Surah Rahman Ki 31 Baar Takrar Ka Raaz _ What Jinns Said When They Heard It _ Quran Explained Noor TV
Have you ever wondered why Allah repeated the same verse 31 times in Surah Rahman? While the kings of this world speak once and fall silent, the Lord of the universe chose to repeat one powerful sentence throughout an entire surah. In this video, we uncover the story of a mysterious night in Wadi-e-Nakhla, where a group of Jinn heard this surah being recited by Prophet Muhammad (PBUH) — and their heartfelt response brought a smile to his face, even after the disbelievers of Makkah had rejected it. We'll explore three profound wisdoms behind the 31 repetitions, the incredible mathematical pattern hidden within the surah's structure (8+7+8+8=31), and the scientific miracle mentioned 1400 years ago about two seas that meet but never mix — a phenomenon modern oceanography only recently confirmed. This video is not just a tafseer, but a journey through the spiritual, historical, and scientific miracles of Surah Rahman. If you want to understand the deep secrets behind this beautiful surah, its connection to the Jinn, and how it can bring peace to your heart, watch this video till the end.
#SurahRahman #MuslimMatters #Jinnaat #QuranMiracles #IslamicKnowledge #TafseerQuran #NoorTV
#QuranicScience #NabiKareemSAW #IslamicHistory #DeenIslam #QuranFacts #WadiNakhla #IslamicStories #QuranTafseer #SubhanAllah #IslamicReminders #FaithAndScience #Ummah #IslamicContent #QuranExplained
Have you ever wondered why Allah repeated the same verse 31 times in Surah Rahman? While the kings of this world speak once and fall silent, the Lord of the universe chose to repeat one powerful sentence throughout an entire surah. In this video, we uncover the story of a mysterious night in Wadi-e-Nakhla, where a group of Jinn heard this surah being recited by Prophet Muhammad (PBUH) — and their heartfelt response brought a smile to his face, even after the disbelievers of Makkah had rejected it. We'll explore three profound wisdoms behind the 31 repetitions, the incredible mathematical pattern hidden within the surah's structure (8+7+8+8=31), and the scientific miracle mentioned 1400 years ago about two seas that meet but never mix — a phenomenon modern oceanography only recently confirmed. This video is not just a tafseer, but a journey through the spiritual, historical, and scientific miracles of Surah Rahman. If you want to understand the deep secrets behind this beautiful surah, its connection to the Jinn, and how it can bring peace to your heart, watch this video till the end.
#SurahRahman #MuslimMatters #Jinnaat #QuranMiracles #IslamicKnowledge #TafseerQuran #NoorTV
#QuranicScience #NabiKareemSAW #IslamicHistory #DeenIslam #QuranFacts #WadiNakhla #IslamicStories #QuranTafseer #SubhanAllah #IslamicReminders #FaithAndScience #Ummah #IslamicContent #QuranExplained
Category
📚
LearningTranscript
00:07Surah Ruhman
00:37Қ
00:38Қ
00:39Қ
00:39Қ
00:40Қ
00:46I'll see you next time.
01:13Surah Al-Azumah
01:41بلکہ آگ سے پیدا ہونے والی
01:43اس مخلوق کے سامنے تلاوت کی جا رہی تھی
01:46جسے ہم جنات کے نام سے جانتے ہیں
01:49مکہ کے وہ لوگ جو اپنی فضاحت و بلاغت پر ناز کیا کرتے تھے
01:52جنہیں اپنی زبان دانی پر گھومن تھا
01:55وہ قرآن پاک کے الفاظ سن کر حیران رہ جاتے تھے
01:58مگر جب سور رحمان نازل ہوئی
02:00تو معاملہ صرف حیرت کا نہیں رہا
02:03بلکہ مکہ کے سرداروں کے دلوں میں
02:04ایک عجیب سا خوف بیٹھ گیا
02:06جیسے ہی کائنات کے مالک نے فرمایا
02:08الرحمان واللم القرآن
02:10یعنی رحمان نئے قرآن سکھایا
02:13یہ آیت سن کر مکہ کی گلیوں میں حلچل مچ گئی
02:15مشرقین مکہ ایک دوسری کی طرف دیکھنے لگے
02:18اور کہنے لگے کہ یہ رحمان کون ہے
02:21ہم تو کسی رحمان کو نہیں جانتے
02:23یہاں ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے
02:25کیا مکہ کے لوگ واقعی لفظ رحمان سے ناباقف تھے
02:28یا اس کے پیچھے ان کی کوئی گہری چال تھی
02:31تاریخ اور احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے
02:33کہ مکہ کے کفار اللہ کو خالق اور مالک تو مانتے تھے
02:37مگر انہوں نے اپنے لئے بہت سے جھوٹے معبود اور بدھ بنا رکھے تھے
02:40وہ اللہ کو اللہ کے نام سے تو پکارتے تھے
02:43مگر جب لفظ رحمان ان کے سامنے آیا
02:47تو ان کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی
02:49اس کی دو بڑی وجوہات تھیں
02:51پہلی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے
02:52کہ رحمان کا مطلب ہے بے انتہار رحم کرنے والا
02:55اور انہیں خوف تھا کہ اگر انہوں نے اس نام کو تسلیم کر لیا
02:59تو ان کے بنائے ہوئے ظالم اور خوفناک بتوں کی اہمیت ختم ہو جائے گی
03:03دوسری وجہ ان کا غرور تھا
03:04وہ کہتے تھے کہ ہم نبی علیہ السلام کے کہنے پر ایک نئے نام کے سامنے کیوں جھکیں
03:09وہ اس قدر زدی تھے کہ جب سلیہ حدیبیہ کا مہائدہ لکھا جا رہا تھا
03:13تو نبی علیہ السلام نے فرمایا
03:15کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھو
03:17مگر مکہ کے سفیر سحیل بن عمرو نے صاف انکار کر دیا
03:21اور کہا کہ ہم رحمان کو نہیں جانتے
03:23وہی لکھو جو ہمارا پرانا طریقہ ہے
03:25یعنی اے اللہ ہم تیرے نام سے شروع کرتے ہیں
03:28کفار نے تو انکار کر دیا
03:30مگر کائنات کے سچے بادشاہ نے
03:32ان کے اس اعتراض کا ایسا لا جواب جواب دیا
03:35کہ ان کے پاس بولنے کے لیے کوئی الفاظ باقی نہ رہے
03:38قرآن پاک کے دیگر صورتوں میں
03:40اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا
03:41کہ آپ کہہ دیجئے
03:42کہ تم اسے اللہ کہہ کر پکارو
03:44یا رحمان کہہ کر
03:45جس نام سے بھی پکارو
03:47اسی کیلئے سب سے بہترین اور خوبصورت نام ہیں
03:49اللہ تعالیٰ نے واضح کر دیا
03:51کہ رحمان کوئی نیا خدا نہیں
03:53بلکہ وہی ایک سچارب ہے
03:54جس نے تمہیں پیدا کیا
03:55سورہ رحمان کے آغاز میں ہی
03:57اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر شروع کر دیا
03:59اس نے انسانوں کو بولنا سکھایا
04:01اس نے سورج اور چاند کو ایک حساب میں رکھا
04:04اس نے زمین کو تمہارے رہنے کے لئے بچھایا
04:06گوئے اللہ تعالیٰ
04:07کفار کو یہ پیغام دے رہا تھا
04:09کہ تم جس رحمان کا انکار کر رہے ہو
04:11سانس لینے سے لے کر زندہ رہنے تک
04:13تمہر لمحے اسی رحمان کی نعمتوں کے محتاج ہو
04:16مکہ کے کفار تو
04:17اپنی زد پر اڑے رہے
04:19انہوں نے حق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا
04:21مگر یہ قصہ یہاں خط نہیں ہوتا
04:23انسانوں نے تو اس صورت کی قدر نہ کی
04:26مگر مکہ سے دور ایک سنسان رات میں
04:28اس کائنات کی ایک ایسی مخلوق
04:30اس صورت کو سننے کے لئے حاضر ہوئی
04:32جس کا انسانوں سے کوئی مادی تعلق نہیں تھا
04:35آگ سے پیدا ہونے والی وہ مخلوق
04:37جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچی
04:40اور انہوں نے پہلی بار
04:42سورہ رحمان کی تلاوت سنی
04:44تو مکہ کے پہاڑوں نے وہ منظر دیکھا
04:46جو تاریخ میں
04:47اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا
04:49یہ تاریخ کا وہ حیرت انگیز واقعہ ہے
04:51جو مکہ سے دور ایک سنسان اور اندھیری رات میں پیش آیا
04:54یہ وہ دور تھا جب مکہ کے انسانوں نے
04:56اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات سننے سے انکار کر دیا تھا
05:00اور آپ علیہ السلام کے دل پر ایک بوش تھا
05:03اسی دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:05مکہ سے دور بعد یہ نخلہ نامی
05:08ایک جگہ پر تشریف فرما تھے
05:09رات کا آخری پہر تھا
05:11ہر طرف گہرہ سنناٹہ چھایا ہوا تھا
05:14اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:17تحجد کی نماز میں کھڑے ہوئے
05:19اور آپ علیہ السلام نے
05:21سورہ رحمان کی تلاوہ شروع کی
05:23آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آواز میں
05:25ایسا درد اور ایسی مٹھاس تھی
05:28کہ رات کی خاموشی میں
05:29الفاظ سیدھے دلوں پر اثر کر رہے تھے
05:31مگر اس وقت مہاں انسان موجود نہیں تھے
05:34بلکہ ہوا کے دوش پر اڑتی ہوئی
05:36ایک ایسی مخلوق وہاں پہنچ چکی تھی
05:38جسے اللہ نے آگ کے شولوں سے پیدا کیا تھا
05:41یہ جنات کا ایک وفت تھا
05:42جو نصیبین نامی علاقے سے سفر کرتا ہوا
05:45وہاں سے گزر رہا تھا
05:46جیسے ہی ان کے کانوں میں قرآن مجید کی آواز پڑی
05:49وہ وہیں رک گئے
05:50وہ ایک دوسرے کو خاموش رہنے کا اشارہ کرنے لگے
05:53اور سب دائرہ بنا کر آپ علیہ السلام کے ارد گرد بیٹھ گئے
05:56ذرا اس منظر کا تصور کریں
05:58جنات خاموشی سے سن رہے تھے
06:00اور جیسے اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
06:04سورہ رحمان کی وہ آیت پڑھی
06:06جس کا ترجمہ ہے
06:07پس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاوگے
06:10تو جنات کی روح کام پٹھی
06:12مکہ کے انسانوں نے تو اس آیت کو سن کر مو پھیڑ لیا تھا
06:15مگر ان جنات نے اس کا ایسا خوبصورت
06:18آجزانہ اور جذباتی جواب دیا
06:21کہ تاریخ میں وہ سنیری حروف سے لکھا گیا
06:23جنات نے تڑپ کر کچھ اس طرح جواب دیا
06:26اے ہمارے پالنے والے رب
06:27ہم تیری کسی بھی نعمت کو نہیں جھٹلاتے
06:30اور تمام تعریفیں صرف تیرے لیے ہیں
06:33اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:36پڑھتے جاتے
06:37اور جب بھی یہ آیت آتی
06:39کہ تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے
06:42تو وہ پر اسرار مخلوق
06:43یک زبان ہو کر کہتی
06:45اے اللہ ہم تیری کسی نعمت کا انکار نہیں کرتے
06:48جب یہ صورت مکمل ہوئی
06:49تو وہ جنات ایمان لا چکے تھے
06:51اور اپنے قبیلے کی طرف سچے مسلمان بن کر لوٹے
06:54بعد میں جب آپ علیہ السلام نے اپنے صحابہ کو یہ بات بتائی
06:57تو آپ علیہ السلام نے فرمایا
06:59کہ میں نے جب جنات کے سامنے یہ صورت پڑھی
07:01تو وہ تم سے بہتر جواب دے رہے تھے
07:03جب بھی میں نے نعمتوں کو جھٹلانے والی بات پڑھی
07:06تو وہ کہتے تھے
07:07اے رب ہم تیری کسی نعمت کو نہیں جھٹلاتے
07:09اب آتے ہیں
07:10اس ویڈیو کے سب سے بڑے اور مرکزی سوال کی طرف
07:13آخر کائنات کے مالک نے صورت میں
07:15ایک ہی جملہ پورے اکتیس مرتبہ بار بار کیوں دہر آیا
07:18اس کے پیچھے تین بڑے اور ایمان افروز حقائق چھپے ہیں
07:22جنہیں سن کر آپ سبحان اللہ کیا اٹھیں گے
07:25پہلا راز
07:25انسان کی غفلت اور بار بار یاد دہانی ہے
07:28انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ نعمتیں تو استعمال کرتا ہے
07:31پہلا راز
07:32انسان کی غفلت اور بار بار یاد دہانی ہے
07:34انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ نعمتیں استعمال تو کرتا ہے
07:37مگر بہت جلد بھول جاتا ہے
07:39کہ یہ کس نے دی ہیں
07:40اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو اکتیس بار اس لیے دہر آیا
07:43کہ انسان جب زندگی کے کسی بھی موڑ پر آ جائے
07:46اسے یاد رہے کہ اس کا وجود
07:48اس کی سانسیں اور دنیا کی ہر چیز
07:51اس کے رب کا تحفہ ہے
07:52یہ بار بار کی تقرار دراصل محبت کا اظہار ہے
07:55جیسے ایک ماں اپنے بچے کو
07:56بار بار پیار سے کوئی بات سمجھاتی ہے
08:04اللہ تعالیٰ نے صرف ایک نعمت کا ذکر نہیں کیا
08:07اللہ تعالیٰ نے زمین کا ذکر کیا
08:09آسمان کا کیا
08:10پھلوں کا کیا
08:11سمندروں کا کیا
08:12اور آخر میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کیا
08:15ہر نئی نعمت کا ذکر کرنے کے بعد
08:17اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
08:18اب بتاؤ اس نعمت کو بھی جھٹلاو گے
08:20یعنی یہ تقرار بے فائدہ نہیں
08:22بلکہ ہر بار ایک نئی اور مختلف نعمت پر
08:24شکر ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے
08:26تیسرا راز جنوں اور انسانوں دونوں سے مخاطب ہونا ہے
08:29قرآن پاک میں یہ باہت صورت ہے
08:31جہاں اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے ساتھ ساتھ
08:33جننات کو بھی برابر کا مخاطب کیا ہے
08:35کیونکہ یہ دو مختلف مخلوقات ہیں
08:37اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو جھنجوڑا ہے
08:39کہ تم دونوں میں سے کوئی بھی میری
08:41طاقت اور رحمت کا انکار نہیں کر سکتا
08:43پیارے ناظرین
08:44جننات کا وہ جواب سن کر
08:46ہمارے دل بھی پکھل جاتے ہیں
08:48اور اکتیس بار کی تقرار کا یہ راز
08:50ہمارے ایمان کو مزید پختہ کر دیتا ہے
08:53یہاں ایک اور علم نکتہ سمجھنا ضروری ہے
08:56بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں
08:57کہ ایک ہی جملے کو بار بار دورانے کی ضرورت کیوں پیش آئی
09:00اگر ہم دنیاوی زبانوں کی بات کریں
09:02تو ایک ہی بات بار بار بولنے سے
09:04تحریر یا تقریر کا حسن ختم ہو جاتا ہے
09:06مگر عربی عدب کا یہ اصول نہیں ہے
09:10پرانے دور میں جب عرب کے لوگ
09:11کسی بات پر زیادہ زور دینا چاہتے
09:13یا سامنے والے کو مکمل طور پر
09:15قائل کرنا چاہتے
09:16تو ایک ہی جملے کو بار بار دوراتے تھے
09:19عربی زبان میں اس طریقے کو
09:21بلاغت اور تاقید کہا جاتا ہے
09:22سورہ رحمان میں اس اکتیس بار کی تقرار کے پیچھے
09:26مزید تین بڑی حکمتیں چھپی ہیں
09:27پہلی حکمت تاقید ہے
09:29اللہ تعالیٰ انسان کو جھنجوڑ کر
09:31یاد دلا رہا ہے کہ تم
09:32کسی ایک نعمت کے نہیں
09:34بلکہ میری بے شمار نعمتوں کے آہاتے میں ہو
09:37دوسرے حکمت
09:38حجت پوری کرنا ہے
09:39انسان قیامت کے دن یہ بہانہ نہ بنا سکے
09:42کہ مجھے تو معلوم ہی نہیں تھا
09:44کہ یہ سب کچھ اللہ نے دیا
09:45تیسرے حکمت شکر گزاری ہے
09:47جب انسان بار بار ایک ہی بات سنتا ہے
09:49تو اس کے دل میں خود بخود
09:51اپنے اللہ کے لئے شکر گزاری کا احساس پیدا ہونے لگتا ہے
09:54ناظرین
09:55اب ہم آپ کو وہ حیرت انگیز
09:56ریاضی اور ترتیب بتانے جا رہے ہیں
09:59جو اس صورت کے اندر چھپی ہوئی ہے
10:01یہ اکتیس آیات پوری صورت میں
10:04ایسے ہی بکری نہیں ہیں
10:05بلکہ اللہ تعالی نے
10:06چار مختلف موضوعات کے حصوں میں تقسیم کیا ہے
10:10آئیے دیکھتے ہیں کہ یہ اکتیس آیات
10:12کہاں کہاں اور کتنی بار آئی ہیں
10:13صورت کے آغاز میں اللہ تعالی نے
10:15دنیا کی تخلیق
10:16سورج چاند درختوں پھلوں
10:18اور انسانوں کی پیدائش کا ذکر کیا ہے
10:21اس دنیاوی نعمتوں کے ذکر کے دوران
10:23یہ آیت پوری آٹھ بار دوھرائی گئی ہے
10:25گویا اللہ تعالی فرما رہا ہے
10:27کہ دنیا میں جینے کے لیے جو کچھ میں نے دیا ہے
10:29کیا تم اس کا انکار کرو گے
10:31دنیاوی نعمتوں کے بعد اچانک
10:33صورت کا رخ بدل جاتا ہے
10:34اور قیامت کا حولناک منظر سامنے آتا ہے
10:37جب آسمان پھڑ جائے گا
10:38اور مجرموں کو ان کے چہرے سے پہچانا جائے گا
10:41حیرت کی بات یہ ہے
10:43کہ دوزخ اور عذاب کے ذکر کے دوران
10:45بھی یہ آیت پوری سات بار دوھرائی گئی ہے
10:48یہاں تقرار کا مطلب یہ ہے
10:49کہ اے انسانوں اور جنوں
10:51میں نے تمہیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا
10:54اب بتاؤ
10:54کیا میری اس تنبی کو بھی جھٹلا ہوگے
10:57عذاب کے ذکر کے بعد
10:58اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا ذکر فرماتا ہے
11:01یہ وہ مقرب بندے ہیں
11:02جنہیں پہلے درجے کی شاندار جنتیں ملیں گی
11:05جہاں سونے اور چاندی کے محلات
11:07ریشم کے بستر
11:09اور خوبصورت چشمیں ہوں گے
11:10جنت کے اس عالی درجے کے ذکر کے اعلان کے دوران
11:13یہ آیت پوری آٹھ بار دوھرائی گئی ہے
11:16ان عالی جنتوں کے ذکر کے بعد
11:18اللہ تعالیٰ نے ان سے کچھ کم درجے کی
11:20دو مزید جنتوں کا ذکر فرمایا ہے
11:22جو عام مومنین کے لیے ہوں گی
11:24اور وہاں کے باغات
11:25گھنے درختوں اور پھلوں کا نقشہ کھینچتے ہوئے
11:28یہ آیت ایک بار پھر
11:30پوری آٹھ بار دوھرائی گئی ہے
11:32اب ذرا ان آداد کو جمع کریں
11:33دنیا بھی نعمتوں میں آٹھ بار
11:35قیامت کے ذکر میں سات بار
11:37آلہ جنت کے ذکر میں آٹھ بار
11:39اور دوسری جنت کے ذکر میں آٹھ بار
11:41جب ہم ان سب کو جمع کرتے ہیں
11:42تو یہ تعداد بنتی ہے پوری اکتیس
11:45سبحان اللہ
11:46کائنات کے مالک نے اپنی کتاب میں
11:48الفاظ اور موضوعات کو اس قدر
11:49خوبصورت ترتیب کے ساتھ سجایا ہے
11:51کہ انسان کے عقل دنگ رہ جاتی ہے
11:53نہ ایک نمبر آگے
11:55نہ ایک نمبر پیچھے
11:56موضوعات کی تقسیم تو صرف ایک جھلک ہے
11:58اس صورت کے اندر قدرت نے
12:00کچھ ایسے راز بھی چھپا رکھے ہیں
12:02جن کا تعلق جدید سائنس اور تحقیق سے ہے
12:05چودہ سو سال پہلے قرآن نے
12:07زمین اور سمندروں کے بارے میں جو نشانیاں بتائیں
12:09آج کی جدید ترین ٹیکنالوجی
12:11ان کے سامنے سر جھگاتی ہے
12:13چودہ سو سال پہلے جب انسان کے پاس
12:15نہ کوئی جدید دور کی دوربین تھی
12:17نہ ہی سمندر کی گہرائیوں کو
12:19ناپنے والے جہاز
12:20اس دور میں قرآن پاک نے
12:21کائنات کے ایسے ایسے رازوں سے پردہ اٹھایا
12:24کہ آج کے ماہرین تعلیم
12:26اور سائنس دان بھی حیران رہ جاتے ہیں
12:28جب ہم سور رحمان کو پڑھتے ہیں
12:30تو کائنات کے مالک نے
12:31زمین آسمان ستاروں اور درختوں کے
12:34ایک خاص نظام کا ذکر کیا ہے
12:35اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
12:37کہ ہر چیز ایک ترازو اور حساب کے تحت کام کر رہی ہے
12:40مگر اس صورت کے اندر
12:41ایک ایسی سائنسی نشانی بتائی گئی ہے
12:44جس نے سمندری سائنس کے ماہرین کو
12:46حیرت کے سمندر میں ڈوبو دیا ہے
12:47سور رحمان میں کائنات کے سچے بادشاہ نے
12:50ایک عجیب منظر کا نقشہ کھینچا ہے
12:52جس کا آسان ترجمہ کچھ اس طرح ہے
12:54اس نے دو سمندروں کو چلا دیا
12:56جو آپس میں ملتے ہیں
12:58مگر ان دونوں کے درمیان ایک ایسا پردہ ہے
13:00جس سے وہ آگے نہیں بڑھ سکتے
13:01ذرا رکھ کر اس بات پر غور کریں
13:03دو سمندر جو بالکل ایک ساتھ بے رہے ہیں
13:05جن کا پانی ایک دوسرے سے ٹکرا رہا ہے
13:08مگر وہ آپس میں مکس نہیں ہو رہے
13:10صدیوں تک انسان اس بات کے حقیقت کو سمجھ نہ سکا
13:12لوگ سوچتے تھے کہ اگر پانی مایا ہے
13:15تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دو سمندر آپس میں ملیں بھی
13:17اور ان کا پانی ایک دوسرے میں شامل بھی نہ ہو
13:19مگر جب بیسویں اور اکیسویں صدی میں
13:22جدید سائنس نے ترقی کی
13:23سمندری تحقیق کے ماہرین نے
13:25سمندروں کی گہرائیوں میں جا کر تحقیق کی
13:27تو دنیا کے سامنے ایک ناقابل یقین
13:29سچائی آئی
13:30سائنس دانوں نے دیکھا کہ دنیا میں کئی ایسی جگہ ہیں
13:32جیسے بہرہ روم، بہرہ اوقیانوس
13:35جہاں دو مختلف سمندر آپس میں ملتے ہیں
13:37کیمری کے آنکھ نے جو منظر ریکارڈ کیا
13:39اس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا
13:41ایک طرف کا پانی گہرہ نیلہ
13:43اور دوسری طرف کا پانی ہلکہ نیلہ
13:45دونوں کے درمیان ایک واضح لکی نظر آتی ہے
13:48جدید تحقیق کے مطابق اس کے پیچھے
13:50تین بڑی سائنسی وجوہات ہیں
13:51پہلی وجہ پانی کا درجہ حرارت ہے
13:54دو سمندروں کے پانی کا درجہ حرارت
13:56ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوتا ہے
13:58دوسری وجہ نمکینی کا فرق ہے
14:00ایک سمندر کا پانی زیادہ نمکین اور بھاری ہوتا ہے
14:03جبکہ دوسرے سمندر کا پانی کم نمکین اور ہلکہ ہوتا ہے
14:06اور تیسری وجہ پانی کی کسافت ہے
14:09پانی کا ایک اپنا دباؤ ہوتا ہے
14:11جس کی وجہ سے دونوں سمندروں کے بیچ
14:13ایک نظر نہ آنے والی دیوار قائم ہو جاتی ہے
14:15جسے سائنس کی زبان میں
14:17ہارڈرلوجیکل بیریئر کہا جاتا ہے
14:19سائنسدان کہتے ہیں کہ
14:20اس پردے یا دیوار کی وجہ سے
14:22ایک سمندر کا پانی دوسرے سمندر میں جاتے ہی
14:25اپنی اصل حالت کھو دیتا ہے
14:26اور اس کے اندر جذب ہو جاتا ہے
14:28جسے دونوں سمندروں کی اپنی
14:30الگ الگ پہچان اور وہاں کی
14:32مچھلیاں محفوظ رہتی ہیں
14:33سبحان اللہ
14:35جس راز کو پانے کے لئے انسان کو
14:37ارب و ڈالر کی مشینیں اور صدیاں لگ گئیں
14:39کائنات کے خالق نے چودہ سو سال پہلے
14:42ایک دیہاتی ماحول میں
14:43اپنے نبی کے ذریعے سورہ رحمان میں
14:45صاف صاف بیان فرما دیا تھا
14:47پیارے ناظرین
14:48جب ایک سچا انسان
14:49ان سائنس حقائق کو دیکھتا ہے
14:51تو اس کا دل پکار اٹھتا ہے
14:52کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہو سکتا
14:54یہ تو اسی رب کی آواز ہے
14:56جس نے یہ سمندر پیدا کی
14:57نعمتوں کا یہ تذکرہ
14:59جنات کا وہ جذباتی جواب
15:00تقرار کا وہ کمال
15:02ریاضی اور سائنس کے یہ حیرت انگیز اشارے
15:04یہ سم مل کر انسان کو جھنجوڑتے ہیں
15:06مگر آخر میں
15:07یہ سوال اٹھتا ہے
15:09کہ یہ پوری سورہ رحمان
15:11ہماری زندگی پر کیا سر ڈالتی ہے
15:13یہ ہمارے دل و دماغ کو
15:14کیسے سکون دیتی ہے
15:15اور اس کا آخری پیغام کیا ہے
15:17آج کا انسان
15:18ہر وقت کسی نہ کسی پریشانی کا رونا
15:20روتا نظر آتا ہے
15:21ہمارے پاس جو نہیں ہے
15:22ہم دن رات بس اسی کا گلہ کرتے ہیں
15:24مگر سورہ رحمان
15:26ہمیں ناشکری کے
15:27اس اندھیرے سے نکال کر
15:28شکر گزاری کے اجالے میں لے آتی ہے
15:30جب ہم اس سورت کو بار بار سنتے ہیں
15:32تو ہمارا رب
15:32ہمیں یاد دلاتا ہے
15:34کہ اگر ایک دروازہ بند ہوا ہے
15:36تو اس نے ہمارے لئے
15:36کروڑوں دوسرے دروازے کھول رکھے ہیں
15:38یہ سورت انسان کو
15:39اندر سے بدل دیتی ہے
15:41اور اسے اپنے رب کی
15:42چھوٹی سے چھوٹی نعمت پر
15:43سر جھکانہ سکھاتی ہے
15:45حیرت کی بات یہ ہے
15:46کہ جدید نفسیاتی اور طبی تحقیق
15:48نے یہ ثابت کیا ہے
15:49کہ سورہ رحمان کو سننے کے
15:51انسانی جسم اور دماغ پر
15:53انتہائی حیرت انگیز
15:54اثرات مرتب ہوتے ہیں
15:55جب ایک انسان پورے دھیان
15:57اور پرسکون ماحول میں
15:58اس سورت کی تلاوت سنتا ہے
15:59تو اس کے دماغ کے اندر
16:00تناؤ اور بیچینی پیدا کرنے والے
16:03کیمیکلز کا خاتمہ ہوتا ہے
16:04دل کی دھڑکنیں متبازن ہوتی ہیں
16:06اور بلڈ پیشر
16:07نارمل سطح پر آ جاتا ہے
16:08ذہنی مایوسی
16:09خوف اور تنہائی کا احساس
16:11ختم ہو جاتا ہے
16:12اور انسان خود کو
16:13ایک غیبی پناہ
16:14ہمیں محسوس کرتا ہے
16:15یہ سورت صرف روح کا علاج نہیں
16:17بلکہ یہ
16:18ہمارے بیمار دلوں
16:19اور پریشان ذہنوں کے لیے
16:21ایک بہترین شفاہ ہے
16:22میرے محترم دوستوں
16:24اور معزز بہنوں
16:24چودہ سو سال پہلے
16:26مکہ کی گلیوں سے
16:27شروع ہونے والا یہ پیغام
16:28آج آپ کے موبائل
16:30کمپیوٹر کی سکرینوں تک
16:31پہنچ چکا ہے
16:32اب یہ فیصلہ ہمارا ہے
16:33کہ کیا ہم
16:34مکہ کے کافروں کی طرح
16:35نعمتوں کو جھڑلاتے رہیں گے
16:36یا ہم ان جنات کی طرح
16:38تڑھپ کر کہیں گے
16:39اے اللہ
16:39ہم تیری کسی نعمت کا
16:40انکار نہیں کرتے
16:41آئیے آج کے دن
16:42اپنے رب سے
16:43ایک سچا وعدہ کریں
16:44کہ ہم شکر گزار
16:45بندے بنیں گے
16:46جب ہم اس صورت کے
16:47آخری حصے میں پہنچتے ہیں
16:48جہاں اللہ پاک
16:49جنت کی ہوروں
16:50وہاں کے محلات
16:52اور بہتے ہوئے
16:52چشموں کا نقشہ کھینجتا ہے
16:54تو مومن کے دل
16:55تڑھپ اٹھتا ہے
16:55کائنات کا مالک فرماتا ہے
16:57کہ احسان کا بدلہ
16:58احسان کے سوا کچھ نہیں
16:59یعنی اگر تم دنیا میں
17:01اپنے رب کو
17:01راضی کرنے کا
17:02احسان کروگے
17:03تو وہ رحمان
17:03قیامت کے دن
17:04تم پر اپنی نعمتوں کی
17:05بارش کر کے
17:06اس کا بدلہ چکائے گا
17:07یہ صورت ہمیں سکھاتی ہے
17:09کہ کائنات کی
17:09ہر چیز فنا ہونے والی ہے
17:11یہاں کے بلند محلات
17:12یہ مال و دولت
17:13یہ عارض
17:14یہ عائش و آرام
17:15سب مٹی میں مل جائیں گے
17:16اگر کوئی چیز
17:17باقی رہے گی
17:18تو وہ صرف
17:18تمہارے پالنے والے
17:19رب کی ذات ہے
17:20جو بڑی عظمت
17:21اور بڑے کرم والی ہے
17:23جب انسان کو
17:24یہ یقین ہو جاتا ہے
17:24کہ سب کچھ ختم ہو جانا ہے
17:26صرف اللہ کی ذات
17:27باقی رہنی ہے
17:27تو اس کے دل سے
17:28دنیا کا خوف نکل جاتا ہے
17:30اس کا ایمان
17:31اتنا مضبوط ہو جاتا ہے
17:32کہ وہ
17:33زندگی کے
17:34بدترین حالات میں
17:35بھی مسکرانہ
17:35سیکھ لیتا ہے
17:36کیونکہ وہ جانتا ہے
17:37کہ اس کا رب رحمان ہے
17:38اور وہ اسے
17:39کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا
17:40آج مکہ کی
17:41وہ اندھیری رات
17:42یاد کریں
17:42جہاں جنات
17:44اس صورت کو
17:44سن کر رو پڑے تھے
17:45آج کس مشغول دنیا میں
17:47ہمارے پاس
17:48اپنے رب کی کتاب
17:49کے لیے وقت نہیں ہے
17:49مگر اگر آج
17:51آپ نے یہ
17:51پوری ویڈیو سنی ہے
17:53تو یہ اس بات کی نشانی ہے
17:54کہ اللہ تعالیٰ
17:55آپ کے دل کو
17:56ہدایت کی روشنی سے
17:57بھڑنا چاہتا ہے
17:58اپنے گناہوں سے
17:59مایوس نہ ہوں
18:00کیونکہ جس رب نے
18:01اپنے کتاب کا آغازی
18:02اپنے سب سے بڑے
18:03صفاتی نام
18:03رحمان سے کیا ہو
18:05وہ اپنے بندے کو
18:06تڑپتا ہوا
18:06کیسے دیکھ سکتا ہے
18:07وہ تو ستر ماہوں سے
18:09زیادہ پیار کرنے والا ہے
18:10آئے آج اپنے سر کو
18:12اس رحمان کے سامنے
18:13جھکا دیں
18:13اپنی خطاؤں کی
18:14معافی مانگیں
18:15اور اپنے زندگی کو
18:16شکر گزاری کے
18:17سانچے میں ڈھال لیں
18:18یہاں یہ بات بھی
18:19قابل غور ہے کہ
18:20سور رحمان
18:21کو بعض علماء نے
18:23قرآن کی دلہن
18:23کا لقب بھی دیا ہے
18:24کیونکہ اس میں
18:25جس خوبصورتی
18:26تال میل
18:27اور دلکشی کے ساتھ
18:28الفاظ کو ترتیب دیا گیا ہے
18:30وہ کسی اور
18:31صورت میں
18:31اس انداز میں نہیں ملتی
18:32اس صورت کی
18:33تلاوت کرتے وقت
18:34ایک خاص سر
18:35اور اہنگ محسوس ہوتا ہے
18:36جو سننے والے کے دل
18:45توجہ کے ساتھ
18:46کرتے آئے ہیں
18:47اور مساجد میں بھی
18:48اکثر خاص مواقع پر
18:49پڑھا جاتا ہے
18:50یہ بھی ایک اہام نکتہ ہے
18:51کہ سور رحمان میں
18:52جس انداز سے
18:53دنیاوی اور
18:54اخروی نعمتوں
18:55کا تقابل کیا گیا ہے
18:56وہ انسان کو
18:57یہ سوچنے پر
18:58مجبور کرتا ہے
18:59کہ دنیا کی نعمتیں
19:00خات کتنی خوبصورت ہوں
19:01ان کا کوئی مقابلہ
19:03جنت کی نعمتوں سے
19:04نہیں ہو سکتا
19:05جب اللہ تعالیٰ
19:06زمین کی نعمتوں
19:06کا ذکر کرتا ہے
19:07تو وہ
19:08محدود اور فنہ
19:08ہونے والی ہیں
19:09مگر جب
19:10جنت کی نعمتوں
19:11کا ذکر آتا ہے
19:12تو وہ
19:13لا محدود
19:14اور دائمی ہیں
19:15یہ تقابل
19:16ہمیں یہ سکھاتا ہے
19:17کہ ہمیں اپنی محنت
19:18اور توجہ
19:18کس طرف مرکوز
19:19کرنی چاہیے
19:20اسی طرح
19:21سورت میں
19:22جس طرح
19:22جنت کے چار باغات
19:24کا ذکر کیا گیا ہے
19:25دو آلہ درجے کے
19:26اور دو ان سے کم درجے کے
19:28یہ ہمیں یہ سمجھاتا ہے
19:30کہ جنت میں بھی
19:36ہمیں مزید محنت
19:37اور نیکی کی
19:38ترغیب دیتی ہے
19:39کیونکہ ہر انسان
19:40چاہتا ہے
19:41کہ وہ
19:41سب سے آلہ مقام
19:42حاصل کرے
19:43اور اس مقام تک
19:44پہنچنے کا راستہ
19:45صرف ایمان
19:46نیک عمال
19:47اور اپنے رب کی
19:48اطاعت سے ہو کر جاتا ہے
19:49ہمارے پیارے ناظرین
19:51اس سورت کا
19:52ایک اور خوبصورت
19:52پہلو یہ ہے
19:53کہ اس میں اللہ تعالیٰ
19:54نے اپنے صفت
19:55رحمت کو
19:56ابتدا سے آخر
19:56تک برقرار رکھا ہے
20:18ہمیں یہ بھی
20:18یاد رکھنا چاہیے
20:19کہ یہ سورت
20:20صرف پڑھنے کیلئے نہیں
20:21بلکہ سمجھنے
20:22اور اس پر عمل
20:23کرنے کیلئے
20:23نازل کی گئی ہے
20:24اگر ہم اس سورت
20:25کو محض زبان سے
20:26پڑھتے رہیں
20:27مگر اس کے پیغام
20:28کو اپنی زندگی میں
20:29شامل نہ کریں
20:29تو ہم اس عظیم نعمہ
20:31سے مکمل فائدہ
20:32حاصل نہیں کر سکتے
20:33ہمیں چاہیے
20:34کہ ہم اس سورت
20:35کو غور و فکر
20:35کے ساتھ پڑھیں
20:36اس کے ہر لفظ
20:37پر توجہ دیں
20:38اور اپنے دل میں
20:39یہ سوال
20:40بار بار پوچھیں
20:41کہ ہمیں اپنے
20:42رب کی نعمتوں
20:42کا شکر ادا کر رہا ہوں
20:43یا ان کو
20:44نظر انداز کر رہا ہوں
20:45آئیے آج سے یہ عہد کریں
20:47کہ ہم اپنی
20:47روز مرہ زندگی میں
20:48اس سورت کے پیغام
20:50کو شامل کریں گے
20:50ہم اپنی چھوٹی
20:51سے چھوٹی نعمت
20:52پر بھی
20:53اللہ کا شکر ادا کریں گے
20:54اپنی زبان
20:55اور اپنے عمال سے
20:56اپنے رب کی رحمت
20:57کا اطراف کریں گے
20:58اور اس سورت کو
20:59باقاعدگی سے
20:59پڑھنے کی عادت
21:00اپنائیں گے
21:01تاکہ ہمارے دل
21:02نور اور سکون سے
21:03بھر جائے
21:03ہماری دعا ہے
21:04کہ کائنات کا
21:05وہ سچا مالک
21:06وہ بے انتہار
21:07رحم کرنے والا
21:08ہمارے دلوں کو
21:09اپنے شکر سے بھر دے
21:10وہ مالک
21:11ہمارے گناہوں کو
21:11معاف فرمائے
21:12ہمیں دنیا اور آخرت
21:13کی تمام نعمتوں سے
21:14نبازے
21:15اور ہمیں
21:15ان مقرب بندوں میں
21:16شامل کرے
21:17جن کے لیے
21:18اس نے جنت کے
21:19شاندار باغات
21:20تیار کر رکھے ہیں
21:21آمین
21:22یا رب العرمین
21:23اللہ حافظ