Skip to playerSkip to main content
💔 ASK NOVEL — EPISODE 5 | Aik Naam, Hazaar Sawal
Kuch kahaniyan sirf mohabbat ki nahi hotin, balkay un raazon ki hoti hain jo dil aur zindagi dono badal dete hain.
Ask Novel ke Episode 5 mein kahani ke naye pehlu ko explore karein. Ek larki ka zikr, kuch ankahe jazbaat aur aise sawal jo aapko sochne par majboor kar sakte hain. ❤️
✨ Is episode ko aakhir tak dekhein aur jaaniye ke kahani aage kis taraf barhti hai.
💬 AAPKA SAWAL: Aapke khayal mein is kahani mein us larki ka kirdar kitna important ho sakta hai? Apni prediction comments mein zaroor batayein!
🔔 Mazeed episodes aur Urdu storytelling ke liye channel ko subscribe karein.

#AskNovel #AskNovelEpisode5 #UrduNovel #UrduStory #UrduKahani #NovelEpisode #UrduLiterature #StorytellingUrdu #RomanticStory #MysteryStory #PakistaniStories #Episode5

Transcript
00:04As-salamu alaykum, novel شروع کرتے ہیں
00:35As-salamu alaykum, novel شروع کرتے ہیں
01:00اور وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہی جا گی تھی
01:02اور اب انٹر کام کے کام نہ کرنے کی وجہ سے
01:05کچن میں ملازم کو ناشتے کے لیے ہدایت دیکھ رہی تھی
01:08جب کوریڈور سے گزرتے ہوئے اس نے لان میں بجتا ہوا یہ سانگ سنا تھا
01:11شہر دل میوزک کا شکین تھا
01:13اور ویکنڈز پر فرصت میں پرانے انگلیس سانگ سننا اس کی ہوبیز میں سے تھا
01:18اس وقت بھی لان میں وہ ہی ہو سکتا تھا
01:21شہر بانو ایک ایزی چیر پر بیٹھ گئی
01:23سامنے ٹیبل پر پڑے چائے کے کپ کو اس نے ہاتھ بڑھا کر چھوا
01:26وہ ہلکا سا گرم تھا
01:29کپ میں ہمیشہ کی طرح چائے کی کچھ مقدار مجھو تھی
01:32وہ یقیناً ابھی ابھی وہاں سے اٹھ کر گیا تھا
01:34شہر دل کو عادت تھی ہمیشہ چائے کے کپ میں چائے چھوڑنے کی
01:38وہ چائے بہت پیتا تھا لیکن وہ چائے اسی طرح پیتا تھا
01:40برائن ایڈ مگ کی آواز اور گھٹار محول کی خموشی کو
01:45عجیب انداز میں رومانٹک کر رہے تھے
01:47یا یہ ہمارے اپنے دل کی کیفیت ہوتی ہے
01:50جو ایک عام گانے کو ہر بار بجنے پر
01:52یا کسی خاص گانے کو کسی خاص لمحے میں بجنے پر
01:56یادگار بنا دیتی تھی
01:57شہر بانو نے دیر لپ گانے کے بول گنگوناتے ہوئے
02:01چائے کے مگ میں کچھ اور چائے بنائی
02:02شہر دل کو اپنی چائے کپ میں چھوڑنے کی عادت تھی
02:05اور اگر وہ اکیلہ چائے پی رہا ہوتا
02:07اور شہر بانو پاس ہوتی
02:09تو وہ ہمیشہ اس کے چھوڑے ہوئے
02:10وہ تین چار گھنڈ خود پی لیتی تھی
02:12یہ عجیب سی عادت تھی
02:14اور اس کا آغاز اس کے ہنیمون کے دوران ہوا تھا
02:17وہ چائے کی شکی نہیں تھی
02:18اور امریکہ میں اکٹھے تعلیم حاصل کرنے کے دوران
02:20وہ شہر دل کی اس عادت سے واقع تھی
02:23کہ وہ کپ میں بہت سی چائے چھوڑ دیتا تھا
02:25اور جتنی چائے چھوڑتا تھا
02:27وہ چائے کی وہ مقدار تھی
02:28جو شہر بانو عام طور پر ایک وقت میں پی پاتی تھی
02:31اور ہنیمون کے دوران ایسا ہونے لگا تھا
02:34کہ وہ کہیں باہر گھومتے پھرتے
02:36چائے کا ایک کپ لیتے
02:38شہر دل عادتا چائے چھوڑتا
02:39اور شہر بانو وہ چائے پی لیتی
02:41اس عادت پر سب سے پہلا اعتراض شہر دل کو ہی ہوا تھا
02:45تم کیوں پی رہی ہو یار
02:46leave it
02:47مجھے تو عادت ہے
02:48اس نے پہلی بار اسی کی بکیا چائے پینے کی کوشش پر
02:51کپ اس کے ہاتھ سے لے کر خفکی کے علم میں پھینک دیا تھا
02:54کیا ہو گیا
02:55ویسے ہی دوسرے کی جھوٹی چیزیں نہیں کھا رہے ہیں
02:58کیا شہر بانو بھی جواباں خفا ہوئی
03:01اور یہ تو میری بچی ہوئی چائے ہیں
03:03شہر دل نے اسے جتایا
03:04تو
03:04یار میں عورتوں کی ایکوائلٹی پر بلیو کرتا ہوں
03:08یہ شہروں کا جھوٹا کھانے والی بات میں
03:10میں ڈاجت نہیں کر سکتا
03:13you don't have to do this
03:15شہر دل نے
03:16دوٹو کنگاز میں کہا
03:17تم میرے شہر نہیں ہو شہر دل
03:19اور میں اپنے شہر کا جھوٹا نہیں کھا رہی
03:21نہ میں جھوٹا کھانے والی لڑکی ہوں
03:23تم بس وہ مرد ہو جسے میں دنیا میں
03:25سب سے زیادہ پیار کرتی ہوں
03:26trust کرتی ہوں
03:28and i find it very romantic to sip purity
03:33شہر بانو نے جواباں
03:34اس کی کندے پر سر رکھتے ہوئے کہا تھا
03:36تو یار تم پہلے پی لیا کرونا
03:38شہر دل نے آفر کی
03:40تو پھر بھی تم پھر بھی کپ میں چاہ چھوڑ دو گے
03:43شہر بانو نے چیلنج ہیا
03:44تو یہ کہ مجھے پینے دیا کرو
03:47اگر میں پینا چاہتی ہوں
03:48شہر دل کچھ دیر الجی نظروں سے سے دیکھتا رہا
03:51پھر اس نے گہری سانس لے کرکا
03:54شبی لڑکیوں کے دماغ میں
03:56کسی نہ کسی حد تک خرابی ضرور ہوتی ہے
04:00ہاں یہ تو ہے
04:01خرابی نہ ہو تو ہم شادی کیوں کریں
04:03اس نے ترقی بہ ترقی کہا
04:05on the way you held my hand
04:07i knew that it was now or never
04:09those were the best days of my life
04:12back in the summer of 69
04:13چائے کا کپ گھنٹھوں سے لگاتے ہوئے
04:16وہ بیکتیار مسکرائی
04:17وہ اب بھی ہولے سے گنگنا رہی تھی
04:19شہر دل ارد گرد کے ہی نظر نہیں آ رہا تھا
04:22لیکن وہ بجتاوہ ریڈیس بات کا ثبوت تھا
04:25کہ وہ آت پاس ہی کہیں تھا
04:26اور تھوڑی دیر میں واپس وہاں آ جاتا
04:29دور مالی لون میں پودوں کی کانچھانٹ میں
04:32مصروف تھے شہر بانو کی طرح
04:33متوجہ نہ ہونے کے باوجود وہ اس کی یا شاید شہر دل کی
04:37باہر موجودگی کی وجہ سے بڑی مستعدی سے کام کر رہے تھے
04:41انگریزوں کے زمانے کی ہر سرکاری رہاشگاہ کی طرح
04:44وہ ڈی سی ہاؤس بھی وسیع عریض رقبے پر شہر کے ایک پرائم لوکیشن پر تھا
04:49جو یقین ہے انگریزوں کے زمانے میں شہر سے بہت ہٹ کر واقع ہوگا
04:53امارت کے چاروں طرف لون کے لیے جگہ چھڑی گئی تھی
04:56اور امارت کے اقب میں سربنٹ کوارٹر کے لیے کچھ حصہ مقتصد تھا
04:59شہر دل وہ کچھ مہینوں پہلے جب وہ یہاں منتقل ہوئے تھے
05:03تو گھر کے سامنے والے لون اور اقب میں موجود کچن گارڈن کے علاوہ
05:07گھر کے چاروں طرف میں موجود لون گھاگ پھونس اور جھاڑ جھنکار سے بھرا ہوا تھا
05:12سالوں پرانے دراغ تر پودے تراش خراج سے محروم چلے آ رہے تھے
05:16بیرونی دیواروں پر چڑی بیلوں کے نیچے موجود دیواروں نے
05:19شاید سردیاں سے سورج کی روشنی نہیں دیکھی تھی
05:23اور نمی دیواروں کا جو محال اور نمی سے دیواروں کا جو حال کر سکتی تھی
05:29اس نے وہی کیا تھا
05:30بہت سے پودے مناسب نگداشت نہ نہ ہونے کی وجہ سے سوک چکے تھے
05:34لیکن اس کے باوجود وہ عدم توجہی کی بنا پر اپنی جگہ پر اسی حالت میں موجود تھے
05:39انہیں زمین سے وہ کھاڑ لنکالنے کے لیے جس وقت اور محنت کی ضرورت تھی
05:43وہ گھر کے مالک کی ہدایات اور دلچتبی کے بغیر کسی مالی کی طرف سے ملنا مشکل تھا
05:50امارت کے اقب میں موجود کووارٹرز کے ساتھ ایک حصے میں
05:53پھلدہ درختوں کے بڑی ہی تعداد موجود تھی
05:56جن میں سے کوئی درخت اب اپنی مدد پوری کر چکے تھے
05:59اور پتوں کے ڈھیر سے زمین بھر دینے کے علاوہ کوئی اور خدمت کرنے سے کاثر تھے
06:03اگر ان پھلدہ درختوں سے گھر کے مکین مستفید ہو رہے ہوتے
06:07اور مسلسل لاؤن کا جہزہ لیتے رہے ہوتے
06:11تو وہ درخت مناسب وقت پر ریپلیس ہو جاتے
06:13مگر اتنے وسیع و عریض لاؤن میں ہر طرف جانا اور خاص طور پر
06:17سرونٹ کوارٹرز والے حصے میں کبھی بھی کسی آفیسر
06:20یا اس کی فیملی کے لیے دلچسپی کا کام نہیں تھا
06:23ان درختوں سے اترنے والے پھل وہیں سرونٹ کوارٹرز میں موجود ملازم استعمال کرتے
06:28جب پھر صاحب کے کچن میں اس کی تھوڑی بہت سپلائی جاری رکھتے
06:31سرونٹ کوارٹرز کی اپنی حالت ان کے شفٹ ہونے پر بہت مقدوش تھی
06:35سفیدی یا رنگ روگن نام کی کوئی شہہ وہاں مستقبل
06:39قریب میں تو ایک طرف ماضی بیعید میں بھی نہیں ہوئی تھی
06:42کوارٹرز کو سیلن زیادہ دیواریں کے ہی جگہوں پر
06:46کائی اور بے ہنگم چڑھی ہوئی بیلوں سے بھری ہوئی تھی
06:49جو ان سرونٹ کوارٹر میں مقیم لازمین کی کانچھان کے باوجود بار بار پھیل جاتی تھی
06:54ہمارت کے عقب میں کیچن گارڈن وہ واحد جگہ تھی جہاں بے حد منظم انداز میں باگوانی ہو رہی تھی
07:00اور اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ وہ کیچن گارڈن
07:03اس ہمارت میں مقیم تمام سرونٹ کے کھانے کی ضرورت پوری کر رہا تھا
07:07ورنہ شاید وہاں بھی موسمی سبزی کی بجائے وہیں جھاڑ جھنکار ہوتا جو ہمارت کے باقی دو طرف کے لون
07:14میں تھا
07:16ہمارت کے دہنی طرف کے لون میں کسی ضمانے میں شاید ٹینس کوٹ بنایا گیا ہوگا
07:20اس کا اندازہ شہردر و شہربانوں کبھی نہ کر پاتے اگر وہ خود ٹینس پلیئر نہ ہوتے
07:25اور گھاس موس کے جنگر سے گھاس کے نشب و فراز کو جانتے ہوئے ایک عدد گراس کوٹ کے فوسیلز
07:31نہ دریافت کر لیتے
07:32ہمارت اور اس ملکہ لانز کی رضبوں حالی کی اگر ایک وجہ اس میں رہاش پذیر افیسر کی اس کی
07:41تضہین اور آرائش میں ادم جلچسپ بھی تھی
07:43تو دوسری وجہ دیکھ بھال کے لیے مناثر فنڈز کی ادم دستہیابی بھی تھی
07:48اتنی بڑی ہمارت کے انتظام اور انسرام کسی کے لیے بھی خالہ جی کا گھر نہیں تھا
07:53خاص طور پر ایک ایماندار افیسر کے لیے اور وہ بھی ایسا افیسر جو خاندانی اعتبار سے بھی خاصہ سفید
07:59پہش ہو
08:00سرکاری خاندانی کو ایک خاص حد تک اور بجٹ سے زیادہ ڈی سی ہاؤس پر خرچ کرنے کے لیے
08:05جس جورت اور چلاکی اور ہاتھ کی صفائی کی ضرورت ہوتی ہے وہ شہر دل کے پیش روح میں نہیں
08:10تھی
08:10شہر دل میں تھی
08:12اس لیے امارت اور اس کے لاؤنز کے ساتھ تھا سربنٹ کورٹرز کی حالت بھی دنوں میں بدلی تھی
08:16شہر دل ہارڈ ٹاسک ماسٹر تھا اور اس کے ساتھ ساتھ ورک آہولک بھی
08:24دوسرے افیسز کی طرح وہ صرف امارت کی اس حصے تک خود کو محدود نہیں رکھتا تھا
08:28جو اس کی رہاش گیا تھی وہ کسی بھی وقت امارت کے کسی بھی حصے میں پہن جاتا
08:32اور اس کی اصادت نے جہاں عملے کو بے حد متعد اور پریشان رکھا تھا
08:36وہاں دوسری طرف ڈی سی ہاؤس کے دن واقعی پھر گئے تھے
08:40سربنٹ کورٹرز میں تقریباً پندرہ سالوں بعد بڑے پیمانے پر مرمت کا کام ہوا تھا
08:44ڈی سی کی اپنی رہائش تو خیر ہر سال ہی رینوویٹ ہوتی تھی
08:48شیر دل اپنے ماتاہت عملے کے حوالے سے خاصا فیاض زانہ رویہ رکھتا تھا
08:53اور وہ جہاں بھی پوسٹڈ رہا تھا اس میں اس معاملے میں
08:56اپنے لئے خاصی پسندیدگی اور نکنامی کمائی تھی
08:58جب تک سربنٹ کورٹرز میں کام ہوتا رہا
09:01وہ تقریباً ہر روز آفے جانے سے پہلے
09:03یہ واپس آنے کے بعد بیچھے کا ایک چکر ضرور لگا کر آتا
09:06امارت کے عقب میں وہ تمام پھالدار درخت کار دیئے گئے تھے
09:09جو اب اپنی مدد پوری کر چکے تھے
09:11اور بہار کے موسم میں کچھ نئی پودوں کی کلمیں بھی لگائی گئی تھیں
09:15صرف سربنٹ کورٹرز اور امارت کی ہی کائیہ کلپ نہیں ہوئی
09:19لاؤنز کی شکل صورت بھی بدل گئے تھی
09:21چند مہینے پہلے بہار کے موسم میں لگائے ہوئے
09:24بیجوں کی پنیری اب ہر جگہ کو سرسبد اور رنگین کی ہوئے تھی
09:28گرمیوں کا موسم آجانہ کے باوجود لاؤن میں پھولوں کی ایک بڑی تعداد
09:31مختلف کیاریوں میں کسی نہ کسی حالت میں تھی
09:36بہت سارے نئے دیسی اور بدیسی پودوں اور پھولوں کا
09:40اس ڈیسی ہاؤس میں اضافہ ہو گیا تھا
09:42اور ٹینس کورٹ ایک بار پھر مہرد وجود میں آ گیا
09:45اور تمام تبدیلیوں میں شیردل کے ساتھ شہربانوں کا بھی کلیدی کردار تھا
09:50ہورٹی کلچر اس کا سبجیکٹ نہیں تھا لیکن اسے اس میں دلچسپی تھی
09:54وہ اب تک جہاں بھی پوسٹی رہے تھے شہربانوں گھر کی رینویشن
09:58ضرور کرتی تھی اور جب تک اس کی رینویشن ختم ہوتی
10:00اس کی اگلی پوسٹن کے آرڈرز آ جاتے
10:02اسے یقین تھا کہ ان کے بعد آنے والوں کو اس سے
10:06ویل مینٹین گھر زندگی میں نہیں ملے ہوں گے
10:08شہربانوں کے لیے ایکٹیویٹی جیسے اپنے پروفیشن کے ساتھ
10:11کسی نے کسی طریقے سے جڑے رہنے کی ایک کوشش بھی تھی
10:14جس کو وہ شہربانوں کی جوب کی وجہ سے بلائے تاک رکھے ہوئے تھی
10:18اس گھر میں آنے کے بعد اتدائی طور پر چھوٹے موٹے پرابلمز ہونے کے
10:21بعد سب کچھ آہستہ سیٹ ہوتا گیا تھا
10:24وہ خوف اور عدم تحفظ کا احساس جس کا شکار شہربانوں وہاں آتے ہی ہو گئی تھی
10:29وقت گزلنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتا گیا
10:31شہربانوں نے اگہ چوہ سے پہلی بار خود بخود دروازے کھلنے کے بارے میں نہیں بتایا
10:36لیکن اس کے بعد اوپر نیچے ایسے کئی واقعات ہوئے
10:39کہ شہربانوں نے بھی آہستہ ایسا وہاں ایسی کئی چیزیں محسوس کی تھی
10:45جنہیں وہ اگنور نہیں کر پئی
10:47لیکن کمروں کے دروازے خود بخود بند ہونا اور کھل جانا
10:50جیسے اب ایک معمول کی بات ہے
10:52اس کے ڈریسن ٹیبر پر پڑی چیزیں خود بخود غائب ہوتی
10:55پھر کچھ دنوں بعد واپس آ جاتی
10:56اس طریقے لیے نکالے ہوئے کپڑے غائب ہو جاتے
10:59اور ایک بار تو اس طریقے ہی تین دن غائب رہی
11:01مثال کے گم ہونے والے کھلونے وہاں چیز تھی جو دوبارہ نہیں ملتے تھے
11:06شہربانوں اور شہر دل شروع کے شوق اور سیٹ بیکس کے بعد
11:11آہستہ ایسا ان تمام ایکسپیرنسز اور واقعات کے عادی ہوتے چلے گئے
11:15خوف کی وہ کیا کہ جو شروع شروع میں شہربانوں کے سر پر سوار رہتی تھی
11:19اب ختم ہو چکی تھی
11:20وہ لوگ وہاں بقائد کیسے قرآن خانی کروانے کے عادی تھے
11:23ہفتے میں ایک بار ہونے والی قرآن خانی کے اثرات
11:26چین جہے ہفتوں میں آنا شروع ہو گئے
11:28پہلے کی نسبت ان غیر معمولی واقعات کا تناسب بہت کام ہو گیا تھا
11:32خاص طور پر گھر میں کبھی کبھار رات کو آنے والی آوازوں کا
11:35اوپر والا ماسٹر بیڈروم اب شہر دل کے زیرے تصرف
11:37ایک اسٹیڈی رون کی شکل اختیار کر چکا تھا
11:40اور جب سے وہ کمرہ آباد ہوا تھا
11:42اس گھر میں پیش آنے والے عجیب و غیب واقعات
11:44بڑی تیز رفتاری سے کام ہو گئے تھے
11:46شہربانوں نے اسٹیڈی بننے کے بعد
11:48شروع میں بہت عرصے تھا
11:49شہر دل کو رات کو اکیلے اس اسٹیڈی میں کام کرنے نہیں دیا
11:52وہ خود بھی کام کے دوران اس کے پاس
11:54کوئی کتاب لے کر بیٹھ جاتی تھی
11:56اور تب تک وہیں موجود رہتی جب تک شہر دل کام کر رہا ہوتا
11:59لیکن پھر آہستہ آہستہ وہ مطمئن ہوتی چلی گئی
12:02کہ اس گھر خاص طور پر اس کمرے میں اسی کچھ چیز نہیں
12:04جسے شہر دل کو کسی قسم کا نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا
12:10گرمی کا سیزن شروع ہو چکا تھا
12:11اور اب اس سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی
12:13ان کے گھر میں مہمانوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا تھا
12:16شہربانوں کے اپنے نینیالی رشتے دار زیادہ تر ملک سے باہر تھے
12:20اس کے والدین اور دونوں بھائی بھی امریکہ میں ہی تھے
12:22شہر دل سے شادی کے بعد اتنے سالوں میں وہ بہت کم امریکہ گئی تھی
12:27اور اس کی فیملی میں سے کوئی ایک بار بھی اسے ملنے پاکستان نہیں آتا تھا
12:31لیکن شہر دل کے اپنی فیملی بہت لمبی چوڑی تھی
12:34پرس اور سیکنڈ کزن کی ایک بڑی تداز جن میں سے زیادہ تر سیول سرویس سے ہی منسلک تھے
12:39یا پھر مختلف انٹرنیشنل ارگنائزیشنز اور باڈیز کے ساتھ
12:43اور وہ سب آپس میں بہت مل جل کے رکھے ہوئے تھے
12:46اور وہ سب آپس میں بہت مل جول رکھے ہوئے تھے
12:50خود شہر دل کو بھی اپنے گھر میں مہمانوں کا آنا جانا بہت پسند تھا
12:53وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا
12:55اور فیملی کے پسند دیدہ ترین انکلز اور بچوں میں سے تھا
12:58اور اتنا پاپولر ہونے کا مطلب یہ تھا
13:00کہ یا وہ ہر وقت کہیں نہ کہیں مدو ہوتے
13:03یا پھر کوئی نہ کوئی انٹو وزٹ کر رہا ہوتا
13:05اس کے دوستوں کا حلقہ پی اس کے رشتہ داروں ہی کی طرح وزی تھا
13:09شہر بانو شہر دل کے بارک سے زندگی کا بڑا حصہ
13:12امریکہ میں گزارنے کی وجہ سے بہت محدود مل جول کیا دی تھی
13:18اس کی فیملی زیادہ سوشل نہیں تھی
13:21اور وہ ان سے زیادہ آرف اور اس کے گھنٹی کے چند دوست تھے
13:27اور شہر دل سے شادی کے پاس ان سے بھی اس کا رابطہ بہت محدود ہو گیا تھا
13:31تہوارو اور برسڈے گئے گریٹنگ کے علاوہ
13:34وہ کم ہی کسی سے رابطہ رکھ پاتی تھی
13:35اس کی زندگی شہر دل اور مثال سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہا جاتی تھی
13:39اور بیرونی دنیا سے اس کا رابطہ بھی شہر دل کے ذریعے اور اس کے ساتھ ہی ہوتا
13:43شہر دل کے لائف اسٹائل اور فطرت کے مطابق
13:46خود کو ایڈجسٹ کرنے میں شہر بانو کا وقت لگا تھا
13:49لیکن جلد ہی تبدیلی
13:52لیکن یہ تبدیلی اسے اچھی لگی تھی
13:54سالوں لوگوں سے نہ ملنے کے بعد
13:56آہستہ آہستہ لوگوں سے ملنا
13:58اور ان سے تعلقات بنانا مشکل صحیح لیکن دلچسپ تھا
14:02شہر دل کی بہن ان دنوں اپنی فیملی کے ساتھ چھٹکیاں گزارنے ان کے ہاں آئی ہوئی تھی
14:06آئیزہ شہر دل سے بہت کلوز تھی
14:08اور اس کے بچے بھی
14:09ہر سال سمر میں وہ ضرور کچھ دنوں کے لیے شہر دل کے پاس آتی تھی
14:12آئیزہ اور اس کے بچوں کی وجہ سے شہر بانو کے پاس ایک دم جیسے ایک نئی مصروفیت آگئی تھی
14:17وہ دونوں تقریباً روز ہی شہر کی ایک گھو اسپلور کرنے نکل نکلی ہوتی تھی
14:22وہ کام جو شہر بانو امریکہ میں کلے کیا سفتی تھی
14:25لیکن پاکستان میں نہیں
14:26خاص طور پر شہر دل کی بیوی ہونے کی وجہ تھی
14:29ریڈیو پر اب کوئی اور سونگ چلنے لگا تھا
14:31جب شہر دل اور اس کا ناشتہ ایک ہی وقت میں آئے تھے
14:34ملازم ٹیبل پر ناشتہ لگا رہا تھا
14:35جب شہر دل اس کے پاس آ کر بیٹھا
14:37اس نے ہاتھ میں پکڑا سیل فون ٹیبل پر رکھ دیا تھا
14:40مجھے بھی ایک کپ چاہے بنا دو
14:42شہر دل نے ملازم کو ہدای دی
14:43اور ساتھ ہی ریڈیو اٹھا کر اس نے اس کی ٹیوننگ شروع کر دی
14:47سمر اوپ سیسٹی نائن چل رہا تھا
14:51ابھی
14:51شہر بانو نے مسکراتے ہوئے شہر دل سے کہا
14:53اوہ اچھا وہ بھی چونکر مسکرائیا
14:55اپنی چپل اتار کر اس نے سینٹر ٹیبل کے ایک ہونے میں
14:58اپنی ٹانگیں سیدھی کرتے ہوئے نکالی تھیں
15:00ریڈیو پر دوبارہ وہی چینل ٹیونن کرنے کے بعد
15:02اس نے ریڈیو ٹیبل پر رکھا
15:04اور ملازم سے چائے کا کپ تھام لیا
15:06ملازم چائے کے پہلے برتن سمیٹ کر لے گیا تھا
15:08آئیزہ سو رہی تھی ابھی
15:10شہر دل نے اپنی بہن کے بارے میں پوچھا
15:13ہاں میرا خیال ہے
15:14نور یہ کہ نوریہ کو بخار تھا
15:16کل رات اس کی وجہ سے کافی لیٹ ہی تھے
15:18تم کہا تھے
15:19میں بہت دیر سے یہاں آ کر بیٹھی ہوں
15:21شہر بانو نے دلیے کا چمچ
15:23موں میں ڈالتے ہوئے شہر دل سے پوچھا
15:25گیٹ تک گیا تھا یار
15:26اب مجھے پتا تھوڑی سا کہ تم بھی باہر آ جاؤ گی
15:29شہر دل نے چائے پیتے ہوئے کہا
15:30اس سے پہلے کہ شہر بانو کچھ کہتی
15:32ٹیبل پر پڑا شہر دل کا فون بجنے لگا
15:34شہر دل چونکر فون کی طرف متوجہ ہوا
15:36اور اس سے پہلے کہ وہ فون اٹھانے کے لیے سیدھا ہوتا
15:38شہر بانو نے نے فون اٹھا کر اسے پکڑا دیا
15:41اب کوئی لمبی کال کرنے مت بیٹھ جانا
15:43اس نے ساتھ ہی شہر دل کو بور نہیں دی
15:44وہ کچھ کہنے کی بجائے مسکرا دیا
15:46پھر اس نے فون پکڑتے ہوئے چائے کا کپ
15:48وہ آپ اس ٹیبل پر رکھ دیا
15:50ہلو والیکم السلام فیاس کیسے ہو یار
15:52وہ اب کسی سے بات کرنے لگاتا
15:53شہر بانو نے پیالے میں موجود
15:55دلیا تقریباً ختم کر لیا تھا
15:57جب اس نے شہر دل کو کہتے تھا
15:58اچھا پوسٹنگ آرڈرز آ گئے ہیں تمہارے
16:00کہاں پوسٹنگ ہوئی ہے
16:01گریٹ
16:02تو تمہاری جگہ کون آ رہا ہے
16:05اکس
16:06ایس شیبیک
16:07شہر دل کے انداز میں کچھ تھا
16:08کہ وہ بے ساکتنس کی طرف متوجہ
16:10اس نے شہر دل کو ٹیبل سے بے سیار
16:12اپنی ٹانگیں ہٹاتے اور سیزیوں کا بیٹھتے دیکھا تھا
16:14شہر بانو نے یہ بھی نوٹس کیا تھا
16:18اس نے سٹینڈنگ میرر میں اپنے آپ کو دیکھا
16:22اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا
16:23اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے وے پنک فروگ کو ذرا گھوم کر دیکھا
16:27پھر اس نے بے حد فخری انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا
16:31جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہے تھی
16:35یہ وہ نام تھا جسے وہ اس کو پکارتی تھی
16:37اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار
16:39اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا
16:41اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے
16:43اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو
16:45اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی
16:48اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے
16:50جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی
16:53میں اچھی لگ رہی ہوں
16:55اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی
16:56بہت بہت بہت بہت اچھی اور پیاری
16:59اس نے چڑیا
17:00اس چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر
17:02اس کی خوبصورتی اور ستائش کی جیسے پیمائش کی
17:05پیمائش پیش کی
17:06باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا
17:08اس نے ناک کو ہلکا تردائیں ترسو کیڑ کر
17:10اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر
17:11جیسے اپنی خوشی اور مسکرات کو ایک ہاتھ
17:14ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی
17:15میں تمہاری پونی کہت دوں
17:16چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیار
17:18پیمائش میں بالوں کو نرمی سے چھوٹے ہوئے پوچھا
17:20باربی ڈول سرہ ہلادی فوراں پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی
17:24چڑیا نے اپنے بالوں سے ربر بینڈ اتارا
17:26اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جاتر بڑے نماغ سے سکری پونی بنانے لگی
17:30ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے سکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا
17:35چڑیا کلاس منیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی
17:39جب اس نے منیسٹوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریے کے سامنے سے گزرتے ہوئے
17:45باربی ڈول کو وہاں لنچ باگ ساتھ میں پکڑے
17:47سی سوپا جھولتے اور دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا
17:50چاہاں لمحوں کے لئے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا
17:53وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں
17:58وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس ملاؤن کے اس حصے میں مرنا کرنے کی باوجود جاتی رہتی تھی
18:02جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لئے نکلتی تھی
18:07باربی ڈول کی قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی حمد اسے کبھی نہیں ہوئی تھی
18:11لیکن دور سے بہت بار ان دونوں کے درمیان خاموش نظر اور مسکرہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا
18:16اس گھر کے مستقی رہائشی دو بہت بچے تھے
18:19یہ ممکن نہیں تھا کہ دونے ایک دوسرے کے بارے میں تجسد کا شکار نہ ہوتے
18:22اور ایک دوسرے کو مستقیل طور پر اگنور کر پاتے
18:25چڑیا فرینلی تھی بار بھی ڈول نہیں تھی
18:28وہ اپنے ماں باپ کے طرح بہت محاذب اور سلجی ہوئی ہونے کے باوجود بہت ریزرڈ تھی
18:34پتہ نہیں یہ طبیعتا تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایت دیئی تھی
18:40چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی
18:42اور اب وہی بار بھی ڈول اسے چند دن کے فاصلے پر کھڑی تھی
18:45چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی
18:49اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید بار بھی ڈول کو بھی
18:52اپنے اسکول میں دیکھ کر خوشی تچھلانگیں لگاتی
18:54ہلو
18:55اور ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی بار بھی ڈول کے پاس پہنچ دی
18:59اور ہلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتہ نہیں کتنی حمد کرنی پڑی تھی
19:04بار بھی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا
19:06اور پھر اس نے بھی اسی برکرفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا
19:10جس طرح چڑیا نہیں اس کا
19:11وہ چڑیا کا فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی
19:14وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی
19:16لون میں کھیلتے جانا کسی پھول دا جھاڑی
19:19یہ پوزے کی شاک کے درمیان سے جھانکتا
19:21واپنے تجسس آنکھوں والا ایک ماسوم چہرہ
19:23کبھی رہداری کی کھڑکیوں میں یک دم
19:25نمودھار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں
19:28جب بار بھی ڈول کے ساتھ
19:30اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر
19:32اسی طرح چھپا
19:33اسی طرح چھپ کے غائب ہو جاتی تھی
19:35بہت دفعہ پوزوں سے جھانکتی چھڑیا کو دیکھ کر
19:38وہ تھٹکی تھی
19:38اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے
19:40یا سائیکل چلاتے ہوئے
19:42اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو
19:43چھڑیا کی طرح متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی
19:46لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی
19:48وہ جب تک اپنی ممی کو اس پوزے
19:50یا جھڑی کی طرح متوجہ کر پاتی
19:52جہاں اس نے چھڑیا کو دیکھا تھا
19:53چھڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی
19:56ممی وہاں ایک گھرل ہے
19:58اس نے پہلی بار چھڑیا کو دیکھنے پر
20:00فٹبال کو کیک لگاتے لگاتے رکھ کر
20:01اپنی ممی کو اشارے سے بتایا تھا
20:03لیکن تب تک اس پوزے کی انشاکوں کو
20:06دوبارہ فوکس کر پاتی
20:07جن میں اسے اسے چھڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا
20:09چھڑیا غائب ہو چکی تھی
20:10اس کی ماں نے چند لمحوں کھلی چونکر
20:12اس پوزے کو دیکھا پھر پوچھا
20:14کہاں وہاں پر وہاں پر وہ اب نہیں ہے
20:17وہ اب فٹبال کھیلنا بھول گئی تھی
20:19ہاں وہی بچی ہوگی جو اس دن ملنے آئی تھی
20:22وہی بچی تھی کیا
20:23اس کی ممی نے خاص طور پر حیرت
20:24اور تاجب کے اظہار کے بغیر کہا
20:26وہ جہاں مرے کھک کے ساتھ آئی تھی
20:28بارویڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا
20:31نہ ہی اس نے اس بچی کی خود و خالق
20:33کو ذہن میں لانے کی کوشش کی
20:36جیسے اس نے کھک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا
20:38اس سے زیادہ تجسد اس بات پر تھا
20:40کہ بس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی
20:42اور کہاں غائب ہو گئی تھی
20:43یہ چڑیا سے اس کے تعریف کا آگاہ تھا
20:45اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا
20:47اس نے کئی بات چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا
20:50شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر
20:52اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی
20:54لیکن آہستہ آہستہ اس سے اندازہ ہو گیا
20:56کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے ذران چڑیا غائب ہو جاتی تھی
20:59اور اس کی ممی کو پھر لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی بھی
21:01کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں دے
21:03پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا
21:06اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک
21:08پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی
21:11اور اکثر بڑی آسانی تو تو دھونڈ لیتی تھی
21:14پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر
21:15اس طرح کھیل میں مصروف رہتی
21:17اور وقتاً فا وقتاً کھیل سے دیان ہٹا کر
21:19چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی
21:20چڑیا نے پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا
21:23خاموش نظروں کا تباطلہ آہستہ آہستہ
21:25مسکرہاتوں کے تباطلے میں بدلنے لگا تھا
21:28اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا
21:30تو ان دوروں کے بیٹھ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی
21:32ڈی سی کی بیوی لاؤن میں کرسی پر بیٹھی
21:34یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی
21:35یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی
21:37اور وہ لاؤن میں سائیکل چلاتے
21:38یا فٹبال کھیلتے ہوئے دور
21:40بودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی
21:42کبھی کے بار وہ سائیکل چلاتے چلاتے
21:44جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر
21:46گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے
21:48جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینچ دیتی
21:51جہاں چڑیا چھپی ہوتی
21:52یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے
21:54کی غیر ارادی کوشش تھی
21:56جیسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا
21:58وہ یہ جورت کر ہی نہیں چاستی تھی
22:00کہ لاؤن میں صاحب جن کی بیوی کی موجودگی میں
22:02وہ باہر نکل آتی
22:03خیر دین نے اسے سکتی سے منع کیا تھا
22:05وہ ایک بچکانہ تجسس کی وجہ سے
22:07وہاں آ تو جاتی تھی
22:09لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی
22:10کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے
22:12اس نے بہت بار مختلف افیسرز کے ہاتھوں
22:14اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا
22:16اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا
22:18اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر
22:21اس کی موجودگی پر بات میں اسے بٹھا کر
22:23اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا
22:26دیکھو چڑیا چھپ گلتی ہوتی ہے
22:27تو ڈانٹ پڑتی ہے
22:28اور نہ
22:29ڈانٹ پڑتی ہے
22:30اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے
22:32اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے
22:34اور نہ ہی ہر ڈانٹ
22:35پر نانا آپ کی زیادہ گلتی تو نہیں تھی
22:38وہ اپنے نانا کا دفاع کرتی
22:39تھوڑی تھی پر تھی تو صحیح نہ
22:41اب اگر صاحب گلتی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹنے
22:44ڈانٹا کریں تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا
22:47چڑیا خیر دین کی بات پر سارہ ہلاتی تھی
22:49لیکن
22:50ہلا دیتی لیکن
22:51اس کے باب جو خیر دین جانتا تھا
22:54کہ وہ خیر دین کو پڑھنے والی
22:55کسی ڈانٹ پر بہت نقوش ہوتی تھی
22:57ہلو
22:58باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا
23:00اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسہ چہرہ تھا
23:02جو سے نظر آیا تھا
23:03اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لیٹ ہو جاتی
23:06تم یہاں سٹڈی کے لیے آئی ہو
23:07چڑیا اس کے ہلو پر مسکر آئی تھی
23:09باربی ڈول نے سر ہلایا
23:11ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو
23:12باربی ڈول کا سر ایک بر پھر ہلا
23:14لیکن ساتھ اس کے آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے
23:17اسے یک دم یاد آ گیا تھا
23:19کہ اس کے ممی پاپا سے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے
23:21اور وہ وہاں اگلی تھی
23:23چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی
23:25رونا نہیں باربی ڈول
23:26اچھے بچے تو نہیں روتے نا
23:28اس نے آکے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑکتے ہیں
23:30آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پہنچے
23:32پھر اپنی پروک کے جیب سے رومال نکال کر
23:34اسے باربی ڈول کا چہرہ ساف کیا
23:36دیکھو سارے بچے پڑھنے آتے ہیں
23:38چڑیا اب اسے سمجھا رہی تھی
23:40باربی ڈول کے آنسو یک دم تھم گئے تھے
23:42یہ چڑیا کی باتوں کا اثر نہیں تھا
23:44اس نام کا اثر تھا
23:46جسے وہ اس کو پکار رہی تھی
23:49اور اسکول میں تو کتنا مزہ آتا ہے
23:51اتنی اچھے چیچرز ہوتی ہیں
23:53بکس ہوتی ہیں پھر فرنس بھی تو بنیں گے
23:55نہ تمہارے
23:55چڑیا وہ کام بھول چکی تھی
23:57جس کام سے وہ کلاس روم سے باہر آئی تھی
23:58اسے کچھ یاد تھا تو بس باربی ڈول جاتی
24:01اپنی جیب میں رومال واپس رکھتے ہو
24:03اس نے جیب سے باربی ڈول کو ایک ٹوفی نکال کر دی
24:05باربی ڈول ایک لمحے کے لیے جج کی
24:07پھر اس نے ٹوفی اس کے ہاتھ سے لے لی
24:08ٹھیک ہے مامی ہے پاپا تو یاد آ رہے تھے
24:10لیکن ٹوفی کھانے میں تو کوئی حج نہیں تھا
24:13چڑیا مسکرائی پھر اس نے باربی ڈول کی
24:14دونوں پونیوں کو پیار سے چھوا
24:16جن کے تعرف کا آگاہ تھا لیکن تعرف
24:18تعرف تک ہی رہا تھا ویسی دوستی نہیں
24:20ہو سکتی تھی جو چڑیا اور باربی ڈول دونوں کی
24:22خواہش تھے دونوں کی
24:24سیکشن سے الگ الگ تھے اور باربی ڈول
24:26کی بہت جلد اسکول سے چھٹی ہو جاتی تھی
24:29اور
24:31مانی
24:31یہ کیا نام لکھا ہے اتنا مشکل تھا
24:33انگلیش میں لکھ دیتے کم از کم
24:36منٹسوری ونگ کے لنچ پریگ
24:39کا وقت بھی
24:40جونئر ونگ سے مقصر تھا
24:42اس کے پاس جو چڑیا کو جب موقع ملتا
24:44وہ نرسری ریڈ کے
24:47سامنے نرسری گوریڈر
24:48کے سامنے سے صرف باربی ڈول کے لئے
24:50ضرور گذرتی یہ لنچ پریگ کے
24:52دوران گوشن جانے کے بہانے ایک بار
24:55منٹسوری کے
24:56پلے ایریے میں آ کر باربی ڈول
24:58سے ضرور میں تھی باربی ڈول کو
24:59ٹافیوں اور لولی پوپ آسان تھے اور چڑیا جب بھی
25:01وہاں آتی اس کے لئے ان دونوں میں سے کوئی نہ
25:03کوئی چیز ضرور لے کر آتی وہ خود
25:06ٹافیوں وغیرہ کھانے کی بہت شکیم نہیں تھی
25:07خیاد زن کی دیوی پاگرمنی وہ سنبھال کے
25:09رکھ لیتی اسکول میں وہ گھر ترائے وقت
25:11کھانا ہی کھایا کرتی تھی انڈھا
25:13پراتھا میٹھے تو جیم جب مکھن لگے
25:15سلائی تھی یا خیاد زن کی اپنی
25:17بے کیوی کوکیز اور پین کیک
25:20یا کپ کیک اور ٹافی اور چونگم
25:21کبھی اتفاقہ نہیں کھاتی تھی
25:23اور لولی پوپ تو کبھی بھی نہیں لیکن
25:25باربی ڈول کی ویڈر سے اس نے بقائد گیت
25:27اسکول کنٹنگ پر جانا شروع کر دیا اس کی
25:29نانائیت کی وجہ سے باربی ڈول بھی اس کے انتظار
25:31میں رہتی تھی اسکول ڈیسی ہاؤس
25:34سے بہت دور نہیں تھا خیاد زن صبح جس
25:35چڑیا کو سائیکل پر چھونے جائے کرتا
25:37اسی وقت باربی ڈول بھی اپنی
25:39ممی کے ساتھ گاڑی میں اسکول کے لیے نکلتی تھی
25:41خیر دن پہلے اسے سائیکل پر بٹھا کر
25:43گھر کے فرنٹ گیٹ سے نکلتا
25:44اور بھی چاندھی منٹر میں ڈیسی کی گاڑی ان کو
25:47اور ٹیک کرتے ہو ان کے قریب سے گزرتے
25:49چڑیا سائیکل پر اور باربی ڈول
25:51گاڑی کی کھڑکی کے شیشیاں سے چھپک کر
25:53ایک دوسرے کو
25:55دیکھتے ہوئے مسکراتی اور ہاتھ
25:57ہلاتی جاتی جب تک
25:59گاڑی اگلا موڑ نہ موڑ جاتی
26:01اور کبھی ڈیسی کی گاڑی ان سے پہلے
26:03گھر کے فرنٹ گیٹ سے نکل رہی ہوتی
26:04اور تب باربی ڈول پیچھلی ونڈ
26:06اسکرین پر تقریباً چڑی ہوئی چڑیا کو
26:08خیر دن کے آگے سائیکل پر بیٹھی دیکھتی رہتی
26:11اور کبھی ان دونوں کے سکول جانے کی
26:13ٹائمنگ میں چند منٹوں کا فرق پڑ جاتا
26:14خیر دن پہلے چلا جاتا
26:16یا باربی ڈول پہلے سکول چلی جاتی
26:18اور اس دن وہ دونوں سڑک پر
26:19اس دوسرے کو بے چینی کے حالے میں
26:20ڈھونڈ تی رہتی
26:21نانا آپ سائیکل تیز کیوں نہیں چلاتے
26:24چڑیا کوئی ان حالات میں
26:25ڈی سی ہاؤس کی برونی روڈ پر
26:27ڈی سی کی گاڑی نہ دیکھ کر
26:28سائیکل کی رفتار پر اتراز ہوتا
26:30اسے یقین تھا کہ رفتار ذرا سی بھی
26:32تیز ہوتی تو موڑ پر لگے
26:33اس ٹرافک سیگنل پر
26:34وہ اس گاڑی اور گاڑی کے اندر
26:36مجھے باربی ڈول کو ضرور دیکھ لیتی
26:38بیٹا تیز تو چلا رہا ہوں
26:39خیر دن سائیکل کے رفتار
26:40کچھ مزید تیز کرتے ہوئے
26:42اس سے کہتا
26:42ہاں پر گاڑی جتنی تیز تو نہیں ہے
26:45وہ بے ساختہ شکایت کرتی
26:46خیر دن ہستا
26:47یہ سائیکل بیٹا وہ گاڑی ہے
27:03وہ ایک ایسے اسکول میں پڑھتی تھی
27:05یہاں صبح بچوں کو چھوڑنے کے لیے
27:07شاندار گھاریوں کی قداریں ہوتی تھی
27:08یا پھر کچھ اسکولز وینڈز اور
27:10بسے وہ سائیکل پر وہاں آنے والے
27:13وہاں سٹوڈنٹ تھی
27:14ان شاندار گھاریوں کے حجومیں خیردن
27:16بڑی مشکل سے اپنی سائیکل کے لیے راستہ بناتا
27:18گھاریوں سے بچتا بچاتا
27:19اسے اسکول کے مین گیٹ پر چھوڑتا
27:21اور پھر اسی طرح چھوٹی کے وقت
27:22اسے لینے کے لیے موجود ہوتا
27:25یہ ڈی سی اور اس کی بیوی کی طرف سے
27:27ایک فیورز اور گھاریوں کے سجوں میں
27:29سائیکل پر سفر کرتے ہوئے چڑھیے کا دل
27:31کبھی ویسی گھاری میں بیٹنے کو تو چاہتا تھا
27:33جو وہ اپنے سکول کے باہر دیکھتی تھی
27:35یہ دن میں جتنے اس کے کلاس فیلو
27:37تو سکول فیلو آتے تھے
27:38لیکن اسے کبھی اس سائیکل پر شمندگی نہیں ہوئی تھی
27:41جس کے پیڑل گھوماتا
27:43اس کا نانا اسے احسال کے ہر موسم میں
27:45وقت کی پبندی کے ساتھ وہاں لاکت چھوڑتا
27:47پھر وہاں سے لے کر جاتا
27:49سائیکل کے اس دس منٹ
27:51صبح اور دس منٹ دوپہر کے سفر میں
27:53وہ اور خیرزن بہت ساری باتیں کرتے تھے
27:55وہ خیرزن کو سڑک پر اور
27:57اس سکول کے باہر نظر آنے والی کوئی نئی گاڑی دکھاتی
27:59خیرزن اسے موڈل بتاتا
28:01وہ اسے کچھ سرکاری جیب یا سرکاری نمبر پلیٹ
28:03والے سٹاف کار دکھاتی
28:05تو وہ اسے اس افیسر کا عہدہ بتاتا
28:09وہ اسے
28:09اپنی سکول میں ہونے والے کسے سناتی
28:11اور وہ اسے گھر میں اپنی نوکری کی
28:13اس دن کی مصروفیات بتاتا
28:14اور ان ساری باتوں کے درمیان چڑیا ایک دم
28:16عجیبہ غریب سوال کرتی
28:18اپنے کسی مستقبل کے منصوبے سے خیرزن کو اگاہ کرتی
28:21نانا میں جب بڑی ہو جاؤں گی
28:23تو ایک کار بناوں گی
28:24دوسرے بچوں کے ارادہ خریداری سے شروع ہوتے سے
28:27چڑیا کی اجازات تھے
28:28اچھی بڑی سی کار جیسے
28:30صاحب کی سٹاف کار ہے نا
28:32وہ خیر دن کو بتاتی
28:34وہ ہستہ سنتا رہتا
28:35لیکن چڑیا تم تو ڈاکٹر بنو گی
28:37ڈاکٹرز علاج کہتے ہیں
28:38کاریاں تھوڑی بناتے ہیں
28:39خیر دن لکمہ دیتا
28:41چڑیا سوچ میں بڑھ جاتی
28:42اچھا نانا پھر میں ایک کار خرید لوں گی
28:43وہ چند لبوں بعد
28:44اپنا ترمیم شدہ منصبہ پیش کرتی
28:47پر گاڑی تو بہت مہنگی ہوتی ہے
28:48اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے
28:49خیر دن ہستے بے کہتا
28:51میں جب ڈاکٹر بننگی
28:52تو ہسپتال میں جوب کروں گی
28:53اس سے جتنے پیسے ملیں گے
28:55میں سب جمع کر لوں گی
28:56پھر گاڑی خرید لوں گی
28:57وہ اپنا طویل المدتی
29:00طویل المدتی پلان بتاتی
29:04اچھا پھر گاڑی خریدتر کیا کرو گی
29:06خیر دن اکلا سوال کہتا
29:07پھر ہم اس میں جایا کریں گے
29:08آہ امی اور میں
29:10تینوں اس میں بیٹھیں گے
29:11تو میں ایسا کہنا
29:12مجھے ڈرائیور رکھ لینا اس گاڑی کا
29:13خیر دن ہست کر کہتا
29:15نہیں نانا
29:15ایک ڈرائیور بھی رکھ لیں گے
29:16بعد ہم تب پیچھے بیٹھ جایا کریں گے
29:19مزے مزے سے
29:19وہ مسکراتے ہوئے
29:20خیر دن کو بتاتی
29:21چلو ٹھیک ہے
29:22چڑھیا لیکن بیٹا
29:23یہ بات زیاد
29:24ضرور رکھنا
29:25کہ تمہیں لوگوں کا
29:26علاج کرنے کے لئے
29:27ڈاکٹر بننا ہے
29:28بڑی گاڑیوں کے لئے نہیں
29:30خیر دن اسے نتیت کرنا نہ بھولتا
29:32جی نانا
29:33وہ فرما برداری سے سر ہلاتی
29:34شاہ باش
29:35خیر دن اسے سراتا
29:36اور نانا جو غریب اور بڑے لوگ ہوں گے
29:38میں ان سے پیسے نہیں لوں گی
29:40فری علاج کیا کروں گی
29:42چڑھیا چند لمحوں بعد
29:43یک دم سنجیدگی سے کہتی
29:44اور خیر دن خوش ہو جاتا
29:46شہر دل اب کرسی پر سیدھا بیٹھا
29:48فیاس سے باتیں کر رہا
29:49چاکہ کب آئی ہے واپر
29:50اچھا اور چار سب سے لے رہی ہے
29:52ہاں دے دو نمبر
29:54شہر بننا سلائد کھاتے میں
29:55شہر دل کو فون پر بات کرتے دیکھتی رہی
29:57کوئی چیز تھی جو شہر دل کے اندر
29:59از میں منٹوں میں تبدیلی
30:02تبدیلی ہوئی تھی
30:02اس کی باڈی لینگویج میں
30:04اس کے لب وہ لہجے میں
30:04اس کی آنکھوں میں
30:15تبدیلی پہچان لیتی تھی
30:16لیکن وہ اس تبدیلی کو
30:18کبھی کوئی نام نہیں دے سکی تھی
30:19کیونکہ وہ یہ سمجھ نہیں پائی تھی
30:21کہ اکسے کے نام پر
30:22شہر دل میں جو جھلکتا تھا
30:24وہ کیا تھا
30:25اس سے پہلی بار
30:26اکس مراد علی کا نام
30:27اپنی انگیجمنٹ کے ایک ہفتے کے بعد
30:29سنا تھا
30:30شہر دل کا کوئی پیج
30:32کوئی بیج میٹ
30:33اور دوست اپنی بیوی کے ساتھ
30:35بوسٹن آیا تھا
30:36شہر دل نے شہربانوں سے
30:38ملوانے کے لیے
30:38ڈینر پر انوائٹ کیا تھا
30:40اور ڈینر کے دوران ہی
30:41نافے نے شہر دل سے کہا
30:43اور ہاں
30:43اکسے بھی مبارک بات دے رہی تھی
30:45تمہیں
30:45شہر دل فورک سے
30:47مچھلی کا ٹکڑا اٹھاتے
30:48اٹھاتے تھٹکا تھا
30:49تم کا ملے ہوت سے
30:50شہر دل نافے سے پوچھ رہا تھا
30:52یہاں امریکہ آنے سے پہلے
30:53نافے بتا رہا تھا
30:55ڈی ایم جی والوں کی
30:57گیٹ ٹو گیدر تھی
30:58وہاں ملا تھا
30:59وہاں تمہارا ذکر ہوا تھا
31:01تمہاری انگیجمنٹ کا ذکر ہوا
31:02تو اس نے مبارک بات دینے کے لیے کہا
31:04نافے بتا رہا تھا
31:06کیسی ہے وہ
31:07شہر دل پوچھ رہا تھا
31:08پشابر میں رہ رہ کر پشتون ہو گئی
31:10آدھی
31:11مذکر مونت خراب ہو گئے ہیں اس کے
31:14نافے شہر دل کے سوال پر ہنسا تھا
31:17میرا خیال ہے وہ پشتونوں کے
31:18اس کو دیکھ کے صحیح ہو گئے ہوں گے
31:20شہر دل نے بے ساختہ بے حس سنجید کی سے
31:22تفسرہ کیا
31:23دونوں اپنی بات پر کہہ کے لگا کر ہنسے تھے
31:25شہر بانہ گفتگو سنتے ہوئے چپ چاپ ڈینر کرتی رہی
31:28وہ پہلا موقع نہیں تھا جب اس نے شہر دل کو
31:30کسی لڑکی کے بارے میں بات کرتے جو اس کا
31:32حال حوال پوچھتے دیکھا تھا
31:34اس کے حلقہ حباب میں لڑکیوں کی لمبی چوری تعداد تھی
31:37اور ان میں سے بہت سی
31:38اس کی بہت پرانی اور کلوس فرینڈ تھی
31:50ایسا گیا تھا
31:52جب وہ شہر دل کے کسی نئے دوست سے مطارف
31:54نہ ہوئی ہو اور اس بار
31:56اس بار یہ نیا نام اکس مراد علی
31:58کا تھا ڈینر ٹیبل پر
32:00نافے کی بیوی طائبہ
32:03سے باتیں کرتے شہر بانو
32:05نہیں سوچا سٹل سنگل
32:06طابق کی کوئی بات سنتے ہو اس نے
32:08کچھ حیران ہو کر شہر دل کا چہرہ دیکھا تھا
32:11اور اس پہلی بار اس نے شہر دل کے
32:12چہرے اور آنکھوں میں وہ چیز دیکھی تھی
32:14جو پھر ہمیشہ اسے اس نام پر
32:17نظر آئی تھی بتایا تو نہیں
32:18اس نے کچھ اگر سٹیٹس تبدیل
32:20ہوا ہوتا تو بتاتی تو صحیح لیکن
32:22میں نے سنا ہے
32:24کہ گھنی اور وہ کافی قریب ہیں آج کل
32:26شہر بانو نے ڈرنک کا سپ لیتے ہوئے شہر دل
32:28کو بیک سیار اپنے کرسی پر پہلو بدلتے
32:30دیکھا گھنی حمید
32:32شہر دل کو جیسے کرنڈ لگا تھا
32:35تابا کی باتوں میں شہر بانو
32:36کے دلچسپی کام ہونا شروع ہو گئی تھی
32:39کوئی چیز تھی شہر دل کے انداز میں
32:41جس نے اسے مصطرب کیا تھا
32:43آج میں پہنی منگنی کی بیش قیمت
32:45انگوٹی کے باوجود اپنے بیٹڈروم کے
32:47بیٹ سائٹ اپر پڑے اس کار کے
32:49باوجود جو شہر دل نے اسے منگنی پر دیا تھا
32:51اور جس میں اس نے شہر بانو کے ساتھ
32:53زندگی بھر ساتھ نے بنے کا وعدہ کیا تھا
32:55شہر دل کے والٹ اور اپنے والٹ میں
32:57رکھی ایک دوسرے کی تصویروں کے باوجود
32:58کچھ تھا جس نے شہر بانو کو ہلایا تھا
33:01اکس اور گنی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
33:03وہ اب شہر دل کی کو
33:05دکٹوں کا انداز میں کہتے دیکھ رہی تھی
33:08روستر سلمن
33:09کو بھول کر اس وقت نپکن سے
33:11اپنا موں پھولتے ہوئے نافے سے
33:13کہہ رہا تھا لیکن میں نے فیلحال
33:15کافی لوگوں سے یہی سنا ہے
33:16میرا خیال ہے دو چار مہینوں میں شادی
33:18کہنے والے ہیں وہ دونوں کچھ لوگوں کا تو
33:20خیال ہے کہ شاید مہنی ہو چکے ہیں دونوں کی
33:22شہر بانو نے شہر دل کو یک دنگ چھپ ہوتے
33:25دیکھا تھا اتنے نافے سے دوبارہ
33:27اکس کے حوالے سے کچھ نہیں پوچھا تھا
33:28لیکن شہر بانو کو یوں لگا تھا جیسے
33:30وقتی طور پر وہ ذہنی طور پر مکمل طور پر
33:33غائب دماغ ہو گیا تھا
33:34وہ اب اتنی عرصے سے اس کے ساتھ تھی
33:36اور اس کے اتنی قریب تھی کہ شہر دل کے ماتے پر
33:38آنے ہولی شکن کو بھی کتاب کے صفحے
33:50سرہ ڈینر سے ان کی واپسی بہت دیر
33:52سوئی تھی اور واپسی کے پورے راتے
33:54شہر دل اس سے گفت گئے کہ دوران مکمل طور پر
33:57عدم توجہی کا شکار تھا
33:59اگلے دن وہ نارمل تھا
34:00جیسے وہ ہمیشہ ہوتا تھا اور اسے
34:02نارمل دیکھا ساری رات بستر میں کربلٹین
34:04لے لے لے کر جاکتے رہنے والی شہر
34:06بانو بھی نارمل ہو گئے تھی لیکن
34:08اکس کا نام ایک عجیب سی بازگشت
34:10بن گیا تھا جو رہ رہ کر گھونچتی
34:12تھی تو انہیں کبھی کسی سے محبت
34:14کی میں سے پہلے اوہ دنر کے
34:16ایک ہفتے کے بعد شہر بانو نے
34:18شیر دل سے وہ سوال کیا تھا جو
34:20اپسے کا نام اسے بار پر پوچھنے پر مجبور کر رہا تھا
34:23وہ تھا خود بھی اندازہ نہیں تھا کہ وہ
34:24یہ سوال کر کے کیا چاہتی تھی
34:26کوئی تحضیق یا کوئی تسلیق
34:28یہ ایک انتہائی احمقانہ سوال ہے
34:30جواب تڑاک سے آیا تھا
34:32وہ رات کے وقت بے مکتر تھڑک پر
34:34ٹہلتے ہوئے روٹڈ کاجو
34:36کھا رہے تھے
34:37احمقانہ والی تو کوئی بات نہیں
34:39شیر بانو نے مدافعانہ انداز میں کہا
34:41کسی بھی مرد سے یہ سوال احمقانہ ہی ہوتا ہے
34:44شیر دل نے شیر بانو کے ہاتھ میں پکڑے
34:46کاجو کے لغافے سے چند کاجو
34:48نکال کر انہیں پھانکتے ہوئے تبناتے کہا
34:50احمقانہ کیوں
34:51شیر بانو کا اعتراض ہوا
34:52یار مرد شادی کے بعد بیوی بچوں کی بجودگی میں
34:55محبت کر سکتا ہے
34:56تو منگیدر کی آمد سے پہلے
34:58مہاتمہ بدھ بن کر کیوں رہے گا
35:00ہاں تو یہی تو پوچھ رہی ہوں
35:02کہ تم نے کسی سے محبت کی ہے
35:04کسی سے کیوں سے
35:06کسی سے کہیںیوں سے
35:08شیر دل نے کچھ اور کاجو پھانکے
35:10محبت کا پوچھ رہی ہو
35:11فلڈ کا نہیں پوچھ رہی
35:12شیر بانو نے اسے ٹوکا
35:13دونوں میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہوتا
35:15وہ اسی انداز میں بولا تھا
35:17تم میرے ساتھ محبت کرے یا فلڈ
35:18شیر بانو نے یہ اقدم اسے پوچھا
35:20وہ بے ساکتا تھا
35:21شیر بانو کبھی ہسی آئی تھی
35:23حالانکہ گانا غصہ چاہیے تھا
35:24پھر بتاؤ نا
35:25شیر بانو نے دوبارہ پوچھا
35:27یہ ہر بتایا تو ہے
35:28بہت محبتیں کی ہیں
35:29شیر دل نے بے پروائی سے کہا
35:31کبھی کسی سے شادی کریں گا
35:32کیوں نہیں سوچا
35:33شیر بانو نے کہا
35:34کسی سے شادی
35:35کس سے شادی
35:37وہ چونکہ
35:37کسی بیج میٹ
35:39یا گل فرنڈ سے
35:39ایک بہت شیر بانو نے
35:41بڑے نپے تولے انداز میں
35:42مچھلی کو چارہ پھینکا تھا
35:44اس نے اکس کا نام لیے
35:45بغیر اکس کا ذکر کیا تھا
35:47تم اپنی تعریف سننا چاہتی ہو
35:48تو میں ویسے ہی کر دیتا ہوں
35:50تم ماضی کی کسی محبوبہ
35:52کا نام اگلوانا چاہتی ہو
35:53تو اس کے لئے تم مجھے
35:54سار سال کہوں نے دو
35:56مچھلی نے چارے کو کانٹے
35:57اور چھوڑی کی مدتیں
35:58ہک سے اتار کر کھایا تھا
36:01وہ شیر دیل سے کبھی
36:02کچھ گلوان نہیں سکتی تھی
36:04اسے جو بات نہیں بتانی ہوتی تھی
36:05وہ نہیں بتاتا تھا
36:07شیر بانو نے بے اختیار
36:08گہری سانس لی تھی
36:09آہیں بھننے والی کیا بات ہے
36:10شیر دیل ساتھ چلتے چلتے
36:12یک دم چونکا
36:13تم سوال کا جواب نہیں دوگے
36:14تو اور کیا کروں گی
36:15شیر بانو نے کہا
36:16چلو پھر دے دیتا ہوں
36:18کم مازی میں دس لڑکیاں
36:20سی ضرور ہوں گی
36:20جن سے میں نے سنجیدگی سے
36:22شادی کے بارے پر سوچا ہوگا
36:23لیکن میں خوش ہوں کہ
36:25میں نے صرف سوچا
36:26اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کی
36:27کیوں
36:28شیر بانو کے سنجیدگی
36:29ختم ہونے پر نہیں آ رہی تھے
36:31یوں کہ اپنی زندگی کے
36:32سنہری دن تباہ کرنے
36:33کے شادی کے لعبہ
36:35بھی اور بہت سے طریقیات ہیں
36:37وہ بہت سنجیدگی سے
36:38غیر سنجیدہ نظر آنے کی
36:39کوشش کر رہا تھا
36:40شیر بانو نے بات ختم کر دی
36:42آخر کا ذکر پھر اس کے بعد
36:43کئی بار ان کی زندگی میں
36:45سامنے آتا رہا
36:45ہر بار اگر شیر دل
36:47اس پر ٹھٹکتا تھا
36:48تو شیر بانو بھی چونکتی تھی
36:49لیکن پھر آہستہ
36:51آہستہ زندگی
36:52اتنی مطروف ہونے لگی تھی
36:53کیونکہ شیر دل کے حوالے سے
36:55جو تھوڑے بہت خدشات تھے
36:56وہ جاتے رہے تھے
36:57وہ ایک ایکسپشنل شہر تھا
37:00محبت کرنے والا
37:01خیال رکھنے والا
37:02وفادار شیر بانو کو
37:03یہ بھی پتہ چل گیا تھا
37:05کہ اپنے حلقہ
37:05باب میں خوات ان کی
37:06لمبی جڑی تعداد رکھنے
37:08اور ہرہ عورت
37:09بے تکلفی سے بات کر لینے
37:10کے باوجود شیر دل
37:11جہاں گئے
37:12داستانے چھوڑ آنے والے
37:13مردوں میں سے نہیں تھا
37:14وہ اگر کسی عورت
37:15بے تکلف ہو سکتا تھا
37:17تو اس بے تکلفی کو
37:18حدود و قیود میں
37:19رکھنا بھی اسے آتا تھا
37:21اور اس میں شادی شدہ
37:22ہونے کے لیبل سے
37:23زیادہ شیر دل کے
37:24اپنے مزاج کا دکھل تھا
37:25شہر بانو نے شیر دل کے
37:27حوالے سے سارے تحفظات
37:28اپنے دین سے
37:29نکال دیئے تھے
37:30وہ بھی جو ایک بیوی کے
37:31طور پر فطری طور پر
37:32ہر بیوی کے ہوتے ہیں
37:33لیکن اس کے باوجود
37:35صرف اکس مراد علی
37:36ایک ایسا نام تھا
37:37جس پر شیر بانو کبھی بھی
37:38شیر دل کا چہرہ دیکھنا
37:39نہیں بھولتی تھی
37:41اور اتنے سالوں میں بھی
37:42اس کے چہرے پر آنے والے
37:43تاثرات ایک جیسا ہی ہوتا تھا
37:46اکس مراد علی آ رہی ہے
37:47فیاض کی جگہ پر
37:48شیر دل کے فون بند کرنے پر
37:50شیر بانو نے چائے پیتے
37:51پیتے پیسے پوچھا
37:52ہاں
37:52فیاض نے ابھی بتایا مجھے
37:54چائے کا ایک کب بنا دو مجھے
37:56شیر دل نے فون ٹیبل پر
37:57رکھتے پیسے کہا
38:08نہیں کر رہی
38:09لیکن پہلے چند خواستین
38:10ڈپٹی کمیشنر کے طور پر
38:12سرف کر چکے ہیں
38:13شیر دل نے دور دور
38:14لون میں کام کرتے
38:15مالیوں پر نظر ڈالتے بھی کہا
38:17وہ اب کسی سوچ میں
38:18ڈوبا لگ رہا تھا
38:19چائے کا کب اسے
38:20تماتے پی شیر بانو نے پوچھا
38:21کیا سوچ رہے ہو
38:22کچھ نہیں
38:23شیر دل نے مسکر آ کر
38:25اسے ٹالا تھا
38:25اور اسے یہ نہیں بتا سکتا تھا
38:27کہ اکس مراد علی کے
38:28ایک ہی
38:29ڈویشن میں ہونے کا مطلب
38:30اس کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا
38:32سٹریس تھا
38:33وہ خاتون افیسٹ چوبیس گھنٹے
38:35اور تالیس گھنٹے
38:35سمجھ کر کام کرنے والوں میں سے تھی
38:38اور وہ جہاں بھی کام کرتی تھی
38:39اس کی کمپیٹنس
38:40وہاں پر دوسرے مرد افیسٹ کے لیے
38:42بہت مسائل پیدا کر دیتی تھی
38:44وہ ڈی ایم جی کی ان چند بات
38:46خاتون افیسٹ میں سے ایک تھی
38:48جن سے پروفیشنل جیلسی رکھنے کے
38:50باوجود ان کے کلیگز
38:51ان سے محروب ہونے پر مجبور تھے
38:53وہ بہت نوچوان افیسٹ
38:54جس کی قابلیت کا ماننے
38:55اثرانے میں اس کے
38:56میل کلیگز کا
38:59شازن نظم
39:01شازن نظم آڑے نہیں آتا تھا
39:03اور اس میں اس کی قابلیت کے ساتھ
39:05اس کی پرسنیلٹی کا بہت زیادہ دخل تھا
39:07اور اس قابلیت اور ٹریک ریکارڈ کے ساتھ
39:09اس کا کسی بھی جگہ پر ہونے کا مطلب تھا
39:12کہ انہیں اکس مراد علی کے ساتھ
39:14اوور شیڈو ہو جانے سے
39:15بچنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ لگن
39:17اور مستدی کے ساتھ کام کرنا پڑتا تھا
39:20جتنا کسی دوسرے مرض افیسر کے ساتھ
39:22کام کرنے میں
39:23وہ تو فل برائٹ اسکولرشپ اور امریکہ گئی ہوئی تھی
39:26شہر بنو کو یک دم یاد آیا
39:28آخری بر ان کے گھر پر کسی
39:30گیٹ ٹو گیدر پر آکس اور شہر دل کے
39:32کسی بیچ میٹ نے اس کا ذکر
39:33اس حوالے سے کیا تھا
39:35واپس آگئی ہے
39:36شہر دل نے چائے کا سپ لیتے ہوئے مقتصر ان کہا
39:38اس سنگل شہر بنو نے اچانک پوچھا
39:41کیا پیتے ہوئے شہر دل کے لمحے کے لیے تھٹکا
39:43I don't know
39:44مثال کو لے کر آؤ ذرا
39:46مثال کو لے کر آؤ ذرا
39:47شہر دل نے جواب دیا اور پھر اس سے سرات سے سوال بدلا
39:51ایک سمنٹوں میں شہر بنو کے ذن سے گائے بھیجی
39:53میں دیکھتی ہوں اسے
39:54اسے آج بیتے بھی بابا سے بہت سے شکایتیں کرنی ہیں
39:58شہر بنو نے جاتے ہوئے جیسے اسے وان کیا تھا
40:00شہر دل مسکرا دیا
40:02چائے کا ایک اور سپ لیتے ہوئے اس نے سیلپون نکال کر
40:04وہ بیتنس کار دیکھا جو فیاض نے اسے ٹیکس کیا تھا
40:07وہ نمبر نہیں تھا جو شہر دل کے پاس تھا
40:10یقین ہے اس نے نمبر تبدیل کر لیا تھا
40:13چند لمحے وہ نمبر اور نام دیکھتا رہا
40:15پھر اس نے نمبر پر کال کرنا شروع کی

Recommended