00:00سال 2022 سے سندھ بھر کے بلدیاتی اداروں میں متنازع غیر منظور شدہ شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کے خلاف
00:06فنکشنل لیگ آفیسر ایسوسییشن اور لیور ونگ نے احتجاجی مظاہرہ کر کے سابقہ شیڈول کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا
00:13متنازع شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ
00:15لاحظور
00:16پرانا شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ
00:18لاحظور
00:19لاحظور
00:20لاحظور
00:29لاحظور
00:29جسے بلدیاتی اداروں کے لیے زہر قاتل کرا دیا جا رہا ہے
00:33آفیسر ایسوسییشن فنکشنل لیگ لیور ونگ زلہ وستی کے صدر بولے
00:37کانونی اختیارات نہ ہونے کے باعث ایک آفیسر کے ایمہ پر من پسند شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ
00:42مسلط کر کے قومی خزانے کو عرب و روپے کا نقصان پہنچایا گیا
00:46انتظامی اخراجات بڑھنے سے ملازمین بدحال ہوئے اور ترقیاتی کاموں پر فول سٹاپ لگ گیا
00:52دیکھیں سابقہ ادوار میں ایم کی ایم کے ایم اے نے اسامہ قادی صاحب نے ایک پیڈیشن داخل کی تھی
00:58زمیر اباسی کے شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ جو انہوں نے بنایا تھا جو بلکل غیر متنازع ہے
01:04اور جناب علی اس کے حوالے سے ٹاؤنوں پر اضافی بوجھ اتنا زیادہ ہو گیا ہے
01:08کہ ہم تنخواہی نہیں دے پا رہے ہیں اپنی اور دو ادار سولہ سے جو ہے فنڈ جو ہمارا پی
01:13ایف کا جو
01:14جلاس ہونا تھا سین گورنمنٹ کا وہ بھی نہیں ہوا ہے تو اس وجہ سے ہمیں بہت مالی مشکلات بھی
01:19ٹاؤن کو مگر اس شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ پر ہم نے جناب علی کوڈ پیڈیشن کی جس کی
01:23آہ کیا کہیں ہماری قسمت کے اس کی ڈیڑھ بھی وہاں نہیں لگ رہی ہے وہ کیسی نہیں چل رہے
01:27گا
01:28تین سال پہلے حافظ اسامہ قادی جو ایم اے ہیں ایم کی ایم کے انہوں نے ان کی سربراہی میں
01:32ہی پیڈیشن داخل کی گئی تھی مگر چونکہ سین گورنمنٹ اس میں کرنا ہی نہیں
01:35چاہ رہی ہے ہم لوگ مستقل اس پہ آواز ہر فورم پہ اٹھاتے رہے ہیں ہم نے
01:39لکھ کے بھی دیا ہے لیکن ایک پوسٹ جو ایک ایک ڈپارٹمنٹ ہوتا تھا اب اس میں
01:43چار پوسٹیں رکھ دی گئیں گی اس کی ویعہ سے ٹاؤن کے پر مالی بھوج پڑ گیا ہے
01:47دیگر رینوما بولے غیر قانونی شیڈول کے نفاظ سے درجن و غیر ضروری پوسٹیں
01:52تخلیق کر کے افسران کو کھپایا گیا جس سے اصل بلدیاتی افسران و
01:56ملازمین کا استحصال ہوا اور کرپشن حد درجہ بڑھ گئی
02:00شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ ہماری سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ ٹاؤنس
02:06ڈسٹک میں از خود افسران موجود ہیں اس کے باوجود ہمارے اوپر
02:11ہمارے سر پر مسلط کر دی جاتا ہے اور شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ جو
02:16کہ نافذ العمل نہیں ہے اس کے باوجود اس پر امپلیمنٹ ہو رہا ہے
02:21اور ٹاؤنس کے پر بوجھ بڑھن ڈالا جا رہا ہے ہمارے جو یہاں
02:25کے افسران ہیں وہ کہاں جائیں گے دیکھیں یہ منتازہ جو خانون
02:28لے کے آئے گیا ہے یہ صرف ان افسرانوں کے لیے لے کے آئے گیا
02:32اور آج جو کرپشن کا بزار ٹاؤنس میں گرم ہوا ہے اور جو
02:35معاملات چلنا ہے یہ انہی افسرانوں کی وجہ سے جو ہمارے بوجھ
02:40دے دیا گیا ہے ٹاؤنوں پہ اور ان کو یہاں پہ کھپایا گیا ہے آج انہی
02:44کی وجہ سے جو ہے ہمیں یہ ٹاؤنس کی بربادی دیکھنی پڑھ رہی ہے اس
02:47طریقے سے کیونکہ ہمارے یہاں پہ ورکروں کے کوئی بھی معاملات جو
02:51ہے وہ سیدھے نہیں ہو رہے کیونکہ یہ لائے یہ افسران لا کے یہاں
02:55پہ دے دیے گئے ہیں جو ہمارے افسران ہیں وہ ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کے
02:59بیٹھے میں کیونکہ ان کو یہاں کے ورکروں کے کوئی چیزوں کا پتہ ہی
03:03نہیں ہے مظاہرین کا کہنا تاکہ غیر قانونی شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ کے
03:07خلاف پیٹیشن دائر کی گئی ہے جو برسو بعد بھی سماعت سے محروم ہے
03:11سندھ حکومت جلد اجلد پرانا شیڈول آف اسٹیبلشمنٹ باہل کر کے
03:15بلدیاتی اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ کو سہارا فرام کرے بلال احمد
03:20کے ٹیو کراچی