00:00ہم شیشے اور پھولات سے بنی بلند و بالا امارتیں تعمیر کرتے ہیں
00:04اپنی دولت کو ڈیجٹل اکاؤنٹس میں جمع کرتے ہیں
00:07اور بڑے بڑے شہروں میں اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں
00:11کہ ہماری یہ دنیا ہمیشہ قائم رہے گی
00:14ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ترقی ہماری دولت
00:17اور ہماری بنائی ہوئی مضبوط امارتیں ہمیں ہر خطرے سے محفوظ رکھ سکتی ہیں
00:21لیکن یہ سوچ آج کی نہیں ہے
00:24ساتھویں صدی میں مکہ کے بڑے بڑے سردار بھی بلکل یہی سوچ رکھتے تھے
00:29وہ دنیاوی معاملات میں پوری طرح ڈوبے ہوئے تھے
00:32انہیں اپنے قبیلوں اپنی طاقت اور اپنے اثر و رسوخ پر بہت فخر
00:37اس وقت مکہ کی معیشت تجارت کے گرد گھومتی تھی
00:40دور دور سے آنے والے قافلے شہر میں مال اور دولت لے کر آتے تھے
00:45تجارت کی وجہ سے مکہ کے لوگوں کے پاس بہت دولت اور طاقت تھی
00:49یہی دولت انہیں اس حقیقت سے دور کر رہی تھی جو دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر ہے
00:55جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سرداروں کو قیامت کے دن
01:00اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے بارے میں خبردار کیا
01:04تو انہوں نے اس بات کا مزاق اڑایا
01:06وہ یہ سمجھ ہی نہیں سکتے تھے کہ اس دنیا کے علاوہ بھی کوئی ایسی حقیقت ہے
01:11جس کا انہیں سامنا کرنا ہوگا
01:13وہ سوال کرتے تھے کہ جب ہماری ہڈیاں مٹی میں مل کر بکھر جائیں گی
01:17تو ہمیں دوبارہ کیسی زندہ کیا جا سکتا ہے
01:20ان کا یہ غرور آج بھی ہمارے لیے ایک اہم سوال چھوڑتا ہے
01:25اگر دولت، طاقت اور مضبوط سلطنتیں انسان کو ہمیشہ زندہ رکھ سکتی ہیں
01:30تو پھر ماضی کی وہ عظیم سلطنتیں کہاں چلی گئیں
01:33انسان کی اس غلط فہمی کو ختم کرنے کیلئے
01:37قرآن ایک نہایت اہم حقیقت پیش کرتا ہے
01:40جسے الہاقہ کہا جاتا ہے
01:43الہاقہ کا مطلب ہے وہ حقیقت جو یقینی طور پر پیش آنے والی ہے
01:47یعنی قیامت کا وہ دن جس کا آنا تیہ ہے
01:51اس حقیقت کو سمجھانے کیلئے قرآن صرف ہمیں مستقبل کے بارے میں سوچنے کا نہیں کہتا
01:56بلکہ ہمیں ماضی کی تباہ شدہ قوموں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے
02:00قرآن ہمیں ان قوموں کی تاریخ دکھاتا ہے
02:03جنہی کبھی اپنی طاقت، دولت اور ترقی پر بہت غرور تھا
02:08لیکن آج ان کی تباہ شدہ نشانیاں ہی باقی رہ گئی ہیں
02:11ان کے کھندرات ہمیں بتاتے ہیں
02:14کہ انسان کی طاقت کتنی کمزور اور عارضی ہے
02:17اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے
02:19ہمیں تین قدیم قوموں کی تواہی پر غور کرنا ہوگا
02:23سب سے پہلی قوم قوم سمود تھی
02:26قوم سمود اپنی غیر معمولی جسمانی طاقت
02:29اور تعمیراتی مہارت کے لیے مشہور تھی
02:31انہوں نے اپنے زمانے کے مقابلے میں
02:34ایسی حیرت انگیز تعمیرات کی تھی
02:36جنہیں دیکھ کر آج بھی انسان حیران رہ جاتا ہے
02:38وہ بڑے بڑے پہاڑوں کو تراش کر
02:41ان کے اندر مضبوط گھر
02:42رہائش گاہیں اور قلعے بناتے تھے
02:45انہیں یقین تھا
02:46کہ پہاڑوں کو تراش کر بنائے گئی یہ مضبوط گھر
02:49انہیں ہر مسئیبت سے محفوظ رکھیں گے
02:51لیکن ان کی اس طاقت کی پیچھے
02:53ایک بہت بڑا غرور چھپا ہوا تھا
02:56انہوں نے حضرت صالح علیہ السلام کی نصیحت
02:59کو قبول کرنے سے انکار کر دیا
03:00وہ اللہ کی نشانیوں کا مطالبہ کرتی تھی
03:03لیکن جب اللہ کی طرف سے نشانی ظاہر ہوئی
03:06تو انہوں نے اسے بھی جھٹلا دیا
03:08ان کی تباہی کسی لمبی جنگ
03:10یا کسی دشمن فوج کے حملے سے نہیں ہوئی
03:13بلکہ ایک زبردست چیخ
03:14اور ہالناک زلزلے نے
03:16انہیں اچانک اپنی لپیٹ میں لے لیا
03:18وہ اپنے مضبوط گھروں کے اندر
03:20ہی بے جان ہو کر رہ گئے
03:22ان کی کہانی میں ایک عجیب سبق
03:24چھپا ہوا ہے
03:25ان کے تراشے ہوئے خوبصورت پتھریلے گھر
03:28آج بھی موجود ہیں
03:29لیکن انہیں بنانے والی قوم دنیا سے ختم ہو چکی ہے
03:33یہ اس بات کا ثبوت ہے
03:35کہ انسان چاہے زمین کے پہاڑوں کو تراش کر
03:37کتنی ہی مضبوط امارتیں کیوں نہ بنا لے
03:40وہ اللہ کے فیصلے کے سامنے
03:42اپنی طاقت سے کچھ نہیں کر سکتا
03:44اس کے بعد قوم عاد کا ذکر آتا ہے
03:46قوم عاد اپنے غیر معمولی قد
03:50جسمانی طاقت
03:51اور وسیع آبادیوں کی وجہ سے مشہور تھی
03:54وہ اپنی طاقت پر بہت زیادہ بھروسہ کرتے تھے
03:58جب حضرت حود علیہ السلام نے انہیں
04:01اللہ کی طرف بلایا
04:02اور اپنی زندگی درست کرنے کی نصیحت کی
04:05تو انہوں نے ان کی بات ماننے کے بجائے
04:08غرور سے کہا
04:09ہم سے زیادہ طاقتور کون ہو سکتا ہے
04:12ان کی تباہی بھی ان کے اسی غرور کے مطابق ہوئی
04:16اللہ تعالیٰ نے ان کے مقابلے میں
04:19کوئی بہت بڑی فوج نہیں بھیجی
04:21بلکہ ایک ایسی تیز اور تباہ کن ہوا بھیجی
04:25جس نے انہیں کئی دنوں تک اپنی لپیٹ میں لیے رکھا
04:28قرآن مڈی دن کی تباہی کا ایک نہایت خوفناک منظر بیان کرتا ہے
04:33ان کے طاقتور جسم
04:36زمین پر اس طرح پڑے ہوئے تھے
04:38جیسے کھجور کے کھوکھلے تنی ہوں
04:40یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے
04:43کہ صرف جسمانی طاقت انسان کو نہیں بچا سکتی
04:47جس ہوا کو انسان روزانہ محسوس کرتا ہے
04:50اور جسے وہ معمولی سمجھتا ہے
04:52وہی ہوا اللہ کے حکم سے
04:54ایک طاقتور قوم کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے
04:57اب تیسری قوم کی طرف آتے ہیں
04:59یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی قوم
05:02اس قوم کی ایک خاص بات یہ تھی
05:04کہ وہ صدیوں تک اپنی گمراہی پر قائم رہی
05:08حضرت نوح علیہ السلام نے
05:09انہیں بار بار اللہ کی طرف بلایا
05:11لیکن انہوں نے انکار کرنا نہیں چھوڑا
05:14جب حضرت نوح علیہ السلام نے
05:16خشکی پر کشتی بنانا شروع کی
05:18تو لوگ ان کا مزاق اڑانے لگے
05:20انہیں یقین تھا
05:21کہ یہاں پانی کہاں سے آئے گا
05:23یہ کشتی کیوں بنا رہے ہیں
05:26لیکن پھر اچانک وہ وقت آ گیا
05:28جس کا انہیں اندازہ بھی نہیں تھا
05:30زمین سے پانی کے چشمیں پھوٹ پڑے
05:32اور آسمان سے موسلا دھار بارش برسنے لگی
05:35دیکھتے ہی دیکھتے
05:36ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا
05:38ایک ایسا سیلاب آیا
05:40جس سے بچنے کا کوئی راستہ باقی نہ رہا
05:43اس وقت ان کی دولت
05:45ان کا مقام
05:46ان کی طاقت اور حضرت نوح علیہ السلام
05:48کا مزاق اڑانے کے تمام واقعات
05:50بے مائنی ہو گئے
05:52یہ تینوں قومیں اس بات کی مثال ہیں
05:54کہ بڑی بڑی سلطنتیں
05:56بے پناہ دولت اور غیر معمولی ترقی بھی
05:59انسان کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی
06:02ان سب کی تباہی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی
06:05کہ انہوں نے دنیاوی طاقت
06:07اور مادی چیزوں پر بھروسہ کیا
06:09اور اللہ کی بات کو ماننے سے انکار کر دیا
06:12ان قوموں کے باقی رہ جانے والی آثار
06:15آج بھی انسان کے لیے ایک سخت تمبی ہیں
06:17اگر اللہ کے حکم سے
06:19ایک قوم چند لمحوں میں ختم ہو سکتی ہے
06:22تو پھر انسان کی طاقت
06:24اور اس کی بنائی ہوئی سلطنتیں
06:26ہمیشہ کیسے قائم رہ سکتی ہیں
06:29یہاں سے ہمیں سورت الحاقہ کے
06:31اصل پیغام کی گہرائی سمجھ میں آتی ہے
06:34الحاقہ صرف ایک واقعہ کا نام نہیں
06:37بلکہ وہ دن ہے
06:38جب پوری کائنات کا موجودہ نظام
06:41بدل دیا جائے گا
06:42اس دن زمین اور آسمان کا نظام
06:45ختم کر دیا جائے گا
06:46اور ہر انسان کو اس کے آمال کا حساب دینے کے لیے
06:50اللہ کے سامنے حاضر ہونا ہوگا
06:52اس دن ہر انسان کے سامنے
06:54دو راستوں میں سے ایک راستہ ہوگا
06:57اور اس کا انجام اس کے آمال کے مطابق ہوگا
06:59جن لوگوں کو ان کے آمال نامی دائیں ہاتھ میں دیے جائیں گی
07:03وہ خوشی اور سکون سے کہیں گی
07:06کہ آؤ میرا آمال نامہ پڑھو
07:08ان کے لیے کامیابی خوشی اور ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ہوں گی
07:13لیکن دوسری طرف ان لوگوں کا انجام ہوگا
07:17جنہیں ان کے آمال نامیں بائیں ہاتھ میں دیے جائیں گے
07:20ان کے دل میں شدید پچتاوا ہوگا
07:23وہ حسرت سے کہیں گے
07:24کہ کاش مجھے میرا آمال نامہ نہ دیا جاتا
07:28وہ اس وقت سمجھ جائیں گے
07:30کہ دنیا میں جمع کی ہوئی دولت
07:32طاقت
07:33تعلقات
07:34اور شہرت میں سے کوئی چیز بھی
07:36انہیں اللہ کے حساب سے نہیں بچا سکتی
07:39انسان کی اصل کمزوری یہ نہیں
07:41کہ اس کے پاس دنیا میں دولت یا طاقت نہیں ہے
07:44بلکہ اصل نقصان یہ ہے
07:46کہ جب قیامت کا دن آئے
07:48تو انسان اللہ کے سامنے نیکیوں سے خالی ہاتھ کھڑا ہو
07:51قرآن مجید ان تاریخی واقعات کے ذریعے
07:55ہمیں ایک ایسی حقیقت سے خبردار کرتا ہے
07:57جس سے انکار ممکن نہیں
07:59یہ ہمارے لیے اللہ کی ایک بڑی رحمت بھی ہے
08:02کہ اس نے ہمیں قیامت کے دن کے بارے میں پہلے ہی بتا دیا
08:06تاکہ ہم اس دن کے آنے سے پہلے
08:08اپنی زندگی درست کر سکیں
08:10یہ ساری باتیں ہمیں سوچنے پر مجبور کرتی ہیں
08:13کہ آخر ہم اپنی زندگی میں
08:15کس چیز کو سب سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں
08:17کیا ہماری کامیابی صرف دولت جمع کرنے
08:20بڑی امارتیں بنانے
08:22اور دنیا میں نام کمانے میں ہیں
08:24یقینا نہیں
08:25اصل کامیابی اپنے خالق کو پہچاننے
08:28اس کے احکامات پر عمل کرنے
08:30اور نیک زندگی گزارنے میں ہیں
08:32اس لیے قیامت کے دن کا انتظار مت کریں
08:35کہ وہ آ کر ہمیں حقیقت کا احساس دلائے
08:37اپنی زندگی کو آج ہی درست کریں
08:40اللہ کی طرف رجوع کریں
08:42اور نیک آمال کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں
08:44کیونکہ آج اپنی غرور اور دنیا کی محبت کو ختم کرنا ہی
08:48کل کی اس یقینی حقیقت کے سامنے کامیاب ہونے کا راستہ ہے
08:52یاد رکھیں
08:53دنیا کی ہر چیز ختم ہو سکتی ہے
08:56لیکن اللہ کی عدالت میں
08:58ہر انسان کو اپنی آمال کا حساب ضرور دینا ہوگا