In this thought-provoking episode, Noor TV explores the profound connection between Tawaf-e-Kaaba (circumambulation of the Kaaba) and the signs of Qayamat (Doomsday). As one of the most sacred acts of worship in Islam, Tawaf represents the unity and devotion of Muslims toward Allah. But what does it mean when Tawaf stops? Is this a sign of the end of times?
Key points covered in the video:
The Importance of Tawaf: Why this act holds a central place in Islamic worship and its spiritual significance.
Qayamat Ki Nishani: How the cessation of Tawaf is linked to the major signs of Doomsday as mentioned in Hadith.
Islamic Perspective on Qayamat: Insights from the Quran and Hadith regarding the events leading to the end of the world.
Lessons for Believers: The importance of staying steadfast in faith and preparing for the trials of Qayamat.
Historical and Spiritual Context: How Tawaf has continued unbroken for centuries and what its halting could signify.
This video serves as a powerful reminder of the transient nature of life and the ultimate return to Allah. Noor TV encourages viewers to reflect on the signs of Qayamat and strengthen their relationship with Allah through prayer, good deeds, and repentance.
Watch this video to uncover the link between Tawaf-e-Kaaba and the beginning of Doomsday, and prepare yourself for the trials of the end times.
#TawafEKaba #QayamatKiNishaniyan #NoorTV #EndTimesInIslam #TawafAurQayamat #IslamicTeachings #SignsOfDoomsday #TawafStopSign #IslamicEschatology #FaithAndPreparation
Key points covered in the video:
The Importance of Tawaf: Why this act holds a central place in Islamic worship and its spiritual significance.
Qayamat Ki Nishani: How the cessation of Tawaf is linked to the major signs of Doomsday as mentioned in Hadith.
Islamic Perspective on Qayamat: Insights from the Quran and Hadith regarding the events leading to the end of the world.
Lessons for Believers: The importance of staying steadfast in faith and preparing for the trials of Qayamat.
Historical and Spiritual Context: How Tawaf has continued unbroken for centuries and what its halting could signify.
This video serves as a powerful reminder of the transient nature of life and the ultimate return to Allah. Noor TV encourages viewers to reflect on the signs of Qayamat and strengthen their relationship with Allah through prayer, good deeds, and repentance.
Watch this video to uncover the link between Tawaf-e-Kaaba and the beginning of Doomsday, and prepare yourself for the trials of the end times.
#TawafEKaba #QayamatKiNishaniyan #NoorTV #EndTimesInIslam #TawafAurQayamat #IslamicTeachings #SignsOfDoomsday #TawafStopSign #IslamicEschatology #FaithAndPreparation
Category
📚
LearningTranscript
00:24Khon-e-Kabah
00:34Khon-e-Kabah
01:00Khon-e-Kabah
01:30Khon-e-Kabah
01:32Khon-e-Kabah
02:09Khon-e-Kabah
02:28Is there a place for this 1933?
02:36It's a place for us.
02:41The fourth is an important place for us to reach a good place.
02:49This is a place for us that is a social and public.
02:56This práctica of the French was used to initiate a better place for the world.
02:58.
03:03.
03:17।
03:34which is near the end of the day of the day of the day of the day of the day
03:47of the day
04:04of the day of the day of the day
04:34127 کا ترجمہ یہ ہے
04:36اور یاد کرو جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادیں اٹھا رہے تھے اور دعا کرتے جاتے تھے کہ
04:42اے ہمارے رب ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے بے شک تو ہی خوب سننے والا اور جاننے والا ہے
04:48ناظرین خان کعبہ جو کہ پوری دنیا میں سب مسلمانوں کا قبلہ ہے اور دنیا کی پہلی مسجد مسجد الحرام
04:55کے وسط میں واقع ہے
04:55مسجد الحرام کی خصوصیت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے اسے امن کا گہوارہ بنایا ہے اور اس میں ایک
05:01نماز پڑھنے کا ثواب ایک لاکھ نماز پڑھنے کے برابر ہے
05:04اللہ تعالی نے خان کعبہ کی جگہ کو باقی زمین سے ایک ہزار سال پہلے پیدا فرمایا
05:09یہ خطہ پانی پر ایک جھاک کی شکل میں تیار رہا تھا پس اللہ تعالی نے اس خطے کے نیچے
05:13زمین کو بچھا دیا
05:14حضرت آدم علیہ السلام جب اللہ کی حکم سے زمین پر اترے تو آپ علیہ السلام پر بحشتاری ہو گئی
05:19اور آپ علیہ السلام نے اللہ تعالی سے دعا کی
05:21اللہ تعالی نے بیت المامور کو زمین پر نازل کیا جو جنت میں یاقود کا بنا ہوا تھا
05:26اور اس میں سبز زبرجت کے دو دروازے تھے ایک دروازہ مشرق کی طرف اور ایک دروازہ مغرب کی طرف
05:32لگا ہوا تھا
05:32اللہ تعالی نے اسے اسی جگہ رکھ دیا جہاں آج خان کعبہ موجود ہے
05:36اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا کہ اس کا اسی طرح تواف کیا کر جس طرح
05:41میرے عرش کے گرد فرشتوں کو تواف کرتے ہوئے دیکھا ہے
05:44اور اس کے پاس اسی طرح نماز پڑھا کر جس طرح میرے عرش کے پاس نماز ادا کیا کرتا تھا
05:49جب حضرت آدم علیہ السلام عرض ہند سے مکہ مکرمہ کی طرف پیدل روانہ ہوئے
05:54تو اللہ تعالی نے ایک فرشتے کو مقرر کر دیا
05:56تاکہ حضرت آدم علیہ السلام کی بیت اللہ کی طرف رہنمائی کرے
06:00حضرت آدم علیہ السلام نے مناسی کے حج ادا کیے
06:02جب حج سے فارغ ہوئے تو فرشتوں سے ملاقات کی
06:04فرشتوں نے کہا
06:06اے آدم اللہ تعالی آپ کو حج کا بہترین بدل آتا فرمائے
06:09ہم نے اس گھر یعنی بیت اللہ کا آپ سے دو ہزار سال پہلے تواف کیا تھا
06:13حضرت آدم علیہ السلام نے عرض ہند سے مکہ مکرمہ کی طرف پیدل چل کر
06:16چالیس مرتبہ حج فرمایا
06:18بیت المامور طوفان نوح تک زمین پر ہی رہا
06:21پھر اس کے بعد
06:22اللہ تعالی نے اسے آسمان پر اٹھا لیا
06:24اور جبریل علیہ السلام کو حکم دیا
06:26کہ وہ حجر اسوط کو جبل ابی قیس میں رکھ دیں
06:29تاکہ حجر اسوط طوفان نوح سے محفوظ رہے
06:31چنانچہ خان کعبہ بیت اللہ کی جگہ
06:34حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے تک خالی رہی
06:36طوفان نوح کے وقت جب خان کعبہ کی عمارت
06:39آسمان پر اٹھا لی گئی
06:40اور یہ جگہ ایک اونچے ٹیلے کی ماند رہ گئی
06:43پھر اسی بنیاد پر
06:44حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خان کعبہ کو تعمیر فرمایا
06:47جب اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا
06:49کہ خان کعبہ کی تعمیر کرو
06:50اس وقت تک حضرت اسماعیل علیہ السلام بھی پیدا ہو چکے تھے
06:53حضرت ابراہیم علیہ السلام نے
06:55اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ وہ
06:56اس جگہ کو واضح کر دے جہاں بیت اللہ کی تعمیر کی جائے
06:59حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:01اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
07:03کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا
07:05کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بادل کے ٹکڑے کو
07:07خان کعبہ کی جگہ کے تائین کے لئے بھیجا
07:09جب وہ بادل کا ٹکڑا چلا
07:11تو حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کے سائے میں چلتے رہے
07:13یہاں تک کہ جب مکہ مکرمہ آیا
07:15تو بادل کا ٹکڑا بیت اللہ کی جگہ پر ٹھہر گیا
07:18یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آواز دی گئی
07:21کہ بادل کے ٹکڑے کے سائے کے نیچے
07:23خان کعبہ یعنی بیت اللہ کی تعمیر کرو
07:26نہ اس میں کمی کرو اور نہ زیادتی کرو
07:28خان کعبہ کی جگہ کا تائین اور ظاہر ہونے کے بعد
07:31حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خان کعبہ کی تعمیر شروع کی
07:34حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر دیتے تھے
07:37خان کعبہ کی تعمیر پانچ پہاڑوں
07:39تور سینہ جبل زیتون جبل لبنان جو ملک شام میں ہے
07:43جبل جودی جو جزیرہ کا پہاڑ ہے
07:46جبل ہرا جو مکہ میں واقع ہے کے پتھروں سے کی گئی
07:49اور باقی پہاڑوں کے پتھروں سے بیت اللہ کی دیواریں بلند کی گئی تھی
07:53جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجر اسود کی جگہ تک
07:56بیت اللہ کی تعمیر مکمل کر لی
07:58تو اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام سے فرمائے
08:00میرے پاس ایک بہترین اور خوبصورت پتھر لاؤ
08:03جو لوگوں کے لیے بطور علامت قرار رہے
08:05حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر لائے
08:08حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا
08:10اس سے بھی اچھا پتھر لاؤ
08:11چنانچہ اسماعیل علیہ السلام پتھر کی تلاش میں نکلے
08:13تو جبلی ابو قیس سے آواز آئی
08:16ابراہیم تیرے لیے میں نے ایک امانت رکھی ہے
08:18پس تو اس کو لے لے
08:19حضرت ابراہیم علیہ السلام حجر اسود کو لائے
08:21اور اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا
08:23مسلمانوں کے نزدیک یہ پتھر بہت مقدس اور متبرک ہے
08:26جو مسلمان حج کرنے جاتے ہیں
08:28ان کے لیے لازم ہے
08:29کہ تواف کرتے ہوئے ہر بار
08:31حجر اسود کو بوسا دیں
08:32اگر حجوم زیادہ ہو
08:33تو دور سے ہاتھ کے اشارے سے بوسا دیا جا سکتا ہے
08:36ناظرین حضرت آدم علیہ السلام
08:38اور تواف کعبہ کے متعلق
08:40اسلامی روایات میں مختلف تفصیلات موجود ہیں
08:42یہ بات واضح کہ تواف کعبہ کی ابتدا
08:44حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے ہی جانی جاتی ہے
08:47لیکن اس عمل کی بنیاد اور طریقہ
08:49اللہ تعالیٰ کی وحی اور رہنمائی سے جڑا ہوا ہے
08:52روایات کے مطابق
08:53جب حضرت آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین پر اتارا گیا
08:56تو اپنے گناہ اللہ کے حکم کی خلاف فرضی پر
08:58توبہ اور مغفرت کے لئے بہت پریشان تھے
09:01اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کرنے کے لئے
09:03انہیں بیت اللہ کا تواف کرنے کا حکم دیا
09:05کہا جاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے
09:07تواف کا طریقہ فرشتوں سے سیکھا
09:09جو عرش کے گرد تواف کیا کرتے تھے
09:11بیت اللہ کو زمین پر اللہ کے عرش کا مذر
09:13قرار دیا گیا اور تواف ایک ایسا
09:15عمل ہے جو اللہ کی عبادت میں
09:17فرشتوں کے عمل کی اکاسی کرتا ہے
09:19حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے
09:21خان کعبہ کے گرد سات چکر لگائے
09:23جو آج کے مسلمانوں کے لئے
09:25تواف کا لازمی طریقہ ہے
09:26اس دوران وہ اللہ کی تذبیع تمہید
09:29اور استغفار کرتے رہے
09:30کچھ اسلامی روایات میں ذکر ہے کہ بیت اللہ کی اصل بنیادیں
09:33حضرت آدم علیہ السلام نے رکھی تھی
09:35یا اللہ یا اللہ کے حکم سے تعمیر کی گئی تھی
09:38یہ بھی کہا جاتا ہے کہ
09:40تواف فرشتوں کے تواف عرش کی مشابہت میں
09:42حضرت آدم علیہ السلام کے لئے مقرر کیا گیا
09:44حضرت آدم علیہ السلام کا تواف
09:46اللہ کی رحمت اور بخشش حاصل کرنے کی علامت تھا
09:49یہ تواف اس بات کا مظہر تھا
09:50کہ اللہ کی بندگی اور آجزی
09:52ہر انسان کی فطرت کا حصہ ہے
09:54قیامت تک انسانوں کے لئے
09:56ایک عبادتی عمل کی بنیاد ڈال دی گئی
09:58حضرت آدم علیہ السلام نے تواف کعبہ
10:00اللہ کی براہ راست رہنمائی
10:02فرشتوں کے عمل کی مشابہت
10:04اور اپنی توبہ کی قبولیت کے لئے سیکھا
10:06یہ عمل اس بات کی علامت ہے
10:07کہ اللہ کی عبادت میں آجزی اور استغفار کا مظاہرہ
10:10انسان اور اس کے خالق کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے
10:13ناظرین حضرت آدم علیہ السلام کی طرح
10:16حضرت ابراہیم علیہ السلام کے
10:17تواف کعبہ سیکھنے کے متعلق
10:19اسلامی روایات میں یہ ذکر بلتا ہے
10:21کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ہدایت
10:22اور رہنمائی کے ذریعے ہوا
10:24حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ نے
10:26نہ صرف بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا
10:28بلکہ اس کے مختلف مناسق
10:30بشمول تواف کا طریقہ بھی سکھایا
10:32قرآن کریم میں ذکر ہے کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:35کو بیت اللہ کی تعمیر کے بعد
10:37لوگوں کو حج کے لئے بلانے کا حکم دیا
10:39سورہ حج آیت نمبر ستائیس میں
10:41اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جس کا ترجمہ ہے
10:43اور لوگوں میں حج کے لئے اعلان کر دو
10:45وہ تمہارے پاس پیدا لائیں گے
10:47اور دبلے پتلے اونٹوں پر سوار ہو کر
10:49جو دور دراز راستوں سے آئیں گے
10:51اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام
10:54کو حج اور اس کے آمال کی رہنمائی
10:56وحی کے ذریعے دی گئی
10:57روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے
10:59حضرت جبریل علیہ السلام کو حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:01کی رہنمائی کے لئے بھیجا
11:02جنہوں نے انہیں تواف سعی
11:05اور دیگر مناسی کے حج کا طریقہ سکھایا
11:07کچھ اسلامی روایات میں ذکر ملتا ہے
11:09کہ حضرت آدم علیہ السلام نے سب سے پہلے
11:11کعبہ کا تواف کیا تھا
11:13حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سنت کو
11:14اللہ کے حکم کے مطابق زندہ کیا
11:16تواف کعبہ کے دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام
11:18اللہ کی حضور دعا اور ذکر میں
11:21مشغول رہتے تھے
11:22حضرت اسود سے تواف کا آغاز کیا
11:24اور بیت اللہ کے گرد ساتھ چکر مکمل کیے
11:26یہ عمل اللہ کے حکم اور اس کی بہدانیت کی
11:28علامت کے طور پر کیا گیا
11:30حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام
11:33نے تواف کے دوران دعا کی جو قرآن میں ذکر ہے
11:36ربنا تقبل منا انکا انتا سمیع العلیم
11:40سور بقرہ آیت نمبر 127
11:42یہ دعا اللہ کی بندگی آجزی اور اس کی حکم پر
11:46عمل کا عملی اظہار ہے
11:47حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تواف
11:49اس بات کا عملی نمونہ تھا
11:51کہ عبادت کا ہر عمل
11:52اللہ کی ہدایت اور اس کے ذکر سے جڑا ہونا چاہیے
11:54ان کا عمل آج بھی حج اور عمرے کرنے والوں کے لیے
11:57ایک کامل رہنمائی ہے
11:58حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد
12:00عرب قبائل خاص طور پر قریش
12:02تواف کی روایت کو جاری رکھتے تھے
12:04جاہلیت کے دور میں تواف تو ہوتا تھا
12:06لیکن اس میں شرک کی آمیزش تھی
12:09اور کعبہ کے اردگرد
12:10بت رکھے ہوئے تھے
12:12رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:14نے مکہ مکرمہ فتح کرنے کے بعد
12:16خان کعبہ کو بتوں سے پاک کیا
12:18اور تواف کعبہ کو اس کی اصل روح کے مطابق بحال کیا
12:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق
12:24تواف عبادت کا ایک عظیم حصہ ہے
12:26اور حجر عمرے کا اہم رکن ہے
12:28تواف کو چار اقسام میں تقسیم کیا گیا
12:30نمبر ایک تواف قدوم
12:32مکہ مکرمہ پہنچنے پر کیا جاتا ہے
12:34تواف افازہ
12:36حج کے دوران میدان عرفات سے واپسی پر کیا جاتا ہے
12:38تواف ودا
12:39مکہ سے رخصتی کے وقت کیا جاتا ہے
12:42نفلی تواف کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے
12:45ناظرین تواف صرف عبادت نہیں
12:47بلکہ وحدانیت الہی
12:48اور اللہ کی بندگی کا علامت ہی اظہار ہے
12:51دنیا بھر کے مسلمانوں کے دلوں میں یہ عمل
12:53اللہ سے قربت کا ایک ذریعہ
12:55اور اتحاد کی علامت کے طور پر محفوظ ہے
12:57تواف اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرنے
13:00گناہوں کی معافی طلب کرنے
13:01اور اپنی آجزی ظاہر کرنے کا ذریعہ ہے
13:04یہ دنیاوی زندگی کے مصروف دائرے سے نکل کر
13:06اللہ کی یاد میں مہب ہونے کی علامت ہے
13:09تواف کعبہ کی تاریخ نہ صرف روحانی
13:11بلکہ ثقافتی اور تاریخ اعتبار سے بھی
13:13مسلمانوں کی زندگی میں
13:15ایک خاص اہمیت رکھتی ہے
13:16خانے کعبہ کا تواف
13:18انٹی کلوک وائز
13:19خلاف اقرب کیا جاتا ہے
13:21یعنی حاجی
13:22اپنے بائیں کاندھے کو
13:30انٹی کلوک وائز تواف کے دوران
13:31دل ہمیشہ کعبے کی طرف ہوتا ہے
13:33جو اللہ سے بندے کی قربت
13:35اور محبت کی علامت ہے
13:36اللہ کی عبادت کے تمام مظاہر میں
13:38نظر و ضبط پایا جاتا ہے
13:39اور انٹی کلوک وائز تواف
13:41اسی نظام کا حصہ ہے
13:42قدرت کے تمام نظام
13:44انٹی کلوک وائز چلتے ہیں
13:45انٹی کلوک وائز تواف
13:47کائنات کے ان اصولوں کے ساتھ
13:48ہم آہنگی کا اظہار کرتا ہے
13:50گویا انسان بھی اللہ کی تخلیق ہے
13:52اس نظام کا ایک حصہ ہے
13:54ناظرین خان کعبہ کا تواف
13:56محض ایک جسمانی عمل نہیں
13:57بلکہ ایک روحانی تعلق ہے
13:59عبادت اور اتحاد کی عظیم الشان
14:01علامت ہے
14:01اس کے ذریعے مسلمان
14:03اللہ کے حضور اپنی بندگی کا اظہار کرتے ہیں
14:05اور اس کے عظیم
14:07نظام کائنات کا حصہ بن کر
14:08روحانی سکون پاتے ہیں
14:10ناظرین تواف میں
14:12انٹی کلوک وائز
14:13یعنی بائیں جانب گھومنا
14:14اللہ کے حکم کے مطابق ہے
14:16یہ عمل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی
14:17سنت کی پیروی
14:18اور اللہ کی اطاعت کا اظہار ہے
14:20قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
14:22سور بقرہ کی آیت نمبر 125 میں ہے
14:25جس کا ترجمہ ہے
14:26اور جب ہم نے
14:27ابراہیم اور اسماعیل سے کہا
14:28کہ میرے گھر کو تواف کرنے والوں
14:30اعتقاف کرنے والوں
14:32رکو کرنے والوں
14:33اور سجدہ کرنے والوں کے لئے پاک رکھو
14:35یہ آیت بیت اللہ کی پاکیزگی
14:37اور عبادت کے لئے
14:44اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے
14:46بیت اللہ کو تواف کرنے والوں کے لئے
14:48مخصوص کیا
14:49اور تواف کا طریقہ
14:50رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:52نے عملی طور پر سکھایا
14:54جو کہ بائیں جانب گھومنے کا ہے
14:56تواف کا عمل اس بات کی علامت ہے
14:58کہ مسلمان
14:59اپنی زندگی کو
15:00اللہ کے مرکز کے گرد
15:01گزارنا چاہتے ہیں
15:03انٹی کلوک وائز تواف کا مطلب
15:04اللہ کی اطاعت میں چلنا ہے
15:06جیسے کہ کائنات میں
15:08ہر شئے
15:08اسی سمت میں گردش کرتی ہے
15:10انٹی کلوک وائز تواف کا تعلق
15:12کائنات کی فطرتی حرکت سے ہے
15:14زمین سورج کی گرد
15:16انٹی کلوک وائز گھومتی ہے
15:17چاند زمین کی گرد
15:19انٹی کلوک وائز گردش کرتا ہے
15:20الیکٹرونز بھی
15:21ایٹم کے مرکز کی گرد
15:23اسی سمت میں گردش کرتے ہیں
15:24تواف اس ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے
15:27کہ ایک مسلمان کی عبادت بھی
15:28کائناتی اصولوں کے مطابق ہے
15:30جب انسان انٹی کلوک وائز تواف کرتا ہے
15:32تو اس کا دل بیت اللہ کی طرف رہتا ہے
15:34جو محبت اخلاص اور عبادت کا ایک فطری انداز ہے
15:37اس کا مقصد یہ کہ انسان اپنے دل کو
15:39اللہ کی طرف متوجہ کرے
15:40اور زندگی کے ہر شعبے میں
15:42اللہ کو مرکز توجہ بنائے
15:44تواف کے دوران لاکھوں مسلمان
15:46بغیر کسی انتیاز کی
15:47ایک ہی سمت میں حرکت کرتے ہیں
15:49جو کہ عمت مسلمہ کے اتحاد
15:51اور اللہ کی اتحاد کی علامت ہے
15:53انٹی کلوک وائز تواف نہ صرف اللہ کا حکم
15:55اور سنت ابراہیمی کی پیروی کا مظہر ہے
15:57بلکہ یہ کائنات کے اصولوں کے مطابق
16:00اللہ کی عبادت کا
16:01ایک عظیم اور بامانی عمل ہے
16:03یہ انسان کو اللہ کی عظمت کا احساس دلاتا ہے
16:06اور اس کی زندگی کو
16:07اللہ کے گرد مرکوز رکھنے کا درست دیتا ہے
16:10ناظرین
16:11کائنات کے ہم آہنگی
16:12اور اس میں انٹی کلوک وائز گردش
16:14ایک بہت دلچسپ اور مانی خیز موضوع ہے
16:17یہ تصور کائنات کی مختلف حرکات
16:19اور اس کے اندرونی توازن کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے
16:22زمین اپنے مہور پر مغرب سے مشرق کی جانب گھومتی ہے
16:25جو انٹی کلوک وائز حرکت کے مترادف ہے
16:28اگر آپ شمالی کتب سے دیکھیں
16:30یہ گردش زمین پر
16:32دن اور رات کے تسلسل کا سبب بنتی ہے
16:34زمین کی ایک گردش نہایت ہم آہنگ اور مستحقام ہے
16:37جو کائنات کے نظام کو ظاہر کرتی ہے
16:40چاند زمین کے گرد انٹی کلوک وائز مدار میں گھومتا ہے
16:43یہ حرکت زمین کے سمندری مدد و جذر
16:46اور زمین کے مہور کی استحقام میں
16:48اہم کردار ادا کرتی ہے
16:50چاند کی گردش ایک قدرتی نظم و ضبط کا مظہر ہے
16:53جو ہمارے نظام شمسی کی ہم آہنگی کا حصہ ہے
16:56نظام شمسی کے تمام سیارے سورج کی گرد انٹی کلوک وائز مدار میں گھومتے ہیں
17:01اگر اسے قطب شمالی سے دیکھا جائے
17:03تو یہ حرکت کشش سقل کے قوانین اور کائناتی قوتوں کا نتیجہ ہے
17:07سیاروں کی گردش ایک متوازن اور بربوط نظام کی اکاسی کرتی ہے
17:12اسی طرح ہماری کہکشاں مل کیوے بھی ایک انٹی کلوک وائز گردش میں ہے
17:16اس کہکشاں کے اندر موجود ستارے نیبیولا اور دیگر اجسام
17:20ایک مخصوص نظام کے تحت حرکت کرتے ہیں
17:22ایٹم کے اندر الیکٹرونز نیوکلس کے گرد انٹی کلوک وائز گردش کرتے ہیں
17:27زمین کے تمام پلیٹز اربین پلیٹ کے گرد انٹی کلوک وائز حرکت کرتی ہیں
17:31انسانی جسم کے اندر سائٹو پلازم سویل کے نیوکلس کے گرد انٹی کلوک وائز حرکت کرتا ہے
17:37پروٹین مولیکیولز بھی بائیں سے دائیں جانب انٹی کلوک وائز ہی حرکت کرتے ہوئے ترتیب پاتے ہیں
17:43ماں کے رحم کے اندر بیزہ بھی اپنے ہی گرد حرکت انٹی کلوک وائز ہی کرتا ہے
17:48insania khan ke gurdish bhi anti clock wise ہی شروع ہوتی ہے
17:51zemien aapne gird
17:53اور suraj ki gird bhi anti clock wise ہی حرکت کرتی ہے
17:56suraj aapne hi gird anti clock wise ہوتa ہے
17:58ایک khan khud aapne hi gird anti clock wise gurdish کرتی ہے
18:02ان تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے
18:04کہ ایک muslimaan جب
18:05قابع کا تواف کرتا ہے
18:06تو وہ اسی طرح
18:07اپنے رب کی طرف سے
18:08عائد کردہ
18:09duty نباتا ہے
18:10جس طرح
18:10item سے lے کر
18:12کہکشاؤں تک
18:12سب اپنے رب کے حکم کے آگے
18:14سرعطات خم کیے ہوئے ہیں
18:16ایک اسمت میں مہوے گردش ہیں
18:18اس سے اسلام کا امتیاز اور بڑھتری
18:20دوسرے مذہب کے نسبت نکھر کر سامنے آ جاتی ہے
18:23یہ عرقت قدرتی نظام کے ساتھ
18:25ہم آہنگی کا اظہار ہے
18:26کیونکہ کائنات کی دیگر حرکات کی طرز پر ہے
18:29تواف کی اس سمت کو
18:31روحانی ہم آہنگی اور نظام کا مذہر سمجھا جاتا ہے
18:34جو انسان کو کائناتی نظام کی قریب تر کر دیتا ہے
18:37کائنات میں تمام حرکات
18:39انٹی کلوک وائز ہونے سے
18:40نظام میں توازن اور استحکام پیدا ہوتا ہے
18:43انسانی عامال کو کائناتی نظام کے مطابق
18:46ڈھالنے کی ترغیب دیتی ہے
18:47جیسے کہ تواف کعبہ کشش سقل اور حرکت کے اصولوں کو
18:50بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہے
18:53انٹی کلوک وائز حرکت
18:55کائناتی ارتقاء اور تنظیم کی علامت ہے
18:58ناظرین کائنات میں انٹی کلوک وائز گردش ایک مربود
19:01اور ہم آہنگ نظام کا حصہ ہے
19:03زمین، چاند، سیارے اور کیکشہ
19:05سب اسی اصول کے تحت حرکت کرتے ہیں
19:07جو کائنات کی خوبصورتی و توازن کو ظاہر کرتا ہے
19:10انسانی عبادات میں اس سمت کی اہمیت
19:12ہمیں کائنات کی بڑی تصویر کے ساتھ جوڑتی ہے
19:15اور فطرس کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کا درست دیتی ہے
19:18جدید سائنسی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے
19:20کہ انٹی کلوک وائز چلنے سے فاصلہ جل تیہ ہو جاتا ہے
19:23اور اس طرح تواف کرنے سے جسم پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں
19:27جبکہ دل کی صحت کے لیے بھی اچھا ہے
19:29ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے
19:31کہ خانہ کعبہ کی برکت اور انسانوں کی ضرورت کو مد نظر رکھتے ہوئے
19:35اللہ سبحانہ تعالی نے یہاں پانی کا ایک ایسا کونہ بھی پیدا فرما دیا ہے
19:39جس کا پانی دنیا کے تمام پانیوں سے بہتر
19:41اور انسانی صحت کے لیے نہایت مفید قرار دیا گیا ہے
19:45اس کونہ کا ماخوز آج تک دریافت نہیں ہو سکا
19:48آپ بھی یہ بات جان کر حیران رہ جائیں گے
19:50کہ عابِ زمزم دنیا میں موجود واحد پانی ہے
19:53جس میں اللہ تعالی نے یہ خصوصیت رکھی ہے
19:55کہ اس سے کرنٹ پاس نہیں ہو سکتا
19:57یعنی بجلی کے جاری ہونے والے ایٹمز کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے
20:00جس سے کرنٹ بے اثر ہو جاتا ہے
20:02خانہ کعبہ بلا شبہ
20:03اجائبات ربی کا ایک شاندار مظہر ہے
20:06حج کے دور میں مدینہ منورہ سے خاص کبوتروں کا غول
20:09خانہ کعبہ کا رخ کرتا ہے
20:11اور حج کے موسم محجد الحرام میں ڈیرے ڈالے رکھتا ہے
20:14حج کے چند دن بعد حاجیوں کی واپسی کے ساتھ ہی
20:17یہ کبوتر واپس مدینہ چلے جاتے ہیں
20:19اور ایسا کئی صدیوں سے جاری ہے
20:21ان کبوتروں سے متعلق مختلف روایات موجود ہیں
20:23کہا جاتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے
20:25جس کبوتر کو توفان کے دوران
20:27خوشکی کا پتہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا تھا
20:29اور جو اپنے پنجوں میں سبس درک کی ٹہنی توڑ کر لائے تھا
20:32یہ اسی کبوتر کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں
20:34ناظرین سید ڈاکٹر عبدالباسط مصر کے
20:37نیشنل ریسرچ سینٹر کے ممتاز رکون ہیں
20:39انہوں نے سولہ جنوری دوہزار پانچ میں
20:41سعودی عرب میں
20:42المجد ٹی وی چینل کو انٹرویو دیا تھا
20:44اسے مکہ تل مکرمہ کے متعلق
20:46کئی حیرت انگیز سائنسی انکشافات کیے تھے
20:48یہ انٹرویو یوٹیوب پر موجود ہے
20:50انہوں نے کہا کہ سائنسی بنیادوں پر
20:52مکہ دنیا کا مرکز اس طرح ثابت ہوتا ہے
20:54کہ جب نیل آرمسٹرونگ زمین سے اوپر
20:56خلا کی طرف جا رہے تھے
20:58تو انہوں نے زمین کی تصویر کھینچی
20:59انہوں نے دیکھا کہ زمین خلا میں مولک ایک کالا کر رہا ہے
21:02نیل آرمسٹرونگ نے
21:04اپنے آپ سے سوال کیا کہ
21:05اسے کس نے لٹکایا ہے
21:06پھر خود ہی جواب دے دیا
21:08کہ اسے خدا نے ہی مولک کر کے تھاما ہوا ہے
21:11علاوہ آزی انہوں نے مشاہدہ کیا
21:13کہ زمین کے کسی خاص مقام سے
21:14کچھ خاص قسم کی شوائیں نکل رہی ہیں
21:16جو کم طول موج کی تھی
21:18انہوں نے اس چیز کو معلوم کرنے کے لیے
21:19اپنے کیمرے کو اس مقام پر فوکس کرنا شروع کیا
21:22جہاں سے شوائیں نکل رہی تھی
21:24آخر کار وہ اپنی اس کوشش میں کامیاب ہوئے
21:26اور انہوں نے یہ معلوم کر لیا
21:28کہ وہ مقام کے جہاں سے شوائیں خارج ہو رہی ہیں
21:30وہ مکہ ہے
21:31بلکہ بلکل اگر صحیح طور پر کہا جائے
21:33تو وہ کعبہ ہے
21:34جب نیل آرمسٹرونگ نے یہ منظر دیکھا
21:36تو اس کے موں سے نکلا
21:37اوہ میرے خدا
21:38جب وہ چاند کے قریب پہنچے
21:40تو دوبارہ انہوں نے زمین کے تصویر کھینچی
21:42تو انہیں معلوم ہوا
21:43کہ مکہ سے نکلنے والی یہ شوائیں
21:45مسلسل آگے جا رہی تھیں
21:47ناسا نے یہ تمام معلومات
21:48اپنی ویب سائٹ پر پیش کر دی تھی
21:50مگر صرف اکیس دن کے بعد
21:51ان کو ویب سائٹ سے ہٹا دیا گیا
21:53شاید اس لیے کہ یہ معلومات بڑی اہم اور حساس
21:56ڈاکٹر عبدالباسط نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا
21:59یہ شوائیں جو کعبے سے خارج ہو رہی تھیں لا محدود ہیں
22:01زیادہ طول موج
22:03یا کم طول موج والی شوائوں کی خصوصیات سے بلکل برکس
22:06میرے خیال میں اس کی وجہ فقط یہ ہے
22:08کہ ان کا منبا اور ماخوز زمین کا کعبہ ہے
22:10جو آسمانی کعبے سے وابستہ ہے
22:12اور مجھے یقین ہے
22:13یہ شوائیں زمینی کعبت اللہ سے بیت المامور
22:16آسمانی کعبت اللہ تک جاتی ہیں
22:19انہوں نے کہا کہ کعبہ زمین کے اس مقام پر ہے
22:22جہاں زمینی مقنطیسی قوتوں کا اثر صفر ہے
22:24کہ زمینی مقنطیس کے شمالی اور جنوبی قطبیوں کے
22:29اور جنوبی قطبوں کے بلکل درمیان میں ہے
22:31اگر یہاں قطب نمہ رکھ دیا جائے تو اس کی سوئی حرکت نہیں کرے گی
22:35اس لیے کہ اس مقام پر شمالی قطب اور جنوبی قطب کی کششیں
22:39ایک دوسرے کے اثر کو زائل کر دیتی ہیں
22:41چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مکت المکرمہ
22:43وہ زمینی مقنطیسی قوت کے اثر سے باہر ہے
22:46اور مکہ کے رہنے والوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا
22:49نتیجہ تن جو کوئی مکہ کی طرف سفر کرتا ہے
22:51یا اس میں رہتا ہے وہ صحت مند اور نمبی عمر پاتا ہے
22:54اسی طرح جب آپ کعبہ کی طرف تواف کرتے ہیں
22:57اسی طرح جب آپ کعبہ کا تواف کرتے ہیں
22:59تو آپ اپنے اندر ایک تبانائی داخل ہوتے محسوس کرتے ہیں
23:02ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ آپ زمین کے مقنطیسی میدان کی قوت کے اثر سے باہر ہوتے ہیں
23:06اور سائنسی بنیادوں پر یہ بات ثابت شدہ ہے
23:09علاوہ عزی مکہ کی کالی بسول چٹانوں کے ٹکڑوں کو
23:12لیبارٹی میں لے جا کر چیک کیا گیا ہے
23:14اور یہ بات معلوم کر لی گئی ہے
23:16کہ یہ زمین کی سب سے قدیم ترین چٹانے ہیں
23:19علاوہ عزی مبرطانیہ کا جائب گھروں میں
23:21حجر اسود کے تین ٹکڑے موجود ہیں
23:23ان کا کہنا ہے کہ یہ جس چٹان کے ٹکڑے ہیں
23:25اس کا ہمارے نظام شمسی میں وجود نہیں پایا جاتا
23:28مصر کے ڈاکٹر عبدالباسد کی گفتگو سے
23:31ثابت ہوتا ہے کہ کعبہ نہ صرف زمین کا مرکز ہے
23:35بلکہ یہ پوری کائنات کا مرکز بھی ہے
23:37کیونکہ اس کی سیدھ میں بالکل اوپر آسمان اکابہ
23:40یعنی بیت المامور ہے
23:41مختلف روایت و آحادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے
23:44کہ بیت المامور زمین اکابہ کی سیدھ میں بالکل اوپر ہے
23:47اگر وہ اوندھیں گرے تو سیدھا اس کے اوپر گرے
23:49ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں آتے ہیں
23:52جب وہاں سے جاتے ہیں
23:53تو پھر ان کی باری نہیں آتی
23:55علاوہ عزی قرآن مجید میں بھی
23:57مکہ کو ام القرآن کہا گیا ہے
23:59جس کا مطلب ہے مکہ ان شہروں کی ماں ہے
24:01جو سب اس کے ارد گرد ہیں
24:02اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے
24:04کہ مکہ تمام شہروں کے درمیان ہے
24:06اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے
24:08کہ مکہ تمام شہروں کے درمیان میں ہے
24:09اسلامی معاشرے میں ماں کے لفظ کی خاص اہمیت ہے
24:12آل و اولاد کا سلسلہ ماں سے ہی چلتا ہے
24:15چنانچہ مکہ کو شہروں کی ماں کا نام دینے سے
24:20یہ بات کہی جا سکتی ہے
24:22کہ زمین کے بقیہ حصے بھی
24:23اسی سے پھیلے یا اس کے بعد وجود بھی آئے
24:25اور یہی بات سائنسی طور پر بھی ثابت ہو چکی ہے
24:29مکہ ایک محفوظ اور پر امن شہر ہے
24:31قرآن میں اس کو بلد الامین بھی کہا گیا ہے
24:34یہاں کسی چرن پرند کوئی نقصان پہنچانا ممنوع ہے
24:37یہ تمام اطراف سے اونچے پہاڑوں میں گھیرا ہوا ہے
24:39یہی وجہ ہے کہ یہاں کبھی کبھار
24:41کم درجے کے زلدلے ہی آتے ہیں
24:43مزید برا چونکہ اس شہر کا درجہ حرارت
24:46عمم منت زیادہ رہتا ہے
24:47اسی وجہ سے یہاں زمینی پرت کے نیچے چٹانے
24:49چپکنے والی اور لیزدار ہیں
24:52اس وجہ سے بھی مستقبل میں
24:53اگر کبھی یہاں زلزل آیا
24:55تو اس کی شدت کم ہی رہے گی
24:56ناظرین توافے خان کعبہ ایک اہم عبادت ہے
25:00اس عمل کے روحانی جسمانی اور اجتماعی اثرات
25:03بہت گہرے اور معانی خیز ہیں
25:05اگر ہم دل کے باہن جانب خان کعبہ کے ہونے کے متعلق بات کریں
25:09تو یہ یقیناً محبت اور عقیدت کی علامت ہے
25:12دل انسان جسم کا وہ عضو ہے
25:14جو محبت اور جذبات کا مرکز سمجھا جاتا ہے
25:16تواف کے دوران خان کعبہ
25:19ہمیشہ دل کے باہن جانب رہتا ہے
25:20جو اللہ کے ساتھ محبت عقیدت
25:23اور قربت کے جذبات کا مظہر ہے
25:25یہ عمل روحانی تعلق کو مزید گہرہ کرتا ہے
25:28اور دل میں اللہ کی محبت کی جڑے مضبوط کرتا ہے
25:31خان کعبہ کا دل کے قریب ہونا ایک علامتی اشارہ ہے
25:35ایمان اور عبادت کی جڑے انسان دل میں ہیں
25:39یہ حرکت اللہ کے ساتھ بندے کے تعلق کی علامت بن جاتی ہے
25:43جو قربت اور عاجزی کو ظاہر کرتی ہے
25:45دنیا بھر کے مسلمان، زبان، نسل اور قومیت سے بالاتر ہو کر
25:49ایک ہی تواف میں شامل ہوتے ہیں
25:51دل کے باہن جانب خان کعبہ کا ہونا
25:53تمام مسلمانوں کی ایمانی ہماہنگی
25:56اور اتحاد کے خوبصور تصویر پیش کرتا ہے
25:59انٹی کلوک وائز حرکت ایک قدرتی اصول ہے
26:01جو کائنات کے مختلف نظام میں بھی موجود ہے
26:03جس کے متعلق ہم آپ کو پہلے بتا چکے ہیں
26:06تواف کے انٹی کلوک وائز سمت
26:07حجوم کی حرکت کو ہموار اور منظم کرتی ہے
26:10ہر شخص ایک ہی سمت میں حرکت کرتا ہے
26:12جس سے نہ تصادم ہوتا ہے نہ افرہ تفریح
26:15جس سے نہ تصادم ہوتا ہے نہ افرہ تفریح
26:17حج اور عمرے کے درمیان
26:18حج اور عمرے کے دوران لاکھوں افراد
26:21ایک ہی وقت میں تواف کرتے ہیں
26:22لیکن انٹی کلوک وائز سمت کی وجہ سے
26:25یہ عمل منظم اور روانی کے ساتھ انجام پاتا ہے
26:28اس حرکت سے بڑے شخص کو
26:30اس حرکت سے ہر شخص کو تواف مکمل کرنے میں آسانی ہوتی ہے
26:33چاہے وہ حجوم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو
26:36تواف کی سمت اور حرکت نہ صرف روحانی
26:38بلکہ جسمانی ترتیب کا بھی سبب بنتی ہے
26:41افراد ایک ہی دارے میں
26:42اللہ کی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے چلتے ہیں
26:44جو اتحاد اور ہم آہنگی کا مظہر ہے
26:47ناظرین تواف کی آسانی اور ترتیب
26:49کا جسمانی فائدہ یہ ہے
26:50کہ انٹی کلوک وائز حرکت دل اور خون کی گردش
26:53کے فطری نظام کے مطابق ہے
26:54جس سے جسمانی مشقت کم ہوتی ہے
26:56ایک منظم اور روح حرکت عبادت گزاروں کو
26:59بغیر کسی جسمانی دباؤ کے
27:01تواف مکمل کرنے کی اجازت دیتی ہے
27:03ناظرین اگر تواف کعبہ کی روحانی فوائد
27:05کی بات کریں تو اللہ کے گھر کے گر چکہ
27:07لگانے کا یہ عمل انسان کو
27:09اللہ کے قریب تر کر دیتا ہے اور
27:10اس کے دل میں خوشو خوضو پیدا کر دیتا ہے
27:12یہ عمل اللہ کے آکام کے سامنے جھکنے
27:15اور اس کی بندگی کا اظہار ہے
27:17تواف کا منظم عمل تمام مسلمانوں
27:19کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتا ہے
27:20جہاں کوئی امتیاز یا فرق باقی نہیں رہتا
27:23اس حرکت کے ذریعے مسلمانوں کی
27:25اجتماعی طاقت اور ان کے اتحاد کی علامت
27:27وہ جاگر ہوتی ہے
27:28ناظرین تواف خان کعبہ صرف ایک
27:30جسمانی حرکت نہیں بلکہ ایک روحانی سفر ہے
27:32جو اللہ کے قریب لے جاتا ہے
27:34خان کعبہ کا دل کے بانچانب ہونا
27:37محبت اور قربت کا اظہار کرتا ہے
27:38جبکہ انٹی کلوک وائز حرکت عبادت میں
27:41ہمواری اتحاد
27:43اور نظم و ضبط کو یقینی بناتی ہے
27:45یہ عمل نہ صرف ایک فرد کے ایمان
27:47کو تقویت دیتا ہے بلکہ
27:48پوری امت مسلمہ کی ایمانی یقجہتی
27:51کا مظہر بھی ہے
27:52ناظرین یہ معلومات ہمیں ایک پیغام دیتی ہیں
27:54کہ عبادت کے پیچھے صرف روحانیت نہیں ہوتی
27:57بلکہ اللہ کی حکمت
27:59اور کائنات کی ہم آہنگی بھی چھپی ہوتی ہے
28:01خان کعبہ کا تواف
28:02جو انٹی کلوک وائز کیا جاتا ہے
28:04اس بات کی علامت ہے کہ ہم اللہ کے حکم کے مطابق ہیں
28:07اور کائنات کی
28:08قدرتی ترتیب کے ساتھ ہم آہنگ ہیں
28:10یہ عمل ہمیں اتحاد یقجہتی
28:12اور اللہ کے قریب ہونے کی دعوت دیتا ہے
28:14اگر آپ کو ہماری یہ ویڈیو پسند آئی ہو
28:16اور آپ مزید ایسی ویڈیوز دیکھنا چاہتے ہیں
28:18تو ہمارے چینل کو سبسکرائب کریں
28:20ویڈیو کو لائک کریں اور اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
28:22آپ کی رائے ہمارے لئے بہت اہم ہے
28:24کمیٹس میں اپنی آرہ ضرور دیں
28:26جزاک اللہ خیرہ