Skip to playerSkip to main content
Aks Novel Episode 4 🖤🔥 | Urdu Novel | Dark Romance | Urdu Audiobook🖤 AKS NOVEL — EPISODE 4 🖤 🌙 Aik aisi kahani jahan mohabbat, raaz aur jazbaat aik doosre se takrate hain...
✨ Welcome to Aks Novel Episode 4!
Is episode mein kahani ke naye mor, gehre jazbaat aur suspense aapko ek alag hi duniya mein le jayenge. 🥀❤️‍🔥
Agar aapko Urdu novels, romantic stories aur suspense se bharpoor kahaniyan pasand hain, to yeh episode aapke liye hai!
❤️ VIDEO PASAND AAYE TO: 👍 Like karein 💬 Apni favourite moment comment karein 🔔 Channel ko Subscribe karein aur bell icon press karein.
📖 Novel: Aks 🎬 Episode: 04 🖤 Genre: Urdu Novel | Romance | Suspense | Emotional Story
Aapko Episode 4 kaisa laga? Comments mein zaroor batayein! 🥀
#AksNovel #AksNovelEpisode4 #UrduNovel#AksNovel #AksNovelEpisode4 #AksEpisode4 #UrduNovel #UrduNovels #UrduAudiobook #UrduStory #NovelLovers #RomanticNovel #DarkRomance #SuspenseStory #LoveStory #PakistaniNovels #UrduLiterature #NovelReading

Transcript
00:04He was missing from the master room
00:06from his master room
00:06He threw his glasses out
00:08and began to open a door
00:10His eyes opened open
00:12He opened open
00:13He opened open
00:13He opened a strange journey
00:15He just looked over
00:18He opened the door
00:19He took a switchboard
00:20and could be drawn
00:21He came back to the light
00:22He opened the door
00:24was still safe
00:26as I was waiting for
00:26So the door
00:27around the window
00:29which was first here at this bathroom,
00:31could смown Hotel in the Municipal sector to stess certain house,
00:34which made her do not make her own children's footing,
00:39and she came to die with her drin,
00:41she could not find Returns.
00:42She doesn't know how much it could be,
00:44she was stuck between her projects.
00:47She came to spend some hundred years ago,
00:49when she gained her hands and build bag.
00:51She blew out her life.
00:52First of all, she��도 listened to herself industries and
00:57I am able to entertain her daughter.
00:59foreign
01:29He was the eye-to-eye.
01:33He was the order of the security charge.
01:38He was the owner of the Schehearites of the auditorium.
01:42He was the owner of the auditorium.
01:43There was a light on his finger on.
01:48Security charge had an idea of where he was behind.
01:53He was the owner of the auditorium.
01:55He had appeared in the auditorium.
01:56shair banu ki niin pehli bar uri jii sir ko batha dhe
02:00ao daroazak khol dhe haum oopper ja ka check kertte
02:02hain security in charge ne ose ka chand lambhaun ke liye
02:05shair banu ki kuchh saj mayn nahi aya ta
02:08mein thudhi dhier mein bethati hoon
02:10is na intercom rukhtay hoi keha tha
02:11is se yakdem ya esas huwa tha
02:13sofe par parpati shawl ko
02:14aapne gird lepete te hoi nangay pao
02:17bedroom se nikel hai
02:18bahar raadari ki khidkiyon se is na security guard
02:20dhak liye te
02:21wo log ab merkezi dhuazakay
02:23bilkul bahar alert kha'de te
02:25شہربانو بیرونی دروازہ کھولنے کی بجائے
02:27ہال کا دروازہ کھول کر
02:29اندر چلی گئی
02:29شہر دل
02:30شہر دل
02:31تم اوپر ہو کیا
02:32گستنے اوپر والے فلور کی لائٹس آن
02:34دیکھ کر
02:34شہر دل کا وات دی
02:35کوئی خواب نہیں آیا
02:37شہربانو کی
02:38حواس باقتگی میں
02:39اضافہ ہو گیا
02:40وہ تقریباً
02:41بھاگتے ہوئے
02:41سیڑھیاں چڑھی تھی
02:42اس وقت
02:43اسے یہ بھول گیا تھا
02:44کہ اوپر والا حصہ
02:45اسیب زدہ سمجھا جاتا تھا
02:48اور اس وقت اس
02:49ماسٹر بیڈروم کے لائٹ ساؤن تھی جہاں
02:51کسی زمانے میں کوئی خودکشی کر چکا تھا
02:54اور اس کو حواس باگتا
02:55کرنے کے لئے یہ کافی تھا
02:57کہ اس نے شیر دل کو آواز دی تھی اور اس کا کوئی
02:59جواب نہیں آیا تھا
03:02اکبی لون کے
03:03درخت پر پڑا جھولا جھولتے
03:05ہوئے اس دن چڑیا نے گھر کی دہینی
03:07طرف والے لون میں
03:09ٹینس کوٹ بنتے دیکھا
03:10چند آدمی بڑی جان فشانی کے عالم میں
03:13گھاس کی تراش خراش کرنے کے بعد پیماشی
03:15ٹیپ کے ساتھ پیماش کرتے ہوئے
03:17سفید پینٹ سے زمین پر
03:19لکیروں کا ایک جالت تھا بنا رہے تھے
03:21پھر اس دن لکیروں کے پیچھ
03:23بیچ میں اگنیٹر کا
03:27استادہ
03:28ہوتے دیکھا
03:30وہ بہت
03:31دلچسپی تھی اپنے تمام کام
03:33چھوڑ کر بار بار وہاں آ کر
03:34اس ٹینس کوٹ کی تیاری کی مراحل دیکھتی رہی
03:37نئے ٹپٹی کمیشنر اور اس کی بیوی کے آنے کے بعد
03:39اس گھر میں بہت سی
03:40نئی نئی چیزیں ہو رہی تھیں
03:42کچن گارڈن میں مقامی سبزیوں کے علاوہ
03:44چائنی سبزیوں کی کاشت شروع ہو گئی تھی
03:47لون کی اثر نو
03:49تذین و عرائش کی گئی تھی
03:50گلاب کی نئی کیاریاں بنائی گئی تھی
03:52اور سامنے والے لون میں ایک روکری کا اضافہ بھی ہو گیا تھا
03:56بچوں کے چند جھولے بھی
03:57نصب کیے گئے تھے
03:58چڑیا اندازہ نہیں کر سکتی تھی
04:00کہ ان میں سے کون سا کام کس کی فرمائش پر ہو رہا تھا
04:03لیکن وہ بیگم صاحبہ کو
04:05ہر جگہ موجود پا رہی تھی
04:06ٹینس کورٹ وہ واحد جگہ تھی جہاں
04:08اس نے باست صاحب کو بھر بھر آتے دیکھا تھا
04:10دو دن میں وہ ٹینس کورٹ تیار ہو گیا تھا
04:12اور تیسرے دن چھٹی والے دن
04:14اس نے صاحب اور بیگم صاحبہ کو
04:16اس ٹینس کورٹ پر
04:18کھلتے ہوئے دیکھا
04:19چڑیا جیسے مسمرائز ہو گئی تھی
04:21اس نے یہ کھیل پہلے کتابوں میں
04:23اور ٹی وی کی جھلکیوں میں دیکھا تھا
04:25آج پہلی بار آنکھوں کے سامنے دیکھ رہی تھی
04:28اور وہ فیسینیٹڈ
04:30صاحب اور بیگم صاحبہ کے جانے کے بعد
04:32لون کی ان تمام کیاریوں میں جا جا کر
04:34وہ گینڈ ڈھونٹی رہی تھی
04:36جو صاحب اور ان کی بیوی کے کھیل کے
04:38دوران شاٹ کے کورٹ سے پاہر چلے جانے کے بعد
04:40نہیں ڈھونٹ سکتے
04:42اس نے اچھی طرح یاد تھا
04:43کہ ٹیٹھ گینڈے کے کھیل کے دوران
04:45چھ گینڈیں تھیں جو گم ہوئی تھی
04:47اور اسے جیسے کسی مشین کی طرح
04:49آذبر تھا
04:50کہ وہ چھ گینڈ کی ان اطراف میں گئی تھی
04:53پانچ گینڈیں اس نے بے حد آسانی سے
04:55ڈھونڈ لی تھی
04:56چھٹی گینڈ وہ کنٹا
04:57منٹا ٹوکو فورٹو
04:59ٹیڈو شنٹو کٹو کے ساتھ وہ نہیں ڈھونڈ سکی تھی
05:02اس نے وہ پانچوں گینڈ کو
05:04اور کے باہر رکھی
05:05کرسیوں اور میزوں کے اوپر رکھ دی تھی
05:07اس کے ساتھ کے ساتھ دوست
05:09وہ نے مل کر بھی
05:09اچھٹی گینڈ کو نہیں ڈھونڈ سکے تھے
05:12اسے اگر صاحب اور ان کی بیوی سے
05:13اپنی اسکار کر دی کی
05:14کہ بدلے میں کسی داد
05:16یا ستائش کے توقع تھی
05:17تو وہ سے نہیں ملی تھی
05:18ان دونوں میان بیوی نے
05:20اگلے دن وہاں دوبارہ
05:21ٹینس کھیلتے ہوئے
05:22شاید گھوڑ تک نہیں کیا تھا
05:24کہ ٹینس کی وہ گم شدہ گیند
05:25کون وہاں میز پر رکھیا تھا
05:27لیکن چڑھیا کے لیے
05:28یہ جیسے ایک اور نیا دلچسپ
05:30مشکلہ تھا
05:31وہ اپنے کوارٹر میں پڑھتے ہوئے
05:32یہ کوئی کام کرتے ہوئے
05:34یا کوئی کام کرتے ہوئے
05:35شام کے وقت میں
05:36ٹینس شاوٹ کی آواز سنتی
05:38اور وہ سب کچھ چھوٹ چھاڑ کر
05:40باہر بھاگ جاتی
05:42پھر اکبی لون کے کسی درخت
05:44یا پودے کی پیچھے دبک کر
05:45وہ صاحب کو اپنی بیوی
05:46یا کبھی کبھار کسی دوسرے
05:48افیسر کے ساتھ
05:48ٹینس کھیلتا دیکھتی رہتی
05:50اور صاحب کے جانے کے بعد
05:52وہ گیند تلاش کرتی رہتی
05:53اس نے کبھی کوئی گیند
05:54گھر لانے کی کوشش نہیں کی تھی
05:56وہ تمام گیندیں ڈھونڈ کر
05:58کبھی ان کے ساتھ
05:59تھوڑا بہت کھیلا کرتی
06:01اور انہیں وہیں پر
06:02میز پر ایک روم میں
06:04سجا کر چلی آتی تھی
06:05خیردین نے زندگی میں سے
06:06بہت سی چیزیں سکھائی تھی
06:08اور ان میں سے ایک چیز
06:09امانداری بھی تھی
06:10وہ انگریز صاحب
06:11اور ان کی میم صاحب
06:12میرے لیے پورا گھر کھلا
06:13چھوڑ کر جاتے تھے
06:14کئی بار میں
06:15کئی بار میں
06:16صاحب کا والٹ
06:17اور میم صاحب کی
06:18جھولری بھی
06:19ادھر سے ادھر اٹھا کر
06:21نہیں دیتا تھا
06:23وہ چڑیہ کو
06:24بڑے فخری انداز میں
06:25بتایا کرتا تھا
06:26تو صاحب اس لیے
06:27مجھ پر اندھا اعتماد کرتا تھا
06:28چڑیہ نے خیر دین سے
06:30دیانداری سیکھی تھی
06:31اور کنات تلی تھی
06:32اور محنت کرنا پایا تھا
06:34ایک بچے کی
06:35معصوم فطرت
06:36تو نہ سمجھی
06:37کہ باوجود
06:37اس نے کبھی
06:38ڈی سی ہاؤس میں موجود
06:39ان چیزوں کو
06:40اپنے کوارٹر میں
06:41لے جانے کی کوشش نہیں کی تھی
06:42جو اسے فیسینیٹ کرتی تھی
06:44اور ایسی ہی
06:45ایک فیسینیٹ کرنے والی چیز
06:47اس کے لیے
06:47ٹینس ریکٹ تھا
06:48جس کو کبھی چھونے
06:49اور اس کی کھیلنے کی
06:50شدید خواہش رکھنے کے باوجود
06:52کبھی صاحب جب بیگم صاحبہ کے
06:54ریکٹس کو ہاتھ نہیں لگا سکی تھی
06:55ان کا کھیل ختم ہوتی
06:57ایک ملازم دونوں ریکٹس
06:58اور گیند کا ڈبا اٹھا کر
06:59اندر کہیں لے جاتا تھا
07:01اور چڑیہ ہر بار
07:02کچھ معیود سی ہو کر رہ جاتی تھی
07:04اسے انتظار تھا
07:05کسی ایسے دن کا
07:06جب صاحب جب وہ
07:07ملازم ریکٹ اٹھانا بھول جاتے
07:09لیکن وہ دن کبھی نہیں آیا
07:10البتہ
07:12ایبک آ گیا تھا
07:13چڑیہ نے ساتھ بونے نہیں دیکھے
07:15لیکن اس نے وہ قسمت دیکھ لی تھی
07:17جسے خیر دن بہت بڑی شہہ کہتا تھا
07:19ایبک اس کی زندگی کا
07:21سیاہ ترین اور خوبصورت ترین باپ تھا
07:24ایبک اس شیول میرر کے سامنے کھڑا
07:27اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا
07:29یعنی میں ابرنے والا ایک آکس تھا
07:31جس نے اسے رکا تھا
07:32اور وہ یہ نہیں جانتا تھا
07:34وہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر
07:37اسی طرح اسے فریض کر دیا کرے گا
07:39اس نے چڑیہ کو پہلی بار
07:41اسی آئینے میں دیکھا تھا
07:42لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا
07:44کہ چڑیہ پچھلے کئی دنوں سے
07:45اسے کئی بار دیکھ چکی تھی
07:47ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے
07:50لون میں صاحب کی بیٹی
07:51اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے
07:53فریس بھی پکڑنے میں ننہ کامی پر
07:56اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے
07:58اور خفا ہوتے ہوئے
07:59وہ صاحب کے گھر آئے ہوئے مہمان تھے
08:01اور صاحب کے گھر ویکنڈ پر
08:02مہمانوں اور ان کے ساتھ
08:04ان کے بچوں کہانا کوئی انہوکی بات نہیں تھی
08:06مگر یہ صاحب کے ہاں
08:07لمبی چھوٹیوں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے
08:10صاحب کے گھر کا سناٹا
08:11ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں نے
08:15سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا
08:17جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا
08:19آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدو کامت سے
08:21دس سال کا لگتا تھا
08:22وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا
08:24اس کے ہاتھ میں زیادہ تر
08:25ٹینس ریکٹ ہی ہوتا
08:27جیسے وہ بے مقصد گھوماتا
08:29ٹینس شارٹ کی پریکٹس کرتا رہتا
08:31کبھی کبھار اس کے چھے سالہ بہن
08:33اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی
08:34لیکن وہ کسی اعتبار سے
08:35ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی
08:38وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا
08:40لڑکا تھا
08:41بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا
08:43اور ٹیکنیک کے اعتبار سے
08:44بھی بہت ساؤنڈ تھا
08:46اور پانچ سال کی عمر سے
08:47ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا
08:49ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا
08:53ان کی ننیالی اور دودھیالی فیملی میں
08:55کوئی ایسا نہیں تھا
08:56جو ٹینس نہ کھیلتا ہو
08:58مگر ان میں سے کسی میں بھی
09:00ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا
09:02وہ سویمنگ کرتا تھا
09:04یا پھر ٹینس کھیلتا تھا
09:05اور اس گھر میں آنے کے
09:06ایک ہفتے میں ہی چڑیا
09:07یہ جان چکی تھی
09:08ایبک جانے کے بعد
09:10صاحب بقائدگی سے شام کے وقت
09:11اس کے ساتھ لاؤن ٹینس کھیلا کرتے
09:13کبھی کبھار ایبک کی
09:14ممی بہن بھائی
09:16اور بہت صاحب کی بیوی اور بیٹی
09:17بھی وہاں موجود ہوتے
09:18لیکن عام طور پر صاحب اور ایبک ہی
09:21کھیل رہے ہوتے
09:21اور صاحب مسلسل
09:22ایبک کو ہدایت دے رہے ہوتے
09:24ایبک صاحب سے کچھ کبھی جیت نہیں پاتا تھا
09:27لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شورٹ مار دیتا
09:29اور صاحب اس شورٹ کو مس کر دیتے
09:32اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں
09:34چلانے والا صرف ایک ایبک نہیں ہوتا تھا
09:37کسی پودز یا درست کے پیچھے چھپی ہوئی
09:39جڑیا بھی اتنی مسرور ہوتی تھی
09:40اور اس کے ساتھ بونے بھی
09:43وہ ہٹوان اس کے اس اتفاق کے شورٹ
09:45کو بھی اس طرح ساری بریٹ کرتے
09:46جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو
09:49ایبک چڑیے کو کیوں اچھا لگا تھا
09:51اس وقت اس کی وجہ سے بھی یہ تھی
09:53کہ وہ ایوی میں تھی
09:56ایوی میں تھی
09:57اب یہ ایوی کیا ہے
09:58مجھے تو اس کا بالکل نہیں پتا ہے
10:01اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی
10:02کہ اس کا ہم عمر تھا
10:04اس کے لئے متاثر ہونے کے لئے یہ کافی تھا
10:05کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا
10:07اور بہت اچھی کھیلتا تھا
10:08اور جب وہ فریز بھی پھینکتا تھا
10:14تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا
10:17وہ ان تینوں بچوں کا سردار تھا
10:18جس وقت اس گھر میں تھے
10:19اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا
10:22وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا
10:26چڑیہ صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر
10:28ہمیشہ فیسینٹ ہوتی تھی
10:29لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود
10:31اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی
10:33اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی
10:35اس وقت تک صرف وہ ٹینس ریکٹ
10:38بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا
10:40کیونکہ اس نے صاحب کو
10:41اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے
10:44اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا
10:45اسے اندازہ تک نہیں تھا
10:46کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر
10:49گھما بھی نہیں سکے گی
10:50ایبک اپنا ریکٹ اکسلان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا
10:53اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا
10:55اس ریکٹ کے قریب جانے کی حمد بھی نہیں کر پاتی تھی
10:58اسے خوف ہوتا تھا
10:59کہ ایبک کسی بھی وقت نمو دار ہو سکتا تھا
11:02اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا
11:04کہ وہ حمد کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی
11:07جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا
11:09اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے
11:11یہ اکتم دوبارہ لان میں آ جاتا
11:13وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا
11:16کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی
11:18اسے لاکشہوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا
11:20کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے
11:22اس ٹیبل کے پاس جائے گی
11:24اور ایبک وہاں آ جائے گا
11:25وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں
11:27اسے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی
11:29کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد
11:31تمہاراں بالز خود دھون کر
11:33ٹینس بالز کے دبے میں
11:34بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا
11:37اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک
11:46شارٹ کی پریکٹس کرتے ہوئے
11:47کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا
11:50چڑیا اور اس کے ساتھ بونے
11:51اس کی ان خود کلامیوں سے محضوظ ہوتے رہتے
11:54چڑیا نے پہلی بار
11:56اپنی لوا کسی دوسرے کو خود سے
11:57گفتگو کا شکین پایا تھا
11:59اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں
12:01کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا
12:03کبھی کبار اس کی باتیں سنتے ہوئے
12:05اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے
12:07اور وہ دیتی بھی
12:09لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو
12:13لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں
12:14جن جلاہتیں
12:15خود کلامیاں
12:17چڑیا کے لیے
12:18جیسے ایک شاندھار تفریح تھی
12:20وہ اس کی وکیبلری بڑھا رہا تھا
12:22ایبک کے مجھ سے سننے والا ہر نیا لفظ
12:24وہ خیر دن کے سامنے رکھ دیتی تھی
12:26اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دن کے لیے بھی نئے تھے
12:29چڑیا خیر دن کو یہ نہیں بتاتی تھی
12:31کہ اس نے وہ لفظ کہاں سے سنا
12:32لیکن وہ خیر دن کی لاعلمی اور کام علمی کو
12:35اسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی
12:39بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں
12:41یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھا
12:42چڑیا کا بے تہاشا دل چاہتا تھا
12:44کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے
12:46ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں
12:49اڑتی ہوئی اس فریض بھی
12:50جیسے کوئی پکڑ نہیں پاتا
12:52وہ پکڑ لے
12:53ایبک کی ٹینس سرف کو وہ دوسرے کورت تھی
13:02ایک بچے کی محصومت اور خوش فیمی سے
13:05یہ بتا ہی نہیں پا رہی تھی
13:06کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے
13:08صرف خواہش اور موقع نہیں
13:10اس سکل کی بھی ضرورت ہوتی ہے
13:12ٹینس کا وہ ریکڈ جیسے ایبک بڑی آسانی سے
13:14گماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا
13:16اس کے پیچھے ویل نہیں سکل تھے
13:18اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا
13:20پریس بی کی وہ ڈسک تھی
13:22پریس بی وہ ڈسک تھی
13:24جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ
13:26نہیں آتی تھی
13:27وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی
13:30جس طرح دوسروں کے ہاتھ تھے
13:31لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات
13:33خوابوں اور فینٹیسی میں پوری کرتے ہیں
13:37نہ نپولین کی ڈکشنری میں
13:39نہ ممکن کا لفظ تھا
13:40نہ اس کی زندگی میں ہوتا
13:41اور چڑیا کے ساتھ تو ساتھ دوست
13:44بنے بھی تھے
13:45نہ نہ جب میں بڑی ہو جاؤں گی
13:46تو میں ٹینس کی پریئر بنوں گے
13:49ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد
13:51ایک دن چڑیا نے خیر دن سے
13:52ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے
13:54اسے اپنے کریئر میں
13:55تبدیلی کا اندیا دیا
13:57نہیں بیٹا
13:58لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتی ہیں
13:59خیر دن نے فوراں اسے ٹوکا
14:01ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں
14:03وہ جو
14:07وہ مبلڈن ہوتا ہے
14:09چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے
14:11کسی میچ اور ٹورنمنٹ کیے سے یاد دلائی
14:13ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے
14:16اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں
14:17خیر دن جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی
14:19اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا
14:22چڑیا نہیں
14:22اس نے خیر دن کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی
14:25بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں
14:27وہ کھیل سکتے ہیں
14:27ہم نہیں کھیل سکتے
14:28خیر دن نے بے اکتیار گہری سانس لیتے ہوئے
14:31اس سے کہا
14:31چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا
14:34فرق سمجھانا اور بتانا
14:36خیر دن کو بڑا مشکل لگتا تھا
14:37خاص طور پر اس لیے
14:40کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے
14:42ایک بڑا آدمی بنا رہا تھا
14:44اور اب اس بڑے آدمی کو
14:46اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا
14:48اور یہ آسان نہیں تھا
14:50مگر اس کے علاوہ کچھ آرہ بھی نہیں تھا
14:52وہ اسے اپنی اتتاعت سے بڑھ کر
14:54کھلا پلا رہا تھا
14:55اس انگلیش میٹیم اسکول بھی بھیج رہا تھا
14:57اس انگلیش میٹیم اسکول میں جہاں
14:59اس جیسا آدمی اپنی لات کو بھیجنے کے
15:01صرف خواب دیکھ سکتا تھا
15:03لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں
15:05زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا
15:08اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا
15:10بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں
15:13لیکن ہم نہیں
15:13چڑیا کوئی اس فلاسفی کی سمجھ نہیں
15:16سمجھ آئی تھی یا نہیں
15:17لیکن ایک جملہ
15:19اس نے کسی توتے کی طرح
15:21اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے
15:23فیڈ کیا تھا
15:26خیر دین نے اسے کریئر
15:28بدلنے کی اجازت تو نہیں دی تھی
15:29لیکن اگلے دن اس کو ایک ریکٹ لا دیا تھا
15:32وہ بیڈ منٹرن ریکٹ تھا
15:33لکڑی کا ایک معمولی تھا کام قیمت
15:35پہلی نظر میں ہی چڑیا نے اس ریکٹ کو
15:37ناپسند کر دیا تھا لیکن اس نے
15:39اپنی پسندیدگی لیکن اس نے
15:41اپنی ناپسندیدگی خیر دین تک نہیں پہنچائی تھی
15:44بھاری دل کے ساتھ اس نے
15:45وہ ریکٹ اٹھا لیا تھا اور اس نے
15:47اس کے ساتھ چند بار اس گیند کو
15:49ہٹ کرنے کی کوشش کی تھی
15:51جو خیر دین ریکٹ کے ساتھ لے کر آیا تھا
15:53تیسرے یا چوتھے شارٹ پر ریکٹ کے
15:55دو ٹکڑے ہو گئے تھے
15:56چڑیا نے بوجھل دل کے ساتھ وہ ریکٹ اٹھا کر
15:59کمرے میں پڑی اکلوتی سیفٹ کے اوپر رکھ دیا
16:01اسے سمجھ میں آ گیا تھا کہ
16:03بات چیزیں صرف صاحب لوگ کیوں کر سکتے ہیں
16:06وہ کیوں نہیں
16:07اس شام اس آئینے میں
16:11دیکھے جانے سے پہلے
16:12ایبک نے کبھی چڑیا کو اس گھر میں نہیں دیکھا تھا
16:15اور اب یک دم
16:16اس آئینے میں اُبھر نے
16:17اُبھر آنے والے ایک ہم عمر کے
16:20اکس نے اسے حیران کر دیا تھا
16:22اس آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر ریکٹ کے ساتھ
16:25ٹینر شارٹ کی پریکٹس کرنا
16:26اس کا روز کا معمول تھا
16:27اور اسے پریکٹس کرتے دیکھنا چڑیا کا
16:30پہلی بار اس نے اصطفاقی طور پر
16:32ایبک کو اس وقت شام کو
16:37لیے جب وہ ہمیشہ کے لیے
16:40اپنے معمول کے مطابق
16:42شام کے وقت اس آئینے میں دیکھنے آئی تھی
16:44اور جو کچھ اسے نظر آیا
16:46اس نے چڑیا کو بے حد محضود کیا تھا
16:48ایبک آئینے کے سامنے کھڑا
16:50اپنے آپ سے باتیں کرتا ہوا ریکٹ کو
16:52گھوماتا پھر رہا تھا
16:54وہ آئینے میں کسی کھلاری کے کھیل کے
16:56انداز کے نقل اتار رہا تھا
16:57نہ صرف کھیل کے انداز کی بلکہ
16:59اس کھلاری کے کھڑے ہونے سر جھٹک کر
17:01اور کندہ اچھکا کر بات کرنے کی بھی
17:04وہ ریکٹ کو ایک اپ کی طرح
17:05پکڑے جیسے
17:07ومبلڈن سینئر کوٹ پر
17:09کھڑا چمپینشپ جیتنے کے بعد تقریب کر رہا تھا
17:11وہ کس کھلاری سے متاثر تھا
17:13اور کس کی نقل کر رہا تھا
17:15جیڈیا کا کچھ اندازہ نہیں تھا
17:17لیکن ایبک کے اس چار منٹ کے
17:19اس کٹ پیارول
17:20پلے کو دیکھتے ہوئے
17:22اسے اپنی ہسی پر کابو پانا مشکل ہو گیا تھا
17:25اور ایبک اگر یہ پتا چل جاتا
17:27کہ اس کی وہ
17:28وینرز سپیچ کسی کو اس طرح گد گدہ رہی تھی
17:31تو وہ شرم سے ڈوب کر مر جاتا
17:33وہ انہوں کو دیکھنے کی خواہش کے علاوہ
17:35اب چڑیا
17:35اس آئینے کے سامنے ایبک کے ایکٹ کو
17:39ایکٹ دیکھنے ہی آتی تھی
17:40وہ ہر روز وہاں نہیں ملتا تھا
17:42لیکن اکثر وہاں مل جاتا تھا
17:44اور آج اس آئینے میں پہلی بارے بک نے
17:46چڑیا کو دیکھ لیا تھا
17:47برامدے میں رکھے کہ اس آئینے کی پوزیشن
17:50صفائی کے دوران کچھ تبدیل ہوئی تھی
17:52اور برامدے کی ایک ستون پر
17:53چڑھی بوگن ویلیا کے ساتھ
17:57چپکی اندر جھانگتی چڑیا
17:59جو آئینے کی پہلی پوزیشن میں نظر نہیں آ سکتی تھی
18:01اب بڑی آسانی سے نظر آگئی تھی
18:03اس نے پھر ساکتا پلٹ کر
18:04اپنے اکب میں اس ستون کو دیکھا تھا
18:06ستون اور اس آئینے میں
18:08فاصلہ بہت کم تھا
18:09چڑیا کوئی دیر کیلئے جیسے حق کا پکہ رہ گئی تھی
18:11اس کے اندازہ نہیں تھا
18:13کہ وہ اس طرح رنگے ہاتھوں پکڑی جا سکتی ہے
18:15اور پکڑی کیسے گئی تھی
18:17وہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا
18:18اے بھگ اب اس پر نظریں جمائے کھڑا تھا
18:21پر پر تجسد
18:22حیران مسکراتی ہوئی نظریں
18:24چڑیا کے سمجھ میں نہیں آیا
18:25وہ فوری طور پر کیا کھرے
18:27برامدے کے ستونوں کی آر میں بھاگتی بھی فرار ہو جائے
18:30اے بھگ کے سامنے آج آجائے
18:33یا آہستہ سے اپنی کسی چڑیا کی طرح
18:35نکلوی گردن کو اسی آہستگی کے ساتھ واپت کھینچ گیا
18:38ستون کے اکب میں چھپ جائے
18:40جہاں تک کہ اے بھگ وہاں سے چلا جاتا
18:42اسے فیصلہ نہیں کرنا پڑا تھا
18:44یہ کام اے بھگ نے کیا تھا
18:46وہ چند قدم اور آگے بڑھ آیا تھا
18:48اور وہ بلکل اس کے سامنے گڑا تھا
18:50چڑیا اپنے دونوں گھٹنوں پر ہاتھ رکھے
18:52اپنی گردن ستون کے پیچھے سے نکالے ہوئے تھے
18:55اب اے بھگ کے بلکل سامنے آجانے پر
18:57وہ گھٹنوں سے ہاتھ اٹھا کر
18:59سیدھی کھڑی ہو گئی
19:00اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا
19:02شرمندگی تھی
19:04شرمندگی ہی شرمندگی تھی
19:05اور کنٹا منٹا منٹو
19:07بھی کہیں غائب ہو گئے تھے
19:10حد تھی ویسے یہ بھی
19:12ہلو
19:18ایک لمحے کے لئے اس نے احران ہو کر
19:20اے بھگ کو دیکھا پھر اس نے جواباً ہیلو کہا
19:22بھاگنے کا رائدہ اس نے فل فور
19:24ترک کر دیا تھا
19:26تم کون ہو
19:26اے بھگ نے فوراں سے بیشتر کہا
19:29چڑیا کی ہلیے سے یہ تہہ کرنا مشکل تھا
19:31کہ وہ کسی نوکر کی بیٹی ہو سکتی ہے
19:33اور کسی ملازم کے بچے میں اے بھگ دلچسپی نہیں لے سکتا تھا
19:37یہ اس کے پیرنٹس کی ہدای تھی
19:39اس کے پیرنٹس ملازمین کو ہی فاصلے
19:41پر نہیں رکھتے تھے
19:42ان کی فیملیز کو بھی اپنی فیملیز سے فاصلے پر رکھنے میں یقین رکھتے تھے
19:46اور اے بھگ اسی طرح کی ویلیوز کے ساتھ پڑوان چڑھا تھا
19:49چڑیا کی سمجھ میں نہیں آیا
19:51وہ اپنا تعرف کیسے کروائے
19:52میرے نانا کوکھ ہیں
19:53چند لمحے علچ کر اس نے بلا آخر کہا
19:56اوہ خیر دن
19:57اے بھگ نے بے ساختہ کہا
19:58چڑیا کو اس کے موں سے یوں اپنے نانا کا نام اچھا نہیں لگا تھا
20:01خیر دن کو دوسرے ملازمین چاچا کہتے تھے
20:04اور افیسر نام سے بکارتے تھے
20:06لیکن اس نے آج تک کسی بچے کو خیر دن کا نام لیتے نہیں سنا تھا
20:10چاچا خیر دن
20:12اس نے جیسے برا منا کر اے بھگ کو جتانے والے انداز میں بتایا
20:15اے بھگ نے اس کی خوف کی نوٹس نہیں کی تھی
20:18چڑیا میں اس کی دلچسپی فوری طور کام ہوئی تھی
20:21تم یہاں کیا کر رہی ہو
20:22اے بھگ نے ریکٹ گھوماتے پہ سے پوچھا
20:25وہ وہاں کیا کر رہی تھی
20:27یہ تو چڑیا اے بھگ کو مر کر بھی نہیں
20:30مر کر بھی نہیں بتا سکتی تھی
20:32وہ خاموش نظروں سے اسے دیکھتی رہی
20:34میں نے کچھ پوچھا ہے
20:35اے بھگ نے اسے ڈانٹا
20:37میں ہی میرر دیکھنے آئی تھی
20:38چڑیا نے بے ساکتا کہا
20:40اے بھگ نے حیرانی سے پلٹ کر میرر کا دیکھا
20:42کیوں یہ پسند ہے مجھے
20:44جواب سادہ تھا لیکن اے بھگ پھر بھی حیران ہو رہا تھا
20:48کیا کرتی ہو تم
20:49اے بھگ نے جوابوں نے اسے پوچھا
20:57کے لئے کو سوچنے پر مجبور کیا تھا
20:58نوکروں کے بچے
21:01کانور
21:04نوکروں کے بچے
21:04کانونٹ میں نہیں پڑھتے تھے
21:06وہ چڑیا پڑھ رہی تھی
21:07اس کی اپنی بہن بھی ایک کانونٹ سکول میں ہی تھی
21:10ایک بچہ ہونے کے باوجود
21:12ایک اچھے اور برے سکول کا فرق جانتا تھا
21:14اردو میڈیم اور انگلیش میڈنگ کی تفریق
21:16اور ریٹنگ سے بھا خوبی واقف تھا
21:18میں بھی فورز میں ہوں اچھی سن میں
21:20اس نے اب اپنے بارے میں چڑیا کو بتایا
21:23اوہ چڑیا حیران ہوئی
21:24ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بھی
21:26کلاس فور کا اسٹوڈنٹ ہوگا
21:28اور اس نے یہ کہنے میں تعمل بھی نہیں کیا
21:30ایبک پہلے خجل ہوا اور پھر بلش
21:32کتنا بڑا لگتا ہوں میں
21:34اس نے جیسے اپنے کسی خدشے کو جھٹلانے کے لئے
21:36چڑیا سے پوچھا
21:37پاتا نہیں لیکن تم مجھ سے بڑے لگتے ہو
21:40جیسے فیفت سکھ سٹینڈر میں ہو
21:43چڑیا نے اسے گھوڑ سے دیکھتے ہوئے کہا
21:45Dads because I'm a boy
21:47ایبک نے اپنی خفت مٹانے کی کوشن میں
21:50بڑی رکھائی سے کہا
21:51وہ اب چڑیا کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے
21:53پلٹ کر دوبارہ آئینے کے سامنے جا کر
21:55اپنے ٹینر شورٹس کی پریکٹس کرنے لگا تھا
21:58چڑیا کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے
22:01لیکن اس کی موجودگی سے پوری طرح بخبر
22:03چڑیا دونوں ہاتھ پوچھتے کے پیچھے
22:06باندھے ستون سے ٹیک لگا کر
22:07کھڑی ہو کر اسے دیکھنے لگی
22:08اب چھپنے کی ضرورت نہیں رہی تھی
22:10اور کیا تمانیت محسوس کی تھی اس نے
22:13You play very well
22:14چند منٹ کی خاموشی کے بعد
22:16چڑیا نے اس تک اپنی ستائش پہنچانا ضروری سمجھا
22:19ریکڈ گھوماتا ایبک کا ہاتھ چند لمحوں کے لیے رکا
22:22Thank you
22:23وہ دوبارہ پریکٹس کرنے لگا
22:25وہ چڑیا کی نظر آئینے میں بھی
22:27خود پر جمعی نوٹس کر رہا تھا
22:29اور اس احساس نے
22:30جیسے اس کی پریکٹس کے نماک کو بڑھا دیا تھا
22:32بیٹے بیٹھا ایک فین
22:34مل گیا تھا اسے
22:35اور یہ اپنے خاندان سے باہر ملنے والا
22:37اس کا پہلا فین تھا
22:38اس آٹھ سالہ بچے کے لیے
22:40فوری طور پر یہ تعریف حضم کرنا
22:42تھوڑا مشکل ہو گیا تھا
22:44تم نے کبھی کورٹ میں دیکھا ہے مجھے
22:45اس نے ایک دم چڑیا کے ساتھ
22:47گفتگو جاری رکھنا ضروری سمجھا
22:49بڑا نظر آنے کا
22:50غم تھوڑی دیر کے لیے
22:53ہلکا پڑ گیا تھا
22:54اور روز دیکھتی ہوں
22:55جب تم کورٹ میں کھلنے کے لیے جاتے ہو
22:56چڑیا نے روانی دیکھا
22:58ایبک کے سر پر اچانک نمودار ہونے والے
23:00سرخواب کے پروں میں
23:01ایک اور کا اضافہ ہو گیا تھا
23:03میں نے کورٹ میں کبھی نہیں دیکھا تمہیں
23:05تم کہاں دیکھتی ہو
23:06مجھے کھلتے ہوئے
23:08ایبک نے بہت دانشمندانہ تھوال پوچھا
23:11اس نے واقعی اتنے دنوں میں
23:13ایک بار بھی چڑیا کو نہیں دیکھا تھا
23:15اس بار بلاش ہونے کی باری چڑیا کی تھی
23:17ہمارا کوارٹر ہے پیچھے
23:19میں وہاں سے دیکھتی ہوں
23:20وہ پہلے ہکلائی پھر اتنے گول مول
23:22انداز میں کہا
23:23یہ بتانا مشکل تھا
23:24کہ وہ جھاڑیاں اور پودوں میں
23:25اپنے ساتھی بونوں کے ساتھ چھپ کر
23:27وہ سارے محجز اور ایبک کی سرگرمیاں دیکھتی تھی
23:31ترون کوارٹر تو پیچھے ہیں
23:32اور بہت دور
23:33وہاں سے کیسے نظر آ جاتا ہے
23:35ایبک نے حیران ہو کر کہا تھا
23:37اس بار چڑیا جواب نہیں دیتے کی
23:39تم کہیں اور سے دیکھتی ہو
23:41ایبک نے پورے یقین سے کہا
23:43اور چھپ کر
23:43چڑیا کا شہرہ رنگین ہو گیا
23:45اسے اندازہ نہیں تھا
23:46کہ ایبک کا اگلا اندازہ یہ ہوگا
23:48وہ چپس کے نائٹ کی چال تھی
23:51سیدھے سے الٹی بے حد اچانک
23:53اور بظاہر سادہ پر انتہائی کاری
23:55اور چپس
23:57چپس کہہ رہی ہوں
23:58اور چیس کا نائٹ
24:00چڑیا کا بسندیدہ ترین مہرا تھا
24:02کوئن کے بعد
24:03خیر دین کے ساتھ کھیلتے ہوئے
24:04وہ سب سے پہلے
24:05خیر دین کے نائٹ پکڑنے کی کوشش کرتی تھی
24:08باقی مہروں سے
24:09اس کو نہ اتنا شغف تھا
24:11نہ خوف
24:12لیکن نائٹ سے
24:13اس کی عجیب
24:18لیلیشنشپ تھی
24:19تو اس دن چڑیا نے ایبک کو
24:21چس کا نائٹ بنا لیا تھا
24:23کہاں سے چھپ کر دیکھتی ہو
24:24نائٹ نے ایک اور محلک چال چلی
24:27پودوں کے پیچھے چھپ کر
24:28کوئن نے ہاں ہتھیار ڈالے
24:32کوئن نے ہتھیار ڈالے
24:33ایبک فخری انداز میں مسکر آیا
24:35چھپنے کی کیا ضرورت ہے
24:36تم ویسے بھی دیکھ سکتی ہو
24:37اس نے بڑی
24:39پیازانہ آفر کی
24:40چڑیا کا شہرہ چمک اٹھا
24:42وہ یہ بھول گئی تھی
24:43کہ یہ ایبک کا گھر نہیں تھا
24:45یہ اس کے انکل کا گھر تھا
24:46اور وہ پابندیاں جو اس پر لگی تھیں
24:48وہ وہی اٹھا سکتے تھے
24:50تم کو ٹینس کھیلنا آتا ہے
24:52ایبک نے یک دم اگلا سوال کیا
24:54یہ جیسے ایک پارٹنر کی تلاش تھی
24:56اس کے انکل کے پاس وقت نہیں تھا
24:58چھوٹے بہن بھائی اس کے مقابلے کے نہیں تھے
25:00اور گھر میں کوئی دوسرا ایسا بچہ نہیں تھا
25:02جو اس کے ساتھ بقائدگی کے ساتھ
25:04ٹینس کورٹ میں اپنا وقت ضائع کر سکے
25:06اب اگر ایک ہام عمر نظر آ گیا تھا
25:09تو کیا پتہ ایک ٹینس پارٹنر ہی مل جاتا
25:11چڑیا اس کے سوال پر گڑھ بڑھائی
25:13میں سیکھ رہی ہوں
25:14انکار کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
25:17اور یہ جھوٹ نہیں تھا
25:18کہ وہ سیکھنے کی کوشش کر رہی تھی
25:20بیڈ منٹن کے ریکٹ سے ہی سہی
25:22اس نے اپنے آپ کو یقین دلائے
25:23کہ اس نے جھوٹ نہیں بولا
25:24کون سکھا رہا ہے
25:26اگلا سوال آیا
25:27میں خود سیکھ رہی ہوں
25:28ایبک نے بیک تیار پلٹ کر اسے دیکھا
25:30اور پھر کھل کھلا کر انسا
25:32چڑیا کے چہرے کا رنگ بدل گیا
25:33خود کیسے سیکھ سکتے ہیں
25:35اس نے بے ساکتا کہا
25:37تم بھی تو خود سیکھتے رہتے ہو
25:39جواب اسی انداز میں ملا
25:41جس انداز میں سوال کیا گیا تھا
25:43اس بار ایبک گر بڑھایا
25:44بات ٹھیک تھی
25:46وہ بھی آئینے کے سامنے کھڑا یہی کر رہا تھا
25:48اگر تم چاہو تو میں سکھا سکتا ہوں تمہیں
25:50چڑیا نے حیرت سے سے دیکھا
25:52ایبک سے اس آفر کی توقع وہ نہیں کر سکتی تھی
25:55اوکے
25:56اپنے بلیوں اچھلتے دل کو سنبھالتے
25:58اس نے ایبک سے کہا
25:59کون سا ریکٹ ہے تمہارے پاس
26:01ایبک اب ایک تجربہ کار کوچ کی طرح بولنے لگا
26:04چڑیا کا رنگ زرد بڑا
26:06وہ یہ تو بھول ہی گئی تھی
26:07کہ اس کے پاس ریکٹ نہیں تھا
26:09ریکٹ تو نہیں ہے
26:10بہت مدھم آواز میں اس نے جیسے اطرافہ ندامت کیا
26:13تو پھر تم سیکھ کیسے رہی ہو
26:15ایبک حیران ہوا تھا
26:16تمہیں دیکھ کر
26:17چڑیا نے بہت سنجیدگی سے کہا
26:19حالی دیکھنے سے ٹینس کھیلنا تھوڑی آتا ہے
26:22ایبک نے اس بار جنجلا کر کہا
26:24لڑکیاں ہمیشہ اتنی بے وکوف کیوں ہوتی ہیں
26:26اس نے ساتھ ہی سوچا
26:28چڑیا نے چہرہ جھکا لیا
26:29وہ ٹھیک کہہ رہا تھا
26:31مگر وہ اس کو یہ نہیں بتا سکتی تھی
26:32کہ اس نے اپنے کوارٹر کی دیوار کے ساتھ
26:35بیڈ منٹن ریکٹ کے ساتھ
26:36ٹینس کھیلنے کی پریکٹس کی تھی
26:37ایبک نے آئینے میں اس کے لٹکے وے موں کو دیکھا
26:40وہ اداس اسے اچھی نہیں لگی تھی
26:42اچھا چلو میرے پاس ایک اور ریکٹ ہے
26:44تم اس کے ساتھ کھیل لینا
26:46اس نے بے ساکتا اسے آفر کی
26:48اور چڑیا کا چیرہ سیکنڈ میں چمک اٹھا
26:51وہ بلکل پاگلوں کی طرح ننگے پاؤں
26:54دوڑتے ہوئی تھیڑیاں چڑی تھی
26:55کوئی اور موقع ہوتا
26:56تو اس کمرے میں اس کے بارے میں
26:58وہ انترام بہت کچھ سن چکی تھی
27:00کی طرح جانے سے پہلے سو بار سوچتی
27:02اور خاص طور پر رات کے اس پہ ہے
27:05لیکن فی الحال وہ حواس باگتا تھے
27:07شیر دل کی طرف سے جواب نہ آنا
27:09اس کے حواس کو معاف کرنے کے لیے کافی تھا
27:12ایک ہی وقت میں دو دو تین تین
27:14زینیں پھیلانگتی وہ اوپر آگئی
27:16اور اس کے اوپر آتے ہی
27:18اس نے کوریڈور میں اس ماسٹر بیڈروم کے
27:20دروازے کی جھری سے آتی
27:22روشنی کو بند ہوتے دیکھا
27:24کوریڈور روشن تھا لیکن کمرہ
27:25ایک بار پھر تاریخ ہو چکا تھا
27:27شہر بانو تھٹکی تھی
27:28کمرے میں کوئی تھا
27:29اب اس میں شبے کی کوئی گجائش نہیں رہی تھی
27:32اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے کمرے کی لائٹس کو
27:34اوف ہوتے دیکھا تھا
27:35اس کے پیٹ میں گرہیں پڑنے لگیں
27:37شیر دل وہاں بھی کہیں نظر نہیں آیا تھا
27:40وہ بے اختیار اس کمرے کے دروازے کے سامنے آئے
27:42اور تبھی کمرے کا دروازہ یک دم کھل گیا
27:44چل لمحوں کے لیے شہر بانو کی سانسیں
27:47دھرکن اور کون کی گردش
27:49بے ایک وقت
27:51سمی
27:51اور پھر جیسے ایک الیکٹری شوق کے ساتھ
27:53وہ اپنے ہواس میں واپس آئی تھی
27:55اندر سے نکلنے والا شیر دل تھا
27:56مطمئن انداز میں
27:58نائٹ ڈریس پر ایک سیاہ جرسی چڑھائے
28:00بے حد کیجول انداز میں
28:02وہ اسی اس طرح باہر نکلا تھا
28:04جس طرح کوئی اپنی گھر کے کمرے سے اچانک نکل آتا ہے
28:07شیر بانو بچوں کی طرح
28:08ایک لمحے کے توقف کے بعد اس سے لپڑ گئی تھی
28:11اس کی زندگی میں شیر دل اور مثال کے علاوہ
28:14اور کوئی قیمتی چیز نہیں تھی
28:16ایسی چیز جس کو کھونے کے خطشے سے
28:18اس کی راتوں کی نیند اڑ جاتی
28:19یا وہ کھانا پینا بھول جاتی
28:22مثال شیر دل کے بعد آتی تھی
28:24اور شیر دل یہ بات جانتا تھا
28:25شہربانوں کے کہے بغیر جتائے اور بتائے بغیر بھی
28:29شیر دل نے اس کے گرد اپنے بازو لپیٹتے ہوئے
28:31کسی بڑے کی طرح
28:32اس کی پوشت کو تسلی دینے والے انداز میں
28:35نرمی سے رگڑا
28:36تم پھر بیٹسی گری ہو
28:37شیر دل اس کے اس طرح اٹھ کے آ جانے کی وجہ
28:40یہی سمجھا تھا
28:42اس کی سینے میں سر چھپائے شہربانوں کو
28:45شہربانوں اس کو یہ نہیں بتا سکی
28:47کہ چند منٹوں میں وہ خطشات کے کتنے جنگل
28:49پارک کر رہی تھی
28:51تم یہاں کیوں آئے ہو
28:52تم نے وعدہ کیا تھا
28:53اس کمرے کو بند رکھنے کا
28:55اس کی پوشت پر اس کی جرسی کو دونوں مٹھیوں میں بینچے
28:59سر اٹھائے بغیر
29:00اس نے بے حد خفگی کے عالم میں
29:02اپنی سانس کو بحال کرنے کی کوشش میں کہا
29:04کام تھا
29:05شیر دل نے بے حد گول مل انداز میں
29:08اس کے سر کو چھوٹے ہوئے
29:09اسے خود سے لگ کیا
29:10وہ پلٹ کر دروازے کے باہر لگے ہوئے بولڈ کو
29:13جڑا کر تالہ بند کر رہا تھا
29:15مجھے اپریٹر نے جگایا ہے
29:17اس کمرے میں لائٹ دیکھ کر انٹر کام کر رہے تھے
29:20وہ تمہیں
29:20شہربانوں نے اسے تلا دی
29:22اوہ مجھے خیال ہی نہیں رہا
29:24کہ اوپر والے فلور پر اچانک لائٹ دے کر
29:26شیر دل بات کرتے کرتے رک گیا
29:28وہ شہربانوں کو اس کی نیند کے دران ہونے والے
29:30کسی واقعے کے بارے میں کوئی کلیو
29:32نہیں دینا چاہتا تھا
29:34ایسی کسی سیچویشن میں
29:35تمہیں گارڈ کو بلا کر اسے اوپر بھیجنا چاہیے تھا
29:38تم بے وکوفوں کی طرح خود اوپر آ گئیں
29:40اس کے ساتھ ہیڑیاں اترتے
29:42شیر دل نے اسے ڈانٹا
29:43لیکن تم اوپر آئے کیوں تھے
29:45شیر دل نے اس کی ڈانٹ کا برا منائے بغیر کہا
29:48کام تھا کوئی یار
29:50شیر دل نے اس کے ماتے پر بکھرے بالوں کو ہٹاتے ہوئے
29:53اسے ایک بار پھر ٹالا
29:54ہال کمرے تھے
29:55باہر نکلتا ہی شیر دل نے بھی
29:57برامدے نماغ کوریڈور کی کھڑکیوں سے
29:59باہر اکٹھے ہوئے گارڈ کو دیکھ لیا تھا
30:02تم بیڈروم میں جاؤ میں تھوڑ دیر میں آتا ہوں
30:04وہ شیر بانو سے کہتے ہوئے خود بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا
30:07شیر بانو اپنے بیڈروم میں آگئے
30:09مثال
30:10اسی طرح اپنے بیڈروم میں گہری نیند سو رہی تھی
30:13شیر بانو کو بیڈروم میں آ کر
30:15پہلی بار سردی کا احساس ہوا تھا
30:17وہ ننگے پاؤں اوپر تک
30:18پھر آئی تھی
30:19وہ کمبل ہٹایتے ہوئے دوبارہ بستر میں گھس گئے
30:22بستر میں چیت لیٹے
30:23وہ کچھ دیر تک شیر دل کا انتظار کرتی رہی
30:26اسے نیند آ رہی تھی
30:27لیکن وہ شیر دل کو واپس کمرے میں
30:29موجود دیکھے بغیر سنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی
30:32شیر دل تقریباً پندرہ بیس منٹ کے بعد واپس آیا
30:35اور وہ تب بھی جاغ رہی تھی
30:39سو جاؤ یار کیوں جاغ رہی ہو
30:41شیر دل نے کمرے کا دروازہ کھولتے ہی
30:43اسے جاگتے دیکھ کر کہا
30:45تمہارا انتظار کر رہی تھی
30:47شیر بانو نے کچھ مطمئن انداز میں
30:49جمائی لیتے ہوئے کہا
30:51میں واپس آ گیا ہوں تم سو جاؤ
30:53شیر دل نے اسے تسلیح دینے والے انداز میں کہا
30:56وہ اب سائی ٹیبل پر پڑا
30:57اپنا لائٹر اور سیکرٹ پیک اٹھا رہا تھا
30:59شیر بانو آنکھیں بند کیے چند لمحے
31:01جیسے اس کے بستر پر لٹنے کا انتظار کرتی رہی
31:04پھر اتنے آنکھیں کھول دیں
31:06وہ بیڈ سائیڈ لیمپ
31:10کو آف کر رہا تھا لیکن بستر میں نہیں تھا
31:12تم کہاں جا رہے ہو اب
31:13شیر بانو نے کچھ ہر بڑا کر کہا
31:15میں مثال کے بیڈروم میں ہوں
31:17ایک دو سیگرٹ پی کر واپس آ جاؤں گا
31:19شیر دل نے دھیمی آواز میں اس سے کہا
31:21اور برابر والے کمرے کے دروازے کی طرف پڑ گیا
31:24شیر بانو نے کچھ
31:25علج کر کمرے کی نیم تاریکی میں اس کے حویلے کو
31:28برابر والے کمرے میں غائب ہوتے دیکھا
31:30وہ کیوں سونے ہی پا رہا تھا
31:32وہ سمجھ نہیں پائی
31:33اور آدھی رات کو کس کام سے اوپر والی مندل پر گیا تھا
31:37وہ اس سے یہ بھی پوچھ نہیں پائی تھی
31:39وہ بہت دیر تک آنکیں کھلی نہیں رکھ پائی
31:42برابر والے کمرے میں شیر دل بیٹھا ہے
31:44ایک کے بعد ایک سیگرٹ پی رہا تھا
31:46وہ بہت زیادہ تھکن ہونے کے باوجود
31:48نیند اب بھی اس سے کوسوں دور تھی
31:50اور جو کچھ وہ اوپر والے بیڈروم میں دیکھ آیا تھا
31:53اس کے بعد اسے نیند آ بھی نہیں سکتی تھی
31:56وہ گھر کسی نہ کسی حد تک ہونٹڈ تھا
31:58اسے اب اس میں کوئی شبہ نہیں رہا تھا
32:01لیکن وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا
32:03کہ یہ اثارات کس حد تک تھے
32:04اور کیا اس سے اس کی فیملی کی متاثر ہونے کے امکانات تھے
32:08کسی اوپ زیادہ
32:11کسی اوپ زیادہ گھر میں
32:13اپنی بیوی اور کم سن بیٹی کو
32:14رات کے وقت اکیلے چھوننے کا وہ
32:17تصور بھی نہیں کر سکتا تھا
32:18اس کی فرض شناسی اور دھلیری
32:22اس سے ایک چیز پر آ کر ختم ہو جاتی
32:25اور صرف اسی کی نہیں
32:26کسی بھی افیسر کی ہو جاتی
32:27وہ یہ نہیں کر سکتا تھا کہ شام ہوتے ہی
32:30ہر گھر بھاگ آتا
32:31اور کئی بار وہ چند دنوں کے لیے
32:33کسی نہ کسی کام سے گھر سے غیر حاضر بھی ہوتا
32:36وہ اس غیر حاضری کے دوران
32:37اپنی فیملی کو لاہور اپنے پیرنٹ سے پاتھ بھیجوا سکتا تھا
32:41لیکن وہ روز مراہ امور کی انجام دہی کے دوران
32:44ہونے والی تاخیر کا کچھ نہیں کر سکتا تھا
32:46لیکن اب سوال یہ تھا
32:48کہ وہ کیا کرے
32:49اس کا سر بری طرح چکرایا ہوا تھا
32:52سر آپ پریشان نہ ہو
32:55خان ساما نے شیر دل کو تسلی دی
32:57اگلے دن ویکنڈ تھا
32:58اور شیر دل نے کچھ دیر پہلے ناشتے کے بعد
33:00خان ساما کو اپنی سٹڈی میں بلوایا تھا
33:03وہ اب اس گھر کے بارے میں
33:04اس سے تفصیلی بات چک کرنا چاہتا تھا
33:06اور اس سے پہلے کہ وہ گفتگو کا آغاز کرتا
33:08خان ساما نے خود ہی بات کا آغاز کر دیا
33:10رات کے واقعہ صبح ہونے تک
33:12معاملات میں کے علمیں آ چکے تھے
33:14اور شیر دل کو اس پر حیرت نہیں ہوئی تھی
33:17کیر ٹیکر اور لوئر سٹاف
33:19کی نیٹ ورکنگ آفیسرز
33:21کی نیٹ ورکنگ سے کہیں زیادہ محصر
33:23اور تیز ہوتی ہے
33:24یہ دروازے وغیرہ کھل جاننا تو اہم چیز ہے
33:26اس گھر میں اور آج تک اس سے کبھی کے نقصان نہیں ہوا
33:29وہ اب شیر دل کو بتا رہا تھا
33:31بلکہ آج تک اس گھر میں کبھی کے نقصان نہیں ہوا
33:33کسی بھی صاحب کا
33:34بچ چھوٹی موٹی چیزیں غائب ہو جاتی ہیں
33:36کبھی کبھار کچھ آوازیں آنے لگتی ہیں
33:38دروازے خود ہی بندر کھلے
33:40کھلتے رہتے ہیں
33:41اور کبھی کبھار گھر میں پڑی مشینیں خود ہی چل پڑتی ہیں
33:44بس اس کے سوار کچھ نہیں ہوتا
33:46خان ساما اس سے تفصیل سے بتا رہا تھا
33:48ابھی یہ بس ہے
33:50شیر دل نے ڈپٹنے والے انداز میں کہا
33:52میری بیوی نے اگر ایک بھی چیز دیکھ لی
33:54ان میں سے ہوتے ہوئے
33:55تو وہ زندگی میں دوبارہ
33:56اس گھر میں قدم نہیں رکھے گی
33:57اس نے بہت جاری رکھتے بھی کہا
33:59مجھ سے پہلے والے آفیسر کے ساتھ بھی ہوا تھا
34:02یہ سب کچھ
34:03شیر دل نے اچانک پوچھا
34:04سب کے ساتھ ہوتا ہے
34:05جو بھی آگر یہاں رہتا ہے
34:06لیکن احصہ احصہ سب کو عادت ہو جاتی ہے
34:09میں نے آپ کو بتایا نا
34:11کہ یہاں آج تک کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچا
34:13خان سامہ نے اس کو تسلیح دینے کی کوشش کی
34:15شیر بانوں کو کل رات کے واقعات کے بارے میں
34:18کچھ پتہ نہیں چلنا چاہیے
34:19شیر دل نے اسے تحکمانہ انداز میں کہا
34:22جی سر
34:24اور گھر میں قرآن کھانے کے انتظام کراؤ
34:26کسی مسجد یا مدرسے سے محلوی صحابہ طلبہ کو بلاؤ
34:29کو ختم قرآن کے لیے
34:31شیر دل نے مزید ہدایت دیں
34:33اس ہدایت اسے یہ ہدایت دیتے ہوئے
34:35حیرانی ہوئی کہ اسے پہلے
34:36اس چیز کا خیال کیوں نہیں آیا تھا
34:37خان سامہ کو ہدایت دے کر فارغ کرنے کے بعد
34:40اس نے اپریٹر سے اس گھر سے پوسٹ آؤٹ ہونے
34:42والے افیسر سے رابطہ کروانے کا کہا تھا
34:45وہ خان سامہ کی تسلیح سے
34:47مطمئن نہیں ہوا تھا لیکن وہاں
34:48اس سے پہلے پوسٹڈ رہنے والے افیسر
34:51کا بیان بھی خان سامہ کے بیان سے
34:52مختلف نہیں تھا
34:54اس گھر میں کچھ اثرات تھے لیکن وہاں رہنے والے
34:56ہر افیسر کے لئے وہ قابلیں قبول تھے
34:58شیر دل کچھ مطمئن ہونے لگا
35:00اس نے ایک کے بعد
35:01ایک کتنی افیسر کو کال کی تھی
35:04ان سے
35:05سوال جواب کرتے ہوئے
35:07اس سے ایک لمحے کے لئے بھی خیال نہیں آیا
35:09کہ وہ ان سے یہ پوچھتا کہ اس گھر میں رہائش کا
35:11ان کی عدواجی زندگی پر کیا اثر پڑا تھا
35:14نہ ہی اس نے یہ چک کرنے کی کوشش کی
35:16کہ ان میں تھی کتنے ابھی تک
35:17اپنی شادی پہلی شادی نہیں بھا رہے ہیں
35:20اور کتنے لائی پارٹنر تبدیل کر چکے ہیں
35:21اگر وہ یہ تحقیق کر لیتا تو اسے پتا چل جاتا
35:24کہ اس گھر میں رہنے والے تمام افیسر
35:27شیر دل تم ویکن پر بھی کام کرتے گزارو گے
35:31شہر وانو نے سٹڈی میں داخل ہو کر
35:32شیر دل کا انہماک توڑا
35:34شیر دل نے ہاتھ میں پکڑا
35:35اور رسیور واپس رکھ دیا
35:36وہ اپریٹر کو ایک اور افیسر سے رابطے کا
35:39کہتے کہتے رک گیا تھا
35:40بس ختم ہو گیا ہے کام
35:41اس نے مسکراتے ہوئے شہر وانو سے کہا
35:44اس گھر کے
35:45یہ اسی کے گھر کا ایک
35:48انسیٹ رول تھا
35:49کہ ویکنڈ پر کام نہیں ہوتا تھا
35:51لیکن وہ کئی بار یہ رول توڑتا آ رہا تھا
35:54اور اس میں اس کی اپنی نیت سے زیادہ
35:56ملکی حالات کا قصور تھا
35:58شہر وانو اس کے پروفیشنل مجبوری
36:00اور مصروفیات سے واقف ہونے کے باوجود
36:02اس سے ایک چیز کو بہت
36:03نہ پسند کرتی تھی
36:05وہ خود کو ہتر مقدور اس لائف اسٹائل سے بچاتی آ رہی تھی
36:09جو ایک انتظامی اوفیسر کی بیوی کا ہو جاتا تھا
36:12ڈپٹی کمیشنل کے دور پر یہ شہر دل کی پہلی پوسٹنگ تھی
36:16اور شہر وانو اب بھی بڑی محدود
36:17سوشل سرگرمیاں میں حصہ دیتی
36:19اسی ایک عام ڈپٹی کمیشنل کی بیوی کی طرح
36:21سکولز اور کالوجز کے فنکشنز میں
36:24مہمانے خصوصی بن کر جانے
36:25فیتے کاٹنے اور بے مقصد تقریریں کرنے میں
36:28دلشک بھی نہیں تھی
36:30نہ وہ مزاجن ایسی تھی
36:32نہ شہر دل اس کا احساس سوشل پروفائل
36:34چاہتا تھا
36:35کہ جس میں گھر میں آنے پر اسے وہ نظر نہ آتی
36:38اس کے باوجود پہلے کی نسبت
36:40اب شہر بانو کو بہت سے ایسے فنکشن میں جانا پڑتا
36:42جہاں پر انتظامی اوفیسر کی بیوی کی موجودگی
36:44نہ بزیر تھی
36:45کیا پروگرام ہے اچھے لئے
36:47شہر دل نے اسے پوچھا
36:49پچھلے تین ویکنڈ سے وہ اتنا مصروف تھا
36:51کہ کسی ذاتی سیرو تفریق کے پروگرام پر
36:53عملی جامع پہنانے کا موقع ہی نہیں ملا تھا
36:56ایک آتھ بار ویکنڈ پر انہوں نے باہر کھانا کھایا تھا
36:59اور شہر بانو کے لئے شہر دل کے ساتھ
37:02اتنا وقت گزارنا بھی غنیمت تھا
37:04آج تین ہفتوں کے بعد شہر بانو نے
37:06کہیں جا کر دن گزارنے کے پروگرام بنایا تھا
37:08اور شہر دل پھر صبح سے
37:17ہاتھ ہوا میں بلند کرتے ہوئے
37:18کرسی کھسکاتے ہوئے کہا
37:20وہ کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا تھا
37:22مثال کہاں ہے
37:23باہر سوئنگ پر ہے
37:25شہر دل کو رات کو
37:26شہر دل کو رات کو کیا ہوا تھا
37:29شہر بانو نے اسے بتاتے ہوئے سوال کیا
37:31کیا ہوا تھا
37:32شہر دل نے جوابن پوچھا
37:33تو موپر اس کمرے میں کیوں کہتے ہیں
37:36شہر بانو نے گفتگو کا سلسلہ پچھلی رات
37:38اسے جوڑنے کی کوشش کی
37:39میں سوچ رہا ہوں
37:40اس کمرے کو بند نہ رکھا جائے
37:42میں اپنی سٹڈی وہاں شفٹ کرنے کا سوچ رہا ہوں
37:44شہر دل نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے
37:47اس سے کہا
37:48تمہارا دماغ ٹھیک ہے
37:49تم اب روز رات کو اس کمرے میں جا کر بیٹھا کرو گے
37:51شہر بانو نے بے اختیار تل میں لاکر کہا
37:54کیا حرچ ہے
37:55وہ مسکر آیا
37:55تم نے وعدہ کیا تھا
37:57کہ وہ کمرہ بند ہی رہے گا
37:58شہر بانو نے جیسے سے یاد دلایا
38:00میں نے کل کہیں پڑھا ہے
38:02کہ جن جگہوں پر اثرات ہوں
38:03انہیں ویران اور غیر آباد نہیں رکھنا چاہئے
38:06شہر دل نے بہت سنجیدگی سے کہا
38:08اوہ ریلی
38:09شہر بانو نے تنتیہ انداز میں کھا
38:12اور اس کمرے کا بات کرنے کے لیے
38:14تم اپنی خدمات پیش کر رہے ہو
38:16واقع کیا بات ہے
38:17اس سے وہاں اثرات ختم ہو جائیں گے
38:19شہر دل تم واقع احمق ہو جائے
38:21گھر میں آ کر ہو گئے ہو
38:22شہر دل کا دل پہ ساکتا چاہا تھا
38:25کہ وہ کہنے
38:26کو کہ اس گھر میں آ کر ہو گیا ہوں
38:29پچھلی رات
38:30اگلی کئی راتوں سے
38:31اسے یاد رہنے والی تھی
38:33خاص طور پر اس کمرے میں دیکھا جانے والا
38:35مثال کا وہ ٹیڈی
38:37جسے بری طرح ادھیر دیا گیا تھا
38:39کیا کر رہی ہو چڑیا
38:41ہر دن سوتے ہوئے اٹھ کر باہر آ گیا تھا
38:44چڑیا نے اسے باہر آتے نہیں دیکھا
38:45وہ یک دم اس کی ہواس سنکر ڈر گئی تھی
38:48کچھ نہیں نانا میں ٹینس کی پریکٹس کر رہی ہوں
38:50چڑیا نے سنجیدگی سکا
38:51وہ تختی کے ساتھ گیند
38:54کوارٹر کی بیرونی دیوار پر مار مار کر
38:56ٹینس کھیلنے کی کوشش کر رہی
38:57تو خیر دن اسی ہواس سے جاگا تھا
38:59تم نے وقت دیکھا ہے
39:01خیر دن نے خفکی کے ساتھ اس سے کہا
39:03آدھی رات سے زیادہ گزر چکی تھی
39:04پسہ نہیں چڑیا کب اٹھی تھی
39:06اور کب گیند اور تختی لے کر باہر آ گئی تھی
39:08کوارٹر کے سامنے دس فٹ لمبا ایک سہن تھا
39:11جس کے ایک حصے میں ایک کچن باثروم
39:13اور دوسرے میں ایک چار پہی پڑی رہتی تھی
39:15اس سہن کے گرد
39:17چھ فٹ انچی چار دیواری تھی
39:19اور اب اسی چار دیواری کے اندر سہن میں
39:21جلتے بلب کی روشنی میں
39:22جڑیا پریکٹس میں مصروف تھی
39:24وہ اگلے دن ایبک کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتی تھی
39:27کہ اسے کھیل کی ارہ بی بھی نہیں آئی
39:29وہ نہیں چاہتی تھی
39:30کہ اسے بچوں کی جس دنیا میں
39:32وائلڈ کارڈ انٹری ملی تھی
39:35وہ موقع سے چھن جائے
39:37بچکانہ سوچتی اور بچکانہ ہی کوشت تھی
39:39لیکن صرف لگن جو بچکانہ نہیں تھی
39:41نانا حباب سو جائیں
39:42میں ابھی آ کر سو جاؤں گی
39:44اس نے گیند کو ایک اور ہٹ کرتے ہوئے
39:46ہیر دن سے کہا
39:47تختی کا ساتھ اینس بال کو ہٹ کرنا
39:49بہت مشکل تھا
39:50نہ وہ ہموار طریقے سے تختی پر لگ کر اچھے رہی تھی
39:53انہیں دیوار سے لگنے کے بعد
39:55ٹھیک سے تختی پر آ رہی تھی
39:56لیکن چڑیا کوشت کرنے پر تیار نہیں تھی
39:59یہ ابق کے ساتھ پہلی پریکٹس
40:01تشن کی تیاری تھی
40:02بیٹا صبح کھیلنا
40:04ابھی بہت رات ہو گئی ہے
40:05خیر دن اس کو سمجھانے کی کوشش کی
40:07نہیں نانا مجھے بھی کھیلنا ہے
40:09وہ نہیں مانی تھی
40:10خیر دن چند لمحوں میں ہی
40:11ہار مان کر اندر واپس ہونے چلا گیا تھا
40:14دت پندرہ منٹ کے بعد
40:16بلاخر تختی ٹوٹ گئی تھی
40:18ماجوسی اور صدمے سے چڑیا کا برا حال ہو گیا
40:20کھیلنے کے لئے اب وہ اور کچھ باقی نہیں رہا تھا
40:22وہ بہت رنجیدہ
40:24کوارٹر میں سونے کی اور نیند کی واضی میں بھی
40:26وہ اس طرح ٹہنے سے ہی کھیلتی رہی تھی
40:28ریکٹ پکڑ نہ آتا ہے نا
40:30اگلی سپہر ایبک نے کوڑ پر
40:32اسے ریکٹ پکڑاتے ہوئے پوچھا
40:34ہاں چڑیا نے بڑے اعتماد سے ریکٹ پکڑ لیا
40:36تو پھر ہاتھ کیوں کام رہے ہیں تمہارے
40:39ایبک نے اس کے ہاتھوں کی گرب کو بگور دیکھتے ہوئے کہا
40:42چڑیا اسے کیا بتاتی
40:44کہ وہ ایک ایک سائٹمنٹ کی وجہ سے تھا
40:46وہ ریکٹ جسے ہاتھ لگانے کے لئے
40:48وہ کئی مہینوں سے طرح تھ رہی تھی
40:49اب اس کی ہاتھ میں تھا
40:51اور وہ اس سے کھیل رہی تھی
40:52اس طرح نہیں یہاں سے بکرتے ہیں
40:54ایبک نے ریکٹ پر اس کے ہاتھوں کی پوزیشن کو ٹھیک کیا
40:57چڑیا نے مکان کی انداز
40:59اس کی ہدایت کے مطابق اپنے ہاتھ کی پوزیشن تبدیل کی
41:02اس دن وہ دونوں ایک گھنٹہ کھیلتے رہے
41:04اور ایک گھنٹے کے اقتدام پر چڑیا کی
41:06سروجہ شروع میں نیٹ کے دوسری طرف جا ہی نہیں رہی تھی
41:09وہ اب دوسرے کوٹ تک پہنچنے لگی تھی
41:12ایبک کسی ایکپرٹ کوچ کی طرح
41:14اسے ٹینس سکھا اور کھلا رہا تھا
41:15یہ اندازہ تو
41:17اس سے بھی بخوبی ہو گیا تھا
41:19کہ چڑیا کی ٹینس پریکٹس اور نالج
41:21واقعی صرف دیکھنے تک ہی محدود تھی
41:23لیکن وہ بہت اسمار تھی
41:24اس کا اندازہ ایبک کو ہو گیا تھا
41:26یورک کوئی کلرنر
41:27اس نے اپنی ستائشی کھیل کے دوران ہی
41:30چڑیا تک پہنچا دی تھی
41:32ایبک کی ستائش چڑیا کے لیے بہت معنی رکھتی تھی
41:35کھیل میں اس کی لگن اور انہماک
41:37کچھ اور بڑھ گیا تھا
41:38ایک گھنٹے میں انہوں نے صرف ٹینس ہی نہیں کھیلی تھی
41:40انہوں نے بہت ساری باتیں بھی کی تھی
41:42ایبک اس کی کمپنی انجوئے کر رہا تھا
41:45وہ باتونی تھا اور وہ اچھی
41:47سامیہ تھی
41:48عام بچوں کے برد وہ زیادہ باتیں نہیں کرتی تھی
41:50لیکن دلچرک باتیں کرتی تھی
41:52اور ایبک کو وہ لڑکی نہیں لگی تھی
41:54وہ لاوڈ سیلی
41:57ٹاکٹیو اور گھوفی گرز
41:58جن سے ان سے کی جان جاتی تھی
42:01جو ہر بات میں رونے بیٹھ جاتی تھی
42:03یا پھر جھگڑا کرنے
42:04چڑیا کے ساتھ وہ اس طرح اور اسی قسم کی باتیں کر رہا تھا
42:07جو وہ اپنے دوستوں کے ساتھ کرتا تھا
42:09all the boy talk
42:10اور چڑیاں کی باتوں کو سمجھ رہی تھی
42:12جواب دے رہی تھی تفسرہ کر رہی تھی
42:14اور اختلاف کر رہی تھی
42:16اور یہ صرف اقاعت تھا
42:17ان کی دوستی کا ان کی پارٹنشپ کا
42:19ان کی کمپیٹیویلٹی کا
42:21اور انڈرسٹیننگ کا
42:23وہ دونوں عجیب طریقے سے دوسرے کے قریب ہوئے تھے
42:25ایک گھنٹہ آنے والے دنوں میں
42:28کئی گھنٹوں میں بزلتا چلا گیا
42:29اور ٹینس کور کے علاوہ بھی
42:30اب وہ دونوں بیٹھ کر باتیں کرتے رہتے تھے
42:33ایبک نے اسے بتایا تھا
42:34کہ وہ ٹینس پلیئر بننا چاہتا ہے
42:36لیکن ساتھ سیول سرویس بھی جوئن کرے گا
42:38کیونکہ اس کے فادر سیول سرونٹ تھے
42:40اور اسے یہی بنانا چاہتے تھے
42:42اور وہ باہر جا کر پلین
42:44اڑانا بھی سیکھے گا
42:45اور کسی باہر کی یونیورسٹی سے پڑھے گا
42:48مور پرو بیبلی ہارورڈ
42:50کیونکہ اس کے فادر بھی وہاں سے پڑھے تھے
42:52اس نے اس کے علاوہ بھی
42:53اپنے تمام ازائم اور رادہ چڑیا کو بتائے تھے
42:56جن میں ایک پولو پلئر بننا
42:58پیانو سیکھنا اور نوبل پرائز جیتنا بھی شامل تھا
43:01لیکن وہ کس فیلم میں نوبل پرائز جیتنا چاہتا تھا
43:04یہ ابھی اس نے تیہ نہیں کیا تھا
43:06چڑیا نے اسے بتایا تھا
43:07کہ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے
43:08اور ڈاکٹر ہی بنے گی
43:10اور ایبک نے اسے خموش ہوتے دیکھ کر پوچھا
43:12اور کچھ بھی نہیں
43:13بس ڈاکٹر
43:14چڑیا نے مسکراتے ہوئے کام
43:16بس صرف ڈاکٹر بنوں گی
43:18بنوں گی تم
43:18اور کچھ نہیں
43:19کوئی اور کام نہیں کرو گی
43:21کوئی اور پلین نہیں تمہارا
43:23ایبک کو جیسے یقین نہیں آیا تھا
43:25کہ چڑیا ایسی بات کر سکتی تھی
43:27وہ پہلی لڑکیوں والی بات تھی
43:28جو اس نے چڑیا کے موں سے سنی تھی
43:31ٹیپیکل پروفیشن
43:32اور بس ایک ہی کام
43:34اتنی رمبی زندگی میں
43:35تم بس ایک کام کرو گی
43:36ایبک نے جیسے اس کا مزاق
43:39اڑا کر اسے موٹی ویٹ کرنے کی کوشش کی
43:41میرے نانا کہتے ہیں
43:42کہ ایک وقت ایک ہی کام کرنا چاہیے
43:46اس طرح کام آسان بھی ہو جاتا
43:48اور اچھا بھی ہوتا ہے
43:49چڑیا نے خیر دین کا گر ایبک کی
43:51کو کسی ترکتے کی طرح
43:55سادہ لہجے میں بتایا
43:58ای بات نے سر جھٹک کرکا
44:00زندگی تو بڑی چھوٹی ہوتی ہے
44:01ایک وقت میں ایک کام کریں گے
44:03تو پھر زندگی میں تھوڑے سے کام ہوں گے
44:05بس چڑیا نے بغور اس کی بات سنی
44:07تم بس ڈاکٹر بننے کے لئے
44:09اور کچھ نہیں کرنا چاہتی
44:10ایبک نے اسے پوچھا
44:11کرنا چاہتے ہوں
44:12چڑیا نے کہا
44:13کیا کرنا چاہتی ہو
44:14اور ایبک نے دلچسپ ملے
44:16میں دنیا کی سیار کرنا چاہتے ہوں
44:18می ٹو
44:19ایبک بے اختیار چلایا
44:21یہ تمہیں بتانا بھول ہی گیا تھا
44:22چڑیا مسکرائی
44:23اور میں امی اور نانا کے لئے
44:25گھر بنانا چاہتے ہوں
44:26بڑا اور خوبصورت
44:27اور
44:28اور میں ایک سنگر بھی بننا چاہتے ہوں
44:31تمہیں گانا آتا ہے
44:32ایبک نے یک دم اس سے پوچھا
44:34چڑیا بلچ ہوئی
44:35لیکن اس نے اس بات میں سرحلیا
44:36ریلی
44:37ایبک کو یادی یقین نہیں آیا تھا
44:39ییس
44:40اچھا
44:40کل میں اپنا کی بورڈ لاؤں گا
44:43تم گانا
44:43وہ خوش ہوا
44:44اوکے
44:45چڑیا نے بھی ایکسائٹڈ انداز میں سرحلیا
44:47اور کیا کرنا چاہتی ہو تم
44:49ایبک نے مزید پوچھا
44:51اور میں ایک کھیل بنانا چاہتی ہوں
44:53چیس کی طرح کا
44:54جس میں کوئن ہی کینگ ہو
44:56ایبک اس بار پھر چنکا
44:57یہ کیا بات ہوئی
44:58ہاں تو جب کینگ اتنا ویک ہے
45:00تو پھر وہ
45:01کینگ کیسے ہو سکتا ہے
45:02کوئن پاورفل ہے
45:03تو کوئن
45:04تو کوئن کو کینگ بنا دینا چاہیے
45:07چڑیا نے اپنا آرگومنٹ پیش کیا
45:09یہ کیا بات ہوئی
45:10ایبک بلکل متفق نہیں ہوا
45:12کینگ کینگ ہوتا ہے
45:14اور کوئن کوئن
45:15لیکن کوئن بھی تو کینگ بن سکتی ہے نا
45:17ایٹلیس نوٹ انچیس
45:19ایبک نے حتمی انداز میں کام
45:21تمہیں چیس کھیلنا آتا ہے
45:23ایبک نے ساتھ ہی اس سے اگلا سوال کیا
45:25چڑیا نے سر ہلا دیا
45:27جیتے تم کو
45:30جیسے تم کو ٹینس کھیلنا آتا تھا
45:32ایبک نے اس کا مزاہ کھڑایا
45:34چڑیا سرخ ہوگی نہیں چیس واقی کھیلنا آتا ہے
45:37اس نے بے ساکتا کہا
45:41پیس کون سا ہے تمہارا
45:43ایبک نے پوچھا
45:44کوئن کے بعد ہورس
45:45چڑیا نے بے ساکتا کہا
45:47یہ ہورس کون سا پیس ہے
45:48ایبک ایک لمحے کے لئے حق کا بکہ رہ گیا
45:51تم نائٹ کو ہورس کہتی ہو
45:53اس نے چڑیا کو تقریباً ڈانڈ دیا
45:55میں ہورس ہی کہتی ہوں ہمیشہ
45:57چڑیا نے کچھ شرمندگی تھی کہا
46:00ایسا نہیں تھا
46:01کہ وہ اس
46:02چیس پیس کا نام نہیں جانتی تھی
46:04لیکن وہ اس پیس کو ہورس کہنے کی آتی تھی
46:08لیکن نہیں کہنا چاہیے نا
46:09ہورس اور نائٹ میں تو بڑا ڈیفرنس ہوتا ہے
46:11کیا ڈیفرنس ہوتا ہے
46:13چڑیا نے دلچسپی سے پوچھا
46:14ہورس تو ایک اینیمل ہوتا ہے
46:16لیکن نائٹ تو ایک سولجر ہوتا ہے
46:19پاورفول، سٹرانگ، بریو، ڈیرنگ
46:21وہ سنگل
46:24ہنڈلی وارڈ، لڑ اور ونڈ کر سکتا ہے
46:26کنگ کے لئے
46:27اور گھوڑا تو بت گھوڑا ہے
46:29ایبک نے اپنی لحاظ سے دونوں مہروں کی تعریف کی
46:32میرا فیوریر چیس پیس
46:34ویسے صرف کوئین ہے
46:35ایبک نے بے ساکتا کام
46:37نائٹ بھی کوئین کی طرح پاورفول ہے
46:39چڑیا نے اس کی تشریح سننے کے بعد تفسرہ کیا
46:42کوئین کی طرح کوئی نہیں
46:44کوئین کوئین ہوتی ہے
46:45ایبک نے اپنا فیصلہ دیا
46:46اور اس کو نائٹ کی طرح کا کوئی کام نہیں کرنا پڑتا
46:49نہ وارڈ لڑنی پڑتی ہے
46:51نہ سوڑ سے فائٹ کرنی پڑتی ہے
46:53نہ ہارس رائڈنگ کرنی پڑتی ہے
46:55but she is still powerful
46:57ایبک اسے سنجیدگی سے بتا رہا تھا
47:00اور ایسا کیوں ہے
47:01چڑیا نے بے ساکتا پوچھا
47:02ایبک ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑا
47:05because she is the king wife
47:07and king love her
47:08ایبک نے روانی میں کہا
47:10چڑیا حیرانی سے ایبک کا مو دیکھ کر رہ گئی تھی
47:12love کا لفظ اس کی vocabulary میں موجود تھا
47:15لیکن ایک دوسرے مفہوم کے ساتھ
47:17جو feelings وہ اپنے نانا ماں بونوں اور کتابوں اور اسکول
47:21اور کھلونا کے لئے رکھتی تھے
47:23وہ اس کے نزدیک love تھا
47:25اس نے fairy tales میں بھی
47:26شہزادوں شہزادیوں بادشاہوں
47:28اور ملکوں کے درمیان محبت کا لفظ پڑھا اور سنا تھا
47:32مگر وہاں بھی اس لفظ نے
47:33اس سے کوئی مفہوم کوئی چہرہ نہیں دکھایا تھا
47:37ایبک کی انٹر پیریٹیشنز نے
47:39پہلی بار اسے اس لفظ کی طرف متوجہ کیا تھا
47:44وہ انpowerful اس لئے ہوتی ہے
47:47کیونکہ وہ کنگ کی وائف ہوتی ہے
47:49اور کنگ اس سے محبت کرتا ہے
47:51اس نے چند لمحوں کے لئے ایبک کی بیان کو
47:53اپنی لفظوں میں دراتے ہوئے
47:55اس پر غور کیا
47:56لیکن سوال اب بھی یہ تھا
47:58کہ کنگ خود کیوں اتنا ویک تھا
48:00اور اس نے یہ بات ایبک سے پوچھ بھی لی تھی
48:02ایبک خود بھی چند لمحوں کے لئے سوچ میں پڑھ گیا
48:05چیز کھیلتے ہوئے آج تک
48:06اس نے ان مہروں اور ان کے پاورز کے بارے میں
48:09اتنا سوڑی سوچا تھا
48:10جتنا چڑھیا سوچتی رہتی تھی
48:12مجھے لگتا ہے کہ ان نے اپنی ساری پاورز
48:14کوئن کو دے دی
48:15اور اس لئے وہ پھر خود بھی کھو گیا
48:17ایبک نے تم لمحوں کے ہور و خوز کے بعد
48:20نتیجہ نکالا
48:21ہاں پر کیوں نہیں پاورز
48:23چڑھیا نے اتناس کیا
48:24مجھے لگتا ہے وہ کوئن سے بہت پیار کرتا ہوگا
48:27اس لئے دی ہوں گی
48:28جیسے میرے پاپا میری ممی سے بہت پیار کرتے ہیں
48:31تو سارا گھر ممی چلاتی ہیں
48:32سارے پیسے بھی ان کے پاس ہوتے ہیں
48:34ساری چیزیں بھی بولاتی ہیں
48:36سارے سرونٹ سے بھی وہی بات کہتی ہیں
48:38ایبک اپنی طرح سے بڑی دور کی کوڑی لایا تھا
48:41چڑھیا اس لوجک کو نہیں سمجھ سکی تھی
48:44اس نے باپ نہیں دیکھا تھا
48:45نہ ماں کو ایک کوئن کی طرح پاورفل دیکھا تھا
48:48اس نے صرف خیر دن کو دیکھا تھا
48:50ہر دی میں داری نباتا ہوا
48:52اس نے ایبک سے مزید سوال جواب نہیں کیے
48:54اس کا حضم برقرار تھا
48:56اگر کوئن سب سے پاورفل
48:57تو پھر بورڈ کوئن کا
48:59لیکن ایسا کون سا کھیل بن سکتا تھا
49:01جس میں یہ ہو پاتا
49:03اس نے تحن نہیں کیا تھا
49:04کسی دن کھیلیں گے چیز بھی
49:06میرے پاس بورڈ نہیں ہے
49:07لیکن انکل کی پاس ہے
49:09ایک میکنیٹک چیز
49:13انکل سے مانگوں گا
49:14ایبک نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا
49:16میرے پاس ہے ایک چیز بورڈ
49:17چڑھیا نے جلدی سے بہت ایکسائٹیز انداز میں کہا
49:20کم از کم اس کے پاس کچھ تو تھا
49:22جب وہ ایبک کو آفر کر سکتی تھی
49:24اچھا پھر پھر کل لے آنا
49:26ایبک نے سر ہلاتے ہوئے کہا
49:28کم از کم چیز وہ کھیل نہیں تھا
49:29جس میں ایبک کے ساتھ کھیلنے سے
49:31پہلے چڑھیا کو پریکٹس کرنے کی ضرورت پیش آتی
49:33اگر ایبک پانچ سال کی عمر سے ٹین اتھ کھیل رہا تھا
49:36تو چڑھیا اسی عمر سے خیر دن کے ساتھ
49:39جس بورڈ پر مہروں کو اکھارتی پچھارتی آ رہی تھی
49:41خیر دن نے کئی سالوں سے اکیلے کھیلتے کھیلتے
49:44تین سالوں سے اکیلہ کھیلنا چھوڑ دیا تھا
49:47اب وہ جب بھی بورڈ لے کر بیٹھتا
49:50چڑھیا مکان کی انداز میں آ کر بیٹھ جاتی
49:52بورڈ پر مہرے سجانا اس کی پسندیدہ سرگربیوں میں سے ایک تھا
49:57اور مہرے سجاتے سجاتے وہ ان مہروں کی اکھار پچھار میں شریک ہو گئے تھی
50:01اس نے خیر دن کو پہلی بازی کے ایک ساتھ کھیلتے رہنے کے بعد ہرائی تھی
50:06خیر دن سے اتفاق سمجھا تھا
50:08خیر دن اسے اتفاق سمجھا تھا
50:10اور ہار کا سبب اس نے اپنی بھی دھیانی کو قرار دیا تھا
50:13لیکن پھر ہر تیسرے چوتھے دن ایسے ہونے لگا تھا
50:16کہ چڑھیا چیک میٹ کی پوزیشن میں آ جاتے
50:19اور خیر دن کو اپنا بادشاہ بچانے کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے پڑتے
50:22اور اب تین سال بعد خیر دن اس کے ساتھ کھیلتے ہوئے
50:25اس طرح محتاج اور متعد رہتا تھا
50:28جس طرح اپنے کسی ہم عمر کے ساتھ کھیلتے ہوئے
50:31جیت ساتھ تناسب اب بھی خیر دن کے حق میں تھا
50:33لیکن ایک آٹھ سال کی بچی سے کبھی کبار ہارنا پڑا کٹن کام تھا
50:38اور خاص طور پر اس بچی تھی جس کو آپ نے خود کھیل سکھایا ہو
50:41چڑھیا سے ہار کے سارے لمحات خیر دن کے لیے فخر کے لمحات تھے
50:45اپنی اقلی نسل سے ہارنا ہر ایک کو اچھا لگتا ہے
50:49چڑھیا اگلے دن اپنا ڈبہ لے کر ایبک کے پاس پہنچ گئے تھی
50:52جس میں ایک سختہ پلاسٹک کے مہروں والا چیس بورڈ تھا
50:55you know چڑھیا چیس مجھ کو کیوں زیادہ اچھی نہیں لگتی
51:00ایبک نے اسے بورڈ پر مہرے سجھاتے دیکھ کر بڑی سنجیدگی تکا
51:04کیوں چڑھیا تھا
51:05اسے یہ اندازہ تو تھا ہی نہیں کہ ایبک کو چیس زیادہ پسند نہیں تھی
51:09اس میں وقت بڑا لگتا ہے بیٹھے روھو سوچتے روھو
51:13مجھے جلدی ہونے والے کام پسند ہے
51:15ایبک نکاح
51:16نانا کہتے ہیں جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے
51:19ایبک لا جواب اگر گڑ بڑایا
51:21نہیں اتنی جلدی کی بات نہیں کر رہا میں
51:24اس کو محورے کی سمجھ آئی ہو نہ آئی ہو
51:27شیطان سے وہ اچھی طرح مطارف تھا
51:29پہلی بازی کا فیصلہ سات منٹ میں ہو گیا
51:31دوسری کا آدھے گھنٹے میں
51:33تیسری کا 20 منٹ میں
51:35اور چوتھی اسٹال میٹ
51:39تھی
51:39چوتھی اسٹال میٹ تھی
51:4145 منٹ جاری رہی اور پانچویں کا فیصلہ
51:43ایک بار پھر 20 منٹ میں ہوا تھا
51:45اور یہ تمام بازیاں چڑیاں نہیں جیتی تھیں
51:48ایبک اس دن ٹینس کھلنا بھول گیا تھا
51:50وہ ایک ہفتے سے چڑیا کا
51:52گاڈ فادر بنا بیٹھا تھا
51:53وہ انسٹرکٹ کر رہا تھا
51:55وہ ڈائریکٹ کر رہا تھا
51:57اور اب وہ ایک ایسے کھیل میں آ گیا تھا
51:59جہاں وہ اسی چڑیا کے ہاتھوں منٹوں میں چت ہوا تھا
52:02شکست کا وار کاری پڑھ رہا تھا
52:04پربور پر نہیں ایبک کے ذہن پر
52:06وہ ایک نرم اور ہمدرد
52:08طبیعت والا بات ہو نہیں لیکن مدد کرنے والا بچہ تھا
52:10خاندان کا بڑا اور فیورٹ بچہ تھا
52:13لائم لائٹ میں رہنے والا
52:15اور فیورٹ ملنے کا عادی
52:17اس سے یقین اعتماد کے ساتھ
52:19پرورش پانے والا بچہ
52:20کہ وہ جو بھی کرے گا ہمیشہ اچھا
52:22اور اب ایبریج
52:24تو ہی کرے گا
52:26کوئی کسی چیز میں اس سے بہتر نہیں ہو سکتا
52:29اس کو بیٹ نہیں کر سکتا
52:30وہ کھیل میں ہارنے والے کو
52:32جا کر خود گلے لگا سکتا تھا
52:34اپنی ٹرافی اس کو تھما سکتا تھا
52:36اس کے ساتھ رو بھی سکتا تھا
52:37لیکن وہ جیتنے والے کی گلے میں ہار
52:39نہیں ڈال سکتا تھا
52:41اس کے لئے تاریاں نہیں بجا سکتا تھا
52:43اور اس کے ساتھ کھڑے ہو کر فوٹو نہیں کھچوا سکتا تھا
52:46اس میں سپورٹس مین
52:48پیرر تھے
52:49لیکن وہ ایک بچہ تھا
52:51ایک ایسا بچہ جو ہر چیز میں جیتتا تھا
52:53کب ہم کل کھیلیں گے
52:55مسلسل پانچمی بازی میں سردھر لگا
52:57دینے کے باوجود بھی ہارنے پر
52:59اس نے بلاخر کہا
53:00اوکے
53:01چڑیا فوراں مانگی
53:02اسے بھی اندازہ ہو گیا تھا
53:03کہ کھیلتے کھیلتے
53:04اس دن انہیں بہت دیر ہو گئی تھی
53:06ابھی اسے ہوموک کرنا تھا
53:08اور ایبک کو بھی
53:09وہ پہلا دن تھا
53:10جب ایبک کے سر پر چڑیا سوار رہی تھی
53:12وہ باقی کا سارا دن بھی
53:13چڑیا اور چیز کے علاوہ
53:14کسی اور چیز کے بارے میں
53:15سوچ نہیں سکا
53:16شام کو اس نے
53:17اس دن ٹینس کے برے
53:18اپنے انکل کے ساتھ
53:19چیز کی پرکٹس کی تھی
53:20یہ چیز میں بیٹھے بیٹھے
53:22تمہیں کیسے دلچسپی ہو گئی
53:23اس کے انکل کو حیرت
53:25اور تجسس ساتھ ساتھ ہوا تھا
53:26بس ایسے ہی دل چاہ رہا تھا
53:28کھیلنے کو
53:28ایبک نے اگلی چار سوچتے ہوئے
53:30بورڈ پر نظر جمع
53:31ایک گول مول جواب دیا
53:32وہ اپنے انکل کو
53:33جو اس کی آئیڈیال تھے
53:34یہ کیسے بتا دیتا
53:35جو وہ ایک لڑکی سے ہارا تھا
53:37چیز میں
53:37ایک بار نہیں
53:38کئی بار
53:39ایک بچے کے طور پر بھی
53:40اس کی ایگو بھری طرح ہارٹ ہوئی تھی
53:42اگلے دن چڑیا سے مقابلے کے لیے
53:45وہ اگر چیز کی پرکٹس کرتا رہا تھا
53:47تو چڑیا اپنی نئی تختی سے
53:49ٹینس کی پرکٹس کرتی رہی تھی
53:50چیز ہی کھیلیں گے آج بھی
53:52ایبک نے اسے کام
53:53ٹینس کیوں نہیں
53:54چڑیا کچھ جذبت ہوئی
53:56دو دن ٹینس نہ کھیلنے کا مطلب تھا
53:58کہ اس کے بہتر ہوتے
53:59شورٹ پھر
53:59پہلے جیسے ہونے لگتے
54:01ویک اینڈ ویورڈ
54:04بس چیز کھیلنے کو دل چاہ رہا ہے
54:07ایبک نے اسے یہ نہیں کہا تھا
54:08کہ اسے کیس ہوئی
54:09اب تک چیز میں ہی اٹکنے والی تھی
54:12جب تک وہ اس کھیل میں
54:13اسے کم اکم ایک بار ہرا نہیں لیتا
54:16چڑیا کو زیادہ اطراز نہیں ہوا تھا
54:18پاپ کون کھاتے ہوئے
54:19وہ اس دن بھی
54:21چڑیا سے سات بازیاں ہارا تھا
54:22اور ساتھ ہی کھیلی گئی تھی
54:24چڑیا نے ایبک کی الجن
54:25اور ٹینشن نوٹریس نہیں کی تھی
54:27نہ ہی اسے یہ اندازہ ہو پایا تھا
54:29کہ مسلسل شکر ایبک کو
54:30کسط تک حفا کر رہی تھی
54:31دوسرے دن بھی رات گئے تک
54:33اپنے انگل کو مجبور کر کے
54:34ان کے ساتھ چس کھیلتا رہا تھا
54:37لیکن تیسرے دن بھی
54:38ایک کے بعد
54:39ایک بازی ہارنے کے بعد
54:40اس نے بلا کر
54:40ذہنی طور پر یہ تصمیم کر دیا تھا
54:43کہ چڑیا چس میں اس سے بہتر تھی
54:44اور اس اطراف نے چڑیا سے
54:46اس کی مروبیت کا آغاز کیا تھا
54:48چڑیا تم بہت اچھا کھیلتی ہو
54:50ایبک نے آخری بازی ہارنے کے بعد
54:52ایک گہری سانس لیتے ہوئے
54:53چڑیا سے کہا
54:54تین دنوں میں یہ پہلی بار تھا
54:56کہ چڑیا کو ایبک سے داد ملی ہو
54:58وہ بہت خوش ہوئی تھی
54:59اگر تمہیں کھیلتی رہو گی
55:02تو اور بھی اچھا کھیل ہوگی
55:04ایبک نے تین دن کے بعد
55:05بلاخر ٹینر تریکل اٹھاتے ہوئے کہا
55:08بٹا ہی پرامیس
55:09میں نیکس چیئر جب سمر میں آؤں گا
55:11تو تم سے زیادہ اچھا کھیلوں گا
55:13ایبک نے اعلان کیا
55:14چیس اس کی ورکشیٹ کا حصہ بن گئے تھے
55:17تم اگلے سال پھر آوگے
55:18چڑیا نے بہت خوش ہو کر پوچھا
55:20ہاں ہم ہر سال سمر میں انکل کے پاس ضرور آتے ہیں
55:23لیکن اتنا لمبا سٹیج شاید نہ کریں
55:25اس بار تو پاپا کورس کے لئے امریکہ میں ہیں
55:28اس لئے ہم ساری ویکیشن ادھر ہی گزار رہے ہیں
55:31ایبک نے تفصیل سے بتایا
55:33ویسے تم اگر میرے انکل کے ساتھ کھیلو
55:35تو مجھے لگتا ہے
55:36you will beat him too
55:37ایبک نے بات کرتے کرتے پھر موضوع بتلا
55:39چڑیا مسکرا کر چیس بورڈ اور مہرے سمیٹنے لگی
55:42اس نے دانستن اسے یہ نہیں بتایا تھا
55:45کہ اس کے انکل اپنی بیٹی کے آس پاس بھی
55:47اس کی موجودگی پسند نہیں کرتے
55:49نانا ایبک کہتا ہے
55:51میں بہت اچھا کھیلتی ہوں
55:52اس شام چڑیا نے بہت خوشی
55:55بہت خوشی کے عالم میں خیردین کے ساتھ
55:57ایبک کی ستائیش شیئر کی تھی
56:01وہ تو تم کھیلتی ہو
56:03میں تو ہمیشہ بتاتا ہوں تمہیں
56:04ایبک نے مسکرا کر اس کی بات سنتے ہوئے تھا
56:07اور ایبک کہتا ہے
56:08اگر میں صاحب کے ساتھ کھیلوں
56:09تو ان کو بھی بیٹ کر سکتی ہوں
56:11چڑیا نے فقریہ انداز میں
56:13ایبک کا اگلا جملہ دھو رہا ہے
56:14نہیں نہیں چڑیا
56:15ہمیں صاحب کو ہرانے کا نہیں سوچنا چاہیے
56:18صاحب تو بڑا لائک ہے
56:19بہت بڑا افسر ہے
56:20اس کو ہرانا آسان تھوڑی ہوتا ہے
56:22اور پھر کیوں ہرائیں
56:24ایبک نے فوراں چڑیا کا سمجھانے کی کوشش کی
56:26جی نانا وہ کچھ بوجھ گئے
56:28اس کا خیال تک ہے
56:29ایبک کی اس تاریخ پر بہت کچھ ہوگا
56:32ایبک نے بھی گھر میں چڑیا کا ذکر کیا تھا
56:35اپنے انکل کے ساتھ چیف کھیلتے ہوئے
56:37اور وہی لفظ دورائے تھے
56:38جو اس نے چڑیا سے کہے تھے
56:39انکل وہ اتنا اچھا کھیلتی ہے
56:41کہ آپ کو بھی بیٹ کر سکتی ہے
56:42اس کی انکل اس کی بات پر ہرس پڑے
56:44وہ بچوں کی تاریخ اور دعویوں پر غور کرنے کے عادی نہیں تھے
56:48میں سچ کہہ رہا ہوں انکل
56:49ایبک کی جیسے ان کا حتمہ یا دوسرے الفاظ میں
56:52اس کا مزاق اڑانا اچھا نہیں لگا تھا
56:54وہ تم کو ہرا سکتی ہوگی
56:56لیکن مجھے نہیں ہرا سکتی
56:57سمجھے تم
56:59آناتولی کار پوف نہیں ہے وہ
57:01اور نہ تم
57:03اس کے انکل نے اس تحضائیہ انداز میں کہا
57:05اچھا تو پھر آپ اس کے ساتھ کھیل کر دیکھیں
57:08ایبک نے جیسے چیلنگ کیا
57:09اور مجھے آناتولی پسند نہیں ہے
57:13کیس پروف پسند ہے
57:15اس نے اس پلئیر پر اعتراض کیا
57:17جس کے ساتھ اس کے انکل اسی اچھڑیا کو ملا رہے تھے
57:19چلو دیکھوں گا کسی دن
57:20فیلحال تو تمہارے لئے چیک میٹ ہے
57:22اس کے انکل نے اپنا مہرہ اس کے بادشاہ کے سامنے رکھتے ہوئے کہا
57:26مجھے لگتا ہے وہ اس لئے نہیں جیتی
57:27کہ وہ اچھا کھیلتی ہے
57:29تم اس لئے ہارتے ہو کیونکہ تم اس سے زیادہ برا کھیلتے ہو
57:32وہ مسکراتے ہو کہہ کر ٹیبل چھوڑ گئے
57:35آج کے لئے اتنا ہی نیکس اپیسوڈ پھر لے کراؤں گی
57:38تب تک کے لئے اللہ حافظ

Recommended