- 3 days ago
AKS – Episode 3 | عكس | The Mystery Continues…
Har raaz ke peeche ek nayi haqeeqat chhupi hoti hai… aur har chehra woh nahi hota jo nazar aata hai! 😨
Episode 3 mein suspense aur mystery ek naye mor par pohanchti hai. Purane raaz, anjaane khauf aur hairan kar dene wale sawaal kahani ko aur bhi dilchasp bana dete hain.
🔍 Kya sach saamne aa payega?
Kya woh apne ateet ka saamna kar sakega?
😱 Ya ek naya raaz sab kuch badal dega?
Puri kahani jaanne ke liye video end tak zaroor dekhein!
👍 Video pasand aaye to LIKE karein.
💬 Comments mein batayein ke aapke khayal mein agay kya hone wala hai.
🔔 Channel ko SUBSCRIBE karein aur BELL ICON press karein taake AKS ki agli episodes miss na hon!
❤️ Thank you for watching!
Har raaz ke peeche ek nayi haqeeqat chhupi hoti hai… aur har chehra woh nahi hota jo nazar aata hai! 😨
Episode 3 mein suspense aur mystery ek naye mor par pohanchti hai. Purane raaz, anjaane khauf aur hairan kar dene wale sawaal kahani ko aur bhi dilchasp bana dete hain.
🔍 Kya sach saamne aa payega?
Kya woh apne ateet ka saamna kar sakega?
😱 Ya ek naya raaz sab kuch badal dega?
Puri kahani jaanne ke liye video end tak zaroor dekhein!
👍 Video pasand aaye to LIKE karein.
💬 Comments mein batayein ke aapke khayal mein agay kya hone wala hai.
🔔 Channel ko SUBSCRIBE karein aur BELL ICON press karein taake AKS ki agli episodes miss na hon!
❤️ Thank you for watching!
Category
🛠️
LifestyleTranscript
00:00شہر بانو نے اس کے بعد دوبارہ شہر دل کو ای میل نہیں کی شرمندگی کچھ ست تک ہوئی تھی
00:06اسے لیکن شہر دل اس کے دل و دماغ سے کوشش کے باوجود وحب نہیں ہو سکا
00:11وہ چند ہفتوں میں اپنا سمسٹر ختم کرنے والا تھا اور شہر بانو کو ایک محوم سی امید تھی کہ
00:18شاید وہ ماسٹرز کے لیے وہاں رکے وہ برائٹ سٹوڈن میں سے تھا
00:22وہ جانتی تھی اس لیے ایڈویشن اس کے لیے زیادہ مسئلہ نہیں تھا لیکن اس وقت شہر بانو کو شدید
00:28دھچکہ پہنچا جب پاکستان جانے سے پہلے اس نے شہر بانو کو ایک ای میل کی تھی
00:34اپنے ان بوکس میں شہر دل کا نام دیکھ کر شہر بانو کا دل جیسے اچھل کر حلق میں آ
00:39گیا تھا
00:40چند لمحوں کے بعد اس سے یقین نہیں آیا تھا کہ شہر دل نے اسے ای میل کی تھی کامتے
00:45ہاتھوں کے ساتھ اس نے ای میل کھولی تھی
00:48اور اس کے حواظ اسی برک رفتاری سے بہال ہو گئے تھے وہ ایک گروپ ای میل تھی
00:54شہر دل کی طرف سے ہارورڈ میں گزارے ہوئے یادگار وقت کے حوالے سے ایک الویدائی پیغام جو اسی کی
01:01اڈرس بک میں موجود تمام کانٹیکٹ کو بھیجا گیا تھا
01:05شہر بانو نے سی مور کے اپشن کو دبا کر ہیڈن کانٹیکٹ کو دیکھنا چاہا اور اس پر جیسے منو
01:11کے حساب سے برف پڑی تھی
01:13کم سے کم تین صفات پر پھیلی ہوئی کانٹیکٹ لسٹ میں سینکرو ایڈرس تھے اور اگر ان میں سے ایک
01:19شہر بانو بھی ہو گئی تھی تو کون سی خاص بات ہو گئی تھی
01:25ماہی اسی کچھ اتنی زیادہ تھی کہ اس نے شہر دل کے کانٹیکٹ میں موجود ایک ایک نام کو پڑھا
01:30حضب توقع سیونٹی فیصد ہوا تین ہی تھی اس فہرست میں
01:34شہر بانو کا دل نہیں چاہا کہ وہ اس سے ای میل کا جواب دے اور اسے الویدہ کے اسے
01:40یقین تھا کہ سینکرو کانٹیکٹ میں
01:42اگر ایک کی طرف سے اسے جواب نہ ملا تو کیا فرق پڑے گا
01:46لیکن اگلے کئی دن ان کانٹیکٹ سے ریپلائے ٹو آل کے آپشن کے ساتھ آنے والے جوابات اور پیغامات ایک
01:53طرف
01:53اس کو بار بار ریمائنڈر دیتے رہے اور دوسری طرف بہت سی ای میلز میں شہر دل کے لیے خواتین
02:01کی طرف سے
02:02دکھائی جانے والی بے تکلفی اور اپنایت اسے بے چین کرتی رہی
02:06اور کسی حد تک اسے ان لڑکیوں پر رشک بھی آتا رہا کہ وہ شہر دل کے ساتھ اس طرح
02:12بات کر سکتی تھی
02:13وہ کتنا پاپولر تھا پہلے اسے صرف اندازہ تھا لیکن ان میسجز سے اسے یقین ہو گیا تھا
02:19کہ وہ وہاں ہارڈ تھروب تھا اور کتنوں کے دل توڑ کر چاہ رہا تھا
02:26اور نہ ماننے کے باوجود شہر بانو جانتی تھی کہ وہ بھی کسی نہ کسی حد تک ان کتنوں میں
02:32شامل تھی
02:32جن کا کرش شیر دل پر تھا
02:35اگر اتنی لڑکیاں شیر دل کو ای میل کا جواب نہ دے رہی ہوتی ہیں
02:39تو شہر بانو یقیناً اسے الودائی پیغام کا جواب ضرور دے دیتی
02:43لیکن ان ای میلز کو پڑھ پڑھ کر شہر بانو کا دل شیر دل سے اٹھتا گیا تھا
02:48یا کم از کم اب اسے ہیرو سے ویلن بنانا ضروری تھا
02:53تاکہ وہ اپنی سٹیڈیز یونیورسٹی اور زندگی پر توجہ کر سکے
02:58شیر دل آہستہ آہستہ اس کے ذہن سے مہب ہوتا گیا
03:01ویب سائٹ پر دوسری تصویریں آ گئی تھی اور اس کی زندگی میں بھی بہت کچھ بدلتا جا رہا تھا
03:07تھرڈ یئر میں اسے اپنی مامی کی بیماری کی وجہ سے یوپن میں مائگریشن کروانی پڑی تھی
03:13اپنی گریجویشن مکمل کرنے کے بعد اسے خوش قسمتی سے ایک بار پھر ہارورڈ میں ماسٹرز کے لیے ایڈمیشن مل
03:21گیا تھا
03:21اس بار وہ ڈیوڈلی ہاؤس میں تھی اور یونیورسٹی میں آنے کے چوتھے دن اس نے اپنے اپارٹمنٹ کے لاؤنچ
03:29میں شیر دل کو دیکھا تھا
03:30وہ پانچ دوسرے لوگوں کے ساتھ اس چار بیڈروم اپارٹمنٹ کو شیر کر رہی تھی اور اس وقت یونیورسٹی سے
03:37واپس آئی تھی
03:38جب سیدھے اپنے بیڈروم کی طرف جانے کے بجے وہ پانی پینے کے لیے کچھن میں آئی تھی
03:42اور لاؤنچ میں قدم رکھتے ہی اس نے جس شخص کو وہاں مارٹن کے ساتھ محف گفتگو دیکھا تھا
03:48اس نے شہربانوں کے ہوش اڑا دیئے تھے
03:50سیاہ جیند اور سیاہ ٹی شٹ پہنے وہ شیر دل تھا
03:53جو پڑھے ریلیکس انداز میں اپنی ٹانگیں سینٹر ٹیبل پر ٹکائے
03:57سوفے پر نیم دراز کسی ڈرنک کا کین ہاتھ میں لیے
04:01برابر بیٹھے مارٹن کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا
04:04شہربانوں کی یہ ہیلو کے جواب میں مارٹن کے ساتھ اس نے بھی گرزن مور کر اسے دیکھا
04:09وہ ہیلو سے آگے کچھ نہیں کہہ سکی
04:11وہ اسی طرح فریض ہوئی تھی
04:13شیر دل نے سینٹر ٹیبل سے اپنی ٹانگیں ہٹاتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھتے ہوئے
04:17اس کی ہیلو کا جواب ایک خیر مقدمی متقرہت سے دیا
04:22شہربانوں کی بھوک پیاس لمحوں میں غائب ہو گی تھی
04:24اس اپارٹمنٹ کے ایک بیڈروم کو ہائر کرتے ہوئے اس نے سنا تھا
04:28کہ اس اپارٹمنٹ کے پانچ مکینوں میں ایک پاکستانی بھی تھا
04:31لیکن وہ اس پاکستانی کو آج پہلی بار دیکھ رہی تھی
04:34وہ ساڑھے پانچ سال پہلے کی طرح ایک ٹین ایج بے وقف نہیں تھی
04:38پھر بھی شیر دل کو دیکھ کر اس کے توتے کبوتر اسی طرح اڑے تھے
04:43شیر دل نے اپنا تعرف کروایا اور اس سے اس کے برے میں پوچھا تھا
04:48وہ فل برائٹ اسکولر تھا
04:50اور ہارورڈ اکنڈی سکول میں ماسٹرز کے لیے زیر تعلیم تھا
04:55شہربانوں ہارورڈ کے ایک آرکیٹیکچر سکول میں ماسٹرز کے لیے انرول تھی
05:01اپنی ماں کی بیماری کی وجہ سے اسے بار بار گراجویشن کے دوران
05:04اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کرنا پڑتا
05:07تو اس وقت تو فائنل سمسٹر میں ہوتی
05:09اور پھر شائع شیر دل سے اس کی ملاقات نہ ہوتی
05:12بعض دفعہ تاخیر بھی زندگی بدل دیتی ہے
05:15جیسے اس سال اس کی بدلی تھی
05:17شیر دل اور اس کے درمیان صرف چند رسمی جملوں کا تباطلہ ہوا تھا
05:21وہاں لاؤنج میں کھڑے کھڑے پھر وہ کچن ایریا میں گئے
05:24بغیر وہیں سے واپس اپنے بیڈروم میں آگئی تھی
05:27لیکن اپنا دل و دماغ سب کچھ باہر لاؤنج میں بیٹھے شیر دل کے پاس چھوڑائی تھی
05:32اس کی زندگی میں ایک جن کی طرح آیا تھا
05:35تم نے بتایا رہی شیر بانو چنگی
05:37تذین کی آواز اس کو ماضی سے واپس کھنچ لائی
05:40تذین اپنے سوال دہرا رہی تھی
05:43شیر بانو نے ایک نظر پھر شیر دل کو دیکھا اور مسکرا کر کہا
05:46ہم لوگ کزن ہیں
05:48اوہ اچھا یعنی خاندان میں ہی شادی ہوئی ہے
05:50تذین نے دلچسپی لی
05:52جی
05:53شیر بانو مسکر ہے
05:55جی
05:55اس سے پہلے کہ تذین کچھ اور کہتی
05:58ملازم نے آکر ڈینر لگانے کی اطلاع دی
06:00اور سارے
06:03مسائل کا آگاہ دینر ٹیبر پر تذین کی گفتگو سے ہوا تھا
06:06بھائی آپ نے اس گھر کے بارے میں کچھ سنا ہے
06:08شیر دل اور شیر بانو بیک وقت چونکے
06:10ان کا ذہن ایس پی ہاؤس کی طرف گیا تھا
06:13اس گھر کے بارے میں بھائی
06:15شیر دل نے کچھ شہرانی سے تذین سے کہا
06:17ارے نہیں
06:18میں آپ لوگوں کے گھر کے بارے میں کہہ رہی ہوں
06:21چلیں شکر ہے
06:22میں سمجھا تھا
06:22یہاں کا ہر سرکاری گھر ہانٹڈ ہے
06:24اکثر شیر دل کے تفسیرے پر ہنسا
06:27اس اعتبار سے تو پاکستان کا ہر سرکاری گھر ہانٹڈ ہے
06:30آس کا کومن مین
06:31اکثر نے برجستہ کہا
06:33اس بار وہ سب اس تفسیرے سے محضوظ ہوئے تھے
06:37وہ لازم کھانا سب کر رہا تھا
06:38جب شہر بانو تذین کے جملے پر
06:40اپنی پلیٹ میں کھانا نکالتے ہوئے تھڑکی
06:42تو تم لوگوں نے اپنے گھر کے کسے سن لیے
06:45تب ہی شیر دل نے کچھ اس تہزائیہ انداز میں مسکرا کر
06:49ایک نظر شہر بانو کو دیکھتے ہوئے تذین سے کہا
06:53وہ تو آتے ہی سن لیے تھے
06:55بونے اور افیر اور مرڈر اور سوسائیڈ
06:59اور وٹ نوٹ
07:01شیر دل کا انداز بے پروائی لیے ہوئے تھا
07:04اور یہ بھی سنا کہ اس گھر میں رہنے والا ہر جوڑا الگ ہو جاتا ہے
07:08تذین نے سنجیدگی سے کہا
07:09شیر دل و شہر بانو نے بیک وقت تذین کو دیکھا
07:12ان کے انداز میں حیرانی نے تذین کو دیکھا
07:16یعنی تم لوگوں نے یہ قصہ نہیں سنا
07:19چھوٹی باتیں ہیں ساری
07:20جھوٹی باتیں ہیں ساری
07:22میری بیگم کو ایسے قصوں میں بڑی دلچسپی رہتی ہے
07:25تم سنجیدگی سے مت لینا
07:26اکتہ درانی نے مداخلت کرتے ہوئے شیر دل کو خبردار کیا
07:30شیر دل نے جواباً مسکراتے ہوئے کہا
07:33انفورچنیٹلی
07:33میری بیوی کو بھی ان قصوں میں بھابی جیسی ہی دلچسپی ہے
07:37اس لیے میں سنجیدہ لوں نہ لوں
07:39وہ سنجیدگی سے ہی لے گی
07:41آپ کیا کہہ رہی تھے بھابی
07:42شیر بانو نے شیر دل کے تفسرے کو نظر انداز کیا
07:45آپ کو پتا ہے اکتر میں کوئی بات غلط نہیں کر رہی
07:48ہسٹری اٹھا کر دیکھنے
07:57یا بیوی نے
07:58یا دونوں میں سے کسی کی دیتھ ہو گئی
08:00تذہیر نے جیسے اپنے میاں کی بات کا برا منایا تھا
08:03شیر بانو کے چہرے کی رنگہ تو فک ہوئی تھی
08:06تو اس گھر میں اس گھر کا کیا رول ہے
08:09تو اس میں اس گھر کا کیا رول ہے
08:11قسمت کی بات ہے
08:12اکتر نے صورتحال سنبھالنے کی کوشش کی
08:14شیر دل اب بھی اسی بے پروائی سے کھانا کھا رہا تھا
08:18لیکن شیر بانو کی بھوک غائب ہو گئی تھی
08:20گھر کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے
08:22اب کچھ ہے اس گھر میں تو ایسی بات مشہور ہے
08:25اگر گھر کا کوئی عمل دخل نہ ہوتا
08:28تو اکتر نے مداخل لکی
08:29میرا خیال ہے کھانے پر دھیان دینا چاہیے
08:32اتنا پیارا کپل ہے آپ دونوں کا
08:33بھائی میں تو کہہ رہی ہوں
08:35آپ لوگ ریس راؤس میں ہی رہ لیں
08:37یا کوئی اور انتظام کر لیں
08:38وہ گھر ٹھیک نہیں ہے
08:40تذہین نے اکتر کی بات کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے کہا
08:44بھابی میری اوفیشل ریزیڈنس ہے وہ
08:47اور میں بزدل تو نہیں ہوں
08:48کہ صرف کسے کہانیاں سن کر ہی
08:50گھر ہی نہ جاؤں
08:52اللہ مالک ہے
08:53شیردل نے اسی مسکرہت کے ساتھ
08:55لیکن بے حد دو ٹوک انداز میں تذہین تھے کہا
08:58میں نے کہا
08:59سنا شیردل میری بیوی کچھ وہمی ہے
09:01برکو یہی سپیرٹ ہونے چاہیے
09:04ہم لوگ ایک بار اپٹ آباد میں پوسٹڈ تھے
09:06وہاں مشہور تھا کہ ہماری سرکاری رہائش کا
09:09اکتہ دورانی کوئی اور قصہ سنانے لگے
09:11بات موزے سے ہٹ گئی تھی
09:13لیکن شیردل کے ذہن میں
09:15اب کچھ اور نہیں بچا تھا
09:18میں تم کو اس قدر احمق نہیں سمجھتی
09:20شبیہ شیردل نے کچھ خفقی کے عالم میں
09:23اس سے کہا
09:24وہ اب مثال کے بیڈروم میں بیٹھے بات کر رہے تھے
09:27شیردل لائٹر سے سگرٹ سلگا رہا تھا
09:30اس میں ہم مکسولی کیا بات ہے
09:32شیردل نے بھی جواباً اتنی ہی خفقی سے کہا
09:34تم نے کہا کہ اوپر والے ماسٹر بیڈروم میں نہیں رہنا
09:37میں نے کہا ٹھیک ہے
09:39تم نے کہا چھت کو بند کرا دو
09:41میں نے وہ بھی کروا دیا
09:42پورے گھر میں شڑی ہوئی بیلیں کٹوا دی تم نے
09:46جو درست کھڑکیوں تک آ رہے تھے
09:47وہ بھی کٹوا دیے تم نے
09:49میں نے ہر بات مانی تمہاری
09:50but this is just ridiculous
09:53شیردل کچھ خفقی کے عالم میں اس سے کہہ رہا تھا
09:55میں superstitious نہیں ہوں
09:57شیردل لیکن میں رسک بھی نہیں لے سکتی
10:00شیردل نے اس کی بات کار دی
10:02یہ میت ہے اور کچھ نہیں
10:04تم نے ایک میت اس گھر کے بارے میں یہ سنی تھی
10:06کہ یہ haunted ہے
10:07اب کسی دنوں سے ہم لوگ یہاں رہ رہے ہیں
10:10کچھ ہوا کیا
10:11شیردل نے جوابن اس سے پوچھا
10:12وہ اب سیگرڈ پیتے ہوئے کمرے میں ٹہلنے لگا تھا
10:15نہیں ہوا
10:16ہوا سو سکتا ہے
10:17شیردل نے کچھ irritate ہو کر کہا
10:20مثلا کیا ہوگا
10:21شیردل چلتے چلتے بالکل اس کے بالمقابر رکھ گیا
10:24اب مجھے کیا پتا کہ کیا ہوگا
10:26شیردل اس کے انداز پر کچھ اور خفا ہوئی
10:29کچھ نہیں ہوگا
10:30یار trust me
10:31وہ اس کے قریب صوفے پر آ کر بیٹھ گیا
10:33اس نے شیردل کے گرد ایک بازو پھیلایا تھا
10:36یوں جیسے اسے کسی چھوٹے بچے کی طرح سہلانے اور بہلانے کی کوشش کر رہا ہو
10:41مجھے یہاں نہیں رہنا شیردل
10:43شیردل نے اس کے ہاتھ کو جھٹکتے ہوئے کہا
10:45وہ جانتی تھی وہ اب اس کی توجہ اس ایشو سے ہٹانے کی کوشش کر رہا تھا
10:49میں تمہارا ہوں شبیہ میں ہمیشہ تمہارا ہی رہوں گا
10:52تم کو ڈھرنے کی ضرورت نہیں ہے
10:54کوئی مجھے تم سے چھین نہیں سکتا
10:57تیگرد کی راکھ ایش ریب میں جھٹکتے ہوئے شیردل نے
11:00نرم گہری آواز میں اس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
11:03کوئی اور موقع ہوتا تو شہر بنو ننے بچوں کی طرح شیردل سے لپڑ جاتی
11:07وہ شخص اس کے لئے صرف شہر نہیں تھا
11:10سب کچھ تھا
11:11اور سب کچھ میں شیردل کے ساتھ اس کی کتنے رشتے تھے
11:14وہ کم از کم انگلیوں کی پوروں پر نہیں گرن سکتی تھی
11:17میں جانتی ہوں تم میرے ہو
11:19اور میں یہ بھی جانتی ہوں کہ کوئی تمہیں مجھ سے چھین نہیں سکتا
11:22مجھے تم پر اندھا اعتماد ہے شیردل
11:25اس نے جواباً شیردل سے کہا
11:27پھر وہ مسکرائے
11:28لیکن وقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتا
11:31شیردل نے کچھ کمزور آواز میں کہا
11:33یہاں سے بھوت پرید اور بونے بکواد چیزیں ہیں
11:36میں ان کو نہیں مانتا
11:37شیردل نے دو ٹوک انداز میں کہا
11:40جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر رہتا ہے
11:42کسی گھر کسی جگہ کا
11:44اس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا
11:45یہ میری اوفیشل
11:49یہ میری اوفیشل ریزیڈنس ہے
11:51اور میں یہی رہوں گا
11:52میں یہاں سے بھاگ کر اپنے اسٹاف کو
11:54خود پر ہتنے کا موقع نہیں دوں گا
11:56وہ اب اس کا ہاتھ
11:57اپنے ہاتھ میں لیے بہت سنجیدگی سے کہہ رہا تھا
12:01گریفت نرم تھی
12:02لہجہ سخت تھا
12:03لیکن شیردل نے اس کی بات کر دی
12:05مجھ سے پہلے جتنے اوفیشل جہاں آئے
12:08وہ اسی گھر میں رہے
12:09تمہارا کیا خیال ہے
12:10انہوں نے یہ سب کسی کہانیاں نہیں سنی ہوں گی
12:13وہ اب اس سے پوچھ رہا تھا
12:14وہ بے بسیس اس کا چہرہ دیکھنے لگی
12:16وہ شیردل سے ہر بات نہیں منوا سکتی تھی
12:19یہ اس نے اپنی اور شیردل کو
12:21کورٹشپ کے دوران ہی جان لیا تھا
12:23لیکن وہ اس کے باوجود
12:25بہت سارے معاملات پر ضد کرتی تھی
12:27اور شیردل اس سے ضد کرنے دیتا تھا
12:30اس میں وقت کے علاوہ دونوں کا کچھ نہیں جاتا تھا
12:34تو سویٹ ہارٹ ہم جنگ ہی رہیں گے
12:37شیردل نے اس کو خاموش دیکھ کر
12:38اس کے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے
12:40اس کے ہاتھ کی پشت پر ہلکی سی تھپکی دیتے ہوئے کہا
12:42یہ وینڈوز مجھے ظہر لگتی ہیں
12:44شیردل نے جھنجلا ہٹ
12:46اس کھڑکی پر اتاری جس کے سامنے
12:48اس وقت وہ سوفا تھا جس پر وہ دونوں بیٹھے تھے
12:51شیردل نے بے سیار اپنے مسکرہت رکی
12:53بدلوا دیتے ہیں صبح ہی
12:55وہ اٹھ کر کھڑا ہوتے ہوئے بولا
12:57وہ جانتا تھا وہ اپنا غصہ
12:58اب کسی اور چیز پر اتارے گی
13:00تم کبھی میری کوئی بات نہیں مانتے
13:02اس نے اپنے اکب میں شیردل کو کہتے سنو
13:05وہ اپنے بیڈروم کی طرف جاتے ہوئے رکھا
13:07پھر اتمنان سے بولا
13:08یہ تو ہے
13:13سوفا پر بیٹھی ہوئی
13:15شہربانوں نے بہت خفا
13:16انداز میں اسے دیکھا
13:18وہ کمرے کے دروازے میں کھڑا مسکرہ رہا تھا
13:21وہ اب ایک بار پھر اس کو بچوں کی طرح پچکار رہا تھا
13:25شہربانوں نے بہت خف کی سے کہہ کر آنکھیں بند کر لیں
13:28وہ سمرد سے اسی طرح لاد کروانے
13:30نات اٹھوانے کی عادی تھی
13:32اور اسی لئے اس پر مرتی تھی
13:34ہنی
13:35نو
13:36سویٹھارٹ
13:37نو
13:37ڈارلنگ
13:38نو
13:39وہ اسے منع رہا تھا
13:40وہ سوفے پر آنکھیں بند کیے
13:42اسی انداز میں انکار کر رہی تھی
13:43مگر اس کا ہر انداز تخاطب اسے موم کی طرح پگھلا رہا تھا
13:48اس کے ماتھے کے بل ہونٹوں کے تبصم میں بدل رہے تھے
13:51شہر دل کی مسکرہ ہر گہری ہوتی گئی تھی
13:54وہ ہنہوز آنکھیں بند کیے بیٹھی تھی
13:56لیکن اس کے ہونٹ ہم مسکرہ رہے تھے
13:59بعض دفعہ مثال شہربانوں سے یا شہربانوں مثال سے اس قدر مشابہ لگتی
14:05کہ اس کے لئے یہ تخصیص کرنا مشکل ہو جاتا تھا
14:08کہ وہ اس وقت کس کو دیکھ رہا ہے
14:10جیسے اس وقت شہربانوں کو دیکھتے ہوئے
14:13اسے مثال کا خیال آ رہا تھا
14:15میں سونے کے لئے جا رہا ہوں
14:17شہر دل نے جمعی لیتے ہوئے
14:18اس کی مسکرہت سے جیسے مطمئن دلاتے ہوئے کہا
14:22ان کی زواجی زندگی میں کبھی ایک رات بھی ایسی نہیں گزری تھی
14:26جب شہر دل نے اسے خفا ہو کر سونے یا رونے دیا ہو
14:29وہ اپنے محاملات میں اپنی مرضی کرتا تھا
14:32لیکن وہ اسے نراض بھی نہیں رہنے دیتا تھا
14:34شہربانوں نے آنکھیں کھول دی
14:36شہر دل وہاں سے جا چکا تھا
14:38وہ مسکرہتے ہوئے کمرے میں پڑی چیزیں سمٹنے لگی
14:40وہ اس وقت ٹیبل پر پڑھا شہر دل کا سیگرٹ پیک اور لائٹر اٹھا رہی تھی
14:45جب اس نے کسی کو اپنا نام پکارتے سنا
14:47شہربانوں وہ ہٹ بڑھا کر سیدھی ہوئی
14:49ایک لمحے کے لئے اسے لگا شہر دل نے اسے پکارا تھا
14:52مگر شہر دل وہاں نہیں تھا
14:54شاید دوسرے کمرے سے پکار رہا ہے
14:56شہربانوں نے سوچا اور اس کا لائٹر اور سیگرٹ پیک اٹھا کر دوسرے کمرے میں آگئی
15:01شہر دل وہاں بھی نہیں تھا
15:02وہ کپڑے تبدیل کرنے واش روم میں تھا
15:05اس کے سائٹ ٹیبل پر اس کا لائٹر اور پیک رکھتے ہوئے شہربانوں نے
15:08اس آواز کا اپنا وہم سمجھ کا جھڑکا
15:10اس وقت اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آئی تھی
15:14کہ رات کے اس پہر اسے پکارنے والا شہر دل کے لئے وہاں کوئی دوسرا ہو سکتا تھا
15:19میں نے ایک جن دیکھا نانا
15:21اس رات چڑیا نا کے خیر دل کو آئینے میں نظر آنے والے آکس کے بارے میں بتایا
15:25وہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ وہ بونا ہو سکتا تھا
15:29اور کنفیجن اسے یہ تھی کہ اگر وہ بونا نہیں تھا تو پھر کیا تھا
15:33بدصورتی اور خوفناکی نے اسے دیکھی جانے والی چیز کے لئے
15:37جن کا لفظ استعمال کرنے پر رکھایا تھا
15:40لیکن اس کے تصور میں جن ایک خیوج جسم کا مالک ہونا چاہیے تھا
15:49لیکن اس کے باوجود اس نے اس آکس کے لئے جن کا لفظ ہی استعمال کیا تھا
15:54خیر دن کے اس انکشاف پر چونکا
15:58خیر دن اس کے اس انکشاف پر چونکا تھا
16:01کہاں دیکھا تھا
16:02اس نے پوچھا
16:03اس آئینے میں جو باہر برامدے میں لگا ہے
16:06چڑیہ نے بہت سنجیدگی کے عالم میں دیکھا
16:10خیر دن نے چڑیہ کو گود میں لیتے ہوئے
16:12جیسے تحفظ دینے والے انداز میں اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے کہا
16:16تم کو منع کرتا ہوں نا
16:18میں کے مجھے کرو شام کے بعد آئینوں کے پاس
16:20لیکن نانا وہ جن بہت چھوٹا سا تھا
16:22اتنا نہیں
16:23اتنا چڑیہ نے خیر دن سے الگ ہوتے ہوئے ہاتھ کی اشارے تھے
16:27کچھ الجے انداز میں
16:28جن کے سائد کا تائم کرتے
16:30کرنے کی کوشش کی
16:32بیٹا جن نہیں ہے وہ
16:33بونا ہے
16:34خیر دن نے اسے ٹوکا
16:35نہیں نانا وہ بونا نہیں تھا
16:37وہ بہت بدصورت تھا
16:39اتنا ڈراونہ اور کالا سیاہ
16:41چڑیہ یہ ماننے کو تیار نہیں تھی
16:43کہ اس کے تصوراتی بوناوں میں سے
16:45کوئی بھی اصولیہ کا ہو سکتا ہے
16:49جو اس نے دیکھا تھا
16:50وہ بونا ہی تھا بیٹا
16:52بونایں بھی اتنے ہی خوفناک ہوتے ہیں
16:53دیکھنے میں جتنے جن بھوت
16:55بلکہ بعض تو جن بھوتوں سے بھی
16:57زیادہ ڈرونے ہوتے ہیں
16:59بہت جسم اور قد کا فرق ہوتا ہے
17:01اور کچھ نہیں
17:01خیر دن نے اسے سمجھانے کی کوشش کی
17:03یہ چڑیہ کی تصوراتی دنیا کو دھاڑنے کی
17:06جیسے پہلی کوشش تھی
17:08لیکن وہ بچی تھی
17:09اسانی سے کیسے مان جاتی
17:10چنٹو منٹو ٹوکو
17:12اور دوسرے بونوں کو کیسے منٹو میں
17:14ہوا میں تحلیل ہونے دیتی
17:16خیر دن کے علم کو
17:18اس نے اس سے پہلے کبھی چیلنگ نہیں کیا تھا
17:21وہ نانا کے علم پر اندھا ایمان رکھتی تھی
17:23خیر دن کا وجود
17:25وہ آنکھیں تھیں
17:27جس سے وہ دنیا دیکھتی تھی
17:29وہ اس کو اپنے بچپن کے انگریزوں کے قصے سناتا
17:31وہ پلکیں چھپکائے بغیر سنتی
17:33انگریز اس نے ٹی وی پر دیکھے تھے
17:36کتابوں میں یا پھر خیالوں میں
17:38لیکن اس کے لئے یہ سوچنا مشکل تھا
17:40کہ وہ بھی وہاں تھے
17:41ان کے ملک میں حاکم کے طور پر
17:44اس کے لئے انگریز بھی ایک خلائی مخلوق جیسے تھے
17:47اور ان کا دیس کو کاف جیسا
17:49اور خیر دن اس خلائی مخلوق کی
17:51عجیب باتیں سناتا تھا
17:53ان کی حصول پرستی کی
17:55ان کی دیانہ داری کی
17:56ان کی محنت اور جان فشانی کی
17:58ان کی خوبصورتی اور ذہانت کی
18:00اور ان کی زبان کی
18:02وہ زبان جو وہ خیر دن کے موں سے سنتی
18:05تو متاثر ہوتی
18:06اور خود بولتی تو فخر کے احساس کے ساتھ
18:08مگر آج وہ پہلی بار خیر دن کے جواب سے
18:13مطمئن نہیں ہوئی تھی
18:14کتابوں میں دیکھے جانے والا
18:15خوبصورت
18:16ایمیج خیر دن کے بتائے ویسا
18:18چھوہ حقیقت سے زیادہ طاقت اور زیادہ پورا سر تھا
18:23اس نے خیر دن سے نہیں کہا تھا
18:25لیکن اس نے سوچ لیا تھا
18:26کہ وہ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ غلط تھا
18:29اس گھر میں کہیں نہ کہیں
18:30چنٹو منٹو ٹوکو وغیرہ ہی تھے
18:32وہ بس صورت شہ نہیں جسے اس نے آئینے میں دیکھا تھا
18:36وہ خیر دن اور حلیمہ کے ساتھ
18:38نے ڈپٹی کمیشنر کی بیوی کا سلام کرنے گئی تھی
18:40اور وہ پہلی نظر میں ہی
18:42اس ڈپٹی کمیشنر کی بیوی پر
18:44بری طرح فرفتہ ہوئی تھی
18:45چلی لمحوں کے لیے وہ اسے انگریز لگی تھی
18:48وہی انگریز جسے اس نے ٹی وی پر دیکھا تھا
18:50اور جن کے ہزاروں کسے
18:52اس نے خیر دن سے سنے تھے
18:54دراز قد بے حد دبلی پتلی
18:56اور بے حد حسین
18:57جس کا لبو لہجہ بھی انگریزوں جیسا تھا
19:00حالانکہ وہ ان لوگوں کے ساتھ
19:01ہڑتو میں بات کر رہی تھی
19:03اس نے چڑیا سے چند رسمی سوال جواب کیے
19:05اور پھر خیر دن اور حلیمہ سے گفتگو کرنے لگی تھی
19:08چڑیا کی توجہ
19:09اس تین سالہ
19:11ماہ ہی کی طرح خوبصورت بچی نے کھینچ لی تھی
19:14جو اس وقت بھی اس کمرے میں
19:15ایک کھلونہ پکڑے
19:16ادھر سے ادھر بھاگتی پھر رہی تھی
19:18کمیشنر کی بیوی حلیمہ اور خیر دن کے ساتھ
19:21بات چیز کے دوران وقفے وقفے سے
19:23اپنی بیٹی کو ہدایت بھی دے رہی تھی
19:25چڑیا کا دل بار بار چاہ رہا تھا
19:27کہ وہ بچی اس کی طرح متوجہ ہو
19:29اور وہ اس سے بات کر سکے
19:30لیکن وہ بچی اپنے کھلونے اور بھاگ دوڑ میں
19:33اس قدر مگن تھی
19:34کہ اس نے حلیمہ اور خیر دن کے پاس
19:36کھڑی چڑیا کو دیکھا تک نہیں
19:38چڑیا وہاں سے واپس جاتے ہوئے بھی
19:40بار بار پلٹ کر اس بچی کو دیکھتی رہی
19:42جس کے گھنے سیاہ ریش میں خوبصورت
19:44بالوں کو وہ چھونا چاہتی تھی
19:46اور جس کے گالوں پر ہاتھ لگا کر
19:48جیسے ان کی نرمی محسوس کرنا چاہتی تھی
19:51اور جس کے فراوک کی موڑی ہوئی فرل
19:53کو سیدھا کرنا چاہتی تھی
19:55لیکن وہ ان میں سے کوئی بھی کام
19:57نہیں کر سکی
19:59نین ڈپٹی کمیشنر اور اس کی بیوی
20:01فرا اور عابد کی طرح فرنڈی نہیں تھے
20:04وہ دونوں بے حد ریزرڈ
20:06تھے
20:09ڈپٹی کمیشنر کی بیوی ہاؤس وائف تھی
20:11اور گھر کے نوکروں کو ایک فاصلے پر رکھتی تھی
20:13اور وہ ہر جگہ کو نوکروں کا آنا جانا
20:15پسند نہیں کرتی تھی
20:16چڑیا کہ گھر میں آنا جانا بھی بے حد محدود ہو گیا تھا
20:19اور وہ اس بچی کے ساتھ کھیلنے کی
20:21بے انتہا خواہش کے باوجود بھی
20:22اس کے قریب نہیں جا پائی تھی
20:23وہ کبھی کبھار اسے اپنے ماں باپ کے ساتھ
20:26لون میں کھیلتے ہوئے دیکھتی
20:27لیکن وہ اس وقت بھی وہاں
20:28اس کے پاس نہیں جا سکتی تھی
20:30نئے صاحب کا حکم تھا
20:31کہ ملازم صرف اس وقت وہاں آئیں
20:33جب بلائے جائیں
20:34اور صاحب کی بیٹی جب لون میں ہو
20:36تو کوئی ملازم وہاں نہیں آئے گا
20:38اور چڑیا ایک ملازم کی نواسی تھی
20:40تب کاتی تقسیم کو چڑیا نے
20:42تب پہلی بار محسوس کیا تھا
20:43اس سے پہلے صرف کوارٹر نہیں
20:45وہ پورا ڈی سی ہاؤس اس کا تھا
20:47وہ اپنے ونڈر لینڈ میں گھومتی رہتی تھی
20:51اور وہاں کی ہر جگہ کو آن کرتی تھی
20:53یہ دن خیر دین نے
20:54چڑیا کونے صاحب اور ان کی بیوی کی
20:56ہدایات پہنچائیں
20:57وہ حیران رہ گئی تھی
20:59کیوں نانا
21:00وہ تو میرا بھی گھر ہے
21:01میں وہاں کیوں نہ جاؤں
21:02اس نے حیرانی میں
21:03ایک ہر دین سے سوال کیا
21:05نہیں بیٹا
21:06وہ ہمارا گھر نہیں ہے
21:07وہ بڑے صاحب کا گھر ہے
21:08ہمارا گھر تو یہ کوارٹر ہے
21:10ہر دین نے چڑیا کو سمجھا تھا
21:12لیکن صاحب کا گھر اتنا بڑا
21:14اور ہمارا اتنا چھوٹا کیوں ہے
21:15چڑیا نے اتراد کیا
21:17کیونکہ صاحب زیادہ پڑھا لکھا ہے
21:19اس نے زیادہ محنت کی ہے
21:20اس لئے اس کو بڑا گھر ملا
21:22ہر دین نے اپنی طرف سے
21:23ایک آسان جواب دینے کی کوشش کی
21:26پر نانا
21:27محنت تو آپ زیادہ کرتے ہیں
21:29آپ صبح جلدی اٹھتے ہیں
21:30کھانا بناتے ہیں
21:31سارا دین صاحب کے گھر میں کام کرتے ہیں
21:33رات تک
21:34صاحب تو صبح بھی دیر سے اٹھتا ہے
21:36دیر سے آفیس جاتا ہے
21:38آپ جتنی محنت تو نہیں کرتا
21:40سات سال کی وہ بچی
21:41اپنے نانا کو
21:42کام شور و کم محنتی سمجھنے پر
21:44تیار نہیں دی
21:45ہر دین نے گہری سانس لے
21:47ہاں بیٹا
21:48پر میرا سارا کام ہاتھوں کا کام ہے
21:50صاحب کا کام دماغ کا کام ہے
21:52دماغ کے کام کی ویلیو
21:53ہمیشہ زیادہ ہوتی ہے
21:54اب اس گھر میں دیکھو
21:56میری طرح محنت کرنے والے کتنے ہوں گے
21:58دروازوں پر کھڑے گارڈ
22:00لون میں کام کرنے والے
22:01مالی
22:02گستر خانہ صاف کرنے والے
22:04جمع دار
22:04صفائی کرنے والے
22:05اور میرے ساتھ کچھن میں
22:06کام کرنے والے ملازم
22:08وہ ان والے اپریٹر
22:09لیکن اس گھر میں صاحب صرف ایک ہے
22:11اور اس میں اور ہم سب میں
22:13فرق صرف یہ ہے
22:14کہ وہ بہت پڑا لکھا ہے
22:15اور اس کا سارا کام
22:16ذہن سے ہوتا ہے
22:17خیر دین اس بچی کو گر دے رہا تھا
22:19جو اس بچی کے ذہن پر نقش ہو رہا تھا
22:21پورے جسم میں دماغ چھوٹا سا ہوتا ہے
22:24لیکن یہ جسم میں
22:25سب سے اوپر ہوتا ہے
22:26سر میں
22:26اور پورا جسم اس کے کنٹرول میں ہوتا ہے
22:29جیسے صاحب یہاں بیٹھا
22:30اس پورے شہر کو کنٹرول کرتا ہے
22:32وہ بادشاہ ہے
22:33جیسے چہس کا کینگ ہوتا ہے نا
22:35خیر دین نے اسے شترنج کی مثال دی
22:38وہ چڑیا کے ساتھ شترنج کھیلتا تھا
22:41اور چڑیا چہس بورڈ کے
22:44پیسیز
22:44پیسیز
22:46پیسیز سے ہی نہیں
22:47بلکہ کھیل سے بھی
22:48اچھی طرح واقع تھے
22:52پر کینگ تو بڑا کمدور ہوتا ہے
22:54وہ تو بس ایک خانے تک چلتا ہے
22:56چڑیا نے جیسے اس کے میٹا فور پر احتراز کیا
22:59ہاں پر ہوتا تو وہ بادشاہ ہی ہے نا
23:02اور صرف بادشاہ ہے جو ایک ہوتا ہے
23:04باقی سارے پیسیز
23:06بادشاہ کے لئے کام کرتے ہیں
23:07اس کو بچانے اور جتوانے کے لئے
23:09تو بادشاہ اس لئے سب سے طاقتر ہوتا ہے
23:12کیونکہ وہ ایک ہوتا ہے
23:13ہورت بشپ پان اور
23:16روک سب ایک سے زیادہ ہوتے ہیں
23:18خیر دین نے اسے سمجھایا
23:19نانا کوئین بھی تو ایک ہوتی ہے
23:21خیر دین بے اکتیار ہن تھا
23:23اس نے کوئین کو جانبوچھ کر چھوڑا تھا
23:25لیکن اسے اندازہ ہونا چاہیے تھا
23:27کہ سب مہروں کے نام گنواتے ہوئے
23:29کوئین کو چھوڑنے پر چڑیا اسے نوٹس
23:31ضرور کرے گی اور کوئین تو بہت
23:33پاورفل ہوتی ہے آپ نے ہی کہا تھا
23:36چپس بورڈ پر
23:38کوئین ہی
23:39اچھا چپس بورڈ پر کوئین ہی
23:41سب سے زیادہ پاورفل اور دینجرس ہے
23:43کیونکہ وہ دائیں بائیں آگے
23:45پیچھے ترچھا ہر طرف موگ کر سکتی ہے
23:48اور جتنے مرضی خانے
23:49چڑیا نے خیر دین کا دیا ہوا علم
23:52اس کے سر پر الٹا
23:53خیر دین ہنسا اور ہستا ہی چلا گیا
23:55یہ پہلی بار نہیں ہوا تھا
23:57کہ وہ چڑیا کے ہاتھوں لا جواب ہوا تھا
23:59اس کے جوابوں سے ہی اسی کو باندھنے میں
24:02استحت تھی
24:03اور خیر دین کو اس کی دہانت
24:04اس کے علم اور اس کے ہاتھوں
24:06لا جواب ہونے پر بھی فخر ہوتا تھا
24:08وہ اس کی اگلی نسل تھی
24:10اس کا اساسہ تھی
24:16ہاں ہوتی تو کوئن ہی سب سے طاقتور ہے
24:19لیکن چیس بورڈ پر کوئن بھی
24:21بادشاہ کے لیے لڑتی ہے
24:22بادشاہ سے نہیں لڑتی
24:24خیر دین نے اپنی ہسی پر کابو پاتے ہوئے کا
24:26کوئن بادشاہ کیوں نہیں ہو سکتی
24:29نانا خیر دین کو ہسی کا ایک اور دورہ پڑا
24:32لا جواب
24:33وہ اس سوال پر بھی ہوا تھا
24:34اس چھوٹی سی بچی کو وہ کیا سمجھتا
24:38اس چھوٹی سی بچی کو وہ کیا سمجھاتا
24:41کہ ایشو صرف جنڈر کا تھا
24:43اور تفریق مین میڈ تھی
24:45چیس میں تو کوئن کا کوئن ہی رہنا
24:49کوئن کا کوئن ہی رہنا ضروری ہے
24:51ورنہ کھیل بدل جائے گا چڑھیا
24:53لیکن دنیا میں تو کوئن بھی بادشاہ ہو سکتی ہے
24:55میں نے تمہیں انگلینڈ کی کوئن بتایا تھا نا
24:58وہاں کوئن ہی بادشاہ ہے
24:59ہیر دین اسے یاد دلایا
25:01میں جب بڑی ہو جاؤں گی تو میں ایک کھیل بناوں گے
25:03چیس کی طرح کا
25:05جس میں سب کوئن کے لئے لڑیں گے
25:06اور کوئن ہی بادشاہ ہوگی
25:08جب سب سے زیادہ پاور فول کوئن ہے
25:10تو پھر بورڈ کوئن کا ہونا چاہیے
25:13بادشاہ کا نہیں نانا
25:14چڑھیا نے چند لمحوں کے بعد بہت سنجید کی سے
25:16خیر دین کو مطلع کیا
25:18اور نانا اس کھیل میں بادشاہ بھی
25:20کوئن ہی کے لئے لڑے گا
25:22اس نے چمکتی آنکھوں کے ساتھ خیر دین کو بتایا
25:24خیر دین ایک گہری سانس لیتے ہوئے
25:27مسکر آیا
25:27ہم تو پیادے ہیں چڑھیا
25:29نہ بادشاہ نہ ملکہ
25:31اس بار خیر دین نے اسے سمجھانے کے لئے
25:33میٹا فور بدل لیا
25:34سب سے چھوٹا مہرہ
25:36پر نانا جب پانچیس بورڈ پر
25:38مخالف کی آخری رو تک پہنچ جاتا ہے
25:41تو وہ بھی بڑا پاورفل ہو جاتا ہے
25:43وہ جو چاہے بن سکتا ہے
25:45جوڑیا نے ترکی بہترکی خیر دین سے کہا
25:48اس کا اشارہ چیس کی
25:49اس مشہور موب کی طرف تھا
25:51جت میں اگر ایک طرف کا پیادہ
25:53مخالف کی آخری رو تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتا
25:56تو اس کی پرموشن ہو جاتی
25:58اور وہ
25:59کوئن روک بیشپ ہورس میں
26:02جو چاہے بن جاتا
26:03اور تب زیادہ تر وہ پیادہ کوئن بننا ہی
26:06منتخب کرتا تھا
26:08منتخب کرتا تھا
26:09خیر دین کے ساتھ چیس کھیل کھیل کر
26:11چیس کی کم اف کم ساری مشہور موب چڑھیا
26:14کو مکمل طور پر عذبر تھی
26:15پر چڑھیا تم کو پتا ہے کہ
26:17ایک پاؤن کا دوسری طرف
26:19آخری رو تک جا پہنچنا کتنا مشکل ہے
26:21خیر دین گفتگو کو چڑھیا
26:23کیوں زندگی کا ایک اور
26:26سبق دینے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا
26:29پورا بورڈ
26:31پورا بورڈ
26:32پار کر کے مخالف کی آخری رو
26:34تک جاتا ہے وہ
26:35ان کے سارے بیشپ روکس
26:39ہورسز
26:40اور کوئن اور کنگ سے لڑتا ہوا
26:42بیٹا یہ بہت مشکل کام ہوتا ہے
26:44بہت ہی مشکل
26:45پاؤن سے کوئن بننا
26:47وہ خیر دین کے چہرے پر نظریں جمعے
26:49خیر دین کی بات سن رہے تھے
26:50لیکن نانا یہ ہو سکتا ہے
26:52سات آٹھ سالہ
26:53اس بچی نے اپنی چمک سے
26:55نظریں خیر دین کے چہرے پر جمعتے ہوئے پوچھا
26:57بہت محنت تھے
26:58ذہانت تھے
26:59اور قسمت تھے
27:00خیر دین نے جواب دیا
27:01چڑھیا ان تین اجزاء میں سے
27:03صرف قسمت پر ہٹکی تھی
27:05قسمت
27:06نانا قسمت کیا ہوتی ہے
27:07اللہ کی مدد اور مرضی
27:09خیر دین نے کہا
27:10بات سمجھ میں آئی نہ آئی
27:12لیکن بات چڑھیا کے ذہن میں رہی
27:13دوسری بہت سی باتوں کی طرح
27:17قسمت بڑی چیز ہوتی ہے چڑھیا
27:19خیر دین نے مزید کہا
27:20کتنی بڑی
27:21چڑھیا نے تجسس سے پوچھا
27:23وہ اس کو بھی کوئی مادی وجود
27:25رکھنے والی مکوفل پہ ترچیز سمجھے تھے
27:27بہت بڑی
27:28خیر دین نے سنجیدگی سے کہا
27:30نظر آتی ہے
27:32ہمیشہ ہر ایک کو
27:33تقریباً
27:34خیر دین نے مسکرہ کرکا
27:36ساتھ بونوں کے لاغاب چڑھیا کو
27:37قسمت سے ملنے اور دیکھنے کا شوق بھی ہو گیا تھا
27:40شہر دین کی آنکھ اسی وجہ سے کھلی تھی
27:43اس سے فوری طور پر اندازہ نہیں ہوا
27:45کمرے میں زیرو وارڈ کی روشنی تھی
27:47اور یقیناً اس سے کی صبح خیزی نہیں تھی
27:51جو رات کے پچھلے پیر اس کو جن جگانے کے باعث بنی تھی
27:54اپنے ساتھ لیٹی وی مثال کو وہ بہت آئیت کی تھی
27:56ہٹھاتے ہوئے اس نے بایا ہاتھ پڑھا کر سائی ٹیبل پر پڑھا
27:59الام کلوک اٹھا کر دیکھا تھا
28:01آج پھر
28:02ٹو تھٹی کا وقت تھا
28:04اس نے الام کلوک واپس رکھ دیا
28:06یہ پچھلے کئی دن سے ہو رہا تھا
28:07وہ کئی دن سے رات کے اس پہر بلکل اس وقت بغیر کسی وجہ کے جاگ جاتا
28:12اور پھر اسے کوشش کے باوجود نہیں نہیں آتی
28:14آج رات وہ ایک ٹوئر سے واپس آیا تھا
28:17اور رات کا تقریباً ایک بجے سایا تھا
28:19بے حد تھکاور کے باوجود
28:21وہ صرف ڈیڑھ گھنڈے کے بعد دوبارہ اسی مقرر وقت پر جا گیا تھا
28:25چانل ہمیں اتنے دوبارہ سونے کی کوشش کی
28:27لیکن وہ اس میں کامجاب نہیں ہو سکا
28:29برابر میں لیٹی مثال کا
28:31چہرہ کمبل سے ڈھکتے ہوئے
28:32اس نے سائی ٹیبل لیمپ آن کیا
28:34اور پھر اپنے بیٹ پر اٹھ کر بیٹھتے ہوئے
28:36اس نے ہمیشہ کی طرح شہربانوں کو دیکھا
28:38وہ آج بھی پھر بیٹ کی دوسری طرف
28:41برکل بیٹ کے آخری سیرے پر تھی
28:43ایک کروٹ لینے کے
28:46لینے کے پر
28:47ایک کروٹ لینے پر وہ بستر سے نیچے گر جاتی
28:50وہ آج بھی کمبل سے باہر تھی
28:52نائٹ شرٹ اور پجامے میں
28:53ایک ننے بچے کی طرح سکڑی سے مٹی ہوئی
28:56شہر دل اپنے بستر سے اٹھ گیا
28:57یہ جیسے اس کی زندگی کا معمول تھا
29:00رات کو کبھی بھی جھاگنے پر
29:01وہ لشاوری طور پر سب سے پہلے شہربانوں کو
29:03چکیا کرتا تھا
29:05اور اس کا یہ معمول ان کی شادی کے چوتھے دن سے شروع ہوا تھا
29:08جب وہ رات کے وقت بہتر سے گر کر
29:10بیٹ سائی ٹیبل کے دراز کی
29:12ناب سے اپنا سرزخمی کروا بیٹھی تھی
29:15شہر دل اس کی گرنے کی آواز پر
29:16ہٹ بڑا کر اٹھا تھا
29:18اور کچھ دہر کے لیے اس کی سمجھ میں ہی نہیں آیا تھا
29:20کہ ہوا کیا تھا
29:21پھر شہربانوں کو بیٹ کی دوسری طرف
29:23فرش پر بیٹھا دیکھا
29:25اسے پل جھپکتے بھی
29:26سمجھ آ گیا تھا
29:28کہ کیا ہوا تھا
29:30بیٹ کی دوسری طرف پہنچنے پر
29:32اس نے سب سے پہلے شہربانوں کا خون
29:33آلود چہرہ دیکھا تھا
29:35وہ تکلیف میں تھی
29:36لیکن ابھی بھی
29:37جیسے آدھی نیند کی حالت میں
29:39اپنے سر کی دہنی طرف ہاتھ رکھے
29:41جیسے یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی
29:43کہ ہوا کیا تھا
29:44چور دہنی کنپٹی سے
29:45وہ کچھ اوپر سر میں لگی تھی
29:47وہ ایک ہاتھ سر پر چھوٹ کی
29:49جگہ پر رکھے ہوئے تھے
29:50اور دوسرے ہاتھ سے
29:51گال پر پھیلے خون کو چھوٹے ہوئے
29:53بے یقینی سے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی
29:55اور گوڈ سے
29:56کیا کر لیا شبیح
29:58شہر دل نے
29:59بے اختیار
29:59اس کے پاس پنجوں کے بل بیٹھ گیا
30:02شہربانوں کچھ بول نہیں سکی
30:03شہر دل نے
30:04اس کا ہاتھ ہٹا کر
30:05اس کے زخم کا جائزہ لیا
30:07پھر وہ اسے
30:08ڈاکٹر کے پاس لے گیا
30:09زخم گہرا نہیں تھا
30:10اور شہربانوں
30:11زخم سے زیادہ
30:12اس طرح بستر سے گر جانے پر
30:14شرمندہ تھی
30:15لیکن میری سمجھ میں
30:16یہ نہیں آیا
30:17کہ تم مجھ سے
30:18اتنی دور چلی کیسے گئیں
30:19شہر دل کو یہ بات
30:20واقعی سمجھ نہیں آ رہی تھی
30:21وہ رات کو
30:22اس کے سینے پر سر رکھے
30:23اس سے باتیں کرتے کرتے سوئی تھی
30:25اور پھر صبح
30:26ڈیڑھ گھنٹے
30:27اور پھر صرف
30:28ڈیڑھ گھنٹے میں
30:29بستر کے دوسری طرف
30:30جاز گرنا
30:31شہربانوں
30:32اسے یہ نہیں بتا سکتی تھی
30:33کہ وہ پہلی بار
30:34بستر سے اس طرح
30:35گر کا زخمی نہیں ہوئی تھی
30:36وہ بچپن سے
30:37بستر سے گرتی آ رہی تھی
30:39شہر دل کا افسوس
30:40کئی دن تک باقی رہا
30:41لیکن یہ راز
30:42زیادہ دیر تک
30:43اس کے لئے راز نہیں رہا تھا
30:45کہ شہربانوں
30:45اکثر بستر سے گرنے کی
30:47عادت تھی
30:50پہلا کام جو شہر دل
30:52نے اس کی
30:52اس عادت کو جاننے کے بعد
30:54کیا تھا
30:54وہ اس کی سائی ٹیبل
30:55ہٹانے کیا تھا
31:02کوئی ہمارے بیڈروم میں
31:03آ کر دیکھے
31:04تو کیا کہے گا
31:05بیڈ کے ایک طرف
31:05سائی ٹیبل ہی نہیں
31:06اس نے جیسے شہر دل کو
31:08اسے کے
31:09اس فیصلے
31:10اور مضمعات
31:11سمجھانے کی کوشش کی
31:12کون آئے گا بیڈروم میں
31:14شہر دل نے جوابا پوچھا
31:16کوئی بھی آ سکتا ہے
31:17شہربانہ نے کہا
31:18جو آئے
31:18اسے بتا دینا
31:19کیوں ایک طرف
31:20سائی ٹیبل نہیں ہے
31:21شہر دل نے کہا
31:22میں اتنا زیادہ
31:23تو نہیں گرتی
31:24شہر دل
31:25شہربانہ نے جیسے
31:26وضاحت دینے کی کوشش کی
31:27I can't take risk
31:29پچھلی بار
31:30بہت چھوٹ لگی تھی
31:31میں دوبارہ
31:31تمہیں تکلیف میں
31:32دیکھنا نہیں چاہتا
31:33شہر دل نے اسے کہا
31:34وہ اب
31:35اسے اپنے بہت قریب
31:36سلاتا تھا
31:37اور آت کو
31:38وقتن فوقتن
31:39اسے دیکھتا رہتا تھا
31:40اس کے باوجود
31:41شہربانہ صبح تک
31:42اسے ہمیشہ بیڈ کے
31:43دوسرے تھیرے پر ہی
31:44ملتی تھی
31:44جیسے اسے اس وقت
31:46ملی تھی
31:46مثال کی پیدائش
31:47کے نو مہینے
31:48شہربانہ نے
31:49نہیں شہر دل
31:50نے تقریبا جاک کر
31:51گزارتے
31:52شہربانہ کے بیڈ کی
31:53سائیڈ پر
31:54پلور کشن کا
31:55ڈھیر لگا دینے کے
31:56باوجود
31:56اسے یہی خطشہ
31:57رہتا تھا
31:58کہ وہ بستر سے
31:59گر نہ جائے
32:00شہربانہ نیند میں
32:01اس کے ہاتھ
32:01لگانے پر
32:02قسمس آئی تھی
32:03شہربانہ نے
32:04احتیاط کے ساتھ
32:05اسے بیڈ کے سیرے سے
32:06دوسری طرف
32:07مثال کے قریب کیا
32:09پھر کمبل
32:10اس کے گرد
32:10اچھی طرح لپیٹتے ہوئے
32:11خود بیڈروم سے
32:12باہر آ گیا
32:13اس کا جسم
32:14بے حد تھکا ہوا تھا
32:15لیکن ذہن
32:16مکمل طور پر
32:16ترہو تازہ تھا
32:17اور یہ ایک
32:18بے حد عجیب
32:19کیفیت تھی
32:20وہ کمرے سے
32:21نکلتے ہوئے
32:21ایک جرسی پہن آیا تھا
32:22کمرے کے باہر
32:23کوریڈور کی
32:24بند لائٹ
32:34طرح تھٹکا
32:35بیرونی دروازے کی
32:36چٹخنی اتری ہوئی تھی
32:38وہ پرانی طرز
32:39کا ڈبل دروازہ تھا
32:41اندرونی طرف
32:42لکڑی کا دروازہ
32:43اور بیرونی طرف
32:43جالی کے دروازے
32:44اور اس وقت
32:45اندرونی دروازے کی
32:46چٹخنیاں
32:48نیچے تھیں
32:48شہر دل رات کو سونے سے
32:50پہلے کچن کے
32:50اکوی دروازے سے
32:51اور برکزی دروازے
32:52کو خود اندر سے
32:53بند کیا کرتا تھا
32:55اور یادت اسے
32:56ہمیشہ تھے تھی
32:57وہ صبح سویرے
32:58جوگنگ چلی
32:58نکلتے ہوئے
32:59برکزی دروازہ کھولتا تھا
33:00خان سامہ کے
33:01گھر کا کوئی دوسرا
33:02ملازم رات کو
33:03دروازے بند ہو جانے
33:05کے بعد اندر
33:05نہیں آسکتے تھے
33:06جب تک وہ اندر سے
33:07دروازہ نہ کھول دیتا
33:09اور اب وہ
33:09دروازے کھولے تھے
33:10اس نے اندرونی دروازہ کھولا
33:12جالی کے دروازے کی
33:13دونوں چٹخنیاں بھی کھولی تھی
33:15وہ کچھ
33:15اسطراب کے عالم میں
33:16باہر نکلا
33:17باہر ہرکی دھند
33:18اور شدید سردی تھی
33:19لیکن راؤن لیتے ہوئے
33:20گھر نے
33:21گھر کے اندر
33:22جلنے والی لائٹ دیکھی دیں
33:23اور وہ چکرنا ہو گیا تھا
33:25شیر دل جب تک
33:26باہر نکلا
33:26ایک گھر اسے
33:27ڈرائیو وے کے پاس ہی
33:28مل گیا تھا
33:29سر خیریت ہے
33:30رات کے پونے
33:31تین بجے
33:31اس طرح باہر
33:32نکنے پر شیر دل
33:34اسے یہی سوال کی
33:35توقع کر سکتا تھا
33:36پوری طور پر
33:37اس کی سمجھ میں
33:37نہیں آیا
33:38کہ وہ گھر کو
33:39کیا کہے
33:39یا اس سے کیا پوچھے
33:41وہ سب جانتے تھے
33:42کہ شیر دل
33:42پہلے آفیسز کے
33:43برک کو کچن کے
33:44اقبی دروازے
33:46کو ملازموں کے لیے
33:47کھلا نہیں چھوڑتا تھا
33:48اور آگ کو
33:49اقبی اور مرکزی دروازہ
33:50خود بند کر
33:51کیس ہوتا تھا
33:51اگر وہ گھر سے
33:52کسی ملازم کو
33:53اور آگ کو نکلتے
33:54دیکھتے
33:55تو یہ ممکن نہیں
33:56ساکھ سے
33:56اسے نظر انداز کر دیتے
33:58گھر سے آج تک
33:59کوئی باہر تو نہیں نکلا
34:00شیر دل نے
34:01لہجہ نارمل
34:02رکھتے ہوئے
34:02گھر سے پوچھا
34:03کہ اس وقت سر
34:06گھر نے
34:07کچھ حیران ہو کر پوچھا
34:08ابھی رات کو
34:09نہیں سر
34:09میں نے تو کسی کو
34:10نکلتے نہیں دیکھا
34:11خیر یہ تو ہے سر
34:13کچھ نہیں
34:13دروازہ کھلا تھا
34:14ابھی جب میں نے دیکھا
34:15اور میں رات کو
34:16دروازہ بند کر کے
34:17سویا تھا
34:18شیر دل نے اسے کہا
34:19سر میں اندر چک کرتا ہوں
34:20گھر ایک دم
34:21مستعد ہو گیا
34:22نہیں میں خود دیکھ لیتا ہوں
34:24شاید میں ہی
34:25رات کو دروازے بند کرنا
34:26بھول گیا
34:26شیر دل نے سر روک دیا
34:28گھر کو کچھ دوسری
34:29ہدایات دے کر
34:30شیر دل واپس پلٹ آیا تھا
34:32اس نے اندر آ کر
34:33باری باری تمام کمرے
34:34بڑی اتیار سے چکیے تھے
34:36اندر کوئی نہیں تھا
34:37اور بظاہر سب کچھ ٹھیک تھا
34:38شیر دل کچھ
34:39الچ کر
34:40ہال میں آ کر کھڑا ہو گیا
34:41وہ خود کو یقین
34:42دلانا چاہتا تھا
34:43کہ دروازے بند کرنا
34:44وہ شاید بھول گیا تھا
34:45اور یہ ایک اتفاق تھا
34:47لیکن اس کا لا شعور
34:48یہ ماننے پر
34:49تیار نہیں تھا
34:50اسے بہت اچھی طرح
34:51دروازے بند کرنا
34:52یاد تھا
34:53کیونکہ وہ رات کو
34:54کسی ٹور سے
34:55بہت لیٹ واپس آیا تھا
34:56اس کی آمد پر
34:57شیر دل اگر خود
35:01کبھی گھر پر نہ ہوتا
35:02یا اسے لیٹ واپس آنا ہوتا
35:04تو شہر بانو
35:05ڈینر کے بعد
35:06ملازمین کے
35:07کچن صاف کرنے کے بعد
35:09گھر اندر سے
35:10بند کر لیتی تھی
35:11یہ شیر دل کی
35:12ہدایت تھی
35:13اور شیر دل کیوں
35:14اس معاملے میں
35:15اس قدر احسیات پسند تھا
35:16یہ شیر بانو
35:17کو کبھی سمجھ نہیں آیا
35:18لیکن وہ
35:19اس کی ہدایت پر
35:20عمل کرنے کی
35:21عادی ہو چکی تھی
35:21دروازے میں کھڑے ہو کر
35:23شیر دل نے
35:23ڈرائیور کا اپنے کل
35:24کے کسی ویزر
35:25کے لیے ہدایت دی تھی
35:26اور اس کے جانے کے بعد
35:27اس نے دروازے
35:28بند کیے تھے
35:29شہر بانو
35:30اس سے باتیں کر رہی تھی
35:31جب شیر دل نے
35:32اسے پوچھا تھا
35:33کچن کا دروازہ
35:34بند کر لیا
35:34ہاں
35:35ڈینر کے بعد ہی
35:36کر لیا تھا
35:37شیر بانو نے
35:38اسے کہا لیکن
35:39شیر دل پھر بھی
35:40اس کو وہیں چھوڑ کر
35:40خود اندر ایک بار
35:41دروازہ دیکھنے کیا تھا
35:43تو کم از کم
35:44یہ سوال کیا ہی نہیں
35:45پیدا ہوتا تھا
35:46کہ وہ دروازہ
35:46خود بند کرنا
35:47بھول گیا تھا
35:48اور اب
35:49حیرانی کی بات
35:49یہ بھی تھی
35:50کہ کچن کا دروازہ
35:51بند تھا
35:52لیکن گھر کا
35:52مرکزی دروازہ
35:53کھلا تھا
35:54ہال میں کھڑے
35:55اسے گتھی کو
35:56سلجانے کی کوشش میں
35:57شیر دل کیوں
35:58ایک سیگرٹ کی طلب ہوئی
35:59وہ ہال سے
36:00اپنے بیڈروم میں چلایا
36:01مثال اور شہربانہ
36:03دونوں
36:03اسی طرح گہری نیند
36:04سو رہی تھی
36:05شیر دل نے
36:06اپنا سیگرٹ کا
36:07پیک اور لائٹر اٹھایا
36:08وہ وہاں سے
36:09دوبارہ ہال میں
36:09واپس آ گیا
36:10اور تب ہی اسے
36:11پہلی بار یاد آیا
36:12کہ اس نے صرف
36:12گھر کے گراؤن فلور
36:13کو چک کیا تھا
36:14وہ اوپر والی مندل
36:15پر نہیں گیا تھا
36:16ایک سیگرٹ
36:17سلگا کر پیک
36:18اور لائٹر بہیں
36:19میز پر چھوڑتے ہوئے
36:20شیر دل سیڑیاں
36:21چڑھ کر اوپر آ گیا
36:22اس نے اوپر والے
36:23فلور کی
36:23لائٹس آن کرنا
36:25شکو کر دی تھی
36:26تمام دروازوں کے
36:27باہر اسی طرح
36:28تالے موجود تھے
36:29جس طرح
36:29وہ ہمیشہ دیکھتا تھا
36:31تیگرٹ کی کش
36:32لیتے ہوئے
36:32وہ کچھ مطمئن
36:33انداز میں
36:34دروازوں کو دیکھتے ہوئے
36:35ماسٹر بیڈروم کے
36:36سامنے سے گزرا
36:36اور پھر وہ
36:37چھت کے دروازے
36:38کو دیکھنے
36:39اس سے اوپر والی
36:40سیڑھیاں چڑھنے لگا
36:41اور آزی سیڑھی میں
36:42ہی وہ جیسے
36:42کرنٹ کھا کر رکا تھا
36:43چھت کا دروازہ
36:45مکمل طور پر
36:46کھلا تھا
36:47شیر دل کے
36:47کسی بترین
36:48خچے کی
36:49جیسے تصدیق
36:50ہوتی نظر آ رہی تھی
36:52اس نے چھت کو
36:53صاف بھی کروا لیا تھا
36:54اور اس کی مرمت
36:54بھی کروای تھی
36:55شفٹ ہونے سے پہلے
36:56چھت پر اب وہ
36:57لوک نہیں لگایا جاتا تھا
36:59کیونکہ شیر دل
36:59کبھی کبھا
37:00چھت کا چکر
37:01لگایا کرتا تھا
37:02سردیوں میں
37:03وہاں دھوپ ہی نہیں
37:04بلکہ وہاں سے
37:05شیر کا ویو بھی
37:06بہت شاندار ہوتا تھا
37:07لیکن شیر بنا
37:08کی ناپسندیدگی
37:09کی وجہ سے
37:10یہ کام کبھی
37:10کبھا رہی
37:11ہو پاتا تھا
37:12وہ اس چھت سے
37:13خوف کھاتی تھی
37:14اور چھت تام طور پر
37:15بند رہتی تھی
37:16لوک نہ ہونے کے
37:17باوجود جمعوں کی
37:18نہیں تھا
37:18کہ کوئی ملازم
37:19چھت پر جاتا
37:20اور پھر دروازہ
37:21اسی طرح
37:22چپٹ کھلا چھوڑا تھا
37:25شیر دل برک
37:26رفتاری سے
37:27آدھے راتے سے
37:27نیچے آ گیا
37:28ہال کمرے کے
37:29انٹر کام سے
37:30اس نے گیٹ پر
37:30موجود گارڈ
37:31کو اندر آنے کی
37:31حضائی تھی
37:32ان کے آنے تک
37:33وہ اپنے بیڈروم میں
37:34آ کر سائٹ ٹیبل کی
37:35دراز میں رکھا
37:35اپنا ریوولور
37:36نکال لائیا تھا
37:37بیڈروم سے نکلتے
37:39وہ اس نے
37:39بیڈروم کے
37:39دروازے کا بورٹ
37:40باہر سے چڑھا دیا
37:41اندر آنے والے
37:42گارڈ میں سے
37:43ایک کو وہ
37:44وہیں چھوڑتے ہوئے
37:45دوسروں کے ساتھ
37:46اوپر چلا آیا تھا
37:47چھت کا کھلا دروازہ
37:48دیکھ کر
37:48گارڈ بھی
37:49اس کی طرح
37:49متوہش ہوئے تھے
37:51شہر دل
37:51ان کے ساتھ
37:52بڑی احتیاط کے
37:53آلہ میں چھت پر نکلا
37:54دھوند میں لپٹی ہوئی
37:55وہ وسیواریل
37:56چھت
37:56بلکل خالے تھے
37:58گارڈ نے
37:58ٹاوچ کے ساتھ
37:59چھت کا ایک ایک ہسہ
38:00چک کر لیا تھا
38:01وہاں کوئی نہیں تھا
38:03اور چھت پر کھڑا
38:03شہر دل
38:04خود کو جیسے
38:05اس وقت
38:05دنیا کے اہمک
38:06ترین انسان
38:07محسوس کر رہا تھا
38:08ایک گارڈ نے
38:09چھت کا دروازہ
38:10دوبارہ بند کر دیا
38:11سوال و جواب
38:12کہ کسی تبادلے کے
38:13بغیر شہر دل
38:14واپس نیچے آیا
38:14نیچے والا گارڈ
38:16برامدر نما
38:16محرابی کوریڈور میں
38:18اسی طرح چکر
38:18کارٹ رہا تھا
38:19چند رسمی ہدایات
38:21کے بعد
38:21انہیں بھیج کا
38:22شہر دل
38:22دروازے بند کرتا ہوا
38:24ریوولور رکھنے
38:25اپنے بیڈروم کی طرف آیا
38:26اور کچھ دیر پہلے ہی
38:28کی طرح
38:28وہ ایک بار پھر شاکڈ ہوا
38:29بیڈروم کے دروازے
38:31کا بولڈ
38:31اترا ہوا تھا
38:32وہ سوچے سمجھے بغیر
38:33دیوانہ وار کمرے میں
38:34داخل ہوا
38:35مثال
38:36اور شہربانوں
38:37اسی طرح
38:37بستر پر
38:38پر سکون سو رہی تھی
38:39شہر دل کی جیسے
38:41جان میں جان آئی تھی
38:42چند لمحوں کے لئے
38:43بے مقصد
38:44کمرے میں کھڑے
38:44وہ بستر پر لیٹی
38:45مثال
38:46اور شہربانوں
38:47کو دیکھتا رہا
38:48پھر اس نے
38:49پاسروم
38:50اور برابر والا
38:50کمرہ چیک کیا
38:51ریوولور
38:52واپل سائی ٹیبل کی
38:53دراز میں رکھا
38:54شہر دل کمرے میں
38:55رکھے
38:55سوفے پر بیٹھ گیا
38:56پورے گھر میں
38:57سب کچھ ٹھئی تھا
38:58اس کے باوجود
38:59شہر دل یہ ماننے
39:00کو تیار رہی تھا
39:01کہ اسے دو دروازوں
39:02پر لگیوی
39:03چٹکنیوں کے بارے میں
39:04ملت فہمی ہو سکتی تھی
39:06آس طور پر
39:07اپنے بیٹروم کے
39:08دروازے کے
39:08بولٹ کے بارے میں
39:09اس رات پہلی بار
39:11وہاں بیٹھ کر
39:12اس نے اس گھر کے بارے میں
39:13سننے ہوئے
39:14تمام کسے ذہن میں
39:15دور آئے تھے
39:16اور گھر کی تاریخ
39:17یاد کی
39:18پھر پاسہ نہیں
39:18کیا خیال آنے پر
39:19وہ دوبارہ
39:20کمرے سے نکل آیا
39:21ہال میں آ کر
39:22اس نے اوپر جانے والے
39:23کمروں کے چابیاں
39:24نکالیں
39:24اور دوبارہ
39:25اوپر کے فلور پر آ گیا
39:26اس کی جگہ
39:27کوئی اور ہوتا
39:28تو اس طرح کے
39:29واقعات کے بعد
39:30رات کے اس وقت
39:31دوبارہ اوپر والی مندر
39:33پر اکیلا موجود
39:34نہ ہوتا
39:34لیکن وہ اپنے
39:35نام کا ایک تھا