Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:00. . . . . . . . .
00:30. . . . . .
01:00. . . . .
01:30. . . . . . . .
01:31. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:34. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:38. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:40. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:43. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:45. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:48. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:49. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:50. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:51. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:53. . . . . . . . . . . . . . . . . . . .
01:54. . .
01:54اور آپ نے بغیر کوئی عجرت لی ان کی دیوار کو سیدھا کر دیا
01:59اس پر خضر علیہ السلام نے عرض کی
02:01کہ حضور اب آپ کے اور میرے درمیان یہ جدائی کا وقت ہے
02:05اور میں آپ کو اس کی تعویل بتاتا ہوں
02:07کہ یہ تین معاملات کیوں ہوئے
02:09پہلا یہ کہ وہ کشتی جو تھی وہ دو یتیم بچوں کی تھی
02:13اور جو دوسرا کنارہ تھا وہاں ایک ظالم بادشاہ تھا
02:16جو کشتی صحیح سالم ہوتی اس کو چھین لیا کرتا تھا
02:19تو اس لئے میں نے تھوڑا سا نقص اس میں پیدا کر دیا
02:21کیونکہ جب کشتی وہاں پہنچے تو وہ لوگ اس کو نظر انداز کر دیں
02:25نقص تو آرام سے ختم ہو جائے گا
02:27کشتی بج گئی اور وہ بچے بھی اپنی کشتی کے فائدوں سے محروم ہونے سے محفوظ رہے
02:34دوسرا یہ کہ وہ جو بچہ تھا
02:36اللہ تعالی نے مجھے الہام فرمایا
02:38کہ یہ بڑا ہو کر کافر بنے گا
02:40اور اس کے ماباپ اس سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں
02:43اور عین ممکن ہے کہ اس کی محبت میں وہ بھی کافر ہو جائیں
02:46اس لئے اللہ کا حکم مواقع اس کو ختم کر دیا جائے
02:49تو میں نے ختم کیا
02:50تو میں نے اللہ کے حکم سے یہ کیا
02:52اور اللہ ان کو بہترین متبادل عطا فرمائے گا
02:57تیسرا آپ نے فرمایا کہ یہ جو دیوار میں نے سیدھی کی تھی
03:01یہ اصل میں اس کے دیوار کے نیچے ایک خزانہ تھا
03:05یہ جو یہ دو یتیم بچوں کا خزانہ ہے
03:08اور ان کے جو باپ تھا
03:12وہ کہتے ہیں کہ ساتھویں نسل میں کوئی دادہ تھا ان کا
03:15جو نیک پریزگار متقی تھا
03:17تو اللہ تعالی نے اس کی نیکیوں کی برکت سے ان بچوں کے لئے انتظام فرمایا
03:22کہ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ
03:24اگر یہ دیوار گر جاتی خزانہ باہر نکل آتا
03:27اور لوگ اس کو لوٹ لیتے
03:28اور یہ بچے تھے یہ ابھی ان سے چھیننے کے صلاحیت نہیں رکھتے تھے
03:32تو اللہ کے حکم سے میں نے دیوار کو سیدھا کر دیا
03:35اب جب بچے بڑے ہوں گے
03:37تو اللہ تعالی علیہم فرما دے گا
03:39اس تک رسائی پہنچائے گا
03:44صلی اللہ علیہ وسلم بیان فرما رہے ہیں
03:46اب یہ جو کہتا دیکھیں عنوان کیا تھا
03:48باب الشروطی معنی ناسی بالقول
03:50لوگوں کے ساتھ
03:52قول کے ساتھ
03:53شرطیں لگانے کا باب
03:55تو خضر علیہ السلام نے شرط لگائی تھی
03:58کہ آپ مجھ سے کلام نہیں کریں گے
04:00یعنی سوال نہیں کریں گے
04:02یا یوں کہہ دیں
04:04کہ موسیٰ علیہ السلام نے پھر شرط لگائی
04:06کہ اب اگر میں ایسا کروں
04:08کہ آپ سے کوئسن کروں
04:09تو آپ مجھ سے جدہ ہو جائیے گا
04:11تو چونکہ اس میں شرط کا ذکر تھا
04:13تو اس حدیث کو امام بخاری رحمت اللہ علیہ
04:16یہاں لے کر آئے
04:17اگلے باب کی طرف آئیں
04:19کہ باب الشروطی فی الولا
04:20ولا میں شرائط کا بیان
04:23اور یہ پہلے بھی کئی دفعہ حدیث بیان ہو چکی ہے
04:25میں صرف آپ کو پڑھ کے سنا دیتا ہوں
04:27انشاءاللہ
04:28اور آپ سمجھ جائیں گے
04:30پہلے بھی آپ اس کی وضاحتیں سنی ہوئی ہیں
04:32دو ہزار سات سو انتیس نمبر حدیث پاک ہے
04:35سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتی ہے
04:39کہ میرے پاس حضرت بریرہ آئیں
04:42انہوں نے بتایا
04:43کہ میرے مالکوں نے مجھے
04:44ناو اوقیہ
04:46یعنی تین سو ساٹھ دراہم کے عوض
04:49مکاتب کر دیا ہے
04:51مکاتب کسی کہتے ہیں
04:53اس غلام کو
04:53جس کو آقا نے کہا
04:54کہ اتنے پیسے ہمیں دے دو
04:56تو ہم تمہیں آزاد کر دیں گے
04:58انہوں نے کہا
04:59کہ مجھے مکاتب کر دیا ہے
05:01کہ میں ہر سال ایک اوقیہ
05:03یعنی چالیس درہم ادا کروں
05:04پس آپ اس میں میری مدد کر دیں
05:08سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا
05:10کہ اگر وہ پسند کریں
05:12کہ میں ان کو اتنے دراہم فراہم کروں
05:14اور تمہاری ولہ میرے لئے ہو
05:17تو میں ایسا کرتی ہوں
05:19تو آپ کو بتایا تھا
05:21کہ ولہ کیا ہوتی ہے
05:22کہ اگر کوئی غلام ہو
05:23ہم نے اس کو آزاد کر دیا ہو
05:25اور وہ جب مرنے لگے
05:26تو اس کے کوئی وارث موجود نہ ہو
05:29تو جو اس کا مال ہوتا ہے
05:31اس کو ولہ کہتے ہیں
05:33شرع قانون کے مطابق
05:34اس یہ ولہ آزاد کرنے والے آقا کے لئے ہوتی ہے
05:38ان کے لئے نہیں ہوتی جو بیچیں
05:39تو وہ جو بیچ رہے تھے
05:41سید عائشہ نے کہا
05:42کہ ان سے کہنا
05:43کہ میں پورے تمہیں پیسے دیتی ہوں
05:46اور تم بریرہ پھر آزاد ہو جاؤ گی
05:48لیکن تمہاری ولہ میرے لئے ہوگی
05:50یہ آپ نے قید لگائی
05:53تو کہتی ہیں
05:54کہ پھر حضرت بریرہ
05:56اپنے مالکوں کے پاس گئیں
05:57اور ان کو یہ پیشکش بتائی
05:59تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا
06:01پھر حضرت بریرہ
06:03ان کے پاس سے ہو کر آئیں
06:04اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
06:07تشریف فرماتے
06:08حضرت بریرہ نے کہا
06:10کہ میں نے ان کے سامنے
06:11یہ پیشکش رکھی تھی
06:13تو انہوں نے اس کا انکار کر دیا ہے
06:15سوائے اس کے
06:16کہ ولا ان کے لئے ہو
06:18یعنی انہوں نے کہا
06:19ٹھیک ہے
06:20ہم پیسہ لے کے تمہیں آزاد کر دیں گے
06:23اور سید عائشہ کے حوالے کر دیں گے
06:25وہ آزاد کر دیں
06:26لیکن ولا ہمارے لئے ہو گئے
06:28پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
06:30نے اس کو سن لیا
06:32سید عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
06:35رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
06:37کو یہ واقعہ بتایا
06:38تو آپ نے فرمایا
06:39کہ تم بریرہ کو رکھ لو
06:40یعنی خرید لو
06:41اور ان کے سامنے ولا کی شرط رکھو
06:44ولا صرف اس کے لئے ہوتی ہے
06:46جو آزاد کرتا ہے
06:48سو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ نے
06:52اسی طرح کیا
06:53پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:55لوگوں میں کھڑے ہو کر
06:56اللہ کی حمد اور ثنہ بیان کی
06:58پھر فرمایا
06:59ان لوگوں کا کیا حال ہے
07:01جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں
07:02جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں
07:05ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو
07:07وہ باطل ہے
07:08خواہ سو شرطیں ہوں
07:11اللہ کا کیا ہوا فیصلہ برحق ہے
07:14اللہ کی شرط زیادہ مستحکم ہے
07:16اور ولا صرف اس کے لئے ہوتی ہے
07:19جو آزاد کرتا ہے
07:22تو اس کی شرط تو ہو چکی ہے
07:23بس یہاں پر جو آخری جملے ہیں
07:25وہ ذرا دیکھ لیجئے
07:26سرکار نے فرمایا
07:27کہ بعض لوگ ایسی شرطیں لگاتے ہیں
07:29جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں
07:31ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو
07:33وہ باطل ہے
07:34خواہ سو شرطیں ہوں
07:35اللہ کا کیا ہوا فیصلہ برحق ہے
07:39اب اس کا کیا مطلب یہ ہے
07:41کہ جو قرآن کے اندر کے کوئی شرط ذکر ہے
07:43تو وہ ہی بس صحیح ہے
07:44باقی ہم کوئی بھی شرط لگائیں غلط ہے
07:45یہ اس کا مطلب نہیں ہے
07:47اس کا مطلب یہ ہے
07:48کہ ایسی کوئی شرط لگانا
07:50جو قرآن
07:51یا حدیث کے اندر
07:53یہ بس سے تو یہاں ذکر قرآن کا ہے
07:54پہلے ہم قرآن تک چلے محدود رکھتے ہیں
07:56کہ قرآن میں موجود کسی شرط کے خلاف ہو
07:59تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوگا
08:01کیونکہ اگر انسان کوئی شرط اپنے پاس سے لگائیں
08:04اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم کے خلاف ہو
08:07تو کیا یہ جائز ہوگا
08:09کہ ہم کہیں کہ ہم تمہاری بات مان لیتے ہیں
08:11اور حکم قرآن کو فراموش کر دے
08:13لازم بات ہے کہ ایسا نہیں ہے
08:15اس لئے سرکار انشاءت فرمایا
08:17کہ ہر وہ شرط جو کتاب اللہ میں نہ ہو
08:20یعنی اس کے خلاف ہو وہ باطل ہے
08:22چاہے سو شرطیں ہوں
08:24اللہ کا کیا ہوا فیصلہ برحق ہے
08:26اللہ کی شرط زیادہ مستحکم
08:29یعنی مضبوط ہے
08:31تو یاد رکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ کی طرف منصوب کر دیا
08:34تو قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی وحی جلی کہلاتی ہے
08:39یعنی وحض وحی
08:41اور حدیث وحی خفی کہلاتی ہے
08:44یعنی یہ بھی اللہ کا پیغام ہوتا ہے
08:46لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
08:48اس کو اپنے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں
08:50پہلے بھی ہم وضاحت کر چکے ہیں
08:52کہ قرآن میں معانی
08:55وہ اللہ کا کلام ہے
08:56معانی مفہوم جو سمجھ میں آتے ہیں
08:58جو الفاظ ہیں وہ بھی اللہ کی طرف سے
09:01مخصوص کر دیئے گئے تھے
09:03لہذا جس طرح وحی نازل ہوئی
09:05ایک لفظ بدل بغیر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:07اس کو بیان فرماتے تھے
09:08تو گویا کہ
09:09الفاظ اور معانی جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں
09:12دونوں ہی وہ قرآن بنتا ہے
09:14اس کو وحی جلی کہتے ہیں
09:15اور اگر معانی اللہ کی طرف سے
09:18الہام فرمائے گئے
09:19لیکن نبی کریم کو اختیار دیا گیا
09:21کہ آپ جن بھی الفاظ میں چاہیں
09:23اس کو بیان کر دیں
09:24تو گویا کہ معانی اللہ کی طرف سے ہیں
09:27الفاظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں
09:30اس کو کہتے ہیں
09:31وحی خفی
09:33اور اس کو حدیث بھی کہتے ہیں
09:35تو قرآن وحی جلی ہے
09:37اور حدیث وحی خفی ہے
09:39لیکن وحی کیا ہوتی ہے
09:41اللہ کا پیغام
09:42لہذا دونوں میں
09:43قرآن میں بھی حدیث میں
09:44پیغام اصل میں
09:45اللہ تعالیٰ کا ہے
09:46تو نتیجہ نکلا
09:48کہ اگر کوئی شرط ایسی ہے
09:49جو قرآن کی کسی شرط کے خلاف ہے
09:51تب بھی باطل
09:52اور اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
09:54نے کوئی شرط بیان فرما دی
09:55کوئی قید بیان فرما دی
09:57قید کا مطلب ہوتا ہے
09:58کہ کوئی خاص وصف بیان کر دیا
10:01کسی چیز کو
10:02مثلا
10:02میں بلا تمثیل ایک مثال دے رہا ہوں
10:05میں کہوں کہ
10:05جو حافظیں آگے آجائے
10:07میں اس کو پچاس روپے دوں گا
10:09تو کچھ لوگ کھڑے ہیں
10:10تو میں نے حفظ کی قید لگا دی
10:13ایک شرط لگا دی
10:13کہ پچاس روپے حافظ کو ملیں گے
10:16غیر حافظ کو نہیں ملیں گے
10:17اس طرح اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
10:19اپنے کلام میں کوئی قید لگا دیتے ہیں
10:21تو اس کا بڑا اعتبار ہوتا ہے
10:23اور اس کے خلاف اگر کوئی شرط ہوتی ہے
10:25تو وہ باطل ہوتی ہے
10:28لیکن یہ کام علماء کا ہوتا ہے
10:30میں پھر آپ سے گزارش کرتا ہوں
10:31بعد قرآن میں ایک چیز
10:34بطریق یا بصورت شرط ذکر کی گئی ہوتی ہے
10:37لیکن وہاں شرط لگانا مقصود نہیں ہوتا
10:40اور ایسی حدیث کے اندر ہوتا ہے
10:43تو ہم جیسے مطلب محاورتن بات کہہ دیتے ہیں
10:47ایسی محاورتن ہوتا ہے
10:49خاص کوئی شرط لگانا وہاں مقصود نہیں ہوتا
10:52جیسے ہم کہتے ہیں کہ
10:53یار کبھی گھر پر آونا
10:55آوگے تو بہت اچھا کھلاؤں گا
10:57تو کیا ہی میں شرط لگا رہا ہوں
10:59کہ گھر پر آوگے تو اچھا کھلاؤں گا
11:00اگر باہر کھاؤگے تو اچھا نہیں کھلاؤں گا
11:02یا بلکل نہیں کھلاؤں گا
11:04یہ مقصود نہیں ہوتا
11:05یہاں پیوے حالاکہ ایک شرط ہے
11:06گھر کبھی گھر آنا نا
11:07بہت اچھا کھانا کھلاؤں گا
11:09یعنی گھر آوگے تو کھانا کھلاؤں گا
11:11بظاہری شرط بن رہی ہے
11:12لیکن یہاں محاورتن کہہ رہے ہوتے ہیں
11:14اور یہاں پر اس کو خاص طور پر
11:16اس طرح بیان کرنا مقصود نہیں ہوتا
11:18کہ اس کی جانب مخالف
11:21رد کر دی جائے
11:22وہ شرط بن جاتی ہے
11:23جیسے میں کہوں کہ
11:24اگر تم نے پانی پی لیا
11:25پچاس روپے دوں گا
11:27تو اس کی جانب مخالف کیا ہے
11:29اگر نہ پی سکے تو نہیں دوں گا
11:31تو جب یہ صورت ہوتی ہے
11:32کہ ایک طرف کو ہم کہتے ہیں
11:34یس اور دوسری طرف نو ہوتی ہے
11:36تو یہ شرط یہ جو ہے
11:38اس کے خلاف اگر کوئی کرے گا
11:39تو وہ غلط ہوگا
11:40اور بعد وقت ہم شرط ذکر کرتے ہیں
11:42لیکن جانب مخالف
11:44منع بھی نہیں ہوتی ہے
11:45اور وہ مقصود بھی نہیں ہوتی ہماری
11:47تو اس میں پھر کوئی مسئلہ نہیں ہوتا
11:49اب یہ پہچاننا
11:51کہ قرآن کے اندر
11:52اس آیت میں
11:53یا اس حدیث کے اندر
11:54جو شرط بیان کی گئی ہے
11:55وہ اس کی جانب مخالف کو
11:57رد کرنے کے لیے ہے
11:59یا جانب مخالف بھی اس میں شامل ہے
12:01یہ کام علماء کا ہوتا ہے
12:04اور اس کے لیے بڑا وسیع علم درکار ہوتا ہے
12:06ہمارے بعض بھائی بہن
12:07جو بھی فیس بک سے پوسٹ آگئی
12:10ٹک ٹاک پہ کوئی چیز ڈال دیجی
12:12یوٹیوب پہ چیز دیکھ لی
12:13فورا سمجھتے ہیں
12:14کہ یہ اصل دین ہے
12:15اور جس طرح ان کو سمجھ میں آتا ہے
12:18اس کے مطابق اس کو لے لیتے ہیں
12:19اور پھر
12:20اگر کوئی عالم اس کے خلاف ہوتا ہے
12:23تو اس سے بدزن ہو جاتے ہیں
12:25حالکہ وہ عالم اس کے خلاف نہیں ہوتا
12:27کیونکہ عالم کو پتا ہے
12:28کہ یہاں پہ شرط لگانا مقصود ہی نہیں ہے
12:31بہرحال تو اس لیے ہماری گزارش ہے
12:32کہ پہلے دین کو سمجھا جائے
12:35اور اگر سمجھنے کا ٹائم نہیں ہے
12:37جیسے اکثر لوگوں کے پاس نہیں ہوتا
12:38تو اپنے جید علماء پر اعتماد رکھیں
12:41اور فورا ان سے بدزن نہ ہوں
12:43اور اسی طریقے سے سوشل میڈیا پر بیٹھ کر
12:45یا ویسی فیس بک پر
12:47دیگر چیزوں پر عام آدمی جو
12:48کوئی بھی چیز بنا کے آپ کے سامنے پیش کر دیتا ہے
12:51تو اس کی کوئی سند نہیں ہے
12:53وہ کوئی شرٹی نہیں ہے
12:55کہ اس نے جو کہا ہے صحیح کہا ہے
12:57جب تک کہ علماء اس کی تعاید نہ کریں
13:05اٹھ کر کوئی بات کہہ دیتا ہے
13:06اور ایسی بات کہتا ہے
13:08کہ جس کے خلاف پر
13:10پوری امت عمل کر رہی ہے
13:12جیسے آپ نے دیکھا ہوگا
13:14ہم تین وطر پڑھتے ہیں
13:16احناف حضرات اور اکثر اہل اسلام
13:18جو ہے تین وطر پڑھتے ہیں
13:20اور ایک سلام سے پڑھتے ہیں
13:22پہلے دو رکعت پر اتیاد پڑھتے ہیں
13:24یعنی قیدہ اولہ ہوتا ہے
13:25اس کے بعد پھر ایک رکعت اور قیدہ اخیرہ کر کے
13:28ختم کر دیتے ہیں
13:29اب ایک صاحب نے کچھ دن پہلے کہا
13:32کہ ہم تو غلط وطر پڑھتے آئے
13:33وطر تو یوں ہوتا ہے دو الہدہ پڑھ دو
13:35پھر ایک الہدہ پڑھ دو
13:37اگر یہ کوئی خاص کوئی اپنے فق کے مطابق کر رہا ہو
13:40تو اسلام میں اس کو گنجائش نکلتی ہے
13:43لیکن جب آپ کسی کے تقلید بھی نہیں کر رہے
13:45اور آپ کسی عالم کا حوالہ بھی نہیں دے رہے
13:48اور آ کر پوری امت جو اتنے بڑا گروہ ہے
13:51آپ کہیں یہ سب غلط کر رہے ہیں
13:53اور پھر اس پر ہمارے کوئی بھائی یا بہن کہیں
13:56یار واقعی ہم تو غلط کر رہے تھے
13:57یہ آج پتہ چلا
13:58ارے بھئی تو کیا
14:01پندرہ سو سال کے تمام علماء سو رہے تھے
14:04یہ اب یہ اقدم غار سے نکل کر
14:07اس نے بتایا کہ کچھ علم ایسا تھا
14:09جو چھپا ہوا تھا ہم میں لے کر آگیا ہوں
14:12تو ہم بڑے وسیع ذہن کے لوگ ہیں
14:14اور ایسے ہونا چاہیے
14:16اگر کوئی کسی فق کو فالو کرتا ہے
14:18تو بالکل ٹھیک کہ اس کے پاس دلیل ہے
14:19وہ اس کے مطابق عمل کر سکتا ہے
14:22لیکن مجھے یہ حق حاصل نہیں ہے
14:24کہ میں اس کے دلیل کو نظر انداز کر کے
14:26اپنی دلیل کے بنیاد پر کہوں
14:28بس تم غلط ہو اور میں صحیح ہوں
14:29اگر اس کے پاس دلیل ہے
14:31تو ٹھیک ہے بھئی تم اپنے فق پر عمل کرو
14:33میں اپنے فق پر عمل کرتا ہوں
14:34لیکن میں ان بہن بھائیوں کا اصل میں مخاطب کر رہا ہوں
14:37جو اس قسم کی کوئی بھی کلپ سن کر
14:39اکدم پریشان ہو جاتے ہیں
14:41اور پھر بعض اوقات اپنے علامہ سے
14:43بدزن ہو جاتے ہیں
14:44ایسا نہیں کرنا چاہیے
14:47اگلے باپ کی طرف آتے ہیں
14:49بابن اذا شطرت فی المضارعاتی
14:51اذا شئتو اخرجتو کا
14:57جب مزارعین
14:58یعنی جو
14:59کھیتی باڑی پر مقرر ہوتے ہیں
15:01ان کو مزارع کہتے ہیں
15:03اس کی جمعہ ہے مزارعین
15:04جب مزارعین سے یہ شرط لگائی
15:06کہ میں جب چاہوں گا
15:07تمہیں خارج کر دوں گا
15:10اس کا باب
15:10دو ہزار سات سو تیس نمبر
15:13حدیث پاک ہے
15:14اور اس کو تھوڑا سا میں
15:15پسمندر پہلے ذکر کر دیتا ہوں
15:17کہ جب خیبر فتح ہو گیا
15:19تو اس کی تمام چیزیں
15:20مسلمانوں کے قبضے میں آگئیں
15:22باغات وغیرہ بھی
15:23کچھ یہودیوں نے
15:24نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے
15:25درخواست کی
15:26کہ آپ ہمیں یہاں سے نہ نکالیں
15:28ہم ان باغات میں خدمت کریں گے
15:30ہمیں اسے کچھ عوض معافضہ دے دیا جائے
15:32یعنی باغات تو
15:33مسلمانوں کے قبضے میں آگئے تھے
15:35لیکن نبی کریم نے
15:36ان پہ شفقت کرتے ہوئے
15:37کہ چلو ٹھیک ہے
15:38تم ان باغات میں کام کرو
15:40یہ مزارع ہو گئے
15:41اور اتنا اتنا تمہیں
15:43اس کی عجرت دے دی جائے گی
15:44گوئی ایک نوکر بن کر
15:45وہ کام کر رہے تھے
15:47تو حضرت عمر فاروق
15:49رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا
15:50جب دور خلافت آیا
15:51تو آپ نے اپنے بیٹے حضرت
15:53ابن عمر کو ان باغات کے اندر بھیجا
15:55وہ رات میں سو رہے تھے
15:57تو ان یہود میں سے کچھ نے آ کر
15:58ان پر حملہ کیا
16:00اور ٹھیک ٹھاک ان کو مارا پیٹا
16:02ان کے ہاتھ پاؤں موڑ دیئے
16:03بہت زیادہ تکلیف پہنچائی
16:05صبح حضرت ابن عمر نے جا کے فریاد کی
16:07تو عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
16:10پھر ان کو بلوایا
16:12اور کہا کہ
16:13یقینا تم لوگوں نے
16:14تم میں سے انہوں نے کیا ہوگا
16:15کیونکہ باغات باغ میں طور کوئی نہیں آتا
16:23دیکھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
16:25نے بھی تو ہمیں
16:25یہاں رہنے کی اجازت دی تھی
16:27تو عمر فاروق نے پھر دلیل بیان کی
16:29کہ نہیں تم اب یہاں نہیں رہ سکتے
16:30اور ان کو نکال دیا
16:32اور قصاص کیوں نہیں لیا
16:34ان کو سزا کیوں نہیں جاری کی
16:35وہ اس وجہ سے علماء کہتے ہیں
16:37کہ حضرت ابن عمر اندھیرے میں سو رہے تھے
16:40جب حملہ ہوا
16:41یہ تو کنفرم تھا
16:42کہ یہ ان میں سے کوئی لوگ ہیں
16:43لیکن کون ہیں
16:44خاص ان کے نشاندہی نہیں تھی
16:46اس لئے عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے
16:49ان میں کسی کو سزا نہیں دی تھی
16:51یہ پسمندر اب ہے
16:52اب اس کو دیکھئے ذرا
16:55حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ انہوں میں بیان کرتے ہیں
16:58کہ جب اہل خیبر نے ان کے ہاتھ پیر توڑ ڈالے
17:02یعنی آپ نے تو یہ الفاظ بیان کی
17:05انہیں توڑ ڈالنے کے قریب ہو گئے
17:06مور دیا بہت ہی مارا
17:08تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ انہوں نے
17:11کھڑے ہو کر خطبہ دیا
17:13پس ارشاد فرمایا
17:14کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
17:17خیبر کے یہودیوں سے ان کے اموال
17:19یعنی باغات پر کھیتی باڑی کا معاملہ تیہ کیا تھا
17:24تو اب میں بڑی معذرت چاہتا ہوں
17:26کیونکہ ٹائم ہمارا کم ہو گیا ہے
17:27ختم ہو گیا انشاءاللہ نیکس پرگرام میں
17:29حدیث کو کمپلیٹ کریں گے
17:30اور اس پر تفسر کریں گے
17:32آپ ضرور دیکھئے
17:33اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق عطا فرمائے
17:34آمین

Recommended