Skip to playerSkip to main content
Seerat Un Nabi (S.A.W.W)

Islamic Scholar: Shujauddin Sheikh

Watch All The Episodes Here || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XieFK2r6EN6PLqb6_i5G6d8K

#shujauddinsheikh #seeratunnabipbuh #aryqtv

The words of Allah Ta'ala, the standard of his character and personality is far above that of any other creation. He possessed the best and noblest qualities of the perfect man and was like a jewel illuminating the dark environment with his radiant personality, ideal example and glorious message. Now based on these facts which we wholly and solely believe we are presenting this program for our Muslim as well as non-Muslim viewers to enlighten their lives with the light of the Seerah of Prophet Hazrat Muhammad PBUH.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://www.youtube.com/ARYQtvofficial
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:01Alhamdulillahi Rabbil Alameen
00:02والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين
00:05أما بعد فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم
00:09بسم الله الرحمن الرحيم
00:10ثم ذرهم في خوضهم يلعبون صدق الله العظيم
00:14اللهم صلی على محمد وعلى آل محمد وبارك وسلم
00:19رب اشرح لصدري ویسر لأمري
00:21وحلو لقدة من لسان يفقه قولي
00:24واجعل لي وزيرا من أهلي
00:26آمین يا رب العالمين
00:27ناظر کرام السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکات
00:31امید آپ خرافیت سے ہوں گے
00:32اور ہماری دعا ہے
00:33آپ جہاں گئی بھی ہوں
00:34اللہ تعالیٰ آپ سب کو
00:35اور ہم سب کو اپنے حلث ومان میں رکھیں
00:37آفیت اور سلامتی سے نمازیں
00:39ہماری دعا ہے
00:39کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت نصیب فرمائے
00:45اور آپ کی مبارک صیرت کا مطالع کرتے ہوئے
00:48عمل کا ارادہ بھی
00:49اور اس پر عمل درامت کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے
00:52اللہ تعالیٰ کی توفیق سے
00:54پروگرام صلی اللہ علیہ وسلم جاری ہے
00:56برسابرہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عنوان سے
01:00پروگرام کیو ٹی وی پر ملاحظہ فرمارے
01:01اور آپ کے علم ہے
01:02کہ گدشتہ کئی نشستوں سے
01:04ہم آداب دعوت دین کے حوالے سے کلام کر رہے ہیں
01:07سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں
01:09ابتدام ایک آیت کریمہ کا ایک حصہ تلاوت کیا گیا
01:13سورة الانعام کی آیت نمبر ایک آنوے
01:15سورة الانعام آیت نمبر نائنٹی ون
01:17طویل آیت کا آخر حصہ ہے
01:19اللہ تعالیٰ نے مشکین کی جو
01:21حرکتیں تھیں اور بہودہ باتیں تھیں
01:23اس کے بارے میں اعراض کرنے کی تعلیم
01:25نبی علیہ وسلم کو عطا فرمائی
01:27سورة الانعام کی آیت نمبر نائنٹی ون
01:29کی آخر میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اشارت فرمایا
01:31ثم ذرہم فی خوضہم یلعبون
01:34پھر اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
01:37ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں
01:39کہ اپنی بہودہ باتوں میں مشخول رہیں
01:42ترہ ترہ کے سوالات
01:44بیجا قسم کے سوالات
01:46اشکالات شبہات پیدا کرنا
01:49کراس کوسچننگ کرنا
01:50بلا تحقیق بحثے کرنا
01:53اور بلا وجہ کی باتیں کرنا
01:55اور دین کی تعلیمات کا مذاق اڑانا
01:57یہ جو بہودہ مشکلیں اور باتیں تھیں
02:00اس پر اللہ تعالیٰ نے اشارت فرمایا
02:02نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
02:04کہ ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیں
02:05اپنے بہودہ مشغلوں میں
02:07یہ لوگ مصروف رہیں
02:09یہ حاصل ہے سورہ نعام کے آئے دبن
02:12نائنٹی ون کے آخری حصے کا
02:13اس پر آگے بھی آج کی نشیس میں
02:15انشاءاللہ و تعالیٰ
02:15حوالے کے طور پر گفتگو آ جائے گی
02:17نازل کرنا بات کو آگے بڑھاتے ہیں
02:19اور ری کیپ کی طرف چلتے ہیں
02:20آپ کے علمے ہیں کہ گدشتہ کئی نشیس سے
02:22ہم کلام کر رہے ہیں
02:23آداب دعوت دین کے موضوع پر
02:25نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی
02:27سنت کی روشنی میں
02:28پیشل پر گرام میں چند باتیں
02:29ہمارے سامنے آئیں تھیں
02:30ان میں یہ بات تھی کہ
02:32دعوت کا کام کرنے کے دوران میں
02:34حلم اور بردباری بہت زیادہ
02:36ضروری ہے
02:38تحمل کا رویہ اختیار کرنا
02:39بہت زیادہ ضروری ہے
02:41یہ بات بھی ہمارے سامنے آئی
02:42کہ سادہ الفاظ اختیار کرنے چاہیے
02:45سادہ انداز اختیار کرنا چاہیے
02:47روز برہ کی جو ریلمنٹ
02:49مثالیں ہیں
02:50ان کو پیش کر کے
02:51باتوں کو سمجھانے کی
02:52اور پیش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے
02:54اسی طرح ایک اہم بات تھی
02:55لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہنا
02:58لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہونا
03:00اس کے نتیجے میں دعوت کا کام کرنا
03:02ہمارے لئے آسانوں کے
03:03ایک اہم بات اور بھی تھی
03:05اللہ تعالی نے یاد دیلا دی مجھے مزید
03:06کہ بلا تفریق
03:08ہمیں دعوت دینی
03:09کیا مطلب
03:10ہر طبقے کو دعوت دینی ہے
03:11اور ہر موقع
03:13اپروچنٹی جو اویلبل ہو
03:14اس کو اویل کر کے
03:16دعوت دین کا کام ہمیں کرنا چاہیے
03:18امیر ہوں یا غریب ہوں
03:19کم پڑے لکھے
03:20زیادہ پڑے لکھے
03:21مالدار ہوں
03:21کم مالدار صاحب اختیار ہوں
03:23یا عوام ہوں
03:24جہاں موقع ملے
03:25دعوت کے اس کام کو ہمیں پیش کرنا چاہیے
03:27اللہ تعالیٰ ان ہدایات پر بھی
03:29مجھے اور آپ کو عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
03:31آج کے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہیں
03:33انشاءاللہ
03:33آج بھی ہم پانچ ہی باتیں آپ کے سامنے رکھیں گے
03:36عذاب دعوت دین کے اعتبار سے
03:38اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں
03:41یہ پانچ باتیں انشاءاللہ
03:42آپ کے سامنے میں رکھیں گے
03:44آئیے سب سے پہلی بات کی طرف چلتے ہیں
03:46اور سب سے پہلی بات ہے
03:47کھانے کی دعوت
03:48جی ہاں
03:49دعوت کے ساتھ کھانے کی دعوت
03:50عجیب لگ رہے نا
03:51لیکن بڑی دلچسپ بات ہے
03:53آئیے سنت رسول کا جائزہ لیتے ہیں
03:55صلی اللہ علیہ وسلم
03:56نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
03:58خاندان والوں کو
04:00دعوت تعام کے ساتھ
04:01دعوت توحید پیش فرمائی
04:03آپ کو یاد ہے جب برسوں پہلے
04:05ہم نے یہ پروگرام شروع کیا تھا
04:07ڈاکٹر محمود غزنوی صاحب ہمارے ساتھ ہوتے تھے
04:09اللہ تعالیٰ ان کو صحتِ کاملہ
04:11اور عفیت عطا فرمائے
04:12تو آپ کو یاد ہوں کہ
04:13ہم نے آغازِ سیرس سے اختتام
04:15یعنی نبی اکرم علیہ وسلم کی
04:17ولادت با سعادت سے پہلے کے حالات
04:19پھر ولادت با سعادت سے لے کر
04:21چالیس برس تک کے حالات
04:23اور پھر چالیس برس کے بعد
04:24تیس برس کی جو نبوی زندگی ہے
04:26تفسیر سے آپ کے سامنے پیش کی
04:28اسی کے دوران میں
04:29جب دعوت دین کا مرحلہ
04:30اللہ کے نبی علیہ السلام کی
04:31حیاتِ طیبہ میں تھا
04:33تو آپ نے خاندان والوں کو
04:34کھانے پر بلائے
04:35کم از کم دو
04:36اور بعض سیرت نگاروں کے مطابق
04:38تین دعوتوں کا ذکر ملتا ہے
04:39پہلی مرتبہ اللہ کے نبی علیہ السلام
04:41نے بلایا
04:42بی بی خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ
04:44نے کھانا تیار کیا
04:45لیکن لوگ کھانا کھا کر بھاگ لئے
04:47خاندان کے لوگوں نے
04:48دعوت قبول نہیں کی
04:49کھانا کھا لیا
04:50اگلی مرتبہ پھر
05:01چھوٹی عمر کے تھے
05:01یہ سرف کر رہے تھے
05:03چالیس پیتالیس لوگ موجود تھے
05:04اب دوسری مرتبہ
05:06ان لوگوں کو بھی شرم آئی
05:07کہ کھانا پہلے بھی کھا کے
05:08بھاگ لئے تھے
05:09آج بات تو سن لیں
05:10اور اللہ کے نبی علیہ السلام
05:11پہلے سے تیار تھے
05:12ہم نے پیش کی تھی
05:13بات سیرت کی کتابوں میں موجود ہے
05:15آخری جو چیز تھی
05:16یا کھانے کو جو پیش کیا گیا
05:18پینے کو
05:18وہ دودھ تھا
05:19جب دودھ پیش کیا گیا
05:21تو اللہ کے رسول کھڑے ہوئے
05:22اور آپ نے
05:22اللہ کی حمد و سنہ بیان کی
05:24اور آخرت کی دعوت پیش کی
05:25توہید کی دعوت پیش کی
05:27تو کھانے کی دعوت پر
05:28خاندان والوں کو بولا کر
05:30ان کے سامنے دعوت توہید
05:32اللہ کے رسول علیہ السلام نے پیش کی
05:34تو یہ بھی ایک طریقہ ہے
05:35جس سے لوگوں کو
05:36موٹیویٹ کیا جا سکتا ہے
05:38متوجہ کیا جا سکتا ہے
05:39ان کی توجہ حاصل کی جا سکتی ہے
05:42تو کھلا کر بھی
05:43کھانا کھلا کر بھی
05:44دین کی دعوت پیش کرنا
05:46جو سہولت سے ہو
05:47اس میں ایک بڑی اہم بات یہ ہے
05:48کہ بعض مرتبہ بڑے لمبے چوڑے
05:50احتمام کیے جاتے ہیں
05:51جس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے
05:52ایک فرطہ کر لے گا
05:54باقی پانچ تو دس مرتبہ سوچیں گے
05:55تو اس میں زیادہ تکلفات کا معاملہ نہ ہو
05:58جو سہولت سے دستیاب ہو
05:59کھانا نہیں تو
06:00اور کپ آف ٹی
06:01کوئی مسئلہ نہیں
06:02سادہ سی چائے پیش کر دی جائے
06:04اس کے ساتھ کو ہلکا بھلکا
06:05جیسے ہم وائے کہتے ہیں
06:06جو سہولت ہو
06:07یہ میں پورے معاشرے کے اتبار سے بات کروں
06:10بعض لوگوں کو اللہ نے مال کی فراوانی دی ہے
06:12بعض لوگوں کے پاس اتنا فراوانی کا معاملہ نہیں
06:14تو کچھ بھی شکل اس کی بنتی
06:16ایک شکل یہ ہے
06:17کہ دعوت تعم کھانے کی دعوت پر لوگوں کو بلائے جائے
06:20اور ان کے سامنے
06:21اللہ کے دین کی دعوت کو پیش کیا جائے
06:23یہ بھی آداب دعوت میں سے ایک بات ہمارے سامنے
06:26سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں آتی ہے
06:29اگلی بات دوسرا نکتہ ہے
06:31وہ بھی بڑی دلچسپ بات ہے
06:32تحائف سے محبت کا اظہار
06:34تحفوں سے محبت کا اظہار
06:36تحفے سے ہم نے لکھا ہے
06:38تحفے سے محبت بڑھتی ہے
06:40جس سے دل جو ہی میسر آتی ہے
06:42اور دعوت کا کام آسان ہوتا ہے
06:44حدیث مبارک ہے
06:45رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
06:48تحادو تحابو
06:50تحادو حدیہ
06:51حدیہ توفہ گفت دیا کرو
06:53تحابو
06:54آپس میں محبت کو بڑھایا کرو
06:56تو تحفے سے محبت بڑھتی ہے
06:59جب محبت بڑھے گی
07:00تو دل میں نرمی بھی پیدا ہوگی
07:01اور اگلا بندہ جو ہے وہ بات سننے کو تیار ہوگا
07:04اور دعوت کا کام کرنا آسان بھی ہوگا
07:07البتہ
07:07یہاں بھی قابل توجہ بات ہے
07:09آج ہمارے میں تحفے تحایف
07:11ہزاروں نہیں لاکھوں کروڑوں میں باز مرتبہ چلے
07:13چلیں کروڑوں کا معاملہ تو کچھ لوگوں کا ہوگا
07:15لیکن ہزاروں میں چلا جاتا ہے
07:17اور وہ ایک برڈن بن جاتا ہے
07:18آپ کو پتہ ہے
07:19شادی بھی ہے کہ موقع پر کچھ لوگ کیوں شرکت نہیں کرتے
07:21ابھی تحفہ کیسے دیں گے
07:22ہم نے اس کوئی مسئیبت بنا دیا
07:24تم نے دیا تو مجھے بھی دینا پڑے گا
07:26اچھا میں نے دیا تمہیں بھی دینا پڑے گا
07:27پھر لوگ نوٹ کرتے ہیں اس کو عجیب بات ہے
07:29غلط
07:29ایسا تصور صحیح نہیں ہے
07:31کہ جس سے تحفہ تحائف کا معاملہ جبر بن جائے
07:34ہاں اللہ کے نبی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا
07:36تم نے گھر میں کھانا بنایا
07:38تو چلو بوٹی زیادہ نہیں
07:39تو تھوڑا شوربہ زیادہ کرلو
07:41اپنے پڑوں سے گھر میں بھیجوا دیا کرو
07:43یہ اتنا سادہ بھی ہو سکتا ہے
07:44کوئی خوشبو کا تحفہ ہو سکتا ہے
07:46کبھی مسواق کا تحفہ ہو سکتا ہے
07:48جے بھی زیادہ دے گی
07:49کبھی کپڑے کا تحفہ ہو جائے گا
07:52لیکن سہولت ہو
07:53جبر نہ بنے
07:54لیکن حدیث مبارک کا حاصل یہ ہے
07:56کہ تحفہ دینے سے محبت بڑھتی ہے
07:59اور جب محبت بڑھے گی
08:00تو دل میں نرمی پیدا ہوگی
08:02اور دعوت کا کام کرنا
08:04اور بات کو خبول کرنا
08:05پھر اگلے کے لیے وہ آسان ہو جائے گا
08:07دو باتیں ہو گئی
08:08پانچ باتوں میں سے تیسری بات
08:10وہ ہے عیادت اور غم خاری کا معاملہ
08:13دوسروں کے غم میں شریک ہونا
08:14یہ بات پر شئر پرگرام میں بھی آئی تھی
08:16ایک خاص پہلو کیا ہے
08:17آیادت کے لیے جانا
08:18اس سے لوگوں کے دل میں نرمی پیدا ہوتی
08:21اور دعوت کے کام میں سہولت ہوتی ہے
08:23اچھا
08:23اللہ کے نبی علیہ السلام نے
08:25مسلمان کے مسلمان پر کچھ حقوق بتائے ہیں
08:27معلوم ہے نا
08:28مثلا ایک حدیث مبارک کے مطابق
08:30جب وہ سلام کرے تو جواب دو
08:32ٹھیک ہے
08:33اسی طرح جو ہے دعوت دے تو
08:35تو قبول کرو
08:36انتقال کر جائے تو جنازے میں شرکت کرو
08:38بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرو
08:41چھینک آئے
08:42الحمدللہ کہے
08:43تو یرحمک اللہ
08:44کہہ کے جواب دو
08:45آپ کے علم ہیں
08:46یہ پانچ باتیں ایک حدیث میں آتی ہیں
08:47ایک حدیث میں ہے
08:48مشورہ مانگے تو مشورہ دو
08:50ایک حدیث میں ہے
08:51اس کا عیب علم آجائے
08:52تو اس کا پردہ رکھو
08:53and so on
08:54تو ایک حق مسلمان کا
08:55دوسرے مسلمان پر
08:56عیادت کے حوالے سے بھی ہے
08:57کہ مسلمان بھائی بیمار ہو جائے
08:59تو اس کی عیادت کو جائیں
09:00اس کا جرس سوا بھی
09:01احادیث میں ملتا ہے
09:02البتہ اس سے کیا ہوتا ہے
09:04دل جوئی ہوتی ہے
09:05جب ہم چل کر
09:06کسی کے عیادت کو جاتے
09:07اس کا دل نرم پڑ جاتا ہے
09:08رسول اکرم علیہ السلام کے پڑوس
09:10مدینہ شریف کا واقعہ
09:12کہیں ایک یہودی کا گھر تھا
09:14اس کا بچہ کبھی
09:15حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتا تھا
09:17آپ کو معلوم ہوا
09:19کہ وہ بیمار ہوں گیا
09:19تو آپ صحابہ اکرام کے ساتھ
09:21اس کے گھر تشریف لے گئے
09:22لگتا تھا کہ اس کا آخری آخری وقت ہے
09:24تو رسول اللہ علیہ السلام
09:25نے کلمہ توہید کی دعوت پیش کی
09:27بیٹا کلمہ پڑ لو
09:28تو وہ جو اس کا باپ تھا یہودی
09:29سنیے گا
09:30جو اس کا باپ یہودی تھا
09:32اس نے کہا بیٹا
09:33ابو القاسم کی بات مان لو
09:35خود اسلام نہیں لایا
09:36لیکن اللہ کے رسول علیہ السلام
09:38چل کر تشریف لے گئے
09:40عیادت کو گئے ہیں
09:41حالکہ یہودی ہے
09:42مگر اس کے بچے کی عیادت کو گئے ہیں
09:44تو بچے کو کہتا ہے
09:46بیٹا ابو القاسم
09:47یہ کنیت ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ السلام کی
09:49بیٹا ابو القاسم کی بات کو قبول کر لو
09:52تو اللہ کے نبی علیہ السلام کا خود چل کر جانا
09:54اور اس بچے کی انتقال سے پید
09:56اس کا کلمہ پڑنا
09:57کس قدر بڑی دولت اس کو میں اثر آگئی
10:00تھا وہ یہودی اس کا باپ
10:02کہتا ہے ابو القاسم کی بات کو قبول کر لو
10:04صلی اللہ علیہ وسلم
10:06تو یہ عیادت کا پہلو
10:07اس سے دوسرے کی غم خاری ہوتی ہے
10:10اس کے غم میں بندہ یا تکلیف میں شریک ہو جاتا ہے
10:12دکدرت میں شریک ہو جاتا ہے
10:14تو دل نرم ہوتا ہے
10:15دل نرم ہو
10:15تو بات کرنا آسان ہے
10:17دعوت دینا آسان ہے
10:18اور جس کا دل نرم ہو جائے
10:19اس کے لئے دعوت کو قبول کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے
10:23اس کے بعد پانچ باتوں میں سے اگلی بات ہے
10:25جو کہ آج کی گفتگو کی چوتی بات ہے
10:27موقع شناسی اور حکمت عملی
10:30موقع شناسی اور حکمت عملی
10:33کیا مطلب
10:34نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکی دور میں
10:36ابتدائی تین برس انفرادی
10:39پھر اعلانی دعوت دی
10:41اچھا انفرادی دعوت کو بعض کتابوں میں خفیہ دعوت لکھ دیا گیا ہے
10:45آج کل کے دور میں خفیہ کا لفظ بڑا منفی محسوس ہوتا ہے
10:49بڑا نیگٹیف محسوس ہوتا ہے
10:51تو بہتر لفظ ہے انفرادی دعوت
10:53ون ٹو ون دعوت
10:54پی پی کال جسے کہتے ہیں
10:55پرسنلی رابطہ کر کے دعوت دینا
10:58تو انفرادی دعوت
10:59اب یہ کیا ہے
11:00موقع شناس اور حکمت عملی
11:01پہلے دن سے اعلانی دعوت نہیں دی
11:03رسول اللہ علیہ وسلم نے
11:04اس کا حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعد میں آیا تھا
11:07تو پہلے تین برس
11:08اللہ کے نبی علیہ وسلم میں دعوت
11:10انفرادی طور پر دی
11:11تاکہ کچھ افراد محسوس آئیں
11:13پھر مل کر کام کرنا آسان ہو
11:15ہاں
11:15اللہ کے رسول اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی تھی
11:18اب اللہ تعالیٰ نے حکم دیا
11:23اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم
11:25جو حکم آپ کو عطا ہوا
11:26توہید کی دعوت دینے کا جو حکم عطا ہوا
11:28اس کے اعلانی طور پر بیان کیجئے
11:30اور مشرقین سے احراز کیجئے
11:32ان کی مخالفت کی پروہ نہ کیجئے
11:34پھر وہ مشہور واقعہ پیش آیا ہے
11:35آپ اور ہم جانتے ہیں
11:37کہ آپ نے اللہ کے رسول مکرم علیہ وسلم نے
11:39کوئی صفحہ پر کھڑے ہو کر دعوت پیش کی
11:42یاد ہے نا
11:42اعلان کی دعوت کا توہید کا
11:45اور اسی طرح آپ کوئی صفحہ پر کھڑے
11:46اچھا ایک بڑی انٹرسٹنگ بات ہے
11:48اللہ کے نبی علیہ وسلم نے
11:49اس دور کو جو میڈیا تھا
11:50اس کو استعمال کیا
11:51اب غور کیجئے گا
11:53صفحہ مروہ مشہور پہاڑی ہیں
11:54آج کل تو وہ حرم مسجد حرام کے اندر ہی تقییمن آگئیں
11:57لیکن یوں کہیے کہ
11:58اس زمانے میں نمائی پہاڑیاں تھیں
12:00تو کوئی اگر مشکل حالات آتے
12:02کوئی حملہ کرنے والا آتا
12:04تو کوئی شخص جس کو اطلاع ہوتی
12:06وہ صفحہ کے پہاڑ پر کھڑا ہوتا
12:08نمبر ایک صبح کے بعد
12:10نمبر ایک صفحہ پر کھڑا ہوتا
12:11نمبر دو
12:12صبح کے بعد کھڑا ہوتا
12:13نمبر تین
12:14وَا صَبَحَا
12:15وَا صَبَحَائِ صُبَحَا
12:17لوگوں کو خبردار کرتا
12:18نمبر تین یہ کام کرتا
12:19چوتھا کام وہ برا کرتا تھا
12:21وہ کیا کرتا
12:21کپڑے اتار دیتا تھا معاد اللہ
12:23تاکہ لوگ دیکھیں
12:24ہوا کیا ہے
12:24تو یہ چار کام میں سے
12:26چوتھا کام تو برا ہے
12:27باقی تین کام
12:28اللہ کے رسول نے اختیار کیے
12:29صلی اللہ علیہ وسلم
12:31آپ صفحہ پہاڑ پر کھڑے ہوئے
12:33نمبر دو
12:33صبح کے بعد کھڑے ہوئے
12:35نمبر تین
12:36وَا صَبَحَا
12:37وَا صَبَحَا
12:38وَا صَبَحَا
12:39کنار آپ نے لگایا
12:40چوتھا کام آپ بلکل نہیں کر سکتے تھے
12:42تو غلط کام کو ہٹا دیا
12:43برے کام کو ہٹا دیا
12:45تین کام وہی اختیار کی
12:46جو اس زمانے کا میڈیا تھا
12:48آپ پہاڑ پر کھڑے ہوئے
12:49اب ایک بندہ پہاڑ پر کھڑا ہے
12:51اس کے سامنے ایک طرف لوگ ہیں
12:52یہ ادھر بھی دیکھ سکتا ہے
12:54پیچھے بھی
12:54آپ نے فرمایا کہ دیکھو
12:55تم میرے بارے میں کیا گمان کر دو
12:57کبھی میں نے کبھی جھوٹ بولا
12:58کبھی جھوٹ نہیں بولا
12:59اگر میں یہ کہوں
13:00کہ پیچھے سے دشکر
13:02تم پر حملہ آور ہو رہا ہے
13:04تو کیا تم میری بات کو مانو گے
13:05سب نے کہا بالکل مانیں گے
13:06اسی طرح اللہ کے رسول علیہ السلام
13:08ایک ہی معبود ہے
13:09معبود حقیقی
13:10اللہ سبحانہ وتعالی
13:12اس کا کوئی شریک نہیں
13:13میں تمہیں بتاتا ہوں
13:14سبحان اللہ
13:15پھر ابو لہب بدبخت نے
13:16بڑے بدکلامی کے انداز میں
13:18آپ علیہ السلام کی
13:20مذمت کی معاد اللہ
13:21اور اسے کہا
13:23تمہیں ہاتھ ٹوٹ جائیں
13:24ہلاک ہو جاؤ
13:25اس سے تم نے جمع کیا
13:26اللہ تعالیٰ نے
13:27اس قدر غزب کا اظہار کیا
13:29کہ سورہ لہب نازل کر کے
13:30اس پر قیامت تک
13:31انعلانت کر دی
13:32اب یہ پورا واقعہ
13:35میں نے کیوں پیش کیا
13:36میں اس وقت کیمرے کے سامنے ہوں
13:38آپ مجھے ٹیلویجن کی سکرین پر
13:39یہ سمارٹ فون کی سکرین پر
13:41یا ال سوی ڈی پر دیکھ رہے ہوں گے
13:42ایسے ہی ہے نا
13:43تو آج کا یہ اویلیبل میڈیا ہے
13:44اللہ تعالیٰ نہیں پوچھے گا
13:46کہ شیطان اپنا کام
13:47اس سے لیرا تھا
13:48تو تم نے رحمان کی دعوت کو پیش چونہ کیا
13:51تو بھئی اس لیے میں ٹیلویجن استعمال کروں
13:53البتہ بات کیا تھی
13:54اللہ کے نبی علیہ السلام نے
13:55اپنے دائی طور پر تین برس انفرادی طور پر دعوت دیں
13:58پھر اللہ کے نبی علیہ السلام نے
13:59اعلان یہ دعوت پیش کی
14:01اور زمین یہ میڈیا کے استعمال کی بات بھی آگئی
14:05تو ہر دور کے میڈیا کا
14:07مصبت اور جائز استعمال
14:09شر کا پہلو مائنس کر کے
14:11استعمال اس کا کرنا
14:12یہ سنت کی تعلیم کے مطابق ہے
14:14البتہ شروع دن آپ نے
14:16اعلان یہ دعوت نہیں دی
14:17یہ اکدم مخالفت کا معاملہ پڑ جاتا
14:19اللہ کے رسول نے تین برس
14:21اللہ کی حکم کے مطابق
14:22انفرادی دعوت دی
14:24پھر آپ نے اعلان یہ دعوت دی
14:25اور مکہ کے تیرہ برسے کا
14:27اور بعد تلوار نہیں اٹھیں
14:29ایک جماعت کو تیار کیا
14:30سبر کے مراحل سے گدارا
14:32اور مدنی دور میں
14:33یہ جماعت میدان قتال میں بھی اترتی
14:35پھر بدر سے لے کے
14:36فتح مکہ کا معاملہ
14:37اور پھر اللہ کا دین غالب ہوتا ہے
14:39تو یہ چوتھی بات تھی
14:40کہ موقع شناسی اور حکمت عملی
14:42کب انفرادی طور پر دعوت دی
14:44کب اجتماعی طور پر اعلانی دعوت دی
14:46کب تک سبر کیا
14:47کب تلوار اٹھائی
14:48یہ بھی دعوت کی حکمت ہے
14:50دین کی جد و جہود کی حکمت ہے
14:51جو سنت رسول عریف سلام سے ہمیں ملتی ہے
14:54پانچ وی اور آخری بات
14:55بیجا بحث سے بچنا
14:57بہت اہم بات ہے
14:58بیجا بحث سے بچنا
15:00لکھا ہے ہم نے
15:00غیر ضروری شبہات
15:02اور لا يعنی
15:03یعنی بیکار
15:04بفضول
15:05لا يعنی سوالات میں
15:06علجنے کی بجائے
15:07اصل مقصد پر توجہ رکھنا
15:09بے مقصد سوالات بھی آئیں گے
15:11شبہات بھی
15:11اشکالات بھی پیش کی جائیں گے
15:12اور ہمیں
15:13دیپ ٹریک کرنے کی کوشش کی جائے گی
15:15حق بات پیش کرنے سے
15:16دور لے جانے کی کوشش کی جائے گی
15:18کیا کرنا ہے
15:19آج ابتداء میں
15:20سورہ انعام آیت نائنٹی ون
15:21کا آخری حصہ پیش کیا گیا
15:23آپ کے سامنے
15:23ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوُدْهِمْ يَلْعَبُونَ
15:26آپ انہیں چھوڑ دیں
15:27یہ اپنی بےہودہ باتوں میں لگے رہے
15:29فضول باتیں
15:30بیجا سوالات
15:31اشکالات
15:32شبہات
15:33ان کو چھوڑ دیں
15:34بڑا پیارا شیر کا ایک مصرہ ہے
15:35اکبر کا
15:36اکبر الابادی کا
15:38مذہبی بحث میں نے کبھی کی ہی نہیں
15:42فالتو عقل
15:43مجھ میں تھی ہی نہیں
15:45مذہبی بحث میں نے کبھی کی ہی نہیں
15:47فالتو عقل
15:48مجھ میں
15:48تھی ہی نہیں
15:49اور ایمان والوں کی شان
15:51قرآن پاک میں بیان ہوتی ہے
15:52سورہ فرقان کی آخری رکو میں
15:53عباد و رحمان کی صفات
15:55بڑی پیاری صفات جنت پانے والوں کی
15:57وَإِذَا خَوْتَ بَهُمُ الْجَاهِلُونَ قَالُوا سَلَامَ
16:01جب جاہل قسم کی لوگ
16:02نادان قسم کی لوگ
16:03ایمان والوں سے
16:04علجنے کی کوشش کرتے ہیں
16:06قَالُوا سَلَامَ
16:07وہ کہتے ہیں بھئی سلام
16:07سلامتی کا روئی اختیار کر کے
16:09ہٹ جاتے ہیں
16:10جہالت کا جواب
16:12جہالت سے نہیں دیتے
16:13فضول بحثوں میں نہیں پڑنا
16:15اور اپنے مشن پر جمعی رہنا ہے
16:17اور دعوت دین کے کام کو جاری رکھنا ہے
16:20یہ الحمدللہ
16:21پانچ باتیں ہمارے سامنے آگئیں
16:22اور اسی کے ساتھ
16:23پرگرام کے آخر میں
16:24آج کا سبق آپ کے سامنے رکھتے ہیں
16:26سبق میں یہی پانچ باتیں
16:27کیسے اللہ کے نبی علیہ السلام
16:29میں دعوت دین کا کام کیا
16:30کھانے کی دعوت پر بھی لوگوں کو بلایا
16:32نمبر دو
16:33حدیعہ تعفیٰ دے کر
16:34دلوں کو جیت کر دعوت پیش کرنا
16:36نمبر تین
16:36عیادت کرنا
16:37غم خاری کرنا
16:38اس سے لوگوں کے دلوں کو جیت کر
16:40دعوت کا پیش کرنا آسان ہو جاتا ہے
16:42اسی طرح موقع شناسی اور حکمت عملی
16:44کب کون سا عمل اور طریقہ اختیار کیا جائیں
16:47یہ بھی سنت سے ہمیں حکمت ملتی ہے
16:49اور پانچ بھی بات
16:51بیجا بحث سے بچنا
16:52فضول بحثوں میں
16:53علجنے سے بچنا
16:54اور اپنے مشن پر
16:55استقامت کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جانا
16:57یہ آداب اللہ کے نبی علیہ السلام نے ہمیں سکھائی
16:59اللہ تعالی سے دعائے
17:00اللہ تعالی میلی آپ کے
17:02ہم سب کی تمام مسلمانوں کی مغفرت فرمائے
17:03اور ان آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے
17:06دعوت دین کے فریضے کو
17:07آدھا کرنے کی توفیق عطا فرمائے
17:09انشاءاللہ ناجز اکرام

Recommended