The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics | Urdu Summary
Why is Pakistan so important to China? Is the China-Pakistan relationship simply an “All-Weather Friendship,” or is it part of a much larger geopolitical strategy to reshape the balance of power in Asia?
In this Urdu summary of Andrew Small’s influential book “The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics,” we explore the evolution of China-Pakistan relations and the strategic interests that have brought the two countries closer.
From the 1962 China-India War and the 1965 and 1971 Pakistan-India conflicts to the Karakoram Highway, nuclear cooperation, missile technology, Gwadar and CPEC, the relationship has developed across multiple strategic dimensions.
We also examine China’s concerns over terrorism, Afghanistan, the TTP, ETIM, Chinese citizens and investments in Pakistan, and the security challenges surrounding Gwadar and CPEC.
One of the biggest questions explored in the book is whether China could eventually move beyond its traditional economic and diplomatic role and take a more direct security role in Pakistan and the wider region.
Could the China-Pakistan relationship become one of the defining strategic partnerships of 21st-century Asia?
Watch the complete Urdu summary and decide for yourself.
Book: The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics
Author: Andrew Small
If you enjoyed this analysis, Like the video, Subscribe to the channel, and share your views in the comments.
#ChinaPakistan
#ChinaPakistanAxis
#PakistanChina
#Geopolitics
#CPEC
#Gwadar
#SouthAsia
#China
#Pakistan
#AndrewSmall
#GeopoliticalAnalysis
#PakistanForeignPolicy
#ChinaStrategy
#IndiaPakistan
#Afghanistan
Why is Pakistan so important to China? Is the China-Pakistan relationship simply an “All-Weather Friendship,” or is it part of a much larger geopolitical strategy to reshape the balance of power in Asia?
In this Urdu summary of Andrew Small’s influential book “The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics,” we explore the evolution of China-Pakistan relations and the strategic interests that have brought the two countries closer.
From the 1962 China-India War and the 1965 and 1971 Pakistan-India conflicts to the Karakoram Highway, nuclear cooperation, missile technology, Gwadar and CPEC, the relationship has developed across multiple strategic dimensions.
We also examine China’s concerns over terrorism, Afghanistan, the TTP, ETIM, Chinese citizens and investments in Pakistan, and the security challenges surrounding Gwadar and CPEC.
One of the biggest questions explored in the book is whether China could eventually move beyond its traditional economic and diplomatic role and take a more direct security role in Pakistan and the wider region.
Could the China-Pakistan relationship become one of the defining strategic partnerships of 21st-century Asia?
Watch the complete Urdu summary and decide for yourself.
Book: The China-Pakistan Axis: Asia’s New Geopolitics
Author: Andrew Small
If you enjoyed this analysis, Like the video, Subscribe to the channel, and share your views in the comments.
#ChinaPakistan
#ChinaPakistanAxis
#PakistanChina
#Geopolitics
#CPEC
#Gwadar
#SouthAsia
#China
#Pakistan
#AndrewSmall
#GeopoliticalAnalysis
#PakistanForeignPolicy
#ChinaStrategy
#IndiaPakistan
#Afghanistan
Category
📚
LearningTranscript
00:00کیا چین اور پاکستان کی دوستی صرف دو ملکوں کی دوستی ہے؟
00:05یا اس کے پیچھے ایشیا کی طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا ایک بہت بڑا منصوبہ چھپا ہوا ہے؟
00:13مشہور کتاب The China Pakistan Access میں مصنف انڈرو اسمال نے چین اور پاکستان کے اس غیر معمولی تعلق کی
00:21ایسی تشویر پیش کی جو شاید عام طور پر دکھائی نہیں دیتی
00:26چین کو پاکستان کی ضرورت آخر کیوں ہے؟
00:31پاکستان چین کے لیے اتنا اہم کیوں ہے؟
00:35اور اس شراکتداری سے بھارت اور امریکہ کیوں پریشان ہوتے ہیں؟
00:40انہیں کیا فکر ہیں؟
00:42ایک طرف چین کو بیرہ ہند تک رسائی چاہیے
00:45دوسری طرف پاکستان کو ایسے طاقتور شراکتدار کی ضرورت ہے جو مشکل ترین حالات میں اس کے ساتھ کھڑا ہو
00:54اور اس کی مدد کریں فوجی مدد
00:56لیکن اصل سوال اس سے بھی بڑھا ہے
00:59کیا چین پاکستان کے ذریعے صرف اپنے اقتصادی مفادات حاصل کر رہے ہیں؟
01:06یا دونوں ملک مل کر ایشیا میں طاقت کا نیا مہور تشکیل دے رہے ہیں؟
01:13اور اگر یہ واقعی چین اور پاکستان کا ایک نیا مہور ہے
01:17تو آنے والے برسوں میں بھارت، امریکہ اور پورے جنوبی ایشیا کے لیے اس کے نتائج کیا ہوں گے؟
01:26آج ہم اسی کتاب کے ذریعے اس تعلق کی ان تہوں کو کھولیں گے
01:31جو چین اور پاکستان کی روایتی دوستی سے کہیں آگے جاتی ہیں
01:39دوستوں چین اور پاکستان ایک دوسرے کے لیے آخر اتنے اہم کیوں ہو گئے ہیں؟
01:45مصنف کے نزدیک چین اور پاکستان تعلقات کو صرف دوستی یا آل ویدر فرینڈشپ کے الفاظ میں بیان کرنا کافی
01:55نہیں
01:55اس کے پیچھے بہت سے حقائق اور سچائی ہے
01:59یہ تعلق دفاعی، ایٹمی صلاحیت، میزائل ٹیکنالوجی، معیشت، سفارت کاری، انصداد دہشتگردی اور علاقائی سیاست سمیت کئی ستھوں پر قائم
02:10ہے
02:10اس شراکتداری نے نہ صرف پاکستان اور چین کی پالیسیوں کو متاثر کیا
02:16بلکہ جروبی ایشیا میں بھارت، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتوں کے لیے ایک مختلف اسٹریٹیجک تظوراتی محول پیدا کیا
02:26پاکستان کے لیے چین ایک ایسے قابل اعتماد شراکتدار کی حیثیت رکھتا ہے
02:32جس نے مشکل وقت میں اقتصادی، دفاعی اور سفارتی مدد فرام کی اور پاکستان کو بچایا
02:39دوسرے طرف چین کے لیے پاکستان کی جغرافیائی حیثیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے
02:46پاکستان اسے بیرہن تک رسائی دیتا ہے
02:50وستی ایشیا کے قریب بلاتا ہے اور مغربی چین کو ایک اہم زمینی راستہ فرام کرتا ہے
02:57یہی وجہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلق دفاعی شراکتداری سے بڑھ کر
03:03اقتصادی اور تظوراتی شراکتداری میں تبدیل ہوا
03:07انیس سو باسٹ کی جنگ دو ملکوں کو قریب لانے والا موڑ
03:12چین اور پاکستان کے موجودہ تعلقات کو سمجھنے کے لیے
03:17انیس سو باسٹ کی چین بھارت جنگ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
03:22انڈریو اسمال کے تجزیع کے مطابع اس جنگ نے بھارت کو چین اور پاکستان
03:27دونوں کے لیے ایک مشترکہ اسٹریٹیجک دشمن بنا دیا
03:31پاکستان اس وقت امریکہ کے قریب تھا
03:34اور مغربی دفاعی اتحادوں کا حصہ بھی تھا
03:37لیکن انیس سو باسٹ کی جنگ کے بعد جب امریکہ نے بھارت کو فوجی امداد فراہم کی
03:42تو پاکستان کو احساس ہوا کہ مغربی اتحاد اس کے مفادات کی مکمل زمارت نہیں دے سکتا
03:49چین اس خلا میں ایک فطری تظوراتی شراکتدار کے طور پر سامنے آیا
03:55اسی طرح انیس سو پیسٹ کی پاک بھارت جنگ نے اس تعلق کو مزید مضبوط کیا
04:01چین نے پاکستان کی سیاسی اور سفارتی حمایت کی
04:05اور بھارت پر دباؤ ڈالا
04:07اگرچہ چین براہ راز جنگ میں شامل نہیں ہوا
04:10لیکن اس کی ہمائے نے پاکستان کو ایک اہم سیاسی اور نفسیاتی سہارا فراہم کیا
04:17انیس سو اکھتر کا بھران اس تعلق کے لیے ایک اور بڑا امتحان تھا
04:22پاکستان کو چین سے فوجی مداخلت کی امیت تھی
04:25مگر چین نے براہ راز جنگ میں اترنے سے گریز کیا
04:29اس کے باوجود مصنف کے مطابق طویل مدد میں اس واقعے نے
04:33پاکستان کا چین پر انسار کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دیا
04:38پاکستان کے لیے یہ واضح ہو گیا کہ چین ہی وہ بڑی طاقت ہے
04:42جو طویل مدد میں ایک قابل اطمار اسٹرٹیجک شراکتدار بن سکتی ہے
04:48کروکروم ہائیوے دوستی کی پہلی بڑی علامت
04:51چین پاکستان تعلقات کے کہانی صرف جنگوں اور ہتھیاروں کی کہانی نہیں
04:56کروکروم ہائیوے اس تعلق کے طویل مدد ویجن کی ایک نمائی مثال ہے
05:02یہ شہرہ چین اور پاکستان کو برائے راز زمینی راستے سے ملاتی ہے
05:07اور بھارت کو بائی پاس کرتے ہوئے چین کو پاکستان اور بلاخر پرہ ہند کے قریب لاتی ہے
05:13یہ سڑک صرف تجارت کا ذریعہ نہیں تھی
05:15بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اسٹرٹیجک رابطہ بھی تھی
05:19اس منصوبے نے یہ ظاہر کیا کہ چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات وقتی ضرورت نہیں
05:25بلکہ ایک طویل مدد شراکتداری کے تصور پر استوار ہو رہے تھے
05:31ایٹمی تعاون تعلقات کا سب سے حساس باب
05:36چین پاکستان تعلقات شاید سب سے حساس پہلو ایٹمی اور میزائل تعاون ہے
05:42کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ چین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی ترقی میں اہم مدد فراہم کی
05:48یہ تعاون صرف ٹیکنالوجی کی منتقلی تک محدود نہیں تھا
05:52بلکہ مصنف کے مطابق اس میں ایٹمی ڈیٹرنس کی تظوراتی سوچ اور صلاحیتوں کی تشکیل بھی شامل تھی
05:59ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نیٹ ورک کا ذکر بھی اسی تناظر میں آتا ہے
06:04کتاب کے مطابق پاکستان نے یورپی ذراہ سے حاصل کردہ سینٹری فیوج ٹیکنالوجی کے تجربات چین کے ساتھ بھی شیئر
06:12کیے
06:12جبکہ دوسری طرف چین نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو اہم معاونت فراہم کی
06:171981 میں اسرائیل کے عراق کے ایٹمی ریاکٹر پر حملے کے بعد پاکستان کو یہ خطشہ پیدا ہو کہ کہیں
06:24کہوٹا پر اسرائیل یا بھارت کا نشانہ نہ بن جائے
06:28کتاب کے مطابق اسی پسمندر میں چین سے مدد طلب کی گئی
06:32چین کی جانی سے پاکستانیوں کو ہتیاروں کے درجے کا فسائل میٹیریل، جورینیم افزودگی سے متعلق مواد اور ایٹمی ہتیار
06:41کے ڈیزائن سمیت اہم معاونت فراہم کی گئی
06:44یہ تعاون جنوبی ایشیا کے ایٹمی توازن کے لیے ایک فیصلہ کن تبدیلی تھا
06:49مزائل ٹیکنالوجی اور طاقت کا نیا توازن
06:53ایٹمی ہتیار اس وقت تک موسر ڈیٹرنس نہیں بن سکتے جب تو انہیں مطلوبہ فاصلے تک پہنچانے کی صلاحیت موجود
07:01نہ ہو
07:01کتاب کو مطابق چین نے پاکستان کو ایم نائن اور ایم الیون جیسے مزائل فراہم کی
07:07ان مزائلوں نے پاکستان کی دور مار صلاحیت میں نمائع اضافہ کیا
07:11اور بھارت کے اندر دور تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت فراہم کی
07:16اس تعاون نے جروبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو مزید پہچیدہ بنا دیا
07:21یہی وہ پس منظر تھا جس میں بھارت نے اپنی سلامتی کے خدشات کو زیادہ شدت سے محسوس کیا
07:27اور پلاخر اپنی ایٹمی صلاحیت کے جواز کے لیے چین اور پاکستان سے لاحق خطرات کو بھی پیش کیا
07:34لیکن چین ہمیشہ پاکستان کے ساتھ یقصہ طور پر کھڑا نہیں رہا
07:39چین پاکستان کا قریبی شراکت دار ضرور رہا ہے
07:42لیکن انڈرو اسمال کی کتاب ایک اہم حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے
07:46چین کے اپنے عالمی مفادات ہیں
07:48انیس سو نوے کی دہائی میں چین نے بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی
07:53انیس سو چھانوے میں چینی صدر جیونگ زی مین کی پاکستانی سینٹ سے
07:58میں تقریر کو بھی اسی تبدیلی کے تناظر میں دیکھا گیا
08:02دوزار آٹھ میں امریکہ اور بھارت کے سیول نیوکلئر مہائدے کے معاملے پر بھی
08:06چین نے ابتدا میں مزائمت کی
08:08لیکن بلاخر بینلوکامی دباؤ کے سامنے اسے قبول کرنا پڑا
08:12اس سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ کو پاکستان کے ساتھ
08:16اپنی اسٹرٹیجک شراکتداری اور بھارت سمیت
08:18بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ
08:21اپنے وسیطر مفادات کے درمیان توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے
08:30چین پاکستان اقتصادی تعلقات میں
08:32گوادر بندرگاہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے
08:35چین کے لیے گوادر بہر ہند تک رسائی کا ایک اہم راستہ ہے
08:39لیکن پاکستان کے لیے بندرگاہ اقتصادی ترقی اور علاقائی رابطے کی علامت ہے
08:46لیکن کتاب کے مطابق گوادر کی ترقی توقعات کے مطابق تیز رفتار نہیں رہی
08:51اس کی ایک بڑی وجہ سیکیورٹی کے مسائل ہیں
08:54بولشستان میں مسلح مزائمت اور چینی شہریوں اور انجینئرز پر حملوں نے
08:59چینی سرمایہ کاروں کے لیے مشکلات پیدا کی
09:01دوہزار چار میں چینی انجینئرز پر حملہ اور دیگر واقعات نے
09:05بیجنگ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا
09:08کہ پاکستان میں اس کے شہریوں اور منصوبوں کو کس حد تک تحافظ حاصل ہے
09:13یہاں ایک اہم تضاد سامنے آتا ہے
09:16چین پاکستان کا قریبی دوست ہے
09:18لیکن پاکستان میں موجود بعض مسلح گروہ خود چینی مفادات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں
09:25دوستی اور معاشی حقیقت کے درمیان فاصلہ
09:28کتاب میں آموں کی ایک دلچسپ مثال دی گئی ہے
09:321968 میں پاکستان کی جاننی سے موجودوں کو آموں کا توفہ بھیجا گیا
09:37تو چین میں یہ آم ایک سیاسی علامت بن گئے
09:41ماؤ نے اسے اپنے پروپیگنڈا ٹیموں کو بھیجا
09:44اور چین میں مینگو فیور پیدا ہو گیا
09:47لیکن کئی دہائیوں بعد جب پاکستانی آموں کو چینی مارکین میں بڑے پیمانے پر فروخت کرنے کی کوشش کی گئی
09:54تو معاملہ مختلف نکلا
09:55لوجسٹرکس، صحت کے سخت میارات، مقامی پیداوار سے مقابلے
10:00اور دیگر مسائل کے باعث یہ منصوبہ کامیاب نہ ہو سکا
10:03یہ مثال اس بات کی علامت بن جاتی
10:06کہ سیاسی دوستی لازمان معاشی کامیابی میں تبدیل نہیں ہوتی
10:11چین اور پاکستان کے درمیان اسٹرٹیجک تعلقات بہت مضبوط ہو سکتے ہیں
10:16مگر دو طرف تجارت اور اقتصادی تعاون کی اپنی الگ عملی مشکلات کا سامنا ہے
10:23دہشتگردی دوستی کا سب سے بڑا امتحان
10:26چین پاکستان تعلقات میں سب سے پیچیدہ مسئلہ دہشتگردی ہے
10:31چین کی بنیادی تشویر سنکیونگ میں ایغورب اسکریت پسند گروہوں سے ہے
10:37خصوصاً مشرقی ترکستان اسلامی تحریک یعنی ای ٹی آئی ایم سے
10:42اغانستان میں جنگ کے بعد بعض اسکریت پسند گروہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے
10:48اس صورتحال نے چین کے لیے ایک نیا خطرہ پیدا کیا
10:52کیونکہ بیجنگ کو خطرہ تھا کہ پاکستان اور اغانستان میں پھیلنے والی اسکریت پسندی سنکیانگ تک پہنچ سکتی ہے
10:59چینی شہریوں اور منصوبوں پر متعدد حملوں نے اس تشویش میں اضافہ کیا
11:05گوادر، گومل زام ڈیم، سوات اور دیگر علاقوں میں چینی انجینئرز اور شہریوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے
11:13بیجنگ کو سخت رد عمل پر مجبور کیا
11:16دو ہزار تیرہ میں نانگا پربت بیس کیمپ پر حملہ ایک اہم مور ثابت ہوا
11:22اس واقعے نے یہ ثابت کیا کہ خطرہ صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں رہا
11:28بلکہ ان علاقوں پر پہنچ چکا ہے جہاں چین کے بڑے اقتصادی منصوبیں موجود ہیں
11:34چین کی ایک عجیب صورتیال
11:37امریکہ بھی کبھی مفید ثابت ہوا
11:39چین اور امریکہ عالمی سطح پر حریف ہیں
11:43مگر پاکستان اور غانستان کے تناظر میں صورتیال قدر مختلف رہی
11:47کتاب کے مطابق بعض مواقع پر امریکی ڈران حملوں نے ان عسکریت پسند گروہوں کو
11:53اور ان کے رہنماوں کو نشانہ بنایا جنہیں چین اپنے لیے خطرہ سمجھتا تھا
11:58یوں ایک دلچپ تضاز سامنے آیا
12:01چین کا عالمی حریف امریکہ بعض اوقات انہی گروہوں کے خلاف کاروائی کر رہا تھا
12:07جو چین کے لیے خطرہ تھے
12:09یہ صورتیال چین کی پاکستان پر انصار کی حدود بھی واضح کرتی ہے
12:15تالبان کے ساتھ چین کے تعلقات
12:17چین نے اغانستان میں تالبان کے ساتھ بھی رابطے قائم کیے
12:21اس کی بنیادی وجہ بھی سیکیورٹی اور اسٹرٹیجک مفادات تھے
12:25چین کو خطرہ چاہا کہ اغانستان کے سرزمین سنکیان کے خلاف استعمال ہو سکتی ہے
12:31تالبان قیادر نے چین کو یقین دھیانیاں کرائیں کہ اغان سرزمین چین کے خلاف استعمال نہیں ہوگی
12:37لیکن دو ہزار ایک کے بعد اغانستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بدلتی ہوئی صورتیال
12:43چین کے لیے یہ معاملہ مزید پہچیدہ کر دیا
12:47دوسری طرف چین نے اغانستان میں معاشی سرمایکاری بھی شروع کی
12:52این اکتابے کی کان کا تقریباً تین ارب ڈالر کا معاہدہ اس حوالے سے نمائی مثال ہے
12:58لیکن یہاں بھی سیکیورٹی کا مسئلہ مرکزی حیثیت رکھتا ہے
13:04امریکہ اغانستان سے نکلے تو چین کیا کرے
13:07کتاب کے آخری حصوں میں ایک بنیادی سوال اٹھایا گیا ہے
13:11اگر امریکہ اغانستان اور اس پورے خطے سے نکل جائے
13:16تو اس خلا کو کون پور کرے گا
13:18چین بداہر امریکی فوجی موجودگی کا مخالی تھا
13:22لیکن اسے یہ خوف بھی تھا کہ امریکی انخلا کے بعد پیدا ہونے والا
13:26طاقت کا خلعہ اسکریت پسند گروہوں کو مضبوط کر سکتا ہے
13:31تالبان، تحریک تالبان، پاکستان اور دیگر گروہوں کا پھیلاؤ
13:35چین کے لیے خطرہ بن سکتا ہے
13:38خصوصاً ای ٹی آئی ایم
13:41اس لیے کہ چین نے پاکستان میں کراکروم ہائیوے، گوادر، سی پیک
13:45کانکنی، ٹیلی کمیونکیشن اور توانائی سمید
13:48مختلف شعبے میں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے
13:51اگر پاکستان یا اغانستان میں عدم استحقام بڑھتا ہے
13:54تو چینی شعریوں اور سرمایہ کاری دونوں کو خطر لاحق ہو سکتا ہے
13:59کیا چین پاکستان میں برائے راز سیکیورٹی کردار ادا کرے گا؟
14:04یہی کتاب کا شاید سب سے اہم سوال ہے
14:07چین تاریخی طور پر بیرون ملک برائے راز فوجی مداخلت سے گریز کرتا رہا
14:13لیکن پاکستان اور اغانستان کے بدلتے ہوئے حالات اس پالیسی کو چیلنج کر رہے ہیں
14:18چین مشرق ایشیا خصوصا جنوبی بہیرہ چین میں زیادہ پر اعتماد اور جاہریانہ انداز اختیار کر رہے ہیں
14:26لیکن پاکستان اور اغانستان کے معاملے میں وہ روایتی طور پر مطاعت رہا ہے
14:31اب سوال یہ کہ کیا پاکستان میں چینی مفادات اور شعریوں کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات
14:37بیچین کو اس مطاعت پالیسی سے باہر نکلنے پر مجبور کر دیں گے
14:41اگر ایسا ہوا تو چین کا کردار صرف اقتصادی اور صفارتی شراکردار کا نہیں رہ گا
14:47بلکہ وہ خطے میں برائے راہ سیکیورٹی کردار بھی اختیار کر سکتا ہے
14:52مستقبل آل ویدر فرینڈشپ کی آزمائش
14:55کتاب کا اختتامی تجزیہ نہ تو چین پاکستان دوستی کے خاتمے کی پیش کوئی کرتا ہے
15:01اور نہ ہی اسے غیر مشروط اور بے مثال اتحاد قرار دیتا ہے
15:06اس کے مطابق یہ تعلقات انتہائی گہرے ہیں خصوصا دفاع اور ایٹمی شعبوں میں
15:13بھارت کا انصر بھی اس چراکرداری کو برقرار رکھنے میں اہم ہے
15:17لیکن اس تعلق کی کچھ حدود بھی واضح ہو چکے ہیں
15:20پاکستان کی معاشی کمزوریاں سی پیک منصوبوں کی سوس رفتار پیش رفت
15:26گوادر کے مسائل چینی شہریوں پر حملے
15:29اسکریت پسندی اور سنکیانگ سے متعلق چین کے خدشات
15:32اس چراکرداری کے لیے بڑے چالنج ہیں
15:35چین نے پاکستان میں بہت کچھ دعو پر لگا رکھا ہے
15:39اس لیے پاکستان کا اندرونی استحقام اب صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں رہا
15:44بلکہ یہ چین کے اپنے مفادات سے بھی جڑ چکا ہے
15:47آخری سوال
15:49اینڈرو اسمائل کی کتاب کا سب سے اہم سوال شاید یہی ہے
15:53کیا چین پاکستان کے ساتھ اپنی آل ویدر فرینڈشپ کو بدلتی ہوئی
15:57جغرافیائی سیاست کے نئی چیلنجوں کے مطابق برقرار رکھ سکے گا
16:02اور اس سے بھی بڑا سوال ہی کہ اگر پاکستان اور اغانستان میں عدم استحقام بڑھتا ہے
16:07تو کیا چین اپنی روایتی مطابق خارجہ پالیسی ترک کر کے
16:11اس خطے میں زیادہ فعال حتیٰ کہ برائرہ سیکیورٹی کردار ادا کرنے پر مجبور ہو جائے گا
16:17اگر ایسا ہوا تو چین پاکستان تعلقات کی نویت بھی بدل سکتی ہے
16:21اور پورے جنوبی ایشیا کا اسٹریٹیجک منظر نامہ بھی
16:25چین پاکستان مہور صرف دو ملکوں کی دوستی نہیں
16:29یہ ایشیا میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی ایک اہم کہانی ہے
16:34دوستوں یہ کتاب آپ کو کیسی لگی
16:36نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں
16:39اگر آپ نے ابھی تک ہمارے چینل کو سبسکرائب اور ویڈیو کو لائک نہیں کیا
16:43تو چینل کو بھی سبسکرائب کر لیں