Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30تو اس کو وسیت سے تعبیر کرتے ہیں
00:31یہ مختلف ہو سکتی ہیں
00:34وسیتیں ایک مالی وسیت ہوتی ہے
00:36عمومین وسیت جو ہے وہ مال کے ساتھ
00:38ہی منصوب کر دی جاتی ہے
00:39یہ وسیت کر کے فوتویں ہیں
00:40یعنی میرا مال فلا فلا جگہ دے دیا جائے
00:44شروع اسلام کے اندر
00:46وسیت کرنا فرض تھا
00:48کہ کوئی مرنے سے پہلے
00:50وسیت ضرور کرے گا
00:51اور اس وسیت کے مطابق ہی مال تقسیم ہوتا تھا
00:54تو جتنی حدیثوں کے اندر
00:56وسیت کے آپ کو تلقین نظر آئے گی
00:58سمجھ لیجئے وہ شروع اسلام کی ہیں
01:00لیکن جب وراست کے احکام نازل ہو گئے
01:03اللہ تبارک و تعالی نے
01:05مرنے والے کے مال کو
01:07خود تقسیم فرما دیا
01:09اور فرما یہاں یہاں دینا ہے
01:11تو اب یاد رکھیں
01:12کہ وسیت کی فرضیت ختم ہو گئے
01:15ہاں اب مستحب ہے وسیت کرنا
01:18تو اگر آپ اپنے مال میں وسیت کریں گے
01:20تو یہ بھی ذہن میں رکھیں
01:22کہ آپ کے مال میں وسیت جاری ضرور ہوگی
01:26لیکن ون تھرڈ میں
01:28پورے مال میں نہیں
01:29مثال کے طور پر کسی کی بیوی بچے ہیں
01:31لیکن اس نے وسیت کر دی
01:32میں مروں تو سارا مال میرا دین کے کام میں لگا دیا جائے
01:36نہیں لگے گا
01:36اب مثال کے طور پر وہ دس کروڑ
01:38تیس کروڑ چھوڑ کے مرا ہے
01:41تو اس کے پہلے تہائی نکالیں گے دس کروڑ
01:44یہ دین کے کام میں استعمال ہوگا
01:45اور بیس کروڑ ورسا کو ملے گا
01:48چاہیے کہہ کر گیا ہو کہ برسا کو کچھ مت دینا
01:50اب اپنی مرضی نہیں چلے گی
01:52اب اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق تقسیم ہوگا
01:55اس سے ہماری وہ بہنیں درس حاصل کریں
01:57جی میں مر جاؤں
01:58یہ سونا کے سیٹ فلاں اس کو دے دینا
01:59میرا یہ سونا اس کو دے دینا
02:00یہ میرا سونا اس کو دے دینا
02:02آپ کون ہوتے ہیں کرنے والے
02:03یہ پہلے بھی اللہ کا مال تھا
02:05جو آپ کو عارضی طور پر استعمال کے لئے دیا تھا
02:07اور آپ مر گئے
02:07تو بس اب تو اللہ کے مرضی سے تقسیم ہوگا
02:10لیکن غلط تقسیمیں کر کے چلے جاتے ہیں
02:12اور اپنے آخرت کا وبال اپنے سر پر لیتے ہیں
02:15تو ایک چیز تو یاد رکھیں
02:17کہ اگر کوئی وسیعت کرے گا
02:19تہائی مال سے پورا ہوگا
02:20ون تھڑ سے
02:21اب اگر فرض کر لیں
02:23کہ ون تھڑ پورا استعمال ہو گیا
02:24تو نہ لینا نہ دینا
02:26اگر اس نے وسیعت کی ہے
02:27ون تھڑ سے زائد کی
02:28تو اسے ون تھڑ استعمال کریں گے
02:30باقی سب وراثہ کا حق ہے
02:37اور ون تھڑ بھی ابھی بچ گیا
02:40مثال کے طور پر کہا تھا
02:41کہ بھئی میں مر جاؤں
02:43تو میرے مال سے ایک مسجد بنا دینا
02:44تو یہ ون تھڑ میں جاری ہوگی
02:46فرض کر لیں تیس کروڑ چھوڑ کے مرے
02:48دس کروڑ سے مسجد بنانی ہے
02:49لیکن مسجد بن گئی دو کروڑ میں
02:51زبردستی تو پیسہ نہیں لگا نا
02:52آٹھ کروڑ بچ گئے
02:53یہ پھر وراثہ کا حق بن جائے گا
02:56یہ ذہن میں رکھیں
02:57دوسرا اس میں ایک چیز اچھی ترہیاد رکھیں
02:59یہ سب آگے آ رہا ہے
03:00لیکن میں خلاصہ آپ کو ارز کر رہا ہوں
03:01کہ نبی کریم نے واضح فرمایا
03:03کہ لا وصیتا للوارث
03:06وارث کے لئے کوئی وصیت نہیں ہوتی
03:10لہذا ابھی جیسے میں نے ارز کیا
03:11کہ بعض لوگ کہتے ہیں
03:12میں مر جاؤں میرا فلان پلوٹ
03:13میرے فلان بچوں کو دے دینا
03:15دکان اس کو دے دینا
03:16مکان اس کو دے دینا
03:17بھائی آپ نہیں کر سکتے یہ
03:19آپ وارثوں کے لئے
03:20آپ کوئی وصیت کر سکتے ہیں
03:22آپ اپنی آخرت کی فکر کریں
03:24کہ میں اب مر رہا ہوں
03:25تو زندگی میں نے کتنے جھوٹ بولے تھے
03:27میں نے کتنی نمازیں قضا کی تھیں
03:29میں نے کتنے لوگوں کی دلازاریاں کی تھیں
03:32کتنوں کا مال کھا لیا تھا
03:34ہونا تو یہ چاہیے
03:35کہ اس فکر میں انسان دین کی فکر کرے
03:37وہ اپنے مال کی فکر کر رہے ہیں
03:39اور غلط اور غیر منصفانہ تقسیم کر کے
03:41جا رہے ہیں جس کو نبی کریم نے منع فرمایا
03:45تو لہذا فقہ حنفی کے روشتی میں
03:48حدیث کے مطابق وارث کے لئے
03:49وصیت تو نہیں ہوتی
03:50لیکن اگر کوئی کر کے چلا گیا فرض کر لیں
03:53تو تمام وہ رثہ کو حق حاصل ہے
03:56کہ چاہیں تو اس وصیت کو قائم رکھیں
03:58پھر ٹھیک ہے
04:00اس کو پھر کہتے ہیں صلح کرنا
04:03مثال کے طور پر والد نے کہا
04:04یہ پلوٹ میری ایک بیٹی کو دے دینا
04:06یہ دکان بیٹے کو دے دینا
04:08مکان میری بیوی کو دے دینا
04:10فوت ہو گئے
04:12جب اس کو دیکھ رہے ہیں والد صاحب نے وسیت کی ہے
04:14انہوں نے کہا چلو ٹھیک ہے ہم اس کو
04:16مان لیتے ہیں تو یہ وسیت نہیں مان رہے
04:18حقیقتا اس کو صلح کرنا کہتے ہیں
04:21کیونکہ جب
04:22مال چھوڑ کر گئے ہیں
04:23ان تمام وارثوں کا ہر قسم کے
04:26مال میں حق آ جاتا ہے
04:27مثلا ایک پلوٹ ہے تو سب کا حق اس پلوٹ میں بھی ہے
04:31دکان ہے تو سب کا حق
04:32اس دکان میں بھی ہے
04:34مکان ہے تو سب کا حق اس مکان میں بھی ہے
04:36تو وارث یہ کر سکتے ہیں
04:38کہ صلح کر لیں
04:39اس طرح کے سب کو تقسیم کرنے کے بجائے
04:42یعنی ہر چیز دکان بھی بیچیں
04:43مکان پلوٹ بیچیں
04:44اس سے بہتر یہ ہے
04:45کہ وہ کہیں کہ ہم یوں کر لیتے ہیں
04:47چلو دیکھو تم پلوٹ لے لو
04:48میں چونکہ کاروبار کر رہا ہوں
04:50میں دکان لے لیتا ہوں
04:51اور امی کو مکان کی ضرورت ہے
04:53وہ مکان لے لیں
04:54اگر اس طرح کر لیں تو ٹھیک ہے
04:55تو جب یہ بغیر وسیت کے اس طرح
04:57آپس میں کرنا صلح جائز
04:58تو اگر وسیت کر گئے
05:00اور اس کو صلح کر لیں
05:01آپس میں تو گنجائش نکل سکتی ہے
05:02لیکن اگر ایک بھی وارث کہتا ہے
05:04کہ نہیں میں اس وسیت کو نہیں مانتا ہوں
05:06میں تو شرعی طریقہ سے تقسیم کرواؤں گا
05:08تو پھر کرنا ہی پڑے گا
05:10پھر ان کی وسیت نہیں چلے گی
05:13تو علمیہ اس وقت پیدا ہوتا ہے
05:15خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے
05:17کہ ان شرعی مسائل کو کوئی بھی نہیں جانتا
05:19اور والد صاحب یا والدہ
05:21انتہائی غیر منصفانہ تقسیم کر کے چلے جاتے ہیں
05:25حالانکہ ان کو نہیں کرنا تھا
05:26یہ تو شریعت وراست تقسیم کروائے گی
05:28اور وہ بچے سمجھتے ہیں
05:29کہ ہم وسیت پر مجبور ہو گئے
05:31وہ کچھ بھی نہیں کر سکتے
05:32اور وہی ٹوٹی پوٹی کوئی چیز
05:33کسی کو کچھ دے دیا
05:35پانچ کروڑ کی دکان ایک بیٹے کو دے دی
05:37اور بیٹی کو پچاس لاکہ پراؤڈ دے دیا
05:39اتنی غیر منصفانہ تقسیم
05:42حالانکہ وراست کے اندر بچی کو
05:43زبردست قسم کا کروڑوں روپے ہی بن سکتا تھا
05:46لیکن وہ غلط تقسیم کر کے چلے گا
05:48اور اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کیا
05:51ناراض مت ہوئے گا
05:52اس لئے میں کہتا ہوں
05:53کہ زندگی میں تو اللہ کو راضی نہیں کر سکے
05:54اور مرتے وقت بھی غلط وسیعتیں کر کے
05:56اپنی آخرت کے بیڑا غرق کر کے چلے گئے
05:59تو میں ایسی اولادوں سے گزارش کرتا ہوں
06:01کہ آپ ہماری باتوں کا برا معنی بغیر
06:04یہ یاد رکھیں
06:04اگر والد یا والدہ غلط وسیعت کر کے گئے
06:07اس وسیعت کو پورا کرنا جائز نہیں ہوتا
06:10بلکہ آپ فوراں
06:11کسی اچھے مفتی صاحب سے رجوع کریں
06:13اور تمام مال ان کے سامنے ذکر کریں
06:16وارثوں کا ذکر کریں
06:17اور بتائیں کہ یہ مال ہم میں کس طرح تقسیم ہوگا
06:19وہ بتائیں گے اس کے مطابق تقسیم کریں
06:21اپنے بڑوں پر رحم کریں
06:23اب اگر بیس بیل فرض
06:25ابباجان نے ایک بیٹوں کا
06:27یہ پانچ کروڑوں کی دکان اس کی
06:28اور اس کو پچاس لاکھ کا
06:31اس کو بیس لاکھ کا
06:33تو پانچ کروڑوں والا
06:34اس کو وسیعت اتنی اچھی لگے گی
06:36وہ کہے گا ابباجان بیڑا غرق ہو جائے
06:38مجھے کوئی پرواہ نہیں ہے
06:39میں اسی وسیعت پر چلوں گا
06:42یہ کیا بات ہو گئی
06:43اگر انہوں نے آپ کے لئے زیادہ دیا ہے
06:45تو اس کرم کا تقاضی تو یہ ہے
06:47کہ آپ بھی ان کے ساتھ شفقت کریں
06:48اور آپ کہیں کہ میرے والد صاحب
06:50نادانی میں غلط وسیعت کر کے چلے گئے
06:52تو میں اس وسیعت کو پورا نہیں کرتا ہوں
06:54کیونکہ اگر میں کر کے اپنے بھائی بہنوں کا حق کھا گیا
06:56تو میرے والد کو عذاب ہوگا
06:58اور میں نہیں چاہتا
06:59لیکن نہیں
06:59آپ دیکھیں وہ تو ایسا شیر ہو جاتے ہیں
07:02کہ جی اببہ مجھے دے کر گئے
07:03میں کیسے آپ کو کرلوں
07:04سگے بہن بھائیوں کو
07:05ہمارے اتنے کیسز ہمارے پاس آتے ہیں
07:07لڑ رہے ہیں آپ اس میں
07:08بلکل جانوروں کی طرح
07:10خون سفید ہو گئے ہیں بلکل
07:12اور بڑا قصور کس کا ہے
07:14بڑوں کا
07:15کہ انہوں نے نہ دین سیکھا
07:16نہ صحیح طریقے سے نصیت وسیعت کی
07:19نہ یہ دیکھا کہ ہمارا اختیار
07:20کہاں تک رہتا ہے
07:21کہاں نہیں
07:21بیجا تصرفات کیے
07:23اور اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کیا
07:26مجھے امید ہے جو میرے بھائی بہن
07:28مجھے بیان سن رہے ہیں
07:29ہو سکتا ہے بہت سارے تو کردار ایسے ہی ہوں
07:31جو آپ کے گھر میں اس سے بھی تعلق رکھتے ہیں
07:34تو آپ خدارہ
07:36اگر فرض کر لیں
07:37کہ والد کو فوت ہوئے
07:38اور اس طرح کی غلط وسیعت پر عمل کرتے ہوئے
07:40پچاس سال گزر گئے
07:41اب ٹھیک کر لیں اس کو
07:42آنے والی نسلوں کے اندر یہ بیدت جاری نہ کریں
07:45ورنہ وبال شروع کرنے والے کے اوپر ہوتا ہے
07:48اس کو صحیح طریقے سے اس کو منیج کریں
07:50بہت ہی ضروری ہے
07:51تو خلاص کلام یہ ہے
07:53کہ پہلے شروع اسلام میں
07:55وسیعت کرنے کی تلقین تھی
07:58علماء فرماتے ہیں
07:59فرض تھی وسیعت کرنا
08:01لیکن جب وراست کے احکام نازل ہوئے
08:03تو وسیعت کا حکم خارج ہو گیا
08:06اب مستحبہ کرنا چاہیں کریں
08:08اور وہی ون تھڑ کے اندر جاری ہو گئے
08:10ایک آخری بات ارس کر دیتا ہوں
08:11کہ باہر کے بعض ملکوں میں
08:13ممالک میں
08:14وسیعت کر کے جانا
08:15ویل لکھوانا لازم ہوتا ہے
08:18ورنہ گورنمنٹ اپنے طور پر اس مال کو خرش کرتی ہے
08:20خالبا جرمنی کا یا اٹلی کا
08:22مجھے ایک آئیت
08:23انہوں نے اپنے ہاں کا
08:26کوئی رول بیان کیا تھا
08:28تو میں آپ کو اس میں سمجھا دیتا ہوں
08:30کہ اگر گورنمنٹ کے قانون کے تحت ایسا ہے
08:33تو آپ یہ کریں
08:34کہ سب سے پہلے
08:36ایک اپنے مال کے لئے شرعی فتوہ لے لیں
08:39کہ میرے یہ یہ وارث ہیں
08:40اگر میں آج مر جاتا ہوں
08:41تو یہ یہ میرے وارث ہیں
08:43میرا مال ان کے درمیان شرعی لحاظ سے
08:46کیسے تقسیم ہوگا
08:47جو آ جائے نا
08:48اسی کے مطابق اپنی ویل بنا لیں
08:52مثال کے طور پر
08:53فتوہ میں لکھا ہے کہ بیوی کو
08:54چونکہ اولاد موجود ہے
08:56تو آٹھوہ حصہ ملے گا
08:58تو آپ یہ لکھیں
08:59کہ بھئی جب میں مر جاؤں
09:00تو میری بیوی کو
09:01میرے کل مال کا آٹھوہ حصہ دے دیا جائے
09:04اس طریقے سے
09:05اب فرض کر لیں
09:06کہ آپ ابھی زندہ ہی تھے
09:07کہ کوئی وارث فوت ہو گیا
09:09دوبارہ فتوہ لے لیں
09:10کہ اگر کوئی ان میں سے فوت ہو گیا
09:11تو اب کیسے تقسیم ہوگا
09:13تو اس کا نیا فتوہ لے کے رکھ لیں
09:15اور اسی کے مطابق
09:16اپنی ویل تیار کر کے رکھیں
09:17جو بالکل شریعت کے مطابق ہو
09:19اور اگر آپ یہ سمجھیں
09:21کہ اس دنیاوی قانون کی وجہ سے
09:24چونکہ میں باہر رہتا ہوں
09:25اب شریعت اتنی معمولی ہو گئی ہے
09:27کہ اس کے حصص کو ہم چھوڑ دیتے ہیں
09:29اور اس کی تقسیم کو نظر انداز کر دیتے ہیں
09:32تو آپ کو اٹلی جرمنی نہیں بچائے گا
09:34وہاں کا قانون نہیں بچائے گا
09:36میدانِ معاشر میں
09:37شرعی تقسیم کا کوئسن ہوگا
09:39نہ کہ آپ کس ویل کے مطابق
09:41غلط تقسیم پر آپ کے درجات کی بلندی کا سامان ہوگا
09:44اچھی طرح توجہ رکھیں
09:46اب آجائیں باب کی طرح
09:48باب الوسائی و قول نبی صلی اللہ علیہ وسلم
09:51وسیعت الرجلی مکتوبتن عندہو
09:57وسیعتوں کا باب
09:58اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد
10:00کہ مرد کی وسیعت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے
10:06تو اس کے اوپر حدیث لے کر آئیں گے
10:09یہ آپ کو پہلی بتایا
10:11کہ پہلے دور میں ایسا ہوتا تھا
10:12کہ سرکار نے فرمایا
10:13کہ اپنے سرحانے وسیعت رکھو
10:15لیکن یہ منسوخ ہو گیا
10:16پہلے کے حساب سے ہے
10:17حدیث دیکھئی
10:18حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما
10:21بیان کرتے ہیں
10:22کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارت فرمایا
10:24جس شخص کے پاس
10:26کوئی وسیعت کے لائق چیز ہو
10:29اور وہ اس میں وسیعت کرنا چاہتا ہو
10:31اس کے لئے وسیعت لکھے بغیر
10:35دو راتیں گزارنا بھی جائز نہیں
10:39تو اب اس سے
10:41میں نے پہلے بھی نشان دہی کی تھی
10:42پھر ارز کر دیتا ہوں
10:45کہ آپ ایک حدیث پڑھ لیتے ہیں
10:47دو حدیثیں پڑھ لیتے ہیں
10:48اور اسی سے نتیجہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں
10:51اور ٹھوکر کھا لیتے ہیں
10:52میری سابقہ پوری تفصیل سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا
10:55کہ یہ حدیث تو منسوخ ہے
10:56وراست کے مسئلے کی وجہ سے
10:58وراست کے وسائل نازل ہوئے
11:00احکام تو یہ منسوخ ہو گئی
11:02اب یہ راتیں متعلق کر رکھنا کوئی لازم نہیں ہے
11:04لیکن اگر آپ
11:06یہ باتیں نہ جانیں
11:07آپ نے ڈیریک بخاری کی حدیث پڑھی
11:09یا کسی نے اس حدیث کو لے کر
11:12ایک پوسٹ بنا کر آپ کو بھیج دی
11:13تو آپ کہیں گے
11:14وصیت تو کرنا لازم ہے
11:16یہ مولوی لوگ بتاتے ہی نہیں ہیں
11:19یہ خرابی ہوتی ہے
11:20کہ جب آپ حدیثوں کو خود سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں
11:24اور یہ وہاں ہوگا
11:25ذرا کلک کرے گا آپ کے ذہن میں
11:27کہ جب آپ کوئی ایسی حدیث پڑھ لیں
11:29کہ امت کی اکثریت اس کے خلاف جا رہی ہو
11:32تو یاد رکھئے
11:33کہ اس حدیث کے اندر کوئی نہ کوئی تبدیلی ہوگی
11:36وہ یا تو منسوخ ہو چکی ہوگی
11:38یا اس سے قوی حدیث ہوگی
11:40جس پر امت عمل کر رہی ہے
11:41یہ نہیں ہو سکتا
11:43کہ کسی حدیث کے خلاف
11:44اللہ تعالیٰ پوری امت کو جمع کر دے
11:46لیکن چونکہ ہمارے اکثر
11:48یا ٹک ٹوکر بیٹھے ہوئے بیچارے
11:50جو دین کے اوپر کر رہے ہیں
11:52میں ان کے بارے میں کہہ رہا ہوں
11:53کہ معلومات زیادہ ہیں نہیں
11:55فوراں کوئی نئی چیز نکالی
11:57اور اس پر ایک مین ہیڈنگ ڈال دی
12:00مولویوں کی خیانت دیکھیں
12:01آج تک ہمیں نہیں بتایا
12:02اور یہ حدیث ڈال دی
12:04اب پڑھنے والا کہتا ہے
12:05واقعی یاری
12:06یہ حدیث تو ہمیں کبھی نہیں بتائی
12:08ارے بھائی منسوخ ہو چکی ہے
12:10تو بتائیں گے کیا آپ کو وہ
12:12لیکن ہم فوراں اس شخص کا بلیف کر کے
12:14اپنے علماء سے بھی بدزن ہوتے ہیں
12:16اور شریعت کی
12:18وہ بات
12:19جو خود شریعت ختم کر چکی ہے
12:21اسے شریعت بنا کے لوگوں کو بتا کے
12:23ان کا بیڑا غرق کر کے
12:24اپنی آخرت کی بربادی کا سامان کر رہے ہوتے ہیں
12:26اس لئے میں جتنے میرے بچے بچیاں
12:28بہن بھائی سن رہے ہیں
12:30جو اس طرح کی پوسٹے بنانے کے شوقین ہیں
12:32چاہتے ہیں کہ چلے دین سکھائیں
12:34خدارہ پہلے دین خود سیکھیں
12:36اس کا سلیقہ حاصل کریں
12:38تبلیغ کیسے ہوگی وہ سیکھیں
12:40اور یہ نہ کریں کہ آپ دین داروں کو
12:43معمولی اور حقیر سمجھ کے جیسے
12:45بعض مطلب کر رہے ہیں
12:46تو آپ اسی روش میں چلے جاتے ہیں
12:49کہ علماء کے لئے گندے الفاظ لکھ دینا
12:52ایسے جملے لکھ دینا
12:53کہ پڑھنے والی ہماری جنگ جنرشن
12:55داڑی والے امامے والے
12:57دین دار کی نفرت اپنے دل میں
12:59پیدا کر لے
13:00یہ آپ کوئی بڑی خدمت نہیں کر رہے
13:02جیسے آپ مریں گے
13:04آپ کا جنازہ یہ داڑی والے ہی پڑھائے گا
13:06وہی مولوی صاحب پڑھائیں گے
13:08جن کو آپ گالیاں بکتے رہے تھے
13:09کوئی دوسرا تو نہیں پڑھا سکتا
13:11یہی لوگ آپ کو غسل دیں گے
13:14یہی آپ کو قبر میں اتاریں گے
13:16اور میدان مہاشر میں دین داری
13:18آپ کے کام آ سکتا ہے
13:19دنیا دار کام نہیں آئے گا
13:21اس لئے ایسا نہ کریں
13:22یہ آپ غلط کر رہے ہیں
13:23تو بہرحال یہ منسوخ ہو چکی ہے حدیث
13:27اور اب وراست کے احکام کے بعد
13:30وسیعت لکھنا کوئی لازم نہیں
13:31ہاں اگر آپ لکھنا چاہتے ہیں
13:33تو آپ کر سکتے ہیں
13:35جیسے میں نے آپ کو ارس کیا
13:36کہ آپ چاہتے ہیں کچھ میرے مرنے کے بعد خرچ ہو جائے
13:39تو آپ لکھ دیں بھئی میں مر جاؤں
13:40تو تھوڑا مال مسجد کو دے دینا
13:42فلان دینی ادارے کو دے دینا
13:43عالم مفتی بنانے کے اندر دے دینا
13:46لیکن میں نے اکثر دیکھا ہے
13:47کہ والی صاحب فوت ہو گئے
13:49پھر ان وسیعتوں پر عمل نہیں ہوتا
13:51کیونکہ جس مال کی محبت میں
13:53آپ زندگ بہر اس پر عمل نہ کر سکے
13:55جو آپ کے دل میں خواہشات تھیں
13:57وارثوں کو اس کا مقلب بنا کے آپ چلے گئے
13:59تاکہ مال کو جدہ کرنے کے تکلیف
14:01مجھے محسوس نہ ہو ان کو
14:02تو وہ بھی آپ ہی کے سنت پر عمل کریں گے
14:04بے فکر رہے ہیں وہ مال کو کبھی اپنے سے جدہ نہیں کریں گے
14:07بہتی کم میں نے اولاد دیکھی ہے
14:09کہ جو وسیعت کے محبت پیسہ خرچ کر دے
14:11اور اگر وسیعت بن رہی ہے
14:13کروڑوں کے اندر تو وہ کبھی کروڑوں روپے دینداروں کو نہیں دیں گے
14:16وہ کہیں گے اببہ تو ایسی کہنے کے چلے گئے
14:18کھا پی جاتے
14:19آپ اپنے اندر وہ جرت کیوں نہیں پیدا کرتے
14:21انہیں مقلب بنا رہے ہیں
14:23کہ وہ اپنا مال دیں
14:24آپ کیوں ایسا نہیں کرتے کہ اپنی زندگی کے اندر
14:26اللہ کی راستے میں دے دیں
14:28تاکہ چلے پھر وسیعت کے ضرورت ہی نہ رہے
14:30اتنا دے دیں
14:31کہ آپ کہیں کہ لو اب یہ تمہارے لیے ہے
14:33میں نے جو کرنا تھا اپنی زندگی کے اندر کر لیا
14:36کمال تو یہ ہے
14:37لیکن سب سے مشکل کام یہ ہے
14:38ساری زندگی مال کو سینے سے لگا کر
14:41انسان اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے
14:43مرنے کے وقت پھر وہ شیر بن کر آ جاتا ہے
14:45جیسے دین کی بڑی محبت ہے
14:47مسجدوں کی بڑی محبت ہے
14:48اداروں کی ہے
14:49اور پھر وسیعتیں بے وسیعتیں
14:51اور پھر بعد والے بعد وقت اس کو پورا
14:53نہیں کرتے ہیں
14:54پھر بھی میری کوئی بات
14:55کسی کی دلہ داری کا سبب بنی ہو
14:57میں مادرت چاہتا ہوں
14:58لیکن میرا کام آپ کو سمجھانا ہے
14:59سمجھئے گا
15:00اور اچھی طریقے سے
15:01اس پر عمل پیرا ہونے کی
15:02کوشش کیجئے گا
15:05دو ہزار سات سو انتالیس
15:08نمبر حدیث پاک ہے
15:09حضرت عمر بن حارث
15:11جو رشتے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:14کے برادر نسبتی تھے
15:17حضرت جویریہ بنت حارث
15:19رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی تھے
15:22انہوں نے بیان کیا
15:24کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
15:25نے اپنی وفات کے وقت
15:27نہ کوئی درہم چھوڑا
15:29نہ دینار
15:30نہ غلام
15:31نہ باندی
15:32نہ کوئی اور چیز
15:34سوائے ایک سفید خچر کے
15:36اور ہتیار کے
15:37اور زمین کے
15:39جن کو آپ نے صدقہ کر دیا تھا
15:44تو یہ تو بھرحال نبی کریم کی شان ہے
15:46اور یہ سرکار کو زیبہ ہے
15:48کہ آپ اپنے پاس کوئی مال نہ
15:50زندگی میں رکھتے تھے
15:51اور اگر مال غریمت وغیرہ آیا
15:53جیسے چیزیں تھیں
15:54تو آپ نے
15:55زندگی میں ان کو وقف کر دیا
15:57تقسیم کر دیا
15:57صدقہ کر دیا
15:58اس طریقے سے سرکار کرتے تھے
16:00لیکن ہمارے لئے
16:02حکم تھوڑا سا لیدہ ہوتا ہے
16:03جو آگے انشاءاللہ آئے گا
16:05کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
16:07نے
16:07امت کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے
16:10اور پھر جو ہمارے متعلقین ہوتے ہیں
16:13بعض وقت ہم بڑے جذبے والے ہوتے ہیں
16:15ہم چاہتے ہیں
16:15میں اپنا گھر بھی بیچ کے
16:16اللہ کی رامے دے دوں
16:17لیکن بیوی بچے بھی تو ہیں
16:19ماں باپ بھی تو ہیں
16:20انہیں بھی تو لے کے چلنا ہے
16:22ان کے آرام کا
16:23آسائش کا بھی تو خیال لکھنا ہے
16:25ان کو فٹپات پہ لے کر تو نہیں آنا
16:28اس لئے اللہ سرکار نے فرمایا
16:29کہ نہ تو
16:30اس طرح کرو کہ سارا خرچ کر دو
16:32نہ روک کے رکھو
16:33بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کرو
16:35قرآن بھی یہی کہتا ہے
16:37تو خلاص کلام یہ ہے
16:38کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
16:41کا عامل مبارکہ یہی تھا
16:42اور آپ نے وسیعت فرما دی تھی
16:44کہ ہر چیز کو میرا
16:46مطلب صدقہ کرنا تھا
16:48تو صدقہ کر دیا
16:49زندگی میں بھی آپ نے بہت کیا
16:50اور باد وفات کا یہ معاملہ بھی
16:52آپ نے دیکھ لیا
16:55اگری حدیث ہے
16:56دو ہزار سات سو چالیس
16:57حضرت عبداللہ بن عبی
17:00آفا رضی اللہ تعالی
17:03کہ کیا رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
17:06نے وسیعت کی تھی
17:07انہوں نے کہا کہ نہیں
17:09پس میں نے کہا کہ لوگوں پر
17:11کیسے وسیعت فرق کی گئی ہے
17:12فرض کی گئی ہے
17:13یا لوگوں کو کس طرح وسیعت کا حکم دیا گیا ہے
17:16انہوں نے بتایا کہ آپ نے
17:17کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وسیعت کی تھی
17:20اس میں انشاءاللہ ہم کلام کریں گے
17:22لیکن اصب غرام و آخر دعوانا
17:24ان الحمدللہ رب العالمين

Recommended