Skip to playerSkip to main content
  • 6 weeks ago
نور محمد شیخ نہ صرف دہلی بلکہ بیرون ملک بھی فروخت ہونے والے روایتی کشمیری تندور بنانے کے لیے مٹی تیار کر رہے ہیں۔

Category

🗞
News
Transcript
00:23نور محمد شیخ
00:30نور محمد شیخ کہتے ہیں کہ تندور بنانے کے لیے خاص اور مخصوص جگہ کی مٹی کا استعمال ہوتا ہے
00:34جس کو بعد میں الگ الگ مراحل سے گزار کر تندور بنانے کے قابل بنا جاتا ہے مٹی کو پانی
00:40کے ساتھ اچھی طرح گھوند کر نرم اور یقصہ بنا جاتا ہے پھر ہاتھ کی مدد سے اس مٹی کو
00:46گول اور اوپر سے تنگ گھڑے یا سلنڈر کی شکل دی جاتی ہے
00:49مجھے اس کام سے وابستہ پچاس برس سے زائد کرسا ہو گیا یہ مرحلہ با مرحلہ آہستہ آہستہ کرنا پڑتا
00:55ہے یہ دلی تک جاتے ہیں جمہور لڈاق بھی میں نے آسٹریلیا میں بھی تندور کو بھیجا ہے جہاز میں
01:01پیک کر کے ساچے میں اس کے لیے میں نے صندوق بنایا مجھے امریکہ سے آئے آپ وہاں آ جاؤ
01:07سعودی عرب سے آئے آپ وہاں آ جاؤ
01:09کشمیری نانوائی جنہیں مقامی طور پر کاندور کہا جاتا ہے اس روایتی مٹی کے تندور کا استعمال کرتے ہیں اور
01:16نیم دائرہ نمہ ساخت میں زمین کے اندر یا فرش پر نصب کیا جاتا ہے جس میں لکٹی کے آگ
01:21سے شدید حرارت پیدا کیا جاتی ہے تاکہ روایتی نان یعنی چوٹ لواسہ چوچور باکرخانی اور کلچہ بخیرہ بہتر طور
01:30تیار کیا جائے
01:32جمہور کشمیر خاص کر کشمیر کی بیشتر لوگ اسی تندور میں بنی مختلف قسم کی روٹیاں خانہ پسند کرتے ہیں
01:38کشمیر میں ایسا کوئی گھر نہ ہوگا جن کے افرادی خانہ اپنے خانے کی شروعات تندور کی روٹی اور روایتی
01:44نمکین چاہ سے نہ کرتے ہوں
01:46ماہر کاریگر نور محمد کا کہنا ہے کہ نانوائی تندور بنانے میں تقریباً پندرہ دن کا وقت لگتا ہے جبکہ
01:52ہوتلوں اور ریسٹورانوں میں استعمال ہونے والا تندور آٹھ سے دس دن میں تیار ہوتا ہے
02:00دس بارہ مراحل سے گزارنا پڑتا ہے مٹی کو پھر زمین پر مٹی کو گول گول بنانا پڑتا ہے
02:05اس کے بعد مٹی کو شکل دی جاتی ہے جس طرح مسگر برتن بناتا ہے اسی طرح اس کو تراشا
02:10جاتا ہے
02:11اوپر تک لکڑی کے آوزاروں سے اور یہ سیمنٹ سے بھی مضبوط ہونا چاہیے
02:18فید فیدہ نامی ایک مقامی نوجوان کا کہنا ہے کہ مجھے تندور کی روٹی بہت پسند ہے
02:23اور میں بغیر اس روٹی کے صبحوں کی نمکین چاہیں نہیں پیتا ہوں
02:27تندور کی روٹی نسری بناوٹ بلکہ ذائقے میں بھی مختلف ہوتی ہے
02:31کاندر بناتے اور جو تندور بہتا ہے وہی پسند ہے
02:34وہ کی پسند ہے؟
02:41نور محمد کہتے ہیں کہ جدیدور میں گیس کی بٹی یا تندور بھی بازار میں دستیاب ہیں
02:46لیکن وہ اس روایتی منٹی کے تندور کا مدبادل نہ بن سکے
02:50جو ذائقہ اس تندور کی روٹی میں ہے وہ ذائقہ گیس تندور نہیں دے پاتا
02:54گیس تندور کی روٹی بھی کامیاب نہیں رہا
02:58کہا جاتا ہے اس پر بدبور رہتی ہے جس سے خریدار روٹی نہیں لیتا
03:02جو اب یہ نانوائی روٹی ہے وہ پک کے نکلتی ہے لکڑی سے
03:06یہ مجدار اور میٹھی ہوتی ہے
03:07صبح کے وقت نانوائی کے دکانوں پر لوگوں کی کافی بھیڑ رہتی ہے
03:11ہوتلوں میں نان زیادہ پسند کی جاتی ہے
03:14جب تک ہوتل والوں کو تندور نہیں ہوگا
03:16اس وقت تک ان کا کام نہیں چلے گا
03:19سرینگر میں نور محمد مٹی کے تندور بنانے میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں
03:23تاہم انہوں نے کہا کہ یہ کام کافی سب رازمودہ اور محنت کا ہونے کے باعث
03:28نئی نسل اس کام کی جانب راقم نہیں ہو رہی ہے
03:31میرے خاندان میں یہ کام میرے تک ہی محدود رہے گا
03:35ای ٹی وی بھارت کریے سرینگر سے فرویز الدین کی خاص ریپورٹ
03:43موسیقی

Recommended