- 1 day ago
🖤 Aks Novel – Episode 6 🖤
Kuch rishte mohabbat se shuru hote hain, aur kuch raaz zindagi badal dete hain… ✨🥀
Welcome to Aks Novel Episode 6! ❤️
Is episode mein dekhiye mohabbat, jazbaat, suspense aur dil ko chhoo lene wale lamhon ka ek khoobsurat safar. Kya mohabbat har raaz se parda utha payegi? Ya taqdeer ek naya imtihaan legi? 🌙🖤
📖 Novel: Aks 🎬 Episode: 6 ❤️ Genre: Romantic, Emotional & Suspense 🌹 Agar aapko Urdu novels aur romantic stories pasand hain, to video ko LIKE karein, apni rai COMMENT mein batayein aur mazeed episodes ke liye channel ko SUBSCRIBE karna na bhoolein!
🔔 Bell icon press karein taake koi bhi naya episode miss na ho.
Aapko Aks Novel ka Episode 6 kaisa laga? Apni favourite moment comments mein zaroor share karein! 💌
Thank you for watching! ❤️✨
Kuch rishte mohabbat se shuru hote hain, aur kuch raaz zindagi badal dete hain… ✨🥀
Welcome to Aks Novel Episode 6! ❤️
Is episode mein dekhiye mohabbat, jazbaat, suspense aur dil ko chhoo lene wale lamhon ka ek khoobsurat safar. Kya mohabbat har raaz se parda utha payegi? Ya taqdeer ek naya imtihaan legi? 🌙🖤
📖 Novel: Aks 🎬 Episode: 6 ❤️ Genre: Romantic, Emotional & Suspense 🌹 Agar aapko Urdu novels aur romantic stories pasand hain, to video ko LIKE karein, apni rai COMMENT mein batayein aur mazeed episodes ke liye channel ko SUBSCRIBE karna na bhoolein!
🔔 Bell icon press karein taake koi bhi naya episode miss na ho.
Aapko Aks Novel ka Episode 6 kaisa laga? Apni favourite moment comments mein zaroor share karein! 💌
Thank you for watching! ❤️✨
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00foreign
00:30شیردل بختیار اور مجتبہ
00:31سلیمی کے درمیان ہونے والے
00:33اس گفتگو کے دوران کمرے
00:36میں ہی تھا
00:37اوہ اچھا دوسری پوزیشن ہے
00:39بختیار نے مسکر آتے ہوئے شیردل کو دیکھا تھا
00:42وہ بھی جواباً مسکر آیا تھا
00:44تینک یو اور پہلی پوزیشن پر کون ہے
00:46شیردل باپ کے سوال پر
00:48بختیار مسکر آیا
00:49اس کے ذہن میں بھی
00:51اس وقت یہی سوال آیا تھا وہ کون ہے
00:54اس نے بختیار کے ماتے پر
00:56چند سوالیاں بل دیکھے
00:57وہ یقیناً پہلے نمبر پر آنے والی امید
01:00بار کے بارے میں پوچھ رہے تھے
01:01شیردل نے اندازہ لگایا
01:03اوکے
01:05اس نے بختیار کو وقفے وقفے سے کہتے سنا
01:08پھر چند دو رسمی جملوں کے بعد
01:10انہوں نے فون رکھ دیا
01:11شیردل نے تب ان سے پوچھا
01:13فرس پوزیشن پر کون ہے
01:15اور اس وقت شیردل نے پہلی بار
01:17اکس کا رام سنا تھا
01:19چند ہفتوں بعد شروع ہونے والے انٹرویو
01:22انٹرویوز انٹیلیجنس اور سائیکولوجسٹ
01:26اور سائیکولوجیکل
01:27ٹیسٹ کے دوران
01:28وہ جیسے لاشوری طور پر
01:30پہلے نمبر پر
01:31اس خاتون امیدوار سے کہیں نہ کہیں
01:34ٹکرانے کا منتظر رہا تھا
01:35وہ آمنہ سامنا کہیں نہیں ہو سکا تھا
01:38اکس کا نام اس نے دوسری بار ایک بار
01:40پھر اپنے باپ سے ہی سنا تھا
01:42سر توڑ کوشش کے باوجود
01:44شیردل تحریر امتحان کے ریزل
01:46کو دب دل نہیں کر سکا تھا
01:48فائنل ریزلڈ میں پہلے دس امیدواروں کی
01:50فہرست میں صرف پہلی دو
01:52پوزیشن پر
01:53موجود امیدوار تھے
01:55جنہوں نے تحریری امتحان کے ریزلڈ
01:58کو برقرار رکھا تھا
01:59باقی آٹھ امیدواروں کی پوزیشن میں تبدیلی ہوئی تھی
02:02اور ان میں سے کوئی بھی لڑکی نہیں
02:04تھی اور دراصل پہلی
02:06بیس پوزیشن میں صرف پہلی پوزیشن
02:08کے علاوہ باقی تمام
02:10لڑکوں کے پاس تھی
02:13ہیڈ آف
02:14ہیڈ آف دا ٹیبل پر کسی لڑکی
02:16کو دیکھ کر پاکستان میں کسی مرد کی
02:18اعناق کو جتنا جھٹکا لگتا ہے
02:20وہ جھٹکا شیردل کو بھی لگا تھا
02:22اور اسے یقین تھا تین سے
02:24دس نمبر تک موجود باقی تمام
02:26لڑکوں کو بھی پہلی پوزیشن پر
02:28آنے والے صرف اگر کسی کو دیکھتا ہے
02:30تو دوسری پوزیشن پر آنے والے
02:32کو یہ جیسے فاصلہ
02:34چیک کرنے کی ایک محتاط کوشش ہوتی
02:36ہے لیکن پہلی پوزیشن پر
02:38آنے والے کو سب دیکھتے ہیں باقی
02:40ساری پوزیشن پر موجود لوگ
02:42بیچ کی کسی پوزیشن سے اپنا
02:44فاصلہ نہیں نابتے وہ ٹاپ
02:46پر موجود شخص سے ہی
02:48کمپیریزن کرتے ہیں اور
02:50یہ فرق شیردل سے زیادہ کوئی نہیں
02:52جان سکتا تھا جو ہمیشہ
02:54ٹاپ لیڈر پر آتا
02:56ٹاپ لیڈر پر آتا
02:57سوری لکھا ہے کہ جو
03:00ہمیشہ ٹاپ لیڈر پر بیٹھتا آیا تھا
03:04اس کا خیال تھا اس کے کے اور
03:06اکسے کے درمیان نیک اور نیک
03:09نیک ٹو نیک فائٹ ہوئی ہوگی
03:11مارکز اور پرسنٹیج کی
03:12لیکن ایک اور کاری ضرب
03:14اسے اس وقت لگی جب اکسیار
03:16نے اس کی یہ خوش پہمی بھی
03:17دور کر دی تھی
03:19اکسے اور اس کی پرسنٹیج میں
03:20بہت فرق تھا اور پہلی پوزیشن
03:23سے ہاتھ ہونے کے بعد یہ دوسری
03:24حظیمت تھی جو شیردل نے
03:27اڑھائی تھی اکسے سے اس کا تیسرا
03:29تعرف نیوز پیپر میں ٹاپ کرنیوری
03:31امید وار کے انٹرویو کے
03:33ذریعے ہوا تھا شیردل بختیار
03:35کی وجہ سے اکسے کے فیملی بیک گراؤنڈ
03:37سے تحریری امتحان کے بعد
03:39ہی واقف ہو گیا تھا اب اکرے سے
03:41دلچسپ بھی باقی تھی تو وہ چہرے
03:43کے حوالے سے شناس آئی تھی
03:45وہ ایک انگلیش نیوز پیپر کا
03:47یوث ایڈیشن تھا جس میں
03:49اس نے پہلی بار اکس کی شکل
03:51دیکھی تھی
03:52بندے بے بالوں دھولے چہرے اور جدید
03:55تراش خراش کے سوڑ میں ملبوض
03:57ایک جو نوجوان
03:58اٹریکٹیو لڑکی جو خوبصورتی
04:01کے بہرحال اس
04:03میار پر نہیں آتی تھی جت پہ
04:05شیردل رکھ کر کسی بھی
04:07لڑکی کو خوبصورت قرار دیتا تھا
04:09وہ اس کے باوجود
04:11اس کی تفویر کو بہت دیر تک دیکھتا
04:13رہا یہ جیسے اکیڈمی میں
04:15اپنے رائیول سے ملاقات سے پہلے
04:17اس کو جج کرنے کی ایک کوشش تھی
04:19شیردل نے اکس ایک انٹرویو کے
04:21ہج جواب کو بہت دھوڑ سے پڑا تھا
04:22ان جوابوں کے بغیر بھی اسے اس لڑکی کی
04:25ذہانت اور قابلت پر شبہ نہیں تھا
04:27لیکن اس کے باوجود شیردل نے
04:29بہت وقت صرف کیا
04:30بہت وقت صرف کیا تھا
04:32ان سوالات اور ان کے جوابات پر
04:35وہ ڈی ایم جی کی
04:36الوکیشن میں ایک بر پھر پہلے نمبر پر تھی
04:39شیردل کے کامن کے
04:41اٹھارہ لوگ ڈی ایم جی میں
04:43جا پہے تھے
04:44اور اٹھارہ الائٹ
04:46کے اس گروپ میں صرف ایک لڑکی تھی
04:49اور یہ تیسری بار تھا جب نیوز پیپر
04:51میں شیردل نے اپنا نام
04:52اس کے نام کے نیچے دیکھا تھا
04:54ہتتک ہی ہتتک ہی ہتتک تھی
04:58تیری ہے زمین
04:59تیرا آسمہ
05:00تُو بڑا مہربان تُو بکشش کر
05:03سبھی کا ہے تُو سبھی تیرے
05:05خدا میرے تُو بکشش کر
05:07اسمبلی کا وسیع عریض ایریا صبح کے
05:09اس وقت صرف ایک آواز سے
05:11گونج رہا تھا
05:12چڑھیا کی آواز سے جو اس اسمبلی کے سامنے
05:16ایک سیمنٹڈ
05:17پلیٹ فارم پر مائک کے سامنے
05:20بہت جذب سے
05:21یہ دوائیہ کلام پڑھ رہی تھی
05:23اسمبلی ایریا میں موجود تمام لوگ
05:25جیسے کسی ٹرانس میں تھے
05:27اور مہینہ میں ایک بار ضرور ہوتا تھا
05:29جب چڑھیا کو
05:32سسٹر اگنیس خاص طور پر
05:33اسمبلی میں یہ دوائیہ کلام
05:35پڑھنے کے لئے بلواتی تھی
05:37اسکول میں ہونے والی تقریبات میں بھی
05:39چڑھیا کو اسی دوائیہ کلام
05:41کے لئے بلوائی جاتا تھا
05:42مسلمان ہونے کے باوجود
05:44تیری مرضی سے اے مالک
05:47ہمیں دنیا میں آئے ہیں
05:49تیری رحمت سے ہم سب نے
05:51یہ جسم جان پائے ہیں
05:52سما باندھنا شاہر چڑھیا کے دوائیہ کلام
05:54کے لئے بہت چھوٹا لفظ تھا
05:57اس کی میٹھی آواز اور ملائم
05:59تو تھی ہی لیکن اس میں
06:01ایک عجیب کا سوز تھا
06:06ان کا اگر بس چلتا تو وہ غیر مسلم ہونے
06:09کے باوجود اسے اسکول
06:10کیور کا حصہ بنا دیتے
06:12اور انہیں یقین تھا کہ اگر چڑھیا اس کیور کا حصہ ہوتی
06:15تو وہ کیسا لکھ
06:16بورڈ آف ایڈکیشن کے دیرے
06:18تمام ہونے والے تمام ریجنل مقابلت
06:21جیت آتی
06:21تیری ہے زمین تیرا آسمان تو بڑا مہربان
06:25تو بخشش کر تب ہی کا ہے تو
06:26سب ہی تیرے خدا میرے
06:28تو بخشش کر
06:29میزک ٹیچر سر جیمز کی بورڈ پر
06:32انگلیاں چلاتے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے
06:34لا شوری طور پر اسے ہدایت دے رہے تھے
06:37لیکن وہ جانتے تھے
06:38چڑھیا کو ان کی ہدایت کی ضرورت نہیں ہے
06:40وہ اس کلام کو گانے میں استاد تھی
06:43تمام اسمبلی
06:44اب چڑھیا کے ساتھ
06:46ڈیووشنل سونگ کو گھا رہی تھی
06:48خدا میرے تو بخشش کر
06:50پہلی تین لائن سکورس کی شکل میں
06:52گانے کے بعد آخری لائن
06:53لائن پھر چڑھیا نہیں گئی تھی
06:56وہ ایک ریچول تھی
06:57وہ میٹھی ملائے مدھر آواز
06:59کی بورڈ کے سی میجر نوٹس پر
07:03ہائی نوٹسے لو میں آتے ہوئے
07:05اس سونگ کا استطام کر رہی تھی
07:07اسمبلی میں گونٹی تھی
07:08تعلیوں کے درمیان چڑھیا ایک اور
07:10فلاالس
07:12رینڈیشن کے بعد
07:15اسٹیٹ سے ہتھ رہی تھی
07:16اور اس وقت اس نے باربیڈول کو بھی
07:19دائن جانک بینی لائنز میں کھڑا دیکھا تھا
07:21جو اس کے لئے جوش کے علم میں تاریاں بجا رہی تھی
07:25منٹسوری
07:26ونگ ہفتے میں
07:28ایک بار کمبائنڈ اسمبلی
07:30اٹن کرتا تھا اور آج بھی ایسا ہی
07:32ایک دن تھا باربیڈول
07:34اس دن مکمل طور پر چلیا کہ عشق میں
07:36گرہتار ہو گئی تھی
07:37اس کی آواز کے عشق میں
07:39اس کے اسٹارڈم کے عشق میں
07:40جو اس کا اسکول میں تھا
07:42اور اس ریڈ سچ کے عشق میں
07:45جو اس کے کندے پر سجی ہوئی تھی
07:48سیش
07:48اور اس ریڈ سیش کے عشق میں جو اس کے کندے پر سجی ہوئی تھی
07:52اور دن سپیر کو ہموک کرتے ہوئے
07:54باربیڈول لا شوری طور پر
07:56وہی ڈیووشنل سونگ آتی رہی
07:58جو اس نے اسمبلی میں چڑیا سے سنا تھا
08:00اور اس کی ماں نے یہ نوٹس کیا تھا
08:03اس کے پوچھنے پر باربیڈول نے
08:04اسے چڑیا کے ہیرویک
08:06کے بارے میں بتایا تھا
08:08اس کی ببنی مسکراتے ہوئے سے
08:10یہ سب سنتی رہی تھی
08:11پھر انہوں نے باربیڈول سے کہا تھا
08:13اچھا چلو سنوں گی
08:14اچھا چلو سنوں گی میں بھی اس سے کسی دن کچھ
08:18لیکن اس کی ممی نے چڑیا سے کچھ سننے کی کوشش نہیں کی تھی
08:21گھر میں اڈجیس ہو جانے کے بعد
08:23وہاں ان کی مصروفیات شروع ہو چکی تھی
08:26اور ان مصروفیات میں
08:27نوکر کی ایک نواتی سے
08:29کوئی ڈیووشنل سانگ سننے میں
08:31کسی کو دلچسپی ہو سکتی تھی
08:33البتہ چڑیا اور باربیڈول
08:35اب اسکول میں دوسرے کیے کوئی زیادہ
08:37کلوز ہو گئی تھی لیکن گھر میں
08:39یہ دوری اب تک برقرار تھی
08:41لیکن ایبک کی آمد نے جہاں
08:43اور بہت سی جگہوں سے برف پہلائی تھی
08:45وہاں یہ برف بھی پہلا دی تھی
08:47چڑیا باہستہ آہستہ اس وقت
08:49وہ آنے لگی تھی جب گھر میں
08:51موجود بچے کھیل رہے ہوتے
08:53ہاں البتہ بڑوں کی موجودگی میں وہ
08:55ایک بار پھر اس طرح چھپ کر سب کچھ دیکھنے
08:57کی کوشش کرتی تھی
09:05صلاحیت رکھتی تھی
09:08اور ایک بے حد
09:09لائکیبل پرسنلیٹی کی مالک تھی
09:11اس کے نام اور کام کی بادگرش
09:14تھی سربار بھی ڈول اور ایبک تک
09:15ہی محدود نہیں رہی تھی وہاں
09:17ایسا ایسا گھر کے دوسری افراد تک بھی پہنچنے
09:19لگی تھی ایبک نے ایک دن اپنی انکل
09:21کے ساتھ شہطرنج کھیلتے ہوئے کہا
09:23انکل جب شہطرنج بورڈ پر
09:25کوئین سب سے پاورفل ہے
09:27تو پھر بورڈ تو کوئین کا ہونا چاہیے
09:30کوئین ہی کوکنگ ہونا چاہیے
09:33ایبک نے شریعہ کی زبان سے سونی
09:35لوجک اپنے انگل کے سامنے پیش کر دی تھی
09:37ایبک کی ممی بھی اس رکھ
09:39کوئی میکزین دیکھتے ہوئے وہی موجود تھی
09:42انٹرسنگ
09:42انکل نے چال چلتے ہوئے بے ایک تیار
09:44ایک مسکرہت کے ساتھ کہا
09:45ہونا چاہیے نا
09:47ایبک نے سوال یہ انداز میں پوچھا
09:48ہونا چاہیے لیکن ہو نہیں سکتا
09:50اس کے انکل نے مسکراتے ہوئے لیکن دو
09:53ٹوک انداز میں اس سے کہا
09:54لیکن کیوں ایبک نے جواب کے لئے
09:57اسرار کیا وہ جیسے چڑیہ کے لئے
09:59جواب کو کھوج رہا تھا جو چڑیہ کی
10:01اس لوجک کو غلط ثابت کرے
10:04جو چڑیہ کی
10:05اس لوجک کو غلط ثابت کر دیتا
10:07کیونکہ یہ رول ہے لیکن تمہیں
10:09کہا کس نے ہے سوال کا جواب دیتے ہو
10:11اس کے انکل کو جیسے اچانک
10:12خیال آیا تھا کہ یہ سوال ایبک
10:15کا اپنا نہیں ہو سکتا
10:16چڑیہ نے کہا ایبک نے مدھم آواز میں
10:18کہا اور پھر اس نے سوچ سوچ گا
10:20چڑیہ کے لوجک بتائی تھی
10:22ایبک کی ممی میکزین ہاتھ میں لیے
10:24بہت سنجیدگی سے اس کی گفتگو سنتی رہی تھی
10:26پھر بات ختم کرنے پر انہوں نے
10:28اسی سنجیدگی کے حال میں اپنے بھائی سے کہا تھا
10:31اور امبیشیس
10:32انہوں نے جیسے ایک لفظ میں چڑیہ کو
10:34ڈسکرائب کیا
10:35تم درہ دیکھو آج کار نوکروں کے بچے
10:37اگر اچھے سکول میں پڑھنا شروع ہو جائیں
10:39تو وہ بیٹھ کر کیا کیا خیالی پلاؤ بنانا
10:42شروع ہو جاتے ہیں
10:43اور اپنے بچوں کو کیا کیا باتیں سکھانا شروع ہو جاتے ہیں
10:46عمر سے پہلے مچھو اور چلاک بنا دیتے ہیں انہیں
10:49اب تم اس لڑکی کی باتیں سنو
10:51لگتا ہے یہ کہیں آٹھ نو سال کی بچی کی باتیں ہیں
10:53یقیناً یہ سب خیر دین اور اس کی بیٹی کی باتیں ہیں
10:57جو یہ بچی سن سن کر
10:58اپنی انٹرپریٹیشنز کے
11:02ساتھ دیتی پھر رہی ہے
11:04ایبک کی ممی اب بے حد خفا انداز میں بات کر رہی تھی
11:07کہیں نہ کہیں کچھ نہ کچھ
11:09اس گفتگم ایسا تھا
11:10جو نے بری طرح چھبا تھا
11:12ایبک کے انکل جوابن مسکراتے ہوئے
11:14ایبک کے ساتھ چیس بورڈ پر
11:16چیس کے مہرے آگے پیچھے کرتے رہے
11:18تم دیکھو
11:19ڈی سی ہاؤس کے سربنٹ کورٹرز میں بیٹھ کر
11:21یہ نوکر کیسی باتیں کرتے رہتے ہیں
11:23یہ یہاں بادشاہ کے محل میں بیٹھ کر
11:25بغاوت کی تیاری کی کوشش ہوئے ہیں
11:27انہوں نے جیسے بے حد خفگی کے حالہ میں
11:29اپنے بھائی سے کہا تھا
11:30اور اس بچی کو
11:34اور اس بچی کو کانو نٹ میں
11:37کانو نٹ میں ایڈمیشن دلوانے کا کارنامہ
11:40یقیناً تمہاری بیوی کا ہوگا
11:42یہ مذہ تریسہ بننے کے دورے
11:44اسی کو بڑھتے ہیں
11:45پوچھوں گی میں ایسے
11:46ایبا کی ممی کو چڑھیا کی وہ باتیں
11:48واقعی میں ہی بری لگ گئی تھی
11:50ورنہ وہ چھوٹے چھوٹے بات پر
11:51اس طرح ریاکٹ کرنے والی خاتون نہیں تھی
11:53اور خاص طور پر کسی بچے کی بات پر
11:55ریاکٹ کرنے والی
11:56وہ ریزرڈ تربیت کی
11:59طبیعت کی مالک تھی
12:01مگر بہرحال خوف خدا رکھنے والی خاتون تھی
12:03نہیں یہ ہمارا کارنامہ نہیں ہے
12:05ایبا کینکل نے اپنا اگلا مہرہ آگے بڑھاتے
12:07بے بے ساکتا بہن کے خف کی دور کرنے کی کوشش کی تھی
12:11یہ ہم سے پہلے یہاں سرب کر کے
12:13جانے والے افیسر اور اس کی بیوی کا کمال ہے
12:15اس بچے کی فیس وغیرہ بھی وہی پے کرتے ہیں
12:18ہم لوگوں نے تو اسے
12:19کوارٹر میں رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہے
12:21خیر دین کو
12:22میں جب بھی اسکول جاتا ہوں
12:26سٹر اگنس اس کی بہت تعریف کرتی ہیں
12:29انہوں نے تفصیل سے بہن کا بتایا تھا
12:31وٹیور
12:32دیکھو تو سہی کیسی باتیں کر رہی ہے
12:34ان کے بھائی نے ایک بار پھر چڑھیا کا دفاع کیا تھا
12:37آج کل کے بچے
12:38ویسے ہی ضرورت سے زیادہ سمارٹ ہوتے جا رہے ہیں
12:41ایبک نے بتایا تھا
12:42کہ وہ شترنج بھی کھیلتی ہے
12:43تو
12:45ایکسپشنل اور
12:47دیفینیٹلی
12:50ایبک نے بتایا تھا
12:51کہ وہ شترنج بھی کھیلتی ہے
12:53تو دیفینیٹلی وہ ایکسپشنل ہی ہوگی
12:55اس لیے ضروری نہیں کہ خیر دین اور اس کی بیٹی
12:58ہی ایسی باتیں کرتے ہوں
12:59اس کے ساتھ
13:00ہر دین اچھا سمجھ دا شریف آدمی ہے
13:03یہ اس نے کہا تھا
13:03ایبک کی ممی نے کچھ مزید خفا ہو کر
13:05ان سے کہا
13:06ان کا بھائی بے ساکتا ہنسا
13:08اور اس نے ایبک کے بولنے سے پہلے کہا
13:10یہ میرے نیفیو کی اسسسمنٹ ہے
13:13کہ وہ اتنا اچھا کھیلتی ہے
13:15کہ مجھے بھی وہ حیران سکتی ہے
13:17ایک کی ممی نے
13:18اس بار ایبک سے کہا
13:21ایبک کی ممی نے اس بار ایبک سے کہا
13:23ایبک تم اب اس کے ساتھ نہیں کھیلو گے
13:25ایبک ماں کی تنبیہ پر حیران ہو
13:27لیکن ممی کیوں
13:28اس سے پہلے کہ وہ کا جواب دیتی
13:30اس کے انکل کسی ویٹر سے ملنے کے لیے
13:32اٹھ کر چلے گئے
13:33کیونکہ یہ مجھے پسند نہیں ہے
13:35ایبک کی ممی نے بہت مستحق کم آواز میں اس سے کہا
13:38but she is a good girl
13:40ایبک نے اس کا دفاع کیا
13:42I'm sure she is a good girl
13:43لیکن بیٹا وہ ایک سرونٹ کی بچی ہے
13:45اور میں آپ کو ہمیشہ سے کیا سمجھاتی آئی ہوں
13:47ان کی اور ہمارے status میں بہت فرق ہے
13:52ہمیں ان سے تھوڑا فاصلے پر رہنا چاہیے
13:54اس بار اس کی ممی نے اس کو بڑے پیار سے
13:56اور آسانیت سے سمجھانے کی کوشش کی تھی
13:58اور پھر وہ تو ہے بھی ایک لڑکی
14:00آپ کو لڑکیوں کے ساتھ friendship کرنے کی
14:03کیا ضرورت ہے
14:05آپ بھائی کے ساتھ دوستی کریں
14:06بہن کے ساتھ دوستی کریں
14:08stay away from her
14:09ایبک نے ایک لمحے کے لیے
14:11چیز بورڈ کو دیکھا پھر ممی کو
14:12پھر اس نے کچھ سوچ کر کر
14:14لیکن ممی میں تو اس کو
14:15ٹینٹ کھیلنا سکھا رہا ہوں
14:17میں اس کے ساتھ کھیلنا چھوڑ دوں گا
14:18تو پھر اس کو ٹینٹ کھیلنا نہیں آئے گا
14:21اس نے جیسے اپنے لئے
14:22چڑھیا کے ساتھ رہنے کا
14:23کوئی بہانہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی
14:25یہ جانے بغیر کہ
14:26وہ کتنا بچکانہ سکت بہانہ تھا
14:28اس کو ٹینٹ سکھانا
14:29تمہاری ذیمہ داری تو نہیں ہے
14:31وہ کہیں سے بھی سیکھ سکتی ہے
14:33ایبک کی ممی نے درہ سجن جھلا کر کہا
14:35لیکن ممی وہ افورڈ نہیں کر سکتی
14:37آپ کو پتا ہے اس کے پاس ریکٹ بھی نہیں ہے
14:39ایبک کو چڑھیا سے ایک بر پھر ہم درد دی
14:42تو یہ ہماری ذیمہ داری نہیں ہے
14:44اس کی ممی اور نانا کی ذیمہ داری ہے
14:46لیکن ممی اس کے پاپا بھی تو نہیں ہے نا
14:49آپی تو کہتی ہمیں ان کے ساتھ بہت قائن ہونا چاہیے
14:51جن کے پاپا نہ ہو
14:52اور ہم کو ان کا بھی خیال رکھنا چاہیے
14:55ایبک نے ممی کو ان کی کہی جانے والی
14:57بات جہا دلائی
14:59چند ہموں کے لئے اس کی ممی کو جواب نہیں دے پائی تھی
15:01بڑوں کا سارا مسئلہ یہ ہوتا ہے
15:03کہ وہ ایک ہی وقت میں چھوٹوں کا نصیت کے ذریعے
15:05اچھائی اور عمل کے ذریعے
15:07برائی سکھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں
15:09اور اس کوشش کا نتیجہ میں تربیت نہیں
15:12کنفیشن دیتے ہیں
15:13اس کے نانا ہے نا اس کی ممی نے کمزور لوجک دی
15:16پر اس کے پاپا تو نہیں ہے نا
15:18ایبک نے درکی بہ درکی کہا
15:19دیکھو کسی سے دور رہنے کا یہ مطلب تو نہیں
15:21کہ ہم اس کے ساتھ انکائن ہیں
15:23میں یہ تھوڑی کہہ رہی ہوں
15:25کہ تم اس سے بات تمیزی کرو
15:26یا اس کو تکلیف پنچاؤ
15:27بیٹا میں صرف یہ کہہ رہی ہوں
15:29کہ تم اس سے دور رہو
15:31ایبک نے اس بار ماں سے کچھ نہیں کہا تھا
15:33وہ چیس بورڈ پر اپنے محروں گاگے پیچھے کرتے ہوئے
15:35مصروف دکھنے کی کوشش کرتا رہا تھا
15:37ایک چھوٹا سا بچہ ہونے کے باوجود
15:39اس کو اپنی ممی کے آرگومنٹ کے کمزور ہونے کا اندازہ ہو گیا تھا
15:44اگلے دن وہ ٹینس کور پر تھا
15:46جب ہمیشہ کے طرح اپنے مقرر وقت پر چڑیا وہاں آگئی تھی
15:49ایک بچے کی زندگی کا سب سے مشکل ترین مرحلہ
15:52اس کو بھی درپیش تھا
15:54ایک چیز جو اس کی پسندیدہ تھی
15:56اور دوسری طرف اس کی ممی کی ہدایت تھی
15:58ایک بچہ ہوتے ہوئے بھی وہ یہ جان سکتا تھا
16:01کہ چڑیا کے بارے میں اس کی ممہ کی رائے
16:03اور اندازہ ٹھیک نہیں تھا
16:05وہ واقعی کچھ لڑکی تھی
16:06پر دوسری طرف وہ ایک اوپیٹین بچہ بھی تھا
16:09بڑا بھائی اور ایک ایسا بچہ
16:11جس کی فرما برداری کی سب مثالیں بھی دیتے تھے
16:13کڑیا نے آتے ہی سپورٹس کٹ کو کھول کر
16:16اس میں سے ہمیشہ کے درہ دو ریکٹ نکالنے کی کوشش کی
16:19کٹ میں ہر خلافے معمول دوسرا ریکٹ نہیں تھا
16:22اس نے حیرانی سے ایبک کو دیکھا
16:23جو اسے مکمل طور پر نظر انداز کی
16:25اپنے ریکٹ سے گیند کو دوسرے کورٹ میں پھینکنے میں مگن تھا
16:29وہاں اس کی ہیلو کا جواب نہیں تھا
16:31کوئی آئی کانٹیکٹ نہیں تھا
16:33ایبک ایبک
16:35اس نے ایبک کو متوجہ کرنے کی کوشش کی
16:37وہ متوجہ نہیں ہوا
16:38وہاں مکمل خاموشی تھی
16:42سیل فن بچ رہا تھا
16:44لیکن دوسری طرف سے کال رسیب نہیں ہو رہی تھی
16:49ہونے کے انتظار کرتا رہا
16:50اس کی زندگی میں جتنا انتظار رسورت نے کروایا تھا
16:53کسی نے نہیں کروایا تھا
16:55سیل فن بہت دیر تک بجتا رہا
16:57پھر شیر دل نے کل ختم کر دی
16:59شیر دل ہیر پلیز کال می بیک
17:02ایک ٹیکس لکھ کر
17:03اس نے اکس کو بھیجتے ہوئے
17:04اس نے اپنا سیل سامنے پڑی ٹیبل پر رکھ دیا
17:07سیگرٹ کے کیس سے ایک سیگرٹ نکال کر
17:09ہونٹوں پر دباہ کا سلگھاتے ہوئے
17:11اس نے ٹانگیں دوبارہ ٹیبل پر رکھ دی تھی
17:14سیگرٹ کے کش لیتے ہوئے بھی
17:15اس کی نظر مسلسل سیل فون کی تاریخ
17:17سکرین پر جمعی تھی
17:19اگر وہ ایک رونگ نمبر سے کال نہیں لے رہی تھی
17:22تو کمہ سامنہ وہ اپنا تارف کروا چکا تھا
17:24تارف کروائے بھی تین منٹ ہو چکے تھے
17:27وہ دل ہی دل میں ذرا سا جنجل آیا تھا
17:29اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا
17:31سیگرٹ کا کش لیتے ہوئے
17:33اس نے یاد کی آخری بار دونوں کی بات کب ہوئی تھی
17:35تقریباً ایک سال پہلے جب اس نے
17:37اکسے کو اس کی بڑھ سڑے پر
17:39مبارک بات دینے کیلئے فون کیا تھا
17:41وہ اس وقت امریکہ میں تھی
17:43ان کی بات آدھے گھنٹے تک ہوتی رہی تھی
17:45پھر دونوں عیدوں پر ان کے درمیان
17:47بات نہیں ہو سکی اکسے کا فون نمبر
17:49بند تھا اور آنسر فون
17:51آن تھا شیئر دل نے اس کیلئے
17:53مبارک بات کے پیغامات چھوڑ دیئے تھے
17:55دونوں بار مبارک بات کا کوئی جواب نہیں آیا
17:57یہ تو ممکن نہیں تھا کہ اتنے
17:59شیئر دل کے میسج نہ سنے ہوتے
18:01شیئر دل کو ایک مبہم انتظار تھا
18:03اور کیوں تھا اس کا جواب
18:05وہ اپنے آپ کو نہیں دے سکتا تھا
18:07پچھلے پانچ سالوں میں
18:09ان کی بہت کم ملاقاتیں ہوئی تھیں
18:10خاص طور پر شیئر دل کی شادی کے بعد تو تقریباً
18:13نہ ہونے کے برابر
18:14اس کے باوجود شیئر دل کو اس کے بارے میں
18:16سب کچھ پتا چلتا رہتا تھا
18:18یا پھر وہ خبر رکھتا تھا
18:20شیئر بانوں سے مانگنے کے بعد
18:22چند مہینوں بعد ہی
18:24اسے اکس ایک اسلام آباد میں
18:25پوسٹنگ کے بارے میں پتا چلا تھا
18:27شیئر دل بوسٹنگ میں بیٹھا تھا
18:29تین دن اس اطلاع کو حضم کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا
18:32یہ نقابلے یقین بات تھی
18:34وہ اس سے پہلے پشاور میں تھی
18:36پشاور سے سیدھا اسلام آباد
18:38جیسی
18:42کوویٹڈ پوزیشن
18:44پر جہاں تمام پوڈیٹیکل اور ملٹری
18:46بگ وگز اپنے بچے اور
18:48بھجے بتیجوں کو پوسٹ کروانے کے لئے
18:50جورت اور کرتے پھرتے ہیں
18:52وہاں ایک خاتون افیسر وہ بھی
18:54اکس مراد علی کی تائناتی
18:55حیران کن تھی
18:57اور شیئر دل سے یہ کیسے حضم ہو سکتی تھی
18:59جب وہ بات
19:01جب وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا
19:03کہ اگر وہ فل برائیڈ سکولر کے طور پر
19:06ہارورڈ میں نہ ہوتا
19:07تو اس وقت اسلام آباد کی
19:09اس
19:11سیڈ پر اسسٹنٹ کمیشنر کے طور پر
19:14تائنات ہوتا ایک سیکرٹری کے بیٹے کے سور پر
19:16وہ جیسے اپنا حق سمجھتا تھا
19:19کسی انتہان کا ٹاپ کر کے
19:21سیول سروس میں آنا اور بات تھی
19:23لیکن عملی میدان میں اچھی پوسٹنگ پر ہونے
19:25کے لئے کوئی دوسری قابلیتوں کا ہونا
19:27ضروری تھا اور شیئر دل کے پاس
19:29وہ چیک لسٹ پوری تھی
19:30اسلام آباد کی وہ تائناتی میرٹ پر
19:33ہوتی تب بھی
19:34ٹائی ڈی ایم جی کے انہیں
19:36دو جنئر افیسر کے درمیان ہوتی
19:39اور شیئر دل کو ایک
19:41افیسر کے طور پر ترجیح دی جاتی
19:42لیکن اب اکس مراد علی وہاں تھی
19:45جہاں وہ ہونا چاہتا تھا
19:46اور نہیں ہو سکتا تھا
19:51اس کے اسی
19:53کے بیچ بیچ میٹ
19:55نے ہستے پر شیئر دل کو بتایا تھا
19:56جس نے اسے اس کی دار الحکومت میں
19:59پوسٹنگ کے بارے میں بتایا تھا
20:00وہ تو وہ ہمیشہ تھے
20:02لیکن یہ پوسٹنگ شیئر دل اب بھی
20:04اس طرح حق کا بکا تھا
20:05پشاور میں امریکی امبیسی اور
20:08یو ایس ایڈ والوں کے ساتھ بہت کام کیا ہے
20:11اس نے کہتے ہیں
20:12کہ اس کی اس پوسٹنگ میں انہی کی کار فرمائی ہے
20:15وہ بڑے متاثر ہیں
20:16اس خاتون کی قابلیت سے
20:17زفر نے ان وجوہات کو بیان کیا
20:21جو اس کے خیال میں اکس کی پوسٹنگ کے اصل وجہ تھی
20:23شیئر دل نے زفر کے اس بیان پر
20:25کوئی تفسرہ نہیں کیا تھا
20:27وہ جانتا تھا اسلام آباد کے اس پوسٹنگ پر
20:29پاکستان کے اندر باہر موجود
20:31ڈی ایم جی کے تمام جونئر افیسر
20:33اس وقت اس طرح کے تفسرے
20:35فرما رہے ہوں گے
20:36وہ کچھ انگور کھٹے والی صورت حال تھی
20:40اور شیئر دل اکس سے بہت جیلس
20:42ہونے کے باوجود اپنے حسد میں
20:43اس حد تک نہیں جاتا تھا
20:45کہ اس کے پروفیشنل ہونے
20:47یا قابلیت پر قابلیت کے
20:49حوالے سے سوال اٹھاتا
20:51یا اعتراضات کرتا
20:52شہر بانو سے منگنی کے بعد اکس اور اس کے درمیان
20:55غنی حمید کے حوالے سے آرگومنٹ ہوا تھا
20:57وہ غنی کو شدید نہ پسند کرتا تھا
20:59اور اکیڈمی میں ٹریننگ کے دران غنی
21:01واحد افیسر تھا جس کے ساتھ شیئر دل کی
21:03بول چال بھی نہیں تھی
21:04اور اکس اور غنی کی گربت اور متوقع
21:07شادی کے حوالے سے نافع سے علم ہونے کے بعد
21:09شیئر دل کی کوشش کے باوجود
21:11اپنی آپ کو ری ایکٹ کرنے سے
21:14رک نہیں سکا تھا
21:15جوابن وہی ہوا تھا جس کا شیئر دل کو
21:17توقع نہیں تھی لیکن اسے کوئی افسوس
21:19نہیں ہوا تھا غنی کی معاملے پر
21:21ان کی آپس میں جس نویت کی گفتگو ہوئی تھی
21:23اس کے بعد شیئر دل نے یہ تیہ کر لیا تھا
21:25کہ وہ اکس سے دوبارہ کبھی رابطہ نہیں کرے گا
21:28بوسٹرن سے واپس آنے کے بعد
21:30اپنے شادی کے بعد لاہور میں پوسٹنگ کے دوران
21:32اس نے اکس سے کوئی اسلام آبار میں چودہ گھت کی
21:34پرچم کشائے کے تقریب کی
21:36لائیو کوریج میں ٹی وی پر دیکھا تھا
21:38اور تقریب کے مقصد انتظامات
21:41کے سلسلے میں بار بار
21:42ادھر سے ادھر پھر رہی تھی
21:43والوں میں ٹکائے یا پھنسائے سنگلاسے
21:46گندے پر لڑکائے ایک بیگ اور ہاتھ میں پکڑے
21:48ایک وائرلس کے ساتھ
21:50وہ پندھال میں سینئر رفیقر اور غیر ملکی
21:52مندوبین کے درمیان شٹل کاک بنی
21:55نظر آ رہی تھی
21:56وہ ان بہت کم مواقعوں میں تھے ایک موقع تھا
21:58جب شیر دل اسے کسی افراد تفریح میں دیکھ رہا تھا
22:01اور پرچم کشائی کی اس تقریب کو پاکستان پرچم کے لیے
22:04اور شیر دل اکسے کے لیے دیکھ رہا تھا
22:07اگر اس تقریب میں وہاں جامرز کام نہ کرے ہوتے
22:13تو شیر دل سیل پر اسے کوئی نہ کوئی ٹیک ضرور کر دیتا
22:17اور اس ٹیک کے جواب میں شیر دل کو جو جواب ملنا تھا
22:20اس سے اس کے چودہ طبق روشن ہو جاتے
22:22لیکن وہ پھر بھی یہ رسک لینے میں تعمل نہ کر دا
22:25شیر دل کی سوچوں کا تسلسل یک دم ٹیبل پر پڑے سیل فون کی آواز سے چھوٹا تھا
22:30اس نے بے اختیار آگے پڑھ کر سیل فون اٹھایا
22:32وہاں اکس مراد علی کا نام چمک رہا تھا
22:35اور اسے کال بیک کر رہی تھی
22:38وہ پہلی بار تھا جب کسی نے چڑیا کا دل اتنی بری طرح سے توڑا تھا
22:41وہ پندرہ منٹ زرد شہرے کے ساتھ اینس کوٹ پر
22:44اس کو مکمل طور پر نظر انداز کر کے
22:47بار بار سروس کرنے والے ایبک کو چپ چاپ دیکھتی رہی
22:51کرٹ میں دوسرا ریکٹ اس لیے نہیں تھا
22:53کہ ایبک اس کے ساتھ کھیلنا نہیں چاہتا تھا
22:56اور یہ فیصلہ اس نے کیوں کیا تھا
22:57یہ چڑیا کا سمجھ بھی نہیں آ رہا تھا
23:00لیکن خود کو اس طرح نظر انداز کیے جانے کی تکلیف
23:03اسے شدہ سے ہوئی تھی
23:04خاص طور پر اس لیے کہ ایبک اتنے ہفتوں سے
23:06اسے وی آئی پی ٹریکمنٹ دیتا آ رہا تھا
23:09تمہیں سے نراز ہو
23:10کیڑیا نے جیسے مسحلت کی کوشش کی تھی
23:13جواب نہیں ملا تھا
23:14ایبک چڑیا نے اسے ایک بر پھر پکارا
23:16وہ اس بر اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے
23:18دورے کیاری میں جا کر ٹینس بولڈ ڈھوننے لگا
23:21مسحلت کی ساری کوششیں
23:23بری طرح نکام ہوئی تھی
23:25وہ چند منٹ اور وہاں کھڑی رہی
23:27پھر جتنے جوش و خروش کے ساتھ
23:28وہ ٹینس کوٹ پڑھائی تھی
23:30اتنی ہی خاموشی اور انجیدگی کے ساتھ
23:32وہ ٹینس کوٹ سے جلی گئی تھی
23:34لیکن ٹینس کوٹ سے اپنے کوٹر تک
23:36وافی میں چڑی آنسوں سے روتی رہی تھی
23:38اس دن اس نے کئی ہفتوں کے بعد
23:41کنٹا منٹا ڈیڈو ٹوکو کو
23:44اپنے ساتھ پایا
23:45ورنہ اتنے ہفتوں میں وہ پسانی
23:47کہاں غائب ہو چکے تھے
23:48ایبک جب کیاری میں پڑی بھی گیندوں کو کٹھا کر کے
23:50پلٹا چلیا وہاں سے غائب ہو چکی تھی
23:53ٹینس ایک دم اس کا دلو چاٹ ہوا تھا
23:55وہ اس کی دوست سے اسے اچھی لگتی تھی
23:58اور وہ اتنے دن سے اس کے ساتھ کھیل رہی تھی
24:00جس کے لئے اس کو اس طرح اگنور کر دینا
24:02آسان نہیں تھا
24:03ٹینس کٹ کو وہاں سے اٹھائے بغیر
24:05وہ بہت خراب موڈ میں اندر چلا گیا تھا
24:07چڑیہ نے اس رات کھانا نہیں کھایا تھا
24:09وہ سپہر سے رات تا خیر دن کے واپس آ جانے تک
24:13کنٹا منٹا سے باتیں کرتی رہی تھی
24:14اس کی ماں نے بار بار آ کر اس کو کھانے کے لئے کہا تھا
24:17لیکن وہ بہانے بناتی رہی
24:19اس نے ماں کو ایبک کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا
24:22لیکن خیر دن کو دیکھتے ہی وہ رونے لگی
24:25وہ پریشان ہو گیا
24:26اسے ساتھ لپٹاتے ہوئے اس نے پوچھا
24:28کیا ہوا چڑیہ کیوں رو رہی ہو
24:31نانا ایبک مجھ کو ٹینس نہیں کھلاتا
24:34اس نے بیتے آنسوں کے ساتھ خیر دن کے مسلسل اس تفسار پر کہا
24:38خیر دن تھٹکا پھر اس نے اسے ساتھ لپٹا کر بہت پیار کرتے ہوئے کہا
24:42کیوں بیٹا پتہ نہیں نانا بس وہ مجھ سے بات بھی نہیں کر رہا
24:46اور مجھ کے ٹینس بھی نہیں کھلا رہا
24:48گالوں پر بیتے آنسوں کے ساتھ چڑیہ نے خیر دن سے کہا
24:51میں تمہیں اسی لئے منع کرتا تھا نا
24:53کہ تم وہاں مت جائے کرو اور ان کے ساتھ مت کھیلا کرو
24:56خیر دن نے اس کے آنسوں صاف کرتے وہ اس سے کہا
24:59میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا نانا
25:01آنسوں کا ایک نیا سلاب چڑیہ کی آنکھوں میں امڑ آیا تھا
25:04میں جانتا ہوں بیٹا تم نے کچھ نہیں کیا
25:06ہو سکتا ہے اے بکو صاحب جو اس کی ممی نے
25:09تمہارے ساتھ کھیلنے سے منع کیا ہو
25:10چڑیہ کے دل کو ایک نیا دھچکہ پہنچا تھا
25:13لیکن کیوں نانا بیٹا وہ افسر لوگ ہیں
25:16صاحب لوگ ہیں ہم غریب لوگ ہیں نا
25:18خیر دن اس کو جو سمجھا رہا تھا
25:20وہ ایک بچے کا ذہن نہیں سمجھ پا رہا تھا
25:22سماجی پرک اور عظم مساوات
25:24بڑوں کی دنیا کے میار اور تعریفیں تھیں
25:27بچوں کے دنیا کے ذاتے کچھ اور ہوتے ہیں
25:29تم اب وہاں مت جانا
25:31اب اسے بہت کچھ سمجھانے کے بعد
25:33خیر دن نہیں سکا
25:34چڑیہ نے بوجھے تیر کے ساتھ سر ہلایا
25:37اس کی فیری ٹیل کا خاتمہ ہو گیا تھا
25:39اے بک اگلی سپہر ٹینس کورڈ پر آتے
25:41چڑیہ کو ڈھونڈتا رہا
25:42وہ کسی پیڑ پودے کے پیچھے نہیں تھی
25:45اور نہ ہی وہ اس دن ٹینس کورڈ پر آئی تھی
25:47وہ اکیلہ اور کچھ نہیں
25:48تو ٹینس سرو کی ہی
25:51پریکٹس کر لیتا تھا
25:52لیکن اب اس سے بھی وہ نہیں ہو پا رہی تھی
25:55چڑیہ کا حیران اور ادا چڑھا سے
25:57کل سے اپسٹ کر رہا تھا
25:58اور اب اس کی عدو موجود کیس کے لیے
26:00مزید پریشان کن تھی
26:02مسئلہ ٹینس یا چیس کا نہیں تھا
26:03مسئلہ ان باتوں کا تھا جو وہ اسے شیئر کرتا تھا
26:06وہ باتونی تھا اور گھر میں تمام موجود
26:09بچے اس سے چھوٹے تھے
26:10اور اس کو بے وکوف لگتے تھے
26:12وہاں چڑیا تھی جس کو اس کی ہر بات سمجھاتی تھی
26:14اس کے نہ آنے کا مطلب
26:15اس کا پارٹنر کھو جانا بھی تھا
26:18اس دن عیبق سارا دن
26:20کسی نہ کسی بات پر اپنی ممی سے زد کرتا رہا
26:22اس نے کھانا ٹھیک سے نہیں کہایا تھا
26:24ہوم وک بہت خراب کیا تھا
26:25اپنی ممی کے سمجھانے کے باوجود
26:27اس نے ایک بار چھوٹی بہن پر ہاتھ اٹھایا
26:29ایک بار بھائی پر
26:30اس کے ممی اس کے اس خراب مور کی وجہ
26:33سمجھنے سے کاسے تھے
26:34اور ایک بہت خود بھی کسی کو یہ سمجھا نہیں سکتا تھا
26:36کہ مسئلہ تھا کیا
26:38پہلے وہ چڑیا کو اگنور کر رہا تھا
26:40اور وہ ٹھیک تھا
26:41اور اب چڑیا اسے اگنور کرنے لگی تھی
26:43تو سب کچھ الٹ پلٹ ہو گیا تھا
26:46شہر بانو نے اپنی ممی کو وہ تیسری کال کی تھی
26:50جو دوسری طرح سے رسیب نہیں کی گئی تھی
26:52وہ یقینہ فون کے قریب نہیں تھی
26:54یا پھر کسی کام میں مصروف تھی
26:56وہ نے انہیں دوبارہ کال کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا
26:59اس بار وہ انہیں تقریباً چھ مہینے کے بعد کال کر رہی تھی
27:02اور وہ بھی کسی فارمالٹی سے زیادہ بڑی چیز نہیں تھی
27:06ان کے درمیان ہون کال کا سلسلات کی شادی اور پاکستان
27:09سیٹل ہونے کے بعد آہستہ آہستہ اسی طرح کام ہوتا گیا تھا
27:12پہلے وہ ہفتے میں کم سے کم ایک بار ضرور بات کر لیتی تھی
27:17آہستہ آہستہ وہ مدد بڑھنے لگی
27:18مثال کی پیدائش کے بعد تو یہ وقت اور بھی زیادہ ہو گیا
27:22اور ہر دفعہ کون پر بات ہونے پر دونوں کے درمیان
27:25کسی جذباتی گرم جوشی کا اظہار نہیں ہوتا تھا
27:28وہ حال احوال دیافت کرتی ہیں
27:30پندرہ بیس منٹ ایک دوسرے کو اپنی نیجی اور پروفیشنل مصروفیات کے بارے میں بتاتی ہیں
27:35شہر بانو ان سے پاکستان آنے کا پوچھتی ہے
27:37اور وہ اس سے امریکہ
27:39اور ان دنوں ایک چھوٹے اسکیوز کے ساتھ گفتگو ختم کر دیتی ہیں
27:44پھر اگلے کئی مہینے دونوں کے درمیان کسی رابطے کے بغیر گزر جاتے ہیں
27:49پھر دوبارہ اچانا ایک دن یا تو اس کی مامی فون کر لیتی ہیں
27:52یا شہر بانو کا بیٹھے بٹھائے فون کی فارمیلٹی نبانہ یاد آ جاتا
27:55وہ کبھی بھی اپنی مامی سے زیادہ کلوز نہیں رہی تھی
27:59بچپن میں اس کی گھل کائنات اس کا باپ ہی تھا
28:01ماں ہمیشہ اس کے لیے ایک سیکنڈری فگر تھی
28:05زندگی میں صرف ایک وقت ایسا آیا تھا جب وہ اپنی ماں کے بہت قریب ہوئی
28:09اور وہ ان کی بیماری کے زمانہ تھا
28:10انہیں بریس کینسر ہو گیا تھا
28:12اور زندگی میں پہلی بار شہر بانو نے ان کے علاج کے دوران تحمل سے ان کا خیال رکھنے
28:16اور ان کے پاس رہ کر ان کی دیکھ بھل کرنے کی کوشش کی تھی
28:20اور اس کی ماں اس کے لیے بہت عرصہ شکر گزار رہی تھی
28:23وہ واحد وقت تھا جب ان کے درمیان موجود کئی سال پرانی تلخی کچھ عرصے کے لیے غائب ہو گئی
28:29تھی
28:29اور شکوے شکایات اور الزمان کی وہ بچھار جس کا وہ ہمیشہ اس دوسرے کو نشانہ بناتی تھی
28:35رک گئی تھی
28:38دس سال کی عمر میں اپنے باپ کی پر اسرار حالات میں ہونے والی موت کے بعد شہر بانو کبھی
28:42پاکستان نہیں آسکی
28:44اور امریکہ شٹ ہو جانے کے بعد ایک لمبا عرصہ وہ ذہنی طور پر افسر رہی تھی
28:49وہ ایک گھر سے یک دم جیسے کسی جنگل میں آگئی تھی مزید خرابی شرمین کی دوسری شادی نے کی
28:55تھی
28:55وہ ماں سے پہلے ہی زیادہ ٹیک نہیں تھی اور رہی تھی
28:57اسے احساس نے پوری کر دی تھی
29:00کہ اس کی ممین نے اس کے پاپا کے جگہ کسی اور کو دے دی تھی
29:03وہ دو تین سال اس کی زندگی کے بہترین سالوں میں سے تھے
29:07اس نے کبھی اپنے باپ کی کمی کوئی اس طرح محسوس نہیں کیا تھا جس طرح وہ اب کرتی تھی
29:11شرمین شہباز کی کوئی چیز اپنے ساتھ امریکہ نہیں لائی تھی
29:14حتیٰ کہ اس کی کوئی تصویر تک
29:16وہ جیسے دانستہ کی کوشش کر رہی تھی
29:19وہ جیسے دانستہ کی کوشش کر رہی تھی
29:22کہ شہربانوں کے ذہن سے اس کے باپ کا تصور تک ختم کر دے
29:25لیکن ایسا نہیں ہوا تھا
29:27وہ تصور اس کے ذہن کے پردوں پر کچھ اور پکا ہو گیا تھا
29:30دو تین سال ایک بچے کے طور پر وہ ہر جگہ اپنے باپ کو دھونسی پھرتی تھی
29:34یہ جاننے کے باوجود کہ وہ مر چکا تھا
29:37وہ کبھی کسی پار کسی سڑک کسی شاپنگ مال میں
29:40اپنے پاس سے گزرتے ہر مرد کے چہرے میں ایک ہی چہرہ ڈھوننے کی کوشش کرتی
29:44وہ چہرہ جو سے یک دم اس کی بے خبری میں اٹھا کر
29:48اپنی باہوں کے گھرے میں اپنے سینے میں چھپا لیتا تھا
29:51وہ ہاتھ جو سے ہوا میں اچھالتے تھے
29:53اور اس کی کھل کھلاؤٹوں پر اسی کی طرح کھل کھلا کر ہاں سے دینے والا چہرہ
29:57وہ انگلی جسے پکر کر چلتے ہوئے وہ جیسے دنیا بھر عبور کر سکتی تھی
30:02اور جس کے سامنے وہ فرمایشوں کا امبار لگا دیتی تھی
30:05شہربانوں کے ہی سال لوگوں کے چہروں میں اپنے بابا کا چہرہ تلاش کرتی رہی تھی
30:10اور اس ساری افرٹ نے شرمین سے اس کی نفرد و بیزاری میں اضافہ کیا تھا
30:16سو تیلا باپ بھراد بھی نہیں تھا
30:18اس کے اور شرمین کے درمیان شادی کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی
30:21کہ شرمین شہربانوں کو اپنے ساتھ رکھے گئے
30:23شادی کے بعد بھی اگرچہ شہربانوں نے پوری کوشش کی تھی
30:26کہ شرمین اسے نانا کے گھر پر ہی چھوڑ تھے
30:29جہاں رہنے کی وہ آبادی ہو چکی تھی
30:31لیکن شرمین اس پر تیار نہیں ہوئی تھی
30:33فاروق ایک اچھا انسان تھا
30:35اور اس نے شہربانوں کے ساتھ بہت محبت اور شفقت دکھائی تھی
30:39شہربانوں پر ایک خاص حد تک اس محبت اور شفقت کا اثر بھی ہوا تھا
30:42ماں سے اس کی ناراضگی اور رنجشے تو ختم نہیں ہوئی تھی
30:46لیکن وہ باپ سے قریب ہو گئی تھی
30:47لیکن اس قربت کو فاروق اور شرمین کی پیدا ہونے والی بیٹی نے ختم کر دیا تھا
30:52فاروق کی اپنی پہلی وائف سے دو بیٹے تھے
30:54شرمین سے اس کی بیٹی ہو گئی تھی
30:56شہربانوں کی اہمیت یک دم ایک بر پھر ختم ہو گئی تھی
30:59یہ خیال شہربانوں کا تھا
31:01اور شرمین کی بے انتہا کوشش کے باوجود
31:04وہ یہ خیال ترک کرنے پر تیار نہیں تھے
31:06ڈیڑھ سال بعد اس بچے کا انتقال ہو گیا تھا
31:09شرمین اور فاروق نے اس کے بعد کوئی اور بچہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
31:13وہ ایک اور سال تھا جب شرمین نے اپنے اور شہربانوں کے ریلیشنشپ کو بہتر کرنے کی کوشش کی
31:18اگلے چند سال اس کے اور شہربانوں کے اچھے سالوں میں سے تھے
31:22شہربانوں باپ کو اب بھی اپنی زندگی اور دین سے الگ نہیں کر بائی تھی
31:26لیکن آہستہ آہستہ وہ تلخی اور انجیدگی اس کے اندر سے کم ہونے لگی
31:30جو پورے لڑکپن میں اس کا حصہ رہی تھی
31:32شہربانوں کے یونیورسٹی جانے کے بعد یہ تعلقات کچھ اور بھی بہتر ہو گئے تھے
31:37لیکن شرمین کی بیماری وہ باہر ٹائم پیڈیئر تھا
31:40جس میں شہربانوں کے طرف سے شہباز کی موت کے بعد سے
31:42پہلی بار شرمین کے لیے کسی قسم کی جنوین ایموشنل وبستگی کا اظہار کیا گیا تھا
31:49وہ ماں کے لیے متفکر تھی
31:51شرمین کی صحت یابی اس کی سب سے بڑی ترجیح تھی
31:55شرمین کو صحت یاب ہوتے ہوئے تقریباً دو سال لگے تھے
31:58لیکن ان دو سالوں میں شہربانوں اور شرمین کی جیسے نئے سیرے سے بانڈنگ ہوئی تھے
32:03اور اس بانڈنگ کو سب سے بڑا دھچکا سور پہنچا
32:05جب شہربانوں نے پہلی بار شرمین کو شہربانوں نے
32:08اپنی دلچسپی اور اس کے پرپوزل کے بارے میں بتایا تھا
32:11شرمین نے شہربانوں کے عادے طرف کے بعد ہی سے روک دیا تھا
32:14اور بے حد سرد مہری سے کہا تھا
32:16میں جانتی ہے اسے
32:17اور میں مر کر بھی تمہاری شادی اس سے نہیں ہونے دوں گی
32:22وہ سبق جو خیر دن اسے ہمیشہ دیتا تھا
32:24اور وہ سمجھ نہیں پاتی تھی
32:26وہ ایبک کی ایک چھوٹی تھی حرکت میں سے سمجھا دیا تھا
32:28چلیہ جان گئی تھی کہ صاحب لوگ اس لیے ان جیسے نہیں تھے
32:33کیونکہ وہ کوئی بھی چیز خرید کر استعمال کرتے تھے
32:35مانگ کر نہیں
32:36اور وہ چیز جو مانگ کر لی جاتی ہے
32:38وہ کبھی بھی کچھین سکتا ہے
32:40اس نے اس ریکڈ کو چھونے اور ٹینس کھیلنے کا شوق پورا کر لیا تھا
32:43اور اس لیے بس اتنا ہی کافی تھا
32:45اور چند دفتوں میں کھیل میں ماہر نہیں ہو سکتی تھی
32:48اور کھیل سیکھ لینے کے بعد بھی وہ دوبارہ کھیل کو
32:50کھیلنے کی استطاعت نہیں رکھتی تھی
32:52اسکول میں ٹینس کی سہولیات نہیں تھی
32:54اور ڈی سی ہاؤس میں اب کوئی ایبک نہیں ہوتا
32:57جو اسے اپنا ریکڈ بھی دیتا
32:59کوچنگ بھی کرتا اور اس کے ساتھ کھیلتا بھی
33:02وہ بڑے لوگوں کا کھیل تھا
33:03صاحب لوگوں کا
33:04وہ چڑیا کا کھیل نہیں تھا
33:05یہ سب اسے خیردین نے پیار سے سمجھایا تھا
33:08اور اس بار چڑیا کو پہلی بار تکلیف سے ہی سے ہی
33:11لیکن اپنے سوشل سٹیننگ سمجھ آ گئی تھے
33:15لیکن ایبک سے وہ دور نہیں رہ سکتی تھی
33:17ہاتھوں پر اب جب وہ ایک بار پھر سے
33:19چڑیا کو اپنا دوت بنانے کیلئے ترطور کوشش کر رہا تھا
33:22اسے نہ یہ پرواہ تھے کہ ممی نراض ہوں گی
33:25نہ اس بات کی پرواہ کے چڑیا کی وجہ سے
33:27کئی بار اپنا ہوں بھر بھی چھوڑ رہا تھا
33:29اور کچھ ایسا ہی حال چڑیا کا بھی تھا
33:31ایک آتھ بار خیر دن کے نصیتوں کے زیرے اثر
33:34رہنے کے بعد ایک بار پھر ایبک کی گرویدہ تھی
33:36چڑیا نے ٹیننس کھیلنا بند کیا تھا
33:38تو ایبک کی دلچسپی بھی ٹیننس میں
33:40یک دم ختم ہو گئی تھی
33:41وہ انکل اور ممی کے کہنے کے باوجود
33:44ٹیننس کی پریکٹس کے لیے نکلنے سے کتر آتا
33:46لیکن ٹیننس نہ کھیلنے کے باوجود
33:48وہ دنوں میں
33:49وہ دنوں میں ہی میں کئی بار ایک دسے سے ملتے
33:52فرید بھی کھیلتے
33:54شرطرنج کھیلتے
33:55ایبک کی پھینکیوے ڈسک کا
33:57اس کا چڑیا کے ہاتھ میں آنے لگی تھی
34:00صرف پہلی بار فرید بھی
34:01کھیلتے ہوئے ایسا ہوا تھا
34:03کہ انڈسک پکڑنے کی کوشش میں
34:32ایبک نے دور سے ہی آواز دیکھ کر پوچھا
34:34نہیں تو چڑیا نے بے ساکتا کہا
34:36لیکن ایبک اس کی طرف بھاگتا آیا تھا
34:38اس نے پاس آکا چڑیا کا ہاں دیکھا
34:40جو صحیح طرح سیدہ بھی نہیں ہو رہا تھا
34:42اور ہلکی سی پلاہٹ رسوجن نظر آ رہی تھی
34:44تم کا چوٹ لگی
34:46اور تم نے بتایا بھی نہیں
34:47ایبک اس کا ہاتھ پکڑے پکڑے افسوس سے بھولا
34:49تم نے بہت زور سے ڈسک پھینکی تھی
34:51چڑیا نے ہلکی سی آواز میں کہا
34:53احمد تم کو نہیں پکڑنا چاہیے تھی
34:55اگر یہ زیادہ زور سے آ رہی تھی
34:57تو ایبک نے اسے ڈانٹا
34:59وہ اکثر ٹینس کھاتے ہوئے بھی
35:01اس کو ڈانٹ دیتا تھا
35:02چڑیا خاموش ہوئی
35:03اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر
35:05وہ دیر تک دباتا رہا پھونکے مار مار کر
35:07یہ اس کی فرسٹ ریڈ تھی
35:09اور اس انجری کے بعد ایبک نے فریز بھی
35:11پھینکنے کے سٹائل کا تبدیل کیا تھا
35:13اور اس کی رفتار کو بھی کم کر دیا تھا
35:23چڑیا چڑیا پکڑا کرتی
35:25صرف کیڑے مکڑوں کی کلیکشن بتانے کا
35:27آئیڈیا ایبک کا تھا
35:28جائے مچار اور سیرف کی خالی بوتلوں میں
35:31وہ بڑی بے جگری سے
35:32لان کی کیاری میں مٹی اور پودوں میں
35:34رنگ سے کیڑے کٹھے کرتا پھرتا
35:36یہ جیسے اس کے ندید چڑیا کو
35:38متاثر کرنے کی کوششوں کا ایک حصہ تھا
35:40اور چڑیا متاثر ہوئی تھی
35:42دل میں اسے گھن بھی آتی تھی جب ایبک
35:44گندے مندے کیڑے مکڑے کئی بار
35:46خالی ہاتھ سے ہی پکڑ لیتا
35:48لیکن وہ پھر مسکراتے بے بک کو سراتی تھی
35:51کبھی وہ لان میں پھولوں
35:52اور پتوں کی کلیکشن بناتے پھرتے
35:54اور مالیوں سے ان کے نام پوش پور
35:56کے لکھتے رہتے ہیں جب وہ عجیب و غریب
35:58کلیکشن نہ کر رہے ہوتے تو پھر وہ
36:00امارت کے عقب میں سرون کورٹرز کے
36:02قریب لگے وہ مختلف پھلدار درختوں پر
36:04چڑے جامن کیریہ اور کھٹے انگور
36:06شہتوت اتار اتار کر
36:08عملی اور نمک مرش کے ساتھ کھاتے
36:10یا پھر گلی گلیلوں سے
36:12ان انچے لمبے درختوں پر بیٹھے
36:14پرندوں کا شکار کرنے کی کوشش کرتے رہتے
36:16وہ چڑیا کی زندگی کا سب سے بہترین
36:18موسم میں گرمہ تھا
36:21ایسے دن جب وہ واپس
36:22کورٹر میں آنا ہی نہیں جاتی دیرکوچ
36:24یہی حال ایبکہ بھی تھا ایچی سن میں پڑھنے
36:26والا وہ کلچرڈ اور
36:28ایک گرومڈ بچہ جو اس گھر میں
36:30ہر وقت نکسک سے درست رہنے والے
36:32ہلیے میں آیا تھا جو فورک اور
36:34نائف کے بغیر کھانا نہیں کھا سکتا تھا
36:36جو ٹینس ویمنگ اور فرید بھی
36:38کھیلتا تھا ابلون میں چپن چپائی کھیلتا
36:40پھرتا تھا چپ اس گھنٹے
36:41وہوں پر موجود موزے ابلون کے مختلف
36:44حصوں سے دریافت ہوتے تھے ان کی جیبوں
36:46میں اپکی ایریان اور
36:48کچھیں انگور بھرے ہوتے تھے اور وہ ان تمام
36:50موج مستی میں ساتھ میں اسمان پر تھا
36:52ماں کی چیخم پکار بھی اب اس پر
36:54اثر انداز نہیں ہوتی تھی اس کی ماں
36:56کو پتا تھا کہ وہ چڑیا کے ساتھ کھیلتا تھا
36:58لیکن وہ جب بھی اسے ڈھومنے آتی چڑیا
37:00کا نام و نشان بھی اسے کہیں نہیں ملتا تھا
37:03وہ بالکل
37:04اکیلہ لون میں کہیں نہ کہیں کچھ کرتا
37:06پایا جاتا اور وہ اس بات کو کسی طرح
37:08ماننے پر تیار نہیں ہوتا کہ وہاں
37:10آتھ پر کہیں چڑیا تھی چڑیا جیسے
37:12بک کا والکپٹ سیکرٹ تھی
37:14اس کی ممیوں سے ڈاڑتے کھینچتے وہاں سے
37:16لے جاتی وہ چند منٹوں کے بعد پھر لون میں
37:18موجود ہوتا
37:20شہدل نے فون انگیج کیا
37:22پھر کال ڈسکنکٹ کرنے کے بعد
37:24دوبارہ اکسے کو کال کی
37:25اس بار پہلی بیل پر کال رسیب کی گئی
37:28اسلام علیکم شہدل کے پورے وجود سے
37:31کوئی چیز گزری تھی
37:32اس صورت میں آواز انکر
37:33چند لمحوں کے لیے اس کیفیت کا شکار ضرور ہوتا تھا
37:37کب آئی ہو پاکستان
37:38رسمیہ لیکس لیک کے بعد اس نے اکسے سے پوچھا
37:41بائیس کو مختصر جواب ملا
37:42اسی تھی سودنگ آواز اور بے حد شستا
37:45لب و لہجے میں
37:46چند لمحوں کے بعد شہدل کی سمجھ بھی نہیں آیا
37:48کہ اس سے مزید کیا پوچھے
37:50یہ نہیں تک اس کے پاس سوال نہیں تھے
37:52لیکن ان سوالوں کے جواب ان دونوں کے لیے
37:54بڑے تخلیف دا ہوتے تھے
37:55ان کے درمین ٹرپک ابھی بات ہوتی تھی
37:57بڑے ہلکے بھلکے موڈ میں ہوتی تھی
37:59اور پہلا موقع تھا جب گفتگو کو شروع کرنا ہی
38:02دونوں کے لیے مشکل ہو رہا تھا
38:05شاید اس لیے کہ ان دونوں کی زندگی میں
38:07اس وقت تک کوئی دوسرا آ چکا تھا
38:08شہربانوں کیسی ہے
38:09اتنے اکسے کو کہتے سنا
38:11شہر دل کو لگا
38:12وہ شاید ساتھ کوئی کام بھی کر رہی ہے
38:14شبیح
38:15ٹھیک ہے
38:15تم کیے کر رہی ہو
38:16کچھ پہکنگ وغیرہ کر رہی ہیں
38:18اور بیٹی کا کیا حال ہے تمہاری
38:19وہ دوسری طرح بڑے ایک ایجویل انداز میں بور رہی تھی
38:22ساتھ کچھ کھڑکڑا ہاتھ کی آوازیں بھی آ رہی تھی
38:24مثال بلکو ٹھیک ہے
38:26شہر دل نے کہا
38:27میرے امسائے میں آ رہی ہو تم
38:28شہر دل کا اشارہ پوسٹنگ کی طرح تھا
38:31آگ سے دوسری طرح سے مدھم آباد میں ہاتھی تھی
38:33میرے ہی تو
38:33ویسے خواہش تھی تمہاری خالی سیٹ پر آتی
38:36اس نے اکسے کو کہتے سنا
38:37ارے اچھا یہاں آنا چاہتی ہو تم
38:39شہر دل نے چونک کر کہا
38:41تمہیں کوئی اعتراض ہے
38:42شہر دل کو محسوس ہوا وہ بہت کچھ بار موڑ میں تھی
38:45مجھے کیا اعتراض ہوگا
38:46آپ ہی آ جاؤ
38:47شہر دل نے بے ساکتا کہا
38:49وہ پھر ہاتھی
38:50اس بار شہر دل چھپ نہیں رہ سکا تھا
38:52تمہیں کچھ زیادہ ہسنا شروع نہیں کر دیا
38:54تمہیں کوئی مسئلہ ہے اس سے
38:56جو آپ اسے انداز میں ملا تھا
38:57یار پوچھ رہا ہوں
38:59شہر دل نے کچھ مدافعہ نہ انداز میں بکا ہا
39:01تمہمیشہ الٹے سوالی پوچھا کرو مجھ سے
39:04خیر یہ سوال تو الٹا نہیں کیا میں نے
39:06کوئی سیدھے بھی تھے
39:07شہر دل نے بے ساکتا کہا
39:09ان سیدھے سوالوں کے بھی جواب الٹے تھے
39:12تمہیں تو سیدھے سیدھے ہی دی
39:13وہ اس بر کھل کھلا کر رہتی تھی
39:15دونوں دوسرے کی بات کے کانٹیکٹ کو سمجھ گئے تھے
39:19شہر دل بھی ہر دیا
39:20کسی مدد وغیرہ کی ضرورت ہے
39:22اس نے حق سے کہا
39:24شہر دل کو اسی جواب کی توقع تھی
39:26وہ خوشی سے مر جاتا اگر وہ کسی کام کے لیے کہہ دیتی
39:29وہ اب اس سے امریکہ میں
39:31اس کے سٹیک کے حوالے سے بات کرنے لگا تھا
39:33عجیب ہاتی لیکن وہ جب بھی
39:35ایک دوسرے سے بات کرنا شروع ہوتے
39:37کرتے ہی چلے جاتے
39:38انہیں خود پر بند باندنا مشکل ہو جاتا تھا
39:41پتہ نہیں کیا کیا تھا
39:43پتہ نہیں کیا کیا تھا
39:44جب انہیں ایک دوسرے سے شیئر کرنا یاد آ جاتا تھا
39:46اور یہ اکیڈمی کی دنوں سے تھا
39:48اب وہ آرگومنٹ کرنا بھی شروع کرتے
39:51تو وہ بھی رمبہ ہوتا جاتا
39:52اور اتنا لمبہ ہوتا کہ اس کا اختتام
39:54کسی اور ڈسکوشن پر ہوتا
39:56اب بھی یہی ہوا تھا
39:57شہر دل اب اس کو اپنے ڈویجن کے حوالے سے
39:59انفرمیشن دے رہا تھا
40:00دو سال پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود
40:03وہ ال انفرمڈ نہیں تھی
40:06اور پاکستان میں آئی کا ہفتہ ہونے کے باوجود
40:09اسے اس ڈسٹرکٹ کے بارے میں
40:10تمام بنیادی معلومات تھی
40:12جہاں اس کی پوسٹنگ ہوئی تھی
40:13شیئر دل سے وہ بس اپنے نوٹ سے ٹیلی کر رہی تھی
40:17اوہ اسلام علیکم
40:18بات کرتے کرتے ہیں شیئر دل نے اسے کسی سے کہتے سنا
40:21پھر اس نے کسی مرد کی آواز سنی
40:23جو بڑی بے تکلوی تھی
40:24آپ سے بات کر رہا تھا
40:25اچھا شیئر دل تم سے دوبارہ بات ہوگی
40:27مجھے لنچ پر جانا ہے
40:28خدا حافظ
40:29تو اس نے شیئر دل کے ساتھ بات کرتے ہیں کہ
40:31تو یہ اقدم بہت اجلت کی علم میں
40:33فون بند کیا تھا
40:34وہ سیل فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہ گیا تھا
40:36سیل فون میں اسی طرح بیٹھے رہنے کے بعد
40:38اس نے جیسے کچھ بیچے ہیں نہیں
40:39اور حبگی کی علم میں
40:40اکس کو ایک ٹکٹ کیا تھا
40:42چند منٹوں میں ایک ٹکٹ کا جواب آگیا تھا
40:44شیئر دل کا رنگ ہمیشہ کی طرح سرخ ہوا
40:46تو اس کے سیل فون میں
40:47اکس کی طرح سے پچھلے تمام
40:49سالوں میں آنے والے
40:50ایک سو اکتیس شیئٹ اپ کے میسیجز محفوظ تھے
40:53تو شیئر دل ان ایک سو اکتیس میسیجز
40:56کو تاریخ پڑے بغیر بھی
40:58پہلی شیئٹ اپ کال سے مجودہ تک
41:00کی ہسٹری سیاکہ سباق
41:02تاریخ اور لوکیشن بتا سکتا تھا
41:04زندگی میں شیئر دل نے
41:06اکس کے علاوہ کھتی اور سے یہ لفظ نہ سنا تھا
41:08اور نہ وہ پرداش کر سکتا تھا
41:10زندگی میں اکس سے صرف ایک شخص سے
41:12روڈ ہوتی تھی صرف ایک شخص تھا
41:14جس کو وہ دھڑا دلے سے شیئٹ اپ کال دیتی تھی
41:17اور وہ شیئر دل تھا
41:18شیئر دل نے اس سے
41:20ایک سو بتیس منہ شیئٹ اپ کال کو
41:22شیئٹ اپ کو کال سے میں
41:24میسیج فولڈر کیا
41:27اور
41:28پھر اس نے سکھ شیئر اور بے حد
41:30خفقی کے علم میں لون سے اٹھتے
41:32وہ اکس کو ایک طویل ٹیکس کیا
41:34آج کے لیے سائن
41:35میسیج فولڈر کے ساتھ کال پھر آنگی
41:37تک تک کے لیے
41:38اللہ حافظ