Skip to playerSkip to main content
مالدار عام لوگوں کے اعتقاد میں بڑا ہوتا ہے ، کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی حاجتیں پوری کر لیتا ہے
اور وہ مالدار جب اپنے مال کو نیکی کی راہوں میں خرچ کرے اور آخرت کی بھلائی کے لیے اس کو صرف کرے
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ، ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے [سبحان اللہ] لکھیں اور فالو کریں!

نویں فصل | ضروریات و مقتضیات حیات کی قسموں کے بیان میں (حصہ 1)

ضروریات زندگی کی تیسری قسم یہ ہے کہ وہ مختلف حالات جن کے ساتھ تعریف و توصیف کی جاتی ہے اور ان کو سبب فخر جانا جاتا ہے اور ان کی وجہ سے فضیلت دی جاتی ہے۔ (ان میں سے ایک) مال کی زیادتی ہے،فی الجملہ مالدار عام لوگوں کے اعتقاد میں بڑا ہوتا ہے ، کہ وہ اس کے ذریعہ اپنی حاجتیں پوری کر لیتا ہے اور اس کے سبب اس کے اغراض و مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں ورنہ فی نفسہ ( مالدار میں) کوئی فضیلت نہیں ہوتی پس جب مال کی سی صورت ہو اور مالدار جب اپنے مقاصد کے حصول اور ان لوگوں کی اغراض پر جو اس کے پاس امیدیں لے کر آئیں، ان پر مال خرچ کر لے اور اس کے ذریعہ مرتبت،تعریف اور نیک دل لوگوں میں عزت کا خریدار ہو تو وہ مالدار اہل دنیا کے نزدیک فضیلت حاصل کر لیتا ہے۔

اور وہ مالدار جب اپنے مال کو نیکی کی راہوں میں خرچ کرے اور آخرت کی بھلائی کے لیے اس کو صرف کرے اور اس انفاق (خرچ کرنے) سے اس کا مقصد اللہ عزوجل کی خوشنودی اور آخرت کی بھلائی ہو تو یہ ہر حال میں سب کے نزدیک فضیلت رکھتا ہے اور جب مالدار بخیل و کنجوس ہو اس کے مصارف میں اور اس کے جمع کرنے کا حریص ہوتو مال کی کثرت نہ ہونے کے برابر ہوئی، یہ مالدار کے لیے عیب ونقص ہو گا اور وہ مال اس کو سلامتی کی راہ پر گامزن نہیں رکھے گا بلکہ اس کو بخالت کے رذیل گڑھے اور کمینگی کی برائی میں ڈال دے گا۔


کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#WealthInIslam
#IslamicWealth
#InfaqFiSabilillah
#AshShifa
#AshShifaShareef
#IslamicShorts
#Islam
#QadiIyad
#ThinkGoodGreen
#TGG

Category

📚
Learning
Transcript
00:00نوویں فصل
00:02ضروریات و مقتضیات حیات کی قسموں کے بیان میں
00:09ضروریات زندگی کی تیسری قسم یہ ہے
00:11کہ وہ مختلف حالات جن کے ساتھ تعریف و توصیف کی جاتی ہے
00:17اور ان کو سبب فخر جانا جاتا ہے
00:19اور ان کی وجہ سے فضیلت دی جاتی ہے
00:22ان میں سے ایک مال کی زیادتی ہے
00:26فل جملہ مالدار عام لوگوں کے اعتقاد میں بڑا ہوتا ہے
00:31کہ وہ اس کے ذریعے اپنی حاجتیں پوری کر لیتا ہے
00:35اور اس کے سبب اس کے اغراض و مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں
00:39ورنہ فی نفسح مالدار میں کوئی فضیلت نہیں ہوتی
00:43پس جب مال کیسی صورت ہو
00:45اور مالدار جب اپنے مقاصد کے حصول
00:48اور ان لوگوں کی اغراض پر جو اس کے پاس امیدیں لے کر آئیں
00:53ان پر مال خرچ کر لے
00:54اور اس کے ذریعے مرتبت
00:56تعریف اور نیک دل لوگوں میں عزت کا خریدار ہو
00:59تو وہ مالدار اہل دنیا کے نزدیک فضیلت حاصل کر لیتا ہے
01:04اور وہ مالدار جب اپنے مال کو نیکی کی راہوں میں خرچ کرے
01:08اور آخرت کی بھلائی کے لیے اس کو صرف کرے
01:11اور اس انفاق خرچ کرنے سے
01:14اس کا مقصد اللہ عز وجل کی خوشنودی
01:17اور آخرت کی بھلائی ہو
01:19تو یہ ہر حال میں سب کے نزدیک فضیلت رکھتا ہے
01:22اور جب مالدار بخیل و کنجوس ہو
01:25اس کے مسارف میں اور اس کے جمع کرنے کا حریص ہو
01:28تو مال کی کسرت نہ ہونے کے برابر ہوئی
01:31یہ مالدار کے لیے عیب و نقص ہوگا
01:34اور وہ مال اس کو سلامتی کی راہ پر گامزن نہیں رکھے گا
01:38بلکہ اس کو بخالت کے رزیل گڑھے اور کمینگی کی برائی میں ڈال دے گا
Comments

Recommended