- 1 week ago
Islamic channel Natt Biyaan Hadees Shareef True Mujzey islami Waqiaat
Category
📺
TVTranscript
00:00:05700 سال
00:00:06700 سال سے روم اور فارس
00:00:12اس دنیا کے خدا بنے بیٹھے ہیں
00:00:15اور تم
00:00:16کیسرا کے عظیم جنرل
00:00:18یہاں میرے دربار میں
00:00:21گھٹنوں پر گرے ہو
00:00:23بیک اکیلے آدمی نے
00:00:25تمہاری عظیم سلطنت کی کمر توڑ دی
00:00:31وہ آدمی نہیں ہے
00:00:33وہ ایک عذاب ہے
00:00:35ہم نے اس کے سامنے
00:00:37اپنے ہزاروں ہاتھی کھڑے کیے
00:00:39ہم نے اپنے سب سے بڑے دیتیں بھیجے
00:00:42اس نے سب کاٹ ڈالے
00:00:45سہرہ کے بھوکے عرب
00:00:48سونا اور ریشم دیکھ کر پاگل ہو گئے ہیں
00:00:51ہم ان کے سامنے سونے کی ڈھیر لگا دیں گے
00:00:54اور وہ خود واپس
00:00:55اپنے جلتے ہوئے سہرہ میں لوٹ جائیں گے
00:01:00سونا
00:01:02ہم نے بھی یہی سوچا تھا
00:01:06لیکن وہ سہرہ کا بھوکہ نہیں ہے
00:01:08وہ
00:01:10ہون کا پیاسا ہے
00:01:12اس نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا تھا
00:01:14میں تمہارے پاس ایک ایسی فوز لائیہ ہوں
00:01:18جسے موت سے اتنی ہی محبت ہے
00:01:21جتنی تمہیں
00:01:24اس دنیا کی زندگی سے ہے
00:01:27کون ہے وہ
00:01:29کہاں سے آیا ہے
00:01:32وہ توفان
00:01:35مکہ کے لوگ
00:01:37اسے ولید بن مغیرہ کا بیٹا کہتے تھے
00:01:41فس کے دشمن اسے موت کہتے ہیں
00:01:44لیکن آج
00:01:46آدھی دنیا اسے
00:01:49سیف اللہ کہتی ہے
00:01:53اللہ کی تلوار
00:01:54ہم عرب
00:01:56خون پیتے ہیں
00:01:58اور میں نے سنا ہے
00:02:00میں نے سنا ہے
00:02:02کہ تم رومیوں کا خون
00:02:03بہت
00:02:05میٹھا ہوتا ہے
00:02:13موسیقی
00:02:37یہ کہاری شروع ہوتی ہے
00:02:39مکہ مکرمہ میں
00:02:40تقریباً 585 عصفی میں
00:02:42قریش کے سب سے
00:02:43معزز قبیلوں میں سے ایک تھا
00:02:45بنو مخزوم
00:02:46اور بنو مخزوم کی
00:02:47ایک خاص چیز کے لیے
00:02:48مشہور تھا
00:02:49جنگو جتل
00:02:50اور گھوڑوں کی تربیت
00:02:52بنو مخزوم میں
00:02:53بچوں کو چلنا بعد میں
00:02:55سکھایا جاتا ہے
00:02:56تلوار پکرنا پہلے
00:02:57اور جو گھوڑے کو
00:02:59اپنے خوف پر
00:03:01کابو کرنا سکھا دے
00:03:02وہی ایک دن
00:03:03لشکر کو بھی
00:03:07خالد ابن الولید
00:03:08رضی اللہ عنہ کے
00:03:09والد کا نام تھا
00:03:10ولید بن مغیرہ
00:03:12ولید بن مغیرہ
00:03:13قریش کے مشہور قبیلے
00:03:15بنو مخزوم کے سردار تھے
00:03:16مکہ میں قریش
00:03:18کئی بڑے قبیل میں
00:03:19تقسیم تھے
00:03:20ان میں بنو حاشم
00:03:21بنو امیہ
00:03:22اور بنو مخزوم
00:03:23جیسے طاقتفر قبیل شامل تھے
00:03:24مکہ کے استعمائی نظام میں
00:03:26ہر قبیلے کی
00:03:27اپنی ذمہ داری ہوتی تھی
00:03:29کسی کے پاس
00:03:30کھانا کعبہ کی خدمت تھی
00:03:31کسی کے پاس
00:03:32ہاجیوں کو پانی پلانے کا کام تھا
00:03:34لیکن
00:03:35بنو مخزوم کے پاس تھی
00:03:36جنگ کی قیادت
00:03:37اور گھوڑوں کا پورا انتظام
00:03:39اسی قبیلے میں
00:03:40ابو جہل بھی تھا
00:03:41اسی قبیلے کے سردار
00:03:42ولید بن مغیرہ تھے
00:03:44اور اسی گھر میں
00:03:45آگے چل کر
00:03:46وہ شخص پیدا ہوا
00:03:47جسے دنیا
00:03:48سیف اللہ
00:03:49یعنی
00:03:50اللہ کی تلوار کے نام سے
00:03:51جاننے والی تھی
00:03:52لیکن
00:03:53لیکن
00:03:53ابھی خالد ابن الولید کی
00:03:55کہانی شروع نہیں ہوئی تھی
00:03:56ابھی کہانی
00:03:56ان کے والد کی تھی
00:03:57ولید بن مغیرہ
00:03:59صرف اپنے قبیلے کے
00:04:00سردار نہیں تھی
00:04:01وہ مکہ کے
00:04:02سب سے دولت من
00:04:02لوگوں میں شمار ہوتے تھے
00:04:03اس کے پاس
00:04:04مکہ سے
00:04:05طائف تک زمینیں تھی
00:04:07بغات تھے
00:04:07تجارت تھی
00:04:08گھر تھے
00:04:09اور اتنا مال تھا
00:04:10کہ عرب میں
00:04:11ان کی دولت کی
00:04:12مثالیں دی جاتی تھی
00:04:14یہ سارا مال
00:04:16ولید کا ہے
00:04:17ہاں
00:04:18مکہ سے
00:04:19طائف تک
00:04:20اس کی زمینیں ہیں
00:04:20اور یہ تو
00:04:22صرف ایک
00:04:22کافلہ ہے
00:04:24پھر تو
00:04:24مکہ میں
00:04:25اس سے زیادہ
00:04:26امیر کوئی نہیں ہوگا
00:04:27امیر بہت ہے
00:04:28لیکن
00:04:29ولید جیسا اثر
00:04:30کسی کا نہیں
00:04:32انہیں
00:04:32الوحید
00:04:33کہتے تھے
00:04:33یعنی
00:04:34وہ شخص
00:04:35جو اپنی حیثیت
00:04:36اور دولت میں
00:04:37اکیلے ہی
00:04:37دوسروں کے برابر تھا
00:04:39کیا
00:04:40طائف کو
00:04:41جانے والا
00:04:41مال تیار ہے
00:04:43جی
00:04:44جی میرے حضور
00:04:45بس تیار ہونے ہی والا ہے
00:04:47اس کے پاس
00:04:48مال تھا
00:04:48بیٹے تھے
00:04:49قبیلے کی سرداری تھی
00:04:50لوگوں میں عزت تھی
00:04:51اور شاید
00:04:52اسی وجہ سے
00:04:53اس کے اندر
00:04:54یہ گھمن پیدا ہو گیا تھا
00:04:55کہ اگر
00:04:56اللہ کی طرف سے
00:04:57کوئی پیغام آنا چاہیے تھا
00:04:58تو وہ کسی
00:04:59ایسے شخص پر آنا چاہیے تھا
00:05:00جو اس کی طرح
00:05:01امیر اور باثر ہو
00:05:03نبی علیہ السلام
00:05:04تو وہ سلام کی
00:05:04بڑی خواہش تھی
00:05:05کہ ورید بن مغیرہ
00:05:07اسلام قبول کر لے
00:05:08کیونکہ وہ جانتے تھے
00:05:09کہ اگر مکہ کا
00:05:10اتنا بڑا اور
00:05:11باثر سردار
00:05:12ایمان لیا ہے
00:05:13تو اس کے ساتھ ساتھ
00:05:14بہت سے لوگوں کے لئے
00:05:15اسلام کا راستہ
00:05:15آسان ہو سکتا ہے
00:05:16ایک دن
00:05:17ولید بن مغیرہ نے
00:05:18نبی علیہ السلام
00:05:19کو قرآن کی
00:05:20تلاوت کرتے ہوئے سنا
00:05:21وہ شاعر تھا
00:05:22الفاظوں کو سمجھتا تھا
00:05:24لیکن جب اس نے
00:05:25قرآن سنا
00:05:26تو کچھ لمحوں کے لئے
00:05:27اس کے اندر کا
00:05:28متقبیر سردار
00:05:29خاموش ہو گیا
00:05:30اس نے قرآن کی
00:05:30الفاظ میں وہ اثر
00:05:31محسوس کیا
00:05:32جس نے پہلے کبھی
00:05:33کسی کلام میں
00:05:34محسوس نہیں کیا تھا
00:05:35اس کلام میں
00:05:36ایک عجیب مٹھاس ہے
00:05:39اس کے الفاظ میں
00:05:41ایک بلندی ہے
00:05:43یہ عام انسانی
00:05:44کلام نہیں ہو سکتا
00:05:46مکہ میں یہ افوہ
00:05:47فیل گئی کہ شاید
00:05:48ولید بن مغیرہ
00:05:49اسلام کے قریب آ چکا ہے
00:05:51جب یہ بات
00:05:52ابو جہل تک پہنچی
00:05:53تو وہ پریشان ہو گیا
00:05:54ولید بن مغیرہ
00:05:55ابو جہل کا
00:05:56چچا تھا
00:05:57ابو جہل جانتا تھا
00:05:59کہ اگر ولید جیسے شخص
00:06:00اسلام قبول کر گیا
00:06:01تو قریش کی پوری سیاست
00:06:03کمزور پڑ سکتی ہے
00:06:04اس لیے
00:06:05وہ اپنے چچا کے پاس گیا
00:06:07لیکن اس نے سیدھا
00:06:08یہ نہیں کہا
00:06:08کہ اسلام قبول مت کرو
00:06:10اس نے ولید کے
00:06:11سب سے کمزور مقام پر وار کیا
00:06:12اس کے گھمنڈ پر
00:06:13ابو جہل نے
00:06:14اداس ہونے کا
00:06:15ناٹک کرتی ہوئے کہا
00:06:16چچا جان
00:06:18مکہ میں لوگ
00:06:18عجیب باتیں کر رہے ہیں
00:06:20کیا کہہ رہے ہیں
00:06:22لوگ کہہ رہے ہیں
00:06:23کہ آپ محمد کے پاس
00:06:24اس لیے جانا چاہتے ہیں
00:06:26کیونکہ آپ کو
00:06:27ان کے مال اور خانے کی ضرورت ہے
00:06:29محمد مجھے کیا خلائیں گے
00:06:31تم جانتے ہو
00:06:32کہ میرے پاس کتنا مال ہے
00:06:34تو پھر لوگوں کے سامنے
00:06:35یہ واضح کر دیجئے
00:06:36کہ آپ محمد
00:06:37سلسوشن کو سچا نہیں مانتے
00:06:40تم جانتے ہو
00:06:41کہ محمد جھوٹے نہیں ہیں
00:06:43یہ گواہی کسی مسلمان کی نہیں تھی
00:06:45یہ گواہی مکہ کے اس سردار کی تھی
00:06:47جو نبی علیہ السلام کا پیغام
00:06:49قبول کرنے سے انکار کر رہا تھا
00:06:51وہ جانتا تھا
00:06:52کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
00:06:54کبھی جھوٹ نہیں بولتے
00:06:56ابو جہل نے کہا
00:06:57تو پھر
00:06:59کہہ دیجئے
00:07:01کہ وہ مجنون ہے
00:07:04ان میں جنون کی کوئی علامت نہیں
00:07:06ہم نے مجنون لوگوں کو دیکھا ہے
00:07:08محمد ویسے نہیں ہے
00:07:10تو کہہ دیجئے
00:07:12کہ وہ شائر ہیں
00:07:13میں شائری جانتا ہوں
00:07:16ان کا قلام شائری نہیں ہے
00:07:20تو کہہ دیجئے
00:07:22کہ وہ غیب کی باتیں بتانے والے ہیں
00:07:25ہم کاہن لوگوں کو جانتے ہیں
00:07:27ان کا انداز
00:07:29اور ان کے الفاظ بھی جانتے ہیں
00:07:31محمد کا قلام
00:07:32قاہن کا قلام نہیں ہے
00:07:34اب ہر الزام ختم ہو چکا تھا
00:07:36تو پھر آپ ہی بتائیے
00:07:39محمد کیا ہے
00:07:42وہ جادوگر ہے
00:07:44ان کا قلام باپ کو بیٹے سے
00:07:47بھائی کو بھائی سے
00:07:48اور شوہر کو بیوی سے جدا کر دیتا ہے
00:07:50یہ بات اس نے کسی دلیل کی بنیاد پر نہیں کہی تھی
00:07:53یہ ایک سوچا سمجھا الزام تھا
00:07:55کیونکہ وہ جانتا تھا
00:07:56کہ قرآن کی طرف لوگوں کو آنے سے روکنے کے لیے
00:07:58کوئی نہ کوئی نام دینا ضروری تھا
00:08:01تب اللہ تعالیٰ نے سرہ المتسکر کی آیات نازل فرمائی
00:08:04اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا ذکر کیا جسے اکیلے پیدا کیا گیا
00:08:08جسے بہت سمال دیا گیا
00:08:10جسے بیٹے دیئے گئے
00:08:11جس کے لیے دنیا کے راستے آسان کیے گئے
00:08:14لیکن پھر بھی وہ اللہ کی آیات کا دشمن بن گیا
00:08:17قرآن نے اس کے سوچنے کا انداز تک بیان کر دیا
00:08:19اس نے سوچا اندازہ لگایا
00:08:22چہرہ سے کوڑا
00:08:23اور پھر حق کو جانتے ہوئے
00:08:24اسے جادو کہہ دیا
00:08:25ولید بن مغیرہ کے پاس سچ پہچاننے کی صلاحیت تھی
00:08:29اس نے قرآن کی عظمت کو محسوس بھی کیا تھا
00:08:31وہ نبی علیہ السلام کی سچائی کے گواہ بھی تھے
00:08:34لیکن اس کی دولت
00:08:36اس کی سرداری
00:08:36اس کا قبیلہ
00:08:37اور اس کا گھمڈ
00:08:38اس کے اور ہدایت کے درمیان دیوار بن گیا
00:08:41اس نے سوچا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لے گا
00:08:44تو مکہ میں اس کا مقام کم ہو جائے گا
00:08:46ایک موقع پر
00:08:47قریش نے نبی علیہ السلام کو روپنے کے لیے
00:08:50ایک اور عجیب تجویز پیش کی
00:08:52ولید بن مغیرہ اپنے ایک جوان اور خوبصورت بیٹے کو لے کر
00:08:55ابو طالب کے پاس گیا
00:08:57اس نے کہا
00:08:58میرا یہ بیٹا لے لیجیے
00:09:01اسے اپنا بیٹا بنا لیجیے
00:09:03اور اپنے بھتیج محمد کو ہمارے حوالے کر دیجیے
00:09:08تم مجھ سے کتنا برا سودا کرنا چاہتے ہو
00:09:10میں تمہارے بیٹے کو کھلاؤں
00:09:12اس کی پرورش کروں اور اپنا بیٹا تمہیں دے دوں
00:09:15تاکہ تم اسے قتل کر دوں
00:09:17قریش کا یہ منصوبہ بھی ناکام ہو گیا
00:09:20ولید بن مغیرہ اسلام قبول کیے بغیر دنیا سے چلا گیا
00:09:24لیکن ان کا بیٹا خالد ابھی جوان ہو رہا تھا
00:09:27ایک ایسا جوان جس کے اندر بنو مخزوم کی سجاد بھی تھی
00:09:31اپنے والد کی دولت بھی تھی
00:09:33اور جنگ کو سمجھنے کی وہ صلاحیت بھی
00:09:35جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے
00:09:37لیکن خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے
00:09:41صرف ان کے والد کا کھاندان جان لینا کافی نہیں
00:09:43ان کی والدہ کے طرف سے بھی
00:09:45ان کا تعلق عرب کے کچھ بہت ہی اہم اور عزت دار گھرانوں سے تھا
00:09:50خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ کی والدہ کا نام تھا
00:09:54لبابا بنت الحارث
00:09:55ان کی نانی کا نام ہند بنتے آف تھا
00:09:57ہند بنتے آف کا کھاندان عرب کے ان گھرانوں میں شمار ہوتا تھا
00:10:02جن کے تعلقات قریش کے کئی بڑے اور مشہور افراد کے ساتھ جڑے ہوئے تھے
00:10:06ان کے بیٹیوں میں سے ایک
00:10:08میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہ تھی
00:10:11جو آگے چل کر
00:10:12ام المؤمنین بنی
00:10:13اور نبی علیہ السلام کی نکاح میں آئیں
00:10:16یعنی کہ نبی علیہ السلام
00:10:18خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ کے
00:10:20کھالو بھی تھے
00:10:21ان کے ایک اور بیٹی
00:10:22ام الفضل لبابا الکبر رضی اللہ عنہ تھی
00:10:25جن کا نکاح
00:10:26نبی علیہ السلام کے سیسا
00:10:31اسی کھاندانی سلسلے کی وجہ سے
00:10:33خالد ابن الولید
00:10:35رضی اللہ عنہ کے تعلقات
00:10:37قریش کے کئی بڑے گھرانوں کے ساتھ جڑے ہوئے تھے
00:10:39نبی علیہ السلام کے کھاندان کے ساتھ بھی
00:10:42ان کا رشتہ تھا
00:10:43ابباس کے گھرانے کے ساتھ بھی
00:10:45اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھرانے کے ساتھ بھی
00:10:47کیونکہ حضرت حمزہ
00:10:49ان کی خالہ سلمہ بنت امیس کے شہر تھے
00:10:52یعنی رشتے میں
00:10:53خالد رضی اللہ عنہ کے خالو
00:10:55حضرت عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ بھی
00:10:57خالد رضی اللہ عنہ کے قریبی رشتے دار تھے
00:11:00عمر کی والدہ
00:11:02ہنتمہ بنت حشام
00:11:03اور خالد رضی اللہ عنہ
00:11:05آپس میں چچازاد بھائی بہن تھے
00:11:07یعنی حضرت عمر
00:11:09حضرت خالد کی بہن کے بیٹے تھے
00:11:13خالد کے گھرانے کا تعلق
00:11:15تو قریش کے ہر بڑے خاندان سے نکلتا ہے
00:11:17اسی لئے وہ بچپن سے
00:11:19عام لوگوں کے درمیان نہیں پلے
00:11:22ان کے آس پاس سردار
00:11:24تازر
00:11:25اور جنگ کے ماہر لوگ رہتے تھے
00:11:27پھر ان کی پرورش بھی
00:11:29عام بچوں جیسی نہیں ہوئی ہوگی
00:11:32بلکل نہیں
00:11:32ایسے گھروں میں بچوں کو صرف نام نہیں ملتا
00:11:36ذمہ داری بھی ملتی ہے
00:11:37ریوایتوں میں
00:11:38خالد ابن الولید کی جسمانی بناوٹ کا ذکر بھی ملتا ہے
00:11:42ان کا رنگ ہلکا گندومی تھا
00:11:44قد لمبا تھا
00:11:45جسم مضبوط اور طاقتور تھا
00:11:47کندھے چوڑے تھے
00:11:48اور ان کی شکل و صورت اور جسمانی بناوٹ
00:11:51عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہو سے
00:11:54اتنی ملتی تھی
00:11:54کہ کبھی دور سے دیکھنے والے لوگوں کو
00:11:57دونوں میں پہچان کرنے میں مشکل ہوتی تھی
00:11:59عمر بھی اپنی جسمانی قوت اور بلند قد
00:12:01کے لیے مشہور تھے
00:12:02بچپن اور جوانی میں خالد اور عمر کے درمیان
00:12:05کشتے کے مقابلے بھی ہوا کرتے تھے
00:12:07کبھی عمر غالب آتے اور کبھی خالد آتے
00:12:09خالد گڑ سواری میں ماہر تھے
00:12:11تیز رفتار گھوڑے پر
00:12:13اپنا توازن برقرار رکھتے ہو
00:12:14تیر چلانا ان کے لیے عام بات تھی
00:12:17وہ چلتے ہوئے گھوڑے سے نشانہ لگا سکتے تھے
00:12:19نیزہ پھینکنے میں ماہر تھے
00:12:21اور دونوں ہاتھوں سے تلوار چلانے کی
00:12:23صلاحیت رکھتے تھے
00:12:24ان کے والد ولید بن مغیرہ
00:12:26اسلام کی کھلی مخالفت کرتے ہوئے دنیا سے جا چکے تھے
00:12:29اور خالد کے ذہن میں بھی
00:12:31اسلام وہی نیا پیغام تھا
00:12:33جس نے مکہ کے پرانے نظام کو چیلنج کر دیا تھا
00:12:35پھر مکہ اور مدینہ کے درمیان
00:12:37پہلی بڑی جنگ کا وقت آیا
00:12:39جنگ بطر
00:12:40قریش اپنا لشکر لے کر
00:12:41مدینہ کی مسلمانوں کا مقابلہ کرنے نکلے
00:12:44لیکن خالد ابن الولید
00:12:46اس جنگ میں موجود نہیں تھے
00:12:48روایتوں کے مطابق وہ کسی تیجارتی سفر
00:12:50یا کاروباری مہیم پر مکہ سے
00:12:52باہر گئے ہوئے تھے
00:12:53اس لیے وہ بدر کے میدان میں
00:12:55قریش کے ساتھ شامل نہ ہو سکے
00:12:56لیکن ان کا ایک بھائی اس جنگ میں موجود تھا
00:12:59اس کا نام بھی ولید تھا
00:13:01ولید ابن الولید
00:13:03ولید ابن الولید قریش کے طرف سے
00:13:04جنگ میں شامل ہوا
00:13:05بدر کے میدان قریش کے لیے
00:13:07ایک ایسا صدمہ بنا
00:13:08جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا
00:13:11مکہ کے بڑے بڑے سردار مارے گئے
00:13:13ابو جہل قتل ہوا
00:13:14اور قریش کے کئی لوگ
00:13:15مسلمانوں کے ہاتھ قیدی بنا لیے گئے
00:13:17ان قیدی لوگوں میں
00:13:19ولید ابن الولید بھی شامل تھا
00:13:21جنگ ختم ہونے کے بعد
00:13:22ہر قیدی کی حیثیت کے مطابق
00:13:24اس کا فیدیہ تیہ کیا گیا
00:13:26جن لوگوں کے پاس مال تھا
00:13:27انہیں مال دے کر آزاد ہونا تھا
00:13:29اور جن لوگوں کے پاس مال نہیں تھا
00:13:31لیکن وہ پڑھنا لکھنا جانتے تھے
00:13:34انہیں مدینہ کے بچوں کو
00:13:35تعلیم دینے کی ذمہ داری تھی گئی
00:13:37یہ جنگ کا میدان تھا
00:13:38لیکن قیدی ہونے کے باوجود
00:13:40مسلمانوں کا رویہ انتقام اور ظلم پر مبنی نہیں تھا
00:13:43جب خالد ابن الولید کو خبر ملی
00:13:46کہ ان کا بھائی مسلمانوں کے ہاتھ قیدی ہے
00:13:48تو وہ اسے چھڑانے کے لیے
00:13:49مکہ سے مدینہ آئے
00:13:50انہیں معلوم تھا
00:13:52کہ ان کے بھائی کا تعلق
00:13:53مکہ کے ایک بہت امیر گھرانے سے ہے
00:13:54اس لیے اس کا فیدیہ بھی
00:13:56عام کہری جیسا نہیں ہوگا
00:13:58روایتوں میں
00:13:59فیدیہ کی مقدار
00:14:00چار ہزار درہم
00:14:01یا چار ہزار دینار تک بیان کی گئی ہے
00:14:04جو آج کے دور میں
00:14:05چار ہزار دینار کی قیمت لگ بھگ
00:14:07پچھس کروڑ روپے
00:14:08یا قریب
00:14:09ڈھائی ملین ڈالرز بنتی ہے
00:14:11خالد مال لے کر مدینہ آئے
00:14:13فیدیہ آدھا کیا
00:14:14اور اپنے بھائی ولید ابن الولید کو
00:14:16ازاد کروا لیا
00:14:17خالد سمجھ رہے تھے
00:14:18کہ معاملہ ختم ہو چکا ہے
00:14:20ان کا بھائی ازاد ہو گیا تھا
00:14:21اب دونوں واپس مکہ چلے جائیں گے
00:14:23دونوں مدینہ سے نکلے
00:14:25اور مکہ کے طرف سفر شروع کر دیا
00:14:27لیکن
00:14:28مدینہ سے کچھ دور پہنچنے کے بعد
00:14:30رات کے وقت جب کافلہ آرام کرنے کے لیے رکا
00:14:32تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا
00:14:34خالد کے بھائی ولید نے
00:14:36دوبارہ مدینہ کا روح کر لیا
00:14:37وہ اسی شہر کی طرف واپس چلے گئے
00:14:40جہاں کچھ ہی وقت پہلے
00:14:41وہ قیدی بن کر لائے گئے تھے
00:14:43لیکن اس بار
00:14:44وہ قیدی بن کر نہیں جا رہے تھے
00:14:46اس بار
00:14:46وہ اپنی مرضی سے جا رہے تھے
00:14:48ولید ابن الولید نے
00:14:49مدینہ پہنچ کر
00:14:50اسلام قبول کر لیا
00:14:51جب خالد کو اس بات کا پتا چلا
00:14:53تو وہ حیران بھی ہو گئے
00:14:55اور ناراض بھی
00:14:55انہوں نے اپنے بھائی سے کہا
00:15:13لیکن
00:15:14ولید ابن الولید کا جواب
00:15:15خالد کیلئے صرف ایک جواب نہیں تھا
00:15:17وہ ایک ایسی گواہی تھی
00:15:19جو شاید خالد کے دل میں
00:15:20کہیں گہرائی تک اتر گئی
00:15:22ولید نے کہا
00:15:23اے میرے بھائی
00:15:24میں نے مسلمانوں کے اخلاق میں
00:15:26وہ خوبصورتی دیکھی ہے
00:15:27جو مجھے قریش کے اندر نہیں ملی
00:15:30میں نے ان کے رسول
00:15:31صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ دیکھا
00:15:34وہ اپنے دشمنوں اور قیدیوں کے ساتھ
00:15:36کس طرح پیش آتے ہیں
00:15:37اسی لئے میں نے
00:15:38اسلام قبول کیا
00:15:40تو تم نے قیدی ہونے کے وقت
00:15:42اسلام کیوں نہیں قبول کیا
00:15:44میں نہیں چاہتا تھا
00:15:46کہ لوگ یہ سمجھیں
00:15:47کہ میں نے موت یا قید
00:15:48کی ڈر سے اسلام قبول کیا ہے
00:15:50میں پہلے ایک آزاد انسان
00:15:52بننا چاہتا تھا
00:15:53تاکہ جب میں اسلام قبول کروں
00:15:55تو ہر شخص جان لے
00:15:57کہ میں نے کسی دباو
00:15:58خوف
00:15:59یا مجبوری کی وجہ سے نہیں
00:16:01بلکہ اپنی مرضی
00:16:03اور یقین کے ساتھ
00:16:04اسلام قبول کیا ہے
00:16:05یہ الفاظ خالد کے لئے نائے تھے
00:16:07قریش مکہ میں لوگوں کو بتاتے تھے
00:16:09کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم
00:16:11نے لوگوں کو
00:16:12اپنے جال میں فسا رکھا ہے
00:16:14مسلمان کمزور ہیں
00:16:17اسلام قبول کرنے والے لوگ
00:16:19کسی مجبوری
00:16:20یا لالچ کی وجہ سے
00:16:21ایسا کر رہے ہیں
00:16:22لیکن خالد کا
00:16:24اپنا بھائی کہہ رہا تھا
00:16:25کہ اس نے
00:16:25اسلام مسلمانوں کے
00:16:26اخلاق کو دیکھ کر
00:16:27قبول کیا ہے
00:16:28وہ کہتی تھا
00:16:29لیکن اس کے ساتھ
00:16:30ایسا رویہ اکتیار کیا گیا تھا
00:16:32کہ آزاد ہونے کے بعد بھی
00:16:34وہ انہی لوگوں کے پاس
00:16:35واپس چلا گیا
00:16:36خالد نے اپنے بھائی کی بات سن لے
00:16:37لیکن ابھی ان کا دل
00:16:39اسلام کے لئے کھلا نہیں تھا
00:16:40ان کے اور اسلام کے درمیان
00:16:42ابھی کچھ بڑے میدان باقی تھے
00:16:44قضوائے بدر میں
00:16:44خالد ایدن الوالید
00:16:46موجود نہیں تھے
00:16:46لیکن
00:16:47بدر میں
00:16:48قریش کو
00:16:49جو سکست ملی تھی
00:16:50اس نے پورے مکہ کو
00:16:51ہلا کر رکھ دیا تھا
00:16:52ان کے بڑے بڑے سردار
00:16:54مارے جا چکے تھے
00:16:55ان کی عزت کو
00:16:56گہرا نقصان پہنچ چکا تھا
00:16:58اور اب قریش کے دل میں
00:16:59صرف ایک ہی جذبہ تھا
00:17:00انتقام
00:17:01ایک سال بعد
00:17:02مکہ نے اپنی پوری طاقت جمع کی
00:17:04ابو سفیان لشکر کی
00:17:06قیادت کر رہا تھا
00:17:07قریش کے سواروں کو
00:17:08دو حصوں میں تقسیم کیا گیا
00:17:10ایک طرف اکرمہ ابن ابو جہل تھا
00:17:12اور دوسری طرف
00:17:13کیولرے کی قیادت
00:17:14خالد ایدن الوالید کے ہاتھ میں تھی
00:17:16یہ پہلی بڑی جنگ تھی
00:17:17جس میں خالد ابن الوالید
00:17:19مسلمانوں کے سامنے
00:17:20ایک کمانڈر کے طور پر
00:17:21کھڑے ہونے والے تھے
00:17:22نبی علیہ السلام نے
00:17:24جنگ شروع ہونے سے پہلے
00:17:25میدان کا جائزہ لیا
00:17:26آپ جانتے تھے
00:17:27کہ مسلمانوں کو پچھلے حصے میں
00:17:29ایک چھوٹا سا پہاڑی راستہ تھا
00:17:31اگر دشمن کے گھرسوار
00:17:32اس راستے سے پیسے پہنچ گئے
00:17:33تو مسلمان دونوں طرف سے گھر سکتے تھے
00:17:36اس لیے
00:17:37نبی علیہ السلام نے
00:17:38پچاس تیر اندازوں کا
00:17:39ایک دستہ
00:17:40اس پہاڑی پر مقرر فرمایا
00:17:42ان کے کمانڈر
00:17:43عبداللہ ابن جبیر
00:17:45رضی اللہ تعالیٰ نہ ہو تھے
00:17:46نبی علیہ السلام نے
00:17:48انہیں صاف حکم دیا
00:17:49چاہے تم دیکھو کہ
00:17:50ہم جیت رہے ہیں
00:17:51یا تم دیکھو کہ
00:17:52ہمیں شکست ہو رہی ہے
00:17:53اپنی جگہ مت چھوڑنا
00:17:55یہ حکم بلکل واضح تھا
00:17:57اس پہاڑی کو بعد میں
00:17:58جبل الروما
00:17:59یعنی تیر اندازوں کے
00:18:08ان کے سپاہی پیچھے ہٹنے لگے
00:18:10اور کچھ ہی دیر میں
00:18:12ایسا نظر آنے لگا
00:18:13کہ مسلمان جنگ جیت چکے ہیں
00:18:14قریش کا لشکر
00:18:15میدان چھوڑ کر بھاگ رہا تھا
00:18:17پہاڑی پر کھڑے تیر اندازوں نے دیکھا
00:18:19کہ نیچے مالی غنیمت جمع ہو رہا ہے
00:18:21لیکن ان کے کمانڈر
00:18:22عبداللہ ابن جبیر
00:18:24انہیں نبی علیہ السلام کا حکم یاد دلائیا
00:18:26انہوں نے کہا
00:18:26اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے
00:18:29ہمیں اپنی جگہ نہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا
00:18:32لیکن بہت سے تیر اندازوں نے یہ سمجھا
00:18:34کہ یہ حکم صرف جنگ کی دوران کے لیے تھا
00:18:37اب تو دشمن بھاگ چکا تھا
00:18:38اس لیے پچاس میں سے زیادہ تر تیر انداز
00:18:41پہاڑی سے نیچے اتر گئے
00:18:43صرف چند لوگ اپنی جگہ پر باقی رہ گئے
00:18:45اور میدان کے دوسرے کونے پر
00:18:47ایک شخص یہ سب دیکھ رہا تھا
00:18:49خالد نے ایک لمحے میں فیصلہ کر لیا
00:18:51انہوں نے اپنے سواروں کو روکا
00:18:53گھوڑے موڑ دیے
00:18:55اور پہاڑی کے پچھلے راستے کی طرف تیزی سے بڑھے
00:18:57جو شن تیر انداز وہاں باقی تھے
00:18:59انہوں نے بہادری سے مقابلہ کیا
00:19:01لیکن خالد کی کیویلری کی رفتار
00:19:04اور تعداد کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹک سکی
00:19:06اب مسلمانوں کی پچھلے حصے کا راستہ کھل چکا تھا
00:19:09خالد اپنے گھوڑ سواروں کے ساتھ
00:19:11مسلمانوں کے پیچھے پہنچ گئے
00:19:12اور پھر انہوں نے حملہ کر دیا
00:19:14مسلمان جو کچھ دیر پہلے فتح کے قریب تھے
00:19:17اچانک دو طرف سے گھر گئے
00:19:18سامنے سے بھاگلے والے قریشوں نے جب دیکھا
00:19:20کہ خالد مسلمانوں کے پیچھے پہنچ چکے ہیں
00:19:23تو وہ بھی پلٹ گئے
00:19:24دیکھو خالد مسلمانوں کے بیچ گھس چکا ہے
00:19:27چلدی چلو آج ہماری فتح کا دن ہے
00:19:30اب ایک طرف سے خالد کے سوار حملہ کر رہے تھے
00:19:33اور دوسری طرف سے
00:19:34قریش کا بکھرا ہوا لشکر دوبارہ جمع ہو رہا تھا
00:19:37مسلمانوں کی صفوں میں افرہ تفریح مچ گئے
00:19:39کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا
00:19:41کہ حملہ کس طرف سے ہو رہا ہے
00:19:43کچھ مسلمان ایک دوسرے کو پہچان نہیں پا رہے تھے
00:19:45اسی ہنگامے کے درمیان
00:19:47نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے شہید ہونے کی افواہ فیل گئے
00:19:50مسلمانوں کے حوصلے کو گہرہ سرما لگا
00:19:53حضرت حمزہ ردی روزاہ شہید کر دیئے گئے
00:20:05اور کچھ وفادار صحابہ نے
00:20:07اپنے جسموں کو ڈھال بنا کر
00:20:09نبی علیہ السلام کی حفاظت کی
00:20:11اہود کے میدان میں
00:20:12قریش کو جو موقع ملا
00:20:14اس کے پیچھے سب سے اہم فوجی فیصلہ
00:20:16خالد ابن الولید کا تھا
00:20:18جب قریش مکہ واپس موجے
00:20:20تو خالد کو ایک ہیرو کی طور پر دیکھا گیا
00:20:23اب وہ صرف ایک جنگ جو نہیں تھے
00:20:25وہ ایک ایسے کمانڈر بن چکے تھے
00:20:26جو جنگ کا پگڑا ایک ہی فیصلے سے بدل سکتا تھا
00:20:29اہود کے بعد قریش نے ایک اور بڑی کوشش کی
00:20:32عرب کے مختلف قبائل کو اکھٹا کیا گیا
00:20:35مدینہ پر ایک بڑا حاملہ تیار ہوا
00:20:37یہ تھا غزوائے خندق
00:20:39قریش اور ان کے ساتھی
00:20:41ایک بہت بڑا لشکر لے کر
00:20:42مدینہ پہنچے
00:20:43لیکن اس بار
00:20:44مسلمانوں نے مدینہ کے خلے حصے کے سامنے
00:20:47ایک گہری خندق خود رکھی تھی
00:20:49عرب کے جنگوں میں یہ طریقہ نیا تھا
00:20:51قریش کے گھوڑے خندق کو پار نہیں کر پا رہے تھے
00:20:54ان کا بڑا لشکر
00:20:55خندق کے دوسری طرف روک گیا
00:20:57خالد ابن الولید اور دوسرے جنگ جو
00:20:59خندق کے کمزور مقامات تلاش کرتے رہے
00:21:01کچھ لوگ ایک تنگ جگہ سے
00:21:03خندق پار کرنے میں کامیاب بھی ہوئے
00:21:05چھوٹی موڑی جھڑپے ہوتی رہی
00:21:06لیکن قریش مسلمانوں کی دفاعی
00:21:09سف کو توڑ نہ سکے
00:21:10دن گزرتے گئے
00:21:11سردی بڑھتی گئی
00:21:12راشن کم ہوئے لگے
00:21:13اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایک سخت آنڈی بھیج دی
00:21:16خیمیں اکھڑنے لگے
00:21:17آگ بج گئی
00:21:18برطن اُلٹ گئے
00:21:19قریش اور ان کے ساتھیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے
00:21:22آخر انہیں مدینہ کو فتح کیے
00:21:24بغیر واپس لوٹنا پڑا
00:21:25کچھ عرصے بعد
00:21:26ہجرت کا چھٹا سال آیا
00:21:27نبی علیہ السلام نے خواب دیکھا
00:21:30کہ آپ اور آپ کے صحابہ مکہ جا رہے ہیں
00:21:32اور عمرہ عدا کر رہے ہیں
00:21:34نبی علیہ السلام تقریباً
00:21:35قریباً چودہ یا پندرہ سو صحابہ کے ساتھ
00:21:38مکہ کی طرف روانہ ہوئے
00:21:39ان کے پاس جنگ کا حراتہ نہیں تھا
00:21:41وہ احرام میں تھے
00:21:42ان کے ساتھ قربانی کی جانور تھے
00:21:44لیکن
00:21:44قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے
00:21:47روکنے کا فیصلہ کر لیا تھا
00:21:49مسلمان مکہ کی طرف کوچ کر رہے ہیں
00:21:51ہمیں جلد سے جلد کوئی فیصلہ کرنا ہوگا
00:21:53کیوں نہ خالد کو ایک دستہ دے کر بھیجا جائے
00:21:55اور وہ وہاں پہنچ کر
00:21:57مسلمانوں کا راستہ روک لے
00:21:58ہاں بالکل
00:21:59خالد
00:22:01تم فوراً روانہ ہونے کا انتظام کرو
00:22:04اور کچھ سواروں کو اپنے ساتھ لے جاؤ
00:22:06اور مسلمانوں کو مکہ آنے سے روک لو
00:22:09خالد نے مکہ اور مدینہ کے مشہور راستے پر
00:22:12اپنی کیویلری تینات کر دی
00:22:13لیکن نبی علیہ السلام کو
00:22:15ان کی پوزیشن کی خبر مل گئی تھی
00:22:17آپ نے سیدھا مقابلہ کرنے کے بجائے
00:22:19ایک مشکل اور غیر مشہور پہاڑی راستہ اختیار کیا
00:22:23خالد اس مشہور راستے پر
00:22:24مسلمانوں کا انتظار کرتے رہ گئے
00:22:26اور نبی علیہ السلام نے
00:22:28اپنے صحابہ کے ساتھ انہیں بائپاس کرتے ہوئے
00:22:30خدیبیہ پہنچ گئے
00:22:32خالد کے لیے ہی ایک اور حیرت کا معاملہ تھا
00:22:35وہ جنگ کی سٹریٹیجی میں ماہر تھی
00:22:36لیکن اس بار نبی علیہ السلام نے
00:22:39انہیں آؤٹ سمارٹ کرتے ہوئے
00:22:40ان کی کیویلری کے ساتھ لڑے بغیر
00:22:42ان کا پورا منصوبہ ناکام بنا دیا تھا
00:22:45خدیبیہ کے دوران ایک موقع ایسا بھی آیا
00:22:47جب خالد نے
00:22:48مسلمانوں کا نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا
00:22:51دشمن قریب تھا
00:22:52خطرہ موجود تھا
00:22:53لیکن مسلمانوں نے نماز نہیں چھوڑی
00:22:56انہوں نے صلات الخوف ادا کی
00:22:57خالد دور سے یہ منظر دیکھ رہے تھے
00:23:00انہوں نے دیکھا کہ یہ لوگ جنگ کے خوف میں بھی
00:23:02اپنی عبادت نہیں چھوڑتے
00:23:04خالد کے دل میں پہلی بار اسلام کے لیے
00:23:06ایک الگ احساس پیدا ہوا
00:23:08وہ سوچنے لگے
00:23:09کیا واقعی محمد صلی اللہ علیہ وسلم
00:23:12اللہ کی رسول ہے
00:23:13کیا اسی لیے ہر بار
00:23:16کوئی نہ کوئی چیز ان کی حفاظت کرتی ہے
00:23:18کیا اسی لیے
00:23:20اتنی کوششوں کے باوجود
00:23:22قریش انہیں ختم نہیں کر سکا
00:23:26خدیبیہ میں جنگ نہیں ہوئی
00:23:27ایک معاہدہ ہوا
00:23:28تیہ ہوا کہ مسلمان
00:23:30اس سال عمرہ کیے بغیر مدینہ واپس جائیں گے
00:23:32لیکن اگلے سال
00:23:34وہ مکہ آ کر عمرہ کر سکیں گے
00:23:36ظاہری طور پر قریش اسے
00:23:38اپنی کامیابی سمجھ رہے تھے
00:23:39لیکن اصل میں
00:23:40خدیبیہ کا معاہدہ
00:23:41اسلام کے فیلنے کا ایک نیا دروازہ کھول رہا تھا
00:23:44اب مسلمان اور قریش کچھ عرصے تک
00:23:47ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے
00:23:48لوگوں کو اسلام کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملے گا
00:23:51اور خالد جیسے لوگوں کو
00:23:53سوچنے کا وقت ملے گا
00:23:54اگلے سال
00:23:55نبی علیہ السلام اور صحابہ عمرہ کیلئے مکہ آئے
00:23:58اس عمرہ کو عمرت القدہ کہا گیا
00:24:00خالد ابن الولید نے
00:24:01نبی علیہ السلام کا سامنا کرنے سے
00:24:03بچنے کی کوشش کی
00:24:04لیکن ان کا بھائی
00:24:05ولید ابن الولید
00:24:06مسلمانوں کے ساتھ مکہ آئے تھا
00:24:08ولید نے خالد کو تلاش کیا
00:24:10لیکن خالد انہیں نہیں ملے
00:24:12تب ولید نے
00:24:13اپنے بھائی کے لیے ایک پیغام چھوڑا
00:24:15اس پیغام میں انہوں نے لکھا
00:24:16اے میرے بھائی
00:24:17مجھے تمہاری اکل پر حیرت ہوتی ہے
00:24:20تم جیسا سمجھدار آدمی
00:24:22ابھی تک
00:24:22اسلام سے دور کیسے رہ سکتا ہے
00:24:25اسلام جیسی چیز
00:24:27کسی اقل مند انسان سے
00:24:28چھپی کیسے رہ سکتی ہے
00:24:30اور پھر ولید نے ایک ایسی بات لکھی
00:24:32جس نے خالد کے دل پر
00:24:33گہرہ اثر ڈالا
00:24:35انہوں نے بتایا
00:24:35کہ نبی علیہ السلام نے
00:24:37خالد کے بارے میں پوچھا تھا
00:24:38آپ نے فرمایا تھا
00:24:40خالد جیسا شخص
00:24:41اسلام سے دور کیسے رہ سکتا ہے
00:24:43اس کی اقل
00:24:45اسے اسلام تک ضرور پہنچائے گی
00:24:47خالد نے جب یہ الفاظ سنے
00:24:49تو وہ حیران رہ گئے
00:24:50یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے
00:24:53جن کے خلاف
00:24:54خالد اہود میں لڑے تھے
00:24:55یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے
00:24:58جن کے ساتھ
00:24:59انہوں نے کھندک میں مقابلہ کیا تھا
00:25:01یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے
00:25:03جن کا راستہ روکنے کے لیے
00:25:05وہ خدیبیہ میں
00:25:06کیولری لے کر آئے تھے
00:25:07لیکن نبی رسول اللہ علیہ وسلم
00:25:09نے ان کے لیے بددعا نہیں کی
00:25:10خالد کے دل میں
00:25:11اسلام کی رقبت اور مضبوط ہو گئے
00:25:13اب ان کے سامنے
00:25:14حق اور طبیلے کی وفداری کی ترمیان
00:25:16فیصلہ تھا
00:25:16ایک طرف مکہ تھا
00:25:18اور دوسری طرف مدینہ تھا
00:25:19جہاں انہیں اپنے گزرے ہوئے
00:25:21تمام فیصلوں کا سامنا کرنا تھا
00:25:22آخر ایک رات
00:25:23خالد نے فیصلہ کر لیا
00:25:25کہ وہ اسلام قبول کریں گے
00:25:26لیکن
00:25:27مدینہ جانے سے پہلے
00:25:28انہوں نے سوچا
00:25:29کہ اپنے کسی قریبی دوست کو بھی
00:25:31ساتھ لے جائے جائے
00:25:32وہ اکریمہ ابن ابی جہل کے پاس گئے
00:25:34اکریمہ ان کے قریبی دوستوں میں سے تھا
00:25:36خالد نے اسے کہا
00:25:38محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا معاملہ
00:25:41اب بالکل واضح ہو چکا ہے
00:25:43وہ ضرور اللہ کے رسول ہیں
00:25:46میں اسلام قبول
00:25:48کرنے کے لیے مدینہ جانا چاہتا ہوں
00:25:50اکریمہ کے لیے یہ الفاظ برداشت کرنا آسان نہیں تھا
00:25:53اس کا والد ابو جہل بدر نے
00:25:55مسلمانوں کے ہاتھ مارا گیا تھا
00:25:57مکہ کے سرداروں کو جب خالد کے ارادے کا پتا چلا
00:25:59تو معاملہ سخت ہو گیا
00:26:01انہیں سمجھانے کی کوشش کی گئی
00:26:03انہیں روکا گیا
00:26:04گسے اور تناف کی صورت پیدا ہوئی
00:26:06لیکن خالد اپنے فیصلہ کر چکے تھے
00:26:08وہ اب پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے
00:26:10انہیں اپنا سامان تکیار کیا
00:26:12اپنا گھوڑا لیا
00:26:12اور مکہ کو چھوڑ کر
00:26:14مدینہ کی ذرف روانہ ہو گیا
00:26:16راستے میں خالد کو ایک اور مشہور
00:26:18قریشی کمانڈر ملے
00:26:19عمر ابن العاز
00:26:21دونوں نے ایک دوسری تھے پوچھا
00:26:23تم کہاں جا رہے ہو
00:26:24جل ہی دونوں کو معلوم ہوا
00:26:26کہ ان کی منزل یہی کی ہے
00:26:27عمر ابن العاز بھی اسلام قبول کرنے کے لیے
00:26:29مدینہ جا رہے تھے
00:26:30ان کے ساتھ عثمان ابن تلہا بھی آمیلے
00:26:33یہ تینوں وہ لوگ تھے
00:26:34جو قریش کے اندر
00:26:35عقل، سیاست اور تجربے کے لیے مشہور تھے
00:26:38اب یہ تینوں مدینہ کی طرف جا رہے تھے
00:26:41مدینہ میں جب لوگوں کو خبر ملی
00:26:42کہ خالد ابن الولید آ رہے ہیں
00:26:44تو لوگ حیران تھے
00:26:45خالد مدینہ کی گلیوں سے گزرتے ہوئے
00:26:48نبی علیہ السلام کے پاس پہنچے
00:26:50ان کے دل میں شرمیندگی بھی تھی
00:26:51خوف بھی تھا اور امید دی
00:26:53انہوں نے نبی علیہ السلام کو سلام کیا
00:26:56السلام علیکم یا رسول اللہ
00:26:57پھر گواہی دی
00:26:59کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں
00:27:01اور محمد صدی اللہ علیہ وسلم
00:27:03اللہ کے رسول ہے
00:27:04نبی علیہ السلام کے چہرے پر
00:27:06خوشی ظاہر ہوئی
00:27:07آپ جانتے تھے کہ آج اسلام کو صرف ایک نیا مسلمان نہیں ملا
00:27:11آج اسلام کو ایک ایسا کمانڈر ملا تھا
00:27:13جو آنے والے وقت میں
00:27:15دنیا کی دو سب سے بڑی سلطنوں تو کوئی چیلنج کری گا
00:27:18خالد نے کہا
00:27:19یا رسول اللہ
00:27:20میرے لئے اللہ سے مغفرت کی دعا کیجی
00:27:23میں اسلام سے پہلے آپ کے خلاف بہت کچھ کر چکا ہوں
00:27:27نبی علیہ السلام نے انہیں تسلی دی
00:27:29اسلام ان تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے
00:27:32جو اس سے پہلے ہوئے
00:27:33خالد نے دوبارہ درخواست کی
00:27:35کہ آپ ان کے لئے دعا کریں
00:27:36تو نبی علیہ السلام نے ان کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی
00:27:39خالد ابن الولید رید رضی اللہ عنہ
00:27:41بعد میں فرماتے تھے
00:27:42کہ اسلام قبول کرنے کے بعد
00:27:44نبی علیہ السلام نے
00:27:45کبھی انہیں ان کی ماضی پر شربندہ نہیں کیا
00:27:48نبی علیہ السلام نے انہیں ایک نئی زندگی تھی
00:27:50اب خالد کی تلوار کا روح بدل چکا تھا
00:27:53وہی ہاتھ جو اہود میں مسلمانوں کے خلاف تلوار چلا چکا تھا
00:27:57اب اسلام کی حفاظت کے لئے اٹنے والا تھا
00:27:59وہی ذہن جو قریش کے لشکر کے لئے سٹریٹیجی بناتا تھا
00:28:03اب نبی علیہ السلام کے لشکر کے کام آنے والا تھا
00:28:07لیکن
00:28:08خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ کو
00:28:10اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے
00:28:12سانوں کا انتظار نہیں کرنا پڑا
00:28:13اسلام قبول کیے ہوئے
00:28:15ابھی چند ہی مہینے گزرے تھے
00:28:17کہ ان کے سامنے ایک ایسی جنگ آگھڑی ہوئی
00:28:19جہاں تین ہزار مسلمانوں کو
00:28:21ایک عظیم سلطنت کا لشکر کا سامنا کرنا تھا
00:28:24ایک ایسی جنگ
00:28:25جس میں تین مسلم کمانڈرز کے
00:28:27ایک کے بعد ایک شہید ہونے والے تھے
00:28:30ایک ایسی جنگ
00:28:31جہاں مسلمانوں کا جھلڈہ زمین پر گرنے کے قریب تھا
00:28:34اور تب ایک نیا مسلمان آگے بڑھے گا
00:28:36جھلڈہ اپنے ہاتھ میں اٹھائے گا
00:28:38نو تلوارے اس کے ہاتھ میں ٹوٹیں گے
00:28:40اور نبی علیہ السلام مدیند میں کھڑے ہو کر
00:28:43اس شخص کو ایک ایسا لگب دیں گے
00:28:45جو قیامت تک اس کے نام کے ساتھ جڑا رہے گا
00:28:48سیفم من سیوفلہ
00:28:49اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار
00:28:52اگلا میدان تھا
00:28:53مو تھا
00:28:55خالد ابن الولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:28:57اب اسلام قبول کر چکے تھے
00:28:59مکہ کی سب سے خطرناک تلوار
00:29:01اب مدینہ کی ڈھال بن چکی تھی
00:29:03برسو کی دشمنی ایک ہی لمحے میں ختم ہو گئی تھی
00:29:07لیکن یہ سکون بہت تھوڑے وقت کے لیے تھا
00:29:10خالد کو اسلام لائے ہوئے
00:29:11ابھی مشکل سے صرف دو ہفتے ہی گزرے تھے
00:29:14اب اچانک مدینہ میں ایک ایسی خبر آئی
00:29:17جس نے پورے عرب کو ہلا کر رکھ دیا
00:29:19دنیا کی سب سے عظیم سوپر پاور
00:29:22در رومن ایمپائر
00:29:23جنہوں نے نو سو سال تک آدھی دنیا پر راج کیا تھا
00:29:26ان کے پاس بے حساب دولت تھی
00:29:28بہترین ہتھیار تھے
00:29:30اور ایسی فوج تھی
00:29:31جس کے آگے بڑے بڑے بادشاہ
00:29:33گھٹنے ٹیک دیتے تھے
00:29:34اور اب ان کا رکھ مسلمانوں کی طرف تھا
00:29:37ان کے پاس کتنے لوگ تھے
00:29:39ایک لاکھ رومن فوجی
00:29:41اور ایک لاکھ ان کے اتحادی
00:29:43کرسچن عربز تھے
00:29:44ٹوٹل دو لاکھ لوگوں کا سمونتر
00:29:47جو کسی بھی چیز کو روندنے کے لیے
00:29:49آگے بڑھ رہا تھا
00:29:50اور ان دو لاکھ بھیڑیوں کا سامنا کرنے کے لیے
00:29:53مدینہ سے کتنے لوگ نکلے
00:29:55صرف تین ہزار
00:29:56تین ہزار مسلمان
00:29:58دو لاکھ رومنز کے خلاف
00:30:00یہ کوئی جنگ نہیں تھی
00:30:02دنیا کی نظر میں یہ ایک کھلی ہوئی موت تھی
00:30:05روانگی سے پہلے
00:30:07نبی علیہ السلام ممبر پر آئے
00:30:09اور اس فوج کی کمانڈر ستیکھئے
00:30:11لیکن اس بار
00:30:12ان کا انداز بالکل مختلف تھا
00:30:14آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:30:17اس لشکر کے کمانڈر
00:30:19زید بن حریثہ ہوں گے
00:30:20اگر زید شہید ہو جائے
00:30:22تو پرچم جعفر بن ابی طالب اٹھا لیں گے
00:30:25اور اگر جعفر بھی شہید ہو جائے
00:30:27تو پرچم عبداللہ بن رواحہ
00:30:30رضی اللہ تعالی عنہما اٹھا لیں گے
00:30:32صحابہ سمجھ گئے
00:30:34نبی علیہ السلام انہیں جیت کی نہیں
00:30:36ان کی شہادت کی قبر دے رہے تھے
00:30:38اور پھر کسی نے پوچھا
00:30:40یا رسول اللہ
00:30:42اگر عبداللہ بن رواحہ بھی شہید ہو جائے
00:30:45تو پھر کیا ہوگا
00:30:47تو نبی علیہ السلام نے فرمایا
00:30:50پھر مسلمان آپس میں تیہ کر لینا
00:30:53کہ کس کو اپنا لیڈر چننا ہے
00:30:55اور اس تین ہزار کے لشکر میں
00:30:57ایک عام فوجی کی طرح
00:30:59بینہ کسی رینک اور بینہ کسی جھنڈے کے
00:31:01خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ بھی شامل تھے
00:31:05انہیں نہیں پتا تھا
00:31:07کہ موتا کے اس کھونی میدان میں
00:31:09انہیں ایک ایسی آگ سے گزرنا ہے
00:31:11جو تاریخ میں ان کا نام
00:31:13ہمیشہ کے لیے عمر کرنے والی تھی
00:31:16جنگ موتا
00:31:18ای بیٹل آف سروائیول
00:31:19شروع ہونے والی تھی
00:31:21موتا کے میدان میں جب دونوں فوجیں
00:31:23آمنے سامنے آئیں
00:31:24تو رومنس مسلمانوں کی تعداد دیکھ کر
00:31:27حیران رہ گئے انہیں لگا یہ مزاگ
00:31:29صرف تین آزار ان کی نظر میں
00:31:31یہ کوئی جنگ تھی ہی نہیں
00:31:33یہ تو بس چند منٹوں کا کھیل تھا
00:31:35لیکن جب تلواریں ٹکر آئیں
00:31:37تو روم کی فوج کو سمجھ آ گیا
00:31:39کہ ان کا سامنہ انسانوں سے نہیں
00:31:41ان دیوانوں سے ہے جو موت سے
00:31:43اسی طرح محبت کرتے تھے
00:31:44جیسے رومنس اپنی زندگی سے
00:31:46موتا کا میدان ایک کھون کے سمندر میں
00:31:49بتل گیا
00:31:50ایک طرف موتا میں کھون بہرات
00:31:52اور دوسری طرف مدینہ میں
00:31:54نبی علیہ السلام ممبر پر کھڑے تھے
00:31:56اپنی آنکھوں میں آنسوں لیے
00:31:58صحابہ کو لائیو منظر سنا رہے تھے
00:32:01آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
00:32:03زید بن حریثہ پوری بہادری سے لڑتے ہوئے
00:32:06شہید ہو گئے ہیں
00:32:07پرچم نیچے گرنے ہی والا تھا
00:32:09کہ جعفر بن ابی طالب نے
00:32:11اسے اٹھا لیا
00:32:12رومنس کی بھیڑ نے جعفر کو گھیر لیا
00:32:15انہوں نے ایسی جنگ لڑی
00:32:16کہ ان کا ایک بازو کٹ گیا
00:32:18انہوں نے جنڈا دوسرے ہاتھ میں پکڑا
00:32:20دوسرا بازو بھی کٹ گیا
00:32:22تو جنڈے کو اپنے سینی سے لگا لیا
00:32:25یہاں تک کہ
00:32:27نبی علیہ السلام کی آواز بھر گئی
00:32:30جعفر بھی شہید ہو گئے
00:32:32اب پرچم عبداللہ بن رواحہ نے اٹھا لیا ہے
00:32:35اور کچھ ہی دیر بعد
00:32:37عبداللہ بن رواحہ بھی شہادت پا گئے ہیں
00:32:40تینوں کمانڈر شہید
00:32:41جنڈا زمین پر گر چکا تھا
00:32:43ایک فوج کے لیے اس کا جنڈا گرنے کا مطلب تھا
00:32:46مکمل تباہی
00:32:47مسلمانوں کے درمیان بھکتر مچنے لگی
00:32:50دو لاکھ کا دشمن
00:32:51انہیں نگلنے کے لیے آگے بڑھ رہا تھا
00:32:54اگر اگلے چند لمحوں میں
00:32:55کوئی نیا لیڈر نہ چونا جاتا
00:32:57تو موتا میں ایک بھی مسلمان
00:32:59زنہ نہیں بچتا
00:33:01خالد خالد یہ پرچم اٹھاؤ
00:33:06اگر یہ کچھ دیر اور زمین پر پڑھا رہا
00:33:09تو ہم سب مارے جائیں گے
00:33:13واہ
00:33:13میں
00:33:15نہیں
00:33:15میں یہ پرچم نہیں اٹھاؤں گا
00:33:18تم لوگ بدر کے صحابی ہو
00:33:19تم اصحاب رسول ہو
00:33:22مجھے تو اسلام لائے بھی
00:33:24جمع جمع آٹھ دن ہوئے ہیں
00:33:25یہ عظیم حق
00:33:26تمہارا ہے
00:33:28نہیں خالد
00:33:29خدا کی قسم
00:33:31جنگ کی تقنیق تم ہم سے بہتر جانتے ہو
00:33:33آج اس امت کو
00:33:35تمہاری تلوار کی ضرورت ہے
00:33:38اٹھاؤ اسے
00:33:39موتا کے میدان میں جیسی ہی خالد نے جھنڈا اٹھایا
00:33:42مدینہ میں ممبر پر کھڑے
00:33:44نبی علیہ السلام کی آنکھوں کے سامنے
00:33:46اللہ نے میدان جنگ کا نقشہ کھول دیا
00:33:49آپ علیہ السلام نے صحابہ کی طرف دیکھا
00:33:52اور تاریخ کے وہ عظیب الفاظ ادھا کیے
00:33:55جس نے ایک عام فوجی کو
00:33:57ہمیشہ کے لیے عمر کر دیا
00:33:59نبی علیہ السلام نے فرمایا
00:34:01تینوں کمانڈرز کی شہادت کے بعد
00:34:04اب پرچم اللہ کی تلواروں میں سے
00:34:06ایک تلوار نے اٹھا لیا ہے
00:34:08اور اللہ نے ان کے ذریعے
00:34:09مسلمانوں پر فتح کھول دی ہے
00:34:11اور اس دن نبی علیہ السلام کے
00:34:14مبارک ہوتوں سے نکلے ہوئے
00:34:16الفاظوں نے خالد بن ولید
00:34:18کو ہمیشہ کے لیے سیف اللہ
00:34:19بنا دیا
00:34:20اپنے اسلامی سفر کی اس پہلی ہی جنگ میں
00:34:23خالد بن ولید اس دن ایک ایسی موت کی آنڈی
00:34:26بن کر برزے کہ رومنز ان کے سامنے
00:34:28سے بھاگنے لگے وہ اکیلے
00:34:30اس قدر لڑے کہ لڑتے لڑتے
00:34:32ان کے ہاتھ میں ایک دو
00:34:34نہیں نو تلواریں
00:34:36ٹوٹ گئیں لیکن ابھی تو
00:34:38اصلی کھیل شوری ہونا تھا
00:34:39شام ہو چکے تھے پہلے دن کی خون
00:34:41علود جنگ روک چکے تھے رومنز پیچھے
00:34:44ہٹ چکے تھے لیکن خالد بن
00:34:46ولید جانتے تھے کہ اگلا دن
00:34:47مسلمانوں کے لیے آخری دن ہو سکتا ہے
00:34:50تین ہزار تھکے ہوئے فوجی
00:34:52دو لاکھ کی فوج کا
00:34:54کتنی دیر مقابلہ کر سکتے ہیں
00:34:56انہیں زندہ واپس مدینہ
00:34:58لے جانا ہی سب سے بڑی جیت تھی
00:35:00لیکن مسئلہ یہ تھا
00:35:01اگر مسلمان پیٹ دکھا کر واپس لوٹتے
00:35:04تو رومنز پیچھے سے حملہ کر کے
00:35:06ان کا صفایہ کر دیتے
00:35:07یہاں ضرورت تلوار کی نہیں تھی
00:35:10یہاں دشمن کے دماغ سے کھیلنا تھا
00:35:12اور پھر خالد نے کھیلا
00:35:13تاریخ کا سب سے بڑا مائنگ
00:35:16رات کے اندھیرے میں
00:35:17خالد نے حکم دیا
00:35:19ہر ایک فوجی اپنے لیے دس دس آگ جلائے
00:35:22اور ساری رات
00:35:23ان آگوں کے آگے پیچھے حرکت کرتا رہے
00:35:26کوئی آگ بجھنی نہیں چاہیے
00:35:28اور کوئی آدمی رکنا نہیں چاہیے
00:35:30کمانڈر کمانڈر
00:35:31باہر آئیے
00:35:33آپ کو یہ دیکھنا ہوگا
00:35:37یہ
00:35:37یہ نامو مکن ہے
00:35:40دن میں تو یہ صرف مٹھی بھر تھے
00:35:42یہ آگ
00:35:45یہ اتنے ہزاروں کیمپ آئس کہاں سے آئے
00:35:49مدینہ سے ان کی نئی فوج آ چکی ہے کمانڈر
00:35:51یہ رین فورسمنٹس ہیں
00:35:53اگر ان مٹھی بھر لوگوں نے آج ہمارا یہ حال کیا ہے
00:35:55تو صبح یہ نئی فوج ہمارا کیا کرے گی
00:35:57صبح
00:35:59کوئی اپنی جگہ سے آگے نہیں بڑھے گا
00:36:01اگر ہم نے حملہ کیا
00:36:02تو ہم میں سے کوئی زندہ نہیں بچے گا
00:36:04رومن سمجھے
00:36:05مدینہ سے ہزاروں کی تعداد میں
00:36:07فریش فوج آ چکی ہے
00:36:09لیکن
00:36:09خالد یہاں نہیں رکھے
00:36:11اگلی صبح
00:36:12انہوں نے اپنی فوج کی فارمیشن
00:36:14بلکل بدل دی
00:36:15رائٹ ونگ والوں کو
00:36:16لیفٹ پر بھیج دیا
00:36:18آگے والوں کو پیچھے کر دیا
00:36:19اور ایک ہی گروپ کو
00:36:21نئے نئے جھنڈے دے کر
00:36:22پہاڑ کے پیچھے سے بار بار سامنے لائے گیا
00:36:25جب رومنس نے مسلمانوں کی نئی ترتیب
00:36:27نئے چہرے اور نئے جھنڈے دے گئے
00:36:30ان کا شک
00:36:30یقین میں بدل گیا
00:36:32ان کے دلوں میں ایسی دہشت بیٹ گئی
00:36:34کہ وہ اپنی جگہ پر جم گئے
00:36:36انہوں نے لگا کہ یہ ایک ٹریپ ہے
00:36:37اور اگر وہ آگے بڑھے
00:36:39تو یہ نئی آرمی انہیں تباہ کر دے گی
00:36:41رومنس صرف دیکھتے رہ گئے
00:36:43اور اسی خوف کے سائے میں
00:36:44خالد بن ولید
00:36:45رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے
00:36:47اپنے ایک ایک مسلمان فوجی کو
00:36:50باحفاظت
00:36:50وہاں سے نکال لیا
00:36:52نون مسلم ہسٹورینز آج بھی احران ہے
00:36:54یہ تاریخ کی واہی جنگ تھی
00:36:56جو خالد بن ولید نے جیتی نہیں
00:36:58یہ ایک ڈراؤ تھا
00:37:00لیکن دو لاکھ موت کے فرشتوں کے جبڑے میں
00:37:02ہاتھ ڈال کر
00:37:03اپنے تین ہزار بھائیوں کو
00:37:05زندہ نکال لینا
00:37:07یہ کسی عظیم جیت سے کم نہیں تھا
00:37:09موتہ کے دھول ابھی بیٹی ہی تھی
00:37:11اور مسلمان مدینہ میں
00:37:12ایک نئے دور کے صبح دیکھ رہے تھے
00:37:14وقت کا پہیا آگے بڑھا
00:37:17نبی صلی اللہ علیہ وسلم
00:37:18اس دنیا سے پردہ فرما گئے
00:37:20پوری امت ایک گہرے دکھ میں تھی
00:37:23خلافت کا بوجھ
00:37:24سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ نہو کے کانتوں پر آیا
00:37:28لیکن جیسے ہی خلافت کا آغاز ہوا
00:37:30فتنوں کی آنڈیاں چل پڑی
00:37:32بہت سے قبیلے اسلام سے پھر گئے
00:37:34ان فتنوں کو کچھلنے کے لیے
00:37:36ابو بکر نے اس تلوار کو چنا
00:37:38جو کبھی نہیں ٹوٹی
00:37:39خالد بن ولید نے
00:37:41یمامہ سمیت تمام جنگوں میں
00:37:43ان باغیوں کو ایسی شکست دی
00:37:45کہ عرب میں مکمل امن قائم ہو گیا
00:37:48لیکن ابھی تک
00:37:49عرب ایک بند دروازے کے پیچھے تھا
00:37:51اس دروازے کے اس پار تھی
00:37:53تاریخ کی سب سے پرانی
00:37:54اور سب سے خطرناک دشمنی
00:37:57The Persian Empire
00:37:59جنہوں نے بارہ سو سال تک
00:38:01دنیا پر حکومت کی
00:38:03ان کے پاس ہر ہتیار
00:38:04ہر ٹیکنالوجی تھی
00:38:06ان کے عام جنرلز کی صرف ٹوپی کی قیمت
00:38:08ایک لاکھ دینار ہوا کرتی تھی
00:38:10انہوں نے ہمیشہ عربوں کو
00:38:12سہرہ کے بددو گہ کر مزار پڑھا تھا
00:38:15انہیں لگتا تھا ان قریب عربوں کے پاس
00:38:17تو پہننے کے جوتے بھی نہیں ہیں
00:38:19یہ ہمارا کیا بگاڑیں گے
00:38:21لیکن ان گھونڈی پورشنز کو نہیں پتا تھا
00:38:24کہ اس ریگستان سے نکل کر
00:38:26ایک توفان ان کے طرف بڑھ رہا ہے
00:38:28ابو بکر کا آرڈر آ چکا تھا
00:38:30روخ اب پرشیہ کے طرف کرو
00:38:32اور وہاں پہنچتے ہی
00:38:34خالد بن ولید نے پورشن جنرل
00:38:36ہورموز کو ایک ایسی چٹھی لگی
00:38:39جس نے ان کے محلوں کی نیف ہلا دی
00:38:41خالد نے کہا
00:38:43ہورموز یا تو اسلام قبول کر لو
00:38:46اور محفوظ رہو
00:38:47یا ززادہ کرو
00:38:49اگر یہ دونوں منظور نہیں
00:38:51تو پھر تمہارا اور ہمارا فیصلہ
00:38:54تلوار کرے گی
00:38:55اور سن لو
00:38:56میں تمہارے پاس ایسے مرد لے کر آ رہا ہوں
00:38:59جو موت سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں
00:39:02جتنی محبت
00:39:03تم اس دنیا کی زندگی سے کرتے ہو
00:39:06یہ الفاظ پڑھ کر
00:39:08ہورموز تھر آ گیا
00:39:09گسے میں پاگل ہو گئے
00:39:11اس نے اپنی پوری فوج کو حکم دیا
00:39:13آ جاؤ میدان میں
00:39:14اور اپنے ایک ایک فوجی کو
00:39:16زنجیروں سے باند دو
00:39:18تاکہ کوئی پیچھے نہ بھاگ سکے
00:39:19اور یہاں سے آگاز ہوا
00:39:21اس تاریخی ٹکراؤ کا
00:39:22جسے دنیا جانتی ہے
00:39:24مارکہ السلاسل
00:39:26The Battle of Chains کے نام سے
00:39:28پرشن آردھ میں سامنے کھڑی تھی
00:39:29لوہی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی
00:39:31اور ان کا جنرل تھا
00:39:32ہورموز
00:39:33ایک لاکھ دینار کی ٹوپی پہننے والا
00:39:36مغرور جنرل
00:39:37لیکن اس تکبر کے پیچھے
00:39:39ایک انتہائی بوزدل انسان چھپا تھا
00:39:41ہورموز جانتا تھا
00:39:43کہ اگر خالد سے آمنے سامنے کی ٹکر ہوئی
00:39:45تو اس کی گردن دھڑ سے
00:39:46الگ ہو جائے گی
00:39:47اسی لیے
00:39:48جنگ شروع ہونے سے ایک رات پہلے
00:39:50ہورموز نے ایک نہایت ہی
00:39:52گھنونی سازش رچے
00:39:53وہ عرب کہتے ہیں
00:39:55کہ وہ موت سے محبت کرتے ہیں
00:39:57کل ہم دیکھیں گے
00:39:58کہ ان کا یہ نیا لیڈر
00:40:01موت سے کتنا کھیلتا ہے
00:40:02حکم کیجئے میرے آقا
00:40:05خالد کا سر
00:40:06کل آپ کے قدموں میں ہوگا
00:40:08نہیں
00:40:10آمنے سامنے نہیں لڑنا
00:40:12آج رات
00:40:13ٹھیک اسی جگہ ہے
00:40:14جہاں مقابلہ ہوگا
00:40:16زمین کے اندر گڑھے کھو دو
00:40:17اور ان میں چھپ جاؤ
00:40:18سانس لینے کے لیے
00:40:20ان نلکیوں کا استعمال کرنا
00:40:21اور جب میری سی ٹی بجے
00:40:24تو زمین پھاڑ کر باہر نکلنا
00:40:28دھیان رہے
00:40:29خالد وہاں سے زندہ واپس نہیں جانا چاہیے
00:40:32اس نے ٹھیک اس جگہ
00:40:34جہاں ون آن ون مقابلہ ہونا تھا
00:40:36وہاں زمین کے اندر گڑھے کھو دوائے
00:40:38اور اپنے بارہ سب سے خطرناک قاتلوں کو وہاں چھپا دیا
00:40:41ان کے موں میں چھوٹی سی نلکیاں تھی
00:40:44تاکہ وہ ریت کے اندر سانس لے سکے
00:40:46صبح ہوئی
00:40:48اور اس زمانے کی روایت کے مطابق
00:40:49خالد بن ولید میدان کی بیچ و بیچ آئے
00:40:52ہرموز اپنے گھوڑے پر آگے پڑا
00:40:53اور اس نے اپنا ماسٹر بلان شروع کیا
00:40:56ہرموز نے دکھاوا کرتے ہوئے
00:40:58اپنے گھوڑے سے چھلانگ لگائی
00:40:59اور اپنی تلوار اٹھا کر دور فینک دی
00:41:02وہ خالد کو دکھانا چاہتا تھا
00:41:04کہ میں نہتہ ہاتھوں سے لڑوں گا
00:41:06خالد بن ولید کی غیرت نے
00:41:08یہ گوارنگ نہ کیا
00:41:09کہ دشمن ہتھیار فینک دے
00:41:11اور وہ تلوار اٹھائیں
00:41:12انہوں نے بھی اپنے تلوار زمین پر فینک دی
00:41:15خالد آگے بڑھے
00:41:16موت کے اس چال کے بلکل بیچ و بیچ
00:41:19دونوں میں ہاتھا پائی شروع ہوئے
00:41:21ہرموز نے خالد کو پکڑ لیا
00:41:22اور اچانک ایک زوردار سیٹی پچھائی
00:41:25زمین پٹی اور ریت کے اندر سے
00:41:27بارہ ہتھیار بند پرشن قاتل نکل آئے
00:41:31خالد بن ولید بلکل نیاتے
00:41:33اور چاروں طرف سے ننگی تلوار ہے
00:41:36لیکن ہرموز نہیں جانتا تھا
00:41:37کہ پیچھے مسلمانوں کی صفوں میں
00:41:39ایک ایسی چیل بیٹھی تھی
00:41:41جس کی نظریں ہر دھوکے پڑتی
00:41:47ہزرت کاکہ بن عمر التمیمی
00:41:51اسلام کی تاریخ کے ایک انتہائی عظیم
00:41:53بہادر اور لیجنڈری صحابی تھے
00:41:56اگر انہیں اس دور کی ون مین آرمی کہا جائے
00:41:59تو بالکل غلط نہیں ہوگا
00:42:01وہ بنو تمیم قبیرے سے تعلق رکھتے تھے
00:42:03ان کی شخصیت اور بہادری کو سمجھنے کے لیے
00:42:06صرف ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ کا
00:42:08یہ ایک مشہور کول ہی کافی ہے
00:42:10لکشر میں کاکہ کی آواز
00:42:12ہزار مردوں سے بہتر ہے
00:42:13اور فرمایا
00:42:14جس لشکر میں کاکہ جیسے شخص موجود ہو
00:42:17وہ لشکر کبھی شکست نہیں کھا سکتا
00:42:20کاکہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ جیسے ہی انہوں نے یہ دھوکہ دیکھا
00:42:24انہوں نے اپنے گھوڑے کو ایسی رفتار سے بھگایا
00:42:27کہ ہوا چیر تھی
00:42:28ان کے ہاتھ میں دو تلواریں تھی
00:42:30انہوں نے آتے ہی اپنی ایک تلوار خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ کی طرف پھینکی
00:42:35اب خالد کے ہاتھ میں تلوار آ چکی تھی
00:42:38تیرہ پرشن قاتل
00:42:39اور سامنے اسلام کے دو سب سے بڑے شیر
00:42:42اگلے ہی چند لمحوں میں
00:42:44وہ بارہ کے بارہ قاتل
00:42:45ریت پر لاشوں کی طرح گرے پڑے تھے
00:42:47اور خالد بن ولید کی تلوار نے
00:42:50ایک لاکھ دینار کی ٹوپی پہننے والے
00:42:52اس مغرور ہورموس کو
00:42:53دھڑ سے الگ کر دیا
00:42:55اپنے کمانڈر کو اس طرح
00:42:56کتوں کی موت مرتا دیکھ کر
00:42:58پرشن آرمی میں خوف کی ایسی لہر دھوڑی
00:43:01کہ وہ بھاگنے لگے
00:43:02لیکن پیچھے بھاگتے بھی کیسے
00:43:04وہ تو اپنی ہی زنجیروں میں بندے ہو گئے تھے
00:43:06اور جو زنجیریں انہوں نے
00:43:08مسلمانوں کو ڈرانے کیلئے بہنی تھی
00:43:10وہی زنجیریں اس دن ان کی قبر بن گئے
00:43:13پرشن کا گرور
00:43:14پہلے ہی تھپڑ میں ریت میں رول گیا
00:43:16زنجیروں کی جنگ جیتنے کے بعد
00:43:18خالد روکے نہیں
00:43:19وہ توفان کی طرح آگے پڑے
00:43:21اور بیٹل آف ریور میں
00:43:23پرشن کی ایک اور ٹاپ جنرل کو
00:43:25موت کے گھاٹ اتار دیا
00:43:26لیکن یہاں ایک بہت عجیب واقعہ ہوا
00:43:29میدانے جنگ سے لے کر
00:43:30کسرہ کے دربار تک کا فاصلہ
00:43:32تین سو کلومیٹر تھا
00:43:34آج کی طور پر گاڑی پر بھی
00:43:36تین سے چیار گھنٹے لگتے ہیں
00:43:37اس وقت نہ تو انٹرنیٹ تھا
00:43:38اور نہ یہ کوئی ٹیلی فون
00:43:40لیکن جنگ ہارنے کی خبر
00:43:41کسرہ تک چند گھنٹوں میں پہنچ گئے
00:43:44لیکن کیسے
00:43:45یہ تھی پرشن ایمپائر کی
00:43:46بارہ سو سال پرانے ٹیکنالوجی
00:43:48انہیں نے میدانے جنگ سے محل تک
00:43:50تھوڑے تھوڑے فاصلے پر
00:43:52اپنے فوجی کھڑے کی ہوئے تھے
00:43:54ایک فوجی آواز لگا تھا
00:43:55دوسرا سنتا
00:43:56اور وہ تیسرے کو بتا تھا
00:43:58یہ ایک یومن ٹیلیگراف سسٹم تھا
00:44:02حظیم کسرا
00:44:04ہورمج
00:44:05ہورمج مارا گیا
00:44:06اور ہماری فوج
00:44:08دریا پر بھی ہار چکی ہے
00:44:10وہ عرب
00:44:11وہ طوفان کی طرح آگے بڑھ رہے ہیں
00:44:16ریگستان کے بھوکے بھیڑیے
00:44:17فارسی سلطنت کو ہرائیں گے
00:44:19ناممکن
00:44:22ساٹھ ہزار فوجی تیار کرو
00:44:25تم تینوں
00:44:27بیس بیس ہزار کی فوج لے کر
00:44:28تین مختلف راستوں سے جاؤگے
00:44:30انہیں تین طرف سے گھیرو
00:44:32اور زندہ جلا دو
00:44:35مجھے اس خالد کا سر چاہیے
00:44:37کسرا کو لگتا ہے
00:44:38کہ تعداد جنگ زتاتی ہے
00:44:40وہ ساٹھ ہزار ہیں
00:44:42اور ہم صرف پندرہ ہزار
00:44:45اگر آمنے سامنے کی ٹکر ہوئی
00:44:47تو ہم چاروں طرف سے گھر جائیں گے
00:44:50اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کرو
00:44:52پانچ پانچ ہزار کے
00:44:53تین الگ الگ دستے
00:44:54سارا سامان باندھو
00:44:56اور اس سہرا کے اندھیرے میں
00:44:58بلکل غائب ہو جاؤ
00:45:00لیکن
00:45:01ہم دوبارہ اکٹھے کب ہوں گے
00:45:03آج سے ٹھیک دو ہفتے بعد
00:45:05رات کے ٹھیک
00:45:06ایک بجے
00:45:08ہم ان کی پہلی فوج کے
00:45:10خیموں کے پاس ملیں گے
00:45:11ہم انہیں
00:45:12ایک ایک کر کے شکار کریں گے
00:45:14جاؤ
00:45:16ٹھیک دو ہفتے بعد
00:45:17کسرا کی پہلی
00:45:19بیس ہزار کی فوج
00:45:20اسی جگہ آگر
00:45:21اپنا خیمہ لگا رہی تھی
00:45:22انہیں لگ رہا تھا
00:45:24کہ مسلمان تو
00:45:25کہیں آس پاس بھی نہیں ہے
00:45:26رات کا انہیرہ تھا
00:45:27اور اچانک
00:45:28رات کے ٹھیک ایک بجے
00:45:29خالد کی وہ تینوں آرمیز
00:45:31سائیوں کی طرح
00:45:32تین مختلف رستوں سے
00:45:34ایک دم سے وہاں نامودار ہوئی
00:45:35پرشن کو تو ہتیار اٹھانے کا موقع بھی نہیں ملا
00:45:38انہیں پتا ہی نہیں چلا
00:45:39کہ رات کے اندھیرے میں
00:45:41یہ عذاب کہاں سے ٹوٹ پڑا
00:45:43مسلمانوں نے
00:45:43اس بیس ہزار کی فوج کا
00:45:45بلکل صفیہ کر دیا
00:45:47خالد نے اپنی فوج کی طرف دیکھا
00:45:48اور فرمایا
00:45:49ایک فوج تو گئی
00:45:50دو اور باقی ہے
00:45:57تینوں عظیم پہنچوں کو
00:45:58ایک ایک کر کے
00:46:00رات کے اندھیرے میں
00:46:01تباہ کر کے رکھ دیا
00:46:03کسرہ کے تینوں عظیم پہنچیں
00:46:05ریت میں دفن ہو چکی تھی
00:46:06پندرہ ہزار مسلمانوں نے
00:46:08اس سوپر پاور کی نیو ہلا کر رکھ دی تھی
00:46:11جسے بارہ سو سال تک
00:46:13کوئی چھو بھی نہیں سکا تھا
00:46:14کسرہ اس بے عزتی کو
00:46:16برداشت رہی کر پا رہا تھا
00:46:17اب وہ ہونے والا تھا
00:46:19جو انسانی تاریخ میں
00:46:20آج تک نہیں ہوا تھا
00:46:22خوف نے دو سب سے بڑے دشمنوں کو
00:46:24دوست بنا دیا تھا
00:46:26در رومن ایمپائر
00:46:27اور در پورشن ایمپائر
00:46:28جنہوں نے سات سو سال تک
00:46:30ایک دوسرے کا خون بہایا تھا
00:46:32اب وہ اتحاد کر چکے تھے
00:46:35ڈیڑھ لاکھ کا مشترکہ لشکر
00:46:37اور ان کے سامنے
00:46:38ایک بار پھر وہی
00:46:39خالد بن ولید
00:46:41اور ان کے
00:46:42پندرہ ہزار صحاب
00:46:43کسرہ کی تینوں عظیم فہنچیں
00:46:45رات کے اندھیرے میں
00:46:47ریت میں دفن ہو چکے تھے
00:46:48پندرہ ہزار مسلمانوں نے
00:46:50اس سوپر باور کے نیو
00:46:51ہلا کر رکھ دی تھی
00:46:52لیکن
00:46:53پرشن ایمپائر کا غرور
00:46:54ابھی باقی تھا
00:46:55پرشنز نے
00:46:56ولجا کے میدان میں
00:46:57ایک نیا
00:46:58بے پہا لشکر اکٹھا کر لیا
00:46:59ان کی تعداد
00:47:00پچھلی تینوں فوجوں سے بھی زیادہ تھی
00:47:02خالد بن ولید
00:47:04رضی اللہ تعالیٰ نحو
00:47:04جانتے تھے
00:47:05کہ اس بار آمنے سامنے
00:47:06کے ڈککر کا مطلب تھا
00:47:07مسلمانوں کا خاتمہ
00:47:09اسی لیے
00:47:09خالد نے ایک ایسی حکمتیں
00:47:11عملے چھنی
00:47:12جیسے ملٹری ایکسپورٹ
00:47:13آج بھی
00:47:14سوسائیڈل مووو کہتے ہیں
00:47:16آج تمہاری تلواریں
00:47:18اتنی نہیں چلیں گی
00:47:20جتنے تمہارے قدم چلیں گے
00:47:23جب یہ فارسی حملہ کریں
00:47:26تو انہیں پوری طاقت سے مت روکنا
00:47:29ہم
00:47:30انہیں نہیں روکیں گے
00:47:31اگر ہم نے اپنی جگہ چھوڑ دی
00:47:33تو وہ ہماری صفوں کو توڑ دیں گے
00:47:36وہی تو ہم چاہتے ہیں
00:47:38انہیں لگنا چاہیے
00:47:41کہ وہ جیت رہے ہیں
00:47:42انہیں لگنا چاہیے
00:47:44کہ ہم کمزور ہیں
00:47:46پیچھے ہٹتے جانا
00:47:48ہٹتے جانا
00:47:50یہاں تک کہ وہ ہمارے
00:47:52اس یو شیپ جال کے
00:47:54بلکل بیچوں بیچ آ جائے
00:47:56اور جب میری تکبیر کی آواز گونجے
00:47:59تو پہاڑ کے پیچھے چھپی
00:48:02ہماری گھرسوار فوج
00:48:03ان کا پیچھے کا راستہ
00:48:05بند کر دے گی
00:48:08پرشن آرمی پوری طاقت سے
00:48:09حملہ کرتی ہے
00:48:10مسلمان خالد کے حکم کے
00:48:12مطابق آہستہ آہستہ
00:48:13پیچھے ہٹتے ہیں
00:48:15پرشنز خوشی سے پاگل ہو جاتے ہیں
00:48:17انہیں لگتا ہے
00:48:17کہ وہ جیت رہے ہیں
00:48:19وہ اندہ دھند آگے بڑھتے جاتے ہیں
00:48:21یہاں تک کہ
00:48:21وہ مسلمانوں کے
00:48:23اس یو شیپ
00:48:23گھیرے کے بلکل
00:48:24سینٹر میں آ جاتے ہیں
00:48:25اور پھر خالد کا
00:48:26اشارہ ہوتا ہے
00:48:27پہاڑوں کے پیچھے سے
00:48:29مسلمان گھرسوار
00:48:50پرشن جنرل
00:48:51اس قدر خوف زدہ ہوا
00:48:52کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگا
00:48:54اور سیدھا
00:48:55ریگستان میں نکل گیا
00:48:56پیچھے اس کی عظیم ووج
00:48:58کٹ رہی تھی
00:48:59اور آگے
00:49:00ریگستان کی جلتی ہوئی دھوپ تھی
00:49:02وہ ریگستان میں اس قدر بھٹکا
00:49:03کہ پیاس اور دہشت کے مارے
00:49:05وہیں مر گیا
00:49:06ولجہ کی جہنم نے
00:49:08پرشن ایمپیر کی کمر توڑ دی تھی
00:49:09لیکن
00:49:10اس ہار نے
00:49:11ایک ایسا خوف پیدا کیا
00:49:13جس نے آخر کار
00:49:14دو جانی دشمنوں کو
00:49:16ایک ہی میز پر
00:49:17لا کر کھڑا کر دیا
00:49:18تمہیں اندازہ بھی ہے
00:49:20کہ باہر کیا ہو رہا ہے
00:49:22یہ عرب
00:49:24یہ آخر کہاں سے آگئے ہیں
00:49:27انہوں نے ہماری عظیم فوزوں کو
00:49:28خاک میں ملا دیا ہے
00:49:31تو تم
00:49:32یہاں کیا کر رہے ہو
00:49:34ہم سات سو سالوں سے
00:49:36ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہیں
00:49:38تم اب میرے دشمن نہیں رہے
00:49:42اب ہمارا
00:49:43ایک ہی دشمن ہے
00:49:46اگر ہم آج ایک نہیں ہوئے
00:49:48تو خالد
00:49:49کل تمہیں بھی زندہ نہیں چھوڑے گا
00:49:52تم بلکل صحیح کہہ رہے ہو
00:49:56اب ہم مل کر
00:49:58ان عربوں سے لڑیں گے
00:50:01خوف نے دو سب سے بڑے دشمنوں کو دوست بنا دیا تھا
00:50:04فراز کے مقام پر
00:50:05دریہ کے اس بار
00:50:06ڈیڑھ لاکھ رومنس
00:50:07اور پرشنز کا سمندر کھڑا تھا
00:50:09اور ان کے سامنے
00:50:10صرف پندرہ ہزار مسلمان
00:50:12پرشن آرمین نے سوچا
00:50:14کہ اس بار وہ خالد کو کچل دے گے
00:50:16لیکن
00:50:16خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہو نے
00:50:19ایک دن پہلے ہی اپنی سٹریٹیجی بچھا دی تھی
00:50:22دشمن نے پل کروس کرنا شروع کیا
00:50:24مسلمانوں کے کمانڈر بیتاب ہو رہے تھے
00:50:26ہم حملہ کیوں نہیں کر رہے
00:50:27لیکن
00:50:28خالد انتظار کر رہے تھے
00:50:30انہوں نے پہلے ہی دریہ کے پیچھے
00:50:32اور پہاڑوں کے سائیڈ پر
00:50:33اپنے دو فلانگ گروپس چھپا دیئے تھے
00:50:35اور حکم دیا تھا
00:50:37کہ جب تک میرا اشارہ نہ ملے
00:50:38کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا
00:50:40مسلمانوں نے انتظار کیا
00:50:42اور انتظار کیا
00:50:43جیسے ہی
00:50:44پچاس ہزار رومی اور فارسی
00:50:47پل کروس کر کے ادھر آئے
00:50:48خالد نے آخر کار اشارہ دی دیا
00:50:51دائیں اور بائیں چھپی ہوئی
00:50:52مسلم آرمی نے
00:50:53اچانک پیچھے سے دعویٰ بول دیا
00:50:55اور سامنے سے
00:50:56خالد نے اپنی گھر سواروں کے ساتھ
00:50:58ایسا زوردار پشکیا
00:51:00کہ دشمن کے ہوش اڑ گئے
00:51:02پینک سے
00:51:03رومنس اور پرشنز نے
00:51:04واپس پل کی طرف بھاگنے کے لیے
00:51:06یوں ڈن لیا
00:51:07لیکن
00:51:07پل چھوٹا تھا
00:51:09اور پیچھے سے ان کی
00:51:10اپنی ہی پونج آ رہی تھی
00:51:11اس پل پر ایسی بھیانک
00:51:12بھکتڑ مچی
00:51:13کہ وہ ایک دوسری کو ہی
00:51:15کچلنے لگے
00:51:15اس جنگ میں
00:51:16پچاس ہزار پرشنز
00:51:18اور رومنس مارے گئے
00:51:19اور صرف دو سو مسلمان شہید ہوئے
00:51:21اتنے کھوفناک جنگ سے پہلے
00:51:22خالد نے اللہ سے دعا کی تھی
00:51:24یا اللہ
00:51:26اگر میں زندہ رہا
00:51:27تو میں ضرور حج کروں گا
00:51:30جنگ جیتے ہی
00:51:31خالد نے سب سے تیز گھوڑا پکڑا
00:51:33اپنا مو چھپایا
00:51:34اور کسی کو بتائے بینا
00:51:35مکہ چلے گئے
00:51:36وہاں تواف کیا
00:51:38حج مکمل کیا
00:51:39اور واپس آگر
00:51:40اپنی آرمی میں ایسے شامل ہو گئے
00:51:42جیسے وہ کہیں گئی ہے نہ ہو
00:51:44لیکن
00:51:44یہ راز چھپا نہیں رہ سکا
00:51:46کچھ ہی دنوں بعد
00:51:47خلیفہ
00:51:48ابو بکر
00:51:49رضی اللہ تعالیٰ عنہ
00:51:50کا خط آیا
00:51:51اس خط کے شروع میں لکھا تھا
00:51:53اے خالد
00:51:54تم مکہ میں دیکھے گئے تھے
00:51:58دوبارہ اپنی فوج کو چھوڑ کر
00:52:00ایسی حرکت مت کرنا
00:52:02لیکن
00:52:03اس خط کے اگلے حصے میں
00:52:04ایک ایسا حکم تھا
00:52:06جس نے عرب کی تاریخ کا رخ موڑ دیا تھا
00:52:08ابو بکر نے لکھا تھا
00:52:10عراق کا کنٹرول چھوڑ دو
00:52:12اور اپنی آدھی فوج لے کر
00:52:14فوراں شام نکل جاؤ
00:52:15وہاں ابو عبیدہ بن زرراہ کو
00:52:18تمہاری ضرورت ہے
00:52:19رومن
00:52:21ایک عظیم حملہ کرنے والے ہیں
00:52:23خالد کو فوراں شام پہنچنا تھا
00:52:26لیکن
00:52:27یہاں ایک ناممکن مسئلہ کھڑا ہو گیا
00:52:29ابو سلیمان
00:52:30شام جانے کے جو عام راستے ہیں
00:52:33اگر ہم وہاں سے گئے
00:52:36تو رومن آرمی کو پہلے ہی پتا چل جائے گا
00:52:38وہ راستے میں ہی ہمیں روک لیں گے
00:52:41تو مجھے کوئی اور راستہ بتاؤ
00:52:45جو سب سے چھوٹا ہو
00:52:47ایک راستہ ہے
00:52:49لیکن وہاں سے جانا خودکشی ہے
00:52:52وہ موت کا سہرہ ہے
00:52:54وہاں نہ کوئی راستہ ہے
00:52:56نہ پانی کا ایک قطرہ
00:52:57ایک اکیلا انسان وہاں سے زندہ نہیں گزر سکتا
00:53:00پوری فوج کو لے جانا تو ناممکن ہے
00:53:03ہم یہی راستہ لیں گے
00:53:05اونٹوں کو عام دنوں سے دگنا پانی پلاؤ
00:53:08جب پیاس لگے گی
00:53:09تو ہم اونٹوں کو زبا کر کے
00:53:12ان کے اندر جمع کیا ہوا پانی پیئیں گے
00:53:15تیاری کرو
00:53:16ہم موت کے ریگستان سے گزریں گے
00:53:21وہ سفر شروع ہوا
00:53:22جسے تاریخ کا سب سے بڑا ناممکن سفر کہا جاتا ہے
00:53:25خالد بن ولید نے اپنی فوج کو
00:53:27اس موت کے ریگستان میں اتار دیا
00:53:29دن گزر رہے تھے
00:53:31گرمی جسم کا کھون نچوڑ رہی تھی
00:53:33جب پیاس لگتی
00:53:34تو اونٹوں کو زبا کر کے
00:53:36ان کے پیٹ سے نکلا ہوا پانی پیا جاتا
00:53:38سفر کے آخری دو دن آتے آتے
00:53:40سب کچھ ختم ہو گیا
00:53:42نہ زبا کرنے کے لیے اونٹ بچے
00:53:44نہ پانی کا ایک قطرہ
00:53:45لگاتار دو دن تک
00:53:47مسلم آرمی نے پانی کا ایک گھونٹ تک نہیں پیا تھا
00:53:50موت ان کے بلکل قریب تھی
00:53:52لیکن پھر
00:53:55ریگستان ختم ہوا
00:53:57اور خالد بن ولید کی آرمی
00:53:58اچانک رومن بورڈرز کے بلکل سامنے نمودار ہوئی
00:54:02رومنز کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی
00:54:04جس راستے سے ہوا کا گزرنا مشکل تھا
00:54:07وہاں سے ایک پوری آرمی نکل آئی تھی
00:54:09ابو عبیدہ بن جررح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے
00:54:12مدد بلکل ٹھیک وقت پر پہنچ چکے تھی
00:54:16تم مرب ہو
00:54:18ہم تمہیں بہت اچھی طرح جانتے ہیں
00:54:21تمہارے پاس پہننے کو کپڑے نہیں
00:54:23کھانے کو روٹی نہیں
00:54:25تم اس بھوک اور غربت کی وجہ سے یہاں آئے ہو
00:54:29یہ لو
00:54:30واپس چلے جاؤ اپنی اس جلتی ہوئی زمین پر
00:54:33ہم ہر فوزی کو دینار دیں گے
00:54:35نئے کپڑے دیں گے
00:54:37اور آئندہ سال بھی یہ مال تمہیں وہیں پہنچا دیا جائے گا
00:54:40اپنی جانیں مد گماؤ
00:54:43ہم یہاں
00:54:45تمہاری بھیک لینے نہیں آئے
00:54:48تیرے پاس تین راستے ہیں
00:54:50یا تو اسلام قبول کر لو
00:54:52یا جز یا ادا کرو
00:54:56اگر یہ دونوں منظور نہیں
00:54:59تو پھر ہمارے اور تمہارے درمیان
00:55:01یہ تلوار فیصلہ کرے گی
00:55:04اور ویسے بھی
00:55:05اگر تم نہیں مانے
00:55:07تو تمہارا یہ سارا مال
00:55:09ہمارا ہو ہی جانا ہے
00:55:12بات ختم ہوئی اور جنگ شروع
00:55:14حضرت مواز بن جبل رضی اللہ عنہ نے
00:55:16اپنے تیر اندازوں کو حکم دینا چاہا
00:55:19کہ دشمن پر تیروں کی بارش کر دو
00:55:21لیکن اچانک
00:55:22نہیں مواز
00:55:23ابھی نہیں
00:55:24ہماری تعداد ان سے بہت کم ہے
00:55:27اگر آمنے سامنے کی ٹکر ہوئی
00:55:29تو ہمارا نقصان ہوگا
00:55:30پہلے ہم ان کے دلوں میں
00:55:32اپنا خوف بٹھائیں گے
00:55:34زرار
00:55:36کیا تم ان کا گھمن توڑنے کے لیے
00:55:40تیار ہو
00:55:41بیشا کبو سلیمان
00:55:43مجھے بس ان کے سامنے جانے کی اجازت دیجئے
00:55:46حضرت زرار اکیلے
00:55:47اس عظیم رومن فوج کے سامنے کھڑے ہو گئے
00:55:49رومنس نے اپنا سب سے بڑا چیمپین بھیجا
00:55:52زرار نے اسے جہنم واسل کر دیا
00:55:54انہوں نے دوسرا بھیجا
00:55:56تیسرا بھیجا
00:55:57ایک کے بعد ایک
00:55:58رومنس کے دس سب سے بڑے چیمپینز کو
00:56:00حضرت زرار نے
00:56:01اکیلے ہی موت کے گھٹ کتار دیا تھا
00:56:03جب تک دوپیر ہوئی
00:56:05رومن آرمی کا مورال
00:56:06بلکل خات میں مل چکا تھا
00:56:07خالد بن ولید کی
00:56:09اس سائیکولوجیکل وارفیر نے
00:56:10رومنس کو اندر سے توڑ دیا
00:56:12اور اس دن بھی
00:56:13فتح مسلمان کی نام ہوئی
00:56:15لگاتار شکشتوں نے
00:56:17رومن ایمبرر
00:56:18ہریکیولیس کو
00:56:19ہیلا کر رکھ دیا تھا
00:56:20اس نے سمجھ لیا تھا
00:56:21کہ یہ عرب معمولی فوجی نہیں ہے
00:56:23اس نے پوری رومن ایمپائر
00:56:24رشنز اور دیگر قبائل سے
00:56:27اپنی سب سے خضرناک آرمی اکٹھی کی
00:56:29مسلمان اب تک کی
00:56:31سب سے بڑی ٹکر کیلئے تیار تھے
00:56:32اور وہ ٹکر ہونے جا رہی تھی
00:56:34تاریخ کی سب سے خوفناک میدان میں
00:56:37The Battle of Your Mook
00:56:45تمہیں سچ میں لگتا ہے
00:56:47کہ تم ہم سے جیت پاؤگے
00:56:48جس زمین پر تم نے قدم رکھا ہے
00:56:52یہاں آج تک
00:56:53کوئی زندہ واپس نہیں گیا
00:56:54تم لوگ تو سہرہ کے بھوکے ہو
00:56:58ہمارے سامنے
00:56:59تمہاری اوقات بس اتنی ہے
00:57:01کہ ہم اپنے بائے ہاتھ سے ہی
00:57:03تمہارا کام تمام کر سکتے ہیں
00:57:06تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو
00:57:08ہم عرب ہیں
00:57:09اور ہم سہرہ کے بھوکے ہیں
00:57:12لیکن ہمارے بارے میں
00:57:14ایک بات اور مشہور ہے
00:57:16ہم عرب
00:57:18خون پیتے ہیں
00:57:20اور میں نے سنا ہے
00:57:21میں نے سنا ہے
00:57:23کہ تم رومیوں کا خون
00:57:24بہت میٹھا ہوتا ہے
00:57:30حملہ کرو
00:57:31انہیں ابھی کبھی
00:57:33ختم کرو
00:57:34مہان گسے سے پاگل ہو چکا تھا
00:57:36اس نے آتے ہی پوری طاقت سے
00:57:38حملہ کرنے کا حکم دے تھی
00:57:40یہ جنگ ایک دن نہیں
00:57:41بلکہ پورے چھے دن تک چلی
00:57:43لیکن رومنس نہیں جانتے تھے
00:57:45کہ خالد بن ولید عزیل وطلانہو نے
00:57:47جنگ سے پہلے ہی
00:57:49اس پورے میدان کو
00:57:50سکین کر لیا تھا
00:57:51انہوں نے میدان کے ایک حصے میں
00:57:53دو کھائیاں دیکھی تھی
00:57:55ابو سلیمان
00:57:56اس میدان میں ایسی دو کھائیاں ہیں
00:57:58اگر ہم ادھر سے لڑے
00:58:01تو ہمارے فوجی بھی نیچے گر سکتے ہیں
00:58:03ہمیں نہیں گرنا زرار
00:58:05رومیوں کو گرانا ہے
00:58:07کل صبح ہونے سے پہلے
00:58:09اس پہاڑی کے پیچھے
00:58:11اپنے سب سے بہترین گھڑ سوار چھپا دو
00:58:13جب چھٹے دن جنگ اپنے اروج پر ہوگی
00:58:16اور رومی پوری طاقت سے
00:58:19ہم پر دباب ڈالیں گے
00:58:20تب تم پیچھے سے نکلو گے
00:58:22تم ان کا پیچھے کا راستہ
00:58:24بند کرو گے
00:58:25اور ہم انہیں آگے سے دھکے لیں گے
00:58:28یہاں تک کہ ان کے قدم
00:58:30اس کھائی کے کنارے تک پہنچ جائیں
00:58:32اور چھٹے دن بلکل وہی ہوا
00:58:34رومنز نے اپنی پوری طاقت لگا دی
00:58:37لیکن اچانک پہاڑی کے پیچھے سے
00:58:39مسلم گھڑ سوار آندھی کی طرح نکل آئے
00:58:41رومنز پیچھے ہٹنے لگے
00:58:43آگے خالد کی تلوارے تھی
00:58:45اور پیچھے گہری کھائی
00:58:47مسلمانوں نے انہیں ایسی زور سے پوچھ کیا
00:58:49کہ رومن آرمی کھوف کے مارے
00:58:51اس کھائی کے کنارے تک جا پہنچے
00:58:53جگہ بہت تنگ ہونے کی وجہ سے
00:58:55ہزاروں رومن فوجی اس کھائی میں گرنا شروع ہو گئے
00:58:58وہ ایک دوسری کو ہی نیچے ڈھکیل رہے تھے
00:59:00اس دن یرموک کے میدان میں
00:59:02ستر ہزار رومن فوجی مارے گئے
00:59:04صدی کی سب سے عظیم ٹکر میں
00:59:06خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ نے
00:59:08رومن ایمپیر کی کمر توڑ کر رکھتی تھی
00:59:11یرموک کی اس تباہی کے بعد
00:59:13رومن ایمپیر بلکل نڈھال ہو چکی تھی
00:59:15اب ان کے پاس ہمت نہیں بچی تھی
00:59:17اور اس عظیم فتح نے
00:59:19اسلام کے تاریخ کا وہ دروازہ کھولا
00:59:21جس کے چابی کے لیے
00:59:22مسلمان صدیوں سے ترس رہے تھے
00:59:24بیت المقدس کا دروازہ
00:59:26یرموک میں خون کی ندیہ بہت چکی تھی
00:59:29لیکن جب مسلم آرمی
00:59:30بیت المقدس کے دروازے پر پہنچی
00:59:32تو وہاں تلواریں میان میں چلی گئیں
00:59:35مسلمان اس مقدس شہر میں
00:59:37خون گھرابا نہیں چاہتے تھے
00:59:39یروشلم کی کرسچن لیڈر
00:59:40سوفرونیس نے فتح قبول کر لی
00:59:43لیکن اس نے ایک ایسی شرط رکھ دی
00:59:45جس نے سب کو دنگ کر دیا
00:59:47تم ایک عظیم فوجی ہو
00:59:49تمہاری تلوار نے رومن سامرازج
00:59:51کو گھٹنوں پر لا دیا ہے
00:59:53لیکن لیکن تم وہ شخص نہیں ہو
00:59:55جس کا ذکر ہماری مقدس کتابوں میں ہے
00:59:58میں اس شہر کی چابیاں
01:00:00تمہیں نہیں دے سکتا
01:00:02ہماری کتابوں میں لکھا ہے
01:00:04جو شخص اس مقدس شہر کو فتح کرے گا
01:00:07اس کے کپڑوں پر پیوند ہوں گے
01:00:09اور وہ دنیا کا
01:00:10سب سے عظیم بادشاہ ہوگا
01:00:14مگر چلے گا
01:00:15ایک غلام کی طرح
01:00:16جب تک تمہارا امیر المومنین
01:00:19عمر
01:00:19خود چل کر یہاں نہیں آتا
01:00:22یہ دروازے نہیں کھلیں گے
01:00:24جب یہ پیغام مدینہ پہنچا
01:00:26تو آدھی دنیا کے بادشاہ
01:00:28حضرت عمر بن خطاب
01:00:29رضی اللہ تعالی آنہو
01:00:31اپنے ایک غلام اور ایک اونٹ کے ساتھ نکل پڑے
01:00:34دونوں نے باری باری اونٹ پر بیٹھنے کا فیصلہ کیا
01:00:37مہینوں کا سفر تھا
01:00:39اور جس دن وہ یوروشلم کے قریب پہنچے
01:00:41تو اونٹ پر بیٹھنے کی باری
01:00:43غلام کی تھی
01:00:44اور پیدل چلنے کی باری
01:00:45امیر المومنین کی تھی
01:00:46لیکھ
01:00:47جب عمر
01:00:48رضی اللہ تعالی آنہو
01:00:49سیریا پہنچے
01:00:50تو وہاں انہوں نے ایک ایسی چیز دیکھی
01:00:52جس نے ان کا خون کھولا دیا
01:00:55کیا تم لوگ اتنی جلدی بدل گئے
01:00:57ابھی دو سال بھی نہیں گزرے
01:01:00اور تم نے رومیو کے لباس
01:01:01اور ان کی شان و شوقت اپنا لی
01:01:04تم مجھے
01:01:05اس حال میں ملنے آئے ہو
01:01:07نہیں
01:01:08یا امیر المومنین
01:01:09ان کپڑوں کے اندر
01:01:11ہماری لوہے کی زرہ
01:01:11اور ہمارے ہتھیار موجود ہیں
01:01:15ہم نے یہ شان و شوقت
01:01:16صرف دشمن پر روب ڈالنے کے لیے پہنی تھی
01:01:19اے میرے کمانڈروں
01:01:21سن لو
01:01:23ہم وہ زلیل قوم تھے
01:01:25جسے اللہ نے
01:01:27اسلام کے ذریعے عزت دی ہے
01:01:29اگر ہم اسلام کی سادگی کو چھوڑ کر
01:01:31ان کپڑوں میں اور دولت میں عزت دھونڈیں گے
01:01:35تو اللہ ہمیں
01:01:37واپس زلیل کر دے گا
01:01:39یروشلم کے لیڈرز یہی سادگی دیکھنا چاہتے تھے
01:01:42جن دیواروں نے
01:01:43بڑی بڑی آرمیز کو روک دیا تھا
01:01:45وہی دیواریں
01:01:46اس سادگی کے آگے گر گئیں
01:01:48سفرونیس نے روتے ہوئے کہا
01:01:50بے شک
01:01:51یہی وہ شخص ہے
01:01:54جس کا ذکر
01:01:55ہماری مقدس کتابوں میں ہے
01:01:57اور اس نے اپنے ہاتھوں سے
01:01:59یروشلم کی جابیاں عمر بن خطاب
01:02:02رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے کر دی
01:02:04عمر بن خطاب اور خالد ابن الولید نے
01:02:07کسی رومن پر ظلم نہیں کیا
01:02:08ان کا کوئی چرچ نہیں توڑا
01:02:10بلکہ جس مقدس جگہ پر
01:02:12رومنس نے کچرا فہنکا تھا
01:02:14آدھی دنیا کے بادشاہ
01:02:15اور تاریخ کے سب سے عظیم جنرل نے
01:02:17اپنے ہاتھوں سے
01:02:19اس کچرے کو صاف کیا
01:02:20یہ تھی اسلام کی اصلی فتح
01:02:22تلواروں سے زمین جیتی جاتی ہیں
01:02:24لیکن اخلاق سے
01:02:29سیریا کی زمین پر ایک ایسی وبا فیلی
01:02:32جس میں ابو عبیدہ بن جرہ سمیت
01:02:34ہزاروں صحابہ شہید ہو گئے
01:02:36اور پھر وقت آ گیا
01:02:38اس عظیم جنرل کا
01:02:39جس کے تلوار سے
01:02:40دنیا کی ہر سوپر پاور کانپتی تھی
01:02:43خالد بن ولید
01:02:44جو موت کو میدان جنگ میں ڈھونٹتے تھے
01:02:47آج سیریا کی ایک چھوٹے سے گھر میں
01:02:49بیمار اور کمزور حالت میں
01:02:51بستر پر لیٹے تھے
01:02:52اے میرے دوست
01:02:54میری اس تانگ کو دیکھ
01:02:56کیا تجھے اس میں ایک بالشت کے برابر بھی
01:02:59ایسی جگہ نظر آتی ہے
01:03:01جہاں تلوار
01:03:02تیر
01:03:03یا نیزے کا زخم نہ ہو
01:03:05خدا کی خسم
01:03:07میں نے سو سے زیادہ جنگیں لڑی ہیں
01:03:09میں نے ہر میدان میں
01:03:11موت کو ڈھونڈا
01:03:13ہر خطرنات جگہ پر
01:03:15اپنا سینہ آگے کیا
01:03:17تاکہ میں اللہ کی راہ میں
01:03:19شہید ہو سکوں
01:03:20لیکن افسوس
01:03:22آج میں اپنے بستر پر
01:03:24ایک اونٹ کی طرح مر رہا ہوں
01:03:27اور پھر
01:03:28اللہ کی تلوار نے
01:03:30اپنی آخری سانس لے
01:03:31خالد بن ولید
01:03:32اس دنیا سے رخصت ہو گئے
01:03:34لیکن ساری زندگی
01:03:36میدان جنگ میں
01:03:37موت دھوننے والے خالد کو
01:03:38شہاتت کیوں نہیں ملے
01:03:40علماء کہتے ہیں
01:03:41نبی علیہ السلام نے
01:03:42انہیں سیف اللہ
01:03:44یعنی اللہ کی تلوار کا لقب دیا
01:03:46اگر خالد میدان جنگ میں
01:03:48کسی دشمن کے ہاتھوں شہید ہو جاتے
01:03:50تو اس کا مطلب ہوتا
01:03:51کہ دشمن نے
01:03:52اللہ کی تلوار کو
01:03:53توڑ دیا
01:03:53اور اللہ کی تلوار
01:03:55کبھی ٹوٹ نہیں سکتی تھی
01:03:57عرب کا وہ نوجوان
01:03:58جو پچپن میں
01:03:59اونٹوں کی سواری کرتا تھا
01:04:00اس نے اپنی زندگی میں
01:04:01ایسی لیگیسی بنائی
01:04:03جسے کوئی دنیا کا جنرل
01:04:05آج تک بیٹ نہیں کر سکا
01:04:06سو سے زیادہ جنگیں لڑی
01:04:08اور ایک میں بھی
01:04:09شکست نہیں کھائی
01:04:10رومن اور پرشن ایمپیٹسا
01:04:12غرور
01:04:13مٹی میں ملا دیا
01:04:20میں سیف اللہ ہوں
01:04:21میں اللہ کی تلوار ہوں
01:04:23اور لوگ مجھے
01:04:25خالد بن ولید کے نام سے جانتے ہیں
01:04:31دوستو کہانی یہاں ختم ہوتی ہے
01:04:33مجھے پتہ ہے
01:04:34اس وقت آپ کے دل بھاری ہوں گے
01:04:36اور آنکھوں میں ایک عجیب سی نمی بھی ہوگی
01:04:38جب میں اس داستان کو لگ رہا تھا
01:04:40اور مناظروں کو بنا رہا تھا
01:04:42تو میرا اپنا بھی یہی حال تھا
01:04:44میں یہ سب صرف ویوز کے لئے نہیں کرتا میرے بھائے
01:04:46میرا مقصد یہ ہے
01:04:48کہ ہماری آنے والی نسلیں
01:04:50ہمارے بچے اپنے اصلی ہیروز کو پہچان سکیں
01:04:52ہمیں کسی فکشنل سوپر ہیرو کی ضرورت نہیں ہے
01:04:55ہمارے پاس خالد بن ولید ہے
01:04:57ہمارے پاس عمر بن خطاب ہے
01:04:59اگر آج میری اس محنت نے
01:05:01اس کہانی نے آپ کے دل کا ایک چھوٹا فا حصہ بھی چھو لیا ہے
01:05:04تو اس ویڈیو کو اپنے دوستوں اور اپنی فیملی تک ضرور پہنچائیے
01:05:07داستان وائبز صرف ایک چینل نہیں ہے
01:05:10یہ ہمارا اور آپ کا ایک پریوار ہے
01:05:12ملتا ہوں آپ سے اگلی کسی عظیم داستان میں
01:05:14تب تک کیلئے
01:05:15اللہ حافظ