Skip to playerSkip to main content
How did China transform itself from one of the world’s poorest countries into a global economic and industrial superpower?

Just a few decades ago, China was struggling with poverty, famine, low productivity and a largely rural economy. Today, China is one of the world’s most powerful economies, a global manufacturing giant and a major force in technology, trade, infrastructure and electric vehicles.

This video explores the extraordinary story behind China’s economic miracle — and the decisions that changed the country forever.

From Mao Zedong and the political turmoil after his death to the rise of Deng Xiaoping, China gradually abandoned rigid economic policies and introduced economic reforms and opening up.

Deng Xiaoping’s famous philosophy — “It doesn’t matter whether the cat is black or white, as long as it catches mice” — represented a radically practical approach to economic development.

China experimented with the Household Responsibility System, encouraged rural businesses, created Special Economic Zones, attracted foreign investment and turned cities such as Shenzhen into major global manufacturing and technology centers.

Then came another historic turning point: China joined the World Trade Organization in 2001, accelerating its integration into the global economy and transforming it into a major manufacturing and export powerhouse.

But China's story is not simply about capitalism or free markets. The Chinese Communist Party retained political control while allowing markets, private businesses, foreign investment and international trade to expand.

How did this unusual combination work?

Why did China succeed while the Soviet Union eventually collapsed?

How did “Made in China” become one of the most recognizable phrases in global trade?

And how did China transform from a largely agricultural society into a country of megacities, highways, factories, ports, technology companies and global supply chains?

This video examines the China Economic Miracle, Deng Xiaoping’s reforms, China’s manufacturing revolution, Special Economic Zones, exports, globalization, foreign investment and the rise of China as a global power.

We also look at the historical relationship between Pakistan and China, including Pakistan’s early role in China’s international relations and the later importance of Chinese investment, CPEC and the Belt and Road Initiative.

Watch until the end to understand the real story behind China’s transformation — from poverty to global power.

Subscribe to Ali Javed Naqvi for more analytical videos on China, Pakistan, America, Russia, Iran, geopolitics, international politics, economics and world affairs.#China #ChinaRise #ChinaEconomicMiracle #DengXiaoping #ChinaEconomy #ChineseEconomy #ChinaSuperpower #RiseOfChina #MadeInChina #ChinaHistory #ChinaReforms #ChinaDevelopment #ChinaVsUSA #ChinaGeopolitics #CPEC #PakistanChina #BeltAndRoad #GlobalEconomy #Geopolitics #EconomicMiracle

Category

📚
Learning
Transcript
00:00اسلام علیکم دوستو میں ہوں علی جاوید نکوی
00:02ذرا تصور کیجئے آج سے تقریباً صرف پینتالیس سال پہلے کا چین
00:08نہ شنگائی نہ شہنزی کی بلندوں بالوں عمارتیں
00:12نہ تیز رفتار ٹرینوں کا جال نہ دنیا کی بڑی بندرگاہیں
00:16نہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھرمار
00:19تقریباً ایک عرب چالیس کروڑ سے زیادہ عبادی والا یہ ملک
00:24معاشی طور پہ اتنا کمزور تھا کہ دنیا کے غریب ممالک میں شمار ہوتا تھا
00:30چین کے وزیر آدم چون ان لائی کا لاہور سے متعلق ایک بہت مشہود جملہ ہے
00:35وہ آپ کو بتاتا ہوں
00:36چین کے وزیر آدم پہلی مرتبہ 20 دسمبر 1956 اور دوسری مرتبہ
00:41صدر جنرل ایوب خان کے دور میں فروری 1964 میں پاکستان آئے تھے
00:46پہلی مرتبہ جب وہ لاہور آئے اور یہاں گاڑیوں کا رش دیکھا
00:50تو انہوں نے بہت حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ تاریخی جملہ کا تھا
00:55لاہور میں جتنی گاڑیاں اتنی پورے چین میں نہیں ہیں
01:00اور اس وقت لاہور سے زیادہ گاڑیاں کراچی میں تھیں
01:04لیکن آج دیکھیں چین کے ایک شہر میں گاڑیوں کے کارخنے ہیں
01:09وہ پوری دنیا کی ضرورت پوری کر رہے
01:12چین الیکٹرونک گاڑیوں میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہیں
01:15یہ چند سالوں میں کیا ماجرہ ہو گیا
01:19ہم نے آزادی حاصل کی تو اس وقت ہماری حالت چین سے مہت کئی ممالک سے بہتر تھی
01:24ہم نے اس وقت چین کا ساتھ دیا چین اور امریکہ کے درمیان پل کا کردار ادا کیا
01:30جس طرح آج ہم امریکہ اور ایران کی جنگ بند کرانے کی کوششیں کر رہے ہیں
01:35برحال آج کی اس ویڈیو میں میں آپ کو بتاؤں گا
01:38کہ غربت کا شکار چین کس طرح چند دہائیوں میں دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا
01:45اگر آپ نے ابھی تک ہمارے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا
01:48تو چینل کو سبسکرائب کر لیں
01:50تاکہ آپ کو ہماری معلوماتی ویڈیوز دیکھنے کو ملتی رہے ہیں
01:54چین ایک ایسا ملتا جو انقلاب غربت
01:59کہت سیاسی انتشار اور کئی دہائیوں کی تنہائی کے زخموں سے
02:04نکلنے کی کوشش کر رہا تھا
02:07مگر پھر کچھ ایسا ہوا جس نے نہ سرچی
02:10بلکہ پوری دنیا کی معاشی تاریخ بدل دی
02:14صرف چار دہائیوں کے اندر یہی غریب ملک دنیا کا معاشی انجن بن گیا
02:20دنیا کے لوگ جو کپڑے پہنتے ہیں
02:24جو لیپ ٹاپ استعمال کرتے ہیں
02:26جو موبائل فون سیل فون استعمال کر رہے ہیں
02:28بچوں کا کھلونے گھروں میں استعمال ہونے والی مشینیں
02:31الیکٹرونکس کی چیزیں گاڑیاں
02:34اب یہاں تک کے مسافر جہازوں سے لے کر
02:37جنگی جہاز تک سب پر لکھا ہوتا ہے
02:39مے ڈین چائنا
02:42لیکن اصل کہا نہیں صرف یہ نہیں کہ چین امیر کیسے ہوا
02:45اصل سوال اس سے کہیں زیادہ گہرا اور حیران کون ہے
02:48آخر ایک غریب کیمنسٹ ملک نے دنیا کی
02:52طاقتور ترین معاشی قوتوں میں جگہ کیسے بنائی
02:55کیسے سب کو پیچھے چھوڑ گیا
02:59چین نے اپنی معیشت اور منڈی کو دنیا کے لیے کھولا
03:02لیکن سیاسی اقتدار کیمنسٹ پارٹی کے خات سے جانے نہیں دیا
03:06اور پھر وہ کیا راستہ جس نے کیمنسٹ
03:09سوویت یونیون کو تو زوال کی طرف دھکیل دیا
03:12اور ناکام ہو گیا
03:13جبکہ چین نے اسی دور میں خود کو ایک نئی طاقت میں تبدیل کر لیا
03:17چین بھی علاقہ کیمنسٹ ملک ہے
03:19یہ طرح سے چین کے معاشی موجزے کی کہانی ہے
03:23خوف، بھوک، نظم و ضبط، عملی سوچ
03:27کروڑوں میند کشوں، دھیار سے اپڑنے والی فیکٹریوں
03:29اور ایک ایسی ریاست کی کہانی
03:32جس نے منڈی کو سرمایہ کاری کو استعمال کیا
03:35مگر اقتدار سرمایہ داروں کے حوالے نہیں کیا
03:39انیس سو ستر کی دھیائی کے آخری برسوں کا چین
03:42آج کے چین سے بالکل مختلی تھا
03:45اس وقت چین کے تقریبا اسی فیصد عبادی دھیاتوں میں رہتی تھی
03:50کروڑوں انسان زراد، فصل، موسم اور اناج پر گزارہ کرتے تھے
03:55چین صرف غریب نہیں تھا، بنیادی طور پر ایک دہی ملک تھا
04:00ریاست زری پیدوار سے لے کے آٹے، دار، چینی اور گھی کی
04:04قیمتوں، مزدوروں اور لوگوں کی نقل و حرکت تک کو کنٹرول کرتی تھی
04:09تقریبا ایک عرب افراد کو خوراک، لباس، تعلیم اور روزگار فرام کرنا
04:15ایک بہت بڑا چیلنگ تھا
04:17چین کی معیشت میں اضافہ ضرور ہو رہا تھا
04:20لیکن یہ معاشی سرگرمی خوشحالی میں تبدیل نہیں ہو رہی تھی
04:24بہت آہستہ آہستہ چل رہا تھا
04:26عبادی بہت زیادہ، پیداواری سلائیتیں کم
04:29اور زراد پر انحساس حد سے بھی زیادہ
04:32اسی طرح چین کے قریب جو جنوبی کوریا، تائیوان، سنگاپور
04:37اور ہانگ کانگ تیزی سے ترقی کر رہے تھے
04:40یہ چاروں کیمنس ملک نہیں تھے
04:42ایک فرق یہ تھا
04:44یہ ممالک برامدار پر مبنی سنتی معیشتیں بن رہے تھے
04:48زیادہ تیزی سے دولت پیدا کر رہے تھے
04:50اور اپنے شہریوں کی زندگی بدل رہے تھے
04:53انہوں نے انقلاب لائے تھے
04:55کیمنس چین یہ سب دیکھ رہا تھا
04:57چین کے پروسی تیزی سے ترقی کر رہے تھے
05:00اور چین ابھی اپنے پرانے نظام کے ساتھ
05:02قدم ملا کر چلنے کی کوشش کر رہا تھا
05:05وہاں لوگوں کو ایک وقت کی روٹی دینا مشکل ہو رہا تھا
05:10بلاخر ایک سوال چینی قیادت کے سامنے کھڑا ہو گیا
05:14اگر پرانا نظام چین کو مضبوط نہیں بنا سکتا
05:17تو پھر اسے مقدس گائے سمجھ کر
05:20آخر کب تک اس نظام کو جاری رکھا جائے
05:22اس فیل شدہ ناکام نظام سے کیوں نہ چھٹکارہ حاصل کیا جائے
05:29نو ستمبر انیس سو چھتر کو عظیم چینی رینما
05:32کیمنسٹ انقلاب کے بانی موزے تنگ کا انتقال ہو گیا
05:36کئی دہائیوں تک وہ عوامی جمہوریہ چین کے مرکز میں رہتے
05:40اس نے ایک حکمرانی تھا بلکہ انقلاب کا چھرہ کیمنسٹ پارٹی کے علامت
05:44اور پورے سیاسی نظام کا مہور تھے
05:47ان کی تصاویر ہر جگہ نظر آتی تھی
05:49ان کی باتیں اور الفاظ کروڑوں لوگ دھوراتے تھے صبح شام
05:53اور ان کے فیصلوں نے نسلوں کی زندگی کو متاسک کیا تھا
05:58جب ایسا طاقتور رہنما دنیا سے رخصت ہوتا ہے
06:01تو صرف ایک شخص نہیں جاتا
06:03اس کے ساتھ پورا نظام کا یقین بھی متزلزل ہونے لگتا ہے
06:07اب سوال یہ تھا کہ آگے کیا ہوگا
06:10کون حکومت کرے گا
06:12چین کس راستے پر جائے گا
06:14کیا پرانا نظام اسی طرح چلتا رہے گا
06:17یا چین تبدیلی کا خطرہ مول لے گا
06:20عظیم کیمنسٹ رہنما موزتوں کی موت کے بعد
06:23اقتدار کی کشم کش شروع ہو گئے
06:26محلاتی سازشے بھی شروع ہو گئے
06:28دوسری طرف وہ رہنما بھی واپس آنے لگے
06:31جنہیں کیمنسٹ ثقافتی انقلاب کے دوران اقتدار سے نکال دیا گیا تھا
06:37پرانے نام اور رہنما دوبارہ سامنے آئے
06:40اور وہ لوگ واپس آئے جنہیں کبھی زلیل کیا گیا تھا
06:43ان واپس آنے والوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا
06:46جو آنے والے برسوں میں چین کی تاریخ بدلنے والا تھا
06:51اس شخص کا نام تھا
06:53ڈنگ زیاؤپنگ
06:55ڈنگ زیاؤپنگ کوئی نوجوان انقلابی نہیں تھے
06:59وہ ایک پرانے کیمنسٹ انقلابی تھے
07:01جو انیس سو بیس کی دہائی سے کیمنسٹ پارٹی سے وابستہ تھے
07:06جنگ، سیاسی صفائیاں، جلہ وطنی مشکلات اور پریشانیاں
07:10اور اب عزت کے ساتھ دوبارہ واپسی
07:13وہ اپنی زندگی میں سب کچھ دیکھ چکے تھے
07:16وہ انتشار کو اخبارات یا سرکاری رپورٹوں سے نہیں جانتے تھے
07:20کہ ایسا رہا ہے
07:21وہ خود سب انتشار سے گزر چکے تھے
07:24ان پر بیٹ چکی تھی
07:25ڈنگ زیاؤپنگ جدید چین کے بانی مانی جاتے ہیں
07:29لیکن تاریخ کا ایک دلچسپ سچ یہ بھی ہے
07:32وہ کبھی بھی چین کے صدر بدعابتہ نہیں رہے
07:36اس کے باوجود وہ 1978 سے 1989 تک
07:40چین کے اصل اور طاقتور حکمران تھے
07:44ستمبر 1976 میں ماؤزتین کی وفات کے بعد
07:47چین میں میں نے جیسے پہلے بتایا
07:49شادی بران پیدا ہو گیا تھا
07:51ماؤ کے جو نامزد کردہ جانشین تھے
07:53وہ ان کا نامتہ ہوو گوفنگ
07:55وہ اقتدار میں آئے
07:56جو ماؤ کی پرانی اور سخت گیت نظریاتی پالیسیوں کو
08:00برقرار رکھنا چاہتے تھے
08:02ڈنگ زیاؤپنگ کو ماؤزتنگ کے دور میں
08:05پارٹی سے نکال دیا گیا تھا
08:06لیکن ماؤزتنگ کی موت کے بعد
08:09انہوں نے پارٹی کے اندر موجود اتدال پسندوں
08:11فوج اور ثقافتی انقلاب سے
08:14تنگ آئے ہوئے سینئر رینماوں کی
08:16حمایت حاصل کر لے
08:18ڈنگ زیاؤپنگ نے
08:19ہوا گوفنگ کی اندھی تکلیم پر
08:22مبنی پالیسیوں کے مقابلے میں
08:23ایک مشہور نعرہ دیا
08:26حقائق سے سچائی تلاش کرو
08:28آنکھیں بند کر کے نہ چلو
08:30ان کی اس عملی سوچ کو
08:32پارٹی میں زبردست وزیرائی بلی
08:34اور دسمبر 1978 تک
08:36انہوں نے ہوا گوفنگ کو
08:38بتجری پیچھے چھوڑ دیا
08:40اور پارٹی اور ملک کا اصل کنٹرول
08:42سنبھال لیا
08:43چین کی کیمرس پارٹی نے ہی انہیں منتخب کیا تھا
08:46لیکن ملک کے صدر کے طور پر نہیں
08:48بلکہ پارٹی کے ایک عالی عوضہ دار کے طور پر
08:51حیرت کی بات یہ ہے
08:52کہ جدید چین کے بانی
08:53نہ چین کے صدر رہے وہ اور نہ وزیر آزم رہے
08:56انہوں نے کیمرس پارٹی کی
08:58سنٹرل بلٹی کمیشن کے چیئرمن
09:00یعنی فوج کے سربراہ کا
09:02عوضہ سنبھالا
09:04چین کے سیاسی نظام میں
09:06فوج کا سربراہ ہی سب سے
09:08طاقتور ہوتا ہے
09:09اب سمجھ لیں جس طرح پاکستان میں
09:12فیلڈ مارشل کہنے کو
09:13صدر وزیر آزم موجود ہیں
09:15لیکن پوری دنیا جانتی ہے
09:17کہ اصل اختیارات کس کے پاس ہے
09:20انہوں نے اپنے
09:22وفدار ساتھیوں جیسے
09:23ہوا یونگ بانگ اور
09:25زو یونگ کو پارٹی کے دیگر
09:27عالی عوضوں پر فائز کر دیا
09:29جو بھی ان کے باعتماس آتی تھے
09:30اور خود پسے پڑتا رہ کر
09:33تمام بڑے فیصلے کیے
09:34ذمہ داری قبول کی
09:36ڈنگ زیو پنگ کی بنیادی پالیسی کا نام
09:38اصلاحات اور کھلی منڈی تھا
09:41انہوں نے سخت کیمنیسٹ نظریات کو چھوڑ کر
09:44چین کو ایک معاشی سپر پاور بنانے کے لیے
09:48دو بڑے ساتون کھڑی کی
09:51یا آپ کو ایک اور دلچسپ سیاسی حقیقت بتاؤں
09:54ان کی پالیسیوں کے باعت
09:56جب انہوں نے یہ پالیسیاں اصلاحات کی شروع کی
09:58پاکستان اور دنیا بھر کے کیمنیسٹ اور کیمنیسٹ پارٹیا
10:02دو گروپوں میں تقسیم ہو گئے
10:04زیادہ تنہیں سوویت یونین کے کیمنیسٹ نظام کی حمایت کی
10:07اور چین کے کیمنیسٹ کی مخالفت کی
10:10اس وقت پرانا اور سخت نظریات رکھنے والے
10:13جو پاکستانی کیمنیسٹ کہتے تھے
10:15کہ چین کے کیمنیسٹوں نے کیمنیسٹ سے غداری کی ہے
10:18لیکن جب سوویت یونین ٹوٹا
10:21تو دنیا بھر کے کیمنیسٹ بھی ٹوٹ گئے
10:23پاکستان میں بھی کیمنیسٹ عملی طور پر
10:25جو لیفٹ کے لوگ تھے انہیں شدید نقصان پہنچا
10:28دوبارہ شروع کرتے ہیں چین کی ترقیق کی کہانی
10:31ڈنگز یاو پنگ نے چار اہم شعبوں کو جدید بنانے پر توجہ دی
10:36جن میں ایگریکلچر، ذرات، سنت، قومی دفاع اور سائنس اور ٹیکنالوجی شامل تھے
10:42زمینوں پر سرکاری کنٹول کم کر کے
10:44کسانوں کو اپنی فصلے بیچنے اور نفع کمانے کی اجازت دے دی گئے
10:50نجی کاروبار شروع کرنے کی آزادی دی گئے
10:53چین کی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی سرمایہ کاری کی اجازت بھی دی گئے
10:57شینجن جیسے شہروں میں خصوصی معاشی زون بنائے گئے
11:01جہاں مغربی کمپنیوں نے فیٹریہ لگائیں
11:04یوں ڈنگز یاو پنگ جدید چین کے مرکزی معمار بن گئے
11:08انہوں نے ماؤزہ تنگ کی تصفیر کو ان کے نظریات کو اچانک نہیں گرائیا
11:13اچانک تبدیل نہیں کیا
11:15نہ یہ اعلان کیا کہ ماضی کے ہر چیز غلط تھی
11:17چینی قیادت نے ایک انتہائی محتاط راستہ اختیار کے
11:21ماؤزہ تنگ عظیم لیڈر تھے
11:25لیکن ان سے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں
11:28یہ صرف نظریاتی فیصلہ نہیں تھا
11:30بلکہ سیاسی حساب کتاب بھی تھا
11:32نئی چینی قیادت کو یہ فکر بھی تھی
11:34کہ اگر ماؤ کی علامت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا
11:38تو کہیں پورا سیاسی نظام ہی نہ بکر جائے
11:41اور اس وقت چین کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت تھی
11:44وہ تھی نظم و ضب چینی قوم کی یک جہتی
11:48ڈنگز یوں پنگ دوبارہ انتشار نہیں چاہتے تھے
11:51ان کا پیغام تھا انتشار ختم کرو
11:54اور نظم و ضبط کو بحال کرو
11:57یہی وہ مقام تھا جہاں چین نے اپنی اصلاحاتی سفر کا
12:01بنیادی اصول تیہ کیا
12:03یعنی معاشی پالیسیاں ضرور بدلیں گی
12:06لیکن سیاسی اقتدار کیمنس پارٹی کے پاس ہی رہے گا
12:10چین میں کسی کو سیاسی پارٹی بنانے کی اجازت نہیں ہوگی
12:16چین نے ایک مختلف راستہ چنا
12:18پہلے خوراک پھر فیکٹریاں اور پھر سڑکیں
12:22پھر برامدات اور پھر ترقی
12:25اقتدار اسی پارٹی کے پاس رہے گا
12:27جہاں پہلے تھا کیمنس پارٹی کے پاس
12:29عظیم چینی کہے ڈنگز یوں پنگ ایک اور حقیقت بھی سمجھ چکے تھے
12:33منصوبہ بد معیشت لوگوں کو متحرک کر سکتی ہے
12:36فیکٹریاں قائم کر سکتی ہے
12:38اور وسائل ایک جگہ جمع کر سکتی ہے
12:40لیکن وہ چین کو مطلوب رفتار پیدا نہیں کر سکتی ترقی کی
12:44چین کے پاس آبادی تھی
12:46نظم و ضب تھا
12:47ایک مضبوط ریاست تھی
12:48لیکن ترقی کی رفتار نہیں تھی
12:51دوسری طرف جنوبی کوریا
12:53ٹائیوان ہانگ کانگ اور سنگاپور نے
12:55دنیا کو ایک نیا راستہ دکھایا تھا
12:58ان کے پاس تیل کے وسیع زخائد نہیں تھے
13:00نابے پناہ کوئی قدرتی دولت تھی
13:02مگر وہ تیزی سے ترقی کر رہے تھے
13:04ان کا اصل سرمایہ انسان تھا
13:07مینٹی نظم و ضبط رکھنے والے
13:09اور طویر اوقات تک کام کرنے والے لوگ
13:11جنہیں بہت سے ہونر آتے تھے
13:14چین نے غور کیا
13:15کہ اگر یہ موڈل
13:16چھوٹے ممالک میں
13:17سنگاپور، تائیوان
13:18وہ کامیاب ہو سکتا ہے
13:19یہ والا موڈل
13:21تو ایک عرب انسانوں کے ملک میں
13:23اس کا نتیجہ کیا ہوگا
13:25چین میں اگر یہ موڈل اختیار کر لیا جائے
13:27یہی وہ سوال تھا
13:28جس نے چین کی سمت بدل دی
13:32ڈیانگ دونگ پینک کا
13:34ایک مشہور جملہ ہے
13:36اسی سوچ کی وہ نمائندگی کرتا ہے
13:38بلی کالی ہو یا سفید
13:41اگر وہ چوہیں پکڑتی ہے
13:42تو اچھی بلی ہے
13:43یہ پھر بہت مشہور ہوتا ہے
13:45ان کا یہ پوری دنیا میں
13:46یہ بظاہر ایک سادہ مہاورہ تھا
13:48مگر حقیقت میں یہ پرانے نظریاتی
13:50جمعوت کے خلاف ایک اعلان تھا
13:52اگر منڈی کام کرتی ہے
13:53تو اسے استعمال کرو
13:57تو اسے اجازت دو کاروبار کرنے کی
13:58اگر غیر ملکی سرمایہ کار
14:00سرمایہ فیکٹیاں بنا سکتا ہے
14:02لوگوں کو روزگار دے سکتا ہے
14:03تو اسے چین میں آنے دو
14:05یوں چینی مسخصوصیات کا حامل
14:07سوشلزم وجود میں آیا
14:08یہ ایک اپنی علیدہ قسم کا
14:10سوشلزم کیمنزم تھا
14:12سرک پرچم پر قرار رہا
14:14کیمنز پارٹی قائم نہیں
14:15لیکن اس کے نیچے منڈی
14:17نجی ملکیت حرکت کرنے لگی
14:19دسمبر 1978 میں
14:21بھیجنگ میں کیمنز پارٹی کا
14:22ایک اہمہ جلاس ہوا
14:23بظاہر یہ خوشک اور دفتری
14:25نویجر کا سیاسی جلاس تھا
14:27لیکن حقیقت میں اس کے ساتھ
14:29چین کے ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا تھا
14:32اسلاحات اور کھلے پن کا دور
14:35چین نے یہ اعلانی کیا کہ
14:36وہ سرمایہ داری نظام قائم کر رہے ہیں
14:38اس نے یہ بھی نہیں کہا کہ
14:39سوشلزم یا کیمنزم ناکام ہو چکا ہے
14:42پرانے سیاسی نشان بھی برقرار رہے ہیں
14:45اس کے بجائے نظام کے اندر
14:47معاشی نتائج کی اہمیت تبدیل کر دی
14:49اب سوشلزم کو صرف نعرے نہیں
14:51بلکہ چامل
14:53اجرت فیکٹری بجلی
14:55سڑک برامداد اور معاشی
14:57ترقی پیدا کرنے تھی
14:59چینی رینمار ڈنگز یاپنگ
15:01کو کوئی خوبصورت نظریہ نہیں چاہیے تھا
15:03انہیں ایسا نظام چاہیے تھا
15:05جو کام کرے ہیں
15:06چین نے ایک ہی چھلانگ میں تبدیلی کا
15:09راستہ اختیار نہیں کہہ رات و رات
15:10پورا نظام بدل گئے
15:12اس نے تجربہ کیا
15:13ایک جگہ آزمایا
15:14اس کا نتیجہ دیکھا
15:15اگر وہ تجربہ کامیاب ہوا
15:18تو اسے پھیلائے
15:19اگر ناکام ہوا
15:20تو اسے وہیں روح دیا
15:21چینی قیادر نے
15:23اس عمل کو
15:24ایک خوبصورت مثال سے بیان لیا
15:26پتھروں کو ٹوٹولتے ہوئے
15:28دریہ پار کرنا
15:29لیکن اس تجربے کا پہلا بڑا موجزہ
15:32بیجنگ کی کسی وزارت
15:34کسی بڑے سرکاری فیکٹری
15:36کسی طاقتور سنتی شہر
15:39بڑے شہر میں نہیں ہوا
15:39یہ موجزہ ایک گاؤں میں شروع ہوا
15:42گاؤں میں انہوں نے تجربہ کیا
15:44انیس سو ستر کی دیائی کے آخر میں
15:45چین اب بھی ایک دہی تہذیب تھے
15:49تقریبا اسی فیصد آبادی دیاد میں رہتی تھی
15:52چین کی
15:52اور جب تک دیاد سے غربت نہیں نکلے
15:54چین کے لئے امیر بننا ممکن ہی نہیں تھا
15:56ترقی کرنا ممکن ہی تھا
15:58چین پہلے ہی ذری ناکامی کی خوفناک قیمت
16:01ادا کر چکا تھا اگر آپ کو یاد ہو
16:03آپ نے پڑھا ہوگا کتاب میں
16:04گریٹ لیف فارورڈ کے دورا ملک ایک
16:07تباکن قہد کا شکار ہوتا چین
16:09اور اندازے کے مطابق دو سے
16:11تین کروڑ افراد
16:12مارے گئے تھے بھوک سے روٹی نہیں ملیتی انہیں
16:16جس طرح ایک معاشیہ سیاسی
16:17غلطی نہیں تھی بلکہ بیس وی صدی کے
16:19بدترین انسانی علمیوں میں
16:22شمار ہونے والا واقعہ تھا
16:23چین نے اسے ایک تلخ سبق سیکھا
16:27اگر
16:28زراد نہ کام ہو گئی تو سب کچھ
16:30نہ کام ہو جائے گا نہ سند بچے گی
16:32نہ استقام آئے گا نہ سیاسی جواز
16:34اور نہ مستقبل
16:35سب کچھ ختم ہو جائے گا اس لئے
16:37اس لحات کا آغاز فلک بوس
16:39امارتوں سے نہیں بلکہ زراد سے
16:42ایگری کلچر سے ہوا
16:43اس وقت کسان کیمنیون سسٹم
16:46میں اجتماعی طور پر کام کرتے تھے
16:48کیمنیزم میں مل کے سارے کام کرتے تھے
16:50محنت بھی اجتماعی تھی پیداوار کا
16:52کوٹہ اجتماعی اور ذمہ داری بھی اجتماعی
16:54لیکن جب نتیجہ آپ جانتے ہیں
16:56سب کا ہو تو اکثر کسی ایک کا نہیں رہتا
16:58اس میں ذمہ داری کسی کے نہیں ہوتی کیونکہ
17:00سب کام کر رہے ہیں مل کے
17:01سوال پیدا ہو کہ اگر زیادہ محنت کا فائدہ بھی
17:04اجتماعی خزانے میں جانا ہے
17:05تو کسان زیادہ محنت کیوں کرے گا
17:08سادہ سی بات ہے اگر آپ کو
17:10مجھ کو تنخواہ اتنی ہی ملے لیکن
17:12ہم سے کام جائے وہ آٹھ گھنٹی کے
17:22دہائی طاقتور تبدیلی کی
17:23زمین کو نیجی ملکیز میں
17:25نہیں دیا گیا لیکن خاندانوں
17:27کو مہائدے کے تحر زمین پر
17:29کاشت کرنے کی اجازت یہ گی
17:31کہ یہ زمین ہے یہ ایگریمنٹ ہے
17:33آپ زمین لے لیں اور اپنی زراد
17:35شروع کریں پیداوار شروع کریں
17:37ریاست کو ایک مقررہ مقدار میں
17:39پیداوار دینا ضروری تھا
17:41لیکن اس کے پاس جو کچھ بچتا
17:43کسان کے پاس اسے کسان
17:45یا اس کا خاندان اپنے پاس رکھ لیتا تھا
17:47اور بیج دیتا تھا
17:49یہ ہاؤس ہورٹ رسپونسیبیلیٹی سسٹم تھا
17:51پھر ایسا محسوس ہوا ہے
17:54جیسے زمین زندہ ہو گئی
17:55اگری کلچر میں انقلاب آ گیا
17:57جہاں پہلے صرف ذمہ داری تھی وہاں اب ترغیب تھی
18:01جہاں بیج دلی تھی وہاں حساب کتاب تھا
18:03جہاں غربت تھی وہاں امید پیدا ہوئی
18:05آمدنی بڑھ گئی کئی گناہ آمدنی بڑھ گئی
18:07کسانوں کی نتائی جل سامنے آئے
18:10انیس سو پچاسی تک
18:11ذری پیداوال میں تقریباً
18:13ایک تہائی اضافہ ہو چکا تھا
18:16چینی دھیاد میں بھوک
18:17اب پہلے جیسا مستقل سایا نہیں رہی تھی
18:20لوگ صدر زندہ رہنے کے بجائے
18:22بہتر خوراک استعمال کرنے لگے
18:24اور بچ بھی جاتی تھی
18:25بعد کے برسوں میں گوشت اور دگر
18:27کبھی استعمال شروع ہو گیا
18:28اس میں بھی غیر معمولی اضافہ ہو گیا
18:30یہ صرف کھانے کی عادت بدلنے کی بات نہیں ہے
18:33یہ اس بات کا ثبوت تھا
18:35تاکہ ایک پوری تہذیب
18:36دائمی غربت کے سائے سے نکر رہی تھی
18:39چار کروڑوں لوگ بھوک سے مر چکے تھے
18:41فاقوں سے کہت سے مر چکے تھے
18:43لیکن چین کا معاشی نظر انقلاب
18:45صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہا
18:48دھیاد میں فیکٹریہ لگنی شروع ہو گئے
18:50دنیا کی جو فیکٹری ایک رات میں نہیں وجود گیا ہے
18:53اس سے پہلے ہزاروں چھوٹے کاروبار
18:55چھوٹی ورکشاپے
18:56سنتی یونٹس
18:57دہی علاقوں اور چھوٹے شہروں میں قائم ہوئے
18:59انہیں
19:00ٹاؤنشپ اینڈ ویلیج انٹرپرائزز کا نام دیا
19:03یہ کپڑے بناتے تھے
19:05اوزار تیار کرتے تھے
19:07تعمیراتی سمان
19:08مشینوں کے پرزے
19:09اور گھریلو اشیاں تیار کرتے تھے
19:11اور یہ اتنی کوئی خاص بھی نہیں ہوتی تھی
19:14کہ کوئی عالمی شورت جاتا ہے
19:16یہ برانٹس ہوتے نہیں
19:16کہ بہت بڑے کوئی میعان ہوتا ہے
19:18لیکن انہوں نے ایک بہت اہم کام دیا
19:20انہوں نے کسانوں کو
19:21سنتی مجدوروں میں تبدیل کرنا شروع کر دیا
19:23ایک شخص گاؤں کے قریب رہتے ہوئے
19:26فیکٹری میں کام کر سکتا تھا
19:28اجرت تنخواہ حاصل کر سکتا تھا
19:30پیسے ہی ملتے تھے
19:30سنتی نظم و ذات اس نے سیکھ لیا
19:33ٹائم کی پابندی
19:34ڈسپلن سیکھا
19:35اور کیش معیشت کا حصہ بن گیا ہو
19:37اسے پہلی بار محسوس ہوا
19:39کہ اس کی میند
19:40اس کی زندگی بدل سکتی ہے
19:42اسے پیسے ہی مر رہے
19:43اسے اپنی خواہشات پوری کر رہے
19:44خوشیاں خریر رہے
19:46مقامی حکام کو بھی ترقی میں
19:48اپنا فائدہ نظر آنے لگا
19:49اگر ظلے میں
19:50فیکٹریہ لگی
19:51کاروبار منافع کمائیں
19:52اور روزگار پیدا ہو
19:54تو مقامی اقتدار ظاہر ہے
19:55لوکل باڈی سسٹرم مضبوط ہوتا ہے
19:57اور وہاں بھی چین میں بھی ایسے ہوا
19:58یوں ایک عجیب
20:00مگر طاقتور معاشی انجن وجود میں ہے
20:02حکام ترقی چاہتے تھے
20:04فیکٹریہ منافع مزدور جو تھے
20:06اور وہ آمدنی اور دھیات
20:08غربت سے نکلنے کا راستہ
20:10جو سب چاہتے تھے انہیں ملتا گیا
20:12یہ نظام ہمیشہ صاف
20:14منصفانہ بھی نہیں تھا
20:16بدنوانی بھی ہوئی
20:18عدم مصابعات بھی بڑی
20:20لیکن اس کے باوجود
20:21یہ طاقتور نظام صاحب میں تو
20:23انتہائی کامیہ ہوا
20:24چین نے سنتی انقلاب
20:26اپر سے نہیں کیا
20:27بلکہ یہ انقلاب نیچے سے اوپر گیا
20:29ورک شاہب دھیات
20:31اور چھوٹے شہروں میں اغاؤ ہوا
20:32لیکن چین کو معلوم تھا
20:34کہ صرف اندورونی
20:37توانائی تبدیلی کافی نہیں
20:38اسے چین کو ٹیکنالوجی چاہیے تھے
20:40جو اس کے پاس نہیں تھی
20:41سرمایہ چاہیے تھا
20:43جو اس کے پاس نہیں تھا
20:44اور عالمی منڈیوں تک رسائی چاہیے تھے
20:46اور پھر ایک کیمنس ملک نے
20:48وہ قدم اٹھایا ہے
20:49جو ایک وقت میں
20:50ناقابل تصور سمجھا جاتا تھا
20:53چین نے غیر ملکی سرمایے کے لیے
20:56دروازہ بنا کھول دیا
20:58جنوبی چین میں خصوصی اقتصادی
21:01زونز قائم ہونے لگے
21:02شینزین، زوہائی، شانتو
21:04اور شیامین
21:05مستقبل کی تجربہ گاہیں بن گئے
21:08یہاں باقی چین کے مقابلے میں
21:10زیادہ تجارت
21:11زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری
21:13زیادہ کاروباری سرکمی
21:14اور زیادہ منڈی کی اجازت دی
21:16چین نے پورا ملک ایک ہی وقت میں نہیں کھولا
21:19اس نے پہلے چند کھڑکیاں کھولی
21:21پھر نتائی دیکھیں
21:23اگر تجربہ کامیاب ہوتا
21:24تو اسے پھیلایا جاتا ہے
21:26اور اگر ناکام ہوتا
21:27تو اسے محدود کر دیا جاتا ہے
21:29روک دیا جاتا ہے
21:30ان کھڑکیوں میں
21:31سب سے مشہور
21:32شینزین تھی
21:33ابتدا میں
21:34یہ ہانگ کان کے قریب
21:36ایک گریب چھوٹا سا سردی علاقہ تھا
21:38لیکن چند دہائیوں بعد
21:40یہی جگہ
21:40ایک ایسے میگا سٹی میں تبدیل ہو چکی ہے
21:43جنہوں نے دیکھا ہی شہر
21:44جس کے بعد ہی دو کروڑ کے قریب پہنچ گئی ہے
21:47اور دنیا کے جدید شہروں میں شمار ہوتا ہے
21:50ایک گریب سردی علاقے دنیا کے انتہائی
21:52متحرک شہری مراکز میں بن گیا
21:54یہ سفر شاید چین کی اصلاحات کا
21:56سب سے نمائیہ سبور تھا
21:58ایک طرف ہانگ کانگ تھا
22:00سرمایہ تجربہ
22:01عالمی روابط
22:02اور کاروباری نیکٹ پر دوسری طرف چین تھا
22:04بہت بڑا سستہ
22:06ترقی کے لیے بے چین تھا چین
22:08شنزین وہ مقام بن گیا جہاں یہ دونوں
22:10دنیایں ملیں پہلے فیکٹری آئیں
22:12پھر لوجسٹکس پھر الیکٹرونکس
22:14اور پھر ٹیکنالوجی
22:16شنزین چین کی علامت بن گیا
22:18لیکن اس تجربے نے ایک خطرناک
22:20سوال کا جواب بھی دے دیا
22:22اگر لوگوں کو معاشی آزادی
22:25مل جائے لیکن سیاسی آزادی
22:27نہ دی جائے تو کیا ہوگا
22:30چین کا جواب واضح تھا
22:32لوگ تیزی سے تعمیر کریں گے
22:34محنت کریں گے اور معاشی
22:36ترقی کی رفتار بڑھائیں گے
22:38چین نے ایشیای ٹاگیٹ
22:41سے ایک اور سبق سکھا تھا
22:42برامدار یعنی ایکسپورٹ
22:44اگر کسی ملک کے پاس
22:46تیل کے وسیع زخائد نہ ہو
22:48قدرتی دولت نہ ہو
22:50اور آسان وسائل سے آمدینی
22:52نہ آتی ہو تو اسے سب سے
22:54بڑے سرمایہ کو استعمال کرنا ہوگا
22:57چین کا سب سے
22:58بڑا سرمایہ کیا تھا بھلا
23:00اس کی افرادی قوت اس کے لوگ
23:02کروڑوں لوگ
23:04لاکوں نہیں تھے کروڑوں تھے
23:06میند کرنے والے تھے
23:07ان کو کچھ نہ کچھ
23:08وہ سیکھ چکے تھے گاؤں میں رہ کے
23:10چھوٹے موٹے کاروبار
23:11چھوٹے موٹے کام
23:12خام مال چین آیا
23:14ٹیکنولوجی آئی
23:15سرمایہ آیا
23:16اور تیار شدہ
23:17اس کی جو مسنوعات تھی
23:18وہ پوری دنیا میں جانے لگیں
23:19کپڑے
23:20جوتے
23:21کھلونے
23:21پلاسٹیک کے مسنوعات
23:23فرنیچر
23:23گھرلولات
23:24الیکٹرونکس
23:25اور اب تو
23:25دفاعی سمان
23:26جہاز
23:27ہر چیز جا رہی ہے چین سے
23:28انیس سو نوے اور دوزار کی دیائی تک
23:30میڈ ان چائنا
23:32عالمی تجارت کے
23:33عام تنین الفاظ میں
23:34شامل ہو چکا تھا
23:35ہر وے کو پتا تھی
23:36میڈ ان چائنا ہے
23:36ڈیمان بڑھ گئی تھی
23:38یورپ کے جوتوں پر
23:39امریکہ کے کھلونوں پر
23:40ایشیا کے الیکٹرونکس پر
23:41افریقہ کے فرنیچر
23:43لاتینی امریکہ کے
23:44آزاروں پر
23:45چین کی مہت نظر آنے لگی
23:47چین صرف اشیا برام نہیں کر رہا تھا
23:49دنیا کو ایک نئی حقیقت دے رہا تھا
23:51اگر سپلائی چین
23:52چین سے گزرے
23:54تو تقریبا ہر چیز
23:55زیادہ سستی
23:56تیزی سے
23:57اور زیادہ مقدار میں
23:58تیار کی جا سکتی ہے
23:59جو دنیا کا کوئی ملک
24:00تیار نہیں کر سکتا
24:03بندرگائیں
24:03اس تبدیلی کی
24:04علامت بن گئی
24:05کانٹینرز نے
24:06ناروں کی جگہ لے لی
24:07کارگوہ بہری جال
24:08نئی تجارتی شاہرائے
24:09بن گئے
24:10ہر کانٹینر دنیا کو
24:12ایک ہی پیغام دیتا تھا
24:13چین عالمی معیشت میں
24:15داخل ہو چکا ہے
24:16صرف ایک میمان کے طور پر نہیں
24:17بلکہ ایک پیداواری
24:19طاقت کے طور پر
24:20لیکن اس کامیابی کے پیچھے
24:21انسان بھی تھے
24:22دھیا سے آنے والے
24:23نوجوان
24:23مزور
24:24فیکٹریوں کے ہسٹل
24:25طویل شپتے
24:26مشہینوں کا شو
24:27اور گھروں کو بھیجی جانے والی
24:28تنخائیں
24:29اجرتیں
24:29اور وہ بچے
24:30جو والدین کے بجائے
24:31دادا دادی
24:32نانا نانے کے ساتھ
24:33بڑے ہوئے تھے
24:34کیونکہ والدین
24:35تو فیکٹریوں میں
24:35کام کرتے تھے
24:36دن رہ
24:36یہ کوئی پریوں کی
24:38کہانی نہیں تھی
24:39یہ سخت اور مشکل
24:40سفر تھا چین کا
24:41لیکن
24:42کروڑوں لوگوں کے لیے
24:43اس کا ایک ہی مطلب تھا
24:44گروبت سے نکلنے کا راستہ
24:46ہم نے بھوک سے نہیں مرنا
24:48چین کے معاشی موجہ
24:50کے سب سے
24:51غیر معمولی بات یہ تھی
24:52کہ اس نے منڈی کو
24:53اجازت دی
24:54لیکن اقتدار نہیں چھوڑا
24:55کیمنس پارٹی برقرار رہی
24:57سرخ پرچم برقرار رہی
24:59سوشلی زبان برقرار رہی
25:01اور سیاسی کنٹرول بھی
25:02برقرار رہی
25:02صرف معیشت کا انداد
25:04بدل گیا
25:04فیکٹری کا مینیجر
25:06اب صرف سرکاری منصوبہ
25:07پورا نہیں کرتا تھا
25:08وہ منافعہ کا حساب لگاتا تھا
25:10مقامی افسر صرف
25:11بیجنگ کے احکامات
25:13کا انتظار نہیں کرتا تھا
25:13وہ سرمایہ کار تلاش کرتا تھا
25:15انویسٹر رونتا تھا
25:16کسان صرف
25:17اپنے جو اس کی پیداوار تھی
25:19اناج تھا
25:19ریاست کے حوالے نہیں کرتا تھا
25:20وہ اضافی پیداوار
25:22مارکیٹ میں فروت کرتا تھا
25:23کاروباری شخص
25:24اب لازمان دشمن نہیں تھا
25:26جس طرح کیمنیزم میں
25:27سمجھا جاتا تھا
25:28کہ سرمایہ کار دشمن ہوتا ہے
25:30انسان کا
25:31وہ ترقیقہ حصہ بن گیا تھا
25:33نیو چین میں
25:34ایک دوری حقیقت پیدا ہو گئی
25:35سرکاری طور پر
25:36سوشلزم
25:37لیکن عملی طور پر
25:38مارکیٹ کے
25:39زیادہ سے زیادہ اصول
25:40منصوبہ بندی کے ساتھ
25:42مقاملہ
25:42منافع برامداد
25:44اور نجی کاروبار
25:45لیکن ریاست غائب نہیں
25:47ریاست کا مضبوط کنٹرول رہا
25:48اس کے پر
25:50ریاست جو تھی نا
25:51وہ معیشت کی مومار بن گئے
25:52خود بنانے لیں
25:54پہلے چین کے اندر
25:55بڑی بڑی شہرائیں بنی
25:56بندرگاہیں بنی
25:57بجلی گھر بنے
25:58سنتی زونز بنیں
26:00ریلوے پھیلیں
26:01اور نئے شہر
26:02تعمیر ہوئے
26:03اس کے بعد چین نے
26:04اپنے
26:04اس تجلوے کو
26:06دوست مالک میں
26:07بیلٹ اینڈ روڈ
26:08سنتی منصوبوں
26:09اور سی پیک منصوبوں
26:10کی بنیاز رکھی
26:11پاچستان بھی
26:12ان میں شامل ہے
26:13ہمارا بڑا
26:14کہنا رشتہ چین کے ساتھ
26:15چین کی مارکیٹ
26:17مغربی معنیوں میں
26:18ازاد منڈی
26:19نہیں سمجھ جاتی
26:20یہ ایک منظم منڈی
26:21جسے چلنے کی
26:22اجازت تھی
26:23لیکن اسے
26:23مکمل اختیار
26:24حاصل نہیں تھا
26:25وہ خود
26:26ملک کی سمت
26:27کوئی سرمایہ دار
26:28کوئی کمپنی
26:29ملک کی سمت
26:30پالیسی نہیں
26:30بنا سکتے
26:31اور پھر
26:32معاشی اصلاحات
26:32نے ایک اور
26:33چیز کو بھی
26:33پیدا کر دی
26:341989 میں
26:35چین ایک بڑے
26:36سیاسی بہران
26:37سے دوچار ہوا
26:38بیجنگ میں
26:39نوجوانوں
26:40اور دانشونوں
26:41کا اتجاج تھا
26:42معاشرے کے
26:43ایک حصے کے لیے
26:44معاشی اصلاحات
26:45اب کافی نہیں تھی
26:46سوال اٹھا
26:47کہ اگر
26:47معیشت بدل سکتی ہے
26:48تو سیاست کیوں
26:49نہیں بدل سکتی ہے
26:50اگر چین
26:51دنیا کے لیے
26:52کھل سکتا ہے
26:53تو اقتدار
26:53عوام کے لیے
26:54کیوں نہیں کھل سکتا
26:55اگر منڈی
26:57لوگوں کو
26:57کمانے کی
26:58ازادی دے سکتی ہے
26:59تو اظہار رائے
27:00کی ازادی کیوں نہیں
27:01کیوں نیوز چینلز
27:02اور ازاد
27:03اخبارات
27:03شروع ہو سکتے ہیں
27:04کیمنس پارٹی
27:05کے مقابلے میں
27:06دیکھر سیاسی
27:07جماعتیں بنانے
27:08کی اجازت کیوں نہیں
27:10ریاست نے
27:11طاقت کا استعمال کیا
27:12اور مغربی
27:14ممالک کی
27:15ہامائے جاتا ہے
27:15اس تحریک کو
27:16کچل دیا گیا
27:17پاکستان نے
27:19اس وقت بھی
27:19چین کیا ساتھ دیا
27:20مغرب کا
27:21امریکہ کا
27:22یعنی لوگوں کا
27:22ساتھ نہیں دیا
27:23جب سب وہاں
27:24نظام تبدیل کرنا
27:25چاہتے تھے
27:25پاکستان چین کے
27:26قومت کے ساتھ
27:27کھڑا تھا
27:27اس وقت کچھ
27:29کیمنس رینماوں نے
27:30سوال اٹھایا
27:31کہ غیر ملکی
27:32چین میں
27:33سمایہ کاروں کو
27:34رکھا جائے
27:34چین کے اندر
27:35کیونکہ مغربی
27:36سمایہ کار
27:36اپنے ساتھ
27:37سیاسی ایجنڈا
27:38لے کے آ رہے ہیں
27:39لیکن پھر
27:39چینی رینما
27:40ڈیونگ زونپنگ
27:41نے ایک ایسا
27:42قدم اٹھایا
27:43جس نے
27:43چین کی سب
27:44دوبارہ تیہ کر
27:45یعنی چین
27:46اپنے راستے
27:47بھٹک سکتا تھا
27:48لیکن
27:48ڈیونگ زونپنگ
27:49نے قائم رکھا
27:50انیس سو بانے میں
27:51وہ جنوبی چین
27:51کے دور پر چلے گئے
27:52شنزین
27:53گونگ زون
27:54اور وہ اقتصادی
27:55زون جہاں
27:56اسلاحات
27:56اپنی طاقت
27:57دکھا چکی تھی
27:57یہ صرف
27:58ایک صرف
28:00عمر رسیدہ
28:01سیاستدان کا
28:02دورہ نہیں تھا
28:02یہ
28:02بلکہ
28:03ملک پورے چین
28:04کے لیے ایک پیغام تھا
28:05کہ اب رکنا نہیں ہے
28:06آگے بڑھنا
28:07ترقی کرنی ہے
28:08ترقی چین کی
28:09ترجی ہے
28:10معاشی نمود
28:11ترجی ہے
28:12اگر منڈی چین
28:13کو مضبوط
28:13بناتی ہے
28:14تو منڈی
28:14سرمایہ کا
28:15دشمن نہیں
28:16ڈنگ کا
28:17پیغام واضح ہے
28:18کہ اگر چین
28:19غربت سے زیادہ
28:19منڈی سے
28:20ڈرے گا
28:20تو وہ دوبارہ
28:21ہار جائے گا
28:22وہ دوبارہ
28:23غربت میں چلا جائے گا
28:24جنوبی طورے کے بعد
28:25اسلاحات نے
28:26نئی رفتار پکڑ لی
28:27چین نے فیصلہ کر لیا
28:28کہ واپس نہیں جانا
28:29کھڑکیاں
28:30بند نہیں کرنی
28:31اور خوف کے وجہ
28:32جیسے ترقی کا
28:33گلہ نہیں گھوٹنا
28:34کہ مغرب
28:35چین کے اندر
28:35کیا کر دے گا
28:36اس کے بعد
28:37چین اس کردار کی طرف
28:38تیزی سے بڑا
28:39جو پوری دنیا کی
28:40معیشت کو
28:40بدلنے والا تھا
28:42پھر دوزار ایک آیا
28:44جب چین
28:45عالمی تجارتی تنظیم
28:46یعنی
28:46ورلڈ ٹیر آرگنیزیشن
28:48کا رکن بھی بن گیا
28:49بظاہر یہ ایک معمولی
28:50کا صفارتی
28:51واقعہ تھا
28:51کوئی بڑی بات
28:52نہیں
28:52لیکن حقیقت میں
28:53یہ اکیسٹوی صدی کی
28:55معاشی ترقی کے لیے
28:56اہم ترین موڑوں میں
28:57سے ایک تھا
28:58چین کے لیے
28:58یہ وہ لمحہ تھا
29:00جب چین کا
29:00فیکٹری مادل
29:01علاقائی سطح سے
29:03نکل کر
29:03عالمی سطح پر
29:04پہنڈ گیا
29:06دنیا کی
29:07بڑی کمپنیوں نے
29:08چین میں
29:08سستی مینت
29:09بہتر انفرسٹیکچر
29:11سیاسی استعقام
29:12اور عالمی
29:12تجارتی
29:13قوانین تک
29:14نسائی دیکھ
29:14اور فیصلہ کیا
29:15کہ اپنی
29:16فیکٹرییاں
29:16اپنی پیداوار
29:17چین منتقل
29:18کیجئے
29:19کر دی جائے
29:20بڑی بڑی
29:21فیکٹرییاں
29:22چین آگئی
29:23ایک کے بعد
29:24ایک صدر
29:24چین کی طرف
29:25آنے لگی
29:25ٹیکسٹائل
29:26ایکٹرون
29:26فرنیچر
29:27مشینری
29:28سارے دنیا
29:29جو ہے
29:29وہ چین کی طرف
29:31چین وہ
29:33جگہ بن گیا
29:34جہاں دنیا
29:35آ کر
29:35مصنوعات
29:36تیار کرنے لگی
29:36اور دنیا
29:37وہ منڈی بڑھ گئی
29:38جہاں
29:39چین میں
29:39جو تھی
29:40اس کی مصنوعات
29:40فروخت ہونے لگی
29:41اور منافع
29:42چین کو ملنے لگا
29:43بندرگاہیں پھیلی
29:45سپلائی چین
29:45چین کی طرف آئی
29:46کنٹینر سمندر
29:48بور کرنے لگیا
29:49اور کروڑوں
29:49مزدور
29:50پوری دنیا کے لئے
29:51چین کے اشیاء
29:52تیار کرنے لگے
29:53دنیا کو
29:54سستا مال چاہیئے تھے
29:55چین نے
29:55سستا مال
29:56بنا دیا
29:56دنیا کو
29:57تیزی چاہیئے تھے
29:58چین نے
29:58تیزی سے
29:59پیداوار شروع کر دی
30:00دنیا کو
30:01بہت زیادہ چاہیئے تھے
30:02چین نے
30:02زیادہ پیدا کرنا
30:03شروع کر دی
30:04چین صرف
30:05گلوبالائزیشن میں
30:06شامل نے ہوا
30:07وہ گلوبالائزیشن کے
30:08بڑے انجنوں میں
30:09شامل ہو گیا
30:10دنیا کو لیڈ کی
30:11اور پھر
30:11دنیا نے
30:12ایسی حقیقت
30:13دریافت کی
30:14جو کسی حد تک
30:15خوفناک بھی تھی
30:16اگر
30:17چینی ایفیکٹیاں
30:18رک جائیں
30:18تو دنیا کا
30:19ایک حصہ بھی
30:20رک جائے گا
30:21دنیا کا کیا بنے گا
30:22چین پیداواری
30:22بند کر دے
30:23کیونکہ ساری دنیا
30:25تو چین پر
30:25ڈپینڈ کر رہی ہے
30:26اسفر
30:26یہ طاقت
30:28ایک نئی قسم کی تھی
30:29صرف فوجی طاقت
30:30نہیں صرف سیاسی طاقت
30:31نہیں
30:31بلکہ سنتی طاقت
30:32ایک ایسے
30:33ملکی طاقت
30:34جو عالمی سپیائی
30:35چینز کے اہم حصوں
30:45دنیا کے لیے
30:45حیران پڑنا ہے
30:46آج امریکہ بھی
30:48چین کا مکروز ہے
30:50گزشتہ سال
30:51دوہزار پچیس
30:52کے اقتصام تک
30:52چین میں تقریبا
30:53چالیس کروڑ
30:55گاڑیاں موجود تھے
30:56اور اس سال
30:56دوہزار چھپیس میں
30:57چین نے پچھلے
30:58تمام ریکارڈ توڑ گیا
30:59سائیکلوں کے ملک سے
31:00ہائی ویس کے ملک تک
31:01دہی راستوں سے
31:02ایکسپریس ویس پلو
31:03سرنگو
31:04اور میگا سٹیز تک
31:05چین بلکل
31:06بدل چکا ہے
31:07اس سال دوہزار چھپیس
31:08میں چین میں
31:09پانچ سو سے زیادہ
31:10عرب پتی
31:11اور ساٹھ لاکھ سے
31:11زیادہ
31:12کروڑ پتی موجود ہے
31:13جو ڈالروں میں
31:14کروڑ پتی عرب پتی ہے
31:15ایک ایسا ملک
31:16جہاں کبھی
31:17کروڑوں لوگ
31:18بھوک کے سائے میں
31:18زندگی گزار رہے تھے
31:19اب وہ کروڑوں لوگ
31:21عمرہ کے طبقے میں
31:22داخل ہو چکے ہیں
31:23اور کچھ عالمی
31:24اشرافیہ کا حصہ
31:26بن چکے ہیں
31:27چین کا معاشی موزہ
31:29کوئی پریوں کی
31:30کہانی نہیں
31:31یہ صرف
31:32کہانی بھی نہیں
31:33ایک ملک نے
31:34منڈی کھولی
31:35اور اچانک
31:36امیر ہو گیا
31:37یہ خوف
31:38بھوک
31:39نزم وزد
31:39عملی سوچ
31:40کروڑوں
31:40مزدوروں
31:41دھیا سے اٹھتی
31:42فیکٹریوں
31:42اور گھیتوں سے
31:44نکلتے شہروں کی
31:45کہانی ہے
31:46یہ یقین کی
31:47ترقی کی کہانی
31:48یک جیتی کی کہانی ہے
31:49یہ ایک ایسی
31:50ریاست کی کہانی ہے
31:51جس نے منڈی کو
31:51استعمال کیا
31:52لیکن اقتدار
31:53کبھی اس کے حوالے
31:54نہیں گیا
31:54چین مغرب نہیں
31:56بنا
31:56وہ سوریت
31:57یونین بھی نہیں
31:58بنا
31:58وہ کچھ اور
31:59بن گیا
32:00کیمنزم کے
32:01سرک پرچم کے
32:02نیچے
32:02ازاد معیشت
32:03کیمنز پارٹی
32:05کے حکمرانی کے
32:06نیچے
32:06سرمایہ داران
32:07توانائی
32:07نجی کاروبار
32:09غیر ملکی سرمایہ
32:10اور عالمی
32:11عزائم کے ساتھ
32:11چینی خصوصیات
32:12کا حامل
32:13سوشلزم
32:13چینی سوشلزم
32:15دوستو جب
32:17چین میں
32:17چینی سوشلزم
32:19میں اصلاحات
32:19شروع ہوئی
32:20یہ بھی بڑی
32:20دلچسپ بات ہے
32:21پاکستانے میں
32:22ذرفقار علی بٹو
32:23اسلامی سوشلزم
32:25کا تجربہ کر رہے تھے
32:26انیس سو ستر
32:27کے انتخابات
32:27جیتنے کے بعد
32:28تہتر میں
32:29جب بنافیز
32:30اور وزیراعظم
32:31بنے تو
32:31اسلامی سوشلزم
32:32نافیز ہو گیا
32:33لیکن جنرل
32:34زیاؤلیک نے
32:34انیس سو ستتر
32:35میں ماشاءاللہ
32:36لگا کر
32:36اسلامی سوشلزم
32:37کا بٹو کا
32:38اس کا
32:39لکویٹ دیا
32:40اور
32:41سرکاری تحویل
32:42میں لیے
32:42کہ جو ادارے تھے
32:43ان کی واپسی
32:44شروع کر دی
32:44زیاؤلیک نے
32:45انہوں نے
32:46قوم کو
32:46اسلامی نظام
32:47دینے کا
32:47وعدہ کیا
32:48زیاؤلیک نے
32:49لیکن
32:51چین نے
32:51صرف چالیس سال میں
32:53خود کو نہیں
32:54بدلا
32:54اس نے پوری دنیا
32:55کو بدل کر رہے دی
32:56ہمارے گھر
32:57ہماری گاڑیاں
32:58ہمارا لائف اسٹائل
32:59ہمارے موبائل
33:00ہمارے لیپٹو
33:01ہماری فیکٹریاں
33:02سب کچھ
33:03بدل چکا ہے
33:04ایک وقت تھا
33:05چین ایک گریب ملک کا
33:06جو گربہ سے
33:07نکلنے کا
33:08راستہ
33:08تلاش کر رہا تھا
33:09آج وہ ایسی
33:10طاقت ہے
33:11جو دنیا کی
33:11قیادت کر رہا ہے
33:12اور
33:13اس سب کا
33:14آغاز
33:15ایک انتہائی
33:16سادہ سے
33:16سوال سے
33:17ہوا تھا
33:17زیادہ اہم کیا ہے
33:19اہم چیز
33:20ہے کیا
33:20بلی کا رنگ
33:21یا کہ وہ
33:22چوہ پکڑتی ہے
33:23کہ نہیں
33:24چین نے
33:25چوہ پکڑنے
33:25کا فیصلہ کیا
33:26اور پھر
33:27دنیا پہلے جیسی
33:28نہیں
33:29تاریخ ختم نہیں
33:30ہوتی
33:30تاریخ صرف
33:31اپنی شکل
33:32بدلتی ہے
33:33ہمارے لیے بھی
33:34بہت سے مواقع
33:35ہم بھی پاکستان
33:36کو گربت کی
33:36دلدل سل نکال سکتے
33:38دوستو
33:39اس ویڈیو میں
33:39تنہیں
33:39اگر آپ نے
33:40ابھی تک
33:40ہمارے چینل
33:41کو سبسکرائب
33:42نہیں کیا
33:42تو چینل
33:43کو سبسکرائب
33:44کر لیں
33:44اور ویڈیو
33:44کو بھی
33:45لائک کریں
33:45اور نیچے
33:46کومنٹس میں
33:46اپنی رائے
33:47کا ازار
33:48ضرور کریں

Recommended