Skip to playerSkip to main content
Khasail e Nabvi SAWW - Rabi-ul-Awwal Special

Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLP5yWzXgMC1Q

Topic: Nabi Kareem ﷺ Hadi-e-Alam

Islamic Scholar: Mufti Abu Muhammad

#aryqtv #islam #KhasaileNabviSAWW #rabiulawwal #rabiulawwal2026

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00صلی علی نبینا صلی علی محمد
00:06الحمدللہ رب المشرقین ورب المغربین
00:09والصلاة والسلام علی جد الحسن والحسین اما بات
00:13اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم
00:16بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:20السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
00:22ناظرین و سمعین آپ پروگرام سمات فرما رہے ہیں
00:28خسائل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
00:31خسائل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس خصوصی نشریات میں
00:37آقے دو جہان
00:39فخر کونو مکان
00:41تاجدار مدینہ
00:42امام الانبیاء
00:44ساکی کوثر
00:45شافی محشر
00:47خاتم المرسلین حضرت سیدنا محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی
00:53جس صفت اور وصف کا ذکر کرنا آج ہم اپنے لیے سعادت سمجھ رہے ہیں
00:59وہ ہیں آپ کا حادی عالم ہونا
01:01آپ اس پوری کائنات کے لیے ہدایت بنا کر بھیجے گئے
01:06پوری کائنات کے لیے آپ ہدایت کا چراغ بنائے گئے
01:11پوری کائنات میں ہدایت آپ کے ذریعے پھیلی
01:14اللہ جللہ شانہو نے آپ کو حادی عالم رہبر انسانیت کا لقب عطا فرمایا
01:21رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے لوگوں کے لیے بھی ہدایت کا ذریعہ بنے
01:26جو اپنے کانوں میں روئی کے پمپے ڈال کر آئے
01:29مگر واپس جاتے ہوئے ہدایت لے کر گئے
01:32ایسے لوگوں کے لیے بھی حضور ہدایت کا ذریعہ بنے
01:36جو آئے تو تلوار لے کر گئے تھے
01:38لیکن گئے تو دل دے کر گئے ہیں
01:41اللہ تعالی نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو
01:46پوری انسانیت کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے مبوض فرمایا
01:50آپ نے بھٹکے ہوئے انسانوں کو صرف راستہ بتایا نہیں
01:54بلکہ ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اندھیروں سے روشنی تک پہنچایا
02:00قرآن کریم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں
02:02بسم اللہ الرحمن الرحیم
02:04وَإِنَّكَ لَتَهْدِ إِلَىٰ سِرَاطِ مُسْتَقِيم
02:07اور بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں
02:13اور قرآن کریم میں ایک اور مقام پر اللہ تعالی فرماتے ہیں
02:16وَدَاعِيًا إِلَىٰ لَهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا
02:20اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف بلانے والا اور روشن چراغ بنا کر بیجا گیا ہے
02:27حضرتِ طفیل بن عمر دوسی رضی اللہ تعالیٰ عن
02:32اپنی قوم اور اپنی قبیلے کے بہت معزز سردار اور شاعر تھے
02:37مکہ آئے تو قریش نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق
02:42اس قدر بدگمان کیا
02:44کہ انہوں نے آپ کی بات نہ سننے کا فیصلہ کر لیا
02:48کہ جب میں ملوں گا ہی نہیں
02:50تو میں ان کی بات کیسے سن پاؤں گا
02:52خیر مکہ پہنچے
02:55اہلِ مکہ نے آپ کی محضبانی کی اچھا کھانا کھلایا
02:58حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں
03:01تمام اہلِ مکہ کے رساہ
03:03سردار
03:04قریش
03:05بڑے لوگ جمع ہو کر
03:07حضور کے خلاف انہیں بدگمان کرتے رہے
03:09حتیٰ کے رات گزر گئی
03:12رات کے پہر میں انہیں روئی کے پمپے تھما دیئے گئے
03:16کہ آپ اپنے کانوں میں ڈال لیں
03:17اگر آپ اپنی کسی ضرورت کے تحت باہر نکلیں
03:20تو کہیں ایسا نہ ہوں نے اتنا خطرہ تھا
03:23کہ کہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
03:26آواز ان کے کان میں نہ پڑ جائے
03:29پھر انہوں نے خود سوچا کہ میں سمجھدار ہوں
03:31شائر آدمی ہوں
03:32اچھی بری بات میں فرق کر سکتا ہوں
03:34آخر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بات
03:37خود کیوں نہ سنوں
03:38تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے
03:40ملنے یا کلام کرنے کا فیصلہ کر لیا
03:44اتفاقی طور پر یہ رات کی تاریکی میں
03:46اکیلے میں نکلے
03:47تو آقید جہان صلی اللہ علیہ وسلم
03:50اپنے گھر میں بیٹھے
03:51اللہ کا جو کلام اس وقت تک
03:54ناصل ہو چکا تھا
03:56اس کی تلاوت فرما رہے تھے
03:58سخی بخاری شریف کی روایت ہے
04:00کہ حضرت تفیل بن عمردوسی
04:02رضی اللہ تعالیٰ جو دو اس قبیلے کے
04:04بہت بڑے معزز سردار بھی تھے
04:07شائر بھی تھے
04:08اس زمانے کے دانہ لوگوں میں
04:10جہاندیدہ لوگوں میں آپ کا شمار ہوتا تھا
04:13نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
04:15جب گزرنے لگے
04:17تو کانوں میں قرآن کریم کی آواز سنائی دی
04:20قدم آگے رکھنا چاہتے ہیں
04:22مگر قدم پیچھے کوٹتے ہیں
04:24جب تھوڑی دیر کھڑے ہو کر
04:26رکے اور سنا
04:28اور سن کر بے ساختہ کہنے لگے
04:30یہ تو ایسا کلام ہے
04:31جو آج تک زمین پر کسی نے نہیں کہا
04:34اور پھر دروازہ کٹ کٹ آیا
04:36ملاقات ہوئی
04:37تو ملاقات ہی ملاقات میں
04:38حضور نبی کریم کے گرویدہ ہو گئے
04:41آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:43اللہ وحدہ لا شریک کی توحید پیش کی
04:45اور ایمان پیش کیا
04:47آپ نے قبول فرمایا
04:48اور قبول کرنے کے بعد جب اہل مکہ کو پتا چلا
04:51تو انہوں نے کہا
04:52کہ جناب آپ تو اپنے دین سے پھر چکے ہیں
04:55آپ تو صابی بن چکے ہیں
04:57انہوں نے کہا نہیں صابی نہیں
04:58میں صحابی بن چکا ہوں
05:00خیر اپنے قبیلے میں گئے
05:02اور پورے قبیلہ دوست کے
05:06ایمان لانے کا
05:07ذریعہ حضرت
05:09توفیل بنے
05:11کس کے پاس بنے
05:12حادی عالم کے پاس بنے
05:13پتا کیا چلا
05:14کہ آپ ان لوگوں کے لیے بھی
05:17ہدایت بنا کر بھیجے گئے
05:18جو دانستہ طور پر
05:20آپ کو سننا نہیں چاہتے تھے
05:22اپنے کانوں کے اندر
05:24روئی کے پمپے ڈال کر آئے
05:25تاکہ آواز نہ پڑے
05:27مگر جب واپس گئے
05:28تو ہدایت کا
05:29منبا بن کر گئے
05:30حادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم
05:32کی دعوت کا کمال یہ تھا
05:34کہ جو شخص بھی آپ کو دیکھتا
05:36اور ایمان قبول کیے بغیر
05:38رہ نہ سکتا
05:39حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ
05:43کو کون نہیں جانتا
05:44آپ اسلام کا
05:45وہ ستارہ ہیں
05:47وہ فخر ہیں
05:48جن کی وجہ سے
05:50اسلام کو عزت ملی
05:51حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ
05:53مکہ مکرمہ میں
05:54اہل مکہ کا اعلان سن کر
05:56سو اونٹوں کا انام کا اعلان سن کر
05:59قتل کے ارادے سے
06:01حضور کے قتل کے ارادے سے
06:03آگے بڑھتے ہیں
06:04تلوار ہاتھ سے
06:05نیام سے نکلی ہوئی ہے
06:07رستے میں اپنی بہن سے ملاقات ہوئی
06:09بہن کو مارا پیٹا
06:11کہ تم محمد مصطفیٰ کا
06:13حضرت فاطمہ بنتی عمر
06:14حضرت فاطمہ بنتی خطاب
06:16کہ تم محمد مصطفیٰ کا دین
06:18قبول کر چکی ہو
06:21بڑی حکمت کے ساتھ
06:22ان کا غصہ اللہ تعالیٰ نے
06:23ٹھنڈا کر کے
06:24دربار رسالت میں جب پہنچایا
06:25تو وہاں حضرت
06:27سیدنا
06:28سید الشہدہ
06:29حضرت حمزہ رضی اللہ
06:30حضرت بلال
06:31دیگر اصحاب موجود ہیں
06:32حضرت عمر رضی اللہ
06:34آگے بڑھنے لگے
06:35تو تمام صحابہ اکرام
06:37کھڑے ہو گئے
06:38حضور صلی اللہ علیہ وسلم
06:39نے محسوس فرمایا
06:41پوچھا کون ہے
06:42فرمایا
06:43یا رسول اللہ
06:43عمر آ رہے ہیں
06:44مگر ارادہ اچھا
06:46معلوم نہیں ہوتا
06:46تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم
06:49نے فرمایا
06:49انہیں روکیے مت
06:50انہیں آنے دیجئے
06:51یہ آئے نہیں ہیں
06:53یہ بھیجے گئے ہیں
06:54یا رسول اللہ
06:55انہیں کس نے بھیجا ہے
06:56فرمایا
06:57رات کو جب دنیا
06:58سو رہی ہوتی ہے
06:59تو میں رات کی تاریکی
07:00کو اٹھ کر
07:01عمر کو مانگ رہا ہوتا ہوں
07:02حضور نبی کریم
07:04صلی اللہ علیہ وسلم
07:05نے حضرت عمر کا
07:06نام لے کر
07:07اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی
07:08اللہم عز الاسلام
07:10بعمر ابن الخطاب
07:12اے اللہ اگر آپ
07:13اسلام کو عزت دینا چاہتے ہیں
07:16تو عمر ابن خطاب
07:17عطا کیجئے
07:18دیکھئے کہ وہ حضور
07:19صلی اللہ علیہ وسلم
07:21کے قتل کے ارادے سے
07:22حضور کے پاس گئے
07:24مگر جب واپس
07:25اٹھ کر آنے لگے
07:26تو کسی نے پوچھا
07:27عمر آپ کیا کرنے گئے تھے
07:29تو حضرت عمر
07:30رضی اللہ تعالیٰ عنہ
07:30فرمانے لگے
07:31گیا تو میں تھا
07:33سر لینے کے لیے
07:34مگر میں اب اپنا
07:35سر دے کر
07:37واپس آیا ہوں
07:39ہدایت کی بہت ساری
07:40مثالیں ہیں
07:40آپ مکہ مکرمہ
07:42کو دیکھ لیجئے
07:42سب سے زیادہ
07:44کسی بھی دائی کا
07:45یا کسی نبی کا
07:46یا دائی کا
07:47جو اللہ تعالیٰ
07:49رویہ بناتے ہیں
07:50ہدایت کا
07:51وہ اس کے بہیوئر
07:52کو بناتے ہیں
07:53آپ حضرت
07:54موسیٰ علیہ السلام
07:55کی مثال لے لیجئے
07:56موسیٰ علیہ السلام
07:58کی زمانے میں
07:58جو فیرون تھا
07:59وہ تمام
08:01فیرونوں میں
08:01سب سے بڑا تھا
08:02مگر بہیوئر
08:04کیا اختیار کیا
08:04قرآن کریم
08:05کہتا ہے
08:11اے میرے موسیٰ
08:12آپ جب فیرون سے
08:13بات کریں گے
08:14تو آپ نے انتہائی
08:15نرمی سے
08:16بات کرنی ہے
08:17آپ نے انتہائی
08:18پیار سے
08:18بات کرنی ہے
08:19یہ ہدایت
08:20کس کو کی جا رہی ہے
08:21آج ہمارے ہاں
08:22بہت چلا کر
08:24گفتگو کی جاتی ہے
08:25سنا سنا کر
08:26بات کی جاتی ہے
08:27انچی آواز سے
08:28بات کی جاتی ہے
08:29حالانکہ
08:30نبی سے کیا
08:31کہا جا رہا ہے
08:31جب آپ
08:32فیرون سے بات کریں
08:33تو آپ
08:35نرمی سے
08:36بات کریں
08:36اور یہ بات
08:37تو زبان زد عام
08:38ہو جانی چاہیے
08:39کہ آقے دو جہان
08:40صلی اللہ علیہ وسلم
08:41کا تمام لوگوں
08:42کے لئے فرمان ہے
08:43من يحرم الرفق
08:46يحرم الخیر
08:47کلا
08:47جو شخص
08:49جو انسان
08:50نرم عادت سے
08:51محروم رہا
08:52وہ کائنات کی
08:53ہر خیر
08:54اور بلائی سے
08:55محروم ہو جاتا ہے
08:57آپ اس کا تجربہ
08:58اپنے گھر میں کر سکتے ہیں
08:59اپنے محلے میں کر سکتے ہیں
09:01اپنے علاقے میں کر سکتے ہیں
09:02کہ جس انسان کے
09:03مزاج میں
09:04بہیویر میں
09:05طبیعت میں
09:07شدت ہوتی ہے
09:07سختی ہوتی ہے
09:08بہت جل وہ انسان
09:10لوگوں سے دور ہو جاتا ہے
09:12تو گویا یہ
09:13نبوی صفت ہے
09:14آپ اپنے آپ کو
09:15نرم مزاج رکھیں
09:16نرم خور رکھیں
09:17پیار کرنے والا رکھیں
09:19دوسرے سے بات کریں
09:21دعوت دیں
09:22تو آپ کا بہیویر ایسا ہو
09:23اسے پتہ چلے کہ
09:25اس کے
09:25مزاج میں میرے لئے محبت ہے
09:27طبیعت میں محبت ہے
09:28اب آقے دو جہاں
09:30صلی اللہ علیہ وسلم
09:31حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ
09:33تو اس وقت
09:34اسلام نہیں لائے
09:35مگر اس سے پہلے
09:36حضور ان کے لئے کیا کر رہے ہیں
09:38راتوں کو اٹھ کر
09:39دعا مانگ رہے ہیں
09:41تو پتہ یہ چلا
09:42کہ جس بندے کو آپ نے
09:43دن کے
09:44اجالے میں
09:45دعوت دینی ہوتی ہے
09:47یہ سنت رسول ہے
09:48تو رات کی تاریکی میں
09:50اٹھ کر ان کے لئے دعا کرنا بھی
09:53سنت رسول ہے
09:54آج ہمارے دعا کا مزاج تو بالکل ہی
09:57ختم ہو چکا ہے
09:58ہم دوسروں کے لئے کیا دعا کریں گے
10:00ہم اپنے لئے دعا نہیں کرتے
10:01حالانکہ دعا
10:03دنیا کا محبوب ترین عمل ہے
10:05اور کسی بھی ایسے انسان کا
10:07جو دوسرے کو لئے دائی ہو
10:08یا بالخصوص دین کا دائی ہو
10:10جو آج ہمارے علماء اکرام ہیں
10:12طلباء ہیں
10:13مدارس دینیاں کے لوگ ہیں
10:15یا دیندار طبقہ ہے
10:16یا خانقاہی لوگ ہیں
10:18ان کے لئے تو یہ بات
10:19ازبر ضروری ہے
10:20کہ وہ اپنے ماننے والوں کے لئے
10:22اپنے شاگردوں کے لئے
10:23اپنے متعلقین کے لئے
10:24اپنے متوسلین کے لئے
10:26راتوں کی تاریکی میں اٹھ کر دعا
10:29ضرور مانگے
10:30امام بخاری رحمت اللہ علیہ کے بارے میں ملتا ہے
10:32کہ وہ رات کو اٹھ کر
10:34حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی
10:36اس نبوی سنت پر بہت زیادہ عمل کرتے تھے
10:39اور اپنے تمام شاگردوں کا
10:41نام لے لے کر
10:43ان کے لئے دعا کیا کرتے تھے
10:45اور ہمارے قریب کے زمانے کے بھی جو ہمارے
10:47صلف صالحین اور ہمارے اقابلین
10:49نواز بزرگ گدرے ہیں
10:50وہ بھی راتوں کو اٹھ کر
10:52ان کے لئے دعا کیا کرتے تھے
10:54حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے
10:56دعا پہلے کی گئی
10:57اور وہ ایمان بعد میں لائے
10:59یہ اس بات کی علامت تھی
11:01کہ حادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ
11:05اور بہیویر ایسا تھا
11:06کہ آنے والا اگر قتل کے ارادے سے بھی آ رہا ہے
11:09تو وہ بھی ہدایت کے بغیر واپس نہیں گیا
11:12آپ اس میں بہت ساری مثالیں ہیں
11:15حضرت سمامہ من اسحال رضی اللہ تعالیٰ عنہ
11:18یہ یمامہ کے ایک بہت بڑے سردار تھے
11:21ابتدا میں مسلمانوں کے بہت سخت مخالف تھے
11:24پھر گرفتار ہو کر مدینہ لائے گئے
11:26اور مدینہ میں کئی دن تک یہ گرفتار رہے
11:28مگر یہ مسلمان کیسے ہوئے
11:30انہیں آزاد کر دیا گیا
11:32حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
11:33انہیں چھوڑ دو
11:34یہ جب واپس جانے لگے
11:35تو مدینہ کے ایک انہوں نے باغ تلاش کیا
11:38اس باغ میں گئے
11:39اور باغ میں جانے کے بعد وہاں پانی تلاش کیا
11:42وہاں پانی سے غسل کیا
11:44دوبارہ مسجد نبی میں آگئے
11:46حضور نے پوچھا
11:46سمامہ آپ کو تو میں نے آزاد کر دیا تھا
11:49آپ چلے گئے تھے
11:50فرمایا یا رسول اللہ
11:52آپ نے مجھے رسیوں سے تو آزاد کر دیا
11:55مگر اپنی محبت میں ہمیشہ کے لیے قید کر دیا
11:58کیا کہنا چاہتے ہو
11:59فرمایا یا رسول اللہ
12:00ہاتھ بڑھائیے
12:01آپ جیسا سچا نبی کائنات میں
12:03نہ پہلے آیا ہے نہ اب آئے گا
12:05آپ اس کائنات کے آخری
12:07اور سب سے سچے نبی ہیں
12:09آپ مجھے قلمہ پڑھائیے
12:10تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم
12:12حادی عالم کا رویہ تھا
12:14بہیویر تھا
12:15اللہ جللہ شانہو نے آپ کو ایسا بنایا تھا
12:18کہ آپ کے وجود سے نکلنے والی جو
12:20آدات مبارکہ تھی
12:22آدات شریفہ تھی
12:24وہ بھی لوگوں کے لیے
12:26ایمان کا ہدایت کا ذریعہ بنی
12:28آپ مکہت المکرمہ
12:30آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:32فتح فرمایا
12:33جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم
12:34مکہت المکرمہ فتح فرما کر
12:36فارغ ہوئے
12:38تو وہ تمام لوگ
12:39جنہوں نے کبھی آپ کو تسلیم نہیں کیا تھا
12:41انہوں نے بھی آج یہ کیا دیکھا
12:43کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے
12:45بدلہ لے سکتے تھے
12:47حضور چاہتے
12:48اعلانی طور پر قتل کر سکتے تھے
12:50مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے
12:52صحابہ اکرام سے کیا فرمایا
12:53فرمایا اے میرے صحابہ
12:55آج بدلے کا دن نہیں ہے
12:56آج تلوانے چلانے کا دن نہیں ہے
12:58آج میرے بھائی
13:00یوسف کی سنت کو زندہ کرنے کا دن ہے
13:02حضرت یوسف نے کیا کہا
13:04ایک طرف دیکھیں
13:05حضور کائنات میں خاتم النبیین ہے
13:07حضرت یوسف کے میرے نبی
13:09ہمارے نبی ہیں
13:10مگر حضور کی آجزی دیکھیں
13:12فرمایا آج میں
13:13اپنے بھائیوں کو
13:14یعنی اہل مکہ کو
13:16آپ یوسف کی طرح ماف کروں گا
13:18جس طرح یوسف نے
13:19اپنے بھائیوں کو سامنے آنے پر
13:20ماف کر دیا تھا
13:22لا تصریبہ علیکم
13:23اور یوں
13:23یغفر اللہ لکم
13:25آج میں محمد بھی
13:26اہل مکہ میرے بھائی ہیں
13:28علانکہ ان مکہ والوں نے
13:30طائف کی طرف حجرت پہ مجبور کیا
13:32مدینہ کی طرف حجرت پہ مجبور کیا
13:34اور اس سے پہلے دو
13:36بڑی جنگیں لڑی گئیں
13:37جن میں بڑی تدات میں
13:39صحابہ اکرام شہید ہوئے
13:40جن میں بدر ہے
13:41جن میں عہد ہے
13:42اور اس کے باوجود بھی حضور کیا فرمارے
13:44لا تصریبہ علیکم اليوم
13:46یغفر اللہ لکم
13:48جیسے یہ جملہ کہا
13:49تو وہ پتھر دل جو پتھر تھے
13:51سیاہ پتھر
13:52وہ بھی موم ہو گئے
13:54اور آنکھوں میں آنسو آ گئے
13:56اور آگے بڑھ
13:57ایک دودھرے سے
13:58آگے بڑھ کر
13:59وہ کلمہ پڑھ کر
14:00مسلمان ہونے لگے
14:01یہ حادی عالم
14:02صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
14:04کا رویہ اور موجزہ تھا
14:06آپ صلی اللہ علیہ وسلم
14:07کو پتا چل جاتا
14:09کہ کوئی شخص
14:10قریب القرب الموت ہے
14:12اس پر موت آنے لگی
14:14ایک یہودی نوجوان کے بارے میں
14:15حدیث میں ذکر آتا ہے
14:17بیماری کی وجہ سے
14:18وہ بچہ بستر مرگ پر ہے
14:20اور
14:21رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
14:23کی بہت خدمت میں
14:24یہ اکثر حاضر ہوا کرتا تھا
14:26کبھی کبھی
14:26یہ اپنے والد کے
14:28با کی خجوریں لے کر
14:30حضور کی خدمت میں آیا کرتا تھا
14:32لیکن تھا یہودی
14:33حضور صلی اللہ علیہ وسلم
14:34نے
14:35اپنی بہیوئر
14:36اپنی عادت کے ذریعے
14:37اپنی محبت
14:38اور پیار کے ذریعے
14:39اسے دعوت دی
14:40اعلانیہ طور پر
14:41اسے نہیں کہا
14:42جب حضور کو پتا چلا
14:43کہ وہ بچہ
14:44جو مجھ سے ملنے آیا کرتا تھا
14:46اب وہ بہت زیادہ
14:48بیمار ہو چکا ہے
14:49تو وہ میرے پاس نہیں آ سکتا
14:51حضور چل کر
14:52اس یہودی بچے کے گھر گئے
14:54اس کے سرحانے بیٹے
14:55اس کی خیریت ریافت کی
14:57اور حضور سمجھ گئے
14:59کہ اس کی طبیعت
14:59اتنی خراب ہے
15:00کہ یہ جامبر نہیں ہو سکے گا
15:02حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:04بیٹا اسلم
15:05اسلام قبول کرو
15:06اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا
15:08تو والد نکاب القاسم کی بات مان لو
15:10اس بچے نے کلمہ پڑا
15:12حروب پرواز کر گئی
15:13اور سیدھا جنت چلا گیا
15:14اللہ تعالیٰ ہمیں
15:16حادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی
15:18ہدایت پر
15:19بتائے ہوئے احکامات پر
15:21آنے کی
15:21اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے
15:23نالین قدمین
15:24اور سنتوں پر آنے کی
15:26توفیق نصیب فرمائے
15:27السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

Recommended