00:00جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ فی نفسِ مال میں کوئی تعریف اور فضیلت نہیں ہے
00:06بلکہ صرف اس لیے اس کی تعریف ہے وہ دوسروں کو دیتا ہے اور اس کے مسارف پہ خرچ کرتا
00:14ہے
00:14لہٰذا مال کا جمع کرنے والا اگر اس کی جگہ پر خرچ نہ کرے اور اس کو اس کے راستوں
00:21پر صرف نہ کرے
00:22تو وہ در حقیقت غنی یعنی مالدار نہیں اور نہ وہ مال اس کو بے پرواہ بناتا ہے
00:29اور نہ یہ بات کسی اکلمند کے نزدیک تعریف کے لائق ہے
00:34بلکہ وہ دائمی فقیر ہے کہ ہر وقت مال کی حرس میں محتاج ہے اور وہ اپنی کسی غرض تک
00:41نہ پہنچے گا
00:42کیونکہ جو مال اب اس کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اغراز تک پہنچانے والا تھا
00:48وہ اس پر تسلط و غلبہ نہیں رکھتا کہ وہ اس کو خرچ کرے
00:53وہ ایسا شخص ہو گیا جو کسی غیر کے خزانہ کا محافظ و نگے بان ہو
00:58اور وہ مال و خزانہ اس کا اپنا نہ ہو
01:02گویا کہ اس کے ہاتھ میں اس سے کچھ بھی نہیں ہے
01:05اور مال کا خرچ کرنے والا بھرپور غنی ہے
01:09کیونکہ اس نے مال کے فوائد حاصل کیے ہیں
01:12اگرچہ اس کے ہاتھ میں مال میں سے کچھ نہ بچے
01:16اب ذرا ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ کریمہ اور سیرتِ مبارکہ پر نظر ڈالو
01:24اور مال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ پر غور کرو
01:29تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پاؤ گے
01:34کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کے خزانے دیے گئے
01:38شہروں کی کنجیاں دی گئیں اور مالِ غنیمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا
01:44جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی پر حلال نہ تھا
01:49حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں
01:53ملکِ حجاز، یمن اور تمام جزیرہِ عرب اور جو اس کے قریب شام و عراق وغیرہ تھا فتح ہوئے
02:00ان کا خمس یعنی پاچوہ حصہ اور جزیہ اور صدقہ اتنا لائے گیا
02:05کہ اور بادشاہوں کے لیے اس سے بہت تھوڑا آتا تھا
02:08پھر مختلف ملکوں کے بادشاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں توفجات بھیجتے
02:14لیکن ان میں سے کسی پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو ترجیح نہ دی
02:20اور نہ ان میں سے ایک درہم بھی اپنے لیے روکا
02:23بلکہ ان تمام کو ان کے مسارف کی جگہوں پر خرچ فرما دیتے
02:27اور دوسروں کو غنی بنا دیتے اور مسلمانوں کی طاقت اس سے بناتے
Comments