00:04273 قبل مسیح برے سہیر کی سرزمین پر ایک ایسا شہزادہ تخت نشین ہونے جا رہا تھا
00:11جس کا نام آنے والی صدیوں میں خوف، طاقت، خون ریزی اور پھر حیرانکل روحانی انقلاب کی علامت بن جائے
00:19گا
00:23یہ وہ شخص تھا جس نے جنگ کے میدانوں کو لاشوں سے بھر دیا
00:27لیکن ایک دن خون سے رنگے ہوئے میدان کالنگا میں کھڑا ہو کر اپنی ہی فتوحات سے نفرت کرنے لگا
00:35ایک صفاق فاتح آخر کیسے بن گیا تاریخ کا سب سے عظیم اور رحم دل بادشاہ
00:41کیا شوق کا واقعی عظم تھا یا اس کی زندگی کے پیچھے چھپا ہے ایک ایسا راز جسے تاریخ نے
00:48ہمیشہ دھند میں چھپائے رکھا
00:50یہ ہے کہانی موریہ سلطنت کے اس شہنشاہ کی جس نے تلوار سے دنیا جیتی
00:56اور پھر دلوں پر حکومت کرنا سیکھ لیا
00:59اشوق کا اعظم ایک ایسا نام جو آج بھی تاریخ کے اوراک میں گونچتا ہے
01:41آج بھارتی اشوقہ کو بھارت کا مایہ ناز پوت فخر سے کہتے ہیں
01:45اشوقہ واقعی اشوقہ اعظم کہلانے کا مستحق تھا
01:49اس نے اہد قدیم میں پہلی دفعہ بھارت کو متحد کر کے ایک ایسی سلطنت قائم کی جس کی نظیر
01:56مغلوں سے پہلے تک نہیں ملتی
01:58اس کے بہت سے کتبہ اور اثار پورے برے صغیر میں بکھرے ہوئے ہیں
02:02اشوقہ نے اپنے کتبوں میں مختلف اخلاقی اور مذہبی احکام ریایہ کے لیے لکھے ہیں
02:08مہاراجہ اشوقہ سلطنت موریہ کا تیسرا چین شاہ گزرا ہے
02:12وہ سلطنت مغد کے راجہ چندر گبت موریہ کا پوتا ہے
02:16مہاراجہ اشوقہ کشتریہ کہلاتے تھے
02:19کشتریہ موریہ خاندان تھا
02:21اشوقہ دو سب ہتر قبل مسیح میں گدی پر بیٹھا
02:24اس نے چندر گبت سے بھی زیادہ شورت پائی
02:27اور اپنا داروت سلطنت ٹیکسلا کو بنایا
02:30اس کو اکثر اشوقہ اعظم کہا جاتا ہے
02:32کیونکہ اپنے اہد کا سب سے بڑا اور طاقتور راجہ تھا
02:37اشوقہ اموریہ خاندان کا تیسرا حکمران
02:40جس کی سلطنت برے صغیر پاکو ہند کے ایک بڑے حصے پر مہیت تھی
02:45مغرب میں موجودہ افغانستان سے لے کر
02:48مشرق میں موجود بنگلہ دیش تک پھیلی ہوئی تھی
02:51جس کا دارل حکومت پاٹلی پترہ تھا
02:55بودمت کے سرپرز انہیں قدیم ایشیا میں بودمت کے پھیلاؤں میں
02:59ایک اہم کردار کا سہرہ دیا جاتا ہے
03:02ایک تاریخی شہنشاہ کے طور پر اشوقہ کا وجود تقریباً فرموش کر دیا گیا تھا
03:08لیکن انیسویں صدی میں برہمی رسم الخط میں لکھے گئے ماخزوں کی وضاحت کے بعد سے
03:14اشوقہ ہندوستان کی عظیم شہنشاہوں میں سے ایک کے طور پر شہرت رکھتا ہے
03:19جدی جمہوریہ ہند کا ریاست انشان اشوقہ کے شیر کیپیٹل کی موافقی تھا ہے
03:24اشوقہ کا پیہ یا اشوقہ چکر ہندوستان کے قومی پرچم کے مرکز میں بنایا جاتا ہے
03:34اشوقہ کے بارے میں معلومات اس کے نفشتاجات سے ملتی ہیں
03:37دوسرے نفشتاجات میں اس کا ذکر یا ممکنہ طور پر اس کے دور حکومت سے ہے
03:42اور قدیم عدب خاص طور پر بودمت کے مطن سے یہ ذرائع اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہیں
03:52اشوقہ آزم کی بازیابی
03:54یورپی محقق جمیز پر نصیب نے 1830 تا 1840 اسوی کے دوران مختلف قدیم قطبوں اور سکھوں پر تحقیق کی
04:04اسے ایک نام پیا داسی یعنی دیوتاؤں کا پیارہ مختلف قطبات پر لکھا ملا
04:10اس نے ہندوستان کی مختلف قدیم کتاب کھنگالی کے ملوم ہو سکے کہ یہ نام کس کا ہے
04:16مگر اسے ہنوز کامیابی نہیں ہوئی
04:18حالانکہ اس نے اس کے لئے جان توڑ کشش کی مگر معاملہ حل نہیں ہوا
04:23کہ یہ قطبات کس کے ہیں جو پورے ہندوستان میں پھیلے ہوئے تھے
04:26سیلون کی سیول سروس کا ایک اہدہ دار جار ٹرنور نے جب سیلون کی قدیم کتابوں کی چھانبین کی
04:33تو اس پر یہ حقیقت آیا ہوئی
04:35کہ قطبوں میں جو راجہ پیا داسی کندہ ہے وہ راجہ اشوکہ کا نام ہے
04:40جار ٹرنور نے پرنسیب کی توجہ اس طرف دلائی
04:44پرنسیب نے ان کتب کے متعلقے بعد اعلان کیا کہ پیا داسی اصل میں اشوکہ کا نام ہے
04:50جو چندر گبت کا پوتا اور بندو سار کا بیٹا ہے
04:53پرنسیب کے اس اعلان سے بھنچال برپا ہو گیا اور مختلف اترازات کیے گئے
05:04اشوکہ کا تخت پر چڑھنا
05:06کنو دنتیوں سے پتا چلتا ہے کہ اشوکہ ولی اہد نہیں تھا
05:10اور اس کے تخت پر چڑھنا متنازع تھا
05:13اشوکہ نے اپنے باپ مندسار کے اہد حکومت میں
05:16اپنی ولی اہدی کا زمانہ اولاً ٹیکسلا میں
05:19اور بعد میں اجین کے نائبل سلطنت کی حیثیت سے گزارا
05:23اور اسی زمانے میں اس نے سرکاری کاروبار اور سیاست مدن کی آلہ تلیم حاصل کی
05:28سری لنکر روایت کے مطابق اشوکہ نے اپنے باپ کے مرض الموت میں
05:33مبتلاب ہونے کی خبر سنی اور دارل سلطنت میں طلب ہوا
05:37وہ اس وقت اجین میں تھا اور اشوکہ کے سو بھائی تھے
05:41اور ان میں سے 99 بھائیوں کو قتل کر کے اس نے تخت حاصل کیا
05:45مگر اس کے اہد کے سترمیں یا اٹھارمیں سال تک
05:48اس کے بہن بھائی زندہ تھے
05:50اور وہ ان کے خاندانوں کی خبر گیری بڑی تندئی اور محبت سے کرتا تھا
05:54ممکن ہے کہ تخت کی وجہ سے اسے چند بھائیوں کا خون بہانا پڑا ہو
05:58اور بدھو نے اسے 99 بھائیوں کے قتل منصوب کر دیے
06:02یہ ممکن ہے کہ شمالی ہند کی یہ روایت کے جانشینی کے لیے اس میں
06:06اور اس کے بھائی سوسیم کے مبین کوئی تنازع ہوا ہو
06:10مہا ومس بیان کرتا ہے کہ جب بندو سار بیمار ہوا
06:13تو اشوکہ اجین سے پاٹلی پترہ واپس آیا
06:16اور دارل حکومت پر کنٹرول حاصل کر لیا
06:19اپنے والد کی موت کے بعد اشوکہ نے اپنے بڑے بھائی کو قتل کر کے تخت پر چڑھایا
06:24مطن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشوکہ نے اپنے ستیلے بھائیوں میں سے 99 کو قتل کیا
06:29بشمول سمانہ کے
06:31دیپا ومسہ بیان کرتا ہے کہ اس نے اپنے سو بھائیوں کو قتل کیا
06:35اور چار سال بعد اس کا تیاج پہنایا گیا
06:38ومسہ پاکستینی کا مزید کہنا ہے کہ ایک عجیوی کا سنیاسی نے
06:42اشوکہ کی ماں کے خواب کی تعبیر کی بنیاد پر
06:45اس قتل عام کی پیشین گوئی کی تھی
06:48ان اکاؤنٹس کے مطابق صرف اشوکہ کے رحم کے بھائی
06:51ٹیسا کو بچایا گیا تھا
06:5399 اور 100 جیسے عداد و شمار مبالغہ میز ہیں
06:57اور ایسا لگتا ہے کہ یہ بتانے کا ایک طریقہ ہے
06:59کہ اشوکہ نے اپنے کئی بھائیوں کو مار ڈالا
07:03سری لنکا کے متون مہا ومسہ اور دیپا ومسہ کے مطابق
07:07اشوکہ گوتم بدھ کی موت کے 218 سال بعد تخت ور ویٹھے
07:12اور 37 سال حکومت کی
07:14بدھ کی موت کی تاریخ بزاتے خود ایک بحث کا موضوع ہے
07:17اور شمالی ہندوستانی روایت کہتی ہے
07:20کہ اشوکہ نے بدھ کی موت کے 100 سال بعد حکومت کی
07:23جس کی وجہ سے اس تاریخ کے بارے میں مزید بحثیں شروع ہوئیں
07:27یہ فرض کرتے ہوئے کہ سری لنکا روایت درست ہے
07:29تو اشوکہ کے میراج کی تاریخ
07:32تین سال پہلے یعنی 268 قبل مسیح میں بتائی جا سکتی ہے
07:39بدھ مت کی اثر سے پہلے حکومت
07:42سری لنکا اور شمالی ہندوستانی روایات
07:45دونوں اس بات پر زور دیتے ہیں
07:47کہ اشوکہ بدھ مت سے پہلے ایک متشدد شخص تھا
07:50ترانات کا یہ بھی کہنا ہے
07:52کہ اشوکہ کو ابتدا میں کامہ اشوکہ کہا جاتا تھا
07:55کیونکہ اس نے کئی سال خوشگوار
07:57تاکوں میں گزارے
07:58اس کے بعد اسے چندہ اشوکہ
08:00یعنی شدید اشوکہ کہا جاتا تھا
08:03کیونکہ اس نے کچھ سال
08:05برے کاموں میں گزارے
08:06اور آخر کار وہ بدھ مت میں تبدیلی کے بعد
08:09دھما اشوکہ یعنی اشوکہ سالے کے نام سے
08:12جانا جانے لگا
08:13جن وزراء نے اس کی تختنشینی میں مدد کی تھی
08:16وہ اس کی تختنشین ہونے کے بعد
08:18اس کے ساتھ حکارت عمید سلوک کلنے لگے
08:21ان کی وفاداری کو جانجنے کے لیے
08:22اشوکہ نے انہیں ہر پھول اور پھل والے درخت کو
08:26کٹنے کا مزہ کا خیز حکم دیا
08:28جب وہ اس حکم پر عمل کرنے میں ناکام رہے
08:31تو اشوکہ نے ذاتی طور پر
08:33پانچ سو وزراء کے سرکاٹ دیے
08:35اسی طرح اشوکہ کا واقعہ
08:37اپنی پانچ سو عورتوں اور لنڈیوں کو
08:39جلا دینے کا بھی مرکوم ہے
08:44اشوکہ کی بدھ مت میں تبدیلی سے پہلے
08:46ایک بدکار شخص کے طور پر
08:48اس طرح کی وضاحتیں
08:50بدھ مت کے مسننفین کی من گھڑت
08:52ملوم ہوتی ہیں
08:53جنہیں نے بدھ مت کے ذریعے اس میں جو تبدیلی لائی
08:56اسے ایک موجزہ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی
08:59اس تبدیلی کو ڈرامائی شکل دینے کی کوشش میں
09:01اس طرح کے افثانیں اشوکہ کے
09:03ماضی کی بدکاری اور ظلم
09:05اور تبدیلی کے بعد
09:07اس کی پریزگاری کو بڑا چڑھا کر
09:09پیش کرتے ہیں
09:14کلنگا جنگ اور بود مت میں تبدیلی
09:17اشوکہ کے میجر روک ایڈکت
09:20تیرہ کے مطابق
09:21اس نے تخت پر چڑھنے کے آٹھ سال بعد
09:23کلنگا کو فتح کیا
09:24حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ
09:26اس کی کلنگا کی فتح کے دوران
09:28ایک لاکھ آدمی اور جنور
09:30کاروائی میں مارے گئے تھے
09:32اور ڈیڑھ لاکھ آدمیوں اور جنوروں کو
09:34کلنگا سے قیدی منا کر لے جایا گیا
09:36اشوکہ کے نشتاجات میں بھی ذکر کیا گیا ہے
09:39کہ اس نے اپنے آٹھ میں حکومتی سال کے دوران
09:42کلنگا کی علاقے کو فتح کیا
09:44جنگ کے دوران ہونے والی تباہی نے
09:46اسے تشدد سے توبہ کرنے پر مجبور کیا
09:49اور اس کے بعد کے سالوں میں
09:50وہ بد مت کی طرف راگب ہوا
09:52دوسری طرف سری لنکر روایت سے پتا چلتا ہے
09:55کہ شوکہ پہلے ہی اپنے آٹھ میں رجال سال سے
09:58ایک عقیدت مند بد مت تھا
10:00اس نے اپنے چوتھے رجال سال کے دوران
10:02بد مت اختیار کیا
10:03اور اپنے پانچ میں تا ساتھ میں سال کے دوران
10:06چوراسی ہزار ویہار تعمیر کیے
10:08بد مت کے افثانوں میں
10:09کلنگا مہم کا کوئی ذکر نہیں ملتا
10:12سری لنکر روایت کے مطابق
10:14اشوکہ کے وال بندو سارا
10:16برہمن عزم کے پیروکار تھے
10:18اور ان کی ماں عجیو کاس دھرم کی عقیدت مند تھیں
10:21سامنتہ پاساڈیکہ کہتا ہے
10:23کہ اشوکہ نے اپنے دور حکومت کے پہلے تین سالوں میں
10:26غیر بد مت کے فرقوں کی پیروی کی
10:28سری لنکر تحریروں میں یہ اضافہ کیا گیا ہے
10:31کہ اشوکہ برہمنوں کے رویے سے خوش نہیں تھا
10:33جو روزانہ اس سے خیرات وصول کرتے تھے
10:36اس کے درباریوں نے
10:37اجویکہ اور ننگنتہ مظاہب کے کچھ ساتسہ کو
10:40اس کے سامنے پیش کیا
10:42لیکن یہ بھی اسے متاثر کرنے میں ناکام رہے
10:45دیپاب آمسہ میں کہا گیا ہے
10:47کہ اشوکہ نے کئی غیر بد مت مذبی رہنماؤں کو
10:50اپنے محل میں مدعو کیا
10:51اور انہیں اس امید پر عظیم تحائف سے نوازا
10:54کہ وہ بادشاہ کے سوال کا جواب دیں گے
10:56مطن میں یہ نہیں بتایا گیا
10:58کہ سوال کیا تھا
10:59لیکن یہ ذکر کیا گیا ہے
11:01کہ مدعو کرنے والوں میں سے کوئی بھی
11:03اس کا جواب نہیں دے سکا
11:05ایک دن اشوکہ نے نگرودہ
11:08یا نیا گرودہ نامی ایک نوجوان
11:10بدھ راہب کو دیکھا
11:12جو پاٹل پترہ کی ایک سڑک پر بھیگ کی تلاش میں تھا
11:15وہ بادشاہ کا بتیجہ تھا
11:16حالانکہ بادشاہ کو اس کا علم نہیں تھا
11:18وہ اشوکہ کے سب سے بڑے بھائی سمانہ کا
11:21بادز مرگ بیٹا تھا
11:22جسے اشوکہ نے تخت کے تنازع کے دوران
11:25قتل کر دیا تھا
11:26اشوکہ نگرودہ کی پرسکون اور نڈر شکل سے متاثر ہوا
11:31اور اسے کہا کہ وہ اسے اپنا عقیدہ سکھائی
11:33اس کے جواب میں نگرودہ نے
11:34اسے اپاماد یعنی اجلت پر خطبہ دیا
11:37خطبہ سے متاثر ہو کر
11:39اشوکہ نے نگرودہ کو
11:41چار لاکھ چاندی کے سکے
11:43اور چاول کے روزانہ آٹھ حصے پیش کی
11:45بادشاہ بدھ مت اپاسکہ بن گیا
11:48اور پاٹلی پترہ میں
11:49کوک ٹراما مندر میں حاضری دینے لگا
11:52مندر میں اس کی ملاقات
11:53بدھ راہب موگلی پوتا تیسا سے ہوئی
11:56اور وہ بدھ مت کے عقیدے کے لیے
11:58زیادہ وقف ہو گئے
12:04بدھ مت کے اثر کے بعد حکومت
12:07محمس اور اشوکہ ویدان دونوں بیان کرتے ہیں
12:10کہ اشوکہ نے چوراسی ہزار
12:12سٹوپا ویہار بنائی
12:13محمس کے مطابق یہ سرگرمی
12:16اس کے دور حکومت کے پانچویں سے
12:17ساتمیں سال میں ہوئی تھی
12:19اشوکہ ویدان میں کہا گیا ہے کہ
12:21شوکہ نے گوتم پونت کے
12:23آٹھ آسار میں سے سات کو اکٹھا گیا
12:26اور ان کے حصے سونے
12:27چاندی اور کرشٹل سے بنے
12:30چوراسی ہزار خانوں میں رکھے تھے
12:31اس نے پوری زمین میں ایسے شہروں
12:34جن کی عبادی ایک لاکھ
12:35یا ایسے زیادہ تھی
12:36کہ اندر چوراسی ہزار سٹوپا تعمیر کرنے کا حکم دیا
12:40اشوکہ کے ستون
12:41یک سنگی کالموں کا ایک ایسا سلسلہ ہیں
12:44جو پورے برے سغیر پاکو ہند میں پھیلے ہوئے ہیں
12:48اشوکہ کے ذریعے کھڑے کیے گئے بیس تون ابھی تک زندہ ہیں
12:52جن میں اس کے فرمودات کے کندہ بھی شامل ہیں
12:58دھرم کی تبلیغ اور مشن
13:02اشوکہ کی چٹان کے حکام بتاتے ہیں
13:04کہ اپنے دور حکومت کے آٹھویں یا نوے سال میں
13:06اس نے بدھی درخت کی یاترہ کی
13:08دھرم کا پرچار شروع کیا
13:10اور سماجی بہبود کی سرگرمیاں انجام دیں
13:13فراہی سرگرمیوں میں انسانوں اور جانوروں کے علاج
13:17معالجے کی سہولیات کا قیام بھی شامل ہے
13:19دواؤں کی جڑی بوٹیوں کے پودے لگائے
13:21کمیں کھدوائے اور سڑکوں کے ساتھ ترخت لگوائے
13:25سری لنکا روایت میں موگلی پوتاتی ساتھ
13:28جس اشوکہ کی سرپرستی حاصل ہے
13:30نے سرحدی علاقوں میں بدھ مت کو پھیلانے کے لیے
13:33نو بدھ مشن بیجے
13:35ہر مشن میں پانچ راہب ہوتے ہیں
13:37اور اس کی سربرائی ایک بزرگ کرتے ہیں
13:43اس کے ساتھ چار دیگر تھیراس، اتھیا، اتھیا، سنبلہ اور بدھا سلا راہ بھی شامل تھے
13:50اس کے بعد اشوکہ نے بہت دمت کے مشنریوں کو
13:53کشمیر، گندارہ، ہمالیہ، یونانی سرزمین، مہاراشترا، سوانہ، بھومی
14:00اور سری لنکا جیسے دور دراز علاقوں میں بیجا
14:06روایت میں مزید کہا گیا ہے کہ اپنے انیس میں سالے حکومت کے ذران
14:10اشوکہ کی بیٹی سنگ میتہ اپنے ساتھ مقدس بودھی درخت کا ایک پودہ لے کر
14:16رہبوں کا آرڈر قائم کرنے سری لنکا گئی
14:18جبکہ شمالی ہندوستانی روایت میں ان واقعات کا کوئی ذکر نہیں ملتا
14:26تیسری بدھ گونسل
14:28آٹھویں صدی کی بدھ یاتری لے جنگ نے اشوکہ کی بدھ سنگا میں شمالیت کے بارے میں ایک اور کہانی
14:33درج کی ہے
14:34اس کہانی کی مطابق پہلے بادشاہ بمبیسارہ جو گوتم بدھ کے ہم اثر تھے
14:39نے ایک بار خواب میں کپڑے اور چھڑی کے اٹھارہ ٹکڑے دیکھے
14:43مہاتمہ بدھ نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ اس کے موت کے بعد اس کا فلسفہ اٹھارہ مقاتب میں
14:49تقسیم ہو جائے گا
14:50اور پیشنگوئی کی کہ اشوکہ نامی ایک بادشاہ ان مقاتب کو سو سال بعد متحد کر دے گا
15:00خاندان
15:00مہامسہ کے مطابق اشوکہ کی سردار مہارانی اسند میتہ تھی جو اسے چار سال پہلے مر گئی تھی
15:07مہامسہ کے مطابق اسند میتہ کی موت کے بعد تسرکھا چیف مہارانی بن گئی
15:12دیوی بدان میں پدماوطی نامی ایک اور مہارانی کا ذکر ہے جو ولی اہد کنالا کی ماں تھی
15:19سری لنکہ روایت کے مطابق اشوکہ کو وسطی ہندوستان میں ایک شہزادے کے طور پر دیوی یا ودیشہ سے پیار
15:26ہو گیا تھا
15:27اشوکہ کے تخت پر چڑھنے کے بعد دیوی نے شاہی دارل حکومت پارٹلی پترہ جاننے کی بجائے ودیشہ میں ہی
15:33رہنے کا انتخاب کیا
15:37شاہی حدود
15:38اس کی وسیل سلطنت شمال مگر میں کو ہندو کش تک پھیلی ہوئی تھی
15:43اس میں ایک بڑا حصہ اس علاقہ کا بھی شامل تھا جو آج کل افغانستان میں شامل ہے
15:48اور ساتھ ہی بلوچستان اور سندھ کا تمام یا بڑا حصہ بھی اس سے ملہک تھا
15:53سوات اور بوجوڑ کی دور افتادہ وادیاں بھی شاہی اعمال کے زیرے نگرانی تھی
15:58اور اس کے علاوہ کشمیر اور نیپال تو یقینا شامل تھے ہی
16:02کشمیر میں اشوک نے ایک درسلطنت امیر کیا تھا اور اس کا نام سری نگر رکھا تھا
16:07جو آج کلیسی نام کے شہر سے تھوڑے سے فاصل پر واقع ہے
16:12اشوکہ کی سلطنت کا درل حکومت مگد کے علاقے میں پارٹلی پترہ تھا
16:20موت
16:20سری لنکر حوایت کے مطابق اشوکہ کا انتقال اپنے سنتیس میں سالح حکومت میں ہوا
16:26جسے پتہ چلتا ہے کہ اس کی موت 232 قبل مسیح کے قریب ہوئی
16:30اشوکہ بدان کے مطابق شہنشاہ اپنے آخری دنوں میں شدید بیمار ہو گیا
16:34اس نے بدھ سنگ کو اتیاد دینے کے لیے ریاستی فنڈز کا استعمال کرنا شروع کر دیا
16:40جیسے اس کے وزراء نے اسے سرکاری خزانے تک رسائی سے انکار کر دیا
16:44اس کے بعد اشوکہ نے اپنی ذاتی ملاق کو اتیاد کرنا شروع کر دیا
16:48لیکن کسی طرح اسے ایسا کرنے سے روک دیا گیا
16:51بستر مرگ پر اس کے پاس صرف ایک میروبلن پھل کا آدھا حصہ تھا
16:56جو اس نے سنگا کو اپنے آخری اتیہ کے طور پر پیش کیا
16:59اس طرح کے افثانے سنگا کو دیل کھور کل اتیاد دینے کی حوصل افضائی کرنتے ہیں
17:05اور بدھمت کے عقیدے کی حمایت میں شہنشاہیت کے کردار کو اجواغر کرتے ہیں
17:11افثانے کہتے ہیں کہ اس کی آخری رسومات کے دوران
17:14اس کا جسم سات دن اور سات راتوں تک مسلسل جلتا رہا
17:28اشوکا چکر
17:29اشوکا چکر یا صداقت کا پیہ جسے سنسکرت میں دھرم چکر یا پالی میں دھما چکرہ بھی کہتے ہیں
17:36ہندوستان کے قومی پرچم میں اپنایا گیا ہے
17:39یہ پیہ گوتن بند کے پیہ کی نمائنگی کرتا ہے
17:42اشوکا کے دارل حکومت میں نصف شیروں کے مجسمیں بھی ہندوستان کی مہر پر نظر آتے ہیں
17:54موسیقی
18:05موسیقی
18:08موسیقی
18:10موسیقی
Comments