00:00ایک زمانے کی بات ہے یمن کے ایک سہلی شہر سمندر پور میں ایک غریب چراغ ساز رہتا تھا جس کا نام تھا مراد
00:06وہ اپنی ماں آمنہ اور چھوٹی بہن زہرہ کے ساتھ ایک جھمپڑی میں رہتا تھا
00:10مراد دن رات محنت کرتا بازار میں چراغ بیچتا لیکن اس کی آمنی بس دو وقت کے کھانے کے لیے کافی ہوتی تھی
00:17اس کے باوجود اس کا دل ہر وقت اپنے شہر کی بھلائی کے لیے دھڑکتا تھا
00:21وہ اپنی معمولی سی دکان پر بیٹھ کر غریبوں کو مفت چراغ دیتا بیواؤں کی مدد کرتا اور یتیموں کے لیے کہانیاں سنا کر ان کے چہروں پر مسکراہت بکھرتا تھا
00:30لیکن یہ کہانی صرف مراد کی نہیں ہے یہ کہانی ہے ایک جادوی چراغ کی جو اس کی زندگی کو بدل دیتا ہے
00:36یہ کہانی ہے ایمان قربانی حکمت اور انصاف کی یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو اپنے خوابوں کو سچ کرنے کے لیے ہر مشکل سے ٹکراتے ہیں اور پھر بھی ہار نہیں مانتے
00:46آئیے اس کہانی میں ڈوب جائیں جو ایک سنیمائی تجربہ دیتی ہے نئے کرداروں نئے موڑوں اور دلچسپ مقالموں کے ساتھ
00:52سمندر پور کا بازار ہر صبح رنگوں اور خوشبوں سے بھر جاتا تھا
00:56مچھلیوں کی مہت مسالحوں کی خوشبوں اور تاجروں کی آوازیں فضا میں گنجتی تھی
01:00مراد کی چھوٹی سی دکان بازار کے ایک کونے میں تھی جہاں وہ مٹی کے چراغ بناتا اور انہیں خوبصورت رنگوں سے سجاتا
01:07اس کے چراغ نہ صرف روشنی دیتے تھے بلکہ ان کی سادگی اور خوبصورتی لوگوں کے دلوں کو چھوٹی تھی
01:13ایک دن جب سورج غروب ہو رہا تھا ایک بڑا شخص مراد کی دکان پڑا
01:17اس کی سفید داڑی زمین کو چھوٹی تھی اور اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے لیکن اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی چمک تھی
01:23اس نے ایک پرانا زن آلودہ چراغ مراد کے سامنے رکھا اور بولا
01:27کہ جوان کیا تو اس چراغ کو صاف کر سکتا ہے
01:30مراد نے چراغ کو ہاتھ میں لیا یہ کوئی معمولی چراغ نہیں تھا
01:33اس پر عجیب و غریب نقش و نگار کندہ تھے جو کسی قدیم زبان میں لکھے لگتے تھے
01:38مراد نے مسکراتے ہوئے کہا بابا یہ چراغ تو خاص لگتا ہے
01:41اسے صاف کرنے میں وقت لگے گا لیکن میں کوشش کروں گا
01:44بولے نے سر ہلاتے ہوئے کہا یہ چراغ تیری تقدیر بدل دے گا
01:48اگر تو اسے دل سے صاف کرے گا یہ کہہ کر وہ چلا گیا
01:51مراد نے اس کی بات کو مزاق سمجھا اور چراغ کو صاف کرنے لگا
01:55جیسے ہی اس نے چراغ پر کپڑا رگڑا ایک نیلا دھوا نکلا اور اس کے سامنے ایک جن مدار ہوا
02:00مراد در کے مارے پیچھے ہٹ گیا
02:02جن نے زوردار آواز میں کہا اے چراغ کے مالے میں تیرا غلام ہوں
02:06تین خواہشیں مام اور میں انہیں پورا کروں گا
02:08مراد نے گھبراتے ہوئے کہا یہ کیا مزاق ہے
02:11میں کوئی راجہ آبادشاہ نہیں ہوں
02:13میں بس ایک غریب چراغ ساز ہوں
02:15جن نے مسکراتے ہوئے کہا یہ مزاق نہیں تقدیر ہے
02:18مانگ تو کیا چاہتا ہے
02:19مراد نے سوچا
02:20اس کا دل اپنی ماں اور بہن کی خوشی کیلئے تڑپتا تھا
02:23لیکن اسے اپنے شہر کی غربت اور بدحالی بھی نظر آتی تھی
02:27اس نے کہا میری پہلی خواہش ہے
02:28کہ میں ایک ہفتے کیلئے سمندر پور کا بادشاہ بنوں
02:31تاکہ میں اپنے شہر کی بھلائی کیلئے کچھ کرسکوں
02:34جن نے اپنا سر جھکایا اور بولا
02:36تیری خواہش پوری ہوئی
02:37آج رات سے تو سمندر پور کا بادشاہ ہے
02:40لیکن خبردار تیری دوسری اور تیسری خواہش ابھی باقی ہے
02:43سوچ سمجھ کر ماننا یہ کہہ کر جن غائب ہو گیا
02:46اگلی صبح جب مراد اپنی جھمپڑی سے نکلا
02:49تو اسے ایک شاہی گھوڑے پر سوار سپاہیوں نے گھیب لیا
02:52ان کا سردار بولا
02:53اے مراد اللہ کی مرضی سے تو ہمارا نیا بادشاہ ہے
02:56ہمارے پرانے بادشاہ کی اچانک موت ہو گئی
02:58اور رات کو ایک خواب میں ہمیں حکم ملا
03:00کہ تو ہمارا نیا رہنما ہے
03:02مراد حیران تھا لیکن اس نے جن کی بات کو یاد کیا
03:05وہ سپاہیوں کے ساتھ محل پہنچا
03:07محل سونے اور چاندی سے جگمگا رہا تھا
03:09شاہی دربار میں وزیر آزم اسلم خان
03:11اور دیگر درباریوں نے اس کا استقبال کیا
03:14اسلم خان نے کہا
03:15بادشاہ سلامت ہم آپ کے احکامات کے منتظر ہیں
03:18مراد نے تخت پر بیٹھتے ہوئے کہا
03:20میرا پہلا حکم ہے
03:21کہ شہر کے ہر غریب کو مفت اناج دیا جائے
03:23ہر بے روزگار کو کام دیا جائے
03:25اور بیماروں کے لیے مفت علاج کا بندوبست کیا جائے
03:28درباری حیران ہوئے
03:30ایک درباری جو ایک طاقتور سوداگر جاوید کا قریبی دوست تھا
03:33نے سرگوشی کی
03:34یہ کیا پاگل پن ہے
03:35یہ تو خزانے کو خالی کر دے گا
03:37لیکن مراد کے حکم کی تعمیم ہوئی
03:39شہر کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے
03:41غریبوں کے گھروں میں کھانا آیا
03:43بے روزگاروں کو کام ملا
03:44اور اسپتالوں میں مفت علاج شروع ہوا
03:46لیکن جاوید جو شہر کا سب سے بڑا سوداگر تھا
03:49مراد کے ان فیصلوں سے خوش نہیں تھا
03:51وہ اپنی حویلی میں ایک جادوگر سلیم ساہر سے ملا اور بولا
03:55یہ نیا بادشاہ ہمارے کاروبار کو تباہ کر دے گا
03:58اسے روکنا ہوگا
03:59سلیم ساہر نے ایک شیطانی مسکراہت کے ساتھ کہا
04:02فکر نہ کرو جاوید
04:03میرے پاس ایک جادوی آئینہ ہے
04:04اگر ہم مراد کے خاندان کو اس آئینے کی دنیا میں قید کر لے
04:08تو وہ تخت چھوڑنے پر مجبور ہو جائے گا
04:10دوسرے دن جب مراد اپنی ماں اور بہن سے ملنے
04:13اپنی جھومپڑی پہنچا
04:14تو وہ دونوں غائب تھی
04:15اس کی جھومپڑی کے بیچ ایک بڑا آئینہ رکھا تھا
04:18جس میں آمنہ اور زہرہ کی مدھم سی شکلیں نظر آ رہی تھی
04:21مراد نے چیف کر کہا
04:22ماں زہرہ تم کہا ہو
04:24آئینے سے ایک آواز گونجی
04:25اے مراد ہم ایک جادوی دنیا میں قید ہیں
04:28اگر تو ہمیں بچانا چاہتا ہے
04:29تو تین معمہ حل کر
04:31ہر معمہ ایک دروازہ کھولے گا
04:32اور تیری ہر خواہش تیری مدد کرے گی
04:35مراد نے جن کو پکارا
04:36میلا دھوان و مدار ہوا
04:37اور جن سامنے آیا
04:38مراد نے کہا
04:39اے جن میری دوسری خواہش مان
04:41مجھے وہ حکمت دے جو ان معمہ کو حل کر سکے
04:44جن نے کہا
04:44تیری خواہش پوری ہوئی
04:46اب تیرا دماغ ہر معمہ کو سمجھنے کی طاقت رکھتا ہے
04:49لیکن یاد رکھ
04:50تیری اخری خواہش تیری سب سے بڑی آزمائش ہوگی
04:52مراد نے آئینے کی طرف دیکھا
04:54پہلا معمہ اس کے سامنے نمودار ہوا
04:56میں وہ ہوں جو ہر صبح آتا ہوں
04:58لیکن رات کو غائب ہو جاتا ہوں
05:00میں روشنی دیتا ہوں
05:09تاریخ غار میں پہنچا
05:10غار کے بیچ ایک چمکتا ہوا پتھر تھا
05:13جس پر لکھا تھا
05:14دوسرا معمہ
05:15میں وہ ہوں جو ہر انسان کے پاس ہے
05:17لیکن کوئی اسے دیکھ نہیں سکتا
05:18میں خاموش ہوں لیکن میری آواز سب سنتے ہیں
05:21میں کیا ہوں
05:22مراد نے اپنی نئی حکمت کا استعمال کیا اور کہا
05:24دل غار کی دیواریں ہل اور ایک اور دروازہ کھنا
05:28مراد اس میں داخل ہوا اور ایک جادوی جنگل میں پہنچا
05:31وہاں ایک پرین مدار ہوئی اور بولی
05:39مجھے پہلے میری ماں اور بہن کو ازاد کرو
05:42پرینے مسکراتے ہوئے کہا
05:44تیری حمت قابل تریف ہے
05:45اخری معمہ یہ ہے
05:46میں وہ ہوں جو ہر چیز کو جوڑتا ہے
05:48لیکن خود کبھی نظر نہیں آتا
05:50میں طاقت دیتا ہوں لیکن کمزور بھی کر سکتا ہوں
05:53میں کیا ہوں
05:53مراد نے گہری سانس لی اور بولا
05:55محبت جنگل کی ہوائیں تیز ہوئیں اور آئینہ ٹوٹ گیا
05:59آمنہ اور زہرہ مراد کے سامنے نمودار ہوئیں
06:01وہ دونوں اسے گلے لگا کر رونے لگیں
06:03لیکن مراد کی خوشی زیادہ دیر نہ رہی
06:05جعوید اور سلیم ساہر نے شہر کے لوگوں کو مراد کے خلاف بھڑکایا
06:09انہوں نے افوا پھیلائی کے مراد ایک جادوگر ہے
06:12جو شہر کو تباہ کر دے گا
06:14لوگ جو پہلے مراد کی نیکیوں سے خوش تھے
06:16اب اس کے خلاف ہو گئے
06:17مراد نے دربار میں سب کو جمع کیا اور بولا
06:20اے سمندر پور کے لوگوں
06:21اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں تمہارا بادشاہ نہیں ہوں
06:24تو میں تخت چھوڑ دوں گا
06:25لیکن پہلے مجھے اپنے دشمن سے مقابلہ کرنے دو
06:28اس نے جن کو پکارا اور اپنی اخری خواہش مانگی
06:31اے جن مجھے وہ طاقت دے کہ میں جعوید اور سلیم ساہر کی شرارت کو بے نقاب کر سکھوں
06:35جن نے کہا تیری خواہش پوری ہوئی
06:37لیکن یہ طاقت صرف ایک دن کے لیے ہے
06:40اسے عقل سے استعمال کر
06:41مراد نے جعوید اور سلیم ساہر کو دربار میں طلب کیا
06:44اس نے ایک جادوی آئینہ منگوایا جو سچ دکھاتا تھا
06:47جب جعوید اور سلیم اس کے سامنے کھڑے ہوئے
06:50تو آئینے نے ان کی سازشوں کو بے نقاب کر دیا
06:52لوگوں نے دیکھا کہ جعوید نے شہر کے خزانے کو لوٹنے کی منصوبہ بندی کی تھی
06:57اور سلیم ساہر نے لوگوں کو جادو سے ورگلایا
06:59لوگوں نے جعوید اور سلیم کو سزا دینے کا مطالبہ کیا
07:03مراد نے کہا
07:03انہیں سزا دو لیکن ان کی جان بخش دو
07:06انہیں شہر سے نکال دو تاکہ وہ دوبارہ کوئی شرارت نہ کر سکیں
07:10مراد کی ایک ہفتے کی بادشاہت ختم ہوئی
07:12اس نے تخت چھوڑ دیا اور اپنی جھمپڑی میں واپس آ گیا
07:15لیکن شہر کے لوگوں نے اسے دوبارہ بادشاہ بنانے کی التجاہ کی
07:19مراد نے کہا
07:20میں بادشاہ نہیں بننا چاہتا
07:21میں بس ایک چراغ ساز ہوں
07:23لیکن میں اپنے چراغوں سے تمہارے دلوں میں روشنی بھروں گا
07:26اس نے اپنی دکان کو دوبارہ کھولا
07:28اور اپنی ماں اور بہن کے ساتھ مل کر شہر کے لیے کام کیا
07:31اس کے چراغ اب پورے یمن میں مشہور ہو گئے
07:34لوگ کہتے تھے کہ مراد کے چراغوں میں روشنی نہیں
07:36بلکہ محبت اور امید کی چمک ہوتی ہے
07:39یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے
07:40کہ سچی طاقت دولتا اقتدار میں نہیں
07:43بلکہ حکمت محبت اور ایمان میں ہے
07:45جو انسان دوسروں کی بھلائی کے لیے جیتا ہے
07:47اس کی روشنی کبھی نہیں بجھتی
07:49اللہ کی مرضی اور نیک میتی سے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے
07:52اگر آپ کو یہ کہانی پسند ہے تو لائک اور سبسکراب کریں
07:56آپ کے کمنٹ کا انتظار رہے گا