Skip to playerSkip to main content
in This video MQM Pakistan MPA Fahim Patni talking in the Sindh Assembly on adjourned motion presented byppp on new province in sindh , Fahim Patni said that new administrative units are necessary in Sindh , He exposed the be governance of ppp provincial governmet in his speech ,,, so watch this speech
#sindhassembly #mpa #fahim patni #newprovinces #sindhdivision #sindhpolitics #mqm #ppp

Category

🗞
News
Transcript
00:00Why do we do this?
00:02Why do we do this?
00:05There is financial terrorism.
00:08It's why it all is discussed.
00:12This was why it started.
00:14Why does this administration in function just for the entire site?
00:2026th month of 2016 we said,
00:22We have to say that the 18th century in which the NFC is the formula, which is the devolution of
00:28power, which is the provincial finance commission, which is the provincial financial commission, which is the bottom of it.
00:35We have to do that.
01:05ڈیوی ایڈز کے جو جو بچہ گٹر کے اندر گر کر مر رہا ہے یہ بالکل آئینی موت ہے
01:10یہ ولیکہ ہسپیڈل کے اندر جو ایک سو بیس کیس ریپورٹ ہوئے ہیں ایچ آئی وی ایڈز کے
01:15سیسک سیسک کر مریں گے وہ بچے سیسک سیسک کر آج اسی لاکھ بچہ اسکول سے باہر ہے
01:20ہم آئین کے اندر یہ لگ دیتے ہیں کہ یہ جو اسی لاکھ انپڑ جائل ہیں یہ آئینی جائل ہیں
01:26آج کراچی شہر کے اندر اسی فیصد وہ لوگ ہیں جو پانی کو خرید کر پیتے ہیں یہ جو
01:31ایوان کے اندر جتنے لوگ بیٹے ہیں سب کو پتا ہے کہ یہ کون قبضہ کر رہا ہے اور
01:35ان کی سرپرستی کون کر رہا ہے اس صوبہ سندھ کا ایک انچ کسی کو دینے کی بات نہیں
01:41کرتے اور کسی اور کا ایک انچ زمین ہم اس صوبہ سندھ کے اندر لینے کی بات نہیں
01:46کرتے مئی دوہزار پچیس میں مارکہ حق میں ہم نے اپنے سے چھے گناہ بڑے دشمن بھارت کا
01:52مو کالا کیا ہے اب پاکستان کو معاشی اور انتظامی طور پر مضبوط ہونا ہے
01:57اگر یہ بات ہم کرتے ہیں تو یہ کوئی سندھ کی تقسیم کی بات نہیں ہے ہاں یہ
02:03سندھ کی انتظامی تقسیم کی ضرور بات ہے عوض باللہ بن الشیطان الرجیم بسم اللہ
02:08الرحمن الرحیم بہت شکریہ سپیکر صاحب سر یہ جو بات ہوئی ہے یہ جو
02:16ذہری کے التوا پر جو ڈسکس ہو رہی ہے یہ کیوں ہو رہی ہے اور یہ کہاں سے شروع ہوئی
02:21کہ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی یہ چھبیسویں آئینی ترمیم جو پاکستان کے
02:28اندر ہوئی نیشنل اسمبلی کے اندر اس وقت سے یہ بات شروع ہوئی چھبیسویں
02:32آئینی ترمیم کے وقت ہم یہ کہہ رہے تھے کہ بھئی اٹھارویں آئینی ترمیم
02:36کے اندر جو این ایف سی کا فارمولا ہے اس کو ڈیولوشن آف پاور وہ نہیں ہو
02:42پا رہا اس کو پروینشل فائننس کمیشن بنا کے اس کو نیچے لے کر جائیں
02:49تاکہ سندھ کے لوگوں کو دسٹرک کے لوگوں کو اس کا فائدہ ہو
02:53آپ نے چھبیسویں آئینی ترمیم میں ہماری یہ بات نہیں مانی
02:56اچھا ستائیسویں آئینی ترمیم جب آئی جب ہم نے یہ بات کی
03:00کہ بھائی ستائیسویں آئینی ترمیم کے اندر آپ لوگ آ جائیں اس بات کے
03:05اوپر کہ یہ جو آرٹیکل ون فورٹی ایک ترمیم اس کے اندر
03:09ڈال دیں اور اس کے اندر جو ڈیولوشن آف پاور کا فارمولا ہے
03:12اس کو تے کریں اس کو لکھیں تاکہ اس کے اوپر سندھ کے لوگوں کو فائدہ ہو
03:18ہر ڈسٹرک کے لوگوں کو فائدہ ہو آپ جس طرح وفاق سے
03:22تھرو این ایف سی پاپولیشن بیس جو یہ بیاسی فیصد فارمولا ہے
03:27تھرو این ایف سی اپنے لوگوں کو دکھا کر آپ وہاں سے جو پیسے لیتے ہیں
03:33وہ پیسے نیچے اس طرح تقسیم نہیں ہو رہے جس کی وجہ سے
03:37ہمیں یہ problem ہے تو ہم تو یہ بات کر رہے تھے یہ دونوں 26 وی آئینی
03:42ترمیم میں بھی 27 وی آئینی ترمیم میں بھی ہم نے کوشش کی کہ آپ
03:46اس کے اوپر آئے پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں اس کے اوپر متفق
03:49ہوئی سوائے پیپس پارٹی کے آپ اس بات کے اوپر نہیں آئے کہ ہم
03:54نے نہیں ماننا اچھا 27 وی آئینی ترمیم کے دو دن کے بعد ہم نے
03:59ایک پریس کانفرنس کی اس کے اندر ہم نے یہ بات کی تھی اس کے اندر
04:06کے فارمولے کو آرٹیکل 140 اے کے ترمیم کو ہمارے ساتھ بیٹھ
04:11کر بات نہیں کرتے تو اب اس پاکستان کے اندر آئینی تور کے
04:16اوپر آئینی انتظامی small administrative units کے اوپر کوئی بھی
04:21مطالبہ کرے گا ہم اس کی حمایت کریں گے یہ ہم نے پریس کانفرنس
04:24کے اندر بات کی تھی پھر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ریاست کے
04:28اندر کچھ لوگوں نے یہ بات کرنا شروع کی انہوں نے یہ
04:32مطالبہ کیا اور ہم نے بالکل منوان اس کی حمایت کی اور آج بھی ہم
04:36اس کی بالکل حمایت کرتے ہیں بالکل اس سندھ کے اندر بلکہ
04:39پورے پاکستان کے اندر small administrative unit بننے چاہیے
04:43اس سے ناصف سندھ بلکہ پورا پاکستان ترقی کرے گا
04:48اچھا سر اس کے اندر یہ بات ہم کیوں کر رہے ہیں یہ بات ہم کیوں
04:55کر رہے ہیں بھئی ابھی ناصر اتن شاہ صاحب نے تقریر کی کہا
04:59کہ آؤ ہم بیٹھتے ہیں اس فارمولے کو تے کرتے ہیں بیٹھ کے کہ
05:03کس طرح آگے چلنا ہے اس کے اوپر بات کرتے ہیں اچھا یہ جو
05:06اس سندھ کے اندر ایک ایشو ایک ایک ایشو کے اوپر بات کرتے ہیں
05:11بھئی ابھی مراد علی شاہ نے تقریر کی بڑا نفیس آدمی ہے لیکن
05:15گصے کے اندر بات کر گئے بڑی گصے کے اندر کہ بھئی کسی کے اندر
05:20ہمت ہے تو بتاؤ یہ والی قرارداد لاکہ رہا تو پھر آپ ہمت کے
05:24اوپر بات کرتے ہیں بھئی قرارداد ہم نہیں لاتے بھئی ہمت کرتے ہیں
05:27یہ جو لوگ اس سندھ کے اندر گھٹر کے اندر گر کر مر رہے ہیں پھر
05:31ہمت کریں کہ اس کو ہم آئین کے اندر لکھ دیتے ہیں کہ یہ جو جو
05:35بچہ گھٹر کے اندر گر کر مر رہا ہے یہ بالکل آئینی موت ہے اس
05:39کو اس کو ڈیکلیئر کرتے ہیں کہ یہ جو بچے سندھ کے اندر گھٹر کے
05:42اندر گر کر مر رہے ہیں اس کو ہم کہتے ہیں کہ بھئی ٹھیک ہے جو ننہ
05:46ابراہیم جو اس کراچی شہر کے اندر گھٹر کے اندر گر کر مر رہا ہے
05:50اس کو ہم کہتے ہیں کہ انتظامی گفلت کی وجہ سے مر رہا ہے ہم اس آئین
05:54who doesn't need to move out of the way
06:24to be declared on DEJANA, what is that is can be stated on this zone,
06:29that is OK, we have to declare the rule to that as well.
06:31this is what just happened here,
06:32it goes out and anything happens to besided Because
06:33we have to declareprov f recover.
06:40so muchでは this position.
06:41which, which we bring with the information principle.
06:46education sector
06:47We have 2,000 from 10 to 26 to 36 000.
06:50We have more than 3,000,000 kids in 2010.
06:53Eventually we have 80,000,000 children.
06:56We are at the top of the way.
06:59We have 80,000,000 thousand and 1,000 and 1,000 thousand.
07:02We are at the top of the way.
07:03This is the top of the way we have, we have at the top of the way.
07:10This is the top of the water issue.
07:13There is no issue with water.
07:15This is the main issue of water, just the Karachi.
07:16نہیں پورے سندھ کا issue ہے آج کراچی شہر کے اندر اسی فیصد وہ لوگ ہیں جو
07:21پانی کو خرید کر پیتے ہیں اس ایوان کے اندر بیٹے ایک ایک شخص کو پتا ہے
07:25کہ وہ پانی بیشتا کون ہے اور ان کی سرپرستی کون کرتا ہے تو لکھتے ہیں
07:30اس آئین کے اندر سندھ کے آئین کے اندر ہم یہ بھی لکھتے ہیں کہ یہ جو
07:33مافیاز ہے یہ آئینی مافیاز ہے یہ لکھ دیتے ہیں سر آئینی مافیاز اس کو
07:38ڈکلئر کرتے ہیں اچھا بھائی سندھ کے اندر اس کراچی شہر کے اندر زمینوں کے
07:42اوپر جو قبضے ہو رہے ہیں اس کراچی یہ جو ایوان کے اندر جتنے لوگ
07:47بیٹے ہیں سب کو پتا ہے کہ یہ کون قبضہ کر رہے اور ان کی سرپرستی کون
07:51کر رہا ہے ہم آئین کے اندر یہ لکھ دیتے ہیں کہ یہ آئینی یہ آئینی
07:55مافیاز ہیں ان کو بالکل اجازت ہے کہ یہ زمینوں کے اوپر قبضہ کریں اور
07:59We don't have to do that.
08:29position에 وہ حالات بہت
08:31خراب ہیں پانچ پانچ کلومیٹر سے
08:32آج بھی ہماری بہنے
08:35بیٹیاں جو ہے وہ
08:36پانی بھرنے کے لئے جاتی ہیں جہاں پر
08:39جانور پانی پیتے وہاں سے وہ
08:40پانی لے کر آتے آئینی طور پر
08:42لگ دیتے ہیں کہ یہ بالکل ٹھیک ہو رہا ہے
08:44وہ جس طرح ہو رہا ہے اس کو اسی طرح
08:46ہونے دیتے ہیں آئینی طور پر لگ دیتے ہیں
08:48یہ صبح تو اسی طرح چلے گا باقی پورے
08:50پاکستان کے اندر جو ہو رہا ہے اس کو ہونے تو بات ہو رہی تھی کہ
08:54administrative unit کا حوالے سے کیوں بات کی جاتی ہے تو میں نے پہلے
08:59اپنی بات کے اندر یہ بتایا ہے کہ کیوں ہم اس کا مطالبہ کرتے ہیں
09:03اور ہم کیوں چاہتے ہیں کہ اس سن کے اندر administrative unit
09:06بنائے جائے سر کل ہمارے سینئر سیاستدان ہیں بڑے محترم ہیں
09:10نصار خوڑو صاحب انہوں نے بات کی کہ KPK کے اندر اور بلوچستان
09:14کے اندر حالات بہت خراب ہیں سر بلکل وہاں پر حالات خراب ہیں
09:18لیکن جو terrorist ہے فوج ان کے ساتھ انگیج ہے آپ وہاں پر کیا
09:24کر رہے ہیں وہاں پر تو فوج ان کے ساتھ لڑ لیئے اچھا اس سن کے
09:28اندر اس وقت وہ حالات نہیں ہیں یہاں پر کوئی terrorist نہیں
09:34ہے لیکن اس سن کے اندر financial terrorism ہو رہا ہے اس سن کے اندر
09:40تو سر اس کے لیے اس صوبے کو تو آپ نے ٹھیک کرنا ہے کیسے ٹھیک
09:43کریں گے اب it's up to you کہ آپ کیا کرتے ہیں سر میں
09:47wind up کرتا ہوں کہ دیکھیں مئی دو ہزار پچیس میں مارکہ حق
09:52میں ہم نے اپنے سے چھے گناہ بڑے دشمن بھارت کا مو کالا کیا ہے
09:57اس کو دھول چٹائیے سر فیل مارشل آسی منیر صاحب اس کے اندر جو
10:06پاکستان بحریہ ہے پاکستان ائر فورس ہے دیگر جو بری افواج کے
10:11جوان ہیں ان سب نے اللہ کی مدد کے ساتھ پاکستان کے دفاعی نظام
10:17کو ناقابل تذکیر بنایا ہے سر اب پاکستان کی طرف سے کوئی میلی آنکھ
10:22سے نہیں دیکھ سکتا لیکن اب پاکستان کو معاشی اور انتظامی طور پر
10:27مضبوط ہونا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کا واحد
10:32حل صوبہ سندھ کے اندر پورے پاکستان کے اندر اسمال ایڈمنیسٹریٹیو
10:38یونٹ ہے اور یہ اسمال ایڈمنیسٹریٹیو یونٹ بننے سے نہ صرف سندھ پورا
10:43پاکستان ترقی کرے گا اور سر اگر یہ بات ہم کرتے ہیں تو یہ کوئی
10:48سندھ کی تقسیم کی بات نہیں ہے ہاں یہ سندھ کی انتظامی تقسیم کی
10:53ضرور بات ہے بہت شکریہ پاکستان ہمیشہ پائندہ بات

Recommended