00:07Oh my God, you are my God
00:11ھے سکر ایسے ہے پیاسا تیرا تو ہے بھو
00:21ھے سکر ایسے ہے
00:28ھے سکر کے جوش میں جاہے وہ تجھے گیا جاہے
00:38خزر کے ہوش سے پوچھے کوئی رتبہ تیرا
00:47خزر کے ہوش سے پوچھے کوئی
00:59خزر کے ہوش سے پوچھے کوئی رتبہ
01:07نہیں کسے چاہی کی منصر میں تیرا جل وے اوہو
01:17نہیں کسے آئی نہ کہکے گھر میں اجالا
01:29حضور غوثیہ اچھا ایک دن اس بات کو بھی ذرا ہمارا سنویں
01:36فتاہ و حدیثیہ میں موجود ہے حیات والاہوان میں موجود ہے
01:39اور اس کے علاوے ہم نے اتنیمیہ جیسے بندہ نے لکھا
01:42باجت الاسرار میں موجود ہے تفریل خاطر فاطر میں موجود ہے
01:45قلائد الجبائر میں موجود ہے سخینہ علیہ میں موجود ہے
01:48جمال اللہ علیہ کے اندر اس کو شرولی تھانوی نے لکھا ہے
01:52اکبار اللہ یار کے اندر شیخ مقدر سے دلوی نے لکھا ہے
01:56زبدت الاسرار کے اندر لکھا ہے
01:59سمان اللہ کی آواز آتے ہیں
02:02کئی کتابوں کے اندر یہ واقعہ موجود ہے
02:05کہ جناب حضرت غوثیہ سکلین اللہ علیہ و تعالیٰ کی خدمت میں گورت آئی
02:09اور ایک بچے کو آپ کے مدرسے میں داخل کیا ہے
02:13اور ایک بات آپ کے ذہن میں رکھنے چاہیے
02:16غوثِ عزق کے الکعبات میں سے ایک لقبِ محبوبِ ربانی
02:21لب کے محبوبِ
02:23اور ان سے کسی نے پوچھا آپ کا رتبِ محبت کیا ہے
02:28آپ کا رتبِ محبت کیا ہے
02:31آپ نے فرما میرا رتبِ محبت یہ ہے
02:34میرے رب نے مجھ سے فعدہ کیا ہوئے
02:36جو میرے مدرسے کے کسی دروازے سے بھی گزر گئے
02:39اللہ سے بھی قبر کے عذاب سے محفوظ فرما دیتے
02:45توجہ سے بھول سے سبان اللہ کی آواز آنے چاہیے سوچے
02:51ایک دفعہ آپ کی قدمت میں ایک شخص آیا
02:54اور آ کر کہنے لگا
02:56حضور آج شب میرے والد کی مجھ سے جارت
02:59اور میں نے اس کو سخت عذاب کے اندر مقتلاب آیا
03:02کچھ دن ہوئے ان کے انتقال ہوئے
03:04تو آپ مہربانی فرمائیں کچھ دعا فرمائیں
03:07آپ نے فرمایا کبھی وہ ہمارے مدرسے اور درس میں تو نہیں آیا
03:12کازرت وہ تو آتا رہتا تھا
03:14آپ نے سر جھکایا
03:15اور آپ سر جھکا کے پھر آسمان کی جانت دیکھا
03:19آپ نے فرمایا چھٹی کہ چلے جاؤ
03:21جب یہ چلے گئے
03:22اگلے دنوں وہ پھر آیا
03:24کہنے لگا حضور آج شب میرے والد کی پھر مجھے زیارت ہوئی
03:28اور آج وہ خوشیوں میں نحال تھا
03:30اور کہہ رہا تھا عبدالقادر جلانی کی برکات سے
03:33اللہ نے میرے عظامِ قبر سے مجھے نجات اقاف فرمایا
03:38وہاں وہ اسے پاک نے فرمایا
03:40ہمارا محبوبیت کا یہ مقام ہے
03:42اللہ تعالی نے اس سے وعدہ کیا
03:44اور میں اس پہ ڈیٹیل میں بات کر چکا
03:46ابن تیمیہ جیسے بندے کو بھی جورت نہیں ہوئی ہے
03:48وہ انکار کرے
03:49وہ کہتا ہے عبدالقادر جلانی خود نہیں کہتے تھے
03:52اللہ ان کی زمان سے کہلواتا تھا
03:55اس لیے بھی آپ کو یہ آلِ حق
03:57آلِ حقید ہے آپ کو تو پرشانی ہونے نہیں چاہیے
03:59اللہ کے ولی وہ پاور ہے
04:02کہ سراتِ مصرقیم کے اندر
04:03یہ امام الوحابیہ شاہ اسمائی دلی لکھتا ہے
04:07اور رب کے ولی کی یہ پاور ہوتی ہے
04:09کہ وہ جب بولتا ہے
04:11لفظ اللہ کے وقت ہے زمان اس کی ہوتی ہے
04:15خدا باہ رہا ہوتا ہے اس سے
04:18تو میں بات کر رہا تھا
04:19کہ یہ اللہ کے ولی عظیر کے غوثِ آزم کے شان ہے
04:22اس لیے آپ کو غوثِ آزم کہتے ہیں
04:27عورت آئی بچے کو مدرسے میں پڑھائے نکلی داخل کر
04:30اور بعض وقت ایسا بھی ہوتا
04:33کہ کچھ لوگ تو کئی کئی سالوان پڑھتے
04:36اور کچھ ایسے صاحبیں اس مسلوک بھی آتے
04:39کہ غوثِ پاکوں نے دس گیارہ دن میں پڑھ جاتے
04:42اور جب وہ آتے تھے تو کورے کاغذ ہوتے
04:45اور جب جاتے تو زمانے کے خطب بنے ہوتے تھے
04:48گیارہ گیارہ دن میں پڑھ ان کو لاپس بھیجھے
04:52کہ یہ عورت ایک دن میں اپنے بچے کو دیکھنے کے لئے آئی
04:56کیا دیکھ دیئے کہ اس کا بیٹر کھانے کا وقت ہے
04:59تو اس کا بیٹر جناب
05:02جو گیروٹی کھا رہا ہے
05:04اور غوثِ آزم کی قدمت میں آئی
05:06تو آپ مرگی کا گوشت تناول فرمائے
05:09تو اس نے کہا کہ انتتا کن دجاج و ولدی آتا
05:14اپنے خرصِ شہید
05:16آپ خود مدرسے کے عالم وقت
05:20محتمی موقع
05:22آپ مرگی کا گوشت کھا رہے ہیں
05:24اور میرا بچہ جو کی روٹی کھا رہا ہے
05:29غوثِ آزم مسکر آکے بولے
05:30آپ نے فرما جب یہ بھی ہمارے قابل
05:32ہمارے اس پر پہنچے گا یہ بھی کھا لے گا
05:35کہ لگی نہیں یہ تو بہن صاحب یہ
05:38وَسُسَقَلَنِ فَوَدَا
05:39يَدَوْا لَا تِلْكَ الْعِزَامِ
05:42فَقَالَ اُمِنِ بِزْنِ اللَّهِ يُحْبِ الْعِزَامِ
05:44بِزْنِ اللَّهِ يُحْبِ الْعِزَامِ
05:46وہ سیازہ نے وہ ٹکھائی ہوئی ہڈیاں تھی
05:49ان کے اوپر ہاتھ پیر کے فرمایا
05:51وہ مردے زندہ کرنے والے
05:53اور ہڈیوں کو زندگی دینے والے
05:54خدا کے نام سے مرگی زندہ ہو جاؤ جاؤ
06:07کھانا شروع کرتے
06:08کھانا شروع کرتے