Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:29بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30صلی اللہ علیہ وسلم مدینے سے نکلے
00:31مکہ کے قریب پہنچے
00:33اور پھر کفار نے
00:35عروہ بن مسعود کو بھیجا
00:37سرکار نے پہلے پیغام بھیجا
00:39بدیل کے ذریعے کہ ہم لڑنے کے لئے
00:41نہیں آئے میں آپ سے صلاح کر لیتا ہوں
00:43اور یہ تمہارے لئے فائدہ مند ہے
00:45اور اس میں تفصیلی کلام ہے
00:47اگر آپ دیکھنا چاہیں تو پیشلے پروگرام
00:49یوٹیوب پہ ڈلے ہوں گے
00:51ایروائی کا آپ چینل
00:53دیکھ لیجئے گا اس میں انشاءاللہ آپ کو مل جائیں گے
00:57تو
00:58اس پر بدیل کی بات سن کر
00:59عروہ بن مسعود نے کہا کہ میں جاتا ہوں
01:02میں ذرا جا کے بات کرتا ہوں
01:03اس نے آ کے جو مشاہدہ کیا جو گفتو کی
01:05اس نے جا کے سب قریش کو بتایا
01:07کہ ان کی پیشکش نیک ہے
01:09اور صحابہ اکرام جو ہیں وہ تو ان کا لعاب دہنے
01:12اقدر زمین پر نہیں گرنے دیتے
01:13وضو کا پانی نہیں ٹپکنے دیتے
01:15زمین کے اوپر ہاتھ پہ لے کے مل لیتے ہیں
01:17تو کہنے کا مطلب یہ تھا
01:18کہ ایسی تعظیم کرنے والے میں نے حضرات نہیں دیکھے
01:21اور جو اپنے بڑے کی اتنی تعظیم کرتے ہوں
01:24وہ کیسے پسند کریں گے
01:25ان کو کوئی تکلیف پہنچے
01:26یعنی وہ جماعت جانے قربان کر دے گی
01:30اس کے بعد
01:31ایک اور شخص آیا
01:33اور اس نے وہ قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتا تھا
01:37تو سرکار نے قربانی کے جانور آگے کروائے
01:39اور صحابہ نے
01:41تلبیہ پڑھا
01:42جس سے اس کو بھی یقین ہو گیا
01:43کہ جنگ کرنے نہیں آئے
01:45بلکہ یہ تو خالی عمرہ کرنے کے لئے آئے
01:48تو اس نے جا کر
01:49اس شخص نے جا کر یہی کہا
01:50کہ میں نے قربانی کے اونڈ دیکھے
01:53ان کو ہار ڈالے ہوئے تھے
01:54اور ان میں اشعار کیا ہوا تھا
01:56یہ میں نے آپ کے بتایا تھا
01:57کہ وہ گلوں میں ہار ڈال دیا کرتے تھے
01:59جانوروں کے
01:59یہ قربانی کے جانور کی علامت تھی
02:02اور یا اس کے کوہان کو تھوڑا سا چیر دیا جاتا تھا
02:05تو اس نے کہا میں گواہی دیتا ہوں
02:06کہ واقعی
02:07وہ تو عمرے کے لئے آئے ہیں
02:08قربانی کے جانور ان کے ساتھ ہیں
02:10پھر اس نے کہا
02:11پس میں نہیں سمجھتا
02:12کہ ان لوگوں کے بیت اللہ کی زیارت سے روکا جائے
02:15پھر ان میں سے ایک اور شخص کھڑا ہوا
02:16جس کا نام مکرز بن حفظ تھا
02:20اس نے بھی کہا
02:21کہ مجھے بھی ان کے پاس جانے دو
02:22میں بھی جا کے ذرا مشاہدہ کروں
02:24قریش نے کہا
02:25ٹھیک ہے تم بھی ان کے پاس جاؤ
02:27جب اس نے گردن اٹھا کر
02:29مسلمانوں کی طرف دیکھا
02:30تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
02:32کہ یہ مکرز ہے
02:34اور یہ فاسق و فاجر آدمی ہے
02:37یعنی بہت برا آدمی ہے
02:38بدماش آدمی ہے
02:39سرکار نے فرمایا
02:41پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا
02:43پس جس وقت وہ آپ سے باتیں کر رہا تھا
02:46اچانک سحیل بن عمر آ گیا
02:50تو یہ سحیل بن عمر نے
02:52جب آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے
02:55اس کو دیکھ کر کچھ فرمایا
02:57پہلے اس پر دیکھ لیجئے
02:58کہ سرکار نے فرمایا
03:00نکرز کے بات میں
03:01کہ یہ ایک بدماش آدمی ہے
03:03فاسق و فاجر آدمی ہے
03:04اس کا مطلب یہ ہوا
03:06کہ کافر کی غیبت نہیں ہوتی
03:08یہ ایک سری حدیث ہے
03:10اس کے اوپر
03:10ویسی بھی سرکار صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہد فرمایا
03:13کہ تم فاسق و فاجر کے ذکر سے ڈرتے ہو
03:16تم جو اس کے اندر
03:17الانیہ طور پر دیکھو
03:18اس کو بیان کر دو
03:19تاکہ لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں
03:22تو اس لئے جو الانیہ طور پر گناہ کر رہا ہو
03:24اس کے اس الانیہ والے گناہ کی
03:27جو آن سب کے سامنے کر رہا ہے
03:29اس کو پیٹ پیچھے بیان کر دینا
03:30یہ غیبت میں شامل نہیں ہوتا
03:33جیسے کوئی الانیہ شراب پیتا ہے
03:34تو ہم کسی دوستوں سے بات دیکھنا
03:36ہم کہتے ہیں وہ تو شرابی ہے
03:37تو یہ غیبت میں شامل نہیں ہوگا
03:39کیونکہ اس کو خود حیاء شرم نہیں ہے
03:41سرکار نے فرمایا
03:42جس نے حیاء کا پردہ اپنے چیرے سے ہٹا دی
03:44اس کی غیبت نہیں ہے
03:45تو جب اس کی نہیں ہے
03:47تو کافر کی تو بدرجہ اولہ نہیں ہے
03:49لہذا کافر کی برائی اگر آپ پیٹ پیچھے بیان کریں
03:51تو اس میں گناہ کا کوئی تصور نہیں
03:53اور اس کو یہ کہہ سکتے ہیں
03:54کہ یہ جائز غیبتوں میں سے ہے
03:56اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے
03:57کیونکہ رحمت کونین
03:58صلی اللہ علیہ وسلم نے
04:01از خود ایسا فرمایا
04:03اب سحیل بن عمر آیا
04:04ان کی طرف سے
04:06سحیل یہ سہل سے نکل آیا
04:08اور سہل کے مطلب ہوتا ہے آسانی
04:10تو جب یہ سحیل بن عمر آیا
04:13تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
04:15کہ اللہ تعالی نے تمہارے معاملے کو آسان کر دیا ہے
04:20سہل کر دیا ہے
04:22اس سے یہ نتیجہ نکلا
04:23علماء نے اس پر تفسر یہ کیا
04:25امدت القاری آپ پڑھیں
04:26بدر الدین اینی
04:27الرحمت اللہ علیہ نے جو بخاری کی شرح لکھی ہے
04:30امدت القاری آپ نے اس سے یہ نتیجہ مرتب کیا
04:32کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:34اچھی چیزوں سے نیک فعل لیا کرتے تھے
04:37تو بس یہ یاد رکھیے گا کہ ہمارے مذہب اسلام میں
04:40نہوست کو کوئی تصور نہیں
04:42کسی سے بدفالی لینا جائز نہیں ہے
04:45جیسے کوئی کہتا ہے
04:46یا کالی بلی راستہ کار جائنا
04:47وہ کام خراب ہوگا
04:49یہ آپ بدفالی لے رہے ہیں
04:51بلکہ شرن جائز نہیں ہے
04:53ماد اللہ بعض لوگ کہتے ہیں
04:54جب سے تیری شکل جب بھی دیکھ لینا
04:56دن خراب ہو جاتا ہے
04:57ماد اللہ ثمہ ماد اللہ
04:59ایک تو بیچارے کی دلازاری
05:01اور دوسرا آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں
05:03کہ وہ منحوس ہے
05:04بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں
05:05کہ جب کوئی شادی کرتے ہیں
05:07بہو گھر میں آتی ہے
05:08تو نقصانات ہونا شروع کر دیتے ہیں
05:10ہو جاتے ہیں فرض کر لیں
05:11تو کہتے ہیں یہ جب سے یہ منحوس گھر میں آئی ہے
05:14یہ نقصان ہو رہا ہے
05:16بھائی کیا کر رہے ہیں آپ
05:18اس لئے بدفالی کا کوئی تصور نہیں ہے
05:21نحوست کو کوئی تصور نہیں ہے
05:22کوئی کہتا ہے میرے لئے جانور منحوس
05:25جس کو گھر سے نکالو
05:26نہیں بلکل کوئی نہیں
05:27ہاں نیک فالی لینا جائز ہے
05:29کہ آپ یہ کہیں
05:30کہ جب بھی میں اس شخص کا چیرہ دیکھتا ہوں
05:32اللہ مجھے کوئی نوکہ برکت عطا فرماتا ہے
05:34بلکل ٹھیک ہے ہو سکتا ہے
05:35یہ خوش شگونی جس کو کہا جاتا ہے
05:40یہ میرے آقصف اللہ علیہ وسلم کی سنت کریمہ ہے
05:43تو آپ نے سحیل بن عمر کو دیکھا
05:45سحیل سحل سے بنایا
05:47سحیل کے مطلب آسانی کرنا آسان ہونا
05:49تو آپ نے ایک اچھا نتیجہ نکالا
05:51آپ نے فرمایا کہ یہ سحیل ہے
05:54اور اللہ نے تمہارے معاملے کو آسان کر دیا ہے
05:58سحیل بن عمر آئے تو اس نے کہا
06:00کہ لاؤ میں ہمارے اور تمہارے درمیان
06:03ایک معاہدہ لکھ دوں
06:04نتیجہ کیا نکلا
06:06بیس سے کچھ باتیں نہیں ہیں جیسے
06:07اس کا مطلب ہے جو آنے والے آئے تھے
06:09انہوں نے سب نے جا کر
06:11ایک مصبت پیغام دیا
06:13کہ صلح کرنے میں بہتری ہے
06:15تو انہوں نے پھر سحیل بن عمر کو بھیجا
06:18کہ تم جا کر ٹھیک ہے معاہدہ کر لو
06:21اب یہ سحیل بن عمر آیا
06:23اور اس نے کہا
06:24کہ لاؤ ہمارے اور تمہارے درمیان
06:26معاہدہ لکھ دوں
06:27تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے
06:29کاتب کو بلایا
06:30پس رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
06:34لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم
06:37تو سحیل نے کہا
06:39کہ بہرل رحمان کا لفظ
06:42میں نہیں جانتا کہ اس کا کیا معنی ہے
06:43یعنی ان کے ہاں رحمان کا لفظ معروف نہیں تھا
06:47اس لئے ابو جہل نے جب ایک دفعہ
06:49رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے
06:52اس طرح سنا
06:52تو اس نے کفار سے کہا
06:54کہ یہ دو خداوں کی پوجہ کرتے ہیں یہ
06:56دو خداوں کو مانتے ہیں
06:58ہم بھی ایک سے زیادہ مان لے تو کیا ہے
07:00وہ دو خدا کون ہیں
07:01ایک اللہ ایک رحمان
07:02تو قرآن نے خود اس کا رد کیا
07:04کہ یہ اللہ اور رحمان کوئی الگ الگ نہیں ہیں
07:06تو اس طرح اس نے کہا
07:07کہ رحمان کو تو میں نہیں جانتا
07:09اللہ کا ذکر کرو صرف
07:11تو اس نے کہا
07:12سرکار نے جب فرمایا
07:14کہ لکھو بسم اللہ الرحمن الرحیم
07:16تو سوحیل نے کہا
07:16کہ رہا رحمان
07:17تو بہرحال
07:18اس کو تو میں نہیں جانتا
07:20اس کا کیا معنی ہے
07:21لیکن لکھو
07:21بسم اللہ
07:24تیرے نام کے ساتھ
07:26اے اللہ
07:26اس کا لفظی ترجمہ یہ ہے
07:28اور کہا
07:29کہ اسی طرح آپ پہلے لکھتے تھے
07:31اب بھی آپ ایسے لکھیں
07:32تو اس نے کہا
07:33جس طرح تم پہلے لکھتے تھے
07:34مسلمانوں نے کہا
07:35کہ ہم صرف بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھیں گے
07:38اب ادھر بھی جوش والے لوگ موجود تھوں
07:40انہوں نے کہا
07:41کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے
07:41ہم تیری بات مان لیں
07:42ہم تو بسم اللہ ہی لکھیں گے
07:44تب رحمتِ قرآن
07:46صلی اللہ الرحیم نے فرمایا
07:47بسم اللہ
07:49لکھ دو
07:50یہ ہوتی ہے
07:51دیکھیں زبردست حکمت
07:52کہ اللہ کا نام تو چھوڑنے کا نہیں کہہ رہا نا
07:55اس نے یہ تو نہیں کہا
07:56کہ بتوں کا نام شامل کرو
07:58اگر یہ ہوتا
07:58تو رحمتِ قرآن
07:59کبھی بھی اس بات پر صلح نہ فرماتے
08:01تو رحمتِ قرآن
08:02صلی اللہ علیہ وسلم
08:03اصل میں
08:04مستقبل کو دیکھ رہے تھے
08:06کہ ایک دفعہ صلح ہو جائے
08:07یہ انہی کے گلے کا ہار بنے گی
08:09اور مسلمانوں کی ترقی کا سبب بنے گی
08:12کوئی بھی ایسی چیز
08:14کہ اگر ہم اس میں زد کریں گے
08:16جو بظاہر
08:17مطلب اتنی امپورٹنٹ نہیں ہے
08:20اس موقع اور محول کے اعتبار سے
08:21اس سے نقصان ہو جائے گا
08:23اور پھر اس کا نتیجہ
08:25ٹھیک نہیں نکلے گا
08:27یہ ہوتا ہے بردباری
08:28یہ ہوتی ہے سمجھداری
08:30یہ ہوتی ہے
08:31اسے کہتے ہیں
08:31معاملہ فہمی
08:33کہ بساوقات
08:34آدمی اپنے مدد مقابل کی
08:37کچھ باتیں قبول کر لیتا ہے
08:38مان لیتا ہے
08:39سرنڈر کر جاتا ہے
08:41صرف اس وجہ سے
08:42کہ اس میں کوئی اتنی بڑی
08:43کوئی شرع خرابی بھی نہیں ہوتی
08:44اور معاملہ بگڑنے سے رک جاتا ہے
08:47اس لئے خدارہ
08:48یا تو ہم اتنے معاملہ فہم بنے
08:50کہ اس طرح کی
08:51جو ہم ہمارے بڑے فیصلہ کر رہے ہوں
08:53اس کو سمجھنے کے صلاحیت
08:55ہمارے اندر پیدا ہو جائے
08:56ہم اس قابل ہو جائیں
08:58اور اگر ایسا نہیں ہے
09:00تو ہونٹ بند
09:01ہاں یہ
09:02اس کو میں بنا نہیں کر رہا
09:03کہ آپ
09:04اپنی رائے کا اظہار کریں
09:06ایک ہوتا ہے
09:07رائے کا اظہار کرنا
09:09ایک ہوتا ہے
09:10مشورہ دینا
09:11اور ایک ہوتا ہے
09:13اپنی بات کو منوانا
09:16منوانا ٹھیک نہیں ہے
09:17نہیں نہیں ایسا نہیں
09:18ایسے ہونا چاہیے
09:19اور نہ مانے تو چھوٹے ناراض ہو جائیں
09:21غلط بات ہے
09:22آپ یہ کہیں
09:23میری رائے یہ ہے
09:24اگر مناسب لگے قبول کر لیں
09:25ورنہ میں آپ کے ساتھ ہوں
09:28یہ میرا مشورہ ہے
09:29اگر مناسب لگے قبول کر لیں
09:30ورنہ جیسے آپ کریں
09:32یہ ہے بہترین چیز
09:33لیکن ہمارے ہاں
09:34ہر ایک جو ہے وہ
09:35ایک ڈیرڑ انچ کی مسجد
09:36لے کے لیدہ بیٹھا ہوا ہے
09:38جس کو دس پانچ آدمی مل جائیں
09:40تو وہ کسی اور کی
09:41تعظیم کرنے
09:42اور اس کی بات سمجھنے کے لئے
09:43تیار نہیں ہوتا
09:44اس لئے آپ دیکھیں
09:45گھروں کے اندر اس کی مثال لے لیں
09:47کہ بڑے بعد اوقات
09:48بڑی بردباری کے ساتھ
09:50فیصلہ کر رہے ہوتے ہیں
09:51پھر یہ ناراض نہ ہو جائے
09:52وہ ناراض نہ ہو جائے
09:53اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے
09:54اس سے وہ فائدہ ہوتا ہے
09:55اس ناراض ہو کہ یہ نقصان ہوگا
09:57لیکن اولاد جب جوان ہو جاتی ہے نا
09:59تو وہ سمجھتی ہے
10:00کہ ہمارے والدین بوڑے ہو گئے ہیں
10:02اور ان کا ذہن سے ہی کام نہیں کر رہا
10:05ہم ان سے سمجھ دا رہے ہیں
10:06زیادہ پڑے لکھیں
10:07یہ پھر اوٹ پٹانگ فیصلے کرتے ہیں
10:09اور پورے خاندان کا بڑا غرق کروا دیتے ہیں
10:11اس لئے سوچنا چاہیے
10:13یہ سمجھتا چاہیے
10:14تو صحابہ اکرام بڑے معاملہ فہم تھے
10:17صحابہ اکرام کوئی مادلہ
10:19ہماری طرح کم علم نہیں تھے
10:21انہوں نے اپنی دانشت میں
10:23تو ایک صحیح پہلے بات کہی
10:24بسم اللہ الرحمن الرحیم ہم کیوں نہیں لکھیں
10:26لیکن جب سرکار نے فرمایا
10:28کہ نہیں جو یہ کہہ رہے ہیں
10:29بسم اللہ لکھ دو
10:31تو کیا صحابہ نے زد کی
10:32نہیں کی
10:33بلکہ وہ خاموش ہو گئے
10:35پھر آپ نے فرمایا
10:36کہ یہ وہ
10:36آپ سرکار آگے عملہ کروا رہے ہیں
10:38کاتب کے لکھو
10:39کہ یہ وہ معایدہ ہے
10:41جس پر محمد
10:42رسول اللہ نے
10:43رسول اللہ نے
10:45صلح کی ہے
10:46اس پر سحیل نے کہا
10:48اللہ کی قسم
10:49اگر ہم کو یہ یقین ہوتا
10:50کہ آپ اللہ کے رسول ہیں
10:51تو ہم آپ کو
10:53بیت اللہ کی زیارت سے
10:54نہ روکتے
10:55اور نہ آپ سے جنگ کرتے
10:57تو یہ آپ کا
10:59ہم یہ بھی نہیں مانیں گے
11:00کہ آپ یوں لکھیں
11:01کہ محمد رسول اللہ
11:04لہٰذا لیکن یوں لکھو
11:05کہ محمد بن عبداللہ
11:08یہ لکھیں آپ اس میں
11:09تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
11:11نے اشارت فرمایا
11:12کہ اللہ کی قسم
11:13بے شک میں
11:13اللہ کا رسول ہوں
11:15اگرچہ تم لوگوں نے
11:16مجھے جھٹلایا ہے
11:17پھر کاتب سے فرمایا
11:19کہ محمد بن عبداللہ
11:21ہی لکھ دو
11:21کوئی مسئلہ نہیں
11:22کیونکہ دیکھیں
11:23اس میں بھی کوئی
11:24توہین کا پہلو نہیں تھا
11:25اس میں کوئی
11:26کفری شرک کی
11:27تائید نہیں تھی
11:28صرف اتنا
11:29کہ رسول اللہ
11:30نہیں لکھنا
11:30وہ تو پہلے ہی نہیں مان رہے
11:31تو محمد بن عبداللہ
11:33لکھ دو
11:33کوئی مسئلہ نہیں ہے
11:35اور اس کی وجہ یہ تھی
11:36کہ آپ نے فرمایا تھا
11:37کہ قریش جب بھی
11:38مجھ سے کسی
11:39ایسے عمر کا سوال کریں گے
11:40جس میں وہ
11:41اللہ کی حرومات
11:43کی تعظیم کریں گے
11:44تو میں ان کو
11:45وہ عمر عطا کر دوں گا
11:47جنہوں نے
11:48ہمارے پہلے کے پوریم دیکھیں
11:49آپ کو یاد ہوگا
11:50جب سرکار مدینے سے
11:51نکلے تھے
11:52تو ایک مقام پہ پہنچے
11:53تو قصوہ اونٹنی
11:53آپ کی بیٹھ گئی تھی
11:54اور اٹھ نہیں رہی تھی
11:56اس وقت سرکار صلی اللہ علیہ وسلم
11:58نے یہی جملہ فرمایا
11:59تو وہ اونٹنی
12:00پھر آپ کی ڈانٹ سے اٹھی
12:01اور چل پڑی
12:02اور رحمت کونین
12:03صلی اللہ علیہ وسلم
12:04نے جب صاحب نے
12:05اس کو اٹھانا چاہا
12:06تو یہی فرمایت ہے
12:06کہ یہ بیٹھی نہیں ہے
12:07اس کو اللہ نے بٹھایا
12:09اور پھر سرکار نے
12:10یہ جملہ فرمایا
12:11کہ اگر میں کوئی معایدہ کرتا ہوں
12:13تو جب تک وہ
12:14اللہ تعالیٰ کے
12:15حرمات کی تعظیم کریں گے
12:17یعنی کوئی تحقیل کی بات نہیں ہوگی
12:19اپنے بتوں کی
12:20کفر کے شرکی
12:21تو میں ان کی
12:21عطا کرتا رہوں گا
12:22ان کی بات مان لوں گا
12:23یہ یہاں پر ہوا
12:26تو راوی کہتے ہیں
12:27کہ جب سرکار نے فرمایا
12:29کہ محمد بن عبداللہ لکھ دو
12:31تو راوی یہ کہتے ہیں
12:32کہ اس کی وجہ یہ تھی
12:33کہ آپ نے فرمایا تھا
12:34کہ قرآن جب بھی
12:35مجھ سے کسی ایسے
12:36عمر کا
12:37یعنی ایسے معاملے کا سوال کریں گے
12:38جس میں وہ اللہ کی حرمات کی
12:40یعنی قابل احترام چیزوں کی
12:42تعظیم کریں گے
12:43تو میں ان کو وہ چیز
12:45عطا کر دوں گا
12:46تب رحمت کونین
12:48صلی اللہ علیہ وسلم
12:48نے اشارت فرمایا
12:49اب اس کے بعد
12:51مزید لکھا رہے ہیں سرکار
12:52کہ یہ صلح اس پر ہے
12:53کہ تم ہمارے کعبہ کے درمیان
12:56تخلیہ کر دو گے
12:57تخلیہ کا مطلب
12:58خلوت ہڑ جاؤ گے
12:59ہم جائیں گے کعبت اللہ تک
13:01پس ہم کعبہ کا تواف کر لیں
13:04پھر سحیل نے کہا
13:05کہ اللہ کی قصب
13:06عرب یہ باتیں نہ کریں
13:08کہ ہم سے جبرن یہ معاہدہ کرایا گیا
13:10لیکن یہ کام آئندہ سال ہوگا
13:13یعنی سحیل بن عمر نے کہا
13:15کہ اگر میں اسی سال آپ کے لئے اجازت دے دوں
13:17تو ایسا محسوس ہوگا
13:18کہ جبرن یہ بات ہوئی ہے
13:20اور سرکار نے جبر کر کے آپ آئے ہیں
13:22تو ہمارے لئے عربوں کو جواب دینا مشکل ہوگا
13:24لہذا اس سال آپ واپس جائیں گے
13:26اگلے سال آپ آ جائیں
13:28تاکہ ہماری بات اوچھی ہو جائے
13:30کہ دیکھو ہم نے آنے نہیں دیا
13:33پس یہ لکھ دیا گیا
13:36پر سحیل نے کہا
13:37اور یہ صلح اس شرطر ہے
13:39کہ ہم میں سے جو مرد آپ کے پاس آئے گا
13:41خواہ وہ آپ کے دین پر ہو
13:43مسلمان ہو چکا ہو
13:45آپ اس کو ہماری طرف واپس کریں گے
13:49اب جب انہوں نے یہ
13:50اس نے یہ بات کہی
13:51تو مسلمان تو نراز ہو نہیں تھا
13:54تو جب اس نے یہ بات کہی
13:56تو مسلمانوں نے کہا
13:57سبحان اللہ وہ مرد کیسے
13:59مشرقین کے طرف واپس کیا جائے گا
14:00جبکہ وہ مسلمان ہو کر آیا ہے
14:03جس وقت ان کے درمیان
14:04یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں
14:06کہ اچانک حضرت ابو جندل
14:08بن سحیل بن عمر
14:10اپنی ایڑیوں کو
14:12گھسیٹتے ہوئے آ گئے
14:14یعنی یہ انہی کے سابزادے تھے
14:16اور وہ مسلمان ہو گئے تھے
14:18اور ان کو بڑا ظلم و شتم کیا گیا تھا
14:20ان کو زنجیروں سے باندھا ہوا تھا
14:22وہ کسی طرف نے زنجیدے لے
14:24وہاں سے کھول کر
14:25گھسیٹتے ہوئے
14:26یہاں پر آ گیا
14:27معایدہ کیا ہو چکا ہے
14:28کہ مسلمان مرد کو واپس کرنا ہے
14:31عورت کو نہیں
14:31مرد کو واپس کرنا ہے
14:32اور وہیں ابو جندل آ گیا
14:35وہ مکہ کے نچلے حصے سے نکلے
14:37اور انہوں نے خود کو
14:38مسلمانوں کے درمیان ڈال دیا
14:40تب سحیل نے کہا
14:41کہ اے محمد
14:42یہ پہلا شخص ہے
14:44جس کے لئے میں معایدے کے مطابق
14:45مطالبہ کرتا ہوں
14:46کیا آپ اس کو ہمیں واپس کر دیں
14:49نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
14:52کہ ابھی تک ہم نے معایدہ
14:53مکمل تو نہیں لکھا ہے
14:55تو ابھی تو ہم رکھ سکتے ہیں
14:57اس نے کہا
14:58کہ اللہ کی قسم پھر میں
14:59آپ سے کبھی بھی
15:01کسی بات پر صلاح نہیں کروں گا
15:04بس اس نے کہا
15:05جو بات آگئی ہے
15:06اس پر عمل ہوگا ابھی
15:08تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
15:10کہ اچھا میری خاطر
15:11اس کو اجازت دے دو
15:12اس کو تو اجازت دے دو
15:14میری خاطر
15:14اس نے کہا
15:16کہ میں اس کو آپ کی خاطر بھی اجازت نہیں دوں گا
15:20آپ نے فرمایا
15:21کہ کیوں نہیں
15:22تم ایسا کر لو
15:23اس نے کہا
15:24کہ نہیں
15:24میں ایسا نہیں کروں گا
15:26مکرس نے کہا
15:27کیوں نہیں
15:27We make them apart put it.
15:30Adalatai abu-jandla had said that
15:32Isamu was passed by my Muslims.
15:33Meaning Mikras had said that
15:35But Moh Anwar had not passed it.
15:38Adalatai abu-jandla had said that
15:40Isamu was passed by my Muslims.
15:43I can only be Muslim.
15:45I believe that you have been with us.
15:46I have no idea that I have to be.
15:49I am not afraid to be.
15:51And I am to Allah I'm in the midst of faith.
15:55Raviyah کہتے ہیں
15:56اور ان کو
15:56اللہ پر ایمان لانے کے وجہ سے
15:58بہت سخت عذاب دیا گیا تھا
16:01Raviyah نے بتایا
16:02کہ حضرت عمر بن خطاب نے کہا
16:04کہ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا
16:06پس میں نے کہا
16:08کہ کیا آپ
16:09اللہ کے برحق نبی نہیں ہیں
16:12آپ نے فرمایا کیوں نہیں
16:15عمر فاروق کہتے ہیں
16:16پھر میں نے کہا
16:17کہ کیا ہم حق پر ہو
16:18اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں ہیں
16:20سرکار نے فرمایا کیوں نہیں
16:22پھر میں نے کہا
16:24کہ پھر ہم نے اپنے دین کے معاملے میں دباؤ کو کیوں اختیار کیا
16:28حضرت عمر فاروق جو شیل آدمی تھے
16:32اور آپ چاہتے تھے کہ ہم اس طرح دباؤ میں رہ کے قبول نہ کریں
16:36لیکن اللہ اور اس کے رسول ہی اس کی حکمتوں کو جانتے تھے
16:41سرکار اشارت فرمایا کہ میں اللہ کا رسول ہوں
16:43اور میں اس کی نافرمانی نہیں کرتا
16:45اور وہ میری مدد فرمانے والا ہے
16:47عمر فاروق کہتے ہیں
16:49میں نے کہا کہ کیا آپ ہم سے ہی نہیں فرماتے تھے
16:52کہ ہم ان قریب بیت اللہ جا کر اس کا تواف کریں گے
16:56یہ سرکار کوئی خواب آیا تھا
16:58جو سرکار نے صحابہ کے سامنے پیش کیا
17:00کہ مجھے دکھایا گیا ہے کہ میں کعبت اللہ کا تواف کر رہا ہوں
17:04تو مرے فاروق کہنے لگے کہ ہم نے تو آپ کا خواب سنا ہے
17:07تو تواف کیوں نہیں اگلے سال کیوں
17:09اس کا جواب سرکار دیں گے
17:11لیکن انشاءاللہ ہم اس کو ذکر کریں گے
17:14نیکس پروگرام میں
17:15اور میری درخواست ہے کہ آپ خود بھی اس کو دیکھیں
17:18دوسروں کو ترغیب دیں
17:19اللہ عمل کی توفیق تک فرمائے
17:20آمین وآخر دعوانا
17:22ان الحمدللہ رب العالمين

Recommended