Skip to playerSkip to main content
آپ ﷺ کو زمین کے خزانے دیے گئے ،شہروں کی کنجیاں دی گئیں اور مال غنیمت آپ ﷺ کے لیے حلال کیا گیا
لیکن ان میں سے کسی پر بھی آپ ﷺ نے اپنے آپ کو ترجیح نہ دی اور نہ ان میں سے ایک درہم بھی اپنے لیے روکا
مستند حوالہ: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ (قاضی عیاض مالکی اندلسیؒ)، نویں فصل
👇 کمنٹ میں انتہائی ادب سے سبحان اللہ لکھیں اور چینل سبسکرائب کریں!

نویں فصل | ضروریات و مقتضیات حیات کی قسموں کے بیان میں (حصہ 2)

جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ فی نفسہ مال میں کوئی تعریف اور فضیلت نہیں ہے بلکہ صرف اس لیے اس کی تعریف ہے، وہ دوسروں کو دیتا ہے اور اس کے مصارف پہ خرچ کرتا ہے، لہذا مال کا جمع کرنے والا اگر اس کی جگہ پر خرچ نہ کرے اور اس کو اس کے راستوں پر صرف نہ کرے تو وہ درحقیقت غنی ( مالدار) نہیں اور نہ وہ مال اس کو بے پروا بنا تا ہے اور نہ یہ بات کسی عقل مند کے نزدیک تعریف کے لائق ہے بلکہ وہ دائمی فقیر ہے ( کہ ہر وقت مال کی حرص میں محتاج ہے) اور وہ اپنی کسی غرض تک نہ پہنچے گا کیونکہ جو مال اب اس کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اغراض تک پہنچانے والا تھا وہ اس پر تسلط و غلبہ نہیں رکھتا ( کہ وہ اس کو خرچ کرے) وہ ایسا شخص ہو گیا جو کسی غیر کے خزانہ کا محافظ ونگہبان ہو اور وہ مال وخزانہ اس کا اپنا نہ ہو ، گویا کہ اس کے ہاتھ میں اس سے کچھ بھی نہیں ہے اور مال کا خرچ کرنے والا بھر پورغنی ہے کیونکہ اس نے مال کے فوائد حاصل کیے ہیں ، اگر چہ اس کے ہاتھ میں مال میں سے کچھ نہ بچے۔

اب ذرا ہمارے نبی حضور ﷺ کی عادت کریمہ اور سیرت مبارکہ پر نظر ڈالو اور مال میں آپ ﷺکے اخلاق حسنہ پر غور کر وتم حضور ﷺ کو اس حال میں پاؤ گے کہ آپ ﷺ کو زمین کے خزانے دیے گئے ،شہروں کی کنجیاں دی گئیں اور مال غنیمت آپ ﷺ کے لیے حلال کیا گیا، جو آپ ﷺ سے پہلے کسی نبی پر حلال نہ تھا،حضور ﷺ کی حیات ظاہری میں ملک حجاز ، یمن اور تمام جزیرۂ عرب اور جو اس کے قریب شام و عراق وغیرہ تھا فتح ہوئے، ان کا خمس ( پانچواں حصہ) اور جزیہ ہے اور صدقہ اتنا لایا گیا کہ اور بادشاہوں کے لیے اس سے بہت تھوڑا آتا تھا، پھر مختلف ملکوں کے بادشاہ آپ ﷺ کی خدمت میں تحفہ جات بھیجتے لیکن ان میں سے کسی پر بھی آپ ﷺ نے اپنے آپ کو ترجیح نہ دی اور نہ ان میں سے ایک درہم بھی اپنے لیے روکا بلکہ ان تمام کوان کے مصارف کی جگہوں پر خرچ فرمادیتے اور دوسروں کو غنی بنا دیتے اور مسلمانوں کی طاقت اس سے بناتے۔

کتاب کا مکمل نام: الشفا بتعریف حقوق المصطفیٰ ﷺ
مختصر نام: الشفا شریف
مصنف: ابوالفضل قاضی عیاض مالکی اندلسی رحمۃ اللہ علیہ
مترجم: حضرت سید مفتی غلام معین الدین نعیمی رحمۃ اللہ علیہ

#SeeratUnNabi
#ProphetMuhammad
#Islam
#WealthInIslam
#IslamicWealth
#TGG
#ThinkGoodGreen

Category

📚
Learning
Transcript
00:00جب یہ بات معلوم ہو گئی کہ فی نفسِ مال میں کوئی تعریف اور فضیلت نہیں ہے
00:06بلکہ صرف اس لیے اس کی تعریف ہے وہ دوسروں کو دیتا ہے اور اس کے مسارف پہ خرچ کرتا
00:14ہے
00:14لہٰذا مال کا جمع کرنے والا اگر اس کی جگہ پر خرچ نہ کرے اور اس کو اس کے راستوں
00:21پر صرف نہ کرے
00:22تو وہ در حقیقت غنی یعنی مالدار نہیں اور نہ وہ مال اس کو بے پرواہ بناتا ہے
00:29اور نہ یہ بات کسی اکلمند کے نزدیک تعریف کے لائق ہے
00:34بلکہ وہ دائمی فقیر ہے کہ ہر وقت مال کی حرس میں محتاج ہے اور وہ اپنی کسی غرض تک
00:41نہ پہنچے گا
00:42کیونکہ جو مال اب اس کے ہاتھ میں ہے جو اس کو اغراز تک پہنچانے والا تھا
00:48وہ اس پر تسلط و غلبہ نہیں رکھتا کہ وہ اس کو خرچ کرے
00:53وہ ایسا شخص ہو گیا جو کسی غیر کے خزانہ کا محافظ و نگے بان ہو
00:58اور وہ مال و خزانہ اس کا اپنا نہ ہو
01:02گویا کہ اس کے ہاتھ میں اس سے کچھ بھی نہیں ہے
01:05اور مال کا خرچ کرنے والا بھرپور غنی ہے
01:09کیونکہ اس نے مال کے فوائد حاصل کیے ہیں
01:12اگرچہ اس کے ہاتھ میں مال میں سے کچھ نہ بچے
01:16اب ذرا ہمارے نبی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادتِ کریمہ اور سیرتِ مبارکہ پر نظر ڈالو
01:24اور مال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاقِ حسنہ پر غور کرو
01:29تم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پاؤ گے
01:34کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمین کے خزانے دیے گئے
01:38شہروں کی کنجیاں دی گئیں اور مالِ غنیمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال کیا گیا
01:44جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی نبی پر حلال نہ تھا
01:49حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ ظاہری میں
01:53ملکِ حجاز، یمن اور تمام جزیرہِ عرب اور جو اس کے قریب شام و عراق وغیرہ تھا فتح ہوئے
02:00ان کا خمس یعنی پاچوہ حصہ اور جزیہ اور صدقہ اتنا لائے گیا
02:05کہ اور بادشاہوں کے لیے اس سے بہت تھوڑا آتا تھا
02:08پھر مختلف ملکوں کے بادشاہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں توفجات بھیجتے
02:14لیکن ان میں سے کسی پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو ترجیح نہ دی
02:20اور نہ ان میں سے ایک درہم بھی اپنے لیے روکا
02:23بلکہ ان تمام کو ان کے مسارف کی جگہوں پر خرچ فرما دیتے
02:27اور دوسروں کو غنی بنا دیتے اور مسلمانوں کی طاقت اس سے بناتے
Comments

Recommended