Skip to playerSkip to main content
سلف صالحین اور تابعین کے نزدیک نبی کریم ﷺ کی ذات اور آپ کے تبرکات کی کیا قدر و قیمت تھی؟

صحیح بخاری، حدیث 170 میں ابنِ سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبیدہ رحمہ اللہ سے کہا: "میرے پاس نبی کریم ﷺ کے مبارک بالوں میں سے کچھ بال ہیں جو مجھے حضرت انسؓ یا ان کے گھر والوں سے ملے ہیں۔"

حضرت عبیدہ رحمہ اللہ نے فرمایا: "اگر میرے پاس آپ ﷺ کا ایک بال بھی ہوتا تو وہ مجھے پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ان سب سے زیادہ پیارا اور عزیز ہوتا!"

شرعی و ایمانی نکات:

عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا جذبہ: تابعین کرام نے اگرچہ نبی کریم ﷺ کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا تھا، مگر ان کے دل آپ ﷺ کی محبت اور یاد سے لبریز تھے۔

تبرکات کی اہمیت: صحابہ کرام اور تابعین کا نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک (بالوں) کو محفوظ رکھنا اور ان سے برکت حاصل کرنا ثابت شدہ عمل ہے۔

حقیقی دولت: ایک سچے مومن کے نزدیک دنیا کی تمام آسائشیں اور مال و دولت نبی کریم ﷺ کی نسبت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

حوالہ:

صحیح بخاری 170

کتاب الوضوء (کتاب نمبر 4، حدیث نمبر 36)

#Shorts #HadithInUrdu #SahihBukhari #ProphetMuhammad #Sunnah #Tabarrukat #FiqhInUrdu #Bukhari170 #UrduShorts #SadiOnlineAcademy #IslamicKnowledge #DailyHadith

Category

📚
Learning
Transcript
00:00He said,
00:02israeli ne aasim ke waashteh se beyan kiya
00:05woh ibnu sarin se nukl karteyi
00:06woh kehte hai ke meinne obeda rz. Allah
00:09anhu se kaha ki hemare paas
00:10rasul Allah sallallahu alaihi wa sallam
00:13ke kuch bal, mubarak
00:14hai joh hume hazrat anas rz. Allah
00:16anhu se anas rz. Allah anhu
00:18ke gharwalon ki tərf se mil e hai
00:20ye sun kar, obeda nne kaha ki
00:23ager meire paas un balon mei se
00:24eqbal bhi ho, to woh meire liye sari dunya
00:26aur uski har chis se zyadha aziz hai
Comments

Recommended