاتی طور پر
08:33پانچ سو وزراء کے سرکاٹ دیے
08:35اسی طرح اشوکہ کا واقعہ
08:37اپنی پانچ سو عورتوں اور لنڈیوں کو
08:39جلا دینے کا بھی مرکوم ہے
08:44اشوکہ کی بدھ مت میں تبدیلی سے پہلے
08:46ایک بدکار شخص کے طور پر
08:48اس طرح کی وضاحتیں
08:50بدھ مت کے مسننفین کی من گھڑت
08:52ملوم ہوتی ہیں
08:53جنہیں نے بدھ مت کے ذریعے اس میں جو تبدیلی لائی
08:56اسے ایک موجزہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی
08:59اس تبدیلی کو ڈرامائی شکل دینے کی کوشش میں
09:01اس طرح کے افثانیں اشوکہ کے
09:03ماضی کی بدکاری اور ظلم
09:05اور تبدیلی کے بعد
09:07اس کی پریزگاری کو بڑا چڑھا کر
09:09پیش کرتے ہیں
09:14کلنگا جنگ اور بود مت میں تبدیلی
09:17اشوکہ کے میجر روک ایڈکت
09:20تیرہ کے مطابق
09:21اس نے تخت پر چڑھنے کے آٹھ سال بعد
09:23کلنگا کو فتح کیا
09:24حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ
09:26اس کی کلنگا کی فتح کے دوران
09:28ایک لاکھ آدمی اور جنور
09:30کاروائی میں مارے گئے تھے
09:32اور ڈیڑھ لاکھ آدمیوں اور جنوروں کو
09:34کلنگا سے قیدی منا کر لے جایا گیا
09:36اشوکہ کے نشتاجات میں بھی ذکر کیا گیا ہے
09:39کہ اس نے اپنے آٹھ میں حکومتی سال کے دوران
09:42کلنگا کی علاقے کو فتح کیا
09:44جنگ کے دوران ہونے والی تباہی نے
09:46اسے تشدد سے توبہ کرنے پر مجبور کیا
09:49اور اس کے بعد کے سالوں میں
09:50وہ بد مت کی طرف راگب ہوا
09:52دوسری طرف سری لنکر روایت سے پتا چلتا ہے
09:55کہ شوکہ پہلے ہی اپنے آٹھ میں رجال سال سے
09:58ایک عقیدت مند بد مت تھا
10:00اس نے اپنے چوتھے رجال سال کے دوران
10:02بد مت اختیار کیا
10:03اور اپنے پانچ میں تا ساتھ میں سال کے دوران
10:06چوراسی ہزار ویہار تعمیر کیے
10:08بد مت کے افثانوں میں
10:09کلنگا مہم کا کوئی ذکر نہیں ملتا
10:12سری لنکر روایت کے مطابق
10:14اشوکہ کے وال بندو سارا
10:16برہمن عزم کے پیروکار تھے
10:18اور ان کی ماں عجیو کاس دھرم کی عقیدت مند تھیں
10:21سامنتہ پاساڈیکہ کہتا ہے
10:23کہ اشوکہ نے اپنے دور حکومت کے پہلے تین سالوں میں
10:26غیر بد مت کے فرقوں کی پیروی کی
10:28سری لنکر تحریروں میں یہ اضافہ کیا گیا ہے
10:31کہ اشوکہ برہمنوں کے رویے سے خوش نہیں تھا
10:33جو روزانہ اس سے خیرات وصول کرتے تھے
10:36اس کے درباریوں نے
10:37اجویکہ اور ننگنتہ مظاہب کے کچھ ساتسہ کو
10:40اس کے سامنے پیش کیا
10:42لیکن یہ بھی اسے متاثر کرنے میں ناکام رہے
10:45دیپاب آمسہ میں کہا گیا ہے
10:47کہ اشوکہ نے کئی غیر بد مت مذبی رہنماؤں کو
10:50اپنے محل میں مدعو کیا
10:51اور انہیں اس امید پر عظیم تحائف سے نوازا
10:54کہ وہ بادشاہ کے سوال کا جواب دیں گے
10:56مطن میں یہ نہیں بتایا گیا
10:58کہ سوال کیا تھا
10:59لیکن یہ ذکر کیا گیا ہے
11:01کہ مدعو کرنے والوں میں سے کوئی بھی
11:03اس کا جواب نہیں دے سکا
11:05ایک دن اشوکہ نے نگرودہ
11:08یا نیا گرودہ نامی ایک نوجوان
11:10بدھ راہب کو دیکھا
11:12جو پاٹل پترہ کی ایک سڑک پر بھیگ کی تلاش میں تھا
11:15وہ بادشاہ کا بتیجہ تھا
11:16حالانکہ بادشاہ کو اس کا علم نہیں تھا
11:18وہ اشوکہ کے سب سے بڑے بھائی سمانہ کا
11:21بادز مرگ بیٹا تھا
11:22جسے اشوکہ نے تخت کے تنازع کے دوران
11:25قتل کر دیا تھا
11:26اشوکہ نگرودہ کی پرسکون اور نڈر شکل سے متاثر ہوا
11:31اور اسے کہا کہ وہ اسے اپنا عقیدہ سکھائی
11:33اس کے جواب میں نگرودہ نے
11:34اسے اپاماد یعنی اجلت پر خطبہ دیا
11:37خطبہ سے متاثر ہو کر
11:39اشوکہ نے نگرودہ کو
11:41چار لاکھ چاندی کے سکے
11:43اور چاول کے روزانہ آٹھ حصے پیش کی
11:45بادشاہ بدھ مت اپاسکہ بن گیا
11:48اور پاٹلی پترہ میں
11:49کوک ٹراما مندر میں حاضری دینے لگا
11:52مندر میں اس کی ملاقات
11:53بدھ راہب موگلی پوتا تیسا سے ہوئی
11:56اور وہ بدھ مت کے عقیدے کے لیے
11:58زیادہ وقف ہو گئے
12:04بدھ مت کے اثر کے بعد حکومت
12:07محمس اور اشوکہ ویدان دونوں بیان کرتے ہیں
12:10کہ اشوکہ نے چوراسی ہزار
12:12سٹوپا ویہار بنائی
12:13محمس کے مطابق یہ سرگرمی
12:16اس کے دور حکومت کے پانچویں سے
12:17ساتمیں سال میں ہوئی تھی
12:19اشوکہ ویدان میں کہا گیا ہے کہ
12:21شوکہ نے گوتم پونت کے
12:23آٹھ آسار میں سے سات کو اکٹھا گیا
12:26اور ان کے حصے سونے
12:27چاندی اور کرشٹل سے بنے
12:30چوراسی ہزار خانوں میں رکھے تھے
12:31اس نے پوری زمین میں ایسے شہروں
12:34جن کی عبادی ایک لاکھ
12:35یا ایسے زیادہ تھی
12:36کہ اندر چوراسی ہزار سٹوپا تعمیر کرنے کا حکم دیا
12:40اشوکہ کے ستون
12:41یک سنگی کالموں کا ایک ایسا سلسلہ ہیں
12:44جو پورے برے سغیر پاکو ہند میں پھیلے ہوئے ہیں
12:48اشوکہ کے ذریعے کھڑے کیے گئے بیس تون ابھی تک زندہ ہیں
12:52جن میں اس کے فرمودات کے کندہ بھی شامل ہیں
12:58دھرم کی تبلیغ اور مشن
13:02اشوکہ کی چٹان کے حکام بتاتے ہیں
13:04کہ اپنے دور حکومت کے آٹھویں یا نوے سال میں
13:06اس نے بدھی درخت کی یاترہ کی
13:08دھرم کا پرچار شروع کیا
13:10اور سماجی بہبود کی سرگرمیاں انجام دیں
13:13فراہی سرگرمیوں میں انسانوں اور جانوروں کے علاج
13:17معالجے کی سہولیات کا قیام بھی شامل ہے
13:19دواؤں کی جڑی بوٹیوں کے پودے لگائے
13:21کمیں کھدوائے اور سڑکوں کے ساتھ ترخت لگوائے
13:25سری لنکا روایت میں موگلی پوتاتی ساتھ
13:28جس اشوکہ کی سرپرستی حاصل ہے
13:30نے سرحدی علاقوں میں بدھ مت کو پھیلانے کے لیے
13:33نو بدھ مشن بیجے
13:35ہر مشن میں پانچ راہب ہوتے ہیں
13:37اور اس کی سربرائی ایک بزرگ کرتے ہیں
13:43اس کے ساتھ چار دیگر تھیراس، اتھیا، اتھیا، سنبلہ اور بدھا سلا راہ بھی شامل تھے
13:50اس کے بعد اشوکہ نے بہت دمت کے مشنریوں کو
13:53کشمیر، گندارہ، ہمالیہ، یونانی سرزمین، مہاراشترا، سوانہ، بھومی
14:00اور سری لنکا جیسے دور دراز علاقوں میں بیجا
14:06روایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنے انیس میں سالے حکومت کے ذران
14:10اشوکہ کی بیٹی سنگ میتہ اپنے ساتھ مقدس بودھی درخت کا ایک پودہ لے کر
14:16رہبوں کا آرڈر قائم کرنے سری لنکا گئی
14:18جبکہ شمالی ہندوستانی روایت میں ان واقعات کا کوئی ذکر نہیں ملتا
14:26تیسری بدھ گونسل
14:28آٹھویں صدی کی بدھ یاتری لے جنگ نے اشوکہ کی بدھ سنگا میں شمالیت کے بارے میں ایک اور کہانی
14:33درج کی ہے
14:34اس کہانی کی مطابق پہلے بادشاہ بمبیسارہ جو گوتم بدھ کے ہم اثر تھے
14:39نے ایک بار خواب میں کپڑے اور چھڑی کے اٹھارہ ٹکڑے دیکھے
14:43مہاتمہ بدھ نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ اس کے موت کے بعد اس کا فلسفہ اٹھارہ مقاتب میں
14:49تقسیم ہو جائے گا
14:50اور پیشنگوئی کی کہ اشوکہ نامی ایک بادشاہ ان مقاتب کو سو سال بعد متحد کر دے گا
15:00خاندان
15:00مہامسہ کے مطابق اشوکہ کی سردار مہارانی اسند میتہ تھی جو اسے چار سال پہلے مر گئی تھی
15:07مہامسہ کے مطابق اسند میتہ کی موت کے بعد تسرکھا چیف مہارانی بن گئی
15:12دیوی بدان میں پدماوطی نامی ایک اور مہارانی کا ذکر ہے جو ولی اہد کنالا کی ماں تھی
15:19سری لنکہ روایت کے مطابق اشوکہ کو وسطی ہندوستان میں ایک شہزادے کے طور پر دیوی یا ودیشہ سے پیار
15:26ہو گیا تھا
15:27اشوکہ کے تخت پر چڑھنے کے بعد دیوی نے شاہی دارل حکومت پارٹلی پترہ جاننے کی بجائے ودیشہ میں ہی
15:33رہنے کا انتخاب کیا
15:37شاہی حدود
15:38اس کی وسیل سلطنت شمال مگر میں کو ہندو کش تک پھیلی ہوئی تھی
15:43اس میں ایک بڑا حصہ اس علاقہ کا بھی شامل تھا جو آج کل افغانستان میں شامل ہے
15:48اور ساتھ ہی بلوچستان اور سندھ کا تمام یا بڑا حصہ بھی اس سے ملہک تھا
15:53سوات اور بوجوڑ کی دور افتادہ وادیاں بھی شاہی اعمال کے زیرے نگرانی تھی
15:58اور اس کے علاوہ کشمیر اور نیپال تو یقینا شامل تھے ہی
16:02کشمیر میں اشوک نے ایک درسلطنت امیر کیا تھا اور اس کا نام سری نگر رکھا تھا
16:07جو آج کلیسی نام کے شہر سے تھوڑے سے فاصل پر واقع ہے
16:12اشوکہ کی سلطنت کا درل حکومت مگد کے علاقے میں پارٹلی پترہ تھا
16:20موت
16:20سری لنکر حوایت کے مطابق اشوکہ کا انتقال اپنے سنتیس میں سالح حکومت میں ہوا
16:26جسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی موت 232 قبل مسیح کے قریب ہوئی
16:30اشوکہ بدان کے مطابق شہنشاہ اپنے آخری دنوں میں شدید بیمار ہو گیا
16:34اس نے بدھ سنگ کو اتیاد دینے کے لیے ریاستی فنڈز کا استعمال کرنا شروع کر دیا
16:40جیسے اس کے وزراء نے اسے سرکاری خزانے تک رسائی سے انکار کر دیا
16:44اس کے بعد اشوکہ نے اپنی ذاتی ملاق کو اتیاد کرنا شروع کر دیا
16:48لیکن کسی طرح اسے ایسا کرنے سے روک دیا گیا
16:51بستر مرگ پر اس کے پاس صرف ایک میروبلن پھل کا آدھا حصہ تھا
16:56جو اس نے سنگا کو اپنے آخری اتیہ کے طور پر پیش کیا
16:59اس طرح کے افثانے سنگا کو دیل کھور کل اتیاد دینے کی حوصل افضائی کرنتے ہیں
17:05اور بدھمت کے عقیدے کی حمایت میں شہنشاہیت کے کردار کو اجواغر کرتے ہیں
17:11افثانے کہتے ہیں کہ اس کی آخری رسومات کے دوران
17:14اس کا جسم سات دن اور سات راتوں تک مسلسل جلتا رہا
17:28اشوکا چکر
17:29اشوکا چکر یا صداقت کا پیہ جسے سنسکرت میں دھرم چکر یا پالی میں دھما چکرہ بھی کہتے ہیں
17:36ہندوستان کے قومی پرچم میں اپنایا گیا ہے
17:39یہ پیہ گوتن بند کے پیہ کی نمائنگی کرتا ہے
17:42اشوکا کے دارل حکومت میں نصف شیروں کے مجسمیں بھی ہندوستان کی مہر پر نظر آتے ہیں
17:54موسیقی
18:05موسیقی
18:08موسیقی
18:10موسیقی
Comments

Recommended