Skip to playerSkip to main content
Shan e Auliya - Hazrat Shaikh Abdul Qadir Jilani RA - Talk Show

Speaker: Mufti Abu Bakar Siddique Al-Azhari

Watch All Episodes here ➡️ https://www.youtube.com/playlist?list=PLfpNg7Rlhxfk

#ShaneAuliya #HazratShaikhAbdulQadirJilaniRA #aryqtv #islam

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00I'm allahu billahi min schaytar rijim. Bismillahirrahmanirrahim
00:05uh...
00:07Là inna awliya allahi la khaufun aralihim valahaum yahzanun
00:12Al lezeena amanu wa kanu ye attaqoon
00:17صدق Allahul A'zimấ
00:20let us ein. As-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu
00:26May I remember the program of www.qtv.tv
00:32I am the program of References
00:33about the status of Shaiφ Abdel Kadir Jilani
00:37and Alihara shabat gufthagu
00:40will be able to share with us.
00:42When I am aزuET,
00:45I am now grandparents,
00:47we must remember that everything
00:50we are only about the time of the tradition.
00:53We are not the history of our tradition,
00:55And they are going to be a degree of thought.
01:02Social training, spiritual training, moral training.
01:08So, they are going to be a institute.
01:12They are going to be an institute.
01:13They are going to be an engagement.
01:15That's why it's a good idea.
01:45We are our
01:47young people,jukdwat
01:50assalikin, shahbaz
01:51ilamani, kindilinorani,
01:54hr. şeyh abdulqadir
01:57jilani. We are going to talk about our children about how to
02:02talk about that. How did you find
02:05that? How did you learn?
02:07Then what? How did you
02:08learn? Your team's
02:11practice? The
02:12part of the focus was
02:13what?
02:13کیا تھا اہم سوال یہ ہے کہ آج اگر آپ فیزیکلی طور پر اپنے جسم
02:22زہری کے ساتھ ہمارے درمیان موجود ہوتے تو آج کے انسان سے کس طرح
02:28مخاطب ہوتے اسے کیا کہتے اور اس کی تربیت کس طرح کرتے اس سوال
02:35کا جواب یقینا ہمیں آسانی سے میسر آ سکتا ہے اگر ہم آپ کی
02:40صیرت اور آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات کو بغور مطالعہ کریں
02:48اور بامیق اس کا مطالعہ کریں اس سے اخص کرنا چاہیں تو ہمیں ان
02:53سب سوالوں کا جواب اور خصوصاً جو سب سے اہم سوال کہ وہ آج کے
02:57انسان کے ساتھ کس طرح ٹریٹ کرتے اور اگر اس کے بہیوئر کو چینج
03:03کرنے کی ضرورت ہے تو اس کے بہیوئر کو کس طرح تبدیل کرتے
03:07چار سو ستر ہجری ہے جیلان میں آپ کی پیدائش ہے والد محترم
03:14کا سایہ ابتدانی اٹھ جاتا ہے جیلان سے ابتدائی علوم کا آغاز
03:20ہوتا ہے اور پھر بغداد کا سفر ہے اور یہ سفر صرف جگرافیہ کا
03:28سفر نہیں ہے historical point of view سے یہ سفر نہیں کیا جا رہا پکنک
03:35کوئی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہاں نیت غرص مدعہ اور مقصود صرف
03:42اور صرف ایک ہے اور وہ ہے علم کا حصول زادے را کیا ہے والدہ
03:49والدہ ماجدہ نکلتے ہوئے جو بنیادی زادے را دیتی ہیں باطنی
03:54زادے را دیتی ہیں وہ سچائی ہے ظاہری زادے را تو ملتا ہی ہے لیکن
03:59اس کی حفاظت کے لیے جو حصار باطنی کھینچا والدہ نے وہ سچائی کا
04:06تھا گھر کی اچھی تربیت تھی بغداد اس وقت علوم کا حب گردانا جاتا
04:12تھا ہملی فق کو وہاں پہنچ کر ترجی دی پھر تدریس پھر واز پھر
04:21تربیت اور پھر سپیشلی اس تربیت کے لیے حضرت شیخ عبدالقادر
04:26جلانی علی رحمہ آپ کی انفرادیت تھی کہ آپ نے ٹریننگ سیشنز کے
04:32لیے بقاعدہ ایک خانکہ اس کا قیام عمل میں لائیا اور اس خانکہ کا
04:39مقصد ہی کیا تھا کہ جو کچھ پڑا جاتا ہے سیکھا جاتا ہے اسے
04:45عملی طور پہ بڑھتا کیسے جاتا ہے آج کا نوجوان اگر آپ کی زندگی
04:53کے اس پیٹرن پر توجہ کرے تو کتنا خوبصورت پیٹرن ہمارے سامنے
04:58آتا ہے آپ کی صیرت اور آپ کی تعلیمات سبی کا بغور اور بعمیق
05:04مطالعہ کرنے کے بعد کہ آپ نے سب سے پہلے آپ نے آپ کو طالب
05:10علم بنایا حصول علم کے لیے مشکتوں کو جیلا حصول علم کے لیے راستوں
05:16کو اختیار کیا حصول علم کے لیے وسائل ان کو تلاش کیا ان کے جو
05:24سورسس تھے ان کو تلاش کیا اور پھر عالم بنے اور پھر عالم بھی بعمل
05:31بنے پھر جو سیکھا اسے سکھانے کے لیے راہ واز کو اختیار کیا
05:35پھر تدریس کا راستہ اختیار کیا تقریر کا راستہ اختیار کیا تحریر
05:41کا راستہ اختیار کیا مربی بن کے سامنے آئے اور امت کے مسلح ہونے
05:47کا عزاز اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمایا آج اگر اس مورڈرن
05:55ایج میں ہم کچھ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں شارٹ کٹس کی طرف نہیں
05:59جانا چاہیے بلکہ سیرت و تعلیمات غوث آزم وہ ہمیں یہ سکھا
06:04رہی ہے کہ پیٹرن یہی ہونا چاہیے کہ پہلے سیکھنا ہے اور سیکھنے
06:11کے لیے کمفرٹ زون سے باہر آنا پڑے گا مشکتیں جیلنی پڑے گی اور
06:16راستے کی پرخار وادیوں کو عبور کرنا پڑے گا پھر جب سیکھ لیں
06:21تو جو سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں اپنی ذات پر اس کا نفاظ
06:27کرنا ہے اور علم و عمل سے مزین ہو کر پھر جب سور کے سامنے آنا
06:34ہے تو پھر دوسروں کو سکھانا ہے اور پھر سکھانے میں بھی جو
06:40کیفیات ہیں وہ یہی ہونی چاہیے کہ میٹریلسٹک نہیں بننا
06:45بلکہ اس سے مقصود اللہ اور اس کے رسول کی رضا اور اللہ اور
06:50اس کے رسول کی مخلوق کو سوارنا تمہارا مقصود ہونا چاہیے یہ
06:55عزت شیخ عبدالقادر جلانی الرحمہ کی سیرت و تعلیمات میں آج کی
07:00نئی نسل کے لیے بہترین موڈل موجود ہے معزز سامعین تربیت کا
07:06پہلا ستون جو آپ کی سیرت اور تعلیمات کی روشنی میں ہمارے
07:11سامنے آتا ہے تو وہ علم ہے آپ جانتے ہیں کہ انسان کی عظمت اور
07:16شرف وہ علم ہی کی وجہ سے ہے آدمیت کو جتنا مقام اور شرف ملا
07:22ہے وہ علم ہی کی وجہ سے میسر آیا ہے تربیت کا پہلا ستون بھی علم ہی
07:29ہوتا ہے اور پھر علم کون سا کہ جس کی اس دور میں ضرورت ہوتی
07:36ہے حضرت شیخ عبدالقادر جلانی الرحمہ آپ کی سیرت کا جب ہم
07:41متعلق کرتے ہیں تو آپ جس دور میں موجود ہیں ذرا اس دور کو دیکھئے
07:46کیا ہے کہ سلطنت اباسیہ وزوف کا شکار ہو چکی ہے ادھر القدس
07:53تاتاریوں کے قبضے میں جا چکا ہے اور فلسفہ حضرت امام غزالی اگرچہ
08:00اس پر کام کر رہے ہیں لیکن فلسفہ اہل ایمان کے ایمان کو تردد کی
08:06طرف لے جا رہا ہے ریشنلسٹ پورے عروج پر ہیں چیزوں کو لوجیکلی
08:12پروو کرنے کا ایک دور دورہ چل رہا ہے فقر اس کی حقیقت کو مسخ کر کے
08:19رکھ دیا گیا اور فقہ علوم دینیاں ان کی طرف وہ رجان باقی نہیں ہے
08:25تو حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ پر کتنی ذمہ داری بنتی
08:29تھی کہ اس دور کے جو تقاضیں ہیں ان تقاضوں کے مطابق علم کو حاصل
08:35کیا جائے اور آپ جانتے ہیں کہ جب اتنی اطراف سے حصول علم مقصود
08:41ہو اتنی ڈائمنشن میں کام کرنا مقصود ہو تو پھر مشکتیں کتنی آتی
08:46ہے کتنے مسائب جیلنے پڑتے ہیں کتنی محنت کرنا پڑتی ہے تو حضرت
08:51شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ نے اپنے آپ کو ان تمام علوم
08:57کے ساتھ مزین کیا اور اس دور کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو
09:04ہمہنگ کیا جو ضرورت تھی لیکن اس میں پریروٹی کس کو دی ترجیح کس
09:10کو دی ترجیح علوم دینیاں کو دی دین کے شلٹر میں فلسفہ کو بھی
09:16سیکھا دین کے شلٹر میں آ کے ریشنلسٹ کا رد کیسے کرنا ہے اسے
09:20سیکھا اور تعقل پسند جو عقلی دلائل فلسفہ اور منطق کی روشنی
09:26میں تلاش کرتے ہیں ان کے جوابات اور فلسفہ اور منطق کے اروج بلکہ
09:31بام اروج کو حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ نے دین کے شلٹر
09:36کے ساتھ تحت ہی سیکھا اور دین کا شلٹر ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس کے
09:40ماتحت آ کر علوم دنیا کو مورڈن ایڈیوکیشن کو لیا جائے تو مورڈن
09:46ایڈیوکیشن بھی اپنا خوب نکھار بندے کو عطا کرتی ہے عطا کیوں بھی
09:51نہ کیوں نہ کرے جان دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں
09:56من یرد اللہ بھی خیرہ یفقیہ فی الدین اللہ تعالی جس کے لیے بلائی
10:02کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین میں سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور پھر وہ
10:07دین کی سمجھ اور بوجھ کا جب ابلاغ چاہتا ہے تو پھر اسی دین کے شلٹر
10:13کے تحت زمانے کی ضرورتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو رب تعالی اسے خیر کا
10:18اور نفع کا منبع بنا دیتا ہے آپ نے جب دین کے شلٹر کے تحت آ کر
10:26علوم کو سیکھا تو ایک اور انفرادیت سامنے آئی عمومی طور پہ جب انسان
10:31علم کو سیکھتا ہے یا علم حاصل کرتا ہے تو اس کے پاس انفرمیشن آتی ہیں
10:36اس کے پاس الفاظ آتے ہیں تھیریاں آتی ہیں کونسیپٹس آتے ہیں لیکن اس کی
10:43عملی صورتوں سے وہ آشنا نہیں رہتا اور اس کا مقصود و مدعا بھی وہ نہیں
10:48رہتا جو ہونا چاہیے ultimately اس کا گول ایک میٹریلسٹک انسان بن کر
10:53صرف دنیا بن جاتا ہے وہ خودشناسی سے بھی محروم رہتا ہے لیکن اگر وہی
10:59علم دین کے شلٹر کے تحت ہو تو پھر صرف خودشناسی نہیں بلکہ خدا
11:05شناسی اور پھر خدا شناسی سے reactive mood میں اس پر یہ اثر آتا ہے کہ وہ
11:11مخلوق خدا کی رہنمائی کے لیے اپنے علم کو صرف کرتا ہے حضرت شیخ عبدالقادر
11:17جیلانی علی رحمہ آپ کی صیرت اور تعلیمات میں یہ بات بالکل آیاں ہوتی
11:24ہے کہ آپ نے علوم دنیا اور علم دین کو حاصل کیا دین کے شلٹر کے
11:30تحت حاصل کیا اور پھر سب سے پہلے خودشناسی پھر خدا شناسی پھر اس
11:36خدا شناسی سے فیض پا کر آپ نے مخلوق خدا کی رہنمائی کا فریضہ
11:42سن انجام دیا آپ کی شخصیت اور آپ کی صیرت اور آپ کی تعلیمات پر اگر
11:49ہم آپ کی شہرہ آفاق کتاب الگنیت لطالب طریق الحق المعروف بھی غنیت
11:57الطالبین اس کا مطالعہ کرتے ہیں اسے دیکھتے ہیں تو یہ حقیقت ہمارے
12:03سامنے آشکار ہوتی ہے کہ آپ نے کس طرح علم کو تدریج کے ساتھ ایک
12:09ترتیب کے ساتھ وہاں اپنی تعلیمات کی روشنی میں مزین کیا ہے کہیں
12:16عقیدہ بیان کر رہے ہیں پھر فق بیان کر رہے ہیں پھر عبادات کو بیان کر
12:20رہے ہیں اخلاق کو بیان کر رہے ہیں تسکیہ کو بیان کر رہے ہیں اور ان
12:25تمام میں اگر انسان تھوڑا اموک میں جا کے سوچے اور دیکھے اور پڑے تو
12:30یوں نظر آتا ہے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمہ نے
12:33اپنی ذات پر جس علم کو نافذ کیا تھا اس علم کو جب قال کی شکل دی
12:39تو یہ کتاب ہمارے سامنے آگئے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ
12:43رحمہ آپ کی شخصیت ایسی یونیک ہے اور دین میں جو آپ کی کنٹیبیوشن
12:49ہے اس لیول پر ہے جہاں دین کی اساس ہے آپ کی سیرت اور تعلیمات یہ
12:56ایسی انفرادیت رکھتی ہیں کہ دین کے لیے اگر بطور موڈل انہیں
13:01پیش کیا جائے تو آسانی سے چیزیں سمجھ آ جاتی ہیں اور ان پر عمل
13:06پیرا ہونے کا ایک منفرد انداز میں جذبہ انسان کے اندر جنب لیتا
13:11ہے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رحمہ آپ نے حصول علم میں جو
13:16جو پہلا عملی سبق پڑا وہ سچائی کا سبق تھا سامعین کیسی انفرادیت
13:25ہے کہ وہ سچائی کا سبق گھر کی دہلیس سے جو پڑا ماں کی گوز سے جو
13:32لیا اسے صرف پڑا نہیں ہے بلکہ اس کو پورا کیا اور کیسا حسین
13:39امتزاد ہے یہی وہ عملی سبق تھا جسے نبی پاک صلی اللہ علیہ
13:46وسلم نے امت کے سامنے پیش کیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ
13:52وسلم سے آپ کی نبوت کی دلیل طلب کی گئی تو نبی پاک صلی اللہ
13:58علیہ وسلم نے انہیں کیا فرمایا کہ میں نے تم میں ایک عمر نہیں
14:03گزاری میرے سارے معاملات عملی زندگی تمہارے سامنے موجود
14:09نہیں ہے حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علیہ رحمہ نے اس نبوی
14:14موڈل کی ایکسٹینشن کو اپنی ذات کی صورت میں پیش کیا اپنی سیرت
14:18کی صورت میں پیش کیا کہ اس عملی سبق کو جو سچائی کا ماں کی
14:24گود اور گہوارے سے پڑا تھا اسے دنیا کے سامنے پیش کیا اور
14:29بطور آرگومنٹ پیش کیا اور علم کی تاثیر کو ایسا اسٹیبلش کر
14:34دیا اور بتا دیا کہ اس کا ظہور کیسے ہوتا ہے کہ جب کوئی علم
14:39پڑا جاتا ہے تو پڑھنے کے بعد اس کا ظہور کیسے ہوتا ہے اور
14:42پھر اس ظہور کے نتائج کیسے نکلتے ہیں ہم اس پر پہلے بات کر
14:47چکے کہ حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علیہ رحمہ نے جب اپنے پڑے
14:52ہوئے سبق کو اپنی سیرت کے سانچے میں ڈالا تو یہ دیکھنے میں تو
14:57بہت مختصر سی ویلیوز میں سے ایک ویلیو تھی سچائی لیکن نتیجہ کیا
15:03نکلا وہ کریمینل سوسائٹی اس کے ظاہر کو نہیں باطن کو بتل دیا
15:08جو دور جانے والے تھے انہیں قریب کر دیا جو خدا تعالیٰ کے
15:14راستے سے ہٹے ہوئے تھے نبی کے راستے سے ہٹے ہوئے تھے انہیں
15:17اللہ اور اس کے رسول کے راستے پر لگا دیا نہ صرف ان کو لگایا
15:22بلکہ وہ دوسروں کے لیے بھی حادی اور رہبر بند کے سامنے آئے
15:26یہ وہ نتیجہ تھا آپ کی سیرت میں جو ہمارے سامنے آتا ہے کہ آپ
15:31نے اپنی پڑے ہوئے سبق کا جو عملی موڈل ہے وہ اپنی سیرت اور
15:37اپنے کردار کی روشنی میں معاشرے کو عطا فرمایا اور پھر ایک
15:41اور انفرادیت دیکھئے کہ اس دور میں کہ جب فلسفہ اور ریشنلسٹ
15:47ہر چیز کو اپنی اکل پر پڑکتے ہیں اور اکل پر پڑکنے کا نتیجہ
15:53یہ نکلتا ہے کہ آج کے دور کے ریشنلسٹ ہو یا کل کے دور کے
15:57ریشنلسٹ ہو وہ دہریت کی طرف چلے جاتے ہیں وہ وجود خدا کے منکر
16:02بھی ہو جاتے ہیں حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ کی تعلیمات
16:07اور آپ کی سیرت میں یہ کیسا منفرد پہلو ہے کہ توحید کی فلسفی کی
16:13انٹرپٹیشن جو پیش فرمائی وہ ایک مخصوص پرسیپشن میں پیش
16:17فرمائی اور اس پرسیپشن کو دیکھئے کہ کس خوبصورت انداز میں پیش
16:21فرماتے ہیں فرمائے توحید وہ بغیر رسالت کے ہو ہی نہیں سکتی
16:26سمجھ میں نہیں آسکتی توحید کو سمجھنا تبی ممکن ہوگا جب رسالت
16:34محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق مضبوط ہوگا لہٰذا
16:38اتباع نبوی کو ضروری قرار دیا اور معاشرے کے وہ افراد کے جو
16:44اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلانے والے ہیں انہیں اس نبوی موڈل کی
16:49ایکسٹینشن بننے کا درس اپنی عملی زندگی سے دیا یہی سیرت و تعلیمات
16:54شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ کا نچوڑ ہے کہ جو دائی ہے جو
16:59وائز ہے جو مربی ہے جو مسلح ہے وہ نبوی موڈل کی ایکسٹینشن
17:05ہونا چاہیے کہ جمعی اعتبار سے جہاں ضرورت پیش آئے لوگ اسے دیکھیں
17:11تو انہیں اللہ اور اس کا رسول یاد آ جائے معاشرے کا رشتہ جب نبی
17:16سے کٹ جائے تو ان کا علم و عمل وہ رشتہ ان کے نبی کے ساتھ مستحقم
17:21اور مضبوط کر دے اور جب نبی سے رشتہ مستحقم اور مضبوط ہوتا ہے
17:24تو پروردگارِ عالم سے بھی رشتہ مستحقم اور مضبوط ہو جاتا ہے
17:29آپ نے توحید کی فلوسفی کی انٹرپٹیشن کو جب اپنی ایک منفرد پرسیپشن
17:36میں پیش کیا تو اس کی ایک صورت یہ تھی آپ فرماتے تھے کہ محبتِ
17:41الہی میں سرشار ہو کر اتیع اللہ کی عملی تصویر ہمیں بننا ہے
17:46یعنی خدا پرستی وہ اس کی طرف جانا ہے اللہ تعالی کی عبادت اور بندگی کرنی ہے
17:52لیکن محبتِ الہی میں سرشار ہو کر اور یہ جو محبتِ الہی کی سرشاری میں
17:58بندگی خدا بندی ہے یہ تب ہی قبول ہوگی
18:01جب لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ اُسْوَةٌ حَسَنَا
18:07اُسْوَةِ حَسَنَا
18:08یعنی عملی زندگی جانِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی
18:12اس کا موڈل بن کر اور اس کے سانچے میں ڈل کر تم پر وڑ دی گا
18:17رہے عالم کی بارگاہ میں پیش ہوگے
18:18تو پھر وہ تمہاری بندگیوں کو بھی
18:21تمہاری قلب کی جہتوں کو بھی
18:24اور تمہاری قلب کی کیفیات کو بھی اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے گا
18:31ایک خوشکی کا مجموعہ بن کر رہ جائیں گی
18:34ان کے اندر حلاوت چاشنی اور قبولیت کے
18:38وہ کیفیات پیدا نہیں ہوں گی
18:40وہ کیفیات تب ہی پیدا ہوں گی
18:42جب تمہارا رشتہ جانِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ
18:46صرف علمی نہیں عملی طور پر مستحقم ہوگا
18:51محضرت سامعین
18:53عزت شیخ عبدالقادر جلانی علیہ رحمہ کی
18:56سیرت اور آپ کی تعلیمات
18:58ان کا جو سفر ہے
19:00وہ علم سے شروع ہوتا ہے
19:03پھر طریقت
19:04پھر حقیقت
19:05اور پھر معرفت کا روپ
19:08دھال لیتا ہے
19:09اور اس پر آپ خود بھی
19:12کیا فرماتے ہیں
19:13درست العلمہ
19:14حتی سرت کتبہ
19:17کسی اور شارٹکٹ کی طرف جانے والو
19:19کسی اور جہت کی طرف
19:21اپنی توجہ کو لے جانے والو
19:22درست العلمہ
19:26حقیقت تک
19:27معرفت تک پہنچنے کا راستہ
19:29اس کیا پہلا زینہ اور پہلا درجہ
19:32وہ تو علم ہے
19:33علم ہے
19:34درست العلمہ
19:35میں نے علم کو حاصل کیا
19:37یہاں تک کہ میں مقام قتبیت پر فائز ہو گیا
19:40یعنی علمی مقام و مرتبہ
19:43اور تعلیمات کا پھر
19:45آج دیکھئے اللہ تعالیٰ نے کیا آتا فرمایا
19:48اپنوں کی بات تو ہم نے بارہا مرتبہ سنی
19:50ذرا ان ناکدین کی
19:52جو critical point of view سے
19:54ہر شخصیت کو دیکھتے اور ڈسکس کرتے ہیں
19:56جن میں ایک بڑا نام
19:58ابن تہمیہ کا ہے
19:59کتاب الاستقامہ کے اندر
20:01جب ابن تہمیہ
20:03حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کا تذکرہ کرتے ہیں
20:07تو دسمے باب میں جا کر
20:09کس خوبصورت انداز سے آپ کا تذکرہ کرتے ہیں
20:12نام بھی لکھتے ہیں تو کہتے ہیں
20:14قطب العارفین
20:16ابا محمد ابن عبدالقادر
20:18یعنی عارفین
20:20کا قطب آپ کی
20:23باطنی حیثیت
20:25کو روحانی درجے
20:26کو قبول کرنا ابن تہمیہ
20:28جیسی شخصیت اس کے علاوہ
20:31اس کے پاس چارہ نہ رہا
20:32کیوں اس وجہ سے کہ آپ نے
20:35اپنے علم کے بعد
20:37اس کا عملی نفاظ
20:38اپنی ذات پر پیش کیا اور
20:40اپنی صیرت کو نبوی موڈل
20:42کی وہ نبوی
20:44موڈل کا کی وہ extension
20:46بنا کر پیش کیا جس نے
20:48معاشرے کے جو behavior
20:50تھے وہ social behavior
20:52تھا spiritual behavior تھا
20:54وہ ان کی اقدار کی بات تھی
20:56وہ ان کے بہم
20:57ان کی بہم معاشرت کی بات تھی
21:00ان کی individual life کی بات تھی
21:02تو آپ نے اس میں دور
21:04رست نتائج مرتب کیے
21:06آج مجھے اور آپ کو
21:08اس پہلو کی طرف خصوصی توجہ
21:10کرنی ہے خاص طور پہ یہاں
21:13اس پہلے پہلو کو سمجھنے کے بعد
21:15کہ آج information
21:17ہماری pocket میں ہے
21:18ایک موبائل میں ہزاروں
21:20کتابیں ہیں لیکن آپ جانتے ہیں
21:22کہ information is not transformation
21:24کہ information وہ
21:26انقلاب نہیں ہوتی وہ تبدیلی
21:28نہیں ہوتی معلومات اور چیز ہے
21:30اور تبدیلی اور چیز ہے
21:33ہمیں معلوم ہے
21:34کہ غیبت حرام ہے
21:36سبھی کے پاس لیکن
21:38ہم غیبت کرتے ہیں
21:39ہمیں معلوم ہے جھوٹ حرام ہے
21:42لیکن ہم کاروبار کرتے ہیں
21:45تو جھوٹ بولتے ہیں
21:46ہمیں معلوم ہے
21:47کہ نماز فرض ہے
21:49لیکن نماز میں ہماری سستی ہے
21:51ہمیں معلوم ہے
21:52کہ رزق حلال ہونا چاہیے
21:54لیکن اس کے باوجود
21:56ہم حرام کی طرف لپکتے ہیں
21:58شبہات کی طرف جاتے ہیں
22:00تو مسئلہ information کا نہیں ہے
22:02یہاں مسئلہ
22:03اس information کی implementation کا ہے
22:06حضرت شیخ عبدالقادر جی لانی علی رحمہ
22:09کی personality وہ unique personality ہے
22:11کہ جنہوں نے ابتدائی سبق ہی
22:14صرف information کا نہیں لیا
22:16بلکہ اس information کی implementation کا لیا
22:19اور اس implementation کا نتیجہ یہ نکلا
22:22کہ جب بات کرتے تھے تو بات کانوں تک نہیں
22:25بلکہ دلوں تک جاتی تھی
22:27اور دلوں میں جا کے وہ انقلاب برپا کرتی تھی
22:30کہ معاشرے کے انفرادی افراد پر بھی
22:33اور اجتماعی جو سماج تھا اور اجتماعی جو رویے تھے
22:37ان میں تبدیلی پیدا کر دی
22:39اور یہی حضرت شیخ عبدالقادر جی لانی علی رحمہ کی
22:42صیرت اور تعلیمات کی تربیتی فکر کا حسن ہے
22:46کہ علم ایسا ہو جو عمل بنے اور عمل بن کے بندے کو بھی سوارے
22:52اور جس معاشرے میں وہ پیش کر رہا ہے
22:54اسے بھی سوارے
22:55معزز سامعین
22:57حضرت شیخ عبدالقادر جی لانی علی رحمہ کی
23:00صیرت اور تعلیمات کی روشنی میں
23:03ہم آج گفتگو کر رہے ہیں
23:05اس پہلو پر
23:07کہ انسانی تربیت اور کردار سازی میں
23:11جو موڈل ہے
23:12وہ آپ کی زندگی ہمارے سامنے کیسے ہے
23:15ہم نے پہلے مرحلے پر تفصیلی بات کر لی
23:18کہ پہلا مرحلہ علم ہے
23:20علم کے بغیر انسان نہ خود سمرتا ہے
23:24اور نہ ہی دوسروں کو سوارنے کی
23:26صلاحیت اس کے اندر پیدا ہوتی ہے
23:29اور پھر اس علم کے تقاضے کیا ہیں
23:32ان پر بھی ہم نے تفصیلی گفتگو کی
23:34اب دوسرا مرحلہ ہے
23:35نفس کی تربیت کا
23:37قرآن مجید فرقان حمید میں
23:39اللہ سبحانہ تعالی ارشاد فرماتا ہے
23:41بسم اللہ الرحمن الرحیم
23:43قد افلہ من زکاہا
23:46وقد خواب من دساہا
23:49تحقیق وہ کامیاب ہوا
23:51جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا
23:54ستھرہ کر لیا
23:55اور وہ ناکام ہوا
23:57جس نے اسے آلودہ کر لیا
24:00زندگی میں
24:01جو مجاہدہ نفس ہے
24:04اور تسکیہ ہے
24:05انر پیوریفکیشن
24:07وہ بہت ضروری ہے
24:08علم آ جائے
24:10اور باطن پاک نہ ہو
24:12تو یہی علم ہجاب بن جاتا ہے
24:14حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ
24:17کا علم
24:18ان کی آج کا ذریعہ بنا
24:20کیوں
24:21اس وجہ سے کہ آپ کی زندگی میں
24:23مجاہدہ نفس
24:24تسکیہ
24:25انر پیوریفکیشن
24:27وہ بہت نمائی نظر آتی ہے
24:29آپ نے علم کو سب سے پہلے
24:31اپنی ذات پر نافذ کیا
24:34اور اپنی ذات پر نافذ کر کے
24:36نبوی زندگی کے
24:38ایکسٹینشن کے طور پر پیش فرمایا ہے
24:40اب یہ جو نفس کی
24:42پیوریفکیشن ہوتی ہے
24:43اس کا مطلب بھی آپ نے
24:45اپنی تعلیمات میں
24:46بڑے منفرد انداز میں پیش کیا ہے
24:48ہم نفس کا مطلب
24:50صرف خواہش سمجھتے ہیں
24:52حالانکہ نفس
24:53کا مطلب
24:54اتنا لیمیٹڈ نہیں ہے
24:57بلکہ اس کے اندر
24:58غرور بھی آتا ہے
24:59حسد بھی ہے
25:01تکبر بھی ہے
25:02کینا بھی ہے
25:03شہرت بھی ہے
25:04انتقام بھی ہے
25:05گریڈی پن بھی ہے
25:07اور سیلف انٹرسٹ بھی ہے
25:09جس کے لیے انسان
25:10بہت سارے لوگوں کے
25:12مفادات کو قربان کر دیتا ہے
25:14صرف اپنے مفاد کو پانے کے لیے
25:15خود پسندی ہے
25:17یہ ساری چیزیں
25:18اس نفس میں آتی ہیں
25:20آپ کی زندگی میں
25:21یہ ساری چیزیں
25:23سرے سے موجود ہی نہیں تھی
25:24علم اتنا عالی ہے
25:26لیکن تکبر کہیں
25:27موجود ہی نہیں ہے
25:28اتنا علم ہے
25:29اور کسی کے لیے
25:31سینے میں
25:32کوئی قدغن بھی نہیں پائی جاتی ہے
25:34بلکہ اگر
25:35درد ہے سینے میں
25:36تو یہی ہے
25:37کہ لوگوں کو سوارہ کیسے جائے
25:39ان کی صلاح کیسی کی جائے
25:41کبھی حجب میں مبتلا نہیں ہوئے
25:43خود پسندی دور دور تک
25:45اس کا شائبہ نہیں ہے
25:46اور بلکہ
25:47دوسروں کے لیے
25:49اپنی ذات کو
25:50مٹانے اور فنا کرنے کا
25:52جذبہ آپ کی ذات کے اندر موجود ہے
25:54یہی وجہ ہے
25:56کہ آپ کی
25:58زندگی میں
25:59صرف
26:00آپ ہی کی ذات تک
26:02اس کی اثرات نہیں نظر آئے
26:03بلکہ
26:04آپ کے جو
26:06تربیت میں آنے لوگ تھے
26:09جو آپ کے تربیت
26:10یافتہ لوگ تھے
26:11وہ بھی
26:12نفس کی
26:13ان ساری
26:14رضائل سے
26:15جو بیٹ ڈیڈز ہیں
26:16ان سے
26:17پاک تھے
26:18ان کے اندر بھی
26:18غرور
26:19تکبر
26:20انا
26:20خود پسندی
26:21یہ ساری چیزیں
26:22بلکل نہیں پائی جاتی تھی
26:24آپ نے
26:24اس حوالے سے
26:26حضرت شیخ عبدالقادری جلانی علی رحمہ کا
26:28وہ تذکرہ تو ضرور سنا ہوگا
26:30کہ آپ کی نشست کے اندر
26:32ہزاروں لوگ آتے
26:33اور
26:34کوئی
26:35آج کے دور کے
26:37تقاضوں کے مطابق
26:39آواز پہنچانے کے لیے
26:40جو سورسس چاہیے
26:42وہ سورسس تو ان کے پاس
26:43موجود نہیں تھے
26:44لیکن
26:45جب علم
26:46عمل
26:47اور تربیت
26:48اور نفس
26:49ان رضائل سے پاک ہو
26:51تو پھر آواز
26:52کہاں تک جاتی ہے
26:53بغیر کسی سورس کے
26:55پورے مجمع تک
26:57بالکل اسی طرح آواز جاتی
26:59جس طرح روشنی سب تک پہنچ رہی ہوتی
27:01ایک دن
27:03آپ کے ایک شاگرد
27:05وہ
27:06گھر سے یہ تیک کر کے آئے
27:08کہ میرے شیخ کی نشست میں
27:10اتنے اتنے لوگ آتے ہیں
27:12اور تاثیر ایسی ہے
27:13کہ دل بدل جاتے ہیں
27:15مچل جاتے ہیں
27:16تو آج میں نے
27:17یہ مشاہدہ کرنا ہے
27:19کہ کتنے لوگ ہیں
27:20اور ان کو گننا بھی ہے
27:22تو یہی ارادہ لے کر
27:24تو گھر سے ایک داغہ لے آئے
27:25جب مجلس میں بیٹھے
27:27تو بیٹھ کر
27:29اب انتظار کرنے لگے
27:31کہ میرے شیخ کلام کریں گے
27:32لوگوں کی زندگی بدلے گی
27:34مچ لیں گے
27:35تو جتنے اشخاص
27:37ان پر نظر پڑے گی
27:38ان کے اندر
27:39ٹرانسفورمیشن پیدا ہوگی
27:40تبدیلی پیدا ہوگی
27:42اور ان کا جو حال ہے
27:44وہ بدل جائے گا
27:45تو میں ان کو
27:45یوں گنتا رہوں گا
27:47کہ اس داغے پر
27:48ایک ایک گرہ لگاتا جاؤں گا
27:50وہ فرماتے ہیں
27:51کہ میرے شیخ نے جب کلام کیا
27:53دلوں کی دنیا بدلی
27:55اب بدلنے میں اتنی تیزی تھی
27:57کہ میں گرہ لگاتا تھا
27:59اور گرہ لگانے کی رفتار کم تھی
28:01اور دلوں کی تبدیلی کی رفتار زیادہ تھی
28:04اسی اثنا میں
28:06میرے شیخ نے میری طرف توجہ کیا
28:08اور توجہ کرنے کے بعد فرمایا
28:10ارے تم کیا کر رہے ہو
28:13میں یک
28:14لخت
28:15ششتر رہ گیا
28:16کہ یہ توجہ ادھر سے
28:18ادھر کیسے مبزول ہو گئی
28:19میں ابھی کچھ کہنا ہی چاہتا تھا
28:21تو شیخ نے کیا کلام فرمایا
28:23فرمایا
28:24ارے ہم لوگوں کے دلوں کی گرہ کھول رہے ہیں
28:27اور تو گرے لگا رہا ہے
28:29عرض کیا کہ میں
28:31تو گنا چاہتا تھا
28:32اور نیت میری اچھی تھی
28:33تو آپ نے کیا خوبصورت تربیت فرمائی
28:36کہ ذالک فضل اللہ
28:38یہ اللہ کا فضل ہے
28:39اور فضلِ الٰہی
28:40اور انامِ الٰہی کو گنا نہیں جاتا
28:43اس پر تو جذباتِ تشکر
28:45اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا جاتے ہیں
28:47یہ تو مقامِ شکر ہے
28:49کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں
28:50اپنے بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا ہے
28:53دیکھئے
28:54کیا لیول ہے
28:56اس نفس کی تربیت کا
28:58اور پھر ساتھ ہی ساتھ
29:00اس
29:02معاشرے میں
29:02اور اپنے قرب میں رہنے والے
29:04لوگوں کی تربیت کا
29:06کہ حضرتِ شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ رمہ
29:08خود پسندی
29:09گنتی
29:10اور ایسی ساری چیزوں سے خود بھی پاک ہیں
29:13اور دوسروں کو بھی پاک کر رہے ہیں
29:15اس تناظر میں
29:16میں اور آپ اگر
29:18اپنا جائزہ لیں
29:19تو ہماری کیفیات کیا ہے
29:21آج
29:22سوشل میڈیا نے
29:24اس نفس کو ایک نئی طاقت دے دی ہے
29:27پہلے صرف
29:29ہم لوگ
29:30اپنے آپ کو
29:31اپنوں کو
29:32یا اپنی باہر کی دنیا کو دکھانے کے لیے
29:35تیار ہوتے تھے
29:36لیکن آج
29:37پوری دنیا کو دکھانے کے لیے ہم تیار ہوتے ہیں
29:41اور تیاری میں کیفیات کیا ہے
29:43کہ ہم پوری دنیا کو دکھا رہے ہیں
29:45بتا رہے ہیں
29:47کہ میں کہاں گیا
29:48کیسے گیا
29:50کیوں کر گیا
29:51میں نے کیا خریدا
29:52میرا سٹیٹس کیا ہے
29:54اور میرا لیول کیا ہے
29:55میں کس کیلیبر کا آدمی ہوں
29:57پوری دنیا کو
29:59یعنی یہ عجیب کیفیات ہے
30:02کہ ہمیں یہ فکر لاحق ہو گئی
30:04اور اس فکر کے لیے ہم سرگردہ دورتے چلے جا رہے ہیں
30:08اور سوشل میڈیا
30:10ہماری اس نفس کو ایک عجیب قسم کی طاقت فراہم کر رہا ہے
30:14ہر وقت یہ خیال ہے
30:16کہ لوگ کیا کہیں گے
30:17حضرت شیخ عبدالقادر جلانی علی رحمہ
30:20آپ کی تربیت نفس نے خود بھی
30:22اور اپنے تربیت یافتہ کو بھی
30:24اور آپ کی تعلیمات نے
30:26قیامت تک کے لیے یہ سبق دے دیا
30:28کہ جہاں تمہیں یہ خیال آتا ہے
30:30لوگ کیا کہیں گے
30:31کبھی یہ بھی خیال آیا کہ خدا کیا کہے گا
30:34لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں
30:36یہ تمہیں یقین ہوتا ہے
30:37کیا تمہیں اس بات کا یقین نہیں
30:39کہ تمہارا خدا بھی تمہیں دیکھ رہا ہے
30:41ذرا اور امک میں جا کے کیا گہری بات کی
30:44فرمایا تمہارا خدا تو تمہیں وہاں دیکھ رہا ہے
30:47جہاں کوئی دوسرا تمہیں نہیں دیکھ رہا
30:50تو یہ وہ دوسرا مرحلہ
30:53آپ کی صیرت اور تعلیمات میں ہمارے سامنے آتا ہے
30:56تیسرا مرحلہ
30:58is a
30:59is a
31:01purification
31:01is
31:03nabi paak
31:04sallallahu alayhi wa sallam
31:06in the name of the Quran
31:07bismillah
31:08rrahman rrahim
31:09وَمَا أُمِرُوا
31:10إِلَّا لِيَعْبُدُ اللَّهَ
31:12مُخْلِصِينَ
31:13لَهُ الدِّينَ
31:15that's a
31:16that's a
31:16that's a
31:17that's a
31:18that's a sincerity
31:20that's a
31:21that's a purification
31:21that's a
31:22that's a
31:22that's a
31:23that's a
31:23that's a
31:23that's a
31:23that's a
31:24that's a
31:25that's a
31:26حضرت
31:27عقی کریم
31:28sallallahu alayhi wa sallam
31:29اشاعت فرماتے ہیں
31:30اِنَّمَا
31:31الْاَعْمَالُ
31:31بِالنِّيَّاتِ
31:32عملوں
31:33کا دار و مدار
31:34نیتوں پر ہوتا ہے
31:35عمل کی
31:37جو
31:37اصل
31:38value ہے
31:38وہ
31:39اس کی
31:39شکل سے
31:39نہیں ہوتی
31:40عمل کی
31:41اصل
31:41value
31:42اس کی
31:42نیت سے
31:43بنتی ہے
31:44spiritualism
31:45کے
31:45experts
31:46وہ
31:47بڑی خوبصورت
31:47ایک مثال
31:48دیتے ہیں
31:48وہ
31:49فرماتے ہیں
31:49کہ دیکھئے
31:52ایک شخص
31:53صدقہ کرتا ہے
31:55دوسرا شخص
31:55بھی صدقہ کرتا ہے
31:56لیکن ایک شخص
31:58جب صدقہ
31:59کر رہا ہے
32:00تو
32:00اس کی
32:02کیفیت یہ ہے
32:02کہ وہ لوگوں
32:03کو دکھانے
32:03کے لیے کر رہا ہے
32:04اور دوسرا شخص
32:06صدقہ کر رہا ہے
32:07تو وہ
32:08لوگوں سے
32:08بچنے کے لیے
32:10اور اللہ کی
32:10رضا کے لیے
32:11کر رہا ہے
32:12فرماتے دیکھو
32:13ظاہر تو
32:14دونوں کا ایک ہے
32:15وہ بھی صدقہ
32:16کر رہا ہے
32:16وہ بھی صدقہ
32:17کر رہا ہے
32:17وہ بھی good deed میں ہے
32:19وہ بھی good deed میں ہے
32:20لیکن باطن کی شکلیں مختلف ہیں
32:23ایک کا باطن
32:25لوگوں کو دکھانا چاہتا ہے
32:27اور دوسرے کا باطن
32:28اللہ کی رضا چاہتا ہے
32:30یہ جو دوسرے کا باطن ہے
32:32یہ حقیقت میں purification ہے
32:34یہ sincerity ہے
32:35یہی اخلاص ہے
32:37روحانی تربیت کا
32:39سب سے مشکل مرحلہ
32:41حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علیہ الرحمنہ کی
32:43تعلیمات میں جو ہمارے سامنے آتا ہے
32:45آپ فرماتے ہیں کہ
32:46سب سے مشکل ترین مرحلہ
32:48وہ یہ ہے کہ انسان
32:50اس بات سے آزاد ہو جائے
32:52کہ وہ کس کے لیے کیا کر رہا ہے
32:55اس کا مقصود و مطلوب و مدعا
32:58ہمیشہ رہے
32:59تو اللہ تعالیٰ کی رضا رہے
33:01فتح الغیب میں ایک موقع پر
33:03بہت جامع اصول آپ نے بیان کیا
33:06فرمایا
33:07لابد لکل مؤمن
33:08فی سائر احوالہی من سلاسط اشیاء
33:12امرن
33:14یمتسلہو
33:16وَنَحْيُنْ يَجْتَنِبُهُ
33:18وَقَدْرٌ يَرْضَابِهُ
33:20کہ ہر مومن کو
33:22اپنی تمام حالتوں میں
33:24تین چیزوں کی ضرورت ہے
33:26ان میں سے پہلا
33:27امرن
33:29یمتسلہو
33:30ایک ایسا حکم
33:31جس کی وہ تعمیل کرتا رہے
33:33حاکم کی طرف سے حکم
33:35اور اس کی تعمیل میں سرگردہ رہے
33:38اس کے لیے
33:39اسے جو بھی قربانی یا کاشپ پے کرنی پڑے
33:42وہ پے کرے
33:43اور اس کے حکم کو پورا کرنے کے لیے
33:47اپنی بسات کے مطابق
33:48جتنی کوشش ہے وہ کرتا رہے
33:50دوسرا فرمایا
33:53وَنَحْيُنْ يَجْتَنِبُهُ
33:54اور ایک ممانت
33:55جس سے وہ بچے
33:57کہ جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے
33:59اس سے رکے
34:00اور اس رکنے کے لیے بھی
34:02اسے جو قیمت دینی پڑے
34:03وہ قیمت دے اور رک جائے
34:05اور تیسرا فرمایا
34:06ایک تقدیر ہے
34:07جس پر وہ راضی رہے
34:09کیا کپریہنسیو ٹریننگ ہے
34:13اور کیسی جامع تربیت آپ نے فرمائی ہے
34:15تین ورڈز ہیں
34:17نمبر ایک
34:19اوبیڈینس
34:19اطاعت
34:20سیکنڈ
34:22سیلف کنٹرول
34:23اپنے آپ کو
34:25اپنے آپ کو کسی کے حکم کا پابند بناتے ہوئے
34:29اس کے عوامر
34:30اس پر عمل پیرا ہونا
34:31اور اس کے نواہی سے اجتناب کرنا
34:34اور ایک آخری مرحلہ ہے
34:36اسیپٹنس
34:37کہ قبول کر لینا
34:39ہر حال میں راضی لینا
34:40حکم آئے
34:41میں مانوں گا
34:43ممانت آئے
34:44میں رک جاؤں گا
34:45تقدیر آئے
34:46میں اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھوں گا
34:49یہی بیلسٹ
34:50سپیرچل لائف ہے
34:52جو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کی
34:55سیرت اور تعلیمات سے ہمیں حاصل ہوتی ہے
34:57اس وقت
34:58مجھے اور آپ کو
35:00سب سے زیادہ جس بات پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے
35:03وہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کی سیرت اور آپ کی
35:07تعلیمات پر
35:09کو پڑھنا
35:11سمجھنا
35:11اور اپنی زندگی پر نافذ کرنا
35:14چونکہ اس وقت زمانے کو
35:15ایک مرتبہ پھر
35:17ریشنلس کا سامنا ہے
35:18فلوسفرز کا سامنا ہے
35:20لوجیکل چیزوں کو قبول کرنے والوں کا سامنا ہے
35:23اور یہ سامنا ہم تب ہی کر سکتے ہیں
35:26جب ہم اپنی زندگی کو
35:28علم عمل اخلاص خشو خضو کے ساتھ مزین کرتے ہوئے
35:34اپنی ذات کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اس وقت کی
35:38extension کے طور پر پیش کریں
35:41اور عقلی میدان میں بھی
35:42نقلی میدان میں بھی
35:44ظہری اور عملی میدان میں بھی
35:45ان تمام چیزوں کا حل اور سوالات کا حل پیش کریں
35:50تو تب ہی معاشرہ بدل سکتا ہے
35:52افراد کے ذہن بدل سکتے ہیں
35:54اور ایک مرتبہ پھر اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور عملی زندگی میں انقلاب برپا ہو سکتا ہے
36:00اللہ تعالیٰ کی پاک بارگاہ میں دعا ہے
36:02پروردیگار عالم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی علی رحمہ کو
36:06جہاں درجات کی بلندیاں عطا فرمائے
36:08وہیں آپ کی صیرت اور تعلیمات کا ایک حض وافر
36:12مجھے اور آپ کو عطا فرمائے
36:14وَمَا عَلَيْنَا اِلَّا الْبَلَاءُ
36:15سُبْحَانَكَ اللَّهُ مُولِكَ
Comments

Recommended