Skip to playerSkip to main content
Hazrat Yousuf (A.S) Ka Complete Qissa — قرآنِ کریم میں بیان کیے گئے حضرت یوسف علیہ السلام کے ایمان افروز اور سبق آموز واقعات پر مشتمل خوبصورت Full Bayan۔

Muhammad Ajmal Raza Qadri اس بیان میں حضرت یوسف علیہ السلام کے صبر، آزمائش، بھائیوں کے رویے، کنویں کا واقعہ، مصر کا سفر، مشکلات اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے متعلق اہم واقعات بیان کرتے ہیں۔

حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی ہمیں صبر، تقویٰ، پاکیزگی، اللہ پر بھروسہ، معافی اور مشکل حالات میں ثابت قدم رہنے جیسے عظیم اسباق دیتی ہے۔ یہ مکمل بیان ضرور سنیں اور اس ایمان افروز واقعے سے سبق حاصل کریں۔

ویڈیو پسند آئے تو Like، Share اور Subscribe ضرور کریں اور اس اسلامی پیغام کو اپنے دوستوں اور عزیزوں تک بھی پہنچائیں۔

#HazratYousuf #YousufAlaihissalam #HazratYusufKaQissa #QissaYousuf #MuhammadAjmalRazaQadri #IslamicBayan #FullBayan #QuranicStories #IslamicStories #HeartTouchingBayan #UrduBayan #IslamicReminder #Quran #IslamicVideo

Category

📚
Learning
Transcript
00:00Surah Yusuf کا ذکر فرمایا ہے
00:02اور اشارت فرمایا جا رہا ہے
00:04کہ علیف لام را
00:05یہ حروف مقتعات ہیں
00:07فرمایا
00:08تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ
00:11یہ آیتیں ہیں
00:13کھلی ہوئی روشن کتاب کی
00:16فرمایا
00:17اِنَّا أَنزَلْنَاهُ قُرَانًا أَرَبِيًا لَأَلَّكُمْ تَعْكِلُونَ
00:23بے شک ہم نے قرآن کو عربی میں اتارا ہے
00:27تاکہ آپ لوگ اسے خوب سمجھ لیں
00:29اشارت فرمایا جا رہا ہے
00:31نَحْنُ نَقُسُ عَلَيْكَ اَحْسَنَ الْقَصَصَ
00:34ہم بیان کرتے ہیں آپ سے ایک بڑا ہی پیارا قصہ
00:41اَحْسَنَ الْقَصَصَ
00:43قصوں میں سے ایک بڑا پیارا قصہ
00:47بِمَا أَوْحَئِنَا
00:49تاکہ ہم اس قرآن کے ذریعے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے
00:53ہم ایک پیارا قصہ آپ سے بیان کرتے ہیں
00:59اگرچہ اس سے پہلے آپ اس کی خبر رکھنے والوں میں سے نہ تھے
01:04قصہ کیا ہے قصہ یہاں سے شروع ہوتا ہے
01:09جب کہا حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے باپ سے
01:12کیا کہا کہا یا آبتی اے میرے باپ
01:17اِنِّي رَعِیتُ اَحَدَا عَشَرَكَوْكَ بَا
01:21بے شک میں نے خواب میں دیکھے ہیں گیارہ ستارے
01:24وَالشَمْسَ اور سُورَجْ وَالْقَمَرْ
01:29اور چاند رَعِتُهُمْ لِي سَاجِ دِين
01:33کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے تھے
01:35یہ خواب دیکھا
01:36حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے حضرت عیساق علیہ السلام
01:41اور حضرت عیساق علیہ السلام کے صاحبزادیں حضرت یعقوب علیہ السلام
01:46حضرت یعقوب علیہ السلام نے کئی نکاح فرمائے
01:49اللہ نے آپ کو بارہ بیٹے عطا فرمائے
01:52دو بیٹے تھے آپ کے حضرت یعقوب علیہ السلام
01:56اور حضرت بنیامین علیہ السلام
01:58جو ایک والدہ سے تھے
02:00حضرت یعقوب علیہ السلام بڑے حسین و جمیل تھے
02:03بڑے خوبصورت تھے
02:05کچھ لوگ ظاہراں خوبصورت ہوتے ہیں
02:07تو کچھ کی ساتھ عادتیں بھی بڑی خوبصورت ہوتی
02:11بڑے نفیس بڑے فرما بردار
02:13بڑی میٹھی تھنڈی بات کرنے والے
02:16ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی بچہ پیارا بھی ہو
02:19اور عادتیں بھی اچھی ہو
02:21تو ماں باپ کی آنکھوں کا تارہ بن جاتا ہے
02:23باقی محنت کرنے کی بجائے
02:25شکوا کرنا شروع کر دیتے ہیں
02:27تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے والد
02:30حضرت یعقوب علیہ السلام
02:32اپنے بیٹے سے بڑا پیار کرتے تھے
02:35اور آج اس واقعے میں آپ کو یہ بھی سمجھ جائے گی
02:38کہ سارے زندگی لوگوں نے
02:39ماں بیٹے کا پیار بیان کیا ہے
02:41یہ وہ واقعہ ہے جس نے
02:43باپ بیٹے کا پیار بیان کیا
02:46اور انہوں کے انداز میں بیان کیا
02:49یعنی باپ اور بیٹے کے پیار کا بھی
02:52کوئی شخص کسی جگہ تصور کر سکتا
02:54اسے ماں پر تولہ جا سکتا
02:57نہیں ہے
02:57تو حضرت یعقوب علیہ السلام کے صاحبزادے تھے
03:01یوسف علیہ السلام
03:01آپ بڑا پیار کرتے تھے
03:03تو باقی بھائی تھوڑا حسد کرنے لگے
03:05انہیں جلنا شروع کر دی
03:07حضرت سیدنا
03:08یوسف علیہ السلام
03:10ایک دن فرمانے لگے
03:11اپنے والد سے
03:12کہ ابا جی میں نے خواب دیکھا ہے
03:13کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند
03:16مجھے سجدہ کر رہے ہیں
03:17کہالا یاب نیہ
03:18لا تقسس رؤیہ کا آلہ اخواتکا
03:22کہ بیٹا اپنا خواب
03:23اپنے بھانیوں سے نہ بیان کرنا
03:27اپنا خواب اپنے
03:29بھانیوں سے نہ بیان کرنا
03:32فیقیدو لکا قیدہ
03:34ہو سکتا ہے وہ تیرے خلاف
03:35کوئی سازش رچیں
03:36کیوں رچیں
03:38اس لیے کہ
03:43بے شک شیطان آدمی کا کھلا ہوا دشمن
03:46وہ ہر وقت وسوس اندوزی کرتا ہے
03:49تو لہٰذا بھانیوں سے بات بیان
03:50آپ نے نہیں بیان کی
03:53آہستہ آہستہ نہ وہ حسد بڑھتا
03:55حسد بہت بڑی بیماری ہے
03:58اگر نبیوں کے بیٹوں میں ہو سکتا ہے
04:00تو عام انسانوں میں کیوں نہیں ہو سکتا
04:03انبیاء کے بیٹے اگر کر سکتے ہیں
04:05تو عام لوگ بھی
04:07آپ جب کسی شخص کو دیکھیں نا
04:09کسی کے بارے میں کچھے جملے بول رہا ہے
04:10کمزور بات کر رہا ہے
04:12تو پہلے اچھی طرح ٹوٹول لیں
04:13کہ حق بیان کر رہا ہے
04:15یا صرف حسد کے بیچ رہا ہے
04:16کہ گفتگو کر رہا ہے
04:17بہت بڑی بیماری ہے
04:20انہوں نے
04:21ایک چال بنائی
04:23دسوں نے مل کے
04:24کہ اس طرح کریں
04:25کہ ان کو کوئی سخت سزا دیں
04:27انہیں قتل کر دیتے ہیں
04:29پھر کہنے لگے
04:30مارتے نہیں
04:31کمہ میں پھینک دیتے ہیں
04:32حضرت یعقوب علیہ السلام کی بارگاہ میں
04:34حاضر ہوئے
04:35تو حاضر ہو کے
04:35ارز کی کہ
04:37ہم سیر کرنا چاہتے ہیں
04:39تو ہمارا بھائی
04:40یوسف بھی تو ہمارا بھائی ہے نا
04:42ہمارے ساتھ بھیجیں
04:43وہاں کھیلے گا
04:44کودے گا
04:45کھائے گا
04:45پیے گا
04:46حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا
04:47نہیں مجھے ڈر لگتا ہے
04:51کہ کہیں میرے
04:52یوسف کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائیں
05:00یوسف اب بعض بچے
05:01نلائک ہوتے ہیں
05:03وہ جدا ہوتے ہیں
05:04لیکن ان کو جدا کرنے کو دیل ہے
05:06لیکن حضرت یوسف تو
05:08لائک بچے تھے نا
05:08اپنے والی کے
05:09ان کا بھی نہیں ارادہ تھا
05:10بھائی لے گئے
05:13اور لے جا کر
05:14کہ حضرت یوسف علیہ السلام
05:15کو پہلے بہت زیادہ مارا
05:19پہلے مارا
05:20پھر حضرت یوسف علیہ السلام
05:22کا کرتہ اتار کے
05:23ان کے ہاتھ باندے
05:24پھر بڑے بھائی نے
05:26یہودہ نے
05:27رسی کے ساتھ باندھ
05:31اور پھر جب درمیان میں پہنچے
05:33تو پھر
05:33رسی کو کاٹ دیا
05:36حضرت یوسف جب
05:37گرے پانی میں
05:38آواز آئی تو ہسے
05:41مفسرین نے لکھا ہے
05:42کہ اللہ تعالیٰ نے
05:42حضرت جبریل امین کو بھیجا
05:45فرما جاؤ
05:46میرے یوسف کو پکڑ کے
05:48نہ تو احتیاط کے ساتھ
05:49نیچے رکھ دو
05:50حضرت یوسف کو رکھ دیا گیا
05:52تین دن و تین راتیں
05:54جناب یوسف کووے میں رہے
05:58بچانے والا زیادہ بڑھا ہے
06:01محفوظ رکھنے والا
06:03زیادہ طاقتوار ہے
06:04تین دن و تین راتیں
06:06کومے میں رہے
06:07انہوں نے کیا کیا
06:08کہ حضرت یوسف کا کرتہ
06:10چونکہ اتار لیا تھا
06:11دو کرتے
06:12انہوں نے پہلے ہوئے تھے
06:13بعد میں فرسلین نے لکھا ہے
06:15ایک تو کرتہ وہ تھا
06:16جنہوں نے استعمال کیا ہے
06:18تو ایک کرتہ
06:18بطور تعویز
06:19کے حضرت یعقوب
06:20نے ان کے گلے میں ڈال دیا
06:22بطور برکت کے
06:25تو وہ کرتہ بھی
06:26ان کے گلے میں تھا
06:27ایک کرتہ سے انہوں نے باند دیا
06:28دوسرا کرتہ جو تھا نا
06:30اس کو خوند لگا کے
06:32بکری کا
06:32تو حضرت یعقوب کے پاس آئے
06:35اور جب دروازے تک پہنچے
06:36تو شور کرنے لگے
06:37زور زور
06:39حضرت یعقوب پریشان ہو
06:40کہ باہر آئے
06:41چونکہ وہ بکریوں بھی
06:42ساتھ لے کے گئے تھے
06:43بکریوں چرایا کرتے تھے
06:45تو کہا بکریوں کو
06:46بھیڑیا تو نہیں پڑ گیا
06:47تو کہنے لگے
06:48حضور بکریوں کو تو نہیں پڑا
06:49پر حضرت یوسف کو لے گیا
06:51اور
06:53حضرت یوسف علیہ السلام
06:55شہید ہو گئے
06:56حضرت یعقوب علیہ السلام
06:58نے نا وہ
07:00کرتہ دیکھا
07:01تو کرتہ دیکھ کے فرمانے لگے
07:03بڑا سیانہ تھا بیڑیا
07:05یوسف سارا کھا گیا ہے
07:07پر کرتہ کسی جگہ سے پھٹا بھی نہیں
07:10اس کا مطلب ہے
07:11کہ حضرت یعقوب کو سمجھ آ گئی
07:13کہ میرے یوسف کو بیڑیے نے کھایا
07:15نہیں ہے یہ قرآن مجید ہے
07:17فرمایا بڑا سمجھ دار تھا بھئی
07:19کرتہ پھٹا بھی نہیں
07:21اور یوسف وہ سارا کھا گیا
07:23اب یہ روز وہاں بکریہ چلانے جاتے تھے
07:26یا جناب یعقوب تو رونے لگے
07:28تو بھائی روز جاتے تھے
07:29جھانک جھانک کے دیکھتے تھے
07:31کہ یوسف ہے کے نہیں
07:33تیسرے دن
07:34ایک کافلہ وہاں سے گزرا
07:36جو مصر جا رہا تھا
07:38انہوں نے
07:39پانی نکالنے کے لیے
07:41جب ڈول لٹکایا
07:42تو حضرت یوسف نے پکڑ لیا
07:45اس شخص نے
07:48حضرت جناب یوسف علیہ السلام
07:50کو اوپر کھینچا جا
07:51باباپس اوپر زندہ نکلا ہے
07:53تو بھائی پھر حیران ہو گئے
07:54ابھی بھی شکر ادا نہیں کیا
07:56کہ تین دن کے بعد دیکھو
07:58اللہ نے کتنا فضل ورمایا ہے
07:59لیکن وہ پھر کہنے لگے
08:01قریب آ کے نا
08:04اس سے یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے
08:08اگر تمہیں چاہیے تو لے لو
08:10سستہ بیچ دیں گے
08:12حضرت یوسف کا کول
08:14بعد مفسرین نے لکھا ہے
08:16آپ فرماتے ہیں
08:17کہ مجھے جب انہوں نے
08:18تھپڑ مارے تو
08:19اتنی تکلیف نہیں ہوئی
08:22کمہ میں بھینکا
08:23تو اتنی تکلیف نہیں ہوئی
08:24تکلیف تب ہوئی
08:25جب انہوں نے
08:26مجھے بھائی نہیں مانا
08:28اور کہنے لگے
08:29یہ مارا بھاگا ہوا غلام ہے
08:31تو کہا کتنے کا بیچ ہوگے
08:33کہا تم بیس درہم دے دو
08:35اور لے لو
08:35بیس درہم کا
08:36جناب یوسف کو بیچ دیا
08:39وہ لے گئے
08:40مصر کی منڈی میں
08:41وہاں قیمت لگنے لگی
08:43کتنے ہزار
08:44اتنے ہزار
08:45اتنے ہزار
08:46اللہ اکبر
08:47جناب یوسف کہتے
08:49میں نے وہ رنگ بھی دیکھا
08:50کہ جب میرا باپ
08:52سب سے بڑھ کر
08:53مجھ سے پیار کرتا تھا
08:55اور آج میں وہی یوسف ہوں
08:56جس کی بولیاں لگ رہی
08:58جس کی بولیاں لگ رہی
09:00عزیز مصر آ گیا
09:02مصر کا
09:02جو مال خزانہ کا مالک تھا
09:05وہ شخص آ گیا
09:06اس میں بھی کئی اقوال ہیں
09:07کہ وہ بادشاہ تھا
09:08کہ کیا تھا
09:09بہرحال
09:10عزیز مصر آیا
09:12خزانوں پر قبضہ
09:13اسی کا تھا
09:14اس نے حضرت یوسف علیہ السلام
09:16کے وزن کے برابر
09:18زونہ تول کے دیا
09:20وزن کے برابر
09:21چاندی تول کے دی
09:22وزن کے برابر
09:24اس نے ہیرے جوہرات دیئے
09:25پھر گھر لے گیا
09:27اور جناب یوسف علیہ السلام
09:29فرماتے ہیں
09:30میں ایک آزمائش سے نکلا
09:31جب گھر آیا
09:32تو بڑے سکون سے رہنے لگا
09:33عزیز مصر نے
09:34اپنی بیوی زلیخہ سے
09:35کہا اس کا خاص خیال رکھنا
09:38فرماتے ہیں
09:38محبت ملنے لگی
09:39پیار ملنے لگا
09:40گھر میں میں بڑی خوشی سے
09:41رہنے لگا
09:42پر اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا
09:46آزمائش پر آزمائش
09:47ذرا دیکھئے گا
09:48پہلے باپ کا پیار
09:49پھر کمہ
09:50پھر کمہ سے بچ گئے
09:52تو مصر کی منڈی
09:53فرماتے ہیں
09:54وہاں سے میں بچ کے آیا
09:56تو عزیز مصر کے گھر
09:58رہنے لگا
09:59زلیخہ فریفتہ ہو گئی
10:01گناہ کی دعوت دینے لگی
10:04تو حضرت یوسف نے کہا
10:06قال اماز اللہ
10:07میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں
10:09سارے دروازے بند کر کے
10:12جب وہ پیچھے بھاگی
10:14اصل حسین وہی شخص ہوتا ہے
10:16جو اپنے باطن کے حسن
10:18کو بچا لیا کرتا ہے
10:19جو صداگری کرنے لگے
10:21وہ تھوڑا حسین ہوتا ہے
10:22حضرت یوسف علیہ السلام
10:24جب بھاگے تو
10:25اس نے پیچھے سے پکڑ کے
10:26کرتا کھینچا
10:27کرتا پھٹ گیا
10:29ابھی آپ دروازے تک پہنچتے
10:30عزیز مصر خود آ گیا
10:33اس نے آگے کہا
10:34یہ کیا ہو رہا ہے
10:36تو اس نے مکر کیا
10:38زلیخہ نے کہنے لگی
10:39کہ ہونا کیا ہے
10:40اس کو گھر میں رکھ کے پالا ہے
10:42اب جوان ہوا ہے
10:43تو مازاللہ
10:44اس نے میرے طرف
10:45دست درازی کرنے کی کوشش کی
10:47حضرت یوسف پھر خاموش ہو گئے
10:50بھائی بیچ رہے تھے
10:51تو پھر بھی خاموش تھے
10:52کبھی کبھی کچھ چیزیں
10:54خاموش رہ کے سینی پڑتی ہیں
10:56زخم پہ زخم کھا کے جی
10:59خون جگر کے گھونٹ پی
11:02آہنکر لبو کسی
11:03یہ عشق ہے
11:05کوئی دل لگی نہیں
11:06حضرت یوسف علیہ السلام
11:08پھر چوپے
11:09زلیخہ نے بڑی باتیں کی
11:10ایک دانہ آدمی تھا
11:13قرآن کہتا ہے
11:13ایک بولا بولنے والا
11:15ایک اکل مند بولا
11:16اس نے کہا دیکھو
11:17نہ زلیخہ کی سنو
11:19نہ یوسف کی سنو
11:20اگر تو کرتہ آگے سے پھٹا ہوا ہے
11:22تو پھر غلطی ہے
11:23جناب یوسف کی
11:24اور اگر پیچھے سے پھٹا ہے
11:26تو پھر زلیخہ کی غلطی
11:29حضرت یوسف کی
11:31مازاللہ پھر غلطی
11:32تو عزیز مصر نے کرتہ دیکھا
11:34تو پیچھے سے پھٹا تھا
11:35لیکن امام کرتبی کہتے ہیں
11:37وہ کوئی اکل مند آدمی نہیں
11:38وہ تو چار مہینے کا بچہ تھا
11:41وہ ایک چار مہینے کا
11:43وہ قریب تھا
11:44حضرت یوسف علیہ السلام کی
11:46گواہی دینے کے لئے
11:48اللہ نے اسے زبان دی تھی
11:49زلیخہ کے مامو کا بیٹا تھا
11:52چار مہینہ کا گہوارے میں لیٹا ہوا
11:54جب بادشاہ سے فیصلہ نہیں ہو رہا تھا
11:56اور بادشاہ پریشان تھا
11:58عزیز مصر
11:59کہ کسی کو جا کے بتاؤں گا
12:00تو کوئی کیا سوچے گا
12:01اس کے گھر میں کیا کچھ ہوتا ہے
12:03کہتے پریشان تھا
12:05تو پنگوڑے سے بچہ بول پڑا
12:08کہنے لگا بادشاہ
12:09اگر تو کرتہ آگے سے پھٹا ہے
12:11تو پھر ماذا اللہ گلتی
12:12حضرت یوسف کی
12:13اگر پیچھے سے پھٹا ہے
12:14تو پھر
12:15زلیخہ کی
12:16تو کرتہ پیچھے سے پھٹا تھا
12:18حضرت یوسف کے حق میں
12:19گوائی مکمل ہو گئی
12:21اب آہستہ آہستہ
12:23دربار میں محل میں
12:24بات پھیلنے لگی
12:25تو بیبیاں کہنے لگی
12:26اوہو
12:28زلیخہ
12:28تو ایک غلام پہ
12:29عاشق ہو گئی ہے
12:31ایک غلام پہ
12:32تو زلیخہ کہنے لگی
12:33تو مجھے میرا معبوب نہیں
12:35ڈھٹا
12:36اے رٹے ڈالنے والے
12:38دیکھتے نہیں
12:38اور دور کھڑے رہ رہ کے
12:40کہانیاں سناتے رہتے ہیں
12:41اس نے کہا
12:42تو نے ابھی دیکھا نہیں نہ
12:43تو نے ابھی
12:45یہ کیا پتا ہو
12:46کہ ماجرہ کیا ہے
12:47تو کہنے لگی نہیں
12:47تو غلام پہ
12:48اس نے کہا
12:48چلو تجربہ کراتی ہو
12:50ساری عورتوں کو بٹھایا
12:53ہاتھ میں ایک ایک سیب دیا
12:55ایک ایک چھوری دی
12:56اور جب پوری تیاری ہو گئی
12:59پھل کاٹنے کی عورتوں کی
13:01تو جناب یوسف سے کہا
13:03ذرا جھلک تو دکھاؤ
13:04تو حضرت یوسف نے
13:06جب جھلک دکھائی
13:07تو قرآن کہتا ہے
13:08سیب کاٹنے کی بجائے
13:10ہاتھ کاٹ لیے
13:11اور کہنے لگی
13:12اوہو یہ کوئی بشر نہیں
13:14یہ تو کوئی فرشتہ ہے
13:16یہ کوئی فرشتہ ہے
13:18یہ تو کوئی
13:20اللہ تعالیٰ کے طرف سے آنے والا
13:22کوئی کرامت والا
13:23عزت والا
13:24شان والا فرشتہ ہے
13:26تو در ذلیخہ کہنے لگی
13:27سمجھ آئی ہے پھر
13:28تو مجھ پر شکوہ کرتی تھی
13:31تو
13:32اب وہ بات بھی آہستہ آہستہ
13:34پھیلنے لگی
13:35کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی
13:36غلطی نہیں
13:37غلطی ذلیخہ کی
13:38اب بادشاہ نے
13:39ذلیخہ سے کہا
13:40کہ اگر تو میں تیری بات کروں
13:42تو تیرے ساتھ
13:43میری بدنامی کا بھی ڈار ہے
13:45کیا کریں
13:46تیہ یہ پایا
13:47کہ حضرت یوسف کو
13:48جیل میں ڈال دیا جائے
13:51پہلے بھنیوں کے
13:52تھپڑ
13:54پھر کمہ
13:55پھر مصر کی منڈی
13:57پھر ذلیخہ کا الزام
13:59اور پھر باری آگئی
14:00جیل جانے کی
14:02حضرت یوسف علیہ السلام کو
14:04جیل میں
14:04کچھ نے لکھا ہے
14:05بارہ سال جیل میں رہے
14:08جیل میں ڈال دیا
14:09حضرت یوسف علیہ السلام
14:11جیل میں کیا کرتے
14:12باز فرماتے
14:14تبلیغ فرماتے
14:16لوگوں کو
14:17اللہ کی توحید کی دعوت دیتے
14:19وہاں جیل میں
14:20ایک شخص نے خواب دیکھا
14:22اس نے دیکھا
14:23کہ میرے
14:23سر پہ پرندے
14:26کھا رہے
14:27حضرت یوسف کہنے لگے
14:29اس کی تعبیر یہ ہے
14:30کہ تجھے قتل کیا جائے گا
14:32تیری لاش کچھ دیر پڑی رہے گی
14:34تو پرندے تیرے سر پہ آکے بیٹھیں گے
14:36یہ تعبیر ہے
14:37ایسا ہی ہوا
14:38واقعی وہ شخص قتل ہو گیا
14:40ایک شخص نے دیکھا
14:42کہ وہ شراب کشید کر رہا ہے
14:45اس نے بھی تعبیر پوچھی
14:47تو آپ نے فرمایا
14:47تو اپنے بادشاہ کو پلائے گا
14:49محسوس ہوتا ہے
14:50کہ
14:51اتنی دیر تک شراب ناجائز
14:53نہیں تھی
14:54تو
14:55تو اس کو شراب پلائے گا
14:57یہ اس کی تعبیر ہے
14:58وقت گزرتا گیا
15:00وقت جو ہوتا ہے نا
15:01وقت
15:02یہ خود بخود لوگوں کی بے گناہ
15:04حسابت کر دیتا ہے
15:05ایک وقت میں
15:06پراپوگنڈا ہوتا ہے
15:07تو ہر آدمی
15:08پراپوگنڈے کا شکار ہوتا ہے
15:10پھر جب وقت گزرتا جاتا ہے
15:12تو خود بخود
15:13وقت کا گزرنا
15:14کچھ چیزوں کا
15:15خود بخود حال بن جاتا ہے
15:16حضرت یوسف
15:18علیہ نبی نام علیہ السلام
15:19کو جب بارہ سال بیٹھ گئے
15:21تو بادشاہ نے
15:22عزیز مصر نے خواب دیکھا
15:24اس نے خواب دیکھا
15:26کہ ساتھ موٹی تازی گھائیں
15:28دبلی پتلی گھائیں
15:29کو کھا گئی
15:29اور ساتھ خوشک بالیاں ہیں
15:32اور ساتھ سرسبز و شاداب بالیاں ہیں
15:35اپنے وزیر سے کہنے لگا
15:37کوئی تعبیر والا بندہ ملے
15:40اس نے کہا
15:41کہ ایک بندہ ہے
15:42جس کی تعبیریں بڑی سچی ہیں
15:44کہا وہ کون
15:45کہنے لگے جناب یوسف
15:48تو قید خانے میں پیغام دے جاتا ہے
15:51یوسف کو کہ خواب کی تعبیر بتائیں
15:52تو جناب یوسف نے یہ نہیں کہا
15:54پہلے مجھے باہر نکالو
15:55یہ نہیں فرمایا
15:57فرمایا تعبیر یہ ہے
15:58یہ ساتھ خوشک بالیاں دیکھی ہیں
16:01اس کا مطلب ہے
16:02کہ ساتھ سال
16:03تنگ دستی رہے گی
16:04اور ساتھ سرسبز بالیاں دیکھی ہیں
16:06تو پھر ساتھ سال
16:07اللہ خوشحالی دے دے گا
16:09اور فرمایا یہ جو
16:10تم نے گائیں دیکھی ہیں
16:11موٹی تازی وہ کھا گئی
16:13فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے
16:14کہ کوشش کرنا
16:15جو تمہارے پاس دن یہ چل رہے ہیں
16:18جن میں سرسبز و شاداب ہے
16:20کھیتیاں
16:21تو ساتھ سالوں کے لیے
16:22انا جمع کر لینا
16:23بالیوں کے اندر ہی رہنے دینا
16:25باہر نہ نکالنا
16:27اور پھر اگلے جو
16:28خوشک سال ہوں گے
16:29جو جمع پونجی کی ہوگی
16:31اس کی برکت سے
16:32وہ ساتھ سال
16:34ہسانی سے
16:35اس پر ہمارے مفسرین
16:37نے لکھا ہے
16:37اس آیت پر
16:39سوئیہ اور بزرگ
16:40تو کہتے ہیں
16:41سارا اللہ کے رستے میں دے دو
16:42یہ بھی بات اچھی ہے
16:43لیکن اگر کوئی
16:44اپنے بچوں کے لیے
16:46آنے والے وقت کے لیے
16:47کوئی چیزیں سمال کے رکھے
16:48تو یہ بھی سورہ یوسف سے ثابت ہے
16:51یہ بھی سورہ یوسف سے
16:52تو یہ بھی کوئی ایسا فیل نہیں ہے
16:54جس پر کوئی شخص تنقید کر سکے
16:56عام دام برسر مطلب
16:59حضرت یوسف نے جب تعبیر بتائی
17:01تو بادشاہ کہنے لگا
17:02کہ انہیں باہر نکالو
17:04آپ فرمانے لگے
17:05میں نہیں نکلتا بھئی
17:09نہیں نکلتا میں جیل سے
17:10یہی ٹھیک ہوں میں
17:12آپ کیوں نہیں نکلتے
17:13کہنے لگے پہلے اعلان کر کے
17:14لوگوں کو بتا کے
17:15میں بے قصور ہوں
17:18پرپوگنڈا کیا نا
17:19آپ نے اپنے مو سے اعلان کر
17:21اس نے جناب زلیخہ کو بلایا
17:23ان عورتوں کو بلایا
17:24وہ عورتیں ساری سامنے آئیں
17:27انہوں نے گواہی دی
17:28کہ یوسف تو بے گناہ ہے
17:30پر سال کتنے لگ گئے
17:34اللہ اکبر
17:35بارہ سال لگ گئے
17:37یقین کریں
17:39کچھ لوگوں کو یہ ثابت کرنے میں
17:41کہ میں ٹھیک ہوں
17:42زندگی بیٹ جاتی ہے
17:44اور میں تمہارا خیر کہا ہوں
17:46زندگی بیٹ جاتی ہے
17:48لوگوں کو ہوشتہ باتی ہے
17:50جب مزار پر
17:51چادر ڈھلنے کا ٹائم آ جاتا ہے
17:53ہوشتہ باتی ہے
17:54لیکن پھر ہوش کا کوئی فائدہ
17:57بارہ سال کے بعد
17:59بادشاہ نے ان کو بلایا
18:00اور کہنے لگا
18:01کہ یہ جو خواب
18:02میں نے آپ کو سنایا
18:03آپ کرنا کیا ہے
18:04تو یوسف کہنے لگے
18:05تم سے کچھ بھی نہیں ہوگا
18:07اگر کچھ کرنا ہے
18:08تو پھر یہ خزانے کی
18:10ذمہ داری میری لگاؤں
18:12اگر کوئی قابل آدمی ہو
18:14تو وہ آگے بڑھ کے بعد
18:15کر سکتا ہے
18:16یہاں ہر مندہ
18:17آگے بڑھ کے کہتا ہے
18:18مجھے دے دو ڈیوٹی
18:20لیکن قابل ہو
18:21تو وہ آگے بڑھ کے بات
18:22کرے اور سمجھے
18:24کہ میرے علاوہ
18:24کسی کے لیے مشکل ہے
18:25تو پھر وہ آگے بڑھے
18:26حضرت یوسف نے جب کہا
18:28تو انہوں نے آپ کو
18:29وزیر خزانہ بنا دیا
18:30پھر ایک وقت آیا
18:31کہ وہ عزیز مصر ہی بن گئے
18:34کہت پڑ گیا
18:35جب مصر میں کہت پڑا
18:37تو دائیں بائیں بھی کہت پڑا
18:38کن آن کے آپ رہنے والے تھے
18:40وہاں بھی کہت پڑا
18:42حضرت یکوب بیٹے کی
18:44یاد میں رو روکے
18:45تو آنکھوں کی بینائی چلی گئی
18:46اور یارو باپ بھی
18:48بڑا ہی پیار کرتا ہے
18:49بڑا ہی پیار کرتا ہے
18:51بڑا ہی
18:52پتہ ہے
18:53باقی تمہیں
18:54توفے دیتے ہیں
18:55باقی
18:55تم سے محبت کرتے ہیں
18:57تو باپ تو بیٹے کو
18:58اپنی جوانی دے دیتا ہے
19:00اپنی جوانی
19:01اپنے بیٹے کے نام
19:02کر دیتا ہے
19:03باپ باپ بھی
19:04بڑا ہی پیار کرتا ہے
19:05سنگیو
19:06کوئی نہیں تول سکتا
19:07بچے ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں
19:09اببا جی کے سامنے
19:10تو ان کا اٹھنا
19:12بیٹھنا چلنا ہی
19:12بڑا پیارا لگتا ہے
19:13کہ آنا جانا ہی
19:15بڑا پیارا لگتا ہے
19:16باپ کا تو قدروز
19:17انچہ ہوتا ہے
19:17کہ اللہ نے مجھے
19:18لال عطا فرمائے
19:19حضرت یعقوب کی آنکھوں کی
19:21بنائی چلی گئی
19:21رو رو کے
19:24بھائی حضرت یوسف کے
19:25جب کہت پڑا
19:26تو انہیں پتا چلا
19:27کہ ایک واحد شہر
19:28مصر ہے
19:29جہاں گندم سٹاک ہے
19:30کیونکہ حضرت یوسف
19:31کو پتا تھا
19:32خواب بادشاہ دیکھ چکا تھا
19:34تو آپ نے
19:34مال سات سالوں کے لیے
19:37جمع کر لیا
19:38اب بھائی آئے
19:40اللہ اکبر
19:42دشمن سامنے نظر آئے
19:45مخالف حاسد
19:46تو پھر انسان
19:48ٹھہرا رہے
19:49اور انسان
19:50کمزور نہ ہو
19:51طاقتوار ہو
19:52اتنا طاقتوار ہو
19:53کہ حکمران ہی بن گیا ہو
19:56نبیوں کے حوصلے بھی دیکھنا
19:57پیغمبروں کے حوصلے بھی دیکھنا
20:00بھائی آئے
20:01کہا گندم چاہیے
20:02تو جناب یوسف نے
20:04اوہو
20:05پانیا جیہا ساکھ نہیں کوئی
20:08جویچ خار ناؤں میں
20:10ہاں
20:11اور میاں صاحب فرمایا کرتے
20:13تے پائی پانیا دیں
20:14ابا ماں ہوندے
20:15تے پائی پانیا دیں ویری
20:17بھائی جیسے ہی داخل ہوئے
20:19تو جناب یوسف کی آنکھیں بھار آئیں
20:22رو پڑے
20:23اوہ میرے بھائی آنیا
20:25رو پڑے
20:26وزیر مشریف دائیں بھائیں دیکھتے ہیں
20:28کہ حضرت یوسف وہ کیا ہوا
20:30رو پڑے
20:31اور بھار بھار کے گندم دی
20:33اس کو اشارے کرتے
20:34چل تھوڑی اور ڈال دیں
20:36چل تھوڑی اور ڈال دیں
20:38جب بھائیوں کو دے چکے
20:39تو پھر فرمانے لگے
20:40کہ شاید اس سے گزارا نہ ہو
20:43ضرورت پڑی تو دوبارہ بھی آ جارا
20:46اپنی قوم کو طرز دے رہے تھوڑا تھوڑا کھاؤ
20:49ان بھائیوں کو کہتے ہیں
20:50ضرورت پڑی نہ
20:52آ جانا دوبارہ
20:53اور کہنے لگے
20:54تمہارا ایک اور بھائی بھی ہے
20:56کہاں ہے
20:57بنیا مین نام ہے
20:58فرما ہے
20:58ہو سکے تو اسے بھی لے آنا
21:01بھائی پیسے لے کے آئے تھے
21:02گندم لینے کے لیے
21:03اور جب واپس جانے لگے
21:05تو حضرت یوسف نے ان کی رقم دوبارہ رکھ دی
21:08وہ دوبارہ ان کی بوریوں میں رکھ دی
21:10گھر جا کے انہوں نے کھولی
21:12تو گندم بھی تھی
21:13اور پیسے بھی تھے
21:14اب بھائیوں سے پیسے توڑی بھزول کرنے
21:18نہ کہ اپنے والی سے کہنے لگے
21:19اب باپ بادشاہ بڑے دیکھے ہیں
21:21پر اس میں کوئی خوشبو دیکھی
21:24تو
21:25اس نے کہا ہے
21:26کہ اپنے دوسرے بھائی کو بھی لے کے آنا
21:29تو بنیا مین کو لے جائیں
21:32حضرت یعقوب فرمانے لگے
21:33پہلے بھی تم پہ بروسہ کر چکا ہوں
21:35بار بار نہیں کروں گا
21:36یوسف گوا چکا ہوں
21:40لگے دادا جی آپ تو ہر وقت یوسف یوسف ہی کرتے رہتے
21:43انہوں نے زد کی
21:45اسرار کیا
21:47تو جناب بنیا مین کو ساتھ
21:49وعدہ لے کے اہد لے کے
21:50قسم لے کے بھیج دیا حضرت یعقوب نے
21:53جناب بنیا مین بھی پہنچے
21:55مصر میں
21:56یہ دونوں ایک ماں سے تھے
21:58سگے دونوں تھے
22:00حضرت یوسف نے جناب بنیا مین کو دیکھا
22:03تو اپنے ساتھ بٹھا لیا
22:04اور ذرا باتیں باتیں کر کے
22:06ادھر بیٹھ جاؤ ادھر بیٹھ جاؤ اچھا نہیں ہے جگہ
22:09آپ ادھر آ جاؤ میرے ساتھ بیٹھ جاؤ
22:11بھائی تھا نا سگا
22:13اچھا چلو ٹھیک ہے آپ ادھر آ جاؤ
22:15بھائی کو ساتھ بٹھا لیا
22:17ابھی جب چیزیں دینے لگے تو کان میں کہنے لگے
22:20وہ پریشان تھے نا حضرت بنیا مین کی یہ بندہ کیا کر رہا
22:23تو کان میں کہنے لگے
22:25میں بھائی ہوں تیرا
22:28میں یوسف ہوں
22:30تو اس طرح کہا یار تھوڑے دن میرے پاس رہا نہیں جاتا
22:33حضرت بنیا مین کہنے لگے رہ جاتا ہوں
22:37رہ گئے جناب بنیا مین
22:40اب کہا نہیں میں نہیں بھیجوں گا
22:42کچھ لوگوں نے یہ لکھا ہے کہ حضرت بنیا مین کے
22:45جو بوری تھی اس کے اندر انہوں نے
22:47تھیلے کے اندر شاہی پیالہ رکھ دیا
22:49اور فرمایا اس کو ہم نہیں جانے دیں گے
22:51ہمارا پیالہ
22:52کیسے یہ نہیں کہا کہ یہ چہر ہے
22:54کہا پیالہ کیسے آیا اس کے
22:56تھیلے بھی لہذا یہ ابھی ہم رہے گا ہمارے پاس دیکھیں گے
22:59وہ باقی چلے گے تو یہودہ
23:01کرنے لگا کہ میں نہیں جاتا میں یہی ٹھہروں گا
23:03اس لیے
23:04کہ میں باپ کو کیا بتاؤں گا
23:06کہ پہلے بھی میں کرتہ میں ہی لے کے گیا تھا
23:09یوسف کا
23:09اب میں کیا بتاؤں گا
23:12واپس گئے
23:13اور جا کے بتایا کہ جناب بنیا مین
23:17کو انہوں نے رکھ لیا ہے
23:19معاملہ بن گیا ہے
23:20وہ کہتے ہیں کیسے پیالہ آیا ہے
23:22شاہی پیالہ
23:23حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام فرمانے لگے
23:26میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا
23:28کہ تم میرے
23:30بنی امین کو بھی لے جا رہے ہو
23:32پہلے میں بھروسہ کر کے
23:34یوسف کے معاملے میں پریشان ہو
23:35فرمایا اس طرح کرو
23:36جاؤ ڈھونڈو جا کے میرے یوسف کو
23:39اور ڈھونڈو جا کے میرے بنی امین کو
23:42جاؤ تلاش کرو
23:43اللہ اکبر
23:45بھائی دوبارہ آئے
23:46گندم بھی ختم ہو گئی تھی
23:48آتے ہی کہا کہ
23:49اے عزیز مصر بڑی بری آلت ہے
23:51ہم بڑے پریشان ہیں
23:53ہمارے باپ کی رو رو کے آنکھیں
23:55چلی گئی ہیں
23:57میربانی کرو
23:58کچھ گندم بھی دے دو
23:59اور اس طرح کرو
24:01کہ ہمارا بھائی بھی ہمیں واپس کر دو
24:04تاکہ ہم اسے لے جائیں
24:05اور ہمارے والد گرامی کی آنکھیں تھنڈی ہوں
24:08حضرت یوسف
24:10علیہ نبی ناوالک
24:11صلات و سلام
24:12ان کی باتیں بھی سننے لگے
24:13اور غور سے
24:15ان کے چہرے بھی دیکھنے لگے
24:17غور سے
24:18تو جب انہوں نے
24:19حضرت یوسف علیہ السلام کی طرف
24:21غور سے دیکھا
24:22تو حضرت یوسف کہنے لگے
24:23مجھے پہچانتے ہو
24:27پہچانتے ہو
24:27کہا نہیں
24:28فرمانے لگے
24:29میں یوسف ہوں
24:34کہنے لگے
24:35میں یوسف ہوں
24:36اور حضرت بنیامین کی طرف
24:38اشارہ کر کے کہنے لگے
24:39وہاز اخی
24:41اور یہ میرا بھائی ہے
24:42میں یوسف ہوں
24:44اور یہ میرا
24:44بھائی ہے
24:46اور فرمانے لگے
24:47اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے
24:49اور جو تقوی اختیار کرتا ہے
24:52اور سبر کرتا ہے
24:53اللہ تعالیٰ
24:55اس نیک کے عجر کو کبھی زائع
24:57یہ نہیں فرمایا
24:58میں نے بڑے تقوی کی
24:59یہ پریزگاری کی
25:00تو بچ گیا فرمایا
25:01جو بھی تقوی اختیار کرے گا
25:03جو بھی سبر کرے گا
25:04اللہ اس نیک کے عجر کو کبھی زائع
25:07نہیں کرے گا
25:08پھر فرمانے لگے
25:09جاؤ آج تم پر کوئی گناہ نہیں
25:12جاؤ ایک دامی
25:14ڈیسی وقت ہی فرمایا جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا اور فرمانے لگے میری
25:21دعا ہے کہ میرا رب بھی تمہیں معاف کر دے پھر فرمایا یہ میری کمیز لے جاؤ میرا کرتا اور
25:28میرے باپ کی آنکھوں پر ڈال دینا امید ہے ان کی آنکھوں کی روشنی واپس آ جائے گا جاؤ لے
25:35جاؤ تو وہ کرتا لے کے گئے اظہبو بھی کمیز ہی حاضہ یہ میرا کرتا لے جاؤ دیکھو اللہ والوں
25:42کے وجود سے جو چیز لگ جائے تبرک بن جاتے
25:44تو وہ کرتا لے کے گئے بھائی ابھی دور ہی تھے تو قرآن مجید کہتا ہے ابھی وہ دور تھے
25:52تو سیدنا یعقوب علیہ السلام فرمانے لگے بھئی مجھے یوسف کی خوشبو آ رہی ہے
25:58مجھے نہ یوسف کی اللہ اکبر کون اندازہ کرے باپ اور بیٹے کی محبت کا مجھے نہ خوشبو آ رہی
26:06ہے یوسف کی خوشبو مجھے خوشبو آ رہی ہے
26:09تو حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام کی آنکھوں پر ڈالا تو روشنی واپس آ گئی
26:14کعبہ جیدنا چل کے دیکھو تو صحیح رب نے آپ کے بیٹے کو کتنی شانے عطا فرمائی
26:19چلو نا یہ بہتر لوگ تھے جو یہاں سے چلے کنان سے
26:25اور ہزاروں کا لشکر لے کر حضرت یوسف آئے
26:29ہزاروں کا لشکر لے کے والد کے استقبال کے لیے
26:33اور جب باپ بیٹے کی ملاقات ہوئی
26:35تو امام غزالی فرماتے ہیں چار لوگ دنیا میں بڑا ہی روئے ہیں
26:40ایک حضور بڑا روئے ہیں امت کے غم میں
26:43اور ایک سیدہ فاطمہ بڑا ہی روئی ہیں حضور کے وسال کے بعد
26:47اور تیسرا فرماتے ہیں یعقوب بڑا ہی روئے ہیں حضرت یوسف کے لیے
26:52بڑا ہی
26:53اور چوتھے امام زہن العابدین بڑا ہی روئے ہیں واقعہ کربلا کے بعد
26:57یہ چار لوگ بڑا ہی روئے ہیں
26:59پھر جب ملاقات ہوئی دونوں کی
27:02تو اس درد سے ملاقات ہوئی
27:04کہ ہر آنکھ عشق بار ہو گئی
27:07باپ بیٹے اتنی وارفتگی سے مل رہے تھے
27:10اتنی وارفتگی سے
27:12کہ دائیں بائیں انہیں خبر ہی نہ رہی
27:15کہ باقی لوگ بھی ہیں
27:16حضرت علامہ اسمائیل حقی نے لکھا ہے
27:19کہ جناب جبریل امین حضرت یعقوب کے کان میں کہنے لگے
27:22بس کریں اوپر تو درہا نظر اٹھائیں
27:24فرشتے بھی دیدار کے لیے آئے ہوئے
27:27دیکھیں اللہ کے فرشتے بھی آئے ہیں
27:29اس منظر محبت کو دیکھنے کے لیے
27:33حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام
27:36حضرت یوسف کی والدہ
27:38اور پھر آپ کے گیارہ بھائی
27:40سارے آپ کے لیے سجدے میں گر گئے
27:42تو حضرت یوسف کہنے لگے
27:44اببا جی یہ وہ میرا خواب ہے
27:45جو میں نے بچپن میں دیکھا
27:47یہ وہ میرا خواب ہے
27:48حضرت سیدنا یعقوب علیہ السلام
27:51پھر کم و بیش
27:53لگ بگ تئیس سال
27:54کچھ نے لکھا ہے
27:55چالیس سال مصر میں رہے
27:57اور جب وسال ہونے لگا
27:59تو حضرت یوسف سے فرمانے لگے
28:01بیٹا مجھے یہاں دفن نہ کرنا
28:02مجھے وہیں لے جانا
28:04جہاں میرے والد دفن ہے
28:06وہاں جا کے وہ دفن ہوئے
28:08حضرت یوسف علیہ السلام نے
28:09پھر سالوں حکومت کی مصر پر
28:12پھر وہیں ان کی تدفین ہوئی
28:14اور جب تدفین ہوئی
28:16تو اختلاف ہو گیا
28:17اور قبیلہ کہتا تھا
28:18ہم نے اپنی طرف یوسف کو دفن کرنا ہے
28:20اس لئے کہ جس طرح ان کو دفن کریں گے
28:23خوشحالیاں ہوں گی
28:24پھر فیصلہ ہوا
28:25کہ سنگ مرمر کے تابوت میں
28:27رکھ کے حضرت یوسف کو دفن کیا جائے
28:29اور دفن کرنے کے بعد
28:31ایسی جگہ پہ دفن کیا جائے
28:33جہاں سے پانی چھو کے گزرتا ہے
28:34تو ان کو وہاں دفن کیا گیا
28:36پانی چھو کے گزرتا تھا
28:38لوگ کھیتیوں کو لگاتے تھے
28:39اور مصر سرسبد و شاداب رہتا تھا
28:42اور پھر حدیث پاک میں موجود ہے
28:45مولا علی شیر خدا
28:47رضی اللہ تعالی
28:49انہو فرماتے ہیں
28:50کہ نبی کریم علیہ السلام کی بارگاہ میں
28:53ایک آرابی آیا
28:54حضور نے فرمایا کچھ مانگ لو
28:58اس دیاتی سے
28:59حضور نے فرمایا
29:00ہے آج وہ مائل باتا اور بھی کچھ مانگ
29:03کچھ مانگ لے
29:05تو کہنے لگا حضور آپ مجھے سواری کے لیے اوٹ دے دیں
29:08حضرت علی کہتے ہیں
29:10میں نے کہا ہے افسوس مانگا بھی تو کیا مانگا
29:13حضور نے فرمایا
29:14چل کچھ اور مانگ لے
29:15کہنے لگا چلے آنے جانے کے لیے
29:17قرآہ بھی دے دیں
29:18زادرہ بھی دے دیں
29:19کھانے
29:19کیا مانگا
29:20تو حضور علیہ السلام نے اسے دے دیا
29:23تو معبوب فرمانے لگے
29:24تجھ سے تو موسیٰ علیہ السلام کے دور کی وہ بوڑی اچھی تھی
29:29کہا وہ بوڑی کونسی بوڑی
29:31تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے
29:33رب کریم نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا
29:36کہ جب آپ مصر سے نکلیں
29:37تو حضرت یوسف کی
29:39قبر کو کھوڑ کر
29:40ان کا تابوت بھی ساتھ لے جائے
29:44حضرت سیجنہ
29:46موسیٰ علیہ السلام نے
29:47عرض کی مالک وہ کیسے پتا چلے گا
29:49فرمایا وہ تو آپ نے خود ہی پتا کرنا ہے
29:51کہ وہ تابوت کہاں ہے
29:53وہ دریا کے اندر تھا
29:54کیسے پتا کرنا ہے
29:55پتا کرتے کرتے پتا چلا
29:56کہ ایک بڑی امہ ہے
29:57اسے پتا ہے تابوت کہاں ہے
29:58وہ کدھر ہے تابوت
30:00تو بڑی امہ کو پتا ہے
30:01حضرت موسیٰ بڑی کے پاس گئے
30:03کہنے لگے امہ وہ تجھے پتا ہے
30:04یوسف کی قبر کہنے لگی پتا ہے
30:07تو کہ امہ پھر بتا دو
30:09کہنے لگے مفت میں بتا دو
30:12نبی کے مزار کا
30:13ڈریس اور فری میں بتا دو
30:15یہ کیسے ہو سکتا ہے
30:16تو حضرت سیدنا
30:18موسیٰ فرمانے لگے
30:20چل قیمت لے تبرانی کی حدیث ہے
30:21حضور بیان فرماتے
30:22حضرت موسیٰ کہنے لگے بتا کیا لے گی
30:25کہنے لگی مجھے نہ جنت میں
30:27وہ والا مکان دلائیں
30:28جس کے پڑوس ہی موسیٰ علیہ السلام ہو
30:32میری اور آپ کی دیوار کٹھی ہو
30:35کیا کی دیکند
30:37اللہ اکبر
30:38تو حضرت موسیٰ کہنے لگے
30:40چل امہ میر بانی کر جنت مانگ لے
30:42اب تو پڑوس ہی مانگنے لگ گئی ہے
30:44تو اب نبیوں کا درجہ تو بڑا ہوگا
30:46تو دینے والا اللہ ہے
30:47میں دعا کرتا ہوں
30:49تو کہنے لگی جی ٹھیک ہے
30:50اگر آپ نہیں دیتے تو میں ڈریس نہیں بتاتی
30:54تو حضرت موسیٰ نے لگے
30:56اس سے تو وہ اچھی تھی
30:57حضرت موسیٰ نے ارز کی
30:58کہ یا اللہ یہ نہیں بتا رہی
31:00تو اب کیا کروں فرمایا موسیٰ
31:03وعدہ تو کر لے
31:04مکان میں دے دوں گا
31:07وعدہ کر لے
31:08تو حضرت سیدنا یوسف کا مرتبہ دیکھئے
31:11کہ ان کے مزار کا پتہ بتانے کے لیے
31:14مزار کا پتہ مزار کا
31:17پتہ بتانے کے لیے
31:18اس خاتون نے حضرت موسیٰ سے جو قیمت لی
31:22وہ یہ تھی
31:23کہ میں جنت میں آپ کی پڑوسی بنوں گی
31:25پھر اڈریس بتاؤں گی
31:26تو حضرت موسیٰ نے وعدہ کیا
31:29تو پھر اس نے پتہ بتایا
31:30کہ فلان جگہ مزار ہے
31:31یہ تقریباً سینکڑوں سال بعد
31:33حضرت موسیٰ وہ وہاں سے نکال کے
31:37تابوتو اپنے ساتھ لے کر کے گئے
31:39یہ وہ واقعہ جسے
31:40قرآن نے اخصد القصص قرار دیا
31:43اللہ کریم نے ہمیں اس واقعے میں یہ بتایا ہے
31:46کہ معاملات زندگی سے گھبرایا نہ کرو
31:49جب بھی کوئی آزمائش آتی ہے
31:51تو پھر اللہ دو آسانیہ عطا کرتا ہے
31:54اور یہ بھی یاد رکھیں
31:55جو آسانیوں والے ہوتے ہیں
31:57آزمائشیں بھی
31:58انہیں ہی آتی ہیں
31:59جو لادلے زیادہ ہوتے ہیں
32:01کئی دفعہ تکلیفیں بھی زیادہ
32:02اللہ تعالیٰ لادلوں کو تکلیفوں سے محفوظ رکھے
32:06لیکن تکلیفیں بھی زیادہ
32:08انہیں ہی آتی ہیں
32:09حضرت یوسف لادلے تھے
32:11تو سیدھے کوئے میں گئے تھے
32:12لیکن اللہ بڑا کریم ہے
32:14بانیوں نے بیس درہم قیمت لگائی
32:17تو رب کریم نے فرمایا
32:18دیکھنا پھر میں اپنے یوسف کی کیا قیمت بیان کرتا ہوں
32:21پھر کروڑوں اور عربوں قیمت لگی
32:24پھر کہاں کی آزمائش تھی
32:26کہاں کی بات تھی
32:27وہ ہر جگہ صابر رہے
32:29کسی جگہ ان کا کوش شکوہ نظر
32:32ایک تقوی دوسرا صبر
32:34خاموشی
32:35ہم لوگ نہ بول کے لڑکے فتح
32:38اصل کرنا چاہتے ہیں
32:39یاد رکھنا
32:41آخری بات ارز کرنے لگاؤں
32:45صبر کرنا اور کام کرنا
32:48صبر کرنا اور اپنے حصے کا
32:51ریزلٹ اپنی مرضی کا نہ مانگنا
32:55ریزلٹ رب کریم کی مرضی کا
32:57نتیجہ
32:59صبر کریں اور اپنے حصے کی
33:00ڈیوٹی کریں
33:02پھر دیکھیں اللہ کتنا عطا فرماتا ہے
33:04ڈیوٹی میں بھی کمزوری نہ کریں
33:06اور بے سبری کا مظاہرہ بھی
33:08کبھی نہ کریں
33:09اللہ تعالی ہمیں حضرت یوسف کا صدقہ نصیب فرمائے
33:13آخر دعویٰ

Recommended