- 2 months ago
- #sarwarekainaatsaww
- #rabiulawwal
- #rabiulawwal2026
Sarwar e Kainaat SAWW | Talk Show
Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLP5yWzXgMC1Q
Host: Safdar Ali Mohsin - Topic: Sahib e Khulq e Azeem SAW
#SarwareKainaatSAWW #rabiulawwal #rabiulawwal2026
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Rabi ul Awwal Special Programs ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLP5yWzXgMC1Q
Host: Safdar Ali Mohsin - Topic: Sahib e Khulq e Azeem SAW
#SarwareKainaatSAWW #rabiulawwal #rabiulawwal2026
Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00ताज़दार मदीना के जल्वे
00:34ताज़दार मदीना के जल्वे
01:00पहम्मद मुस्तफा सल्लाई लए वाले वासलम का यौम मिलाद
01:04हम सब यानि उनके उम्मती और उनका कलिमा पढ़ने वाले मनाते हैं
01:08तो मिलाद वाले की सीरत से भी कमाहक हुँ हमें रूशनासी मिल जाए
01:14हमें उनकी सीरत के नक्ष मिल जाएं
01:17उस्वाए हसना की वो रोशनी मिल जाए जिससे हमारी जिन्दगियों में भी तबदीली आ जाए इनकिलाब आ जाए
01:23और हम सही मानों में हुझार जिसल्सकें उमती कहलने का शर्फ पासकें
01:28सादत के बर्कत के एिजद के र्फ़त के राफ़त के और नूर वाले इस महींने में
01:35हमें कोशिश यही कर रही है Leon Away क्र जाएं के नूर वाले निकूश पाका नूर भी हमें नसीब हो
01:40जाए
01:40Um
01:42Our
01:54We
01:54We
01:55We
01:55We
01:55We
01:55We
02:19And that is why we have to do that.
02:26This subject and this subject with all the beginning of our narrative, we will see all the different meanings of
02:34the meanings of the following in our own language.
02:34By the way, we will be with the different meaning of the tradition, the different ones we've created.
02:41He is the program that we will see in today's program, we will see what's important and interesting information.
02:48It is a mind-breath, mind-breath, mind-breath, mind-breath.
02:51This is a reality that this is what happened.
02:54This is something that is present.
02:55This is how the world cannot be used.
02:58This is our deep into the world.
02:59This is what we want to do now.
03:03What we want to do now is, is,
03:09how to do it,
03:13or what we want to do now is,
03:14or what we want to do now is,
03:17we want to do our own way of water.
03:18طرز پر گزری ہیں انشاءاللہ جب
03:20ہم گفتگو کا آغاز کریں گے تو
03:22سوالا جوابا موضوع کی گیرہ کھولیں گے
03:24اب بڑھتے ہیں معزز بیمانوں
03:26کے تعارف کی طرف خیر مقدم کی طرف
03:28آج کی اس نشست میں پہلے سکولر
03:30کسی تعارف کے محتاج نہیں سینکڑوں
03:32نشستیں ہمیں ان کے ساتھ نصیب ہو چکی ہیں
03:34ہر نشست میں ان کا پیغام
03:36بڑا متدل متوازے
03:38اور حسن اخلاق کا
03:40بہتری نمونہ ہوتا ہے میری مراد ہے
03:42گیریین یونیورسٹی لاہور کے
03:43عظیم استاذ ہمارے مقدوم و مہربان
03:46جنابِ ڈاکٹر عرفان اللہ سیفی سے
03:48سلام علیکم
03:49سلام علیکم
03:50بہت مبارک بات سرکار کے مہینے کی تشریف آوری کا بہت شکریہ
03:54اور دوسری شخصیت
03:57داتا کی نگری
03:58لاہور سے جو ہمارے نوجوان
04:00سکولرز ہیں ان میں ایک بڑا خوبصورت نام ہے
04:02یہ علاق بات ہے کہ آج
04:04ہمیں ایئر وائی کیو ٹی وی پر پہلی نشست
04:06میں آپ سے شرفیاب ہونے کا موقع
04:08مل رہا ہے بہت خوبصورت
04:10حسنِ گفتار اللہ رب العزت
04:12نے انہیں عطا کی ہے
04:13دھیمہ پن ان کی شخصیت کا
04:16ایک واضح پہلو ہے حسن سے
04:18اعتدال سے اور حضور
04:20علیہ السلام کے تبسم کا صدقہ
04:21مسکراہت صدا ان کے چہرے کا
04:24ایک مستقل جو ہے آپ سمجھے جزو
04:26ہو کر اس کی ایک الگ روشنی
04:28یہ تقسیم کرتے رہتے ہیں میری
04:30مراد ہے منہاج یونیورسٹی سے
04:32فاضل جناب علامہ پروفیسر
04:34آحسن عویس مصطفی
04:35السلام علیکم
04:38بہت شکریہ
04:39تشریف آوری کا آپ پہلی دفعہ تشریف لائے ہیں
04:42اور بڑی بات یہ ہے کہ
04:43حضور علیہ السلام کی بلادت کے مہینے میں یہ ملاقات
04:45کیاں ٹھہری ہے تو میں
04:47سرکار کے مہینے کی مبارک بات بھی
04:49تشریف آوری کا بارے دے کر شکریہ
04:51سناخان رسول پر جو نوجوان
04:54آج اماری نشست کا حصہ ہیں
04:55یہ نوجوان بہت خوشگلو ہے
04:57بہت خوش آواز ہے خوش انداز ہے
04:59اور ہمارے جو
05:01ٹرنڈ سیٹر پروگرام ہے ناتخانی کی دنیا میں
05:03مقابلہ ناتخانی کی دنیا میں
05:05مرحبا یا مصطفی
05:06اس کے یہ ٹوپرز میں شامل ہیں
05:09فاتحین میں شامل ہیں
05:11بہت خوبصورت پڑھنے والا نوجوان
05:13ہڑپا سے ہمارے آج مہمان ہیں
05:15جناب محمد احمد صادق
05:17السلام علیکم
05:18احمد بھائی خوش آمدید
05:20سفر کر کے آپ تشریف لائے بیٹے
05:22اللہ آپ کو بہت برکتیں دے
05:23آپ کے پہلے کلام سے ہی
05:25ہمیں آگے بڑھنا ہے
05:26روشنی لینی ہے
05:26بسم اللہ فرمائیے
05:39بہاروں پہ پھر سے شبابہ گئے گئے
05:55بہاروں پہ پھر سے شبابہ گئے ہیں
06:16جناب رسالت معابہ گئے ہیں
06:30جناب رسالت معابہ گئے ہیں
06:44رسالت معابہ گئے ہیں
06:53The Lord is the one who is living in the earth
07:02The Lord is the one who is living in the earth
07:20Bhu bakra gaye bhu turaba gaye gaye
07:32Bhu bakra gaye bhu turaba gaye gaye
07:50U'the anbiya sabi yee keha te huye
08:15U'the anbiya sabi yee keha te huye u'the
08:37Giana Baaya gaye gaye gaye gaye gaye gaye bad
08:52Giana Baaya gaye gaye gaye gaye ill 종 yn
09:00I'll be right back.
09:26God Almighty, number one,
09:28so, because it's great for us to be today,
09:32we should understand from them.
09:34God's book and is the Lord's understanding of the people,
09:39which causes theistic feelings of the people.
09:43Please understand,
09:44I'll tell you the people who need to understand.
09:46In the name of God Almighty,
09:50Thank you very much.
10:20और उस अमल को कहते हैं, जो इनसान की फितरते सानिया बन चुका हो, बालफाज दिगर, वो अमल जो बगेर
10:30किसी तकल्फ के सहूलत के साथ अदा हो जाता हो, उसको खुलक कहा जाता है.
10:35यानि ये आदत नहीं होगी, आदत और चीज़ होगी.
10:37जी, यानि इसका मतलब ये है, कि हमें उसके लिए कोई इहत्माम नहीं करना पड़ता, वो वैसे ही अदा हो
10:45जाता है, उसके तकल्फ नहीं करना पड़ता है, तो वो अमल जो बगेर किसी तकल्फ से सहूलत के साथ इनसान
10:51से अदा हो रहा हो, वो उसका खुलक होता है, अब वो �
10:58बुरे हों तो अखलाक जमीमा या बुरे अखलाक कहते हैं, तो दूनों ये चीजें हैं, तो इसका मतलब ये हुआ,
11:05कि खुलक के लिए इनसान को तकल्फ नहीं करना पड़ता, दूसरी बात ये है, कि जब हम बात कर रहे
11:13हैं, तो जहर बात है, नबीर रहम से अखलाक का जो �
11:25वाहिद आता है, ये इतनी अहम चीज़ है, कि अल्ला तबारिक वतला ने बुर्ण मजीद में और आधिस मुआरके में
11:32नबीर रहम से अखलाक भी उससे ज्यादा अहमियत को बियान किया, तो इतनी ज्यादा इसकी अहमियत को बियान किया, कि
11:39तुमां बाकी चीज़ें, यहा
11:55यही वालिए वैसलम जो ल्ला तबारिक वतला के खुसन तखलीक का शाकार हैं, तुमां काईनात में अफजल और आला हैं,
12:02तो उनके ओसाफ को ल्ला तबारिक वतला ने बियान करते हुए, सबसे पहले जो खुबसूरत बियात बियान फरमाई उनकी, वैनक
12:08लाला खुलक त�
12:22I'm Allah Ta'af فرمایا جس کو اخلاق کریمانہ کہا جائے اور خلقِ عظیم کہا جائے
12:26سبحان اللہ
12:27تو اس سے ہمیں علم ہوتا ہے کہ اخلاق کی اہمیت کتنی ہے
12:30پھر ہم حدیث مبارکہ کی طرف چلتے ہیں
12:32قرآن مجید کی مختلف آیات مبارکہ میں
12:35اللہ تعالیٰ نے اخلاق کو علید علیدہ طور پر بیان کیا
12:38نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو اگر ہم دیکھیں
12:41تو آپ دیکھئے کہ ایک تو حضور کا اپنا کردار بھی تھا
12:44لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اخلاق کی اہمیت کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا
12:50فرمایا کہ
12:52تم میں سے سب سے زیادہ جو مجھے محبوب ہے
13:04اور قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہوگا
13:07وہ ہوگا احسنکم اخلاقا جو تم میں سے سب سے زیادہ اچھی اخلاق والا ہوگا
13:11سبحان اللہ
13:11اس کا مطلب ہے کہ حضور نے اپنی محبت اس کو اتا کیا اور اپنا قرب اس کو اتا کیا
13:17جس کی اخلاق اچھی
13:17سبحان اللہ
13:18پھر دوسری حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
13:20انہ من اسقلی میزان المومنی
13:23انہ ما من شیئن اسقل فی میزان المومنی من خلق حسنین
13:28قیامت کے دن مومن کے میزان میں نماز روزہ حج زکاة
13:33یہ اتنے وزنی نہیں ہوگے جتنے زیادہ اخلاق حسنہ وزنی ہوگا
13:36یعنی تمام چیزوں سے بڑھ کر اخلاق حسنہ کا وزن ہوگا
13:40تو اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے
13:41کہ قرآن اور حدیث میں اخلاق حسنہ کو کتنی زیادہ اہمیت دی گئی ہے
13:46اور ہمیں اس کو کتنی زیادہ اہمیت دینی چاہیے
13:48اللہ اکبر بہت شکریہ ڈاک ساب ہمیشہ کی طرح بڑی باوقار گفتگو کی عمارت آپ نے کھڑی کی ہے
13:53بس ایک بات ڈاک ساب کی بات کو سیکنڈ کرتا ہوا
13:56اندازہ لگا لیجئے کہ بڑی بڑی عبادات ہیں جن کا ذکر ہے نماز روزہ حج زکاة
14:01لیکن اخلاق کی قوت اس کی دولت اور اس کا وزن شاید ان سے بھی اوپر ہے
14:06اس پر ہمیں غور کرنا ہے کیونکہ غور کرنے سے زندگی بدل جاتی ہے
14:10اور ہمارا مقصد بھی حضور کی صیرت کو سننے کا سماعت کرنے کا یہ ہے
14:13کہ زندگیوں میں تبدیلی آئے مختصر وقت
14:16ویلکم بیک ناظرین آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدم پروگرام ہے
14:19سرور کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ربی النور کی مبارک گھڑیاں ہیں
14:23آقا کریم کی ولادت باسعادت کی برکتوں کا حجوم ہیں
14:27جس میں یہ پورا مہینہ گھیرا رہتا ہے
14:29ہماری خوشبختی ہے کہ ہی اس مہینے میں ہمیں اپنے ہدایہ نیاز
14:33اپنے کریم آقا کی بارگا میں پیش کرنے کا شرف اور سعادت حاصل ہو رہا ہے
14:37گر قبول افتد زہیز و شرف
14:40آج کا عنوان صاحبِ خل کے عظیم ہے
14:42گفتگو کا آغاز ہو چکا
14:44سوالا جوابا ہم حضور علیہ السلام کی صیرت کا
14:47اور اخلاقِ کریمانہ کا نور کشید کریں گے
14:50ہم بڑھتے ہیں جنابِ آسن اویس مصطفی صاحب کی جانب
14:53آسن صاحب کلامِ مجید کو ہم دیکھتے ہیں
14:57تو وہ بھرا پڑا ہے
14:58حضور علیہ السلام کی اخلاقِ کریمانہ کی مثالوں سے
15:01جگہ جگہ اللہ رب العزت تذکرے کرتا ہے
15:04اپنے محبوب کے اخلاق کے ان کی عظمت کے
15:06کچھ اس میں سے چند جھلکیاں ہمیں عطا فرمائیں
15:08بسم اللہ الرحمن الرحیم
15:10اخلاقِ کریمہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہ خزانہ ہے
15:15جس کو جب رب نے قرآن میں بیان فرمایا
15:18تو اس کی عظمتوں کی انتہاؤں کو پہنچنا
15:20صرف اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے
15:23مگر اس کی حقیقت کا ادراک بڑا مشکل ہے
15:25بہت اچھا متفق
15:26اللہ نے قرآن میں جیسی ارشادت فرمایا
15:28وَإِنَّكَ لَعَلَى خُلُقِ نَظِيمِ
15:31اس آیت کو اگر ہم غور سے کریں
15:32تو یہ نہیں کہا
15:33کہ حبیب آپ کے لیے اخلاقِ عظیمہ ہیں
15:36بلکہ فرمایا حبیب آپ اخلاقِ عظیمہ پر فائز ہیں
15:41یعنی اخلاقِ اوروں کو خلق کے ذریعے رب شان عطا کرتا ہے
15:45یہاں خلق خود تاجدارِ کائنات سے شان پاتے ہیں
15:48کیا بات ہے
15:49سبحان اللہ
15:49اسری بات یہ ہے
15:50کہ خلق تاجدارِ کائنات کی سواری ہے
15:53جس طرف رخ کر لے وہی خلق بن جاتا ہے
15:56یہ تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہے
15:59پھر اس خلق کو رب نے صرف خلق نہیں کہا
16:02علیہ العظیم نے خلقِ عظیم والا کہا ہے
16:05اور جب وہ عظمتوں کا اظہار کرتا ہوگا
16:08تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے
16:10کہ اس نے خلق کی کتنی کو عظمتِ محبوب کو عطا کی ہوں گی
16:13اب سیدہ آئیشہ صدیقہ
16:16جنہوں نے چودہ سال تک درسِ حدیث شریف دیا
16:18پانچ ہزار صحابہ اور صحابیات
16:20آپ کے سٹوڈنٹس ہیں
16:21صحابہ اور صحابیات میں
16:23ان سے کسی دن ایک صحابی نے پوچھا
16:25کہ تاجدارِ کائنات کا خلق کیا ہے
16:28تو آپ فرمانے لگیں
16:29کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا
16:31اور پھر ساتھی فرمایا
16:35یہ جو تم جتنا قرآن پڑھتے ہو
16:38یعنی قرآن میں جتنے عفو کا
16:40رحمت کا
16:41نرمدلی کا
16:42سخاوت کا
16:43عطا کا
16:44سچائی کا
16:45امانت کا
16:46دیانت کا
16:47الحمد سے وناس تک
16:49جتنے خلق و اخلاق بیان ہوئے ہیں
16:51اگر پڑھنا ہو تو قرآن دیکھ پڑھ لو
16:54اور اگر تکنا ہو تو
16:56ذاتِ مصطفیٰ کو تک لو
16:57کیا بات ہے
16:57یعنی اس قرآن کی حقیقت کو
16:59عملی صورت میں
17:00رب بارید
17:01اللہ رب العزت نے
17:02اپنے محبوب کی صورت کے اندر
17:04ڈال کے سب کے سامنے
17:05عملی نمونہ کی صورت میں
17:06پیش کر دیا ہے
17:07یہ
17:08اللہ رب العزت نے
17:09وہ نوازا
17:09اور پھر فرمایا
17:11فَبِمَا رَحْمَتِم مِّن اللَّهِ
17:12لِن تَنَ لَهُمْ
17:13حبیب ہم نے
17:14اپنی رحمت سے
17:15آپ کو
17:16نرم دل بنایا ہے
17:18اور آپ کو
17:19سخت دل نہیں بنایا
17:20مرنہ یہ جو
17:21عاشقوں کا جمع غفیر
17:22آپ کے اردگرد ہے
17:23یہ نہ رہتا
17:25اور اگلا جملہ
17:26فَعْفُوَنْهُمْ
17:27انہیں معاف کر دیا کیجئے
17:29اور
17:30وَسْتَغْفِرْلَهُمْ
17:30اور ان کے لیے
17:31جو ہی معافی طلب کرتے رہیے
17:33اور یہ عطا
17:34آج بھی
17:34امتِ مصطفیٰ علیہ السلام کی جاری ہے
17:36اور ایک نکتہ ہے
17:37جملہ کہوں گا
17:38اور وہ جملہ یہ ہے
17:39کہ حضور کے خلقِ عظیم کا
17:41اثرِ حاضر میں
17:42بطور امتی ہونے کا
17:44بہت گناہگار امتی ہونے کا
17:46شرف پا کر
17:46یہ جملہ کہہ رہا ہوں
17:47کہ حضور علیہ السلام کے
17:49حسنِ اخلاق کی انتہاؤں کی
17:51عظمتوں کا عالم
17:52کیا ہوگا
17:53کہ ہم جیسوں کو بھی
17:54حضور نے اپنی امت میں رکھا ہوا ہے
17:56کیا بات ہے
17:57سبحان اللہ
17:57خلقِ عظیم کی وہ حقیقت ہے
18:00جو تاجدارِ کائنات
18:01صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے
18:03نصیب ہوتی ہے
18:04اور تاجدارِ کائنات
18:06صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
18:07خلق والے کو
18:09اپنی قربت سے
18:11دنیا میں بھی نوازا ہے
18:12اور آخرت میں بھی نوازیں گے
18:14سبحان اللہ
18:14بہت خوبصورت انداز بھی
18:16اپنے تمام نکات کو بیان کر دیا
18:18حسن صاحب اللہ آپ کو بہت عجر دیں
18:20ڈاک صاحب کی بلا
18:21سوال بڑا ہے ہم
18:22آج کے دور کے تقاضوں سے
18:23بلکل ہم آہانگ ہے
18:25کہ اثر حاضر میں ہم دیکھتے ہیں
18:27کہ انسان
18:28ٹیکنالوجی کے اعتبار سے
18:29سائنسی ترقی کے اعتبار سے
18:30اس آج کے زمانے میں
18:32اروج پر دکھائی دیتا ہے
18:34لیکن حیرت کی بات ہے
18:35وہی انسان
18:35جو ایک شعبہی زندگی میں
18:37اروج پر دکھائی دیتا ہے
18:38اس کے اخلاق کو دیکھتے ہیں
18:40اس کے کریکٹر کو دیکھتے ہیں
18:41اس کا سی وی پروفائل چیک کرتے ہیں
18:43تو وہ اخلاق کی
18:44بدترین پستی میں بھی
18:45وہی انسان دکھائی دیتا ہے
18:47ایک تو اس اخلاق کی پستی کی
18:49بہران کی وجہ کیا ہے
18:50اور دوسرا
18:51حضور علیہ السلام کے
18:52خلق عظیم کے صدقے
18:54یہ اخلاقی گراوٹ
18:55دور کیسے کی جا سکتے ہیں
18:57بلا شبہ
18:58یہ ایک بہت
19:00اہم سوال بھی ہے
19:01اور چوبتا ہوا سوال بھی
19:02درست ہے
19:03متفق
19:03اور آج کے اس معاشرے کے اندر
19:05ہمیں اس پر غور و فکر کرنے کی
19:07اور اس پر
19:08عملی طور پر
19:09سنجیدگی سے
19:10عمل کرنے کی
19:11اور ہمیں اس کو
19:12توجہ دینے کی ضرورت ہے
19:13اب دیکھئے
19:15آج کا انسان
19:16اتنا فاسٹ ہو گیا ہے
19:17اور ہر چیز کے اندر
19:19وہ چاہتا ہے
19:19کہ میں جو سوچتا ہوں
19:20وہ فوراں ہو جائے
19:22اور جو میں چاہتا ہوں
19:23وہ فوراں مجھے مل جائے
19:24میں سمجھتا ہوں
19:25کہ آج کی
19:26جو انسانی سوچ
19:28اور اپروچ
19:29یہ دونوں
19:30میٹیریلسٹک ہوتی جا رہی ہیں
19:32بلکہ ہو چکی ہیں
19:33اور مادی اعتبار سے
19:34ہر چیز
19:35وہ یہ سوچتا ہے
19:36کہ مجھے اس کا
19:37ظاہری کیا فائدہ ہوگا
19:38اور ظاہری طور پر
19:39میں کیا گین کر سکتا ہوں
19:41مجھے کیا حاصل ہوگا
19:42تو اس نے ایک تو انسان کے
19:44ظاہری فائدے کو
19:47سامنے رکھتے ہوئے
19:48جو اس کا روحانی اور حقیقی فائدہ تھا
19:50اس سے بے نیاز کر دیا
19:52ایک نقصان یہ ہوا
19:53دوسرا نقصان یہ ہوا
19:55کہ ہم نے
19:56اصل میں فیض لینا تھا
19:58نبی اکریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
20:00کی ذات ببرکات سے
20:01ہم نے مشکات نبوت سے
20:03روشنی حاصل کرنی تھی
20:04ہم نے وہاں سے
20:05تعلق کو کمزور کیا
20:07اور ہم نے
20:08دوسروں سے
20:08وہ چیزیں سیکھنا شروع کی
20:10اور وہاں سے
20:11جو چیزیں ہمیں ملیں
20:12وہ ہمیں
20:13حضور علیہ السلام سے
20:14دور لیتی چلے گئیں
20:15حضور کی تعلیمات سے
20:16دور لے کر جاتی چلے گئیں
20:18اور نتیجہ یہ نکلا
20:19کہ ہم آج
20:20جس جگہ پر کھڑے ہیں
20:21وہ ظاہری طور پر
20:22تو شاید انسان کی
20:23دنیاوی کامیابی کا ہو
20:25لیکن حقیقی طور پر
20:26وہ بہت زیادہ
20:27نقصان کا دور چل رہا ہے
20:29انسان نے
20:30اس کی وجہ سے
20:31اپنے مالی فائدے کے لیے
20:33لوگوں کے ساتھ
20:34غلط بیانی بھی شروع کر دی
20:35ملاوٹ بھی شروع کر دی
20:37دوخہ بھی شروع کر دیا
20:38رشوت بھی شروع کر دی
20:39اور ہر چیز
20:40جو اخلاقی پستی تک
20:41اس کو لے جا سکتی تھی
20:42اس نے شروع کر دی
20:43اور نتیجہ یہاں تک پہنچ گیا
20:45اب ہم اس کے دوسرے پورشن
20:46آپ کی کوئیسٹن کے دوسرے پورشن
20:48کی طرف چلتے ہیں
20:48کہ اس کا علاج کیسے ممکن ہے
20:50یہ تو ہم سامنا کرنا پڑ رہا ہے
20:52اور حقیقت ہم دیکھ رہے ہیں
20:53دیکھیں اس میں
20:54سادہ سا اس کا حال یہ ہے
20:56کہ آج ہمیں پھر دوبارہ
20:57واپس چلنا ہوگا
21:00اور ہمیں
21:01کہتے ہیں کہ
21:01دوڑ اے گردش ایام
21:03ماضی کی طرف
21:04ہمیں پھر دوبارہ پہنچنا ہوگا
21:05نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ سے
21:07ہمیں پھر فیض طلب کرنا ہوگا
21:09اور حضور کی بارگاہ میں
21:10دریوزہ گری کرتے ہوئے
21:11وہاں سے پھر ہمیں قرارات لینی ہوگی
21:13اور یہ
21:14علم کی خیرات بھی
21:15حکمت کی خیرات بھی
21:17اخلاق کی خیرات بھی
21:18ہر خیرات ہمیں وہاں سے ملے گی
21:20اور اللہ تعالی نے
21:21نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:22کو یہ اصحاف اطاف فرمائے
21:24آپ دیکھئے
21:25کہ حضرت سیدہ خدیجہ تلکبرہ
21:27رضی اللہ تعالی عنہ
21:28جب حضور علیہ السلام نے
21:30ابھی اعلان نبوت نہیں فرمایا
21:32آپ غارِ حرہ سے واپس تشریف لائیں
21:34پہلی وحی نازل ہوتی ہے
21:35تو غارِ حرہ سے واپس تشریف لاتے ہیں
21:37تو حضرت سیدہ خدیجہ تلکبرہ
21:39آپ کی صورتحال کو دیکھ کر
21:40آپ سے پوچھتی ہیں کیا ہوا
21:42آپ واقعہ سارا بیان کرتے ہیں
21:43صحیح بخاری میں یہ سارا واقعہ ذکر ہے
21:45تو حضور علیہ السلام کی پریشانی کو دیکھتے ہیں
21:48حضرت سیدہ خدیجہ کیا فرماتی ہیں
21:49وہ فرماتی ہیں
21:50کہ آپ پریشان نہ ہوں
21:52آپ کو کچھ نہیں ہوگا
21:52کیوں
21:54اللہ
21:55آپ تو صلح رائمی کرنے والے ہیں
21:57آپ مجبوروں کا بوجھ اٹھانے والے ہیں
21:59وَتَقْرِدْ دَیْفَ
22:00مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں
22:02تَقْسِبُ الْمَعْدُومَ
22:03جن کے لئے کمانے والا کوئی نہیں
22:05آپ کما کے ان کو کھلاتے ہیں
22:06آئے ان کا بوجھ اٹھاتے ہیں
22:07اور وَتَحْمِلُ الْقَلْ
22:08اور مصیبت زدوں کے بوجھ کو
22:09آپ خود اٹھا لیتے ہیں
22:10حضور صروع کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
22:12کہ یہ اخلاق کریمانہ
22:13حضرت سیدہ خدیجہ تلکبرہ
22:16اس وقت بیان فرما رہی ہیں
22:17جب حضور نے بھی اعلان نبوت نہیں فرمایا
22:18اس کا مطلب یہ ہے
22:20کہ کسی بھی شخص کی کامیابی کے لیے
22:22یہ وہ بنیادی چیزیں ہیں
22:23جس کو ہمیں سمجھنا چاہیے
22:25آج ہمیں ضرورت ہے
22:26کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
22:28کے اخلاق کریمانہ سے فیض حاصل کریں
22:30اور میں بڑی شرع صدر سے یہ بات کہتا ہوں
22:34کہ اگر ہم حضور کے ان اخلاق کو
22:36اپنے اخلاق کا حصہ بنا لے
22:38اور دعویہ محبت آگے بڑھ کر
22:41عملی محبت کا ثبوت دے
22:43تو انشاءاللہ العزیز یہ حالات
22:45بہت اچھانی سے بدل سکتے ہیں
22:47اور انسان اور بحثیت مسلمان
22:49ہم بہت بہتر مسلمان بن سکتے ہیں
22:51جہاں ہماری کمزوری ہے
22:52وہ انشاءاللہ العزیز بہتری میں تبدیل ہو سکتی ہیں
22:55انشاءاللہ
22:56جنابِ آسان وغی صاحب
22:58سوال بڑا ہے میں
22:59پوچھنے میں بہت سادھا
23:01لیکن اس کا جو امپیکٹ ہے
23:04وہ بڑا گہرا ہے
23:06حضورﷺ کا لوگوں کے ساتھ
23:08برتاؤ اور رویہ جو ہے
23:09وہ خلقِ عظیم کے زیل میں ہمیں کیسے
23:12کیونکہ آج انسان انسان سے دکھا پڑا ہے
23:15سگا بھائی سگے بھائی سے راضی نہیں ہے
23:16باپ بیٹے سے ناراض ہے
23:17بیٹی ماں سے شکوہ کنا ہے
23:19تو ڈیلنگ جو ہے
23:20یہ ہیومن جو ہمارا اے چ آر ہے سارا
23:23اس کے اندر ڈیلنگ کا ہی ایک ایشو ہے
23:25جو پوری دنیا کا شاید ایک بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے
23:27حضورﷺ کے خلق سے روشنی لے کر
23:30ہمیں اس معاملے کو کیسے سمجھنا ہے
23:31سب سے پہلے تو میں پھر دوبارہ
23:34آپ کے سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے پروگرام میں
23:37یہ جو آپ نے خلقِ عظیم کا ٹاپک چنا ہے
23:40میں اس پر آپ کو اور کیو ٹی وی کی پوری انتظامیاں
23:43اور آپ کے پروگرام کے جتنے اس میں شامل ہیں
23:45اس پر مبارک بات سپرشل
23:47یہ صرف جو کانٹینٹ والے ہمارے
23:48لماس کالرز ہیں
23:49یہ بڑا قیمتی موضوعات کا انتخاب کرتا ہے
23:52یہ بڑا قیمتی موضوع ہے آج کے دور میں
23:54جب تک ہمارا شمائل سے بھی تعلق ہے
23:57اور ہمارا خصائص کو بھی ماننے پر زور ہے
24:00مگر یہ جو خصائل میں خلق کا تعلق ہے
24:03اگر یہ مضبوط ہو جائے
24:04تو ہمارا سب کچھ بگڑا ہوا بن جائے گا
24:07اب تاجدارِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے خلق کے حوالے سے
24:11اگر دیکھا جائے
24:12آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
24:15حدیث جب بتاتی ہیں
24:16ڈیل کرنا نہایت آسان تھا
24:18یعنی آقل اسلام کی صیرت کے تکلف نہیں تھا
24:22مجھے معذرت کے ساتھ کتا کلامی کیوں
24:24معافی دیجئے ڈاک صاحب
24:25دنیا کا سب سے کامل اور بڑا آدمی
24:28سب سے کامل فرد
24:30بلکہ خلق میں نہیں
24:31انبیاء میں بھی سب سے افضل
24:33اور ان سے ڈیل کرنا سب سے آسان
24:35سب سے آج بھی آسان
24:38ہمارے ہاں چار بندوں کا مجمع ہوتا ہے
24:40کسی ایس صاحب کے آن
24:41کسی شیخ صاحب کے آن
24:42کسی بڑے آدمی کے آن
24:43وہاں تک پہنچ مشکل ہو جاتا
24:45نہیں ناممکن ہے
24:45ناممکن ہو جاتا
24:46اس لیے تو ایسی تو نے کہہ دیا گیا
24:48کہ تیرے خلق کو حق نے عظیم کہا
24:50ہائے ہائے
24:50تیری خلق کو حق نے جمیل کی
24:52ہائے ہائے
24:53کوئی تجھ سا ہوا ہے نہ ہوگا شاہہ
24:55تیرے خالق کے حسن و ادا کی قسم
24:57اللہ اکبر
24:58یہ اس لیے کہا گیا
24:59اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی
25:01ڈیلنگ دیکھیں
25:02میں تاجدار کائنات کے
25:04واقعات پڑھ رہا تھا
25:05تو مجھے نصیب ہوئی یہ بات
25:06ایک یہودی بچہ حضور کی
25:08مسجد میں بیٹھتا تھا
25:09ہائے ہائے ہائے
25:10اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم
25:12کے اور مسند امام
25:13احمد بن حبل کی حدیش کے مطابق
25:15حضور کے نالین گود میں
25:17رکھ کے بیٹھتا تھا
25:18اللہ اکبر
25:18اور میں کہوں گا
25:19اس کا حضور سے پیار پڑ گیا تھا
25:21اور تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
25:23کو تکتا حضور اسے تکتے
25:24یہودی بچہ تھا
25:25اور آج ہم اپنے بچوں کو
25:27مسجد میں اس طرح نہیں آنے دیتے
25:29میں یہ فکر انگیز بات
25:31بڑی اہم آپ کے
25:31اس شو سے کر رہا ہوں
25:33بڑی معذرت کے ساتھ
25:34ہمارے تو بچے کلمہ گو ہے نا
25:35ہم اپنے بچوں کو بگا دیتے ہیں
25:37اور شور کر دے
25:38ہو جاؤ نکلو بھائی
25:39یہ بات سمجھنے والی ہمارے لئے
25:41اور پھر
25:43تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
25:45کو کئی دن نظر نہ آیا
25:46تو پوچھا کہاں ہے وہ
25:47تو بتایا گیا
25:48یا رسول اللہ
25:48وہ تو موت و زندگی کی کشمہ کشمہ ہیں
25:50حضور اسلام نے فرمایا
25:52چلو پھر اس کا پتہ لینے جلتے ہیں
25:53حضور یہودی بچے کا پتہ لینے جا رہے ہیں
25:56اور ہم
25:57ملاد منانے والے
25:58حضور سے محبت کا دعویٰ کرنے والے
26:00اپنے رشتہ داروں کا پتہ لینے نہیں جاتے
26:02اللہ اکبر
26:03یہ ہمارا حال
26:07حضور جب اس کے گھر جاتے ہیں
26:09تو اس کا یہودی باب ہوتا ہوئے
26:12وہ اس وقت تورا کی تلاوت کر رہا ہوتا ہے
26:14اور حضور کو اشارہ کرتا ہے
26:16آپ کا عاشق اندر
26:16بس زندگی اور موت کی کشمہ کشمہ ہیں
26:19حضور تشریف لے جاتے ہیں
26:20اپنے دست رحمت رکھتے ہیں
26:21اس کی آنکھیں کھلتی ہیں
26:23اور جب حضور کو تکتا ہے
26:24تو مسکراتے چہرے سے حضور کو دیکھتا ہے
26:26جیسے کہہ رہا ہو
26:27یا رسول اللہ آپ آگئے ہیں
26:29آقا علیہ السلام اس کے عمل کو بابتے ہوئے
26:32سبحان اللہ سبحان اللہ
26:33فرماتے ہیں
26:34کہ ہمارا کلمہ کیوں نہیں پڑتے
26:35وہ کلمہ جیسے پڑتا ہے
26:37جان نکلتی ہے
26:38اور اس کا باپ
26:39حضور اس کے باپ سے جو کہتے ہیں
26:41یہ ہمارا سرمایہ ہے
26:43فرمایہ کہ یہ اب تمہارا نہیں
26:45ہمارا ہے
26:47سبحان اللہ
26:47امتی ہو کر ہم اس زندگی کو
26:49اس زمن میں گزاریں
26:50کہ یا رسول اللہ
26:51ہم آپ کے حضور فرما دیں
26:53ہاں ہمیں قبول ہے
26:55اللہ اکبر کبیرہ
26:56ناظرین غور فرمائیے
26:57جب حضور علیہ السلام کے برطاو سے
26:59آپ کی ڈیلنگ سے
27:00آپ کی حسن اخلاق سے
27:01اور
27:03بنین و انسان کا کوئی فرد
27:05بلکہ غیر مذہب کا بھی
27:07ایک فرد محروم نہیں رہتا
27:09تو ہمیں اس بات کو سوچنا ہے
27:10کہ ہمارے گھر والے کلمہ گو
27:12دوسرے مسالک اور مشارب والے
27:14اور دوسرے مقاتب فکر والے
27:16ہمارے اچھے اخلاق سے کیوں محروم رہتے ہیں
27:19یہ سوچنے کی بات ہے
27:20اور یہی سوچنا اور سوچ کی ترغیب دینا
27:23ہمارے ان پروگرامز کا مقصد ہے
27:24ایک مختصر وقت فرد
27:25خوش آمدید ناظرین آپ کا ایک دفعہ پھر خیر مقدم
27:28پروگرام ہے سرور کائنات
27:29صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
27:31اور ہمارا آج کا عنوان ہے
27:32صاحبِ خلقِ عظیم
27:34نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
27:35اخلاقِ کریمانہ کی خیرات
27:37آج کے موضوع کی صورت میں ہمیں نصیب ہو رہے ہیں
27:40یا اللہ کرے کہ اس موضوع کا صدقہ
27:42اولا ہمارے اخلاق اچھے ہو جائیں
27:44اور ثانیاں اور بعدا
27:46حضور علیہ السلام کی پوری امت کے
27:48تاکہ اس امت کے اخلاق کا اثر
27:50جب پوری دنیا پر پڑے
27:51تو حضور کے کلمہ گو جو ہیں
27:53ان کی تعداد میں اضافہ بھی ہو جائے
27:55اور دین غالب آتا جائے
27:57جو اللہ کا اصل مقصد ہے
27:58اس دین کے ذریعے
27:59پروگرام کے اختتامی حصے میں
28:01ہم پیغامات جمع کرتے ہیں
28:03کنکلوجنز اور خلاصہ ایک کلام
28:05کو نشر کرتے ہیں
28:06ڈاک سب کیا کنکلوٹ کیجئے گا
28:07پروگرام کو
28:08نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
28:10محبت کا الحمدللہ
28:12ہم سب دعویٰ بھی کرتے ہیں
28:14اور یقیناً
28:15محبت سرمایہ ایمان ہے
28:17اس کے بعد غیر ایمان ہو ہی نہیں سکتا
28:19لیکن اس محبت کو
28:21دعویٰ سے آگے بڑھ کر
28:22کردار کا حصہ بننے کی ضرورت ہے
28:25میں سمجھتا ہوں
28:26کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
28:29صیرت طیبہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے
28:30کہ ہمیں ایک اچھا انسان بننا چاہیے
28:33ہمیں ایک معاشرے کے اندر رہتے ہوئے
28:36ایسا بننا چاہیے
28:37کہ ہمارے مخالف بھی
28:40جب ہماری بات کریں
28:41تو کم از کم وہ یہ نہ کہیں
28:42کہ اس کا کردار ایسا ہے
28:44نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
28:46پر ایمان نہ لانے والے بھی
28:48یعنی جنہوں نے حضور کو نبی نہیں مانا
28:51وہ حضور علیہ السلام کو
28:52ایک بہترین انسان بہارحال مانتے تھے
28:54کہ انہیں حضور کا کلمہ نہیں پڑھا تھا
28:56وہ یہ کہتے تھے کہ آپ صادق و امین ہیں
28:58وہ یہ کہتے تھے کہ آپ جیسا ہم نے اچھا انسان نہیں دیکھا
29:00دیکھا نہیں
29:01تو جب نہ ماننے والے یہ کہہ رہے ہوں
29:04تو اس کا مطلب یہ ہے
29:05کہ پھر کردار کس آلہ بلندی پر ہوگا
29:07اور اخلاق کس آلہ بلندی پر ہوں گے
29:09تو ہمیں اس بات کی ضرورت ہے
29:10اس میں دو تین چیزیں میں سمجھتا ہوں
29:12کہ ہمیں بہت زیادہ اور پہلے لیول پر اپنانے کی ضرورت ہے
29:15ایک تو یہ کہ ہمیں اپنے ریاکٹ میں
29:18اور فوراں جو ہم بات کو آگے کر دیتے ہیں
29:23ہمیں اس میں حوصلہ اور صبر کی ضرورت ہے
29:25یعنی ٹیمپرمنٹ لوز نہ کریں
29:26اب دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر
29:28کیسے کیسے ظلم نہیں ہوئے
29:30حضور نے صبر کا مظاہرہ کیا
29:32ریاکٹ نہیں کیا
29:33آپ اس صیرت کی بہت ساری مثالوں کے ساتھ
29:36محرز کر سکتا ہوں
29:37ایک شخص ہے
29:39وہ قضائے حاجت کرنے کے لیے
29:40مثلا نبی میں بیٹھ جاتا ہے
29:41صحابی فوراں بھا کر جاتے ہیں
29:43اس کو پکڑنے کے لیے
29:43نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوراں روکتے ہیں
29:45وہ فارغ ہوتا ہے
29:47پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
29:48اس کو سمجھاتے ہیں
29:48صحابہ کو فرماتے ہیں
29:49اس کو دو دو پانی کے ساتھ
29:50اس کی تربیت فرماتے ہیں
29:51فوراں ریاکشن نہیں
29:52اسی طرح باقی چیزیں ہیں
29:54ہمارے ہاں یہ ہے
29:55کہ ہم کہتے ہیں
29:55ہم غلط بات کو برداشت نہیں کر پاتے
29:57غلط بات ہی تو برداشت کرنا ہوتی ہے
30:00صحیح بات تو برداشت کرنا
30:02غلط بات ہی تو برداشت کرنا
30:03بہت اچھا ہے
30:04بہت شکریہ
30:05اس کو ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے
30:07پھر ہمیں اپنے پہلو میں
30:09اپنی زبان پر
30:10اپنے کردار میں نرمی لانے کی ضرورت ہے
30:12حضرت سیدنا
30:13انس رضی اللہ تعالیٰ نے فرماتے ہیں
30:15کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی
30:17میں نے دس سال خدمت کی ہے
30:19مَا قَالَ لِي اُفْ فِن قَتْبُ
30:21حضور نے کہا کہ مجھے اُف تک نہیں
30:24ہمیں ضرورت ہے اس بات کی
30:26کہ ہم آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
30:28اس نرمی اور اس محبت والے پہلو پر
30:30توجہ کے ساتھ اور کریں
30:32اور آخری بات
30:32حضور علیہ الصلاة والسلام
30:34سورہ توبہ کی آخری آیات میں
30:35اللہ تعالی نے یہ حضور کی صفات بیان فرمائی ہے
30:37وہ کیا ہے
30:38وہ ہمیں آج اگر ہمیں سمجھ آجائے
30:40تو آپس میں محبت پیار اور معاملات درست ہو جائیں گے
30:43لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِمَا عَنِتَ
30:47تمہاری مشکت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی نہیں لگتی
30:49حضور پریشان ہو جاتے ہیں
30:51تمہیں مشکل میں دے کر حضور پریشان ہو جاتے ہیں
30:53حریص علیکم
30:54وہ تم پر بہت زیادہ حریص ہیں
30:56تمہاری کوئی نقصان ہو رہا ہو
30:59وہ اس نقصان کو برداشت نہیں کر پاتے
31:02حریص علیکم بالمؤمنین الرعوف الرحیم
31:05وہ رعوف بھی ہے اور رحیم بھی ہے
31:07میں سمجھتا ہوں کہ
31:08یہی صفات ہمیں اختیار کریں
31:09چار صفات جو حضور علیہ الصلاة والسلام کی بیان فرمائی ہیں
31:12ہم اگر اس کا تھوڑا تھوڑا فیض لے کر
31:14اپنے اندر اس کو شامل کر لیں
31:16تو میں سمجھتا ہوں کہ
31:17ہر طرف محبت کی بہار ہوگی
31:18میں دیکھوں گا
31:19کہ یار اس میں
31:21صفدر بائیکی کا نقصان ہے
31:22تو میں کیوں برداشت کروں
31:24اس میں حسن صاحب کا نقصان ہے
31:26میں کیوں برداشت کروں
31:26تو میرا خیال ہے
31:27کہ میرا نقصان نہیں ہوگا
31:29اللہ میں دوسروں کا نقصان برداشت نہیں کروں گا
31:31تو اللہ تعالی میرا نقصان
31:32میرا بھی نہیں کرے گا
31:34دو جملوں کا حسن صاحب
31:35وقت ہمیں اتنا اجازت دیتا ہے
31:36خوبصورت سا
31:39آقا کی بارگاہ میں کھڑے ہیں
31:41اور انہوں نے
31:42حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی
31:44اور شہ پارے کو
31:46نیزہ مارا ہوا ہے
31:47اور اس سے ان کی بعد میں شہادت بھی ہوتی ہے
31:50سیدہ زینب بنت محمد کی
31:51اور وہ حضور کی بارگاہ میں آتے ہیں
31:53کلمہ پڑھتے ہیں
31:55حضور عرض گزار ہوتے ہیں
31:57تیرے پچھلے سارے گناہ معافہ ہو گئے
31:59یہ حضور اس کے ساتھ عمل کر رہے ہیں
32:01ہم اپنوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں
32:03آج ہمارے معاشرے میں
32:04فیمنی لیول کے اوپر
32:06قطع رحمی عام ہو گئی ہے
32:07اور قطع رحمی اسی طرح حرام ہے
32:10جس طرح سے
32:11باقی چیزیں
32:12شراب پینا اور
32:14جوا کھیڑنا یہ حرام ہے
32:15اللہ اکبر
32:16میں آج کہوں گا
32:18آقا الاسلام کے
32:19ربی نور اور ربی لول کے
32:20سرور کائنات کے پروگرام
32:22سے عرض کروں گا
32:23آج
32:24اس معاشرے کو
32:25صلح رحمی کے لئے اپنائیں
32:27جب ہمارا معاشرے کا
32:28وہ اکائی ٹھیک ہو جائے گی
32:29تو معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا
32:31آئیت اللہ
32:31خوبصورت
32:32سبحان اللہ
32:32سبحان اللہ
32:33ڈاکسر قبلہ بہت نمازش
32:35تشریف لانے کا
32:35احسن وائس مصطفی صاحب
32:37اللہ آپ کو بہت عجر دے
32:38پہلی نشست بڑی یادگار ہے
32:39نہایت خوبصورت ہے
32:40اور جناب محمد احمد صادق صاحب
32:43ناد شریف ہم نے آپ سے سننی ہے
32:44اس سے پہلے آپ دو چار شیر
32:46مجھ فقیر سے سن لیں
32:47وہ بڑی بندہ نوازی ہے
32:48ڈاکسر قبلہ
32:49جناب پروفیسر مسود اختر صاحب
32:51فیصل آباد سے
32:52بڑے استاذ شاعر ہے ہمارے
32:54بڑے مہربان مشفق ہیں
32:55ان کے تین چار اشار
32:56وہ لکھتے ہیں
32:57کہ ہر نخل عارضو پر
32:59اسمار آ گئے ہیں
33:01پھل
33:01سمر کی جمع
33:02ہر نخل عارضو پر
33:04اسمار آ گئے ہیں
33:06موسم بتا رہا ہے
33:07سرکار آ گئے ہیں
33:09موسم بتا رہا ہے
33:11سرکار آ گئے ہیں
33:12میلاد کے تصدق
33:14دنیا نکھر گئی ہے
33:15میلاد کے تصدق
33:17دنیا نکھر گئی ہے
33:18اس نور کی جلو میں
33:20انوار آ گئے ہیں
33:22اللہ اکبر
33:23اللہ کے خزانے
33:25تقسیم کرنے والے
33:26اللہ کے
33:27حدیث شریف کا ترجمہ ہے
33:28اللہ کے خزانے
33:30تقسیم کرنے والے
33:32محبوب آ گئے ہیں
33:33مختار آ گئے ہیں
33:35اور اس حسن کا تصور
33:37مصروں میں ڈھل گیا ہے
33:39اس حسن کا تصور
33:41مصروں میں ڈھل گیا ہے
33:43بے ساختہ لبوں پر
33:44اشعار آ گئے ہیں
33:46اور آخری شیر
33:47ان کی رضا سے اختر
33:48قبلہ بدل گیا ہے
33:50ان کی رضا سے اختر
33:52قبلہ بدل گیا ہے
33:53ان کی صدا پہ چل کر
33:55اشجار آ گئے ہیں
33:57ان کی صدا پہ چل کر
33:59اشجار آ گئے ہیں
34:00اشجار آ گئے ہیں
34:02ملاد کا نغمہ سنتے ہیں
34:03جناب محمد احمد صادق سے
34:06اور انشاءاللہ پھر
34:07In the next program, we will see you in the next program.
34:40In the next program, we will see you in the next program.
35:11In the next program, we will see you in the next program.
36:07In the next program, we will see you in the next program.
36:19In the next program, we will see you in the next program.
36:39We will see you in the next program.
36:51We will see you in the next program.
36:59We will see you in the next program.
37:08We will see you in the next program.
37:23We will see you in the next program.
37:37We will see you in the next program.
37:46We will see you in the next program.
37:53We will see you in the next program.
38:00We will see you in the next program.
38:12We will see you in the next program.
38:12We will see you in the next program.
38:13We will see you in the next program.