Skip to playerSkip to main content
  • 1 week ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat

Category

📺
TV
Transcript
00:00جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک چرانے کی کوشش کی گئی تو کیا ہوا؟
00:06ناظرین تصور کیجئے اس ایک رات کا جب پوری امت مسلمہ تاریخ کے سب سے ہولناک اور تاریخ ترین سانحے
00:15سے محض چند انچ کے فاصلے پر کھڑی تھی
00:18کیسے دو مکار جاسوسوں نے کائنات کی سب سے مقدس چوکھٹ کے نیچے وہ اندھیری سرنگ گھوت ڈالی جس کے
00:26دھانے پر پہنچتے ہی موت کا سکوت تاری ہو گیا
00:30اور اگر یہ شیطان صفت انسان حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسم مبارک چوری کر لیتے تو اگلی
00:38صبح کیا قیامت ٹوٹنے والی تھی؟
00:40آج کی اس ویڈیو میں ہم تاریخ کے اس پردے کو چاک کرنے جا رہے ہیں جو شاید ہی کسی
00:46نے کھل کر بتایا ہو
00:47یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جو آپ کی آنکھوں کو نم کر دے گا اور دل کو ہلا کر
00:54رکھ دے گا
00:54اس لیے اس ویڈیو کو آخر تک ضرور دیکھئے گا
00:58تو دوستو یہ بات ہے گیارہ سو باسٹ عیسوی یعنی پانچ سو ستاون ہجری کی جب اسلامی تاریخ کا وہ
01:05سب سے لرزہ خیز اور ہوش اڑا دینے والا واقعہ پیش آیا
01:09جس نے امت مسلمہ کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا
01:13یہ وہ دور تھا جب مشرق وستہ میں سلیبی جنگیں اپنے عروج پر تھیں
01:17اور عیسائی فوجیں میدان جنگ میں مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی تھی
01:24اس باقلاہت میں دشمنان اسلام نے ایک ایسا شیطانی منصوبہ تیار کیا
01:30جس کا مقصد پوری مسلم دنیا کو گھٹنوں کے بل چھکانا اور ان کے دلوں سے غیرت کا احساس مٹانا
01:37تھا
01:37ان کا یہ منصوبہ تھا کہ مدینہ منورہ میں روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اندر داخل ہو
01:44کر
01:44آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جسد مبارک چورا لیا جائے
01:49اور اسے یورپ لے جایا جائے
01:51تاکہ بیت المقدس اور دیگر مفتوحہ علاقے واپس مانگے جا سکیں
01:55اور مسلمانوں کو مستقل طور پر بلیک میل کیا جا سکے
01:59اس ناپاک مشن کے لیے صلیبی پیشواؤں نے اپنے دوست سب سے چالاک اور خفیہ کاروائیوں کے ماہر عیسائی جاسوسوں
02:07کو چنا
02:08یہ دونوں شخص عربی زبان اس قدر فصاحت سے بولتے تھے
02:12کہ کوئی ان کی شناخ پر شک نہیں کر سکتا تھا
02:15جبکہ وہ اسلامی عبادات اور شرعی احقامات سے بھی پوری طرح واقف تھے
02:20لہٰذا انہیں بے تہاشا سونا چاندی اور مال و دولت دے کر اندلس اور مراکش کے راستے ایک طویل سفر
02:28پر روانہ کیا گیا
02:29تاکہ وہ عام حجاج کے روپ میں حجاز مقدس میں داغل ہو سکیں
02:34ناظرین گرامی یہ دونوں بدبخت مراکش کے حاجیوں کا بھیس بدل کر مدینہ منفرہ پہنچ گئے
02:40انہوں نے بڑی ہوشیاری سے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلکل قریب ایک مکان کرائے پر لیا
02:48جو حجرہ مبارک سے چند گز ہی فاصلے پر تھا
02:52دنیا کو دکھانے کے لیے انہوں نے سفید چوکے پہن رکھے تھے
02:56ہاتھوں میں تصویر رہتی
02:57پانچوں وقت کی نماز باجمات پہلی صف میں ادا کرتے
03:01اور دن رات مسجد نبوی کے صحت میں عبادت میں مصروف دکھائی دیتے
03:06مدینہ کے غریبوں اور مسکینوں پر دل کھول کر وہ سونا چاندی لٹاتے
03:11جس کی وجہ سے اہل مدینہ انہیں وقت کا سب سے بڑا عابد اور نیک بزرگ سمجھنے لگے
03:17جبکہ کسی کے وہم و گمہ میں بھی نہیں تھا
03:20کہ ان سجدوں کے پیچھے کتنا گندہ ارادہ چھپا ہوا ہے
03:23ان دونوں نے اپنے گمرے کے اندر سے
03:26روزہ اتھر کی سمت زمین کے نیچے ایک خفیہ سرنگ کھوڑنا شروع کر دی
03:31ان کی حکمت عملی یہ تھی کہ وہ رات کے سناٹے میں اندر سے مٹی کھوڑیں گے
03:36اور سرنگ کو حجرہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نچلی سطح تک لے جائیں گے
03:42جہاں سے ناش مبارک کو نکال کر لکڑی کے مقصود صندوق میں بند کر کے پہلے سے تیار رکھے گئے
03:48تیز رفتار اونٹوں کے ذریعے سمندر کی طرف نکل جائیں گے
03:52خدای سے نکلنے والی مٹی کو ٹھکانے لگانا سب سے بڑا خطرہ تھا
03:57اس لیے وہ دن کے وقت چمڑے کے بڑے تھیلوں میں مٹی بھرتے
04:00اور ظاہرین کے روپ میں غبرستان جنت البقی یا شہر کے دور دراز علاقوں میں جا کر
04:06اسے خاموشی سے بخیر آتے
04:08تاکہ کسی کو ذرہ برابر بھی شک نہ ہو
04:11دوستو یہ خطرناک کام ہفتوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے چلتا رہا
04:15اور وہ سرنگ کھوتتے ہوئے مسجد نبوی کی دیواروں کو پار کر کے
04:20قبر انور کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے
04:22ان بدبختوں کو لگ رہا تھا کہ ان کا مشن اچن گھنٹوں کا محتاج ہے
04:27اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے والے ہیں
04:29مگر وہ یہ بھول چکے تھے کہ جس پاک ذات کی حفاظت کا وعدہ
04:33خود رب کائنات نے فرمایا ہو
04:35مہا زمین و آسمان کی کوئی طاقت نقب نہیں لگا سکتی
04:39پھر وہ وقت آیا جب دمشق میں ایک ایسا روحانی واقعہ رونو ماہ ہوا
04:43جس نے اس بھیانک سازس کے پر خچے اڑا دی
04:46اس دور میں شام پر سلطان نور الدین محمود زنگی رحمت اللہ علیہ کی حکومت تھی
04:52جو تاریخ کے انتہائی متقی عادل اور بیدار مغز حکمران تھے
04:57ایک رات سلطان معمول کے مطابق تحجت کے بعد سوئے
05:01تو ان کے مقدر جاغ اٹھے
05:03اور انہیں خواب میں سرور قائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی
05:10خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:13دو مخصوص چہروں والے افراد کی طرف اشارہ فرمایا
05:18جن کی نیلی آنکھیں اور اجنبی حلیہ تھا
05:21اور سلطان سے مخاطب ہو کر فرمایا
05:23اے نور الدین مجھے ان دو شخصوں کے شر سے بچاؤ
05:27سلطان کی آنکھ کھلی تو وہ کامتے ہوئے اٹھے
05:31وضو کیا گریہ وزاری کے ساتھ نوافل پڑے
05:34اور پھر سو گئے
05:35لیکن دوسری بار پھر وہی منظر سامنے آیا
05:38اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
05:42انہی دو چہروں کی طرف اشارہ کر کے
05:44وہی الفاظ دہرائے
05:46جب تیسری مرتبہ بھی منوان وہی خواب دکھائی دیا
05:50تو سلطان نور الدین زنگی تڑپ اٹھے اور سمجھ گئے
05:54کہ اب دمشق کے تخت پر بیٹھنے کا وقت نہیں
05:57مدینہ منورہ میں ضرور کوئی بڑا فتنہ سر اٹھا چکا ہے
06:00ناظرینِ گرامی سلطان نے اسی رات اپنے اقلمد وزیر
06:04جمال الدین اسفہانی کو بلایا
06:06اور سارا معجرہ بیان کیا
06:08وزیر نے مشورہ دیا کہ یہ بات سیغہ راز میں رکھی جائے
06:12اور فوراں مدینہ کا رخ کیا جائے
06:14سلطان نے ایک ہزار تیز رفتار گھڑ سواروں کا دستہ تیار کیا
06:18بہت سا خزانہ ساتھ لیا
06:20اور بجلی کسی تیزی سے مدینہ کی طرف دوڑ پڑے
06:24دمشق سے مدینہ کا جو فاصلہ عام طور پر
06:27بیس سے پچیس دن میں تیہ ہوتا تھا
06:29سلطان اور ان کے جانساروں نے گھوڑوں کی پیٹ پر بیٹھ کر
06:33رات دن ایک کر کے وہ کٹھن سفر
06:35صرف سولہ دنوں میں مکمل کر لیا
06:38مدینہ پہنچتے ہی سلطان نے سب سے پہلے روزہ یا تھب اور حاضری دی
06:42اور سلام پیش کیا
06:43اس کے بعد انہوں نے مدینہ کے گورنر کو طلب کر کے
06:47شہر کے احوال دریافت کیے
06:49گورنر نے ارض کیا
06:51کہ امیر محترم شہر میں مکمل امن ہے
06:54اور کوئی بری خبر نہیں
06:55سلطان نے خواب والی بات کسی پر ظاہر نہیں کی
06:58اور ایک نانش مندانہ چال چلی
07:01انہوں نے اعلان کروایا کہ شاہ شام کی طرف سے
07:04مدینہ کے تمام باشندوں زائرین اور مسافروں کو
07:08شاہی زیافت دی جائے گی
07:10اور ہر فرد کو نقد رقم اور اناج کا انام ملے گا
07:14اس کا اصل مقصد یہ تھا
07:16کہ پورا شہر باری باری سلطان کی نظروں کے سامنے سے گزرے
07:20تاکہ وہ ان دو چہروں کو پہچاند سکے
07:23دوستو اگلے روز دربار لگا
07:25اور اہل مدینہ جوک در جوک سلطان کے سامنے آتے گئے
07:29اور انام وصول کرتے رہے
07:31سلطان ہر چہرے پر گہری نظر دوڑاتے
07:34مگر صبح سے شام ہو گئی
07:36ہزاروں لوگ آ کر چلے گئے
07:38لیکن خواب والے دو چہرے کہیں نظر نہ آئے
07:41سلطان نے گورنر سے سختی سے پوچھا
07:44کیا واقعی مدینہ کا ہر شہری آ چکا ہے
07:46کوئی ایک بھنسان تو باقی نہیں رہا
07:49گورنر نے کہا جی حضور سب آ چکے ہیں
07:51لیکن وہی موجود ایک مقامی بزرگ نے بتایا
07:54کہ ہاں دو مراکشی ظاہرین ایسے ہیں
07:57جو کسی کائنام قبول نہیں کرتے
07:59وہ بہت متقی ہیں
08:01اور سارا وقت مسجد نبوی میں نمازوں میں گزارتے ہیں
08:04اور خود غریبوں کو خیرات دیتے ہیں
08:07سلطان کے کان فوراں کھڑے ہوئے
08:10اور انہوں نے حکم دیا
08:11کہ ان دونوں کو اسی وقت
08:12میرے روح بروح حاضر کر دیا جائے
08:15جب وہ دونوں دربار میں لائے گئے
08:17تو سلطان نے پہلی ہی جھلک میں انہیں پہچان لیا
08:20یہ ہو بہو وہی شہرے وہی نیلی آنکھیں
08:23اور وہی خدخال تھے
08:24جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں دکھائے تھے
08:29سلطان نے اپنے تاثرات پر قابو پا کر پوچھا
08:32کہ تم کون ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو
08:34انہوں نے روانی سے عربی میں جھوٹ بولا
08:37کہ ہم مراقش کے حاجی ہیں
08:39روزہ رسول کے قرب میں عبادت کی غرض سے رہ رہے ہیں
08:43سلطان نے ان کے چہروں کی بدحواسی کو بھانپ لیا
08:46اور فوری طور پر ان کے مکان کی تلاشی لینے کا فیصلہ کیا
08:50ناظرینِ گرامی سلطان سپاہیوں کو لے کر سیدھا ان کے قرائے کے گھر میں پہنچے
08:55مکان اندر سے انتہائی سادہ تھا
08:57صرف دو مسلح قرآن پاک کے نسخے اور پانی کے چند برتن رکھے تھے
09:01ساتھ ہائے معززین کہنے لگے
09:03سلطان یہ تو اللہ کے ولی لگتے ہیں
09:06ان پر شک کرنا مناسب نہیں
09:08لیکن سلطان نے کمرے کے فرش پر بیچے پرانے کالین
09:12اور خجور کی چٹائیاں ہٹانے کو حکم دیا
09:15جیسے ہی چٹائی ہٹائی گئی
09:16تو نیچے لکڑی کا ایک بھاری تختہ ملا
09:18سلطان نے جب وہ تختہ اپنے ہاتھ سے ہٹایا
09:21تو نیچے ایک اندھیری اور گہری سرنگ کا دھانہ کھلا
09:25جسے دیکھ کر تمام حاضرین کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی
09:29جب سپاہی مشعلیں لے کر سرنگ میں اترے
09:32تو یہ روح فرصہ انکشاف ہوا
09:34کہ وہ سرنگ مسجد نبوی کی دیواروں کے نیچے سے کھودے ہوئے
09:38روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
09:41حجرہ مبارک کی باونڈری کے بالکل پاس پہنچ چکی ہے
09:45سرنگ میں خدائی کے اوزار اور مٹی کے تھیلے برامد ہوئے
09:48اور وہ قبر اتھر کے اس قدر قریب پہنچ چکے تھے
09:52کہ اگر سلطان صرف ایک یا دو دن کی تاخیر کر دیتے
09:55تو تاریخ کا سب سے بڑا سانہ رونما ہو چکا ہوتا
09:59راز فاش ہوتے ہی ان دونوں عیسائی جاسوسوں نے احتراف کر لیا
10:03کہ وہ سلیبی ہیں اور یورپ کے حکمرانوں کے بھیجے ہوئے تنخواہ دار کارندے ہیں
10:08جن کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم مبارک کو چرا کر لے جانا تھا
10:14یہ سنتے ہی سلطان نور الدین زنگی کی آنکھوں میں شکرانے کے آنسو جاری ہو گئے
10:20اور وہ سجدے میں گر پڑے
10:22دوستو سلطان نے اس گھناؤنے جرم کی پاداش میں
10:25ان دونوں بدبختوں کو مسجد نبوی کے باہر سرعام سزائے موت کا حکم دیا
10:31اور دونوں کو ان کے عبرتناک انجام تک پہنچا دیا
10:35لیکن سلطان کی بے چینی ابھی خط نہیں ہوئی تھی
10:38وہ رہتی دنیا تک روزہ اقدس کو ہر قسم کے عرضی خطرات سے محفوظ کرنا چاہتے تھے
10:44اس کے لیے انہوں نے ایک ایسا بے مثال انجینرین کا شاہکار تیار کروایا
10:49جس کی نظیر نہیں ملتی
10:51سلطان نور الدین زنگی نے حکم دیا
10:54کہ روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چاروں طرف
10:58زمین میں ایک بے انتہا گہری اور چوڑی خندق خودی جائے
11:02سیکڑوں مزدوروں نے دن رات کام کر کے اتنی گہری خندق خودی
11:07کہ زمین کی سخت چٹانے اور نیچے سے پانی نمودار ہو گیا
11:11اس کے بعد سیکڑوں ٹن خاک سیسا مگوایا گیا
11:15اور بڑی بڑی بھٹیوں میں آگ دہکا کر اس سیسے کو پگھلایا گیا
11:20پھر اس کھولتے ہوئے مایہ سیسے کو پتھروں کے ساتھ ملا کر
11:23اس گہری خندق میں انڈیل دیا گیا
11:26یہ سیسے کی فولادی دیوار زمین کی اتنی گہرائی تک پہنچائی گئی
11:30جہاں تک انسان کبھی سرنگ نہیں کھود سکتا
11:33جس سے روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
11:37چاروں طرف سے ایک ناقابل تسخیر کلے میں بدل دیا گیا
11:41ناظرین گرامی سیسے کی یہ مضبوط دیوار آج بھی
11:44مسجد نبوی کے روزہ مبارک کے گرد
11:46زمین کی گہرائیوں میں موجود ہے
11:49اور قیامت تک کے لیے اس مقدس حجرے کی حفاظت کی گواہی دے رہی ہے
11:53سلطان نور الدین زنگی نے اس عظیم کارنامے کے بعد
11:57عشق بار آنکھوں سے بارگاہِ الٰہی میں شکران آدھا کیا
12:02کہ پروردگار نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دربار کی حفاظت کے لیے
12:08ایک فقیر درویش کو چن لیا
12:10یہ واقعہ ہمیشہ یاد دلاتا رہے گا
12:13کہ نورِ خدا کو بجھانے کی کوشش کرنے والے خود خاک میں مل جاتے ہیں
12:17جبکہ حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام
12:22اور ان کا استانہ تا عبد سر بلند محفوظ ہے
12:25ناظرینِ گرامی نور الدین زنگی کے ہاتھوں
12:28اس خوف ناق سرنگ والی سازش کی
12:31رسوہ کن ناقامی کے بعد بھی
12:33اسلام کے دشمنوں کے دلوں سے
12:35یہ شیطانی خواب نہ مٹ سکا
12:37بلکہ ٹھیک بیس سال بعد
12:39گیارہ سو بیاسی عیسوی میں
12:41ایک اور بدبخت نے
12:43ہر امین شریفین کو نشانہ بنانے کے لیے
12:46اس سے بھی بڑا خونی حملہ پلان کیا
12:48دوستو یہ شخص تھا
12:50سلیبی تاریخ کا
12:51سب سے صفاق وحشی اور کینہ پرور کمانڈر
12:54جسے اسلامی تاریخ میں
12:56ارنات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے
12:58ارنات اردن کے علاقے میں
13:01واقعہ کرک نامی ایک انتہائی مضبوط
13:03اور ناقابل تسخیر سمجھ جانے والے
13:06پہاڑی قلعے کا حاکم تھا
13:08وہ نہ صرف ایک صفاق جنگجو تھا
13:10بلکہ اخلاقیات
13:12معاہدوں اور جنگی اصولوں کی
13:14دھجیاں بکھیرنے میں
13:15اس کی مثال پوری سلیبی تاریخ میں نہیں ملتی تھی
13:18وہ تجارتی کافلوں پر
13:20ڈاکے ڈالتا
13:21نہتے مسافروں کو قید کرتا
13:23ان پر ناقابل بیان تشدد کرتا
13:26اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا تھا
13:29ارنات کا اصل بغض
13:30نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
13:33ذات مبارکہ سے تھا
13:34اور وہ اکثر اپنے درباریوں کے سامنے
13:36یہ شیخی بغارتا تھا
13:38کہ وہ ایک دن ہرمین شریفین پر
13:40قبضہ کر کے
13:41مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے بے بس کر دے گا
13:44اس نے رات کے اندھیرے میں
13:46زمین خدوانے کی وجہ
13:47کھلے سمندر سے مدینہ منورہ
13:50اور مکہ مکرمہ پر
13:51بحری فوج کے ساتھ چڑھائی کرنے
13:54اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
13:56کے روزہ مبارک پر
13:57براہ راست حملہ کرنے کی ٹھان لی تھی
14:00مگر وہ یہ بھول گیا تھا
14:02کہ اب اسلام کی تلوار
14:03ایک اور عظیم فاتح
14:05یعنی سلطان صلاح الدین
14:07ایوبی کے ہاتھ میں تھی
14:08ارنات نے اپنے اس شیطانی مشن کے لیے
14:11مہینوں تک خاموشی سے تیاریاں کی
14:13بہرہ احمر یعنی ریڈ سی کے ساحلوں پر
14:16اس زمانے میں کسی صلیبی بحری بیڑے
14:19کا وجود تک نہیں تھا
14:20کیونکہ پورا سمندر مسلمانوں کے
14:22زیر اثر تھا
14:23ارنات نے کرک کے قلعے اور ساحلی علاقے
14:27خلیج اقبا میں لکڑی لوہے
14:29اور جنگی سازوں سامان کو
14:31جمع کرنا شروع کیا
14:32اس نے فرانس اور یورپ کے ماہر ترکھانوں
14:35اور جہاز سازوں کو خفیہ طور پر بلایا
14:38اور پہاڑوں کے دامن میں
14:40جنگی بحری جہازوں کے حصے تیار کروائے
14:43ان حصوں کو اونٹوں اور خچروں کی پیٹ پر
14:46لات کر
14:47سہرا کے راستے اقبا کے ساحل تک پہنچایا گیا
14:50جہاں انہیں جوڑ کر
14:52سولہ بڑے جنگلی جہاز تیار کیے گئے
14:54ان جہازوں پر
14:56سلیبی جنگ جو منجنیکیں
14:58بارو تیز رفتار کشتیاں
15:00اور بڑی تعداد میں ہتھیار لادے گئے
15:02ارنات کا منصوبہ
15:04انتہائی خطرناک اور تیز رفتار تھا
15:06وہ بحیرہ احمر میں
15:08اتر کر اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے
15:10تاکہ جب دمشق یا
15:12قاہرہ میں بیٹھے مسلمانوں کو خبر ہو
15:14تب تک وہ مدینہ منورہ کے قریبی ساحل
15:17یمبا پر اتر کر سہرا عبور کریں
15:20اور مدینہ پر قبضہ کر لیں
15:22اس کا ارادہ تھا
15:23کہ وہ روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
15:26کی بے حرمتی کریں
15:27جسد مبارک کو وہاں سے نکالے
15:30اور پھر مکہ مکرمہ جا کر
15:32خانہ قابہ کو نقصان پہنچائے
15:34تاکہ پوری دنیا میں
15:36عیسائیت کا پرشم بلند ہو
15:38اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹ جائے
15:40دوستو
15:41گیارہ سو بیاسی کے اب آخر میں
15:43ارنات کا یہ بحری بیڑا
15:45اقبہ کے خلیج سے بہرہ احمر کے
15:48نیلے پانیوں میں داخل ہوا
15:49سلیبیوں کے لیے بہرہ احمر میں
15:52داخل ہونا ایک بالکل
15:54نئی بات تھی
15:55کیونکہ صدیوں سے اس سمندر میں صرف
15:57مسلمانوں کے تجارتی جہاز
15:59اور حجاج اکرام کے کافلے سفر کرتے تھے
16:02ارنات کے جنگجو
16:04نے سمندر میں اترتے ہی
16:05قتل و غارتگری کا بازار گرم کر دیا
16:08انہوں نے راستے میں ملنے والے
16:10تمام تجارتی جہازوں کو
16:12لوٹا اور انہیں ڈبو دیا
16:13ساحلی بستیوں پر شبخور مارے گئے
16:16کسانوں اور ماہیگیروں کو
16:18قتل کیا گیا
16:19اور حجاج اکرام سمندر کے راستے
16:21جدہ اور مدینہ جا رہے تھے
16:23ان کے جہازوں کو گھیر کر
16:25نہتے حاجیوں کو بے دردی سے شہید
16:28کر دیا گیا
16:28ارنات کا دستہ ساحل کے ساتھ ساتھ
16:31سے جنوب کی طرح بڑھتا گیا
16:33اور اس نے مصر کے ساحلی قصبے
16:35ایزاب پر حملہ کر کے
16:37وہاں موجود خوراک اور خزانوں
16:39کو لوٹ لیا
16:40سلیبیوں کا حوصلہ اس قدر بڑھ چکا تھا
16:43کہ وہ سمجھنے لگے کہ اب انہیں
16:45روکنے والا کوئی نہیں
16:47اور راستہ بلکل صاف ہے
16:49جب یہ بحری بیڑا مدینہ منورہ
16:51کے قریبی ساحلی شہر
16:53رابغ اور یمبہ کے قریب مہنچا
16:55تو خطرے کی گھنٹی بچ گئی
16:57سلیبیوں کے ایک دستے نے
16:59ساحل پر جہاز لنگر انداز کیے
17:01اپنے گھوڑے اور اونٹ
17:03ہتارے اور مدینہ منورہ
17:05کی طرف پیش قدمی شروع کر دی
17:07وہ ساحل سے محض چند دنوں
17:09کی مصافت پر تھے اور ان کے
17:11ناپاک قدم روزہ رسول صلی اللہ
17:13علیہ وآلہ وسلم کی طرف بڑھ رہے تھے
17:16مدینہ کے عام باشندے
17:17اور سہرہ کے بددو
17:19اس اچانک افتاد سے شدید
17:21بیشین ہو گئے کیونکہ شہر میں
17:25کوئی باقاعدہ بڑی فوج موجود نہیں
17:27تھی جو اتنے بڑے منظم
17:29سلیبی لشکر کا مسقط
17:31جو اتنے بڑے منظم سلیبی لشکر
17:33کا مقابلہ کر سکتی
17:35خبریں اڑتی ہوئی مصر پہنچی
17:37جہاں سلطان صلاح الدین عیوبی کے
17:39بھائی الادل حکمرانی
17:41کے امور سنبھال رہے تھے
17:43جبکہ سلطان خود شام کے محاذ
17:46پر سلیبیوں کے خلاف
17:47جنگوں میں مصروف تھے
17:49ناظرینِ گرام جیسے ہی سلطان
17:51صلاح الدین عیوبی کو دمشق میں
17:53ارنات کے اس پا
17:55ارنات کے اس ناپاک منصوبے
17:57اور وہیرہِ احمر میں
17:59اس کے گھناؤنے جرائم کی تلا ملی
18:02تو ان کا چہرہ غصے اور
18:03غیرتِ ایمانی سے تم تمانے لگا
18:06سلطان صلاح الدین عیوبی
18:08نے اسی وقت ربِ ذلجلال
18:10کی قسم کھائی کہ اگر
18:11اللہ نے انہیں زندگی اور
18:13موقع دیا تو وہ ارنات
18:15کو کبھی معاف نہیں کریں گے
18:17اور اپنے بھائیوں سے اس بدبخت
18:19کا سلم کریں اور اپنے
18:21ہاتھوں سے اس بدبخت کا سر کلم
18:23کریں گے سلطان نے
18:25بغیر ایک لمحہ ضائع کیے
18:27مصر میں موجود اپنے بحری بیڑے
18:29کے امیر حسام الدین کو ایک
18:31ہنگامی شاہی فرمان بھیجا
18:33حسام الدین ایک انتہائی دلیر
18:35تجربہ کار اور جنگی چالوں
18:37کے ماہر مسلم
18:38اور جنگی چالوں کے ماہر
18:40مسلم امیر الحجر تھے
18:43فرمان ملتے ہی حسام الدین
18:45نے اسکندریہ اور فستاد سے
18:47جنگی جہازوں کو خوشکی کے
18:49راستے نہر اور دریا کے
18:51ذریعے پہرہ احمر کے ساحل
18:53کلزم یعنی موجودہ سوئیز
18:55تک پہنچایا اور ایک
18:57طاقتور مسلم بحری بیڑا
19:01تیار کیا
19:01مسلم بحری فوج نے بجلی کسی تیزی سے
19:04ارنات کے بحری بیڑے کا
19:06تاقب شروع کیا
19:07حسام الدین جانتے تھے کہ
19:09ہر گزرتا گھنٹا اور ہر گزرتا لمحہ
19:12روزہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
19:15کے تقدس کے لئے کتنا نازک ہے
19:17اگر سلیبی مدینہ کی حدود میں
19:19داخل ہو گئے
19:20تو مسلمانوں کے لئے
19:22اس سے بڑا سانحہ کوئی نہ ہوگا
19:24مسلم جہازوں نے دن رات
19:26چپو چلائے
19:27اور بادبان کھول کر
19:28سمندر کے سینے کو چیٹے ہوئے
19:30آگے بڑھے
19:31انہوں نے سمندر کے چپے چپے کی
19:33تلاشی لی
19:34اور حجاج اکرام کو لوٹنے والے
19:36سلیبی جہازوں کے نشانات
19:38ڈھونڈنا شروع کیے
19:39چند ہی دینوں کے تاقب کے بعد
19:41حسام الدین نے
19:42راویغ اور الہوار کے ساحلی علاقے سے
19:45ارنات کے بحری بیڑے کو جا لیا
19:47سمندر پر اچانک
19:49مسلمانوں کے سبز پرشم لہراتے دیکھ کر
19:52سلیبیوں کی چیخیں نکل گئی
19:53وہ گمان بھی نہیں کر سکتے تھے
19:55کہ مسلمان اتنی تیزی سے
19:57سمندر پر ان کا گہراؤ کر لیں گے
20:00دوستو کھلے سمندر پر
20:01ایک خوفناک اور تاریخی
20:03بحری مار کا برپا ہوا
20:04حسام الدین کے جنگی جہاز نے
20:07ارنات کے بیڑے کو چاروں طرف سے گھیر لیا
20:09مسلمانوں نے
20:11سلیبی جہازوں پر آتشی گولے
20:13جلتے ہوئے تیر
20:15اور نفت یعنی تیل پھینکنا شروع کیا
20:17جس سے سلیبی جہازوں کے
20:19بادبانوں اور لکڑی کے تختوں میں
20:21آگ بھڑک اٹھی
20:22سلیبی جنگ جو جو چند گھنٹے پہلے تک
20:25خود کو ناقابل شقت سمجھ رہے تھے
20:27اب شولوں میں گھرے
20:29اپنی جان بچانے کے لیے
20:30سمندر میں کودنے لگے
20:31مسلم مجاہدین نے
20:33کمال بہادری سے
20:34سلیبی جہازوں پر دھاوا بولا
20:36مسلم مجاہدین نے
20:38کمال بہادری سے
20:39سلیبی جہازوں پر دھاوا بولا
20:41ان کے سپاہیوں کو
20:42واصل جہنم کیا
20:44اور کئی جہازوں کو
20:45سمندر کی تہمیں غرق کر دیا
20:47جو سلیبی ساحل پر اتر کر
20:49مدینہ کی طرف
20:51بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے
20:52مسلم سواروں نے
20:54گھوڑے دوڑا کر
20:55مسلم سواروں نے
20:56گھوڑے دوڑا کر
20:57سہرہ کی ریت پر
20:59ان کا راستہ روک لیا
21:00اور انہیں گھیر کر
21:01قیدی بنا لیا
21:02ارنات
21:03خود اس حملے کی
21:04براہ راست کمال کرتے ہوئے
21:06موقع پا کر
21:07چند ساتھیوں کے ساتھ
21:09پیچھے ہٹ گیا
21:09اور اپنے مضبوط کی لے کر
21:11کی طرف فرار ہونے میں
21:12کامیاب رہا
21:13لیکن اس کے مشن میں
21:15شریک تمام کمانڈرز
21:16جنگ جو
21:16اور جہاز ساتھ
21:18زندہ پکڑ لیے گئے
21:19یہ تعداد سیکڑوں میں تھی
21:21جنہوں نے
21:21آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
21:24کے روزہ انور پر
21:25حملے کا ناپاک خواب دیکھا تھا
21:27حسام الدین نے
21:28ان تمام بدبخت
21:29قیدیوں کو
21:30زنجیروں میں جھکڑا
21:31اور انہیں اونٹوں پہ
21:32الٹا بٹھا کر
21:33کاہرہ
21:34اور مکہ مکرمہ
21:35لے جایا گیا
21:36سلطان صلاح الدین
21:37ایوبی کے حکم پر
21:39ان قیدیوں میں سے
21:40جو لوگ
21:40روزہ اقدس کی توہین
21:42اور حاجیوں کے قتل میں
21:43براہ راست ملوث تھے
21:45انہیں منہ کے میدان میں
21:46اور کاہرہ کی گلیوں میں
21:48سریعام سزائے موت دی گئی
21:50تاکہ رہتی دنیا تک
21:51کسی کو بھی
21:52ہرمین شریفین کی طرف
21:53ناپاک نگاہ اٹھانے کی
21:55جررت نہ ہو
21:56ارنات کا وہ بحری بیڑا
21:58جو اس نے
21:59مہینوں کی محنت سے
22:00تیار کیا تھا
22:01ایک ہی جھٹکے میں
22:02صفہِ ہستی سے مٹ گیا
22:04ناظرینِ گرامی
22:05ارنات وقتی طور پر
22:07میدان سے بھاگ نکلا
22:08لیکن سلطان صلاح الدین
22:10ایوبی اپنی قسم
22:11بھولے نہیں تھے
22:12انہوں نے اپنے دل میں
22:13یہ بات بٹھا لی تھی
22:14کہ ارنات کا خاتمہ
22:15ان کے اپنے ہاتھوں ہی ہوگا
22:17وقت گزرتا گیا
22:19اور صلیبیوں کے
22:20مظالم بڑھتے رہے
22:21یہاں تک کہ
22:22تاریخی سال
22:231187 آن پہنچا
22:25یہ وہی سال ہے
22:26جب تاریخِ اسلام
22:27کا ویادگار مارکہ
22:28بھرپا ہوا
22:29جسے جنگِ ہتین
22:30کہا جاتا ہے
22:31ارنات نے
22:32جنگِ ہتین سے
22:33کچھ عرصہ پہلے
22:34ایک بار پھر
22:35امن کا معاہدہ
22:36توڑا تھا
22:37اور مصر سے
22:38شام جانے والے
22:39ایک بہت بڑے
22:40مسلم تجارتی کافرے
22:41کو لوٹ کر
22:42تمام تاجروں
22:43کو قید کر لیا تھا
22:44جب قیدیوں نے
22:45ارنات سے کہا
22:46کہ سلطان صلاح الدین
22:48کے ساتھ
22:48تمہارا
22:49امن کا معاہدہ ہے
22:50تو اس بدبخت
22:51نے گستاخی
22:52کرتے ہوئے
22:52کہا کہ جاؤ
22:53اپنے محمد سے
22:54کہو کہ وہ
22:55آ کر تمہیں چھڑائیں
22:56جب یہ خبر
22:57سلطان صلاح الدین
22:58ایوبی تک پہنچی
22:59تو انہوں نے
23:00اعلان جہاد کر دیا
23:02اور ارنات کے
23:03خاتمے کا وقت
23:04دان پہنچا
23:04جنگِ ہتین
23:06کے میدان میں
23:06سلطان صلاح الدین
23:08ایوبی کی فوج نے
23:09سلیبیوں کو
23:10تاریخ کی
23:10بدترین شقصت
23:11سے دوچار کیا
23:12گرمی کی شدت
23:14پیاس اور
23:14مسلمانوں کے
23:15تابر توڑ
23:16حملوں نے
23:16سلیبی لشکر
23:18کے پاؤں
23:18اکھار دیئے
23:19پورا میدان
23:20سلیبی لاشوں
23:20سے بھر گیا
23:21اور یروشلم
23:22کا بادشاہ
23:23اور کر کا
23:24صفات حاقم
23:25ارنات
23:25دونوں جنگ
23:26کے بعد
23:27زندہ گرفتار
23:27کر لیے گئے
23:28یہ وہی گھڑی
23:29تھی جس کا
23:30انتظار تاریخ
23:31سالوں سے
23:31کر رہی تھی
23:32ارنات کو
23:33زنجیروں میں
23:41تھنڈے پانی
23:42کا پیالہ
23:42پیش کیا
23:43لیکن جب
23:44بادشاہ نے
23:44وہ پیالہ
23:45ارنات کو دیا
23:45تو سلطان
23:46نے فوری طور پر
23:47مترجم کے ذریعے
23:48واضح کیا
23:49کہ تم نے
23:50اسے پانی دیا ہے
23:51میں نے نہیں
23:51کیونکہ میں نے
23:53اس ظالم کو
23:53پناہ نہیں دی
23:54دوستو
23:55اس کے بعد
23:56سلطان صلاح الدین
23:57عیوبی اٹھے
23:57ان کی آنکھوں میں
23:58جلال
23:59اور چہرے پر
24:00غیرت رسول
24:01صلی اللہ علیہ وآلہ
24:02کی چمک تھی
24:03سلطان
24:04نے
24:05ارنات کے سامنے
24:06کھڑے ہو کر
24:06فرمایا
24:07کہ ارنات
24:07کیا تجھے یاد ہے
24:09کہ تُو نے
24:09ہرے مین شریفین
24:10پر حملے کی
24:11ناپاک کوشش کی تھی
24:12کیا تجھے یاد ہے
24:13کہ تُو نے
24:13نہتے حاجیوں
24:14کو سمندر میں
24:15شہید کیا تھا
24:16اور میرے نبی
24:17صلی اللہ علیہ وآلہ
24:18کی شان میں
24:19گستاخی کی تھی
24:20آج دیکھ
24:21کہ محمد عربی
24:22کا ایک ادنہ غلام
24:23تیرے سامنے
24:24کھڑا ہے
24:25ارنات خوف
24:26اور ندامت
24:27سے کانپ رہا تھا
24:28اور اس کے
24:28موں سے
24:29ایک لفظ
24:29نہ نکل سکا
24:30سلطان
24:31صلاح الدین
24:31ایوبی
24:32نے اپنی
24:32تلوار
24:33میان سے
24:33نکالی
24:33اور ایک ہی
24:34بار سے
24:35ارنات
24:35کا شانہ
24:36اڑا دیا
24:36جس کے بعد
24:37محافظوں نے
24:38اس ملون
24:38کا سرطن
24:39سے جدا کر دیا
24:40یوں
24:41اس بدبخت
24:41کا خاتمہ ہوا
24:42جس نے
24:43مدینہ منورہ
24:44اور روزہ
24:44رسول
24:45صلی اللہ
24:45کو نقصان
24:47پہنچانے
24:48کی سازش
24:49سوچی تھی
24:49ناظرین
24:50گرامی
24:50تاریخ
24:51کے یہ
24:51دونوں
24:51واقعات
24:52یعنی
24:52گیارہ سو
24:53باسٹ
24:53میں
24:53نورود
24:54دین
24:54زنگی
24:55کے دور
24:55میں
24:55کھو دی
24:55جانے
24:56والی
24:56خفیہ
24:56سرنگ
24:57کی
24:57ناقامی
24:57اور پھر
24:58گیارہ سو
24:59بیاسی
24:59میں
24:59سلطان
25:00صلاح الدین
25:01ایوبی
25:01کے
25:01اہد
25:02میں
25:02ارنات
25:03کے
25:03بحری
25:03بیڑے
25:04کی
25:04مکمل
25:04تباہی
25:05یہ
25:06ثابت
25:06کرتے ہیں
25:06کہ
25:07اسلام
25:07کا
25:07مرکز
25:08اور
25:08حضور
25:08صلی اللہ
25:09علیہ وآلہ
25:10وآلہ
25:10وآلہ
25:10کا
25:10دربار
25:11اقدس
25:11کسی
25:12عام
25:12زمین
25:13حفاظت
25:13کا
25:13محتاج
25:14نہیں
25:14جب
25:15بھی
25:15کسی
25:15بدبخت
25:15نے
25:16اپنے
25:16اقتدار
25:16دولت
25:17یا
25:17فوج
25:17کے
25:18گھمن
25:18میں
25:18ہریمین
25:19شریفین
25:19کی طرف
25:20قدم
25:20بڑھانے
25:20کی
25:21کوشش
25:21کی
25:21تو
25:22اللہ
25:22تعالی
25:22نے
25:22غیب
25:23سے
25:23ایسے
25:23اسباب
25:23پیدا
25:24فرمائے
25:24اور
25:25نور
25:25الدین
25:25زنگی
25:26اور
25:26صلاح
25:26الدین
25:27عیوبی
25:27جیسے
25:27سچے
25:28عاشق
25:28رسول
25:29صلی اللہ
25:30علیہ وآلہ
25:30وآلہ
25:30وآلہ
25:31جرنیلوں
25:32کو
25:32کھڑا
25:32کیا
25:33جنہوں
25:34نے
25:34دشمنوں
25:34کے
25:34ناپاق
25:35ارادوں
25:35کو
25:36خاق
25:36میں
25:36ملا
25:36کر
25:37انہیں
25:37عبرت
25:51اور
25:51دستاویزی
25:51ویڈیو
25:52پسند آئی
25:52ہے
25:52تو
25:53اسے
25:53لائک
25:53ضرور
25:53کیجئے
25:54کمنٹ
25:55سیکشن
25:55میں
25:55درود
25:55پاک
25:56کا
25:56نظر آنا
25:56پیش
25:57کرنا
25:57مت
25:57بھولیے
25:58گا
25:58اگلی
25:59ویڈیو
25:59تک
25:59کے لئے
25:59اجازت
26:00دیجئے
26:00اللہ حافظ

Recommended