Kya woh sirf ek khaufnaak aks tha, ya ghar mein waqai koi pur-asraar makhlooq rehti thi? Is raaz ko jaanne ke liye Episode 2 ko aakhir tak zaroor sunein.
Agar aapko Urdu novels, horror stories aur suspenseful kahaniyan pasand hain, to video ko LIKE karein, channel ko SUBSCRIBE karein aur BELL ICON 🔔 dabana na bhoolein.
💬 Comments mein zaroor batayein: Agar aapko mirror mein aisa bona nazar aaye, to aap kya karenge?
#AksNovel #UrduNovel #HorrorStory #JinnatKiKahani #ParanormalStory #SuspenseStory #ScaryMirror #HorrorNovel #UrduHorror #BhootKiKahani #AyatUlKursi #Episode2
Agar aapko Urdu novels, horror stories aur suspenseful kahaniyan pasand hain, to video ko LIKE karein, channel ko SUBSCRIBE karein aur BELL ICON 🔔 dabana na bhoolein.
💬 Comments mein zaroor batayein: Agar aapko mirror mein aisa bona nazar aaye, to aap kya karenge?
#AksNovel #UrduNovel #HorrorStory #JinnatKiKahani #ParanormalStory #SuspenseStory #ScaryMirror #HorrorNovel #UrduHorror #BhootKiKahani #AyatUlKursi #Episode2
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:03This is the name plate, which was called the name plate, which was named by the name plate.
00:09This name plate had been called the name plate and the name plate was named by the name.
00:15and the definition of designation of our co-11s
00:18was asked for the government and government
00:20to maintain the health of normalcy
00:22and to make sure of the government
00:23and also to scare ourselves
00:24the government
00:27that their government
00:32can't even do anything
00:35because the government
00:36is a loro model
00:39. . . .
01:09He had a great deal with his wife.
01:52By the way, I don't want to be able to see the same way.
02:08And they came with a passion that they had before.
02:13And they took a few of them.
02:15And they could only have a Black Widow in front of the house.
02:20They were also colleagues.
02:21And then they took a car with their dad.
02:23And then they went with him.
02:26They took a car and they had a car.
03:02ڈپٹی کمیشنر ہاؤس کے کواٹر میں ہوئی تھی جہاں اس کا باپ ڈرائیور اور اس
03:06کی ماں ڈپٹی کمیشنر کے بچوں کی آیا تھی شادی کے چار سالوں میں چڑھیا کے
03:11بعد حلیمہ کے ہاں وقفے وقفے سے دو مرتبہ اولادوں کی ولادت ہوئی اور
03:15دونوں میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا شادی کے چوتھے سال اس کا شہر
03:19نہر میں نہاتے ہوئے ڈھوب گیا حلیمہ کا گھر دوسری بار اجڑ گیا تھا دو
03:23بیٹیوں دو بیٹوں کی موت نے جو زخم لگائے تھے شہر کی موت نے انہیں
03:28انمٹ کر دیا تھا لیکن بہرحال حلیمہ کا شہر کوئی بہت آئیڈیل شہر
03:33نہیں تھا اس کے رزق کا وسیلہ اور صاحبان اس کی وفات کے بعد اس
03:38ڈپٹی کمیشنر کی بیرون ملک ڈپوٹیشن آگئی تھی حلیمہ باپ کے ایک
03:43وارٹر میں نہیں رہ سکتی تھی شاید صاحب اور ان کی بیوی اسے رہنے کی
03:46اجازت دے ہی دیتی لیکن وہ اب سرکاری رہاشگاہ کسی اور کے
03:50ذریعہ استعمال آگئی تھی حلیمہ چڑیہ کو لے کے مجبوراں گاؤں
03:54چلی گئی چڑیہ اب خیر دن اور حلیمہ کی زندگی کا مہور تھی اور
03:58خیر دن کے لیے اس سے الگ رہنا بہت مشکل تھا نیا صاحب اور اس کی
04:04بیوی نوکروں سے بہت فاصلہ رکھتے تھے اور خیر دن کسی بھی طرح
04:07اپنے سرکاری کوارٹر میں حلیمہ چڑیہ کو لانے میں کامجاب نہیں ہو
04:11سکا تب ہی خیر دن اور حلیمہ کی قسمت کے ستارے ایک بار پھر گردش
04:15سے باہر آئے خیر دن نے کسی زمانے میں ایک ڈپٹی کمیشنر کے ساتھ
04:19کام کیا تھا جو بعد میں دوسرے صوبے میں چلا گیا تھا لیکن اسی
04:23دوران وہ دوبارہ پوسٹ ہو کر اسی ڈیویزن میں آ گیا تو اس نے وہاں
04:27پوسٹ ہوتے ہی خیر دن کی اپنی سرکاری رہائش میں ٹرانسفر کروالی
04:31تھی نہ صرف یہ بلکہ ان میاں بیوی نے حلیمہ کو بھی ایک بار پھر
04:35بچوں کی آیا کے طور پر رکھ لیا تھا وہ تین سال چڑیہ کی زندگی
04:39کے سب سے اہم سال ثابت ہوئے تھے چڑیہ نے اپنی ابتدائی تعلیم
04:44ماں اور نانا سے حاصل کی تھی وہ خیر دن کی طرح بہت ذہین اور کوئی
04:48کلرنر تھی اپنی عمر کے دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس کا
04:54کونسنٹریشنل سپن بہت زیادہ تھا وہ ایک کام کیا
05:01کو شروع سے آخر تک ایک جیسے انہماک اور لگن سے کرتی تھی
05:04گاؤں میں حلیمہ اسے تختی لکھوایا کرتی تھی اور تختی پہ
05:08علف سے یہ تک لکھے کسی حروف میں فرق نہیں ہوتا تھا کہیں
05:12لکھنے والے کی اکتہار تھکاور یا ادم دلچسپی کا اظہار نہیں
05:15ہوتا تھا اس کے ہاتھ کی لکھائی بعد میں خیر دن کی لکھائی کی طرح
05:19ہوتی گئی تھی علف بے خیر دن کا چیلنج نہیں تھا
05:23ہیر دن کا چیلنج اے بی سی تھا اور چڑھیا کے لیے وہ دونوں
05:26تفریح تھے وہ ماں سے جوڑ توڑ سیکھتی اور نانا کے آنے پر
05:29ان سے سپیلنگ اس کا ذہن جیسے ایک اسپنج تھا جو سب کچھ چوس
05:34رہا تھا اور اپنے اندر اسٹور کرتا جا رہا تھا ساری دن کی
05:38چڑھیا کے ذہن اسپنج کی طرح سے ہی کام کر رہا تھا صرف علف نہیں
05:43تھا جو وہ چوس کر اپنے اندر رکھتی تھی اپنے خیالات مشاہدات
05:46تکلیف خوشی اور بہت کچھ وہ اپنے اندر سمیٹھے رکھنے کی عادی
05:50تھی وہ ساڑھے تین ساری عمر میں حلیمہ کے ساتھ گاؤں کے اسکول
05:54گئی تھی اور وہاں جا کر حلیمہ کو بتا چلا کہ گاؤں کا وہ
05:57پرائمری اسکول چڑھیا کے ایک ہاتھ کی مار تھا وہاں کوئی بچہ
06:01نہ علم میں چڑھیا کے سامنے ٹھہر سکتا تھا اور نہ اپنی تمیز میں وہ
06:06اسکول میں آنے والی واحد بچی تھی جو پورے یونیفرم میں آتی
06:09تھی اور وہ بھی صاف سترے اور وہ تقریباً ایسا ہی صاف سترہ
06:12یونیفرم لے کر جاتی اگر کئی بار اسے اسکول کے سہن میں درست کے
06:16کچھے کھلے میدان میں زمین پر نہ پڑنا پڑتا چھٹی کے وقت تک اس کی
06:21چھوٹی سی چھٹیا اور سر پر لگی ہیر پنز پنز یوں ہوتی جیسے اس نے
06:27ابھی کنگی کر کے بال بنائے ہوں اس کی کمیز کی فرنٹ پاکٹ میں ایک
06:30رمال ہوتا تھا جسے چھڑیا وقتاً فوقتاً اپنا پسینہ صاف کرتی
06:34رہتی یا فلو ہو جانے پر چھینکنے پر ناک سے بہنے والا پانی وہ
06:39واحد چیز تھی جو وہ دانستہ گندہ کرتی تھی شروع شروع میں اسکول میں
06:43اس کا وہ رمال ہستانیوں کے لئے مزاق اور تفریقہ باعث بنا تھا وہ
06:46اسکول جہاں سب کچھ ہاتھوں آستین اور بٹوں اور کمیز کے دامن سے
06:50صاف کرنے کا روائج تھا وہاں ساڑھے تین سال کی ایک بچی جس کی عمر
06:55داخلے سے بھی کم تھی بلو پھولوں والے ایک سفید رمال کو اتنے
07:02طریقے اور سلیکے سے کھولتی استعمال کرتی اور پھر تیہ کر کے
07:06رکھتی کہ استانیہ کے لئے یہ جیسے ہسی کا سامان ہو جڑیا کی
07:10سنجیدگی اور سلیکے پر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا وہ
07:13استانیہ کے جملے پر سرخ ہوتی مسکراتی شرماتی لیکن رمال کو
07:17اسی طرح استعمال کرتی اور رکھتی جیسے خیر دین نے اسے سکھایا تھا
07:21اس کے بستے میں موجود نوٹ بکس اور کتابیں اگر کبھی خراب ہوئی
07:25ہوں گی تو استانیوں کے ہاتھوں سے ہوئی ہوں گی ورنہ چڑیا خود
07:29انہیں خزانے کی طرح سنبھال کر طریقے اور اتیات سے رکھتی تھی
07:32کوئی اس کا بستہ کھول کر دیکھتا تو نوٹ بکس اور کتابوں کی
07:36ترتیب دیکھ کر بھی حیران رہ جاتا اس کے بستے میں ہر چیز اس کی
07:40پروپر جگہ پر تھی اور ہمیشہ پروپر جگہ پر ہی رہتی تھی
07:44چڑیا اگر پچاس دفعہ پینسل نکالتی تو ہر بار اسے واپس رکھتے
07:47ہوئے جومیٹری باکس میں ہی رکھتی اسی ترتیب سے جس ترتیب میں
07:51اس کے جومیٹری باکس میں چیزیں تھیں
07:55چھے ماہ چڑیا اسکول جاتی رہی اور چھے ماہ اس کی استانیوں
07:58کو اسے کچھ پڑھانا نہیں پڑا اور جیسے یہ ایک رچول تھی
08:02جو پوری ہو رہی تھی چھے ماہ آباد حلیمہ اور چڑیا دپارہ
08:06نے شہر میں ہر دن کے پاس آگے تھے اور یہاں جیسے چڑیا
08:09کا ایک نیا جنم ہوا تھا ڈپٹی کمیشنر کی بیوی ڈاکٹر فرا ایک
08:13بے حد رحم دل عورت تھی حلیمہ اس کے تین بچوں کی دیکھ
08:17بھال کرتی اور حلیمہ کی وجہ سے چڑیا بھی دن میں کئی بار
08:20ماہ کے پیچھے گھر میں جاتی ڈاکٹر فرا کو چڑیا اپنی عادتوں
08:24اور ذہانت کی وجہ سے بے حد اچھی لگتی تھی ایک گورنمنٹ کے
08:27سرکاری اسکول سے ایک انگلیش میڈیم اسکول در چڑیا کو لے جانے
08:30والی وہی تھی اور اس انگلیش میڈیم اسکول کے اس لے بس کو
08:34چڑیا کے لیے آسان بنانے والے بھی وہی تھی جو اکثر اوقات اپنے
08:37بچوں کو پڑھاتے ہوئے چڑیا کو بھی پاس بٹھا لیتی تھی چڑیا اور دو
08:42میڈیم نساب سے انگلیش میڈیم نساب میں جتنی آسانیت سہولت سے
08:45ارجسٹ ہوئی تھی اس نے ڈاکٹر فرا کو حیرانی سے زیادہ
08:48متاثر کیا تھا چڑیا گفٹڈ تھی اور اس کا اظہار سب سے پہلے
08:53انہوں نے ہی خیردین اور حلیمہ سے کیا تھا چڑیا پر انہیں
08:56محنت نہیں صرف کچھ توجہ دینی پڑی تھی اور اس توجہ کا سمر
09:00چڑیا نے ایک کے بعد ایک کلاس میں ٹاپ کر کے دیا تھا مناسب سے
09:04نقشنکار اوپیہ سیاہ گہری چمکتی آنکھوں اور ساملی رنگت
09:08والی چڑیا ایک چڑیا ہی کی طرح دبلی پتلی لیکن پھرتیلی تھی اس کی
09:12چڑیا چمکتی آنکھوں سے جھلکتی ذہانت اور اس کی بے حد ملائی میٹھی سریلی
09:16آواز اس کی دو امتیازی خصوصیات تھی جو اگر نہ ہوتی تو چڑیا
09:21کو بچوں کے حجوم میں پہچاننا مشکل ہوتا لیکن وہ عجیب طریقے سے
09:25نوٹریس ہوئی تھی ڈاکٹر فرا کے بچوں کو ہفتہ میں ایک بار
09:28میوزک ٹیچر میسی کی سکھانے آتے تھے اور وہ سارا وقت چڑیا
09:32کو سرگم سکھاتے رہتے چڑیا کوئل کی طرح گاتی تھی اور فرا اور
09:36اس کا شہر آبت مسعود اگر گھر پر ہوتے تو چڑیا کے گیت سننے
09:40کے لیے خود بھی آ کر اپنے بچوں کے پاس بیٹھ جاتے کیا بنوگی
09:43تم چڑیا بڑی ہو کر ڈاکٹر فرا کو اس سے گف شپ لگانے میں مزہ آتا
09:47تھا وہ اپنے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے اکثر اس سے بھی پاتچیت
09:50کرتی رہتی تھی میں ڈاکٹر بنوں گی چڑیا بے حد اعتماد سے اسے
10:02کرو گی جو بیمار ہوگا اور اگر کوئی بیمار نہ ہوا تو پھر اپنی
10:07مسکرار چھپاتے ہوئے اسے کہتی پھر رسٹ کروں گی بلا توقف جواب
10:10آتا لیکن ڈاکٹر تو رسٹ نہیں کرتے پھر آپ کیوں کرتی ہیں ڈی سی
10:16کی بیوی بے اکتیار ہستی وہ لا جواب ہو جاتی اور یہ اکثر ہوتا
10:19تھا اس بچی کی زبان بے حد صاف تھی اعتماد بلا کا تھا لہجہ لب و
10:32بہت ذہین ہے اسے بہت پڑھانا وہ ہر بار چڑیا سے ایسے کسی مباسے کے
10:37بات کہتی حلیمہ کا سیروں خون بڑھتا یہ سن سن کر کے بعد تو بیٹی
10:41چڑیا کی تعریفیں اگلے کئی دن ایک دوسرے کو دورا کر سناتے اور ہر
10:45بار یوں سنتے اور سناتے جیسے پہلی بار ہو بیٹی کو ڈاکٹر بنانے کا
10:50خواب حلیمہ نے ڈی سی کی اس بیوی کو دیکھ دیکھ کر ہی کیا تھا چڑیا کی
11:01تھی وہ لیڈی ڈاکٹر ہی بن جاتی تو بھی بہت بڑی بات ہوتی وہ ان کے
11:06گاؤں اور برادری کی پہلی ڈاکٹر ہوتی جیسے خیر دن پہلا سرکاری
11:10ملازم علیمہ دسمی جماعت پاس کرنے والی پہلی لڑکی اور چڑیا
11:17خیر دن نے چڑیا کی بات پا چونکر کاؤنٹر پر دیکھا جہاں وہ اشارہ
11:22کر رہی تھی گلاس ابھی تک اسی طرح ادھر سے ادھر جا رہا تھا خیر دن
11:29نے بے اختیار آیتر کرسی کا ورد شروع کر دیا چڑیا نے الجب انداز میں
11:33خیر دن کو دیکھتے ہوئے پوچھا نانا اگر یہ گلاس زندہ نہیں ہے
11:37تو پھر یہ گلاس کیوں چل رہا ہے بیٹا آیتر کرسی پڑھو خیر دن نے
11:41جوابوں سے کہا چڑیا کچھ حیران ہوئی لیکن پھر اس نے آیتر کرسی پڑھنا
11:45شروع کر دی چند منٹوں بعد گلاس کی حرکت رک گئی خیر دن اتمنان سے
11:50دوبارہ آٹا گوندنے میں مصروف ہو گیا یوں جیسے چند لمحے پہلے
11:54وہاں کچھ ہوا ہی نہیں جیسے وہاں کچھ لمحے پہلے وہاں کچھ ہوا ہی
12:00نہیں ہو اب صاحب نے کہا کہ مونگ کی بنی ہوئی دال اور اس نے
12:06دوبارہ قصہ شروع کیا چڑیا نے سٹھو گا نانا یہ گلاس کیوں چل رہا تھا
12:10اگر خیر دن کی یہ کوشی تھی کہ چڑیا کا دھیان اس گلاس کی طرف سے
12:15ہٹ جائے تو اس میں کامجاب نہیں ہوا وہ ٹماٹر چھوڑ کر خیر دن کے پاس
12:19آگئی یہ جیسے اس بات کا اعلان تھا کہ اسے دال کی فتوحات سے
12:23زیادہ اس چلتے ہوئے گلاس میں زیادہ دلچسپی تھی خیر دن نے
12:27گہری سانس لی یہ جو دنیا ہے نا بیٹا اس میں ہمارے علاوہ اور
12:31بھی بہت ساری چیزیں ہیں خیر دن نے اسے سمجھانا شروع کیا اور
12:35کونسی چیزیں چڑیا نے ٹوکا کچھ ایسی چیزیں جو نظر نہیں آتی
12:39خیر دن نے کہا جیسے ہوا حرارت چڑیا نے بے سکتا جواب دیا ایک لمحے
12:45کے لئے خیر دن لا جواب ہوا اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں ہوتی ہیں جو
12:49نظر نہیں آتی جیسے جن بھوت پریاں اور بونے وغیرہ خیر دن نے
12:53سنجید کی سے کہا وہ جن بھوت پریوں پر نہیں اٹکی تھی بونوں کے
12:58لف پر اٹکی تھی جن بھوتوں اور پریوں سے تو وہ ماں اور نانا کی
13:02سنائیوی کہانیوں کے ذریعے پہلے ہی مطارف تھی لیکن بونوں کا لفظ اس کے
13:07لئے نیا تھا یہ بونے کیا ہوتے ہیں اس نے کچھ الچ کر خیر دن سے
13:11پوچھا یہ ہماری طرح بہت چھوٹے چھوٹے لوگ ہوتے ہیں کتنے چھوٹے
13:15خیر دن نے ہاتھ کی اشارے سے بتایا اتنے چھوٹے چڑیا کی آنکھیں
13:19اور ہونٹھے کٹھے پھیلے تھے سچی میں نانا تجسس اشتیاق اور ایک
13:24عجیب سی خوشی کے ساتھ اس نے خیر دن سے پوچھا جیسے سنو وائٹ
13:29ڈروف کے دوست تھے برکی رفتاری سے اس کے ذہن نے اسے ایک
13:36illustrated story book کی یاد دلائی خیر دن کو سنو وائٹ کا پتا تھا
13:41نا اس کے دوست ساتھ بونوں کا لیکن اس نے سر ہلا دیا تھا
13:45چڑیا کا دل جیسے بلیوں اچھلا تھا نانا یہاں بونے ہیں کیا اس نے
13:50بے حد جوش سے خیر دن سے پوچھا بیٹی آجتہ اتنی اونچی آواز سے ان کا
13:54نام نہیں لو وہ نراض ہو جائیں گے خیر دن سے ٹوکا نانا مجھے دکھا سکتے
13:59ہیں وہ کہاں ہیں اس بار چڑیا نے خیر دن کے ساتھ چپکر سرگوشی کے
14:02انداز میں پوچھا تھا اس کے ذہن میں اس فیری ٹیل کی رنگین
14:09illustration گھوم رہی تھی خوبصورت ٹوپیوں اور لباس میں ملبوس کیوٹ
14:14موٹے اور شرارتی ہانٹ سمک بونے جو سنو وائٹ کے لیے کچھ بھی کر
14:17سکتے تھے اور سنو وائٹ کے سو جانے پر غم سے بے حال ہو گئے تھے
14:22نہیں نہیں میں نہیں دکھا سکتا لیکن جب بھی تمہیں گھر میں کوئی عجیب چیز
14:26ہوتی نظر آئے تو تم بت کلمہ پڑھنا الحمد شریف پڑھنا کل ہو
14:31واللہ پڑھنا آہتر کرسی پڑھنا اور ڈھرنا نہیں خیر دین نے اسے
14:35سمجھا رہا تھا وہ کئی سالوں سے گھر کے بارے میں بہت کچھ سنتا
14:38آ رہا تھا اور وہاں کام کرنے کے دوران اس نے بہت سارے عجیب
14:42واقعات ہوتے دیکھے تھے وہ شروع میں خوف زدہ ہوا تھا لیکن آہستہ
14:46آہستہ اس کا خوف ختم ہوتا گیا وہ سب کچھ جیسے معمول کی بات
14:50تھی اس کے لیے بلکہ گھر میں کام کرنے والے دوسرے لوگوں کے لیے
14:54ہوئے گھر میں موجود ان بونوں نے آہستہ کسی کو نقصان نہیں
14:58پہنچایا تھا لیکن میں یہ سب کیوں پڑھوں چڑیا الجی تاکہ تمہیں
15:02کوئی نقصان نہیں پہنچائیں وہ ابھی تم نے دیکھا گلاس چلنا
15:05بند ہو گیا خیر دین نے اسے رسانیہ سے سمجھاتے ہوئے کہا چڑیا
15:09نے کچھ معیوسی سے اس ساکت گلاس کو دیکھا اور خیر دین کو بتا
15:13نہیں سکی کہ گلاس کی حرکت بند ہو جانے پر وہ معیوس ہوئی
15:17مطمئن نہیں وہ اب ہر قیمت پر ان بونوں کو دیکھنا چاہتی
15:20تھی سنو وائٹ کے ساتھیوں جیسے نٹ کھٹ تیز تراز اور کیوٹ
15:24بھونے اپنی زندگی کے چھٹے سال میں وہ اس گھر میں ہونے والا
15:28پہلا غیر معمولی واقعہ تھا جو چڑیا نے دیکھا اگر اس سے
15:32پہلے اس نے کچھ دیکھا تھا تو اس کا ذہن اسے مافوکل فطرت
15:36سمجھنے سے کاثر تھا وہ اب خیر دین کی وجہ سے گھر کے اندر
15:40بقائدگی سے آ رہی تھی اور ڈی سی کی بیوی کی نرم مزاجی اور
15:43رحمدلی کی وجہ سے گھر کے ان حصوں میں آ جا رہی تھی جہاں
15:46عام طور پر نوکروں کے اہلے خانہ میں سے کبھی کوئی نہیں
15:49جاتا تھا اس سرکاری رہائشگاہ میں ویسے بھی حلیمہ اور چڑیا
15:53کسی نوکر کے واحد اہل خانہ تھے جنہیں رہائش کی اجازت دی گئی
15:57تھی ورنہ ان کے لوا وہاں موجود تمام نوکر اپنی بیوی کو ساتھ
16:01نہیں رکھ سکتے تھے وہ چلنے والا گلاس اور وہ بونے چڑیا کے
16:04ذہن پر سوار ہو گئے تھے اگلے دن اسکول جا کر اس نے ریڈنگ
16:08روم میں پڑھی اسٹوری بک سمیتے سنو وائٹ کی اسٹوری کی بک
16:12دوبارہ نکال لی تھی کتاب کے صفات پر بونوں کی
16:15الیسٹریشن اسے مکمل طور پر میسور کیے رہی پورا دن وہ بونے
16:19اس کے سر پر ناشتے رہے وہ جیسے سنو وائٹ بنی ہوئی تھی وہ
16:22چڑیا کی زندگی کا جیسے ایک نیا باپ تھا وہ گھر پہلے اس کے
16:27لیے گھومنے پھرنے کی جگہ تھا اب ایک دریافت تگاہ تھا وہ
16:30بونوں سے دوستی کہنا چاہتی تھی ویسی دوستی جیسی سنو وائٹ نے
16:34کی تھی اور وہ اس سے فرنشپ کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار تھی
16:38بلکل سنو وائٹ کی طرح جو ان بونوں کے لیے کھانا بناتی ان کی
16:42کپڑے دھوتی ان کا گھر صاف کرتی حیردین نے یہ نہیں کہا تھا
16:45کہ گھر میں ساتھ بونے ہیں کیونکہ گھر میں کتنے بونے تھے یہ
16:49مکمل یقین کے ساتھ کوئی بھی نہیں جانتا تھا لیکن چڑیا نے
16:52خود ہی اپنے ذہن میں ان بونوں کی تعداد متعین کر لی تھی وہ
16:55بھی ساتھ تھے اور اس نے ان کے نام بھی رکھ لیے تھے انہیں
16:58دیکھے بغیر صرف اسٹوری بوک کی ilustration کو دیکھ دیکھ کر اس
17:02کے ذہن میں ساتھ بونوں کی شکلیں اور ہلیے بیٹھ گئے تھے سب سے
17:06بڑا بونہ بہت موٹا تھا اور اس کے پیروں جتنی داری تھی اس کا
17:10نام ٹوکو تھا دوسرا بونہ بہت ہی پتلا اور بے حد چلاک لگتا
17:14تھا اس کی آنکھیں بٹن کی طرح گھومتی رہتی تھی اس کا نام
17:18کٹو تھا تیسرا بونہ جو کہ جو کر جیسی گول اور موٹی ناک
17:22والا تھا جو ہر وقت چھنکتا رہتا تھا اس کا نام شنٹو تھا
17:27چوتھا بونہ گنجا تھا اور اس کا موٹا سا پیڑ تھا وہ دونوں پاؤں
17:31پورے کھول کر بمشکل چلتا تھا اس کا نام ٹو فو تھا مانچوہ
17:36بونہ اہنک لگائے رہتا تھا اور پھر بھی چیزوں سے ٹکراتا
17:38پھرتا تھا اس کا نام منٹا تھا چھٹا بونہ لمبے لمبے بالوں
17:43والا تھا اور چلتے ہوئے بے مقصد ہاپ تھا اور اس کا نام
17:46کنٹا تھا اور ساتھوہ بونہ سب سے چھوٹا اور سب سے شرارتی
17:50تھا اس کا نام ڈیڈو تھا اور ڈیڈو چڑیا کا فیوریٹ بونہ بھی
17:57تھا چڑیا کی زندگی میں یک دم جیسے بہت سارے رنگ بھر
18:00دیئے تھے ان ساتھ تصوراتی بونوں نے جو اس گھر میں کہیں
18:03رہتے تھے لیکن کہاں رہتے تھے یہ کوئی یقینی طور پر نہیں
18:07جانتا تھا اور نہ ہی کسی کو یہ اشتیاق تھا کہ ان کا حدود
18:10اور عربہ دریافت کرے ماں سوائے چڑیا کے جو اس گھر کے ہر
18:15کونے خدرہ میں اپو ٹوکو کٹو کنٹا منٹا شنٹو ٹوفو اور
18:19ڈڈو کو ڈھونٹی رہتی تھی اسکول سے واپسی کے بعد وہ ہمیشہ اس
18:23وقت خیر دین اور حلیمہ کے پاس ضرور جا کر کچھ وقت گزارتی تھی
18:27جب وہ کچن میں کام کرتے یا ڈاکٹر فرا کے بچوں کو سنبھال رہے
18:31ہوتے تھے لیکن اب وہ بے مقصد ایک چکر گھر میں ان بونوں کی
18:34تلاش میں ضرور لگاتی تھی یہ اس کا وہ راستہ جس کے بارے میں خیر
18:39دین اور حلیمہ نہیں جانتے تھے چڑیا نے دوبارہ ان بونوں سے
18:42مطلقہ کوئی چیز چند مہینوں بعد ایک دن لنچ کے لیے
18:45ڈائنین ٹیبل ارنج کرتے دیکھی تھی ٹیبل کے سینٹر میں ایک واس میں
18:49کچھ پھول شاخو سمیت رکھے ہوئے تھے چڑیا ہمیشہ خیر دین کی
18:53ٹیبل سٹ کرنے میں مدد کرتی تھی اور اس وقت بھی وہ ٹیبل پر
18:58میٹس رکھنے میں مظلوح تھی جب اس نے ان پھولوں میں سے ایک کی
19:01پتیاں نیچے گرتے ہوئے دیکھی تھی وہ تھٹکی پتیاں یوں نیچے
19:05گر رہی تھی جیسے کوئی انہیں نوچ نوچ کر پھینک رہا تھا
19:08چڑیا کی دل کی دھرکن تیز ہو گئی اس نے ایک نظر خیر دین
19:11کو دیکھا وہ اپنے کام میں مصروف تھا اس کا دھیان پھولوں کی
19:14طرف نہیں تھا چڑیا نے ان دیکھ کے پذر نہیں ابھی کیا
19:21رکھا ہے چڑیا نے ان دن خیر دین کی طرف کی توجہ انگیتی پتیوں
19:28کی طرف نہیں کرائی تھی وہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ سب کچھ پہلے کی
19:34طرح رکھ جائے اس کی احتل کرسی پڑھنے پر وہ کن اکھیوں سے گرتی
19:37پتیوں کو دیکھتے ہوئے ٹیبل پر کانٹے شوریاں لگاتی رہی ایک کے
19:41بعد ایک پھول کی پتیاں گرتی گئی تھی چند منٹوں میں ٹیبل کے
19:44درمیان ایک واز میں صرف پتیوں والی کچھ ڈھنڈیاں پڑی تھی ان کی
19:48تمام پتیاں واز کی اردگید ایک سرکل کی شگر میں بکھری ہوئی تھی
19:51ہیر دین نے اپنے دوسرے چکر میں وہ پتیاں اور پھولوں کی خالی
19:54ڈھنڈیاں نوٹ کر لی تھی وہ تھٹکا تھا یہ تم نے کیا ہے چڑیا
20:00اسے یقین نہیں تھا کہ چڑیا ایسا کام کر سکتی ہے لیکن اس نے
20:03پھر بھی پوچھا چڑیا خیر دین کے سوال پر چونکی پھر اس نے
20:06نظریں چلاتے ہوئے کہا نہیں نانا میں تو کچھ نہیں کیا میں یہ
20:11خود بخود گر گئیں خیر دین اس کی بات پر ایک دم پھر کچھ
20:14گھبرائے انداز میں اس طرح لاحول اور آئے تلک آئید کرسی پڑھنے
20:19لگا چڑیا نے بے ایک سیار گہری سانس لی نانا اب پھر ان
20:22بونوں کو بگا رہا تھا وہ آج بھی ان کو نہیں دیکھ سکتی تھی وہ
20:25بری طرح سے معیوس ہوئے تھے اور پھر اکثر ایسی بہت ساری چیزیں
20:28وہ دیکھنے لگی تھی جس پر دوسرے آج تلک کرسی پڑھتے اور
20:31چڑیا دعا کرتی کہ وہ کسی نہ کسی طرح کوئی بونہ دیکھ لے گھر
20:35کا ایک صرف اوپر والا حصہ تھا جہاں چڑیا کچھ نہیں کبھی نہیں
20:40گئی تھی اور جہاں جانے کا اسے بہت اشتحاق تھا ایک آت بار وہ
20:44اوپر گھوم پھر آئی تھی مگر اوپر کے سارے کمرے بند تھے اور
20:47چھت بھی اور اوپر والے حصے میں ایک عجیب سی خاموشی اور
20:50ویرانی کا راج تھا اسے وہاں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جس
20:54کے لیے وہ دوبارہ اوپر والی منزل پر جاتی اس سے ڈپٹی کمیشنر
20:58ہاؤس میں یہ چڑیا کی زندگی تھی اسکول جانا اور اسکول کے بعد
21:02ڈاکٹر فرا کے پاس پڑھنا اس کے بچوں کو کھلانا خیر دن کے
21:06ساتھ کچن میں چھوٹے موٹے کام کرنا کچن گارڈن میں لگی
21:09سبدیوں کی دیکھ بھل کرنا اور گھر میں بونوں کی تلاش کرنا
21:12ٹوکو کٹو منٹو کنٹا شنٹو ڈاڈو ٹو فو سے خود ہی باتیں
21:18کرتے رہنا وہ اس کے ساتھ اس کے کچن گارڈن کی سبدیاں
21:21اتارتے تھے پچھلے لاؤں میں لگے عام کے درخت پر جھولا جھولتے
21:24اور اسے جھلاتے تھے اس کے ساتھ جامن اور لکاٹ اور
21:27رنگوڑ توڑ کر کھاتے تھے اور اسے پتہ نہیں کہ ان کے
21:30دنیاوں کے قصے سناتے یا پھر آپس میں جھگڑا کرتے
21:33رہتے تھے اس کے ساتھ شرارتیں کرتے تھے اس کی پونی
21:36کھینچ لیتے جو تالے جو تالے لے کر بھاگ جاتے اور اس کی
21:41کتابیں چھپا دیتے اس کے کھلونوں سے کھیلتے اس کی کمیت
21:45کھینچتے اس کی جرابیں پہن لیتے وہ ہستی کبھی غصہ کرتی
21:49کبھی ڈانٹ تھی کبھی ان کی پٹائی کر دیتی جنہیں کو گھر میں
21:52بونے نظر آتے تھے اس نے اپنے تصوراتی ساتھ بونوں کو
21:54اس گھر میں جگہ دے دی تھی اور ان بوٹوں کی سنو وائٹ
21:58تھی اور وہ اس کے لویل فرنڈ جو اس پر جان دیتے تھے اور
22:03یہ وہ راستہ جو اسے چڑیا کو بتا تھا خیر دین اور
22:06حلیمہ کو بھی نہیں خیر دین اور حلیمہ اسے کئی بار
22:09اکیلے میں کھیلتے پڑتے کام کرتے اپنے آپ سے باتیں
22:11کرتے دیکھتے تھے یہ ایک نئی عادت تھی جو چڑیا میں آئی
22:15تھی لیکن اس نے کبھی اس پر غور نہیں کیا تھا بچے اس
22:18عمر میں یہی سب کچھ کرتے تھے کڈا منٹا شنٹو ٹوفو
22:23ڈڈو کٹو ٹوکو کے نام بھی انہوں نے کئی بار سننا
22:26تھے وہ یہی سمجھتے تھے کہ یہ چڑیا مختلف چیزوں کے
22:29لیے یہ نام استعمال کرتی ہے کسی بونے تک ان کا ذہن
22:32بھی نہیں گیا تھا لیکن چڑیا بہت خوش رہنے لگی تھی ان
22:35دنوں ان دونوں نے صرف یہ نوٹس کیا تھا انہی دنوں ڈاکٹر
22:39فرا کے شوہر کی پوسٹنگ آ گئی یہ خیر دین اور حلیمہ
22:42کے لئے پریشانی کی جئی تھی اس بار وہ کوشش کے باوجود
22:46خیر دین اور حلیمہ کو اپنے ساتھ لے جانے کیلئے کچھ
22:48نہیں کر سکے البتہ انہوں نے آنے والے ڈپٹی کمیشنر سے
22:51بات کر کے خیر دین کو حلیمہ اور چڑیا کو سرکاری
22:54کورٹر میں ساتھ رکھنے کی اجازت لے لی تھی نہ صرف یہ بلکہ
22:58ڈاکٹر فرا نے اس نے ڈپٹی کمیشنر کی بیوی سے حلیمہ
23:02کو اپنی بچی کی آیا کے طور پر رکھنے کے لیے بھی بات کی
23:05وہ حلیمہ کے لیے ایک مستقل آمدنی کا سلسلہ برقرار
23:08رکھ کر جانا چاہتی تھی تاکہ حلیمہ کو چڑیا کے
23:11تعلیمی اخراجات کے لیے دکت نہ ہو نیا ڈپٹی کمیشنر
23:14اس کے شوہر کا بیچ میٹ تھا جو اس حوالے سے ڈاکٹر فرا
23:28فرا نے جانے سے پہلے خیر دن اور حلیمہ کو تسلیح دی
23:31تھی میں نے ان سے چڑیا کی تعلیم کے حوالے سے بھی بات کی
23:34ہے آیا کے طور پر حلیمہ کو تو شاید وہ نہ رکھیں کیونکہ ان کی
23:37ابھی ایک ہی بیٹی ہے اور وہ بھی چھوٹی ہے لیکن ڈی سی کی بیوی
23:41نے مجھے جقین دلایا ہے کہ وہ چڑیا کی تعلیم کا خیال رکھیں
23:45گے تعلیم کے اخراجات اٹھانے پڑے تو وہ بھی اٹھا لیں گے لیکن
23:48چڑیا کے اسکول فیز تو میں ہی بھیجواتی رہوں گی اس لیے اس کے
23:52بارے میں آپ پر پریشان نہ ہو چڑیا نے اس گھر میں بونے تو
23:56نہیں دیکھے تھے لیکن خیر دین اور حلیمہ کو ڈاکٹر فرا کی
23:59شکل میں پری ضرور ملی تھی جس کے چلے جانے پر خیر دین اور
24:03حلیمہ ہی نہیں بلکہ چڑیا بھی بے حضر انجیدہ تھی
24:07ڈپٹی کمیشنر ہاؤس میں نیا ڈپٹی کمیشنر اپنی بیوی اور تین
24:11سالہ بیٹی کے ساتھ آنے والا تھا اور چڑیا اپنی زندگی کا
24:14پہلا حقیقی بس صورت اور خوفناک بونا دیکھنے والی تھی
24:18وہ اس سٹینڈنگ میرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے
24:21فریض ہو گی تھی خیر دین ہمیشہ اسے نصیت کیا کرتا تھا
24:24بیٹھا شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا
24:28اور خاص طور پر برامدے میں پڑے اس بڑھے آئینے کے سامنے
24:31چڑیا خیر دین کے نصیت پر کچھ حیران ہو گئی تھی
24:33پر کیوں نانا کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں
24:37خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا
24:39چڑیا نے وہ
24:43چڑیا نے وہ کا حدود اور عربہ نہیں پوچھا تھا
24:46وہ جانتی تھی وہ کون تھے
24:47اس کا چہرہ خوشی اور جوشی سے سرخ پڑ گیا تھا
24:51خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا
24:52کہ وہ اپنی استیاتوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی
24:57تو بلا آخر اب سارے گھر میں ماری ماری پھرنے کے بجائے
25:00اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا
25:04چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی تیہ کی
25:07نانا اپنے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا
25:10چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی
25:13خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا
25:15کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے
25:17ورنہ وہ نراض ہو سکتے ہیں
25:18تو چڑیا بکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی
25:22البتہ ان بونا کے نام لینے میں اسے تعمل نہیں ہوتا تھا
25:25نہیں میں نے تو نہیں دیکھا
25:27لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے
25:30ہاتھ طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں
25:32خیر دین روانی میں بتاتا گیا
25:34چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا
25:36کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے
25:38ان آئینوں کی اردگرد منڈلانے لگے
25:41اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی
25:43چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے
25:45گننے شروع کر دیئے تھے
25:46ویرونی آئینے کے علاوہ گھر کے
25:49مرکزی ہال
25:51اندرونی برامدے اور چند دوسرے کمروں میں
25:53ملا کر پانچ چھوٹے
25:55بڑے آئینے تھے
25:56کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی
25:59اور ان میں سے صرف ایک آئینہ
26:01تھا جو چڑیا شام کے بعد
26:02آسانی سے دیکھ سکتی تھی
26:04اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برامدے میں لگا
26:07شیول سٹینڈنگ میرر تھا
26:09اس آئینے نے سات آٹھ سال کی
26:11اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح
26:13فیسینیٹ نہیں کیا تھا
26:14جس طرح اب کھنے لگا تھا
26:16وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی
26:19کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی
26:21وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ
26:23بیکنگ میں
26:25کنٹا منٹا شنٹو
26:27ڈیڈو فوٹو ٹوکو
26:29کٹو کو ڈھوننے کی کوشش کرتی رہتی
26:32بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح
26:35وہ بھی اس پینٹ میں
26:37ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک
26:39ڈھونڈ ہی رہتی تھی
26:40اور بعض دفعہ وہ اس سے حرکت کرتے بھی نظر آتے
26:43صرف
26:44اس ٹک نہیں
26:46بلکہ پھر بھی اس کا
26:47لا شعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا
26:50کہ جو آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مر رہی نہیں ہے
26:53وہ ویسا پرسرار اور مکوف الفطرت
26:55نہیں تھا جتنا گھر میں خود بخود
26:57حرکت کرنے والی چیزیں جو اب
26:59اس کے لیے پیرا نورمل چیز نہیں
27:01رہی تھی وہ ان حرکت کرنے والی
27:03چیزوں کے تاقب میں جاتی تھی تجسس
27:05اور اشتیاق کے عالم میں
27:07خیردین کی طرح آیت نہیں پھونکتی تھی
27:09بلکہ کئی دفعہ اس حرکت
27:11کرنے والی چیز کو بعد میں بھی
27:13الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے
27:15وہ اسے نظر نہ آنے والے بونوں
27:17کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی
27:19جو اسے حرکت دیتا رہا تھا
27:21اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا
27:23کیونکہ وہ یہ تیہ نہیں کر پائی تھی
27:25کہ آخر وہ ان گلاسوں پلیٹوں اور دوسری
27:27چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی
27:29کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر
27:31فنگر پرنٹ تلاش کرتا
27:32کوئی دوسرا نشان جا پھر کوئی بالوں کا
27:35ٹکڑا چڑھی ان بونوں کے کپڑوں
27:37جھوٹوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا
27:39کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی
27:40ان کی رنگین پھندوں والی
27:42ٹوپی کے کوئی دھاگا
27:44ان کے رنگین رومال کوئی سونے
27:46یا چاندھی کا سکہ کوئی بٹن
27:48یا کوئی ایسی چیز جسے وہ
27:50اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے
27:52اور پھر سب کو دکھا سکے
27:53لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا
27:56نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار
27:58اور امید ختم کر بیٹھی
27:59تب یک دم اس شام
28:02اسے باہر براندے میں لگے آئینے میں
28:03پہلی بار کچھ نظر آیا تھا
28:05اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین
28:08کے ساتھ نئے ڈپٹی کمیشنر کے انتظار
28:10میں گھر کے باہر کری تھی
28:11نئے ڈپٹی کمیشنر اس گھر میں منتقل ہونے
28:14سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے
28:16اس شام وہاں آنے والا تھا
28:17اور خیر دین اس کے اصرار پر
28:19اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا
28:21جو وہ خود دوسرے ملازمین
28:23کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا
28:25ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی
28:27ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی
28:29ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے
28:31وہ پسینے سے شرابور ہو گئی
28:33اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے
28:35بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے
28:37اور برہو مہاں سے برامدے میں آئی تھی
28:39اور برامدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر
28:41اور وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی
28:42شام ہو رہی تھی پھولیوی ساتھ اور پسینے سے
28:45شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے
28:47کھڑی ہو گئے وہ اس وقت آئینے میں
28:49اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی
28:52لیکن اس نے آئینے میں کچھ دیکھا تھا
28:54ایک نظر میں وہ اسے اپنا
28:55وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں
28:57کچھ تھا کچھ کھڑا تھا وہاں کسی کا
28:59عقص تھا بہت چھوٹے سے قد کا
29:01کوئی اس سے پہلے کہ وہ غور کر
29:03پاتی خیرزین نے اسے آواز دی تھی
29:05ڈپٹی کمیشنر کی گاڑی گھر کے اندر
29:07داخل ہو رہی تھی تمام ملازمین
29:09مستعد ہو گئے تھے چڑیہ نے
29:11خیرزین کی آواز پر لا شعوری طور پر
29:13ایک لمحے کے لئے پلٹ کر دیکھا پھر وہ
29:15دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا
29:17وہاں اب وہ نہیں تھا جو اسے نظر آیا تھا
29:20سیاہ رنگت والا ایک بے حد
29:22چھوٹے قدر بڑی بڑی موٹی آنکھوں
29:24اور سرخ موٹے ہونٹوں
29:25والا ایک آدمی جو اسے دیکھ رہا تھا
29:27نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں
29:29ڈالے وہ بے حد بدصورت
29:32تھا اور ایک لمحے کے لئے چڑیہ
29:33کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا
29:35اس نے زندگی میں اس جسامت کا
29:37کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا
29:39لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا
29:42خوف اور تجسس
29:43لیکن اس کی نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے
29:45غائب ہو گیا تھا اور اب جب وہ دوبارہ
29:47آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں
29:49نہیں تھا آئینے پر برامدے میں
29:51جلنے والی روشنیوں کا اکس پڑھ رہا تھا
29:54چڑیہ چند قدم اور آگے
29:55بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ
29:57کوئی دیوار تھا جس کے پار وہ
29:59دیکھنا چاہتی تھی وہاں اس آئینے
30:01میں اب اس کا اپنا اکس تھا
30:03اپنے چہرے اور آنکھوں کی حرانی
30:05کے ساتھ اس کے ذہن نے اس آدمی
30:07کو بونہ نہیں سمجھا تھا بونے
30:09ایسے نہیں ہو سکتے تھے
30:11وہ کیور شرارتی رنگین کپڑوں
30:13اور ماسوم چہروں والی مخلوق تھی
30:15چڑیہ کے ذہن میں اور آئینے میں
30:17نظر آنے والا آدمی کا سیاہ جسم
30:19کسی ریش کے جسم کی
30:21ماند جسم کی طرح
30:23بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف
30:25اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا
30:27ایک لمحے کے لئے اس نے آنکھیں بند کی
30:29پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے
30:32اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا
30:33اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر
30:35حیرانی کی عالم میں کھولی تھی
30:37آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو
30:39دراز قد آدمی کا آکس تھا
30:41جو برامدے میں داخل ہو رہا تھا
30:43چڑیہ نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا
30:45وہ ٹھگنا بدصورت
30:47آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا
30:49کیسے ہو گیا تھا
30:50ایک لمحے کے لئے حیران ہوئی
30:52پھر اس نے سا آدمی کے پیچھے خیر دین
30:54اور دوسرے لوگوں کا آکس دیکھا
30:55اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر ہال میں واپس آئی تھی
30:58وہاں نیا ڈپٹی کمیشنر تھا
31:00سر یہ میری نواسی ہے
31:02چڑیہ نے پلٹ کر دیکھا
31:03نیا ڈپٹی کمیشنر اور باقی تمام لوگ
31:06اب اس کے سامنے تھے
31:07اور خیر دین بڑے آج دانہ انداز میں
31:09ڈپٹی کمیشنر سے اس کا تعرف کروا رہا تھا
31:12جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا
31:13چڑیہ نے خیر دین کے تعرف پر سلام کرتے ہوئے
31:16پورا اعتماد انداز میں اپنا ہاتھ
31:18اس ڈپٹی کمیشنر کی طرف بڑھایا تھا
31:20جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا
31:22ہلکی سے مسکرار کے ساتھ
31:24اس سے ہاتھ ملایا
31:25پھر خیر دین سے کہا
31:26ہاں آبت نے بتایا تھا مجھے
31:29وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا
31:31چڑیہ نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا
31:34اور پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی
31:37جس میں اس نے آج ایک بھونا دیکھا تھا
31:39لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی
31:43میں یہاں نہیں رہوں گی
31:44اعلان دو
31:45دو ٹوک تھا
31:47شہر دل نے ایک لمحے کے لیے پلٹ کر
31:49ہاتھ کے اشارے سے شہربانوں کو خموش ہونے کا اشارہ کیا
31:52اور اپنے کندے سے لگی
31:53مثال کو بیڑ پر لٹا رہا تھا
31:55جو راستے میں گاڑی میں ہی سو گئی تھی
31:57وہ دونوں ابھی ایس پی ہاؤس میں
31:59ڈینر سے واپس آئے تھے
32:00جو ان کے عزاز میں تھا
32:02اور ڈینر سے واپسی پر شہربانوں کا موڈ بری طرح آف تھا
32:05وہ اس کے پیچھے اپنے بیٹ روم میں داخل ہوئی تھی
32:07اور اس نے اپنے کانوں سے ایرنگز اتارتے ہوئے شہر دل کو بتا دیا
32:12شہر دل نے مثال کو توجہ سے بیڑ پر لٹاتے ہوئے
32:16بڑی لاپروہی سے شہربانوں کا اعلان سنا تھا
32:19اسے ایس پی ہاؤس میں ڈینر پر آنے والے طفان کا اندازہ ہو گیا تھا
32:27شہربانوں اس کے اشارے پر خموش ہو گئی تھی
32:29کرسی پر بیٹھ کر سینڈلز کے سٹریپ کھولتے ہوئے
32:32وہ بگڑے تیوروں کے ساتھ شہر دل کے فارغ ہونے کا انتظار کرتی رہی
32:36شہر دل نے مثال کو بیڑ پر لٹانے کے بعد اس کو کمبل سے ڈھامپا
32:40پھر اس نے اپنا کوٹ اتار کر بیڑ پر پھینکا
32:42بیڑ پر سائی ٹیبل سے سیکریٹ کا پیکٹ اور لائٹر اٹھاتے ہوئے
32:46وہ بڑی نرمی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ والے بیڈ روم میں لے آیا
32:50کیا ہو گیا شہی دونوں بیڈ روم کا درمیانی دروازہ بند کرتے ہوئے
32:55اس نے شہر بانوں کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے آیستگی سے کہا
32:59وہ دونوں مثال کے بیڈ روم میں تھے
33:01وہ الگ بیڈ روم ہونے کے باوجود اس گھر کے دونوں کے قصے سننے کے بعد
33:06شہر بانوں نے اسے کبھی رات کو اس کے بیڈ روم میں کیلہ سلانے کی کوشش نہیں کی تھی
33:14وہ تین ہفتوں کی تضہین و آرائش کے بعد ایک ہفتہ پہلے ہی گھر میں شفٹ ہوئے تھے
33:18اور اب مختلف انتظامی افسران کی طرف سے استقبالی اٹینڈ کرتے پھر رہے تھے
33:23اپنے تمام تر خطشات اور تحفظات کے باوجود شہر بانوں شہر دل کے
33:28اسرار اور سمجھانے بجھانے کے بعد ایک گھر میں رہائش اختیار کرنے پر تیار ہو گئی تھی
33:33وہ شہر دل کی سرکاری رہائش گاہ تھی
33:35وہاں رہائش نہ رکھنے کے لیے شہر دل کے پاس کوئی بہت بڑی وجہ ہونی چاہیے تھی
33:40خاص طور پر اس صورت میں جب اس سے پہلے آنے والے تمام افسران اس سمارت کا استعمال کرتے آ
33:46رہے تھے
33:46اور یہ بات شہر بانوں کے سمجھ میں آ گئی تھی
33:49ایک ہفتے کے قیام میں وہاں ایسی کوئی چیز رونڈما نہیں ہوئی تھی
33:52جسے شہر بانوں کے خطشات کی تصدیق ہوتی
33:55اسے یقین ہونے لگاتا کہ شہر دل ٹھیک کہتا ہے
33:58وہ سب سنی سنائی باتیں اور قصے تھے
34:00اور ان میں کوئی صداقت ہوتی
34:02تو وہ ڈی سی ہاؤس اس وقت ہونٹڈ قرار دیا جا چکا ہوتا
34:06اور اس شہر میں ڈی سی کی سرکاری رہائش گاہ کہیں اور منتقل ہو چکی ہوتی
34:10ایک ہفتہ وہاں قیام کے دوران شہر بانوں کا اعتمنان اور اعتماد
34:14آہستہ آہستہ بحال ہونے لگا تھا
34:16اور مزید ایک آدھ ہفتے میں یہ مکمل طور پر بحال ہو جاتا
34:19اگر آج وہ اقتر دورانی کے ڈینر ٹیبر پر
34:22اس گھر کے بارے میں وہ سب کچھ نہ سنتی جو اس نے سنا تھا
34:27ڈینر بڑے خشوار محول میں شروع ہوا تھا
34:29اقتر دورانی شہر دل سے پانچ کومن سینئر تھا
34:35شہر دل اور شہر بانوں اقتر دورانی اور اس کی بیوی تظین سے بہت کم عمر تھے
34:41لیکن اس کے باوجود ان کے دوستانہ رویہ کی وجہ سے
34:44شہر دل اور شہر بانوں کو ان سے مل کر بہت اچھا لگ رہا تھا
34:47شہر دل اقتر سے پہلے بھی چند بار مل چکا تھا
34:50لیکن اس کی بیوی سے ان کے گھر پر یہ ان کی پہلی ملاقات تھی
34:54ڈینر کے آغاز سے پہلے ڈرنک سرب ہونے کے دوران
34:57تحزین اور اس کے درمیان گپ شپ ہونے لگی
34:59دونہ ایک دوسرے کی فیملیز کا تعریف حاصل کر رہی تھی
35:02شہر دل اور اقتر دورانی کمرے کے دوسرے کونے میں
35:05صوفوں پر بیٹھے کسی انتظامی معاملے کو ڈسکس کر رہے تھے
35:09ماشاءاللہ بڑا گود لکنگ کپل ہے آپ دونوں کا
35:11تحزین نے اپنا پہلا ستائشی جملہ اس تک پہنچایا
35:14شہر بانو مسکرہ دی
35:16یہ کمپلیمنٹ ان کو اب اتنی بار مل چکا تھا
35:19کہ اس کے لیے یہ ایک روٹین کی بات ہو گئی تھی
35:22میاں اتنا ہینسوم اور اتنی اچھی پوسٹ پر ہو
35:24تو بی بی کی راتوں کی نیند بھی اڑ جاتی ہے
35:26تحزین نے مشروع کا گلاس بائیں سے دائیں ہاتھ میں منتقل کرتے ہوئے کہا
35:30شہر بانو نے دور اکتہ دورانی کے ساتھ باتوں میں
35:34مصروع شہر دیل کی جانب دیکھا
35:35اور مسکراتے ہوئے تذین سے کہا
35:38نہیں مجھے بڑی گہری نیند آتی ہے
35:40یہ سمجھ داری کا کام نہیں ہے
35:42رسیاں وغیرہ ڈال کر رکھنا چاہیے شہروں کو
35:45حاصل طور پر اتنے خوش شکل شہر ہوں تو
35:47شہر بانو اس بار اس کی بات پر ہنس دیں
35:50پھر اس نے کہا یہ رسیاں سے کابو آنے والا مرد نہیں ہے
35:53اعتماد کے دھاکے سے جکڑا ہوا ہے اسے
35:56شہر بانو نے اسی پلیتے ہوئے جیسے فخری انداز میں اس سے کہا
35:59love marriage ہے کیا
36:01تذین نے ایک دم جسے کچھ اور دلچسپی لیتے ہوئے تجسس سے کہا
36:05love marriage
36:06شہر بانو نے ایک لمحے کے لیے اسی پلیتے ہوئے رکھ کر سوچا
36:09پھر وہ شہر دل کو تیسری بار دیکھتے ہوئے مسکرائی
36:12اور اس نے اس بات میں سر ہلا دیا
36:14ہاں اس طرح کی باتیں تب بھی کرتا ہے بندہ
36:17تذین اس بار ہسی تھی
36:18کیسے اور کہاں ملے تھے دونوں پہلی بار
36:20اس نے اگلا سوال کیا
36:23شہر بانو نے شہر دل کو پہلے ہی بار
36:26ہارورڈ یونیورسٹی کے ونٹھروپ ہاؤس کی ویب سائٹ پر دیکھا تھا
36:32یونیورسٹی میں فرشمن کی طور پر اسے ابھی چند دن ہوئے تھے
36:36اور ونٹھروپ ہاؤس میں تھی
36:40اور ویب سائٹ پر اسپورٹس کی ایکٹیوٹیز کو چیک کرتے ہوئے
36:44اس نے شہر دل کی ایک تصویر دیکھی
36:47اس تصویر پر رک گئی تھی
36:48تصویر میں نظر آنے والے مرد کی نیشنالٹی سے اندازہ لگانا مشکل تھا
36:53وہ اپنے رنگ اور نقوش کے لحاظ سے
36:55عرب ایرانی افغانی پاکستانی کوئی بھی ہو سکتا تھا
36:58بھی اس لائن پہر پوری قوت سے
37:00ایک اسی شارٹ گن کو ریٹن کرتے ہوئے
37:04اس مرد کی شر پسینے سے تر ہونے کے باوجود
37:06ناف سے اوپر تک اٹھی ہوئی تھی
37:08اس کے دونوں پاؤں
37:10کوٹ سے چند انچ اوپر ہوا میں تھے
37:17کی تحریر والا ایک یونیورسٹی کلر کا
37:22رسٹ بینڈ اس کے دائیں بازو کے
37:24ابرے ہوئے مسلز کو جیسے کلائی پر
37:27کیس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
37:28ہونٹر کو پوری قوت سے بھینچے
37:30بیس لائن کے اندر پڑھ کر
37:34باہر جانے والی گینڈ کو پوری طاقت
37:36مہارت سے سنگل ہینڈڈ شاٹ
37:38کے ساتھ کھلاری ریٹن کرنے کی کوشش کر رہا تھا
37:42اور وہ کوشش اور جنون کسی پروفیشنل
37:44فوٹوگرافر کے لینڈز نے اسی مہارت کے ساتھ
37:47محفوظ کر لی تھی
37:48اور وہ ایک بے حد انیوجل شاٹ تھا
37:51اور شاید کھلاری کی غیر معمولی لکس
37:54اس تصویر کے وہاں موجود ہونے کی وجہ بھی بنی تھی
37:57یہ شہربانو کا تجزیہ تھا
37:58وہ جنہیں جانتی تھی
38:00کہ وہ آئیوی لیگ میں ہونے والے
38:04سٹرس کپ کے فائنل کا ویننگ شاٹ تھا
38:08اور وہ کھلاری کرمسن
38:11ٹینس ٹیم کا کیپٹن تھا
38:13شہربانو کئی منٹ تک اس تصویر کو دیکھتی رہی
38:15پھر وہ اپنے ہاؤس کی سپورٹس
38:17فسیلٹیز میں ٹینس کو دیکھنے لگی تھی
38:19چند دن سپورٹس میں
38:21اسے بچپن سے دلچسپ بھی رہی تھی
38:23ان میں سے ایک ٹینس بھی تھا
38:25اور وہ ہائی اسکول میں
38:27جن گیمز کو بقائدگی کے ساتھ کھیلتی رہی تھی
38:31اس میں سے وہ ایک تھا
38:33اس وقت بھی وہ یونیورسٹی میں
38:35ٹینس کھیلنے کے طریقے کار کو جاننا چاہتی تھی
38:37ٹینس کے لنک پر
38:39ٹینس ٹیم کے کیپٹن اور کوچ کا نام دیکھتے ہو
38:42اس نے کیپٹن کے نام کی جگہ
38:43شہر دل کا نام دیکھا تھا
38:45ایک لمحے کے لیے وہ تھٹکی تھی
38:46ہارورڈ ٹینس ٹیم کے کیپٹن کے طور پر
38:49کسی مسلمان کا نام دیکھنا
38:50اور جو ساؤس ایشن بھی لگتا ہو
38:52غیر معمولی تھا
38:54اس وقت پہلی بار اسے خیال آیا
38:56کہ شاید وہ پاکستانی بھی ہو
38:58کم از کم نام کے
38:59اس ایک حصے سے یہ ممکن تھا
39:02جو اس کے سامنے تھا
39:03کوچ اور شہر دل کا
39:04ای میل اڈریس نوٹ کرنے کے بعد
39:07وہ اب اس شاشہ پانچ میں تھی
39:09کہ ٹینس کمپس کو اٹینڈ کرنے
39:11اور یونیورسٹی ٹینس ٹیم کو
39:13جوائن کرنے کا طریقہ کار جاننے کے لیے
39:15وہ کسے ای میل کرے
39:18اس نے بلاخر کوچ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا
39:20این ریویوز کا
39:22آٹو ریسپونس پر رنایا تھا
39:24وہ چھٹی پر تھا
39:25اس نے اسسٹنٹ کوچ اور شہر دل کا
39:27ای میل اڈریس مزید معلومات کے لیے بھیجے تھے
39:30اس بار شہر بانوں نے شہر دل کو ہی ای میل کی تھی
39:33وہ بھی اپنی دوسری ای میل
39:35چیک کر ہی رہی تھی کہ شہر دل کی ای میل آگے
39:37ایک فارمل ای میل میں
39:39رسمی الیکس الیک کے ساتھ
39:41اس نے شہر بانوں کو ایک اٹیشمنٹ بھیجی تھی
39:43جس میں وہ تمام معلومات تھیں
39:45جو شہر بانوں کو درکار تھی
39:46ای میل میں اس نے مزید کسی رہنمائی
39:48یا معلومات کے لیے اپنا فون نمبر بھی دیا تھا
39:52شہر بانوں نے اس سے کی ای میل کے نیچے سیگنیچر میں
39:55اس کا ڈپارٹمنٹ اور سال دیکھا
39:57وہ فنانس اور منجمنٹ میں
39:59اپنی بیچلر ڈگری کے آخری سال میں تھا
40:01اور یقینا پاس آؤٹ ہونے والا تھا
40:03ایک سری سی نظر اس کے نام پر ڈالتے ہوئے
40:06وہ یہ تو جان گئی تھی
40:07کہ وہ واقعی پاکستانی تھا
40:08ای میل کا جواب بھی چند منٹوں کے اندر ہی آیا تھا
40:11وہ شہر دل سے اس کا پہلا غائبانہ تعریف تھا
40:16شہر دل سے اس کا دوسرا تعریف چند دنوں کے بعد
40:21انٹرامورل ٹینس میچز کے دوران ہوا تھا
40:24ایڈمز ہاؤس کے خلاف
40:26اپنے ہاؤس کے دوسرے لوگوں کے ساتھ
40:28اپنی ٹیم کو سپورٹ کرنے گئی تھی
40:30اور کورن اترنے والے پہلے کھلاری
40:32کو وہ پہلے ہی نظر میں پہچان گئی تھی
40:34وہ ویب سائٹ پر اس تصویر والا
40:36اس تصویر والا کھلاری تھا
40:38اور وہ شہر دل تھا
40:39اور وہ حقیقی زندگی میں
40:41سنفر نازک کے لیے
40:42اس سے کئی گناہ زیادہ پرکشیر تھا
40:45جتنا وہ اس ویب سائٹ کے
40:46پوٹر شورٹ میں لگ رہا تھا
40:48وہ شہر بانوں کا ساتھوں کرش تھا
40:50اس سے پہلے تین فلم ایکٹر
40:52دو ٹینس سٹار
40:53ایک رگبی پلئر اور اس کی پیریس میں تھے
40:56شہر دل کو یہ امتحاد ہاتھ تھا
40:58کہ وہ ان ساتھ میں سے پہلا تھا
41:00جیسے وہ اپنی زندگی میں دیکھ رہی تھی
41:02غوشش کر کے مل بھی سکتی تھی
41:04شہر دل وہ میچ سٹریٹ سیٹ میں جیتا تھا
41:09شہر دل وہ میچ سٹریٹ سیٹ میں جیتا تھا
41:12اور میچ کے دوران ہی شہر بانوں کو
41:15اندازہ ہو گیا تھا
41:16کہ وہ کم اکم یونیورسٹی کی
41:17ٹینس کھیلنے اور دیکھنے والی
41:19خواتین میں انتہائی پاپولر تھا
41:22ونٹروپ ہاؤس کی ٹینس ٹیم کی
41:24سپورٹس کے لیے
41:26جی ٹی ٹی سی پہنچنے والوں کی
41:28عادی سے زیادہ تعداد
41:30شہر دل کا ہلکہ حباب تھا
41:32ہلکہ حباب شاید کچھ سے زیادہ موضوع لفظ نہیں تھا
41:35ایک گیدرنگ کے تحرف کے لیے
41:36جو شہر دل کی وجہ سے وہاں اکٹھا تھا
41:39کیونکہ ان میں سے
41:40بہت سے شہر بانوں کی طرح
41:42صرف اس کی لکس کی وجہ سے
41:44اس کے مدہوں میں شامل ہو گئے تھے
41:45مدہ بھی شاید ایک موضوع لفظ نہیں تھا
41:48ان سب کے لیے
41:49کیونکہ ان میں سے کوئی بھی شہر دل کے کھیل کے لیے
41:52وہاں نہیں آتا تھا
41:53وہ شہر دل کے کھیلنے کی وجہ سے
41:55وہاں آئے یا آئی تھے
41:58شہر بانوں نے
42:00انسٹرامورل
42:02میچز میں
42:03سب سے میں سے شہر دل کو
42:05کا کوئی ایک میچ مس نہیں کیا تھا
42:08ونٹرو بھاؤس ایونٹ جیت گیا تھا
42:10اور ایونٹ کا اقتطاق شہر بانوں کے لیے
42:12مجیوسی لائی تھا
42:13شہر دل کو دیکھنے کا اب اور کوئی موقع
42:15اس کے پاس نہیں تھا
42:16وہ شہر دل کے ہر میچ کے بعد شہر دل کو
42:18ایک تہنتی ای میل بھیجتی تھی
42:22جو اب گھنٹوں میں نہیں
42:24تو دوسرے دن ضرور آ جاتا تھا
42:26جواب گھنٹوں میں نہیں
42:27تو دوسرے دن ضرور آ جاتا تھا
42:29اور شہر بانوں چند لائنز کی
42:31اس شکریہ کی ای میل کو گھنٹوں بڑھ دی رہتی تھی
42:34شہر دل جیسے اس کے حساب پر سوار ہونے لگا تھا
42:37اس کے لیپ ٹاپ میں میچز کے دوران شہر دل کی لی ہوئی
42:40سینکڑوں تصویریں اور ویڈیو کلیپ سے
42:42ان تصویروں کو دیکھنا اس کا پسند دیدہ ٹائم تھا
42:45ٹورنمنٹس کی اقتصام پر اس نے کچھ
42:47ڈرتے جھجکتے شہر دل کو فون کیا
42:48بے حد نربس انداز میں اپنا تعرف کروایا
42:52ای نو یو شہر بانوں
42:54اس نے جواباً اس سے کہا تھا
42:56اور چند لمحوں کے لیے شہر بانوں حق کا وقع رہ گئی تھی
42:59آپ کیسے جانتے ہیں مجھے
43:00اس نے اسی حیرت کے علم میں اثر ہو جا
43:02آپ بہت بقائدگی کے ساتھ میرے میچز دیکھنے آتی رہی ہیں
43:05شہر بانوں آپ جیسے
43:06بالکل فریض ہو گئی تھی
43:08شہر دل کو یہ کیسے پتا چلا
43:09کہ میں اس کی ہر گیم دیکھنے جاتی رہی ہوں
43:12آپ یہ کیسے پتا چلا آپ کو
43:14اس نے کچھ اٹک کر
43:16ہرکی خوشوہمی کے ساتھ کہا
43:17آپ ہر میچ کے بعد ایک ای میل بھیجتی تھی
43:20پل آف کمپلیمنٹ
43:21بعض دفعہ میرے میچز کھیل کر آنے کے بعد
43:24بھی صرف آپ کی ای میل میں
43:25میری گیم کی تعریف ہوتی تھی
43:27حالانکہ کوئی سے گالیاں پڑھی ہوتی تھی
43:29دوسری طرف سے بے حد اتمنان کے ساتھ کہا گیا
43:32شہر بانوں پر گھڑوں پانی پڑا
43:34اس تفسرے کے بعد کسی پر بھی پڑ جاتا
43:37شہر دل سے مزید کچھ کہنے کے حمد نہیں ہوئی تھی
43:39اس کی جندرسمی کلامات کے ساتھ
43:42اس نے سیکنڈز کے اندر پن بند کیا
43:44شربندگی کی انتہا سی انتہا تھی
43:47انتہا ہی انتہا تھی
43:48جو گلے کے ای دن اسے گھیرے رہی
43:50وہ چاہتی تھی شہر دل اس کو نوٹس کرتا
43:52اور یاد رکھتا لیکن وہ اس طرح نوٹس ہونا
43:54اور یاد رہنا نہیں چاہتی تھی
43:56اس کا اندازہ تھا شہر دل کو
43:58سینکڑوں نہیں تو درجنوں لڑکیاں
44:00تو ای میلز ضرور کرتی ہوں گی
44:02اس سے یہ اندازہ نہیں تھا کہ
44:04اسے بقائدگی سے ای میل کرنے والی درجنوں لڑکیاں
44:07اپنی درجنوں ای میلز کو
44:08صرف ٹینس پر فوکس نہیں رکھتی تھی
44:10وہ نہیں دو نہیں تو تین
44:13اور تین نہیں تو چار پانچ
44:14ای میلز کے بعد ای میل سے آپ کا سبق
44:16بدلنا شروع ہو جاتا تھا
44:18لڑکیاں شہر دل سے اس طرح دوستی کا آغاز کرتی تھیں
44:21اور وہ جو اس سے
44:22کھیل کے ذریعے مطارف ہوتی تھی
44:24لیکن شہربانوں کی صورت میں
44:26شہر دل کو پہلی بار ایک انتائی
44:28مستقل مزاج مدہ ملا تھا
44:30جس کی پوری ای میل صرف ٹینس کے گلد گھونتی تھی
44:33اور اگر وہ واقعی صرف
44:35شہر دل کے کھیل میں ہی دلچسپی رکھتی
44:37تو جس کے حلقہ حباب میں
44:39ایک انوکھا اضافہ تھا
44:40شہر دل اس کو نوٹس
44:42نہ کرتا تو کیسے نہ کرتا