00:04Alhamdulillah
00:30خدب ربانی حضرت ابو مغدوم شاہ سید محمد طاہر اشرف علی اشرفی الدیلانی قدسہ سر رہو کے متعلق بیان کریں
00:39گے
00:40خدب ربانی حضرت سید طاہر اشرف دیلانی رحمت اللہ علیہ کی ولادت بسعادت اٹارہ سو نواسی عیسویں اور تیرہ سو
00:51سات ہجری میں دہلی ہوئی
00:54آپ صحیح النصب سید تھے انتالیس میں پشت میں آپ کا سلسلہ نصب نبی پاک اللہ علیہ وسلم سے ملتا
01:03ہے
01:03والد گرامی کا نام حضرت حافظ سید حسین شرف علی اشرفی الدیلانی رحمت اللہ علیہ
01:10حضرت خدب ربانی قدسہ سر رہو نے افتدائی تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی
01:17اور بہت جلد ناظرہ کلام پاک مکمل کر لیا اور تجوید و قرات سیکھنا شروع کی
01:24اللہ تبارک و تعالی نے آپ کو بہترین آواز عطا فرمائی تھی
01:29جس وقت علاوات فرماتے تھے تو پوری محفل پر عجیب کیفیت تاریخ ہو جاتی تھی
01:34ایک دن ایک واقعہ پیش آیا کہ آپ اپنے والد گرامی حافظ سید حسین اشرف جیلانی رحمت اللہ علیہ کے
01:41پاس تشریف فرماتے
01:42کہ ایک مجزوب بزرگ آئے انہوں نے آپ کو غور سے دیکھا اور والد گرامی سے فرمایا
01:49کہ میں اس بچے سے کچھ سننا چاہتا ہوں والد محترم نے فرمایا بیٹا انہیں کوئی سورت سناو
01:56آپ نے سورہ یوسف کی تلاوت فرمائی اور پورے جوش کے ساتھ اور انہماک کے ساتھ آپ نے جب تلاوت
02:03کی
02:04تو محفل پر ایک عجیب کیفیت تاریخ ہو گئی لیکن ایک واقعہ یہ ہوا کہ وہ بزرگ دوران تلاوت کبھی
02:12روتے تھے اور کبھی مسکراتے تھے
02:15تلاوت ختم ہوئی انہوں نے آگے بڑھ کے آپ کی پیشانی کو بوسا دیا
02:19والد گرامی نے اس رونے اور مسکرانے کی وجہ پوچھی
02:23تو فرمایا مسکراتا تو اس لیے ہوں کہ اس بچے کی پیشانی پر نور ولایت چمکتا ہوا دیکھ رہا ہوں
02:31اور روتا اس لیے ہوں کہ اس وقت جب یہ اپنے ایک مقام اور مرتبے کو پہنچے گا
02:38آپ اس دنیا میں نہیں ہوں گے
02:41یہ کہہ کر انہوں نے ایک مرتبہ پھر حضرت قدب ربانی سید طائر شب جلانی قدس اسر رہو کی پیشانی
02:47کو بوسا دیا
02:48اور اس کے بعد روانہ ہو گئے
02:50پھر کبھی وہ نظر نہ آئے
02:52لیکن اتنا ہوا کہ اس واقعے کے بعد حضرت حافظ سید حسین اشرف جلانی رحمت اللہ علیہ کے دل پر
03:00بڑا اثر ہوا
03:01اور وہ سمجھ گئے کہ اب میری اس دنیا میں وقت جو ہے کم ہے
03:07چنانچہ انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ کی روحانی تربیت بھی شروع کر دی
03:12اللہ تبارک و تعالی جب کسی کو کوئی مقام اور مرتبہ دینا چاہتا ہے
03:17تو صلاحیتیں پہلے ہی پیدا فرما دیتا ہے
03:20حضرت قدبہ ربانی نے رائے سلوک میں قدم رکھا
03:23اس وقت آپ کی عمر صرف نو سال تھی
03:27نو سال کے کم عمری میں والد گرامی نے آپ کو دریائے جمنا میں سورہ مضمیل شریف کا چلا کرایا
03:35اور وہ چلا اس طرح ہوا
03:37کہ رات کو دو بجے سے چار بجے تک ناف تک پانی میں کھڑے ہو کر
03:42حضرت قدبہ ربانی سورہ مضمیل ایک خاص تعداد میں پڑھتے تھے
03:47چالیس روز تک اسی طرح ہوا اور چالیس روز کے بعد والد گرامی نے آپ کو چلے کی کامیابی کی
03:55بشارت دی
03:55اس کے بعد درس نظامی کی طرف متوجہ ہوئے
03:59کچھ عرصے بعد والد گرامی کا وصال ہو گیا
04:02دہلی کا مشہور مدرسہ حسین بخش جو آج بھی وہاں موجود ہے
04:08حضرت قدبہ ربانی اس میں داخل ہوئے
04:10اور وقت کے جید علماء سے قصب علم قصب فیض کیا
04:15قرآن فقہ حدیث تفسیر منطق فلسفہ
04:18یہ تمام کتابیں آپ نے وقت کے جید علماء سے پڑھی جن کی ایک کثیر تعداد ہے
04:23دور حدیث شریف آپ نے حضرت علامہ مفتی حبیب احمد الوی رحمت اللہ علیہ جو شیخ الحدیث تھے
04:31ان سے دور حدیث کیا اور سند حاصل کی
04:34اس کے بعد اسی مدرسے میں دو سال تک تدریز فرمائی
04:38اسی دوران سلسلہ ویسیہ کے ایک بزرگ حضرت سید احمد حسین الملقب امیر علی شاہ کمبل پوش رحمت اللہ علیہ
04:48ان سے آپ کی ملاقات ہوئی
04:50انہوں نے ایک ہی نظر میں بھاپ لیا
04:53اور کہاں کہ بیٹا ہمارے ساتھ چلو ہم تمہیں چلہ کرائیں گے
04:57آپ روانہ ہو گئے
04:58کشمیر کی پہاڑیوں کی طرف گئے
05:01اور فرمایا کہ اس چلے کے دوران کمبل کا لباس استعمال کرنا ہوگا
05:06کمبل کا کرتہ اور کمبل کا پجامہ
05:09حضرت قدر ربانی نے رضا مندی ظاہر کی
05:11وہی لباس پہنا
05:13اور اس کے بعد چالیس روز تک ایک غار منتخب کیا گیا
05:17اور اس غار میں آپ چلہ کش ہو گئے
05:20افطار کے موقع پر اور سہری کے موقع پر
05:23اگر کچھ ملتا تو کھا لیتے
05:26ورنہ درخ کے پتے کھا کر
05:28اور پانی پی کر روزہ رکھ لیتے
05:30اور روزہ افطار کر لیتے
05:32چالیس دن جب ہوئے
05:33اور چالیس دن کے بعد
05:35یعنی چالیس میں دن
05:37حضرت کمبل پوش رحمت اللہ عنہ خود غار میں تشریف لے گئے
05:41اور توجہ اتحادی آپ پر ڈالی
05:44جس کی وجہ سے آپ کی عجیب کیفیت ہوئی
05:46جب غار سے باہر نکلے
05:48تو چہرہ چاند کی طرح چمک رہا تھا
05:51لیکن ایک بات اور تھی
05:52کہ جب بھی آپ دھوپ میں نکلتے تھے
05:55تو دس بارہ چھیلیں آ کر
05:57آپ کے سر پر سایا کرتی تھیں
05:59جب بھی نکلتے تھے
06:00چبی وہ آتی تھیں
06:01آپ نے حضرت کمبل پوش رحمت اللہ عنہ سے فرمایا
06:05حضور مجھے ابھی تبلیغ کرنی ہے
06:07مجھے دہلی جانا ہے
06:08مجھے لوگوں میں رہنا ہے
06:10اور یہ چیز اگر میرے ساتھ رہی
06:12تو میں مرکوز نظر بن جاؤں گا
06:14تو یہ کیسے ہوگا
06:16وہ مسکرائے
06:17اور فرمایا کہ ایک چیز بتائی
06:19کہ یہ پڑھو اور آسمان کی طرف اشارہ کر دو
06:22حضرت خدوہ ربانی نے وہ چیز پڑھی
06:24آسمان کی طرف اشارہ کیا
06:26اور وہ چیلیں غائب ہو گئیں
06:28پھر آپ دہلی تشریف لے آئے
06:30چند مہینے دہلی میں رہے
06:32پھر دوسرے چلے کے لئے تشریف لے گئے
06:34اس طرح مجموعی طور پر
06:37بارہ سال آپ نے
06:38کشمیر کے پہاڑیوں میں چلہ کشی کی
06:41اور وہی کمبل کا لباس
06:43کمبل کا کرتہ اور کمبل کا پجامہ
06:45استعمال کیا
06:46حضرت امیر علی شاہ کمبل پوش نے آپ کو
06:49سلسلہ ویسیہ کی اجازت
06:50و خلافت عطا فرمائی اور اس کے بعد
06:53وہ روانہ ہو گئے
06:54اور کچھ عرصے بعد ان کا وصال ہو گیا
06:56اس کے بعد حضرت
06:58میاں عبدالسامت صاحب
07:01فخری نظامی شمسی
07:03چشتی رحمت اللہ علیہ کی
07:04خدمت میں حاضر ہوئے
07:06انہوں نے سلسلہ چشتیہ کا فیض
07:09آپ کو دیا
07:09اور جی کر نقوش
07:11اور عد و وضائف کی اجازت دی
07:13پھر حضرت شاہ تسلیم
07:15احمد صابری چشتی
07:16صحر بردی رحمت اللہ علیہ کی
07:18خزنت میں امروحہ پہنچے
07:19ان سے قضب فیض کیا
07:21حضرت نوش میاں قادری
07:24نے آپ کو سلسلہ قادریہ
07:26قدیمیہ کی خلافت
07:27عبداللہ کی خلافت عطا کی
07:29اس طرح یہ مختلف بزرگ
07:31آپ کو ملتے رہے
07:32فیض دیتے رہے
07:33لیکن کسی نے بیعت نہیں کیا
07:35بلکہ مرشد کامل کی بشارت
07:37دے کر رخصت ہو گئے
07:39تیرہ سو بتیس ہجری میں
07:41مجدد سلسلہ اشرفیہ
07:43عالی حضرت
07:44ہمشبیہ غوث العظم
07:46سید شاہ علی حسین
07:48الاشرفی الجیلانی
07:50المعروف اشرفی میاں
07:52قدس سے رہو دیلی تشریف لائے
07:54اپنے خاندان والوں کو تلاش کیا
07:57اور حضرت قدب ربانی
07:59سید تاہر اشرف جیلانی
08:00قدس سے رہو سے ملاقات ہوئی
08:02ایک ہی نظر میں آپ نے بھاپ لیا
08:05اور اسی وقت آپ کو بیعت کیا
08:07اور سلسلہ اشرفیہ
08:09اور اس کے علاوہ
08:10دیگر سلاسل طریقت کی اجازت و خلافت
08:12آپ کو عطا فرمائیے
08:14پیر و مشید کے حکم سے
08:16آپ نے تبلیغ دین کا سلسلہ شروع کیا
08:18پہلا دورہ آپ نے کلکتے کا کیا
08:21اس وقت کوئی وہاں پر
08:23آپ کو جاننے والا
08:24پہچاننے والا نہیں تھا
08:26نہ کوئی عزید اور شدار
08:27نہ کوئی مرید
08:28لیکن جب آپ وہاں پہنچے
08:30اور دھرم تلہ کے میدان میں
08:32ملاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم
08:34کے جلسے میں آپ کی پہلی تقریر ہوئی
08:36اسی وقت جلسے کے بعد
08:39کئی سو آدمی آپ کے دست مبارک پر بیعت ہوئے
08:42اور سلسلہ شفیہ میں داخل ہوئے
08:44اور اس کے علاوہ
08:45کثیر تعداد میں لوگوں نے
08:47اسلام قبول کیا
08:48اس کے بعد ہر سال آپ کا
08:50کلکتے تشریف لے جاتے تھے
08:52وہاں سے پھر ظلہ بحار
08:55ظلہ گیا
08:56نبی نگر
08:57دھولپور
08:58ریاست دھولپور
09:00اور اس طرح دیگر
09:01علاقوں میں تشریف لے جاتے تھے
09:03اور وہاں آپ کے مردین
09:04اور متقدین تھے
09:05غرض یہ کہ اس طرح
09:07سلسلہ چلتا رہا
09:08آپ ایک علمی اور روحانی شخصیت تھے
09:11جہاں پر
09:12اسلام کی حقانیت کو
09:14دلائل اور براہن سے
09:16ثابت کرنے کا موقع آیا
09:17تو آپ نے دلائل اور براہن سے
09:19اسلام کی حقانیت کو ثابت کیا
09:21اور جہاں پر یہ جادوگر
09:23یہ شیطان
09:24اپنی فتنہ سامانیوں کے ساتھ آئے
09:26آپ نے اپنے
09:27اپنی روحانیت سے
09:28اور روحانی قوت سے
09:29آپ نے ان کو
09:30ختم کر کے رکھ دیا
09:32کشف اور کرامات
09:34بے شمار تھی
09:35آپ کے
09:36چہرے انور پر ایسا نور تھا
09:38کہ جو بھی دیکھتا تھا
09:39وہ دیکھ کر
09:40مسلمان ہو جاتا تھا
09:42ہدایت پا جاتا تھا
09:43سلسلہ چلتا رہا
09:44تحریک پاکستان کا موقع آیا
09:46تو آپ نے تحریک پاکستان میں
09:48علماء اہل سنت کے ساتھ
09:50بڑھ چڑھ کر حصہ لیا
09:51پاکستان بننے کے بعد
09:53آپ جب تشریف لائے
09:55تو
09:55پی این اے شفا
09:58یہاں پر
09:59مہاجرین کو آباد کیا گیا
10:00چار سال
10:02آپ وہیں پر
10:03مہاجرین کے ساتھ رہے
10:04سب سے پہلے
10:05وہاں پر مسجد کی ایک جگہ بنائی
10:07وہاں پر خود امامت فرماتے تھے
10:09آپ کے سابزادگان امامت فرماتے تھے
10:11وہیں سے آپ نے
10:12رکھ دو ہدایت کا سلسلہ جاری کیا
10:14چار سال آپ
10:15وہیں پر مقیم رہے
10:17اس کے بعد
10:18مبلغ اسلام
10:19حضرت اللامہ
10:20شاہ عبدالعلم صدیقی
10:22رحمت اللہ علیہ
10:23جو قائد اہل سنت
10:24اللامہ شاہ احمد نورانی صدیقی
10:27رحمت اللہ علیہ کے
10:28والد گرامی تھے
10:29حضرت قدب ربانی کا
10:31ان سے بڑا گہرہ تعلق
10:32اور دوستانہ تعلق تھا
10:34وہ تشریف لائے آپ سے ملنے کے لئے
10:36اور انہوں نے فرمایا
10:37تاہرمیاں
10:38ایک کالونی آباد ہو رہی ہے
10:40جس کا نام ہے
10:41فردوس کالونی
10:43میں نے وہاں پلوٹ لیا ہے
10:44میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی وہاں لے لیں
10:47تاکہ ہم دونوں قریب رہیں
10:48آپ نے ایک جملہ فرمایا
10:50فرمایا حضرت
10:51ہم یہاں بھی فردوس میں رہیں گے
10:53اور وہاں بھی فردوس میں رہیں گے
10:56پھر آپ نے ان کے برابر ہی ایک پلوٹ لیا
10:59اور کچھ عرصے بعد جب پلوٹ تیار ہو گیا
11:02مکان تیار ہوا
11:03تو آپ نے اس گھر کا نام
11:04مسکن سادات اشرفی الجیلانی رکھا
11:08وہاں پر آپ قیام فرما ہوئے
11:10اور اس کے بعد
11:11وہیں سے رجد و ہدایت کا سلسلہ جاری رہا
11:14سور مزمل
11:15دعا حفظ البحر
11:17دعا سیفی
11:18دعا حیدری
11:19یہ تمام چیزیں
11:21اور سور اخلاص
11:22یہ سب چیزیں آپ کے معاملات میں تھیں
11:25رات کو دو بجے اٹھ کر اور فجر تک
11:27آپ ذکر اذکار کرتے تھے
11:29پورا کمرہ گنجتا تھا
11:31اور جہاں بھی ہوتے سے جو بھی سنتا تھا
11:33اس پر ایک عجیب کیفیت تاریح ہو جاتی تھی
11:35آپ نے ساری زندگی سے اسلام اور سلسلہ اشرفیہ کی تروید و اشاعت میں گزاری
11:41ہزاروں لوگوں نے آپ سے فیض حاصل کیا
11:44بے شمار لوگ مسلمان ہوئے
11:46اور آپ نے اپنے دست مبارک سے ان کو سلسلہ اشرفیہ میں داخل کیا
11:51وصال سے قبل
11:52اپنے فردند
11:53اشرف المشایخ حضرت ابو محمد
11:56شاہ سید احمد اشرف اشرفیل جیلانی
11:59نور اللہ مرقدہو کو
12:01اپنے سامنے اپنا جانشین مقرر کیا
12:05تاج اشرفیہ اپنے دست مبارک سے ان کے سر پہ رکھا
12:09جبہ مبارک پہنایا
12:10سلسلہ اشرفیہ ان تمام چیزوں کے خلافت عطا فرمائی
12:15اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا
12:17اور فرمایا کہ علاج نہیں کرنا
12:19لیکن ایک بتقادہ بشریت علاج کیا جاتا ہے
12:23لوگ علاج کرتے ہیں
12:24ایک ڈاکٹر کرنل شاہ کو بلایا گیا
12:27وہ آیا اس نے آپ کے دل پر
12:29عالی رکھا اور سنتا رہا
12:31لوگ سوچتے ہیں کہ یہ تو صرف ایک منٹ کی بات ہوتی ہے
12:34کہ ہارٹ بیٹ فوراں سننی جاتی ہے
12:36لیکن یہ کیا وجہ ہے
12:37کافی دیر اس نے آپ کے دل پر عالی رکھ کر سنا
12:40اور اس کے بعد کوئی دوائیں لکھیں
12:43دوسرے کمرے میں گیا
12:44پوچھا یہ کون ہے
12:45لوگوں نے کہا آپ جسمانی طبیب ہیں
12:47حضرت روحانی طبیب ہیں
12:49اس نے کہا میں نے اپنی زندگی میں
12:51ایسا مریض نہیں دیکھا
12:53کہ جس کے دل پر میں نے عالی رکھا
12:55تو اللہ ہو اللہ ہو کی آواز آ رہی
12:57ان کا علاج میں کروں گا
12:59حضرت کو پتہ چلا آپ نے اشارہ کیا
13:01کہ نہیں اب علاج کی ضرورت نہیں
13:02اب بس واپسی ہے
13:04بہرحال اسی طرح وہ گزرتا رہا
13:06اثر کے وقت آپ کی زبان جو بند تھی
13:10وہ کھل گئی
13:11دیکھنے والوں نے دیکھا
13:12کہ ایک دم خوشبو پیدا ہوئی
13:13اور ایسا لگا کہ پورا کمرہ جو ہے
13:15بھرا ہوا ہے
13:16تین مرتبہ پڑا
13:17لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ
13:20اور تیسی مرتبہ بلند آواز سے
13:22آپ نے پڑا
13:23اپنے ہاتھ پیر خود ہی درست کر لی گئے
13:25اور اس کے بعد
13:26چہرہ مبارک قبلے کی جانب ہو گیا
13:29اس کے بعد غزالی دورہ
13:32علامہ سید احمد سید قادمی
13:34نور اللہ مرقدہو نے
13:35آپ کی نماز جنازہ پڑھائی
13:37کسی تعداد میں علماء علیہ السنت نے
13:40آپ کی جنازے میں شرکت کی
13:41آپ کا مزار مبارک
13:43آپ کی نشان کرتا جگہ
13:45وہیں پر ہی بنایا گیا
13:47آپ کا عرص مبارک
13:48ہر سال
13:49سولہ سترہ جماعت اولہ کو
13:52درگاہ علیہ شرفیہ میں منقض ہوتا ہے
13:54اللہ تبارک و تعالی
13:55ہم سب کو
13:56ان کے نقش قدم پر چلنے کی
13:59توفیق عطا فرمائے
14:00وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغ