00:00صلی علی نبینا صلی علی محمد
00:06الحمدللہ رب المشرقین ورب المغربین
00:10والصلاة والسلام علی جد الحسن والحسین اما بات
00:13اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:18السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:22ناظرین و سمعین
00:24آپ پروگرام دیکھ رہے ہیں خسائل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:30خسائل نبی میں آقید و جہان سرور کائنات فخر کون و مکان
00:36تاجدار مدینہ ساکی کوسر شافی محشر
00:39امام الانبیاء خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
00:44جس صفت اور وصف کا ذکر کرنے آج ہم اپنے دیئے سعادت سمجھ رہے ہیں
00:49وہ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور آپ کی اللہ تعالیٰ کی بندگی
00:54حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت اور بندگی
00:59کا مقام یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہیں
01:04محبوب خدا ہیں سید الانبیاء ہونے کے باوجود عبادت میں ایسی محنت فرماتے
01:11کہ دیکھنے والے حیران رہ جاتے
01:14آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت محض ادائیگی فرض نہیں
01:20بلکہ محبت الہی شکر خشیت آجزی اور کامل عبدیت کا حسین ترین پی کرتی
01:31ام المؤمنین امی جان افیفہ کائنات سیدہ طیبہ طاہرہ حضرت عائشہ صدیقہ
01:40رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں
01:42کہ رسالت امام صلی اللہ علیہ وسلم الرات کو اتنا طویل قیام فرماتے
01:50کہ آپ کے قدم مبارک سوچ جاتے
01:53عرض کیا گیا
01:54یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
01:57اللہ تعالی نے آپ کے
02:00نہ آگے کوئی ایسی بات رکھی ہے
02:02نہ پیچھے کوئی ایسا معاملہ رکھا ہے
02:04اور آپ اس کے باوجود اتنی مشکت اٹھاتے ہیں
02:07کہ آپ کے پاؤں مبارک پر ورم آ جاتا ہے
02:11پھر اتنی مشکت کیوں
02:13تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:16عائشہ
02:16افلا اکون عبدن شکورا
02:19کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنو
02:25یہاں عبادت کا ایک عظیم اصول ملتا ہے
02:30عبادت صرف ضرورت کے لیے نہیں
02:33بلکہ نعمتوں کے شکر کے لیے بھی ادا کی جاتی ہے
02:36پتہ یہ چلا
02:37کہ ایک انسان
02:39اللہ تعالی کی ہزار ہاں نعمتیں
02:41موجود ہونے کے بعد
02:43اگر اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہے
02:46تو سمجھئے کہ یہ اللہ تعالی کا شکر گزار بندہ ہے
02:49اور اگر انسان اللہ تعالی کی ہزاروں نعمتیں
02:52لاکوں نعمتیں
02:53جو آج ہمارے پاس
02:54نعمتوں کی اتنی فراوانی ہے
02:57کہ اگر ہم نعمتوں کو گنتی کرنا چاہیں
03:00تعدد ملانا چاہیں
03:01شمار کرنا چاہیں
03:03تو نہیں کر سکتے
03:04اور اس کے باوجود بھی
03:06اگر ہم غافل ہیں
03:07اللہ تعالی سے دور ہیں
03:09اور یقیناً دور ہیں
03:11اگر اس کی بہت سیمپل سی مثال آپ نے لینی ہو
03:14تو آج کل نماز فجر میں
03:17آپ کسی مسجد میں چلے جائیں
03:19وہاں آبادی تو لاکوں کی ہوتی ہے
03:21مگر مسجد میں جو نمازی ہوتے ہیں
03:23وہ انگلیاں زیادہ ہوتی ہیں
03:25مگر نمازی کم ہوتے ہیں
03:27اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے
03:29کہ آج ہمارے ہاں
03:31اللہ تعالی کی نعمتوں کے شکر کا جو انداز ہے
03:34وہ کتنا مفقود ہو چکا ہے
03:36اور کتنا ہم ناشکر ہو چکے ہیں
03:38حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
03:41کے اس فرمانِ عالی شان نے بتا دیا
03:43کہ عبادت صرف ضرورت کی چیز نہیں
03:46بلکہ جو ضروریاتی زندگی کی
03:48جتنی چیزیں جتنی نعمتیں
03:50ہمارے پاس موجود ہیں
03:52ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے بھی
03:55اللہ رب العالمین کی
03:57اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں
03:59سجدہ شکر وجعلانا
04:01اللہ تعالی کی عبادت اور بندگی کرنا
04:04یہ انتہائی ضروری ہے
04:06رات کی تنہائی میں
04:07طویل تلاوت اور ایک ہی رکت میں کئی کئی صورتیں
04:11آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے
04:14حضرت خزیفہ بن
04:16یمان
04:17رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں
04:19کہ ایک رات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
04:23میں نے نماز پڑھی
04:24آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:27جب آپ نفل نماز کے لیے کھڑے ہوئے
04:29تو سب سے پہلے آپ نے سورہ بقرہ شروع فرمائی
04:33مکمل سورہ بقرہ پڑھی
04:34پھر اس کے بعد آپ نے سورہ نساء شروع فرمائی
04:37مکمل سورہ نساء آپ نے
04:39اسی پہلی رکت میں پڑھی
04:41پھر اس کے بعد آپ نے سورہ آل عمران شروع فرمائی
04:45پھر سورہ آل عمران مکمل آپ نے تلاوت فرمائی
04:48جہاں تسبیح کا ذکر ہوتا
04:51آپ بار بار تسبیح کا ذکر کرتے
04:55جہاں دعا کا ذکر ہوتا
04:57آپ بار بار دعا فرماتے
04:59اور جہاں پناہ مانگنے کا ذکر آتا آپ بار بار پناہ مانگتے
05:03یعنی اللہ جلال شانہو کی بارگاہ میں جیسی عبادت و بندگی کے مظاہر
05:09آکے تو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے آمنہ کے لال نے پیش فرمائے ہیں
05:15کائنات میں اس نیل اسمان کی چھت کے نیچے اس کی کوئی اور ایسی ایکزمپل نہیں بنتی
05:22کہ آپ معصوم نہیں خاتم المعصومین ہیں
05:25معصوموں کے بھی آپ نبی ہیں
05:28مگر اس کے باوجود اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں ایسا شکر ایسی عبادت ایسی بندگی
05:35کہ اس کی کہیں اور کوئی تمثیل نہیں ملتی
05:38اللہ ہمیں اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کا نقش پا نصیب فرما دے
05:43قرآن کریم کی ان آیات کریمہ کے جملوں سے آپ اندازہ لگائیے اندازہ کیجئے
05:51کہ اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں آقے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نے کیسی عبادت کی ہوگی
05:57فرمایا یا ایوہ المزمل
05:59اے چادر اڑنے والے میرے سونے نبی
06:02اے چادر اڑنے والے پیغمبر
06:05آپ رات کو قیام کیجئے مگر کچھ تھوڑا کیجئے
06:11اسے کم کر دیجئے
06:13یعنی اللہ رب العالمین خود فرما رہے ہیں
06:15اللہ رب العالمین کے علم میں ہے
06:17کہ میرے نبی میرے سامنے اتنا روتے ہیں
06:19اتنا گڑ گڑاتے ہیں
06:21ایسی عبادت کرتے ہیں
06:22ایسی بندگی کرتے ہیں
06:24کہ پاؤں پر ورم آ جاتا ہے
06:26جسم متاثر ہونے لگتا ہے
06:29ایسی عبادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے
06:33رات کی خاموشی میں
06:35رسول اللہ کا سب سے محبوب مشغلہ
06:37اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونا
06:40اور اس کا کلام پڑنا تھا
06:42ایک مرتبہ حدیث میں آتا ہے
06:43کہ آپ کے لئے ایک نرم بستر کا انتظام کیا گیا
06:47جب نرم بستر پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لیٹے
06:52تو تھوڑا سا آنکھ زیادہ لگ گئی
06:54مگر پھر بھی وقت پر اٹھ گئے
06:56تو صبح اٹھ کر آپ نے
06:59اظہار نرازگی فرمایا
07:00فرمایا یہ میرے بستر پر جو
07:04نرم چادر یا کمبل بچھایا گیا ہے
07:07یہ کس نے کیا
07:08تو تمام لوگ ڈر گئے
07:10اور سب نے خموشی اختیار کی
07:12فرمایا آج کے بعد
07:14میرے بستر کو اس طرح سے نہ بچھایا جائے
07:17کہ وہ اتنا نرم ہو
07:18کہ میں اپنے رب کی عبادت کے لئے
07:20اپنے وقت پر کھڑا نہ ہو سکوں
07:22یہ عالم تھا
07:24آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا
07:26اور آپ کی نماز
07:27نماز کے تو کیا کہنے
07:29سبحان اللہ
07:29آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز
07:32اللہ تعالی ہمیں
07:33اس نماز رسول کا ایک ذرہ نصیب فرما دے
07:36اس نماز میں جو قیام ہوتا تھا
07:39جو رکوع ہوتا تھا
07:40جو تشہد ہوتا تھا
07:42جو سجدہ ہوتا تھا
07:44اللہ رب العالمین
07:45ہمیں اس کا ایک ذرہ نصیب فرما دے
07:47تو ساری نماز
07:48زندگی کی نمازیں
07:50قبول ہو جائیں گی
07:51حضرت عبداللہ بن شقیر
07:52رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
07:55میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں
07:58حاضر ہوا
07:59آپ صلی اللہ علیہ وسلم
08:01نماز پڑھ رہے تھے
08:03اور رونے کی وجہ سے
08:04آپ کے سینے مبارک سے
08:07ایسی آواز آ رہی تھی
08:09جیسے ہانڈی کے
08:11جوش مارنے کی آواز برطن سے آتی
08:13آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی نماز ہوگی
08:16وہ کتنا رو رہے ہوں گے
08:18کتنا تڑپ رہے ہوں گے
08:19اپنے رب العالمین کے سامنے
08:21کہ برابر والے کو
08:22حضور کے سینے کے اندر سے نکلنے والی آوازیں
08:26دوسرے بندے کے کانوں میں
08:27سنائی دے رہی ہیں
08:29سننے
08:30نسائی کے اندر یہ حدیث موجود ہے
08:33اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم
08:35کیسی نماز پسند کرتے تھے
08:36یہ وہ نماز تھی
08:38جس کے متعلق خود
08:39آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
08:41وَجُعِلَتْ قُرَّتُ عَيْنِ فِي الصَّلَاةِ
08:44میری آنکھوں کی ٹھنڈک
08:46اللہ رب العالمین نے
08:48نماز میں رکھی ہے
08:50میری آنکھوں کی ٹھنڈک
08:52اللہ رب العالمین نے
08:54نماز میں رکھی ہے
08:55آج اندازہ کیجئے
08:57کہ وہ نماز
08:59جس کے بارے میں
09:00آقا دوجہان صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:02دنیا سے جاتے وقت
09:04جو اپنے آخری الفاظ ہیں
09:07وسیعت کے الفاظ ہیں
09:08امت کے لیے پراسپیکٹس ہے
09:10امت کو نصیت ہے
09:12آج ہر بیٹا
09:14اپنے باپ کی وسیعت پوری کرنے کے لیے
09:16سارے رشتداروں کے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے
09:18نہیں ٹھیرئے
09:19میرے والد صاحب کی یہ وسیعت تھی
09:21میں نے وہ وسیعت پوری کرنی ہے
09:23مگر کیا کبھی ہم نے سوچا
09:25کہ اپنے نبی کی وسیعت پوری کرنے کے لیے بھی
09:28ہم کبھی میدان میں آئے ہیں
09:30حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:31اپنی جو زندگی کے آخری الفاظ ہیں
09:34آپ کے
09:35زبانِ نبوت سے نکلنے والے
09:37جو مبارک
09:38آخری جملے ہیں
09:39اس کائنات میں
09:40وہ کیا ہیں
09:40فرمایا
09:42السلات
09:43السلات
09:44السلات
09:45اے لوگوں
09:46نماز کی حفاظت کرنا
09:47نماز کی حفاظت کرنا
09:49نماز کی حفاظت کرنا
09:51آج ہمارے ہاں
09:52نماز کی کیسی حفاظت ہوتی ہے
09:54کتنے لوگ ہیں
09:56جو پڑتے نہیں ہیں
09:57کتنے لوگ ہیں
09:58کتنی عوام ہیں
10:00جن کو نماز آتی ہی نہیں ہے
10:03کتنے ہی گھر ہیں
10:04جن گھروں کے اندر
10:06سالہ سال نماز پڑی ہی نہیں جاتی
10:09کتنے لوگ ہیں
10:10کہ جن کو نماز کے خشو خضو کا
10:13علم ہی نہیں ہے
10:14کتنے لوگ ہیں
10:15کہ جن کو نماز چھوڑنے کی جو نحوست ہے
10:18اس کا علم ہی نہیں ہے
10:20کتنے لوگ ہیں جو نماز کے لیے اتنے فکر مت ہوتے ہیں
10:25کہ وہ ازان کا انتظار کریں
10:27آج ہمارے ہاں ازان کے ختم ہونے کا انتظار کیا جاتا ہے
10:32ازان سنی نہیں جاتی
10:34اور کتنے کان ہیں
10:37کہ وہ کان ازان سنتے ہیں
10:39ان کے پڑوس میں مسجد ہے
10:41وہ پیدل چلیں تو سو قدم بھی نہ لگے
10:43مگر وہاں وہ نماز کے لیے نہیں جاتے
10:47اور آقے دو جہان صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں کیا قفیت ہے
10:51حضور صلی اللہ علیہ وسلم محض ذمہ داری نہیں
10:55نماز حضور ذمہ داری سمجھ کرنی پڑتے
10:57بلکہ دل کا سکون آنکوں کی ٹھنڈک اور محبوب حقیقی سے
11:03مناجات کا ذریعہ تھی نماز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
11:06اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت اور بندگی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے
11:11میں یوں کہوں کہ سجدہ اتنا طویل
11:14کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ فکر دامنگیر ہو گئیں
11:19حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتی ہے
11:22کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس میں نے نہ پایا
11:28تلاش کرنا چاہا تو میرا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں پر پڑا
11:34اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں تھے اور دعا فرما رہے تھے
11:39اے اللہ میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصے سے اور تیری آفیت کے ذریعے سے
11:45تیری سزا سے پناہ چاہتا ہوں
11:48یہ وہ ذات ہے جو معصوم ہیں جن کے دامن پہ نہ آگے کوئی ایسی چیز ہے
11:55نہ پیچھے کوئی چیز ہے
11:56بلکہ یہ وہ معصوم ہیں جو خاتم المعصومین ہیں
12:00اور ان کی ورسے پوری امت کی بخشش ہونی ہے
12:04مگر ان کی اپنی عبادت کی کیا کیفیات ہیں کیا انداز ہے
12:08صحیح مسلم شریف میں ایک روایت ہے
12:10آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب عبادت کرتے
12:12تو ایسے کرتے کہ آپ کے پاؤں مبارک پر ورم آ جاتا
12:17آپ کے جسم کی کیفیت بدل جاتی
12:21آپ یہ خشو خضو کا یہ عالم ہوتا
12:24کہ آپ کی آنکھوں سے گریہ تاری ہوتا
12:27اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی عبادت سے فارغ ہوتے
12:32تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں روتی ہوئی
12:35نظر آیا کرتی تھیں
12:37یہ منظر بتاتا ہے
12:38کہ جس پیشانی کو میراج نصیب ہوئی
12:43جس پیشانی کو میراج نصیب ہوئی
12:46وہی پیشانی اپنے رب کے حضور سب سے زیادہ جھکی ہے
12:51اور اگر اس بات کو یوں کریں
12:53کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں
12:57یا پورے رمضان میں آپ کی کیفیت عام سال کے دنوں میں
13:01یا مہینوں میں کے مقابلے میں
13:03بہت زیادہ بدل جاتی تھی
13:05ام الممنین
13:06قفیفہ کائنات
13:08سیدہ طیبہ طاہرہ
13:10امہ جان حضرت عائشہ صدیقہ
13:12رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتی ہیں
13:14کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا
13:18تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:23رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:25کمر کس لیتے
13:27رات کو زندہ رکھتے
13:29اور اپنے گھر والوں کو بھی جگائے رکھتے
13:31رات کو زندہ رکھنے کا کیا مطلب ہے
13:33کہ ساری ساری رات آپ نہ آرام فرماتے
13:36نہ
13:39کلولہ کی شکل میں تھوڑی دیر کے لیے بھی آرام کرتے
13:42بلکہ ساری رات آپ جاگتے رہتے
13:44یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
13:46رمضان کی حالت تھی
13:48اور دوسروں کو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:50یوں ہی جگاتے
13:51تو اس منظر کو اگر دیکھنا ہے
13:54کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم بھی
13:57اللہ کی عبادت میں مصروف ہے
13:58زبان بھی اللہ کی عبادت میں مصروف ہے
14:01مال بھی اللہ کے رستے میں خرج کر رہے ہیں
14:04تو قرآن کریم نے
14:05اس کی بہترین تصویر کشی کی ہے
14:08کہ
14:15فرما دیجئے
14:16بے شک میری نماز
14:18میری قربانی
14:19میری زندگی
14:20اور میری موت
14:21سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے
14:23اللہ تعالی ہمیں پلٹ کر واپس
14:25اپنے حبیب پاک
14:27صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
14:29قدمین پر
14:30نالین پر
14:31ان کی سنت پر
14:32ان کے نقش پر آنے کی
14:33توفیق نصیب فرمائے
14:35السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
Comments