Skip to playerSkip to main content
#AksNovel #AKSEpisode7 #UmeraAhmed #عکس #عکسناول #UrduNovel #UrduNovels #UrduNovelReading #NovelReading #UrduStories #PakistaniWriters #AsmasStories #Episode7 #UrduLiterature #NovelLovers

✨ عکس (AKS) — Episode 7 ✨ 📚 Novel by Umera Ahmed

کچھ حقیقتیں انسان کے سامنے آئینے کی طرح آتی ہیں، مگر انہیں پہچاننا آسان نہیں ہوتا۔

Welcome to Episode 7 of Aks (عکس), the famous Urdu novel by Umera Ahmed. Join us for another chapter of this captivating story, filled with emotions, meaningful moments, and thought-provoking twists.

🎧 Relax, listen, and enjoy the story!

❤️ If you enjoy Urdu novels: 👍 Like this video 💬 Share your thoughts in the comments 🔔 Subscribe to Asma’s Stories for more Urdu novel episodes.

Thank you for being part of our story-loving family! ❤️

#AksNovel #UmeraAhmed #UrduNovel

Transcript
00:00What did he say?
00:30What did he say?
01:00Railing کے پاس کھڑا عیبک لرز نہیں لگا تھا
01:02اس نے زندگی میں اس سے زیادہ خوف کبھی محسوس نہیں کیا تھا
01:05یہ چڑیا کی حضیانی چیخیں نہیں تھیں
01:08جس نے اس کے جسم میں خوف کی لہر دڑھائی تھی
01:10یہ اس کا برہنہ جسم تھا جس نے عیبک کو دہشت ددہ کیا تھا
01:14رailing کو پکڑے وہ تھر تھر کانپتے ہوئے کسی مجسمے کی طرح کھڑا رہا
01:18اس کے انکل نے چند جستوں میں نیچے
01:22چند جستوں میں نیچے زینوں پر پہنچانے والی چڑیا کو پکڑ لیا تھا
01:27وہ پہلے سے زیادہ بلاند آواز میں چلاتے ہوئے خیادین کو پکار رہی تھی
01:31پھر عیبک نے اپنے انکل کو یک کے بعد دیگرے چڑیا کے چہرے پر تھپڑ مارتے دیکھا
01:37پھر اس نے اپنے انکل کو دونوں ہاتھوں سے چڑیا کا مور گلہ دباتے ہوئے دیکھا
01:41وہ اب زمین پر گریوی تڑپ رہی تھی
01:43اس کی وہ ہزیانی چیخیں بند ہو چکی تھی
01:45اس کے انکل فرش پر چڑیا کے اوپر جھکے
01:48اپنا ایک ہاتھ چڑیا کے مو پر سختی سے جمعے دوسرا ہاتھ سے اس کا گلہ دبا رہے تھے
01:53ڈی سی ہاؤس میں اب تک
01:55اب ایک بار پھر وہی سناٹا تھا جو ہمیشہ رات کے سپہر میں ہوتا تھا
02:00جسے یا تو باہر درختوں سے علوں کی آوازیں توڑتی
02:03یا جنگروں کی
02:05یا باہر رات کا لون میں کھلے چھوڑے جانے والے گارڈز کے کتوں کی
02:11ریلنگ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے پتے کی طرح کامتے
02:14ایبک نے سب کچھ نیم خواہ آنکھ ذہن کے ساتھ
02:17کھلی آنکھوں اور پلکیں جبکائے اور سانس لیے بغیر دیکھا تھا
02:20اور دیکھ رہا تھا
02:21پرش پر گری چڑیا کا تڑپتا ہوا وجود
02:24آہستہ آہستہ ہلنا بند ہوتا جا رہا تھا
02:26وہاں اس کی آنکھوں کے سامنے جو کچھ ہو رہا تھا
02:29ایبک اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا
02:31اپنے ماہوپ نیم خواہ دے
02:33ذہن اور کامتے ہوئے جسم کے ساتھ
02:36چڑیا رات کے وقت وہاں کیوں آئی تھی
02:38ایبک کو یاد آ گیا
02:40میکنیٹک چیس بورڈ دیکھا ہے کبھی
02:42اس نے تین دن پہلے لون میں
02:44ایک ہرگوش کو پکڑنے کی کوشش میں
02:45اس کے پیچھے بھاگتے ہوئے
02:47یک دم پلٹ کر چڑیا سے کہا
02:48جو اسی کی طرح اس خرگوش کو پکڑنے کی کوشش میں
02:51بے حال ہو رہی تھی
02:52نہیں تو تمہارے پاس ہے کیا
02:54چڑیا بھاگتے بھاگتے رکھ گئی
02:56وہ پوری طرح ہام رہی تھی
02:58اس نے رکھ کر جیسے اپنی بے کابو ہوتی
03:00سانس کو بہال کرنے کی کوشش کی
03:02میرے پاس نہیں ہے انکل کے پاس ہے
03:05اتنا بڑا اور بہت خوبصورت
03:06ایبک نے ہاتھوں کے اشارے سے اس کا سائد بتایا
03:09چڑیا بے اختیار امپریس ہوئی
03:11کہاں ہے وہ جو اوپر ان کی لائبریری
03:13ہے نا اس میں رکھا ہے
03:14ایبک نے لوکیشن بتائی
03:16مجھے لا کر دکھاؤ نا چڑیا نے بے ساکتہ فرمائش کی
03:19ایبک چند لمحے سوچ میں پڑ گیا
03:21یہ ذرا مشکل اور نممکن سا کام تھا
03:23وہ بہت وزنی چس بھوڑ تھا
03:25اور اس کا سائد اتنا تھا
03:27کہ وہ اس کو کسی طرح بھی چھپا کر
03:29اوپر والی منزل سے نیچے والی منزل پر
03:31گھر میں مجود نوکروں اور دوسرے
03:33افراد کو دھوکہ دے کر نہیں
03:35لا سکتا تھا
03:37سرکھ جاتے ہوئے اس نے چڑیا کو یہ بتایا
03:39چڑیا کا چہرہ بج گیا اوکے
03:41اور اس بجھے چہرے اور روکے نے
03:43ایبک کو بے چین کر دیا
03:44اچھا میں کوئی راستہ تلاش کرتا ہوں
03:47اور وہ راستہ اس نے بلاخر دو دن کے بعد
03:49تلاش کر لیا تھا
03:50اس کی ممی اور آنٹی ویکنڈ پر کسی فیملی
03:53فنکشن میں شرکت کے لیے لاہور
03:55چلی گئی تھی اس کے ساتھ انکل نہیں گئے
03:57اور ایبک بھی ماں کے اسرار اور خفگی
03:59کے باوجود ساتھ نہیں گیا تھا
04:01وہ ماں کو کیسے یہ بتا دیتا
04:03کہ اس کے پاس چڑیا کو
04:05میکنیٹک بورد دکھانے کا ایک تنہری
04:07موقع آیا تھا اور وہ
04:09اسے کسی قیمت پر ضائع نہیں کر سکتا تھا
04:14ویکنڈ پر دونوں فیملی کے
04:15گھر سے چلے جانے کے بعد سر پر صرف
04:17ایبک اور اس کے انکل تھے وہ دونوں
04:19بہت دیر تک ان کے گھر سے چلے جانے کا انتظار
04:21کرتے رہے اور پھر بلا آخر مایوس ہوگے
04:23وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ
04:25ہال کمرے میں بیٹھے تھے جہاں سے گزر
04:27کر ہی وہ اوپر والی منزل پر جا سکتے تھے
04:29شام ہو جانے پر بھی جب اس کے
04:31انکل گھر پر ہی رہے تو ایبک نے جیسے
04:33ایک اور منصوبہ بنایا ان دونوں نے
04:35تیہ کیا تھا کہ ایبک کچن کا اقبی دروازہ
04:37جو نوکروں کے جانے کے بعد بند ہو جاتا تھا
04:39وہ رات کو کھول دے گا
04:41چڑیا خیر دن اور حلیمہ کے سونے کے بعد
04:43اپنے کوارٹر سے نکل کر کچن میں آ جائے گی
04:45اور پھر وہ دونوں اوپر لائبریری میں
04:47جا کر نہ صرف وہ میگنیٹک چیس
04:49دیکھیں گے بلکہ چیس کھیلیں گے بھی
04:51وہ یہ پلان بنانے کے بعد
04:53شام کئی دوسرے سے رخصت ہو گئے تھے
04:55ایبک نے نوکروں کے جانے کے بعد دروازہ
04:57کھول دیا تھا اور وہ بہت دیر
04:58وہ چڑیا کے انتظار میں نیچے ٹہلتا بھی رہا
05:01پھر وہ اوپر جا کر ویڈیو گیم کھیلنے لگا
05:03اور اسے نہیں پتا وہ گیم کھیلتے کھلتے کب سویا تھا
05:06ہم نے تو چیس کھیلنی تھی
05:08ایبک کو جیسے کرنٹ لگا
05:09اور چڑیا چیس کھیلنے آئی تھی
05:10تو پھر انکل اور چڑیا کے کپڑے
05:12اور چڑیا کی چیخیں وہ تو کیوں مار رہے تھے
05:14ایبک نے ریلنگ کو پکڑے پکڑے
05:16کچھ آگے جھک کر دہشت زیدہ ذہن کے ساتھ
05:20ذہن کے ساتھ
05:20چڑیا کے تڑپتے ہوئے جسم کو دیکھنے کی کوشش کی
05:23چڑیا کا جسم ابائستہ حرکت کرنا چھوڑ رہا تھا
05:25ایبک اس لمحے بھی
05:27کچھ اور نہیں سمجھ پایا تھا
05:28ایک چیز کے سوا چڑیا مر رہی تھی
05:30یا شاید مر گئی تھی
05:34اس سٹنڈنگ میرر میں
05:35اپنے آق سے پر پہلی نظر ڈالتے ہیں
05:37اس نے اپنی یاداش کے سارے خانوں کو جسم سے
05:39اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح
05:40کھنگالنا اور جھانا شروع کر دی
05:42کتنے سال بعد اس نے اس میرر کو دیکھا تھا
05:44اور اس میرر میں کیا کیا دیکھا تھا
05:46آئینہ اتنے سالوں کے بعد
05:48آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا
05:49کم ابو تاب کے ساتھ
05:51لیکن اسی وقار کے ساتھ
05:52جس کے ساتھ اس نے پہلی بار دیکھا تھا
05:55گھر کا
05:58ایکچیریر مکمل بدل چکا تھا
06:00وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا
06:01جیسے کسی شہزادی کا رمال تھا
06:03جسے وہ پھال کر پھٹنے اور غائب ہونے سے
06:06پہلے شہزادی کی رہنمائی کے لیے
06:08باہر چھوڑ گئی تھی
06:09وہاں سراغ
06:10ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا
06:13چلموں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے
06:15اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی
06:17تب ہی وہاں سے ہٹے گا
06:18غائب ہوگا جب حضرت سلیمان
06:20کے اصا کی طرح سے
06:22اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی
06:24پھر ایک دن وہ برادے کے ایک
06:27ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے وے
06:29ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹا دیا جاتا
06:31پہتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس
06:33کا آکھ سے دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا
06:35ورنہ مانکھوں کے ساتھ اس آئینے میں
06:37نظر آتی امارت کے بیرونی حصے
06:39کے آکھ سے کو دیکھنے لگی
06:40عمرین کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے
06:43جب وہ آخری بارت گھر سے گئی تھی
06:45وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوبصورت ترین
06:47اور سیاہ ترین باپ تھا
06:48وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت
06:51اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی
06:53لیکن وہ گھر جو وہاں آ کر بسنے والے
06:55انسانوں کے توام ایسا سال سے
06:57بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے
06:59وہاں کھڑا تھا اور پھر آئینے میں
07:01اپنی اور اس گھر کے اکسے کے درمیان
07:03اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا
07:06وہ نمانکھوں کے ساتھ
07:08بے اختیار مسکرہ ہے
07:09اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو
07:11واقعی کچھ سوچ نہیں پائی
07:13وہ اب اس کے آقا میں کھڑا
07:15اس کے دونوں کندوں پر ہاتھ رکھی
07:16اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
07:18you look lovely
07:19وہ بے ساکتہ ہس پڑی
07:21thank you for fluttering me
07:23اس نے
07:26جواباً کہا
07:27وہ اس کے آقا پر نظر جمع ہوئے بے اختیار مسکرہ ہے
07:30گہری گرم جوش
07:31بہت کچھ یاد دلا دینے والی آنکھیں
07:33بے حد باری کھونٹوں پر آنے اور کھلنے والی
07:35کھلنے والی بے ساکتہ رخمدار مسکرہ
07:38اور یہ مسکرہ کیا کیا طفان نہیں اٹھا دیتی تھی
07:41کون کون سی قیامت تھی جو
07:42بپا نہیں کر دیتی تھی
07:44you are more than welcome
07:45اس نے ذرا سا سانس کر
07:47اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر
07:51دھڑلے سے کہا
07:53تمہیں پتا ہے میں پہلی پر اس گھر میں کہا بھائی تھی
07:55اس نے آئینے میں اس کے اکسی کے اقب میں
07:58مجود امارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے
07:59مدھم آواز میں کہا
08:01وہ اب بھی اس کے کندے پر اسی طرح دونوں ہاتھ
08:03جماعے ٹکائے کھڑا تھا
08:04اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کر رہی تھی
08:07نرم سہارا دیتا ہوا دباؤ
08:09چند دمہوں کے لیے جیسے اس کا دل
08:11اس سے لپٹ جانے کو چاہا
08:13جب اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی
08:16آنسوں کے اکریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی
08:19دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا
08:22یادیں تھیں درد کے آبلے تھے
08:24جو گرم پانی کے چشموں کی ستہ پر اُبرنے والے
08:27بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے
08:29کندوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ
08:31سرات سے بازوں پر آئے پھر انہوں نے
08:33اسے اپنے حسار ملے لیا
08:35وہ حسار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلہ نہیں چھوڑا تھا
08:38وہ حسار جو اس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ
08:41اس کے بازوں کے حسار میں روتے ہوئے
08:43اس کی سمجھ میں نہیں آیا
08:44وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے
08:47وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے
08:50سمجھ میں بھی نہیں آ رہا تھا
08:52کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کر رہی تھی
08:54اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے
08:55وہ کیا کرے گی
08:57اس گھر کے برامتے میں لگا
08:58وہ آئینہ شہزادی تک پہنچانے والا سرواحہ سراغ
09:01اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا
09:04پہاڑ کی کھو میں
09:06جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند
09:09سلا دیا گیا تھا
09:11شہزدیل نے اس کو کوریڈور میں داخل ہوتے ہی
09:14بہت زور سے دیکھ لیا
09:16بہت دور سے دیکھ لیا تھا
09:17وہ کمیشنز آفر
09:19کمیشنر آفیس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر
09:22کھڑی اپنی عملے کے کسی رکن کو حدایت دینے میں مظلوح تھی
09:25چیف کمیشنر کے ساتھ ڈویجن کے تمام ڈی سیز کی
09:28دس بجے ہونے والی میٹنگ انتظام اس کی ذمہ داری تھی
09:31شہزدیل کے ہونٹوں پر بے ساکتا ایک مسکرہ رینجی تھی
09:34اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی کچھ سمجھ نہیں پایا تھا
09:37اکس امراد علی کا اپنے سامنے پاک
09:40وہ اپنے سامنے پا کر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی
09:43یا پھر غصہ آتا تھا
09:44لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا
09:46کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو
09:47خوشی کا وہ حال ہوتا تھا
09:49کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل باتا تھا
09:52اور غصہ سمندر کی ایک شہو ریدہ لہر کی طرح آ کر گزر جاتا تھا
09:58ایمرلڈ گرین لانگ شرڈ میں
10:00سیاہ چوڑی در پجامے
10:01اور اپٹے میں کندوں سے کافی نیچے تک جاتے
10:04اسٹیپ میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو
10:07وہ اب بھی بات کرتے ہوئے
10:08اپنے مقصود انداز میں جھٹک رہی تھی
10:10وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا
10:12لیکن شہو دل کو کم از کم دور سے
10:14اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا
10:16اس نے اپنے سامنے کھڑے شخصی ساتھ بات کرتے کرتے
10:19اپنا رخ موڑا تھا
10:20اور تب اس نے بھی شہو دل کو دیکھ لیا تھا
10:22ایک لمحے کے لیے شہو دل نے
10:23اس کو بھی بات کرتے کرتے تھٹکتے
10:27دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی
10:28ایک مسکرہات آئی تھی
10:30نظروں اور مسکرہاتوں کے دبادلے کے بعد
10:32اس نے عملے کی اس فرد کو کچھ آخری ہدایات نہیں
10:35شہو دل کے اس کے قریب پہنچتے
10:37پہنچتے اس کاملہ وہاں سے رخصت ہو چکا تھا
10:40اس کے برمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے
10:42شہو دل کا دل بے ایک تیار مچلا تھا
10:44کہ وہ اپنے اقب میں آنے والے
10:45اپنے سٹاف کو وہاں سے رخصت کرتے
10:47کم سے کم چند لمحوں کے لیے
10:49اکس کو دیکھ کر اس کے دل میں
10:50ہر قسم کی احمقانہ اور بچکانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں
10:53اور یہ ہمیشہ سے تھا
10:55ہاں پہلے کبھی
10:56اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو
10:59احمقانہ اور بچکانہ کا لیبل نہیں لگایا تھا
11:01اب لگانے لگا تھا
11:03یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی
11:07جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر
11:09اس کے سامنے کھڑی
11:10اپنی سیاہ چمکدار شفاف گہری آنکھوں
11:12اور بہت جان لیوہ مسکرات کے ساتھ
11:15اسے دیکھ رہی تھی
11:16ہلو اس کے خیر مقدمی
11:18کلمات کے آغاز سے پہلے شیر دل نے کہا تھا
11:21سر آپ کیسے ہیں
11:22آپ کیسے ہیں مہم
11:24آپ کا سفر ٹھیک رہا
11:26جی
11:29وہ بس راستے میں ہیں
11:31دس منٹ میں پہنچ جائیں گے
11:32کمیشنل آفیس میں کھڑے ادھر سے
11:34ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں
11:37ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے
11:40جو کہہ رہے تھے
11:41فارمل انداز اور کلمہ
11:42صرف ان کی مسکرات اور رانکیں تھیں
11:44جو ایک دوسرے کو وہ پہنچا رہی تھی
11:46جو ان کے ساساتھ تھے
11:48صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا
11:50پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا
11:51اس کے پاس سے
11:52نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود
11:54میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی
11:56شیردیل کمیشنر کے باہن جانے
11:58میز کی پہلی کرسی پر تھا
11:59اور وہ اس کے بل مقابل کمیشنر کے
12:01داہینی جانے پہلی سیٹ پر براجمان تھے
12:04اور اس سٹنگ ارینجمنٹ سے
12:06شیردیل کو کم از کم یہ اندازہ ہو گیا تھا
12:08کہ اس کے لئے ٹیبل کے سیرے پر بیٹھ رہے ہوئے
12:10کمیشنر رومیٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا
12:12آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا
12:15اور ایسا ہی ہوا تھا
12:16وہ بار بار بھٹک رہا تھا
12:18اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے
12:20وہ اب بھی اسی طرح بات کر رہی تھی
12:22جس طرح ہمیشہ کرتی تھی
12:23نپاتولہ انداز
12:25طول کر بولنے کی عادت
12:26بہت ٹھہراؤ والا دھیمہ
12:27ملائم لہجہ
12:29اور بہت شستہ
12:30اور مدلل گفتگو
12:34شیردیلی اکیڈیمی میں
12:35اس کے ساتھ ٹریننگ کے دوران
12:36اور وقتن فوقتن
12:37اس کے ساتھ کام کے دوران
12:39کبھی اس کو اسٹرس میں آ کر
12:41ٹیمپر لوس کرتے نہیں دیکھا تھا
12:43وہ خود بھی بے حد
12:44تھنڈے مزاج کا آدمی تھا
12:45لیکن اکس مراد علی جیسا
12:47تحمل اور کم
12:48اور کمپوزر
12:49اس نے بہت کم
12:51کسی میں دیکھا تھا
12:52وہ کم کو نہیں تھے
12:53لیکن بات چیز میں بے حد محتاط تھے
12:55شیردیلی اکیڈمی میں بھی
12:57اسے دوسری لڑکیوں کے ساتھ
12:58کبھی بے مقصد
12:59کپیں ہانگتے نہیں دیکھا تھا
13:01اور شاید یہی وجہ
13:03تھی کہ
13:04اکس کی بہت کم بات
13:06کبھی کہیں
13:08مسکیوٹ ہوئی تھی
13:10وہ کمیشنر کو
13:11کسی پروجیکٹ کی بریفنگ دے رہی تھی
13:13اور وہ اسے دیکھتے ہوئے
13:14بیٹھا بہت کچھ سوچ رہا تھا
13:15میٹنگ میں بریفنگ دیتے ہوئے بھی
13:17اکس اپنے بل مقابل ٹیبل کی دوسری طرح بیٹھے
13:20ایک شخص کی خود پر مرکوز نظروں سے آگاہ تھے
13:22ایسا کبھی نہیں ہوا تھا
13:24کہ وہ کبھی اس کے سامنے بیٹھی ہوتی
13:25اور شہر دیل کسی اور چیز کو دیکھ پاتا
13:28بریفنگ ختم کر کے
13:29اپنے سامنے رکھا پانی کا گلاس اٹھاتے ہوئے
13:32اتنا سامنے بیٹھے شہر دیل کو دیکھا
13:33وہ بھی پانی پی رہا تھا
13:36شہر دیل نے
13:36اکس امراض علی کو اکیڈمی میں
13:38ٹریننگ سٹارٹ ہونے کے ایک ہفتے کے بعد دیکھا تھا
13:40وہ میڈیکل لیول پر تھی
13:42اور پہلی پوزیشن پر آنے والے
13:44امیدوار کے بارے میں
13:46سب کا تجسس اور اشتحاق آسمان پر
13:48پہنچ چکا تھا
13:49شہر دیل ان میں شامل نہیں تھا
13:51اور وہ واقعی ان میں شامل نہیں تھا
13:53شروع شروع میں اسے اکس کے بارے میں جاننے میں
13:56تجسس اور دلچسپ بھی ضرور تھی
13:58لیکن اکس کی ٹریننگ شروع ہونے پر
14:00بھی وہاں موجود نہ ہونے پر
14:02دوسروں کی طرح اس کا اشتحاق بڑھنے کی بجائے
14:04کم ہو گیا تھا
14:05اس کی اعدام موجودگی نے جیسے شہر دیل کو
14:07وہاں سب کی توجہ کا مرکز بندنے کا
14:09موقع دے دیا تھا
14:11پہلی پوزیشن والے امیدوار کی اعدام موجودگی میں
14:14دوسری پوزیشن والا امیدوار
14:15قائم مقام کی حیثیت سے تمام مراد
14:17اور اضافی سہولتیں پار رہا تھا
14:20اکس مراد علی کے آنے تک
14:22شہر دیل اکیڈمی کی تمام خواتین
14:27کومنرز کا ہارٹ روپ بن چکا تھا
14:29وہ اپنے کومنرز میں آنے والے چند بات
14:31ترین خاندانوں کے سپوتوں میں سے ایک تھا
14:34اور ضرورت سے زیادہ ہینسوم تھا
14:36یہ ایکسپریشن اس کے لئے اکیڈمی کے ایک انسٹرکٹر نے
14:40اذرا تفنن استعمال کیا تھا
14:43جو پھر اس کے لئے اکثر دوسرے بھی چھر چھاڑ میں استعمال کرنے لگے تھے
14:47ایک ہفتے کے بعد شہر دیل کا تختہ
14:49کسی بخاوت کے بغیر دن دہارے الٹا دیا گیا تھا
14:52جب اکس مراد علی اکیڈمی میں اپنی جگہ لینے آ گئی تھی
14:56شہر دیل نیوز پیپر میں اس کی تصویریں دیکھ لینے کے بعد
14:59کم ات کم شکل کی حد تک اس سے واقع تھا
15:01لیکن ایک ہفتے کی میڈیکل لیو کے بعد
15:04اکیڈمی میں آنے والی لڑکی شہر دیل کو اس سے کہیں زیادہ
15:08انٹریکٹیو لگی تھی
15:10اس سے نیوز پیپر میں لگی تھی
15:12جتنی اسے نیوز پیپر میں لگی تھی
15:14وہ کسی اسکین انفیکشن کا شکار تھی
15:17اور قدرے سے دیاب ہونے کے باوجود اس کے چہرے گردن
15:20ہاتھوں اور بازوں پر سرخ رنگ کے چھوٹے بڑے انگینات دھبے تھے
15:24اور اس الرجی نے اکس مراد علی کو کافی مضحقہ خیز تھی
15:28حالت میں ہر حصہ متعارف کروایا تھا
15:30وہ اپنی اس حالت کے باوجود اور بے حد
15:33ریزرف طبیعت رکھنے کے بعد بھی
15:36اپنی کامن کے ساتھ
15:37اپنی کامن کے ساتھیوں سے
15:40الیک سلیک کی کوشش کر رہی تھی
15:41اگر وہاں کسی کو یہ غلط فہمی تھی
15:44کہ پہلی پوزیشن لینے والی
15:45امیدور خراب اور الٹے دماغ کے ساتھ
15:47وہاں پہنچے گی تو وہ غلط فہمی دور ہو گئی تھی
15:50حق سے مراد علی بے حد
15:52نرمکو اور دوستانہ
15:53میزاج رکھنے والی لڑکی تھی
15:55اگلی ایک ہفتہ میں شہر دل نے اس کو
15:57ہر ایک کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے دیکھ لیا تھا
15:59سوائے اپنے
16:02اور یہ چیت جیسے
16:04اسے بری طرح کھلی تھی
16:06اسے یوں محسوس ہوا تھا
16:07جیسے آکس نے اسے دانستہ نظر انداز کیا تھا
16:10اپنے سب سے قریبی
16:11اور سب سے خطرناک حریف کو
16:16چند بار اکیڈمی میں مختلی جگہوں پر
16:18ان کا آمنہ سامنا بھی ہوا تھا
16:19مگر تب بھی دونوں کے درمیان سرد مہری اور خموشی نہیں ٹوٹی تھی
16:22اگر آکس نے شیر دل سے
16:23الیک سلیک میں پہل نہیں کی تھی
16:26تو شیر دل نے بھی اسے گھاس نہیں ڈالی تھی
16:28وہ بھی اسے ہر جگہ پر
16:29اسی طرح نظر انداز کرنے کی کوشش کرتا تھا
16:32جس طرح وہ اسے
16:34وہ اس کے وہاں ہوتے ہوئے بھی
16:36اسے آنکھیں پھیرے رہتی تھی
16:37اور اس سرد مہری میں کچھ اضافہ
16:39اس حقیقت نے بھی کر دیا تھا
16:41کہ اس قیامت کے چند دنوں میں ہی
16:43اکس نے کلاسز میں شیر دل جیسے مہتاب کو
16:45گرہن لگانا شروع کر دیا تھا
16:47وہ کلاس میں ہمیشہ کم پوائنٹس پر بولتی تھی
16:50لیکن ان پوائنٹس اور ان مواقع پر بولتی تھی
16:52جن پر دوسروں کے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا
16:56یا جب دوسرے بحث کر کر کے
16:58کسی لوجک نتیجے پر پہنچنے میں
17:00نکام ہو چکے ہوتے
17:01اور پھر جیسے ہر ایک کو لاشاوری طور پر
17:04کلاس کے کسی کونے سے
17:05سب سے آخر میں
17:06وہ بھرنے والی اس بہت خوبصورت آواز کا انتظار ہوتا تھا
17:09جو مسئلے کے
17:10جو دھاگے کا سیرہ مکھن میں سے بال کی طرح
17:13نکال کر یوں پلیٹ میں
17:14سب کے سامنے رکھتی
17:15کہ چند لمحوں کے لیے سب کو اپنا
17:18چگ
17:21پسہ نہیں کیا لکھا ہوئے
17:25پسہ نہیں کیا لکھا
17:26سب کو اپنا آپ احمق محسوس ہوتا
17:28اور بہت آہستہ ایسا آکس مراد علی
17:31نے اپنے آپ کو کلاس کا فوکل پوائنٹ
17:32بنانا شروع کر دیا تھا
17:34وہ 188 لوگوں کے
17:36اس کامن میں سب سے بہتر کیوں تھی
17:38یہ بہت جلد ہی سب کو پسہ چلنا شروع ہو گیا تھا
17:41وہاں موجود تمام لڑکے
17:43لڑکیاں غیر معمولی دہانت کے حامل تھے
17:45اور تمام ہی اپنے اپنے علاقوں
17:46اور فیلڈز میں شاندار کارکردگی کا
17:48مظاہرہ کرتے آئے تھے
17:50تو اکیڈائمک ریکارڈ کی بنیاد پر
17:52اکثر دوسری لوگوں میں بہت زیادہ
17:54فرق نہیں کیا جا سکتا تھا
17:56لیکن وہ کسی بھی ڈسکرشن میں
17:57کسی بھی پوائنٹ کو سمجھنے میں
18:08کرتے ہوئے کمرشل کلیر اور
18:10ٹو دا پوائنٹ کلاس میں یہ اس کی امتیازی
18:12خصوصیات تھیں جو بعض مواقع پر
18:15دوسروں کو مروب کرتی تھی
18:16لیکن کئی مواقع پر دوسروں کو
18:18خائف اور انسیکیور کر دیتی تھی
18:20وہ دوسروں کی بات کارٹ کر کر جذباتی
18:22انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کرنے
18:25کی آدھی نہیں تھی اور نہ ہی اسی کلاس
18:27میں ہر سوال کا جواب سب سے پہلے
18:29دینے کا خبت تھا وہ ہر ایک
18:31کی بات بہت دیر تک اور بہت سکون سے
18:32سن لینے کے بعد اپنا ایک تلافی
18:34نقطہ نظر اپنا
18:36اس تلافی نقطہ نظر دوسروں کے
18:38سامنے رکھتی تھی کم سے کم اس معاملے
18:40میں وہ اپنے کامن کی تمام لڑکیوں
18:42سے مختلف تھے اکس مراد علی
18:45شہد کی دل دل ہے
18:46میں
18:48میں اپنے چند ساتھیں کے ساتھ
18:50بیٹھے شیر دل نے ایک دن اکس کے
18:52بارے میں کسی کا تفسرہ سنا تھا
18:54اور وہ جیسے آش اشکار اٹھا تھا
18:56اکس مراد علی کے لیے اس سے زیادہ موضوع
18:58ٹائٹل کوئی یوڈ نہیں ہو سکتا تھا
19:02اور شہد کی وہ دل دل پاکستان
19:04واپسی کے بعد چیف کمیشنر کو دی جانے والی
19:06اس پہلی بریفنگ میں بھی
19:08اسی طرح تباہ کن حد تک پوری اعتماد
19:10اور مستعد تھی
19:11میٹنگ کا اقتصام لنچ کے بعد ہوا تھا اور اپنی کاریوں
19:14کی طرف جاتے ہوئے پورے دن میں پہلی بار
19:16شیر دل اور اکس کو ایک دوسرے سے
19:18انفارمل گفتگو کا موقع ملا تھا
19:20ان کا سٹاف ان کی گاریوں کے پاتھ پہنچ چکا تھا
19:22اور وہ خود راستے میں رکھ کر
19:24ایک دوسرے سے گپ پشپ کرنے لگے
19:26تم کیا کر رہی ہو اب
19:27شیر دل نے اس کی اگلی مصروفیات کا پوچھا
19:30چار بجنے والے تھے اور آفس ٹائم تقریباً
19:32ختم ہنے والا تھا
19:33میں ابھی تو گھر جاؤں گی بھی شام کا دوبارہ آفس جانا ہے
19:36کیوں تم کیوں پوچھ رہے ہو
19:37اکس نے اس سے پوچھا
19:38میں سوچ رہا تھا بیٹھتے ہیں کہیں
19:40چائے کافی پیتے ہیں گپ شپ لگاتے ہیں
19:43کافی عرصہ ہو گیا بیٹھ کر بات کیے
19:44شیر دل نے اس سے کہا
19:46وہ چند لمحوں کے لیے جیسے سوچ میں پڑ گئے
19:48پھر اس نے جیسے کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا
19:51چلو ٹھیک ہے چلتے ہیں کہیں
19:52گھر چلو کہ یہ گولف کلپ چلیں
19:54اکس نے اس سے کہا
19:58شیر دل نے بے سکتا مسکراتے پہ کہا
20:00وہ جوابن قدم بڑھاتے پہ مسکرائی
20:02then you would be disposed of soon
20:05شیر دل نے اس کی بات پر
20:07شیر دل اس کی بات پر بے اختیار ہنسا
20:09وہ تو تم نے سالوں پہلے کر دیا
20:12dumped, discarded
20:13شیر دل نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے جیسے سے جتایا
20:17گولف کلپ چلتے ہیں
20:19بات کو اس نے اسی مہارہ سے بدلا تھا
20:21جس کی توقع شیر دل کو تھی
20:22شیر بانو کہتی ہے
20:24گولف کلپ کے ریسٹورنٹ کی گلاس ونڈوز کے پاس
20:26پڑی ایک ٹیبل پر اپنی نشیت
20:28سنبھالتے ہی اکس نے اس سے پوچھا
20:30بڑے خراب موڑ میں ہے آج کل
20:32شیر دل نے مسکراتے ہوئے کہا کیوں
20:34کیا ہوا وہ بھی مسکرائی میرا خیال ہے
20:36میں وجہ ہوں شیر دل نے
20:38ثگرٹ کا پیک کھول اور بڑی صندیدگی سے
20:40کہتے ہوئے ایک ثگرٹ نگالا
20:41وہ تو میں جانتی ہوں تم ہی وجہ ہوگے
20:44مگر اس پر کیا کیا ہے تم نے
20:46اکس نے مسکراتے ہوئے کہا
20:47اس بار سے کیا مراد ہے تمہاری
20:49وہ ثگرٹ سلگھاتے ہوئے تھٹکا
20:51پہلے کیا کرتا رہا ہوں میں
20:53میں تمہاری بائیگرافی نہیں لکھ رہی
20:56اکس نے اتمنان سے کہا وہ ہمسا
20:58یار میرا خیال ہے
20:59اگر میری طلاق ہوئی تو اس میں
21:01ایک بنیادی رول چیف کا ہوگا
21:03وہ اب ثگرٹ کا کش لیتے ہوئے بہت سنجیدی ہے
21:05جیسے کچھ تشویش سے
21:08کہہ رہا تھا
21:08اکس کو ہسی آگئی
21:10اس کا اشارہ چیف کمیشنر کی طرف تھا
21:17وہ خود ورک
21:20ورکا ہولک تھا
21:21اور اس کو بعض دفعہ آدھی رات کو
21:23کوئی فائل چیک کرتے ہوئے
21:25کوئی بھی ڈی سی یاد آ جاتا
21:27اور جو اسے آدھی رات کو یاد آ جاتا
21:29وہ فجر تک اپنی جان اسے چھڑا نہیں پاتا تھا
21:32اینڈی لطیف اپنا کام
21:34آفیس میں کر کے آتا تھا
21:35اور باقیوں کا کام اپنے گھر میں نپٹاتا تھا
21:37اور وہ بھی بہت فرصت سے
21:39ڈی ایم گی کے سینئر آفیسلز میں
21:41بہت کم اینڈی لطیف کی طرح
21:4318 گھنٹے کام کرنے کا
21:45اس ٹیمینا رکھتے تھے
21:46اور وہ جس دیویجن میں بھی ہوتا ہے
21:48اس کے ماتحتوں کی جان حلق میں
21:50اٹکی رہتی
21:51اور آج کل شاید شیر دل
21:52اس کی توجہ کا خاص مرکز تھا
21:54اور اس کی وجہ اس کے
21:55ڈسٹرکٹ میں شروع ہونے والے
21:59بڑے بڑے پروجیکٹ تھے
22:00تم ہس سکتی ہو
22:02کیونکہ
22:05شیر دل نے اس کی ہسی کو
22:07نظر انداز کرتے ہوئے
22:08اسے بتانے کی دانستہ کوشش کیے
22:11اکس نے جلانے والی
22:13مسکرار کے ساتھ
22:13سامنے پڑے ہوئے گلاس میں
22:14پانی انڈیلنا شروع کر دیا
22:16وہ شیر دل کی
22:17بخواس کی آتی تھی
22:18اور آج کی میٹنگ میں
22:19اکس کے علاوہ
22:20شیر دل سمیت تمام
22:21ڈی سی
22:22ڈی سیز
22:23اپنے اپنے حصے کی
22:24کافی بیزتی
22:25سمیٹھے بیٹھے تھے
22:26اور اس جھاڑ پہنچ کے بعد
22:28شیر دل سے
22:28وہ اسی طرح کے
22:29رد عمل کی
22:29توقع کر رہی تھی
22:30تو مجھے شیر بانو
22:32کے بارے میں کچھ
22:32بتا رہے تھے
22:33اکس نے پانی کے
22:34کلاس اٹھاتے ہوئے
22:35اس کی کوششوں پر
22:35جیسے پانی ڈالتے ہوئے
22:36کہا
22:37لیکن اسے پہلے میں
22:38تمہیں چیف کے بارے میں
22:39کچھ بتا رہا تھا
22:40شیر دل نے بات کو
22:41پھر وہیں لے جاتے ہوئے
22:42کہا
22:42چیف تمہیں پسند
22:43کرنے لگایا شاید
22:44وہ بڑی سنجیدگی سے
22:45کہہ رہا تھا
22:46شاید نہیں یہ گینن
22:48تمہیں اس سے
22:48کوئی پرابلم ہے کیا
22:49وہ بری طرح
22:50لا جواب ہوا تھا
22:51نہیں ہونی نہیں
22:52نہیں ہونی چاہیے کیا
22:53تو اس نے چند لمحوں
22:54کے بعد پوچھا
22:55بلکل نہیں ہونی چاہیے
22:56اکس نے ترکی بہ ترکی
22:57کھا اور ساتھ ہی
22:58اسے کھانسی آئی
23:00اور پھر وہ
23:00کھانسی ہی جلی گئے
23:02کیا ہوا یار
23:03شیر دل نے
23:03اس کا گلاس اٹھا کر
23:04اسے تھمانے کی کوشش کی
23:06یہ تمہارے
23:07سیگرٹ کا کمال ہے
23:08اکس نے بہ مشکل
23:09اپنی کھانسی پر
23:10کابو پاتے ہوئے
23:10پانی کسی پلیتے ہوئے
23:11کہا
23:12شیر دل نے چونک کر
23:13ہاتھ میں پکڑے
23:13سیگرٹ کی دل دیکھا
23:14کیوں
23:15سیگرٹ نہیں کہہ کیا ہے
23:16وہ قدر حیران ہوا
23:18اس سے پہلے
23:19اس کی سموکنگ نے
23:19کبھی اکسی کی
23:20یہ حالت نہیں کی تھی
23:21ایس تمہار ہے مجھے
23:22اکس نے پانی کا
23:23ایک اور گھونگ لیا
23:24ارے یہ کب سے
23:25شیر دل نے چونک کر
23:26بے اکتیار سیگرٹ کو
23:27ایسٹری میں مسل کر
23:28بچھاتے ہوئے کہا
23:30امریکہ کی سوگات ہے
23:31وہ مسکرائی
23:32اور تم جو
23:33چیف کے بارے میں
23:34بکواس کرتے رہتے ہو
23:35یا اگر ان تک پہنچ گئی
23:36تو دن میں تارے دکھا دیں گے
23:38وہ تمہیں
23:38حقس نے جیسے سے تنبیہ کی
23:40یار آدھی رات کو
23:41کول کر دیتے ہیں
23:42میری ساری رات آج کل
23:43فون پر چیف کے ساتھ ہی
23:44گزر رہی ہے
23:45شیر دل واقعی تنگ آیا ہوا تھا
23:47میرا خیال ہے
23:48اصلی کرش
23:49ان کا آج کل
23:50تم پر ہے
23:50حقس نے مسکراتے ہوئے
23:52اسے ٹیز کیا
23:53شیر بھانا کہتی ہے
23:54میں مستقبل کا
23:55انڈی لطیف ہوں
23:56شیر دل نے اس کے
23:57تنس کو نظر انداز کرتے ہوئے
23:59کہا
23:59یعنی تم چیف کا ماضی ہو
24:01حقس مسکرائی
24:02اگر چیف تمہارے جیسے
24:03ہینسوم ہوتے
24:04تو ان کا لائف اسٹیل
24:05تمہارے جیسا ہی ہوتا
24:06پھر تو ان کے پاس
24:07رات چھوڑ دن کو بھی
24:09کام کرنے کا وقت نہ ہوتا
24:10شیر دل نے ایک بر
24:11پھر اس کے چھوڑ کرتے
24:12جملے کے نظر انداز کیا
24:14تو دن فون پر
24:15کس کے ساتھ بات کر رہی تھی تم
24:16شیر دل نے اس کے
24:17دفترے کے جواب میں
24:18وہ سوال کیا
24:19جو اتنے دنوں سے
24:20اس کے ذہن میں
24:21کل بلا رہا تھا
24:22حقس نے بیگتیار
24:23گیری سانس لی
24:26اس ایک سوال کیلئے
24:27کتنی لمبی تمہید باندھی
24:28تم نے
24:29میرے ساتھ چائے پینے آئے
24:30گھما پھر آ کر
24:31ادھر ادھر کی باتیں کی
24:32تھی دا تھی دا
24:33اسی دن کیوں نے ہی پوچھ لیا
24:34تم نے
24:35اتنا لمبا صبر اور انتظار
24:37dead so unlike you
24:39شیر دل
24:39کیسے گزار لیا
24:40تم نے اتنے دن
24:41اس بیچانی کے ساتھ
24:43کہ میں کس سے بات کر رہی تھی
24:44اس دن
24:44بلکہ یہ کہنا چاہیے
24:46کہ کس کے ساتھ
24:47حسد کر بات کر رہی تھی
24:48اُس نے مونو سیکنڈ میں
24:49شیر دل کا مدب جانا تھا
24:51اور اسی رفتار سے
24:52شیر دل کی گفتگو کو
24:54مزاق اڑاتے ہوئے
24:55دھیڑا تھا
24:56شیر دل نے
24:57اس عورت کی ہاتھوں
24:58شرمیزہ آ کر
24:58برا منانا
24:59بہت پہلے ہی چھوڑ دیا تھا
25:01فائدہ نہیں تھا
25:02خواہ مخواہ
25:02اس کی باتوں کو
25:03دل سے لگانے کا
25:04اچھا تو پھر کون تھا وہ
25:06شیر دل نے
25:07اسی نٹرائی کے ساتھ بچھا
25:08پیرنٹس آئے ہوئے ہیں
25:09آج کل میرے
25:10ساری فیملی ہے یہاں
25:11تمہارا کیا خیال تھا
25:12کون ہوگا
25:13شیر دل ہی کی طرح
25:14اکس نے بھی
25:15اس کے
25:15ان اٹھے چیزیں
25:16سوال اور باتوں کا
25:17برا منانا
25:18اکیڈمی میں ہی
25:19چھوڑ دیا تھا
25:20اسے کوئی اثر نہیں ہوتا تھا
25:22شیر دل بیک تیار
25:23مسکر آیا
25:24اوہ پیرنٹس آئے ہوئے ہیں
25:25گریٹ
25:26اکس کے سوال کو
25:27اس نے بھی
25:28اسی طرح گول کیا تھا
25:29مگر کیا اتمنان تھا
25:30جو اس نے محسوس کیا تھا
25:32لیکن تمہاری فیملی
25:41تو ہر سال آتے ہیں یہاں
25:42اس بار میری وجہ سے
25:44کچھ جلدی آئے
25:44آگے ورنہ دسمبر میں آتے
25:46اکس نے تفصیل سے بتایا
25:48ویٹر اب انہیں کافی
25:50اور کافی اور سنیک
25:51سرف کر رہا تھا
25:52تمہارے اسٹیٹس میں
25:54کا تبدیلی ہوئی
25:54ویٹر کے جانے کے بعد
25:56کیک کیک سلائیز کو
25:57کار کر اٹھاتے ہوئے
25:58شیر دل نے اس سے
25:59وہ سوال کیا
26:00جو وہ بہت عرصے سے
26:01کرنا چاہتا تھا
26:01وہ ایک لمحے کیلئے
26:02خاموش رہی
26:03پھر اس نے کہا
26:04بدلنے کی کوشش کر رہی ہوں
26:06کیک کا ایک ٹکڑا
26:07شیر دل کو
26:08یک دم کڑوا لگا
26:09مطلب
26:10وہ کیک کا دوسرا
26:11ٹکڑا اٹھاتے اٹھاتے
26:12رک گیا
26:12تم یہ کیوں چاہتے ہو
26:14شیر دل کہ
26:14میں تمہیں اپنی
26:15ہر پرسنل بات
26:16بتایا کروں
26:16یہ بھی بتاؤں
26:17کہ میری فلان شخص
26:18نے منگنی
26:19یا شادی ہونے والی ہے
26:20یا ہو رہی ہے
26:21یا
26:22شیر دل نے
26:23اس کی بات کر رہی
26:23so you are seeing
26:24someone these days
26:25اگر تم مجھ سے
26:26یہ وعدہ کرو
26:27کہ اس کے بات
26:28اس ایشو کے بارے میں
26:28کہ سوال نہیں کروں گے
26:30تو میں تمہیں
26:30اس سوال کا جواب دوں گی
26:31اکس نے اس کی بات
26:33کے جواب میں کہا
26:33اوکے اب بتاؤ
26:35شیر دل نے
26:35بیساستہ کہا
26:36ہاں
26:37اس نے
26:37بھی فوراں ہی جواب دیا
26:39بیچ میٹ ہے ہمارا کوئی
26:40شیر دل بیگتیار
26:41ٹیبل پر کچھ آگے
26:42جھکایا
26:43تم نے کیا وعدہ کیا ہے
26:44ابھی
26:45اس نے کچھ خبگی سے کہا
26:46میں تمہارے بارے میں نہیں
26:47اس کے بارے میں پوچھ رہا ہوں
26:49وہ بھی اتنا ہی سنجیدہ تھا
26:50تمہیں کیا کرنا ہے
26:51اس کے بارے میں
26:52کچھ بھی جان کر
26:53اور تم کیوں
26:54اس کو مجھ سے چھپا رہی ہو
26:55اس نے ترکی بہ ترکی
26:56اکس سے کہا
26:57وہ بیگتیار
26:58گیری سانس لے کے رہ گی
26:59جب تمہیں شادی کا کارڈ ملے گا
27:01تو تمہیں پتا چل جائے گا
27:02کہ کون ہے وہ
27:03میں شادی کے کارڈ پر
27:04کارڈ پرنٹ ہونے سے
27:06بہت پہلے تمہیں بتا دوں گی
27:07کہ کون ہے وہ
27:08شیرد دل نے بہت سنجیدگی تھے
27:10اس سے کہا
27:11میں نے شیر بانوں کے بارے میں
27:12تم سے کچھ پوچھا تھا
27:14اکس نے بہت خبگی کے علم میں
27:15اس سے کہا
27:16میں نے خود تمہیں سب کچھ بدا دیا تھا
27:18چھپایا کیا تھا
27:19وہ لا جواب ہوگی
27:20وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا
27:21وہ واقعیوں سے کبھی
27:22کچھ نہیں چھپاتا تھا
27:24کم از کم
27:24اکس کو یاد نہیں پڑتا
27:26کتنے شیرد دل سے کچھ بھی پوچھا ہو
27:27اور اس کو جواب دینے میں
27:29تعمل رہا ہو
27:30وہ چند لمحے یہی سوچتی رہی
27:31بہش میٹھ ہے ہمارا کوئی
27:33شیرد دل نے اسے خاموشی
27:34دیکھ کر پھر کہا
27:36نہیں
27:36اس بہر اکس نے کوئی اعتراض کے بغیر کہا
27:39سیبل سرونٹ ہے
27:40نہیں
27:41شیرد دل نے بہتیار کہا
27:43گورنمنٹ سرویس میں نہیں ہے
27:44شیرد دل کو اب پہلے سے بھی
27:46کوئی زیادہ دلچسپی ہوئی نہیں
27:47تو وہ جواب دینے میں ایک بار
27:49پھر متعمل نظر آئی
27:52شیرد دل کو اس حوال کا جواب دینے کا
27:53مطلب کیا تھا
27:54وہ اچھی طرح جانتی تھے
27:55اس کی زندگی کی بہت ساری
27:58فنٹیسیسی کو ختم کرنے کا
27:59باعث بنتا رہا تھا
28:00اپنی نیک نیتی کے باوجود
28:02اور اس سے
28:03معلومات کے تبادلے کا
28:04مطلب اکس کو خائف کر رہا تھا
28:06شیرد دل بہت تحمل سے
28:08اس کے سامنے بیٹھا
28:08کافی پیتا ہوا
28:09اس کے چہرے پر نظریں جمعے
28:11اس کے جواب کا انتظار کرتا رہا
28:13وہ سالوں بعد مل رہے تھے
28:14درمیان میں بہت کچھ آیا تھا
28:16اور بہت کچھ ہوا تھا
28:17لیکن اس کے باوجود
28:19ایک ملاقات میں ہی ہوا
28:20ایک بار پھر یوں
28:20شیر و شکر ہو گئے تھے
28:22جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا
28:24اور ان کے تعلق کا
28:25حیران کن پہلو تھا
28:26وقت فاصلہ
28:28اختلافات
28:28کوئی چیز ان کے باہمی تعلق
28:30اور ذہنی ہم آنگنی
28:31کو ختم نہیں کر پائی تھی
28:33وہ جب بھی ملتے تھے
28:34بہت کوشش کے باوجود
28:35ایک دوسرے کے ساتھ
28:36بہت دیر تک
28:38ریز روڈ اور فارمل
28:40نہیں رہ پاتے تھے
28:41ریزرڈ اور فارمل
28:42نہیں رہ پاتے تھے
28:43بات شروع کرتے ہیں
28:44پھر بات سے بات نکلتی جاتی
28:46کونسی چیز آتی ہونے کی وجہ سے
28:48دوسروں کے لیے
28:49قابل مداخلت نہیں تھی
28:51انہیں یہ بھی بھول جاتا
28:53ان کے لیے جیسے
28:54ایک دوسرے کی ذات
28:55اور زندگی میں کوئی
28:56نو گو ایریا
28:57یا نو گو ایریا
28:59محسوس نہیں ہوتا تھا
29:00کم اکم شیر دل
29:01ایسا ہی سمجھتا
29:02اور محسوس کرتا تھا
29:03اور اس وقت بھی
29:04یہی ہو رہا تھا
29:05کافی کے کپ سے شروع ہونے والے
29:07گفتگو چند منٹوں میں
29:08کہاں پہنچ گئے تھی
29:09دونوں کو وہاں آنے سے
29:10پہلے اندازہ بھی نہیں تھا
29:11آگ سب پشتا رہی تھی
29:13اسے شیر دل کی آفر
29:14کبول نہیں کرنے چاہیے تھے
29:15شیر دل نے کافی کا
29:16مکھا لے کر کے
29:17ٹیبل پر رکھا
29:17اور پھر بے حد
29:18اور پھر بے حس
29:20سنجیدگی سے کہا
29:21وہ جو اس دن
29:22میں نے جسمت کے آواز سنی سے
29:24وہ یقینا یہی صاحب ہوں گے
29:25اور اپنے فیملی کے ساتھ
29:26تمہارے گھر پر تھے وہ
29:27شیر دل کی ذہن کو
29:29صرف وہ
29:29وزکتی طرح نہیں پڑتی تھی
29:31وہ بھی اس کی ہر بات
29:33اور ارادے کو
29:33ڈیکورڈ کرنے میں ماہر تھا
29:44دونوں کے لئے ممکن ہی نہیں تھا
29:45اکس نے بلاخر
29:46اپنے کافی ختم کر لی
29:47منگنی ہوئی ہے
29:48یہ شادی کی ڈیٹ فکس ہو گئی ہے
29:50شیر دل یویت بنان سے
29:52پوچھ رہا تھا جاتے
29:53اسے اپنے
29:53تکے کے تیر
29:55ہونے کا
29:56الہامی یقین ہو
30:00وہ صرف ہمارے گھر آئے تھے
30:01دونوں فیملی دیکھ
30:02دوسرے سے ملیں اور بس
30:03اور کچھ فائنل نہیں ہوا بھی
30:05اکس نے مزید کچھ پانے کا
30:06ارادت تک کرتے ہوئے سے بتایا
30:08اور کون ہے یہ موصوب
30:09شیر دل نے کانٹے کے ساتھ
30:11کڑوے کیک کا ایک اور ٹکڑا اٹھایا تھا
30:13میرے ساتھ امریکہ میں ہی تھا
30:14بوسٹن یونیورسٹی سے پی ایڈی کی ہے
30:17اس سال اس نے
30:19ماس کمیونیکیشنز میں
30:21پولیٹیکل فیملی سے
30:22تعلق ہے اس کا
30:23اور اس کے فادر
30:25پارلیمنٹیرین ہے
30:25اور اب تم مجھے
30:27ڈھونڈ کر اس کے بارے میں
30:28کچھ ایسی معلومات دینا
30:29کہ مجھے اس کی شکل دیکھنے میں
30:30بھی دلچسپی نہ رہے تھا
30:32بہت سنجید کی سے کہے
30:33کہ آخری جملے پر
30:34شیر دل کو پہ ایک تیار ہسی آئی تھی
30:36لیکن اکس کو نہیں
30:37وہ جانتا تھا
30:38کہ اکس کا اشارہ کس طرف تھا
30:40غریح حمید کی طرف
30:41اور ان تمام مردوں
30:42کی طرح جنہیں ماضی میں
30:44وہ وقتن فوقتن
30:45اکس شادی کی نیت سے
30:46کنسیڈر کرتی رہی
30:47اور شیر دل ہر بار
30:48کوئی نہ کوئی ایسی چیز
30:49ان لوگوں کے حوالے سے
30:50اس کے سامنے پیش کرتا رہا
30:52کہ وہ کس دیر کے لیے
30:53سکتے میں آ جاتی
30:54شیر دل جیسے فیملی بیک گراؤنڈ
30:56اور پہنچ کے ساتھ سے
30:57کسی کا کچھا چٹھا
30:59نکال کر پیش کر دینا
31:00دو منٹ کا کام تھا
31:02لیکن ان دو منٹوں کی
31:03محنت کا نتیجہ
31:04اکس کے کئی ہفتوں کے
31:05خوابوں کا دھڑن تختہ کر دیتے تھے
31:07یہ تسلیم کرنے کے باوجود
31:09کے شیر دل کی معلومات
31:10اسے بہت سارے غلط فیتنوں
31:12غلط انتخاب سے بچاتی رہی تھی
31:14وہ کم اکم اس ایشو پر
31:16شیر دل کی
31:16اس پر
31:19پرو ایکٹیف
31:21کیا لیکن ہے
31:22پرو ایکٹیف سروس سے
31:23خوش نہیں تھی
31:24اور تو میں تب کروں گا نا
31:26جب تم مجھے اس لڑکے
31:27اور اس کے والد صاحب کے
31:28نام بزانے کی ذہمت بھی کرو گی
31:29شیر دل نے بڑے تمنانت سے
31:31اسے کہا
31:31یوں جیسے آگ سے خود
31:33اسے اپنی مدد کے لیے کہہ رہی تھی
31:34دونے دوسرے کو کچھ دیر کے لیے دیکھتے رہے
31:37پھر اکس نے کہا
31:38احسان ملہی کا بیٹا ہے
31:40جباد ملہی
31:40شیر دل نے فوری طور پر
31:42رد عمل نہیں دیا
31:43آگ سے کچھ دیر
31:44جیسے اس کے رد عمل کی منتظر رہی
31:46تم کچھ نہیں کہو گے
31:47اس کے بارے میں
31:48اس نے بلا کر شیر دل سے خود پوچھا
31:50تمہیں پسند کرتی ہو
31:51شیر دل نے غیر متوقع سوال کیا
31:53نہیں میں نے اسے بھائی بنایا ہوا ہے
31:55نہیں بھائی تو تم نے مجھے بنایا ہوا ہے
31:57اس کی بہت سنجیگی سے
31:59کئی بھی بات پر
31:59اکس کو بری طرح ہسی آئی
32:01وہ اس کے اس دن سے
32:02کا کانٹیکس بھی سمجھ گئی تھی
32:04وہ اچھا ہے
32:05پولٹیکل بیکگراؤن کے باوجود
32:07وہ بہت سوبر اور ڈیسنٹ ہے
32:08اکس نے شیر دل کے تفسرے
32:10کو نظرانداز کرتے ہوئے
32:11اس کے پہلے سوال کا جواب دیا
32:13لاہور کے چھچھورے ترین خاندانوں میں سے
32:15ایک یہ خاندان بھی ہے
32:18تو جواد ملحی
32:20احسان ملحی کی دوسری بیوی سے ہے
32:22ایک ہی بیٹا ہے
32:23اس کا دوسری بیوی سے
32:24پہلی بیوی سے شاید چار پان بیٹے ہیں
32:26شیر دل نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ
32:28اسے احسان ملحی کے خاندان کا تارکھ دیا
32:30اکس کو حیرت نہیں ہوئی
32:31لاہور کی کوئی ایسی نامر فیملی نہیں تھی
32:33جس سے شیر دل واقف نہیں تھا
32:35اور یہ کوئی ایسی حیرانی ملی بات بھی نہیں تھی
32:38وہ اور اس کی فیملی جس سوشل سرکل میں موگ کرتے ہیں
32:41وہاں ہر ایک کسی نہ کسی کو
32:43کسی نہ کسی کے حوالے سے جانتا تھا
32:45وہ خاموشی تو اس کے انکشافات سنتی رہے
32:47ڈاکٹریٹ تو کر لیا اس نے
32:49اب آگے کیا کر رہا ہے یہ
32:51امریکہ میں سیٹل ہوگا کیا
32:52شیر دل نے بات کرتے کرتے ہیں
32:54اچانک اس سے پوچھا
32:55نہیں یہاں فیملی بزنس ہے
32:56اسی کو سنبھالے گا
32:57اکس نے بتایا
32:58اور ملحی فیملی کے بزنس کے حوالے سے
33:01آپس میں ہی بہت سارے جھگڑے چل رہے ہیں
33:04میں اس حوالے سے زیادہ نہیں جانتا
33:05لیکن تم چاہو تو پتا کر کے بتا سکتا ہوں
33:08شیر دل نے کہا
33:11میرا نہیں خیال اس کی ضرورت ہے
33:13اکس نے بہت سنجیدگی تو اس کی آفر ٹھک رہی
33:17شیر دل مسکرائے
33:18ایسے تمہارا خیال ہے کہ تم کسی پولیٹیکل فیملی میں
33:20ارجت کر لوگی
33:22شیر دل نے اپنی سوال کا جواب
33:24وہ اس کے موں کھولنے سے پہلے ہی
33:26خود ہی دے دیا
33:27جواب بہت اچھا لڑکا ہے
33:29اکس نے بے استیار اس کا دفاع کیا
33:30میری اور اس کی بہت انڈرسٹیننگ ہے
33:32مجھے نہیں لگتا زیادہ مسئلہ ہوگا
33:34مجھے یقین ہے وہ بہت اچھا ہوگا
33:36لیکن تم پھر بھی جلدی مت کرو
33:38تھوڑا سوچ لو
33:39شیر دل نے سنجیدگی سے کہا
33:41دو سال سے سوچ رہی ہوں
33:42اکس نے بے استیار کہا
33:44اوہ تو دو سال سے
33:46اس لئے میں سہترہ کا رابطہ ختم کر کے بیٹھی ہوئی تھی
33:49شیر دل نے عجیب جتانے والے انداز میں کہا
33:51بیزی تھی بہت
33:52اکس نے اسے دیکھے بغیر کہا
33:54اوہ بھی
33:56کیا ہو گیا ہے
33:58اوہ بی اصلی
33:59وہ تو میں جان ہی گیا ہوں
34:01کہ اسٹڈیز کے علاوہ کیس کیز نہیں
34:03تو میں وہاں مطروف رکھا ہے
34:04شیر دل تن سے کیے بغیر نہیں رہ سکا تھا
34:07اکس نے ایک بار پھر بڑے تحامل سے اس کے بعد
34:09نظر انداز کرتے ہوئے کہا
34:10وارٹر سپلائی پروجیکٹ کی
34:14فیسی بیلٹی ریپورٹ
34:15ذرا شیر کر لینا مجھ سے
34:17اس نے باق کا موضوع بدلنے کی کوشش کی
34:19تو شیر دل نے اس کی کوشش کو کامیاب ہونے دیا
34:21وہ دونوں اب اپنے پروفیشنل معاملات
34:23ڈسکس کرنے لگے
34:25بار بی ڈول اپنے باپ کی گوز میں چڑھی
34:27اسے مسلسل اس فنکشن کی تفصیلات سنانے میں
34:30لگی ہوئی تھی جو وہ فیملی کے ساتھ
34:32ویکنڈ پر اٹنڈ کر کے آئی تھی
34:33اس کا باپ مسلسل ہوں ہاں کے ساتھ
34:36اس کے سوالوں کے جوابات دے رہا تھا
34:37لیکن وہ بار بی ڈول سے ہمیشہ کی طرح
34:39وہ سب نہیں پوچھ رہا تھا جو وہ پوچھتا تھا
34:41بار بی ڈول نے اس کی الجن بھری خاموشی
34:44نوٹس نہیں کی تھی یہ اس کی بیوی نے کی تھی
34:46اور رات ہونے سے پہلے اس نے اپنے شہر
34:48اس کے رویہ کے بارے میں پوچھنے کی کوشش کی
34:50تم کچھ پریشان ہو
34:52وہ اس کے سوال پر ایک کتاب پڑھتے پڑھتے چونگیا
34:55نہیں تو کیوں
34:56بس ایسے ہی تمہت پریشان ہو
34:58اور الجھے بھی لگ رہے ہو
34:59جب سے میں واپس آئی ہوں
35:00وہم ہے تمہارا
35:01اس کے شہر نے بے ساختہ کہا
35:03اور دوبارہ کتاب پڑھنے لگا
35:04نہیں کچھ نہ کچھ تو ہے
35:05تم شیر نہیں کرنا چاہتے تو اور بات ہے
35:08اس نے شہر کے جواب کو قبول نہیں کیا تھا
35:10یار بس آفیس کے کچھ پرابلم کی وجہ سے
35:12ٹینس ہوں
35:13شاید اس لیے ایسا لگ رہا ہے تمہیں
35:15اس نے اس بار مسکرا کر
35:16اپنی بیوی کو وضاحت دینے کی کوشش کی
35:18آفیس ہمیشہ ٹینشن کا باعث ہے
35:20تمہارے لئے
35:21پھر اب کیا ہو گیا
35:22اس کی بیوی نے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے
35:24سنجیدگی سے پوچھا
35:25کام بہت ہے آج کل آفیس میں
35:26اس نے بیوی کو گہری سانس سے لے کر دکھا
35:30اتنا کام ہو گیا
35:31کہ تمہارے پاس
35:32میرے یا اپنی بیٹی سے بات کرنے کے لئے بھی
35:34وقت نہیں رہا
35:35اس کی بیوی نے گلہ کرتے ہوئے کہا
35:37تمہارے پاس ہی تو ہوتا ہوں
35:38ہر وقت جیسے ابھی
35:40اس نے جیسے اپنی بیوی کے تشویش کم کرنے کی کوشش کی
35:43ہاں ہو تو تم پاس ہی
35:45لیکن پتہ نہیں کہاں پہنچے ہوئے ہو
35:47پچھلے چند دنوں سے
35:48اس بار اس کے شوہر نے کتاب دوبارہ کھول لیا
35:52کتاب کو دوبارہ کھول لیا
35:54وہ جیسے اس سے اس ٹاپک سے مکمل طور پر بچنا چاہتا تھا
36:00اور یہ خیر دن کہاں چلا گیا ہے
36:01شوہر سے بات کرتے کرتے ہو تھے
36:03ایک دم گھر کا سکتے اہم ایشو یاد ہے
36:05کہ تاپر اس کے شوہر کی گریفت کو چھوہر سکت ہوگی
36:07خیر دن کو نکال دیا ہے میں نے
36:09ایک صفحہ پلٹتے ہوئے اس نے بیوی کو دیکھے بغیر کہا
36:12بعض باتوں پر کسی سے بھی نظریں ملانا مشکل ہو جاتا ہے
36:15خاص طور پر اس شخص سے جو آپ کی زندگی کا ساتھی ہو
36:18آپ سے اندھی محبت کرتا ہو
36:19اور آپ کی ہر بات پر
36:20آپ نہ صدق نہ کہہ کر
36:23یقین کرنے کا عادی ہو
36:25نکال دیا
36:25وہ بری طرح چونکی کیوں
36:27خیر دن جیسے خان ساما کو ملازمت سے نکال دینا
36:30اور وہ بھی اس طرح چاہنا
36:31کسی وارننگ کے بغیر
36:33کسی وارننگ کے
36:35یا اس کو بتائے بغیر
36:36وہ حیران نہ ہوتی تو کیا ہوتی
36:37وہ آج تک یہاں جہاں پوسٹی رہے تھے
36:40اور جن دن ملازمین سے
36:41ان کا واسطہ پڑھ رہا تھا
36:43ان میں خیر دن بلا شبہ سب سے بہترین تھا
36:46اور اس حقیقت کو انہوں نے چند دنوں میں
36:50ہی تسلیم کر لیا تھا
36:51چوری کی تھی اس نے
36:52اس کے چورنے کتاب کا ایک اور صفحہ پلٹا
36:54وہ اب بھی اس کی طرف دیکھے بغیر بات کر رہا تھا
36:56خیر دن نے
36:57اس کو جیسے شور کی باپر کرنٹ لگیا تھا
37:00ہاں کیا چورایا تھا اس نے
37:01وہ بھی یقین نہیں کر پا رہی تھی
37:03چورا لیتا اگر میں اچانک بیڈروم میں نہ آ جاتا
37:05تمہاری یولری نکال کر بیٹھا ہوا تھا
37:07کتاب کے صفحے اب بہت رفتار سے پڑے جا رہے تھے
37:10وہ یقینی
37:10وہ بے یقینی تھے
37:12ایک لفظ بھی کہے بغیر اپنے شور کو دیکھتی رہی
37:14کتاب پر نظریں جمعے ہوئے بھی
37:16اس نے بہت بری طرح سے خیر دن کے لیے
37:18بیوی کی زبان سے لعنت و ملامت سننے کی خواہش کی تھی
37:21یہ جیسے تصدیق ہوتی
37:23کہ اس کی بیوی نے اس کی بات کا
37:24ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر یقین کر لیا ہے
37:26مگر بیوی خاموش تھی
37:28جب وہ اگلے کئی منٹ تک خاموش ہی رہی
37:30تو اسے کتاب سے نظریں ہٹانی پڑی
37:32اور اسے وہ اسے ہی دیکھ رہی تھی
37:34impossible
37:35وہ کم اسم یہ لفظ اپنی بیوی کے موز سے سننے کا خواہش مند نہیں تھا
37:39اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے
37:40وہ بے ساکتہ گردن نفی میں ہلا رہی تھی
37:43impossible والی کیا بات ہے اس میں
37:45نہ چاہتے ہوئے بھی وہ کچھ تند و تیز ہو گیا
37:48نوکر تو نوکر ہوتے ہیں
37:49کبھی بھی کچھ بھی کر سکتے ہیں
37:51ہم ان پر اعتماد تو نہیں کر سکتے
37:53چاہے وہ کتنے بھی اچھے کیوں نہ ہو
37:54وہ خیردن کے لیے بیوی کی پسندیدگی سے واقع تھا
37:57مجھے بھی تمہاری ہی طرح شوق لگا تھا
38:00لیکن میں اگر اچانک بیڈروم میں نہ آ جاتا
38:02تو تمہاری جولری غائب ہو چکی ہے تھی
38:04اس سے پہلے بھی کئی پر میری تھوڑی بہت رقم عزت ادھر ہوتی رہی
38:08میں نے تم سے دیکھر نہیں کیا
38:09لیکن میں محتاط ہو گیا تھا بہت
38:11خیردن تو شاید یہ سمجھ رہا تھا
38:13کہ تم لوگ گھر میں نہیں ہو
38:14میں رات کے سڑی میں بیٹھا رہتا ہوں
38:16تو وہ بڑے تمنان سے جولری کا صفایہ کر دے گا
38:19اور کسی کو پتہ بھی نہیں چلے گا
38:20اس نے اتنی لمبی بات کیوں کی تھی
38:22اس سے سمجھ میں نہیں آیا
38:23شاید یہ اس کی بیوی کے چہرے پر بے جیکنے کے تاثرات
38:26جن کو ختم کرنے کی ایک
38:29ڈیسپیریٹ کوشش تھی
38:30جو وہ کر رہا تھا
38:31یا پھر یہ اس کی اپنی آواز کا کھوکھلا پانتا
38:34جس کی باز گشت سے بچنے کے لیے
38:36اسے مسلسل بھوننا پڑ رہا تھا
38:39وہ بہت ختم کر کے چند لمحے بیوی کو دیکھتا رہا
38:41پھر جیسے اس نے کچھ بے بس ہو کر کہا
38:43تم اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو
38:45میں جانتا ہوں خیردن بہت اچھا کھوک تھا
38:47but you just don't worry
38:48ایک آدھ ہفتے میں اس سے بھی اچھا کھوک مل جائے گا ہمیں
38:52میں نے ایک دو لوگوں کو بتایا ہے
38:53تب تک جمچھے سے کام چلاو
38:55اس نے کچھن میں خیردن کے مدد گھر کا نام لی
38:57اور دوبارہ کتاب کھولی
38:59میری جولری بیڈروم میں نہیں تھی
39:01وہ چند لمحوں کے لیے ہل نہیں سکا
39:03آئینہ دیکھے بغیر بھی سندازہ ہو گیا تھا
39:06کہ اس کے چیرے کا رنگ
39:07اس وقت زرد ہوگا
39:08سر اٹھا کر اس نے میری بیوی کو دیکھا
39:10جس کے چیرے پر بے یقینی رلجن
39:11اب بھی ویسے کی ویتی تھی
39:13بیڈروم میں نہیں تھی تو کہاں تھی
39:14اس نے خود کو نورمر دکھانے کی حد تل مقدور
39:17کوشش کرتے ہوئے کہا
39:18میرے پاس میں ساتھ لے کی گئی تھی
39:20اس کا رنگ اب زرد سے یقینی سفق پڑا ہوگا
39:23اس نے دل ہی دل میں خود کو برا بھلا کہا تھا
39:25کم اکم یہ جھوٹ بولنے سے پہلے
39:27اسے ایک بار علماری میں جولری کی موجودگی
39:29کو ضرور کنفرم کر لینا چاہیے تھا
39:31میرا خیالہ خیر دن کے برے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے تمہیں
39:34اس نے بلاکر اپنی پیوی کو کہتے سنا
39:36شاید جولری اسے علماری میں نہیں ملی
39:39اسی لئے اتنی زیر لگی
39:40اسے ڈھونٹے ڈھونٹے
39:41وانہ وہ تو میرے آنے سے بہت پہلے
39:43تمہاری جولری نکال کر غائب ہو جاتا
39:45اپنی بیوی کو یہ موقع نہیں دے سکتا تھا
39:47کہ وہ خیر دن کو بے گناہ سمجھے
39:49میں کمرے میں آئے تو وہ علماری درات کھولے کھڑا تھا
39:52میں تو یہی سمجھا کہ تمہاری جولری نکال رہا ہے
39:55یہ تو بہت اچھا واقعہ وہ وہاں تھی ہی نہیں
39:57تم ساتھ لے گئی
39:58بات کرتے ہوئے سے احساس ہوا
40:00کہ اس کی بیوی ایک بر پھر اسے بھی یقینی
40:02کہ انہی تاثرات کے ساتھ ہے
40:04بلکہ جب کائے بغیر دیکھ رہی تھی
40:05اب کیا تھا
40:06وہ نے جیسے کراتے ہوئے دل ہی دل میں خود سے پوچھا
40:09وہ اتنا بڑا جھوٹ بولنے والا تو نہیں تھا
40:11کہ وہ اس پر یقین ہی نہ کر پاتی
40:13علماری درات کی چاپیوں سے میرے پاس تھی
40:15خیر دین نے ان کیسے کھول لیا
40:17چند لمحوں کے لئے اسے سمجھ نہیں آیا
40:19کہ اس کے چہرے کا رنگ اب کیسا ہو گیا ہوگا
40:21یا کوئی رنگ اب رہا ہی نہیں تھا
40:23اس نے اپنے آپ کو پھر کوسا
40:25وہ ڈی ایم جی کے قابل ترین افیسز میں سے تھا
40:29اور اس نے خیر دین کے خلاف چار شیٹ تیار کرتے ہوئے
40:31اپنی تقریباً ڈیڑھ سال کی ٹریننگ کی تقریباً
40:33ہر رسول کو نظر انداز کیا تھا
40:35جھوٹ کو دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ پیش کریں
40:38اس اکیڈمی میں وہ مضاہیاں ڈیبیٹ یاد آئی
40:40جو اس نے جیتی تھی
40:41سچا جھوٹ بولنے کے سوک آرامت رکھے
40:44ہر خیالی بلاو پر ڈالنے کے لئے
40:46اصلی قرمہ تیار کریں
40:48اس اکیڈمی کے ایک انسٹرکٹر کا
40:50پرو ورب یاد آیا
40:52یہ کھنے بنوالی ہوں گی چاپیوں
40:54یہ کون سا مشکل کام ہے
40:55یا پھر کسی اور چاپی سے کھول لی ہوگی
40:57کوئی پہلی بار تو چوری نہیں کر رہا ہوگا
40:59وہ یہ بغیر تحریکے کرے گا
41:01کتاب کے صفحے ایک بار پھر بڑھ کر
41:03رفتاری سے پلٹے جانے لگے
41:05اس کی بیوی نے اس سے کی اتبات کے جواب میں
41:07بھی کچھ نہیں کہا
41:08اور اس کی اس خاموشی نے جیسے اس سے کی جان حلق میں اٹکا دی تھی
41:12ان کے شادی کے تمام سالوں میں
41:13آج تک ایسا نہیں ہوا تھا کہ اس کی بیوی نے کبھی
41:16اس کے ساتھ اس طرح کے معاملات پر
41:18سوال جواب کیے ہوں
41:19وہ اپنی شور کی رائے اور ہر بات کو
41:21جھو کا تم قبول کرنے کی عادی تھی
41:23یہ اپنی شور پر اندھا اعتماد کی
41:25سنہری مثال تھی
41:26ایسا اعتماد نہ کرنے کی کوئی وجہ اس کے پاس نہیں تھی
41:30وہ اپنی شور سے دیوانوار محبت کرتی تھی
41:32یہ کیسے ممکن تھا
41:33کہ اس کی کسی بات پر یقین کرنے میں
41:35وہ جذبات اثر انداز
41:38نہ ہوتے
41:39میں سونے جا رہا ہوں بہت تھک گیا ہوں
41:41اس نے اپنی بیوی کی خاموشی تھی
41:42جیسے کچھ خائف ہوتے ہوئے وہاں سے
41:44اٹھنے میں آپ یہ سمجھی
41:46پتہ نہیں اس کی خاموشی میں
41:47اب مزید کون تھا
41:48سوال جائے تراز چھپا ہو ہوتا
41:50جو اسے لا جواب اور جھوٹا ثابت کر دیتا
41:52اور اس کا یہ اندازہ اور خچہ ٹھیک تھا
41:55شور کے بہتر پر جا کر لیٹنے کے بعد بھی
41:57وہ وہیں بیٹھی رہی تھی
41:58اس کے جہید کی لکری کی علماری تھی
42:00جس کی یہ دراز میں وہ جولری رکھتی تھی
42:02اور علماری کا ایک ایسرہ وارڈروپ پر
42:04مجتمل تھا
42:04مگر وہاں پر بہت قیمتی کپڑے لٹکے ہوئے تھے
42:07ایسے ملبوسات جو وہ
42:08اہم طور پر بہت بڑے لیول کی فیملی
42:10یا دوسرے فنکشن میں انتمال کرتی تھی
42:12ان کے اپنے بیڈ روم میں
42:14پرانے دمانے کی طرز کی
42:15ایک وارڈروپ دیوار میں موجود تھی
42:17اور اس کے اور شور کے روزمرہ کے ملبوسات
42:19اسی میں ہوتے تھے
42:20اور وہ وارڈروپ کھلی رہتی تھی
42:22خیر دیوار میں اس کے اور اس کے شور کے
42:25ملبوسات پرس کرنے کے بعد لٹکا دیتا تھا
42:27ایسا کئی پر اس کی اتو مجیدگی میں بھی ہوتا تھا
42:30اور وہ وارڈروپ خیر دیوار کے لیے ممنوع چیز نہیں تھی
42:32لیکن اس کا شور یہ کہہ رہا تھا
42:34کہ خیر دیوار میں علماری کھلے کھڑا تھا
42:36جس میں اس کی جھولی تھی
42:38اسے اچھی طرح یاد تھا
42:39کہ ویکنڈ شہر سے باہر گزارنے کے بعد
42:42واپس آنے پر اس نے اپنی علماری دراز کو
42:44اسی طرح لوگڈ پایا تھا
42:46جس طرح وہ چھوڑ کر گئی تھی
42:47اگر خیر دیوار نے نہیں انہیں توڑ پھوڑ کر کھولا تھا
42:51تو اسے کھولے ہی ملنے چاہیے تھے
42:53اور اگر وہ کسی چاپی سے کھولے گئے تھے
42:55تو خیر دیوار کی کھلی علماری
42:56اور دراز کے پر پکڑے جانے کی صورت میں
42:58انہیں دوبارہ لوگ کرنے کا موقع نہیں مل سکتا تھا
43:01اس صورت میں بھی اس کی علماری کو کھلا ہونا چاہیے تھا
43:04اور اگر انہیں بعد میں اس کی شور نے لوگ کیا تھا
43:07تو پھر اس کی شور کو یہ نہیں کہنا چاہیے تھا
43:09کہ شاید اس نے چابنیاں بنوا لی ہوں گی
43:11اور ان کے ساتھ کھولا ہوگا
43:13اس کی شور کے بیان میں تضادات تھے
43:17لیکن اس کے لئے یہ بات پریشان کو نہیں تھے
43:19پریشانیاں سے اپنے شور کے گھبرانے سے ہو رہی تھے
43:22اس نے زندگی میں پہلی بر اپنے شور کو کنفیوز دیکھا تھا
43:25اس کا شور اگر اسے جھوٹ کیا
43:27اسے پلندے کے بغیر سیدھا سیدھا
43:28کوئی بچہ پتا ہی بغیر یہ کہہ دیتا
43:30کہ اس نے خیرزن کو نوکری سے نکال دیا ہے
43:32تو اس نے شاید اس طرح کی عجیب فیلنگ سے احساس نہ ہوتا
43:35جوب ہو رہا تھا
43:37کچھ غلط تھا
43:38مگر کہاں
43:39وہ یہ ماننے کو تیار نہیں دی
43:40کہ مسئلہ اس کی شور کی سائیڈ پر تھا
43:42خیرزن کی سائیڈ پر نہیں
43:43اور اکر یہ ماننے کو تیار نہیں دی
43:45کہ جو کچھ اس کا شور کہہ رہا تو وہ ٹھیک تھا
43:47وہ رات گے تک بے بکتت بیٹھی رہی تھی
43:51پھر سونے سے پہلے اس نے پتا نہیں
43:53کیا خیال آنے پر ایک بار اٹھ کر علماری
43:55اور دراز چیکی ہے
43:56جن کے حوالے سے اس کی شور نے خیر دن پر
43:58اتنے سنگین الزمات لگایا تھے
44:00وہ کسی لوگ کو زبردستی کھولنے کے
44:02کوئی اثار نہیں تھے
44:04دراز میں اس کی چیزیں جنگی توں
44:05موجود ہیں جس طرح اور جس طرح سے وہ رکھا کرتی تھی
44:08اور اس رات اسے نیند مشکل سے آئی
44:10اگلی صبح اس کے اور اس کی شور کے دربیان
44:12خیال دن کے حوالے سے کوئی بات نہیں ہوئی تھی
44:14اس کی شور نے جیسے سکون کا سانس لیا تھا
44:16لیکن شور کے گھر سے جانے کے بعد
44:18اس نے جمشید سے خیال دن کے بارے میں سوال کیا
44:20اور اس وقت اس نے پہلی برمیسوس کیا
44:22کہ گھر کے تمام ملازم کچھ عجیب سے طریقے سے
44:25ریاکٹ کر رہے تھے
44:26خیال دن کے نام پر وہ سب جیسے گنگے ہو جاتے تھے
44:29کہ ان کے چہروں پر عجیب سے ہوایاں
44:31ہونے لگی تھی
44:31جمشید وہ پہلا ملازم تھا
44:33جیسے اس نے خیال دن کے بارے میں
44:35پوچھا تھا جو عجیب رٹے رٹائے انداز میں
44:38ملا تھا
44:39وہ نقری چھوڑ کا چلا گیا
44:40جو عب اس سے مختلف تھا جو اس کی چھوڑ نے دیا تھا
44:43وہ کھٹ کی لیکن اس نے نظر انداز کر دی
44:46کہاں چلا گیا گاؤں
44:47جمشید اس سے نظریں ملائے بغیر مکانے کی انداز میں
44:50بول رہا تھا
44:51یوں جیسے وہ کوئی روبوٹ تھا
44:53اور پھر اگلے دو تین دن میں
44:54اس نے ہیرزنگ کے نام پر گھر کے تمام
44:56ملازموں کو روبوٹ بنتے دکھا تھا
44:58وہ علجنے اور چڑنے ہی لگی تھی
45:00اور انہیں کے اس ایک ردی عمل سے
45:02وہ جیسے کسی ٹھٹر کے ایکٹراز تھے
45:04جو اپنی لائنگز کو بہت ناقص اور بھونڈے انداز میں
45:07ادا کر کے
45:07اپنے رول کو مذہب کا خیز بناتے ہوئے
45:10آوڈینس سے نوٹس ہو رہے تھے
45:12داہت تکیر
45:14کیا لیتے
45:17وہ ہٹنگ کے مستحق بھی نہیں ہو پا رہے تھے
45:19وہ چند دن سے زیادہ
45:20ہیرزنگ کا مومہ سمجھنے کی کوشش نہیں کر سکی
45:23اس کی ناند اپنے بچوں کے ساتھ گرمی
45:25کی چھٹیوں گزار کا واپس جا رہی تھے
45:26اور اس کا بیٹا ایبک پچھلے کئی دن سے
45:28بری طرح بخار میں پھنک رہا تھا
45:30اگلے چند دن ایبک کو ہسپیٹر لائیز
45:33کرنا پڑا
45:34اور خیر دن کی پورے سرار گنشدگی
45:36بڑے آرام تھے
45:37وہ صرف پوچھتے چلے گئے
45:38ایبک اس کے شور کو بہت عزید تھا
45:40یہ وہ ہمیشہ سے جانتے تھے
45:42لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا
45:43کہ ایبک کی بیماری اس کے شور کو
45:45اس طرح اپسٹ کرے گی
45:46اس نے اپنے شور کو اپنی بیٹی کی چھوٹی موٹی بیماریوں پر
45:49اس طرح پریشان دیکھا تھا
45:51یا وہ اب اسے ایبک کی بیماری پر پریشان دیکھ رہی تھے
45:54ایبک بیماری کے دوران بہت چڑھ چڑھا ہو گیا تھا
45:56خاص طور پر اسے اپنے شور کے ساتھ
45:58ایبک کے رویہ کی سمجھ نہیں آئی تھے
46:00وہ اپنے انکر کو دیکھتے ہی
46:01بے وجہ زید کرتا
46:02بدتمیزی کرتا
46:03یا رونی لگتا
46:05اور اس کا شور جیسے اسے بہلانے کی
46:06ہر کوشش میں بری طرح نکام ہو رہا تھا
46:09وہ شاندہ چھوٹیاں جو شروع میں
46:11اس کے لئے بہت کچھ گوار اور یادگار تھیں
46:13اب آخری دنوں میں ایبک کی بیماری
46:15اور اس کے رویہ کی وجہ سے
46:16جیسے مستقل ٹینچر کا ایک ذریعہ بن گئی تھی
46:19اس کے نند کے پاس
46:20اب اس کے ساتھ آؤٹنگ یا شاپنگ کا ٹائم نہیں تھا
46:23اس کی مکمل توجہ اپنے بیٹے کی سیجابی کی ضرورتی
46:26اور انہی حالات میں
46:27جب اسپطال میں ایبک کی حالت کچھ بہتر ہونے پر
46:30اس کی نند نے واپس لہو جانے کا فیصلہ کیا
46:32تو اس نے جیسے سکون کی سانس لی
46:34نند اور اس کی فیملی کے ساتھ بہت دوستی ہونے کی
46:37باوجود وہ اپنے گھر میں ہونے والی
46:39اس مستقل تعمار تاری سے بیزار ہونے لگی تھی
46:41جو گھر آنے کے بعد اس کی شور کا بچہ
46:43کچھا وقت بھی لے لیتی تھی
46:45انہی دنوں میں باربی ڈول نے چند بار
46:47اس سے چڑیا کا بوچھا
46:48وہ اتنے دن سے چڑیا کو کہیں نہ دیکھنے پر
46:50جیسے کچھے تجسس کا شکار دی
46:52اصل تشویر شاید اسے لولی پاپس اور کینڈلز کی
46:55سپلائی کے بند ہونے کی وجہ سے
46:57وہی تھی جو پہلے چڑیا کی وجہ سے
46:59بقائدگی سے جا رہی تھی
47:00چڑیا یہاں سے چلی گئی ہے
47:02اس میں باربی ڈول کے اس تفسار پر
47:04اسے بتایا کہاں چلی گئی ہے
47:06باربی ڈول بری طرح حیران ہوئی تھی
47:08اس سے یہ سمجھ نہیں آیا تھا
47:10کہ چڑیا اپنا گھر چھوڑ کر کہیں اور کیسے چلی گئی تھی
47:13وہ اپنے نانا کے ساتھ اپنے گھوں چلی گئی
47:15اس میں اس نے باربی ڈول کے
47:17سوالوں کے جواب میں مختصرا کہا
47:19کیوں باربی ڈول پریشان ہوئی
47:21وہاں ان کا گھر ہے وہ وہاں رہیں گی
47:23اس نے ٹارنے والے انداز میں کہا
47:25ہمارے جتنا بڑا گھر ہے
47:27باربی ڈول نے
47:29کچھ دے خاموش رہا کر جیسے کچھ بے قراری
47:31کے علم میں ماں سے کہا شاید
47:33ماں نے کچھ گھول مل سا جواب دیا
47:34اب وہ کبھی یہاں نہیں آئے گی
47:36باربی ڈول نے ایک بار پھر بے حد بے قرار ہو کر
47:39پوچھا نہیں اس بار اس نے
47:41دوٹ ٹوک انداز میں جواب دیا
47:43اور اسکول بھی نہیں باربی ڈول کو
47:51باربی ڈول بے ساختہ مطمئن ہوئی
47:53یعنی چڑیا سے ملاقات کے امکانات ابھی باقی تھے
47:56گرمین کی چڑیاں ختم ہونے کے بعد
47:58باربی ڈول نے سکول جانا دوبارہ
47:59شروع کیا چڑیا سے دوبارہ ملاقات کی خواہش
48:02جیسے سکول جانے میں
48:03اس کی بنیادی جلچسپی کی وجہ بن گئی تھی
48:06پہلے دن سکول میں وہ متلاشی نظروں سے
48:08بریک ٹائم میں چڑیا کو ڈھونڈتی رہی
48:10اس سے پہلے پورا دن ہر بار
48:12کلاس روم کے دروازے کے سامنے تھے
48:13کسی کے گزرنے پر وہ بیختیار دروازے
48:16کو اس طرح مسکراتے ہوئے چیرے کے
48:18نظر آنے کی امید میں دیکھتی رہی تھی
48:20وہ بہت اداس پہلے دن
48:22سکول سے واپس آئی تھی
48:25اگلے دو دن
48:26چڑیا کا انتظار کرنے کے بعد وہ چوتھے دن
48:27خود چڑیا کی کلاس میں چلی گئی تھے
48:29وہ تو سکول ہی نہیں آ رہی
48:31اس کی ایک فرنڈ نے باربی ڈول کو دیکھنے پر
48:33اسے بتایا اور ساتھ ہی اسے پوچھا
48:35وہ بیمار ہے کیا
48:36باربی ڈول کو سمجھ میں نہیں آئے
48:38کہ اس کی فرنڈ کے سوالات کا کیا جواب دے
48:40چڑیا تو واقع اس کے گھر میں تھی
48:42اسے پتہ ہونا چاہیے تھا اس کے بارے میں
48:44وہ بہن چلی گئی کہ
48:46اس نے سوچ کر اس کی فرنڈ کو وہ وجہ بتائی
48:48جو اس کی ممی نے بتائی تھی
48:49اور وہ وہاں سے آگئی
48:50ایک ہفتہ گزرنے کے بعد چڑیا کی کلاس ٹیچر
48:53اس کے پاس آئی تھی
48:54اور انہوں نے ایک وارننگ لیٹر
48:55اس کی ڈائری میں چڑیا کو دینے کے لیے
48:57اس ٹیپل کر دیا تھا
48:59وہ ایک ہفتہ سے سکول سے بغیر اطلاع
49:00اور بغیر اپلیکیشن کے غائب تھے
49:02کچھ دن اور گزر جاتے تو
49:03اسکول سے اس کا نام کار دیا جاتا
49:05اس سکول کے پاس سے چڑیا سرابتے کا واحد
49:07ذریعہ باربی ڈول تھے
49:09کیونکہ چڑیا اور باربی ڈول کا
49:10ہوم ایڈرس ایک ہی تھا
49:11چڑیا کی کلاس ٹیچر کا
49:13اپنی کلاس کی سب سے برائٹ بچی کی
49:14یوں اچانک غائب ہونے پر
49:15بہت تشویش تھی
49:17اس سے پہلے اس نے کبھی
49:18اسکول سے چھٹی نہیں کی تھی
49:20بغیر اطلاع چھٹی کا
49:21تو خیر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
49:23وہ باربی ڈول سے
49:24چڑیا کے بارے میں سوالات کرتی رہیں
49:26اور اس کے یہ بتانے پر
49:27کہ چڑیا گاؤں چلی گئی
49:28وہ گاؤں میں اس کا ایڈرس
49:30پوچھنے کی کوشش کرتی رہیں
49:43اگر باربی ڈول خود
49:44اسکول نہ جا رہی ہوتی
49:45تو خیر دن کے دیئے وے
49:46فون نمبر پر رابطہ کرنے پر
49:47یقیناً اسکول کلر کو
49:49کوئی خاطر خواہ جواب نہیں ملا تھا
49:51اور خاطر خواہ جواب ملتا بھی
49:52کیسے
49:52ڈی سی ہاؤس کا اپریٹر چڑیا
49:54کہ اسکول سے آنے والے
49:56ایک کال پر خیر دن کے بارے میں
49:58انہیں اتنی تفصیلات دے سکتا تھا
50:00خاص طور پر جب گھر کا
50:01حرم الازم اندر کی کہانی سے واقع تھا
50:03لیکن خموش تھا
50:04تو اپریٹر کے پاس بھی
50:05یہ کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا
50:06کہ خیر دن جوب چھوڑ گیا تھا
50:08وہ بہت دیر تک
50:09اس وارننگ لیٹر کے میٹر کو
50:11میٹر کو پڑکی رہی
50:12الجنوں کی دوری میں
50:13ایک گھرا اور لگی تھی
50:14وہ اچھی طرح جانتی تھی
50:15کہ خیر دن کتنے شوق اور محنت تھے
50:17چڑیا کو پڑھا رہا تھا
50:19اور وہ اس بات سے بھی واقع تھی
50:20کہ اس کی تعلیم کے
50:21اکھرا جاز وہاں سے پوسٹ آؤٹ ہونے والے
50:23ایک پرانے آفیسر اور اس کی بیوی اٹھا رہے تھے
50:26اور وہ اس بات سے بھی اگاہ تھی
50:28کہ چڑیا ایک آؤٹسٹینڈنگ سٹوڈنٹ تھی
50:30وہ جتنی بار بھی باربیڈول کے سکول جا کر
50:33سسٹرا ایگنس سے ملی تھی
50:35ہر بار اس نے ان سے چڑیا کے قصیدے سنے تھے
50:38وہ آہستہ آہستہ بچی کے لیے
50:39اپنے دل میں ایک نرم گوشہ رکھنے لگی تھی
50:41کئی بار اندر بیٹھے ہوئے اس نے چڑیا کو
50:43لون میں باربیڈول کے ساتھ
50:44نرسری ریزم گاتے ہوئے سنا
50:48نرسری ریمز گاتے ہوئے سنا
50:50اس کی آواز اور دل لب و لہجہ
50:51اتنا خوبصورت اور ہندہ تھا
50:53کہ وہ بہت بار اس کی ریمز سننے بیٹھ جاتی تھی
50:56اور باقی رہی تھی
50:57ایک اثر باربیڈول کے سنائے ہوئے
50:58کس نے پوری کر دی تھی
51:00اہبکی ماں کے برس چڑیا کے بارے میں
51:02یہ سب کچھ
51:04جان لینے کے بعد
51:05اس نے باربیڈول کو کبھی اس کے ساتھ کھیلنے سے روکا نہیں تھا
51:08لیکن اس کے باوجود اسے ہمیشہ محسوس ہوتا تھا
51:12کہ وہ بچی خود ہی ان دوگوں کے سامنے
51:13باربیڈول جاتے دوسرے بچوں کے قریب آنے سے اجتناب کرتی تھی
51:16اور اب بیٹھے بٹھائے
51:17اس بچی کا اس طرح غائب ہو جانا
51:19اسے سمجھ نہیں آیا تھا
51:20خیردن کی نوازی نے سکول جانا چھوڑ دیا ہے کیا
51:23ہاتھے گھنٹے پر اپنے شور کے گھر آنے پر
51:25اس نے چڑیا کہ ورننگ لیٹر کا تذکرہ اس کے سامنے چڑھا
51:27وہ دونوں آپ کوئی دور پہلے
51:29شام کی چائے پینے کے لیے بیٹھے تھے
51:30وہ چائے کا سپ لے تو پوری طرح بدکا
51:32خیردن کی نوازی کا مجھ سے کیا تعلق ہے
51:35وہ اپنے شور کے جواب پر جیسے حق کا بکہ رہ گئی تھی
51:37یقینہ وہ اپنے سوال کے جواب میں
51:39اپنے شور کے موہ سے یہ جواب سننے کی توقع نہیں کہہ رہی تھی
51:42میں کب کہہ رہی ہوں کہ آپ کا اس سے کچھ تعلق ہے
51:44میں تو صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ وہ سکول نہیں جا رہی
51:47اس نے دوبارہ اپنا سوال دو راتے پہ کہا
51:49لیکن اس دوبارہ اس نے سوال کو اطلاع بنا کر پیش کیا تھا
51:52اس کا سکول جانا نہ جانا ہمارا مسئلہ نہیں ہے
51:55اس دوبارہ اس کے شور نے کچھ بہتر جواب دیا تھا
51:57چڑیا کی کلاس ٹیچر نے اس کا وارننگ لیٹر
52:00ہماری بیٹی کو دیا ہے
52:01سرسری انداز میں یہ اطلاع اپنے شور کو دیتے ہوئے
52:03اگر اسے اپنے شور کے رہدے عمل کا اندازہ ہوتا
52:06تو وہ شاید ایسی اطلاع اسے دیتے ہوئے سو بھار سوچتی
52:09کیا مطلب انہیں اس کا وارننگ لیٹر میری بیٹی کی ذریعہ بھیجوایا ہے
52:13اس کے شور نے شاید کا کپ رکھ دیا تھا
52:16how dare they
52:17انہیں ایک آفیسر اور نوکر کے بچے میں کوئی فرق نظر نہیں آیا
52:20ان کی حمد بھی کیسے ہوئی
52:22کہ وہ میری بیٹی سے آ کر ایک نوکر کی بچی کے حوالے سے بات بھی کرتے
52:26اس نے زندگی میں اپنے شور کو کبھی اس طرح اتنی معمولی سی بات پر
52:30اتنا غضبناک نہیں دیکھا تھا
52:31وہ ہمارے سرونٹ کوارٹر میں رہ رہی ہے
52:33تو شاید اس لیے انہوں نے پوچھ لیا
52:35ایک اتنی بڑی بات نہیں ہے
52:37اس نے بہت حیرانی کے عالم میں
52:38اپنے شور کے غصے کو تھنڈا کرنے کی کوشش کی تھی
52:41لیکن وہ بری طرح ناکام ہوئی تھی
52:42شیر دل نے چند منٹوں کے اندر
52:44اپریٹر سے باربیڈول کے سکول کی پرنسپل سے بات کروانے کا کہا تھا
52:47تم اوور ریاکٹ کر رہے ہو
52:49اس نے اپنے شور کو سمجھانے کی کوشش کی تھی
52:51میں اوور ریاکٹ کر رہا ہوں
52:52وہ اس پر اُلٹ پڑھا تھا
52:55میں اسے اس لیے شیر کے مہنگے تینین سکول میں پڑھا رہا ہوں
52:58کہ وہ نوکروں کے بچوں کے لیے میسجز کا کام کرے
53:00وہ اتنی فید لیتے ہیں
53:02انہوں نے ڈیریکٹ خیر دن کو اپروچ کیوں نہیں کیا
53:05اس کے پوسٹل ایڈرس پر ڈیریکٹ کانٹیکٹ کرتے
53:07میری بیٹی سے انہوں نے اس طرح کا کام کیوں کروایا
53:09وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی
53:10کہ وہ غصے میں اس طرح آٹ او کنٹرل کیوں ہو رہا تھا
53:13کیا یہ کسی اور مسئلے کی وجہ سے تھا
53:15کسی آفیس کی ٹینشن کی وجہ سے
53:17یا پھر وہ مسئلہ واقعی اتنا بڑھا تھا
53:19کہ اس پر اس طرح ہنگامہ کیا جاتا
53:21وہ جس وقت فون پر
53:23سسٹر ایگنیس کے ساتھ
53:25بس دبانی کر رہا تھا
53:26وہ اس وقت بھی اسے اسی طرح بھی یقینی سے دیکھ رہی تھی
53:29ایک انہوں نے اسے یہ پتا ہوتا
53:31کہ وہ سکول کی پرنسپل سے اس طرح بات کرنے والا تھا
53:33تو وہ اسے کبھی ان سے بات کرنے نہ دیتی
53:35اسے یہ نہیں پتا تھا
53:36کہ سسٹر ایگنیس نے اسے جواباً کیا کہا تھا
53:39لیکن اسے اس کی گفتگو سے
53:43لیکن اسے اس کی گفتگو سے یہ پتا چل گیا تھا
53:45کہ اس کے انداز گفتگو کو بے حد
53:47ناپسند کر رہی تھی
53:49انہوں نے ایک پوائنٹ پر آگر کال بند کر دی
53:51اس کے شور کی انا پر یہ
53:53جیسے ایک اور کاری ضرب تھی
53:55وہ اس شہر کا ڈپٹی کمیشنر تھا
53:56جس کا مطلب اس معاشر میں بادشاہ کا ہوتا تھا
53:59اور ایک معمولی نن نے
54:00ڈی سی کی کال ڈسکنیکٹ کرنے کی جرد دکھائی تھی
54:02یہ بے عزتی سے
54:03بے عزتی سے
54:06بے عزتی تھی
54:07وہ بار بار اپریٹر کا دوبارہ کال ملانے کے لیے کہتا رہا
54:10اور اپریٹر اسے بار بار یہ اطلاع دیتا رہا
54:12کہ کہ
54:15کانوینٹ کے
54:16رہشی اسے اس کی کالٹن نہیں کی جا رہی
54:18اور اسے تمام عرصے کے درمیان
54:20وہ بار بار اپنے شور کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی
54:23کوشش کرتے رہی
54:24وہ اسی طرح غضبناک رہا تھا
54:25اور اس کا یہ رویہ اس کے لیے شرمندیکی کا باعث بن رہا تھا
54:30وہ جس بیک گرونڈ سے تھی وہاں اس تازہ تعلیمت ادری سے
54:32متعلقہ لوگوں کی بے حد عزت کی جاتی تھی
54:35خود اس نے
54:36اپنے شور اور اس کی فیملی کے سوالے سے
54:38بہت تمیز اور تہدیب والا پایا تھا
54:40اور اب ایک چھوٹی تھی بات پر وہ جیسے ہتھے سے اکھڑ گیا تھا
54:42وہ اس سارے آرگومنٹ کے بعد چاہے
54:44اسی طرح چھوڑ کر چلا گیا تھا
54:46اور اس کی بیوی ایک عجیب مخمسے کا شکار
54:49وہاں بیٹھی رہ گئی تھی
54:50رات تک وہ نارمل ہو چکا تھا
54:52اس نے دوبارہ فیلحال اپنے شور کے ساتھ
54:53یہ معاملہ ڈسکت کرنے کی کوشش نہیں کی تھی
54:56اسے لگ رہا تھا کہ وہ خیر دین اور اسے
54:58مطلقہ ہر چیزیں فیلحال بری طرح چڑھا ہوا تھا
55:00اور اس کے بات کرنے پر
55:02پھر اوور ریاکٹ کر سکتا تھا
55:04پاپا سکول آئے تھے
55:05باربی ڈول اگلی شام ہوگ کرتے ہوئے
55:08ماں کو اطلاع دی
55:09وہ بری طرح چونگئے
55:10اسکول آئے تھے پاپا
55:11وہ بری طرح حیران ہوئی
55:12تو اس کا شور کم از کم صبح ناشتے کی
55:14ٹیبر پر ایسا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کر کی گیا تھا
55:16ییس باربی ڈول
55:18کلرنگ بک میں کلر کرنے میں مصروف رہی
55:20تو میں سکول گئے تھے
55:21وہ پہلا موقع تھا جب اس نے اپنے شور کی گھر آتے ہی
55:23اس سے کسی مسئلے پر بات پر شروع کر دی تھی
55:26ہاں وہ تھٹکا
55:27اور پھر اس نے بغیر کسی تعمل کے کہا
55:29کس ہوئی ہے
55:30وہ بہت سنجیدگی سے اپنے شور کو دیکھتی رہی
55:32جو اپنی ٹائی اتارنے کے بعد اب کوٹ اتار رہا تھا
55:35سسٹر سے بات کرنی تھی مجھے
55:36اس نے مختصرا کہا
55:37چڑیا کے بارے میں
55:38اس نے بے اختیار کہا
55:39وہ بری طرح جنجلہ ہے
55:40تمہارے لیے کوئی ضروری ہے
55:42کہ تمہارے بات پر مجھ سے انٹیروگیٹ کرو
55:45وہ حق کا بقہ رہ گئی تھی
55:46ان کی ازدواجی دندگی میں یہ پہلا موقع تھا
55:48کہ اس سے اس طرح بات کر رہا تھا
55:50ان دونوں کی love marriage
55:51ایک مثالی شادی سمجھی جاتی تھی
55:53اور ان کا couple ایک ideal couple
55:55وہ دیوانہ ہوا رہے
55:55ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے
55:57ایک دوسرے پر اندھا اعتماد کرتے تھے
55:58اور اس رشتے میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا
56:01کہ اس کے ایک سوال پر
56:02وہ اسے اس طرح کی بات کہتا
56:04اس طرح کی بات اس نے کہی تھی
56:06میں ایک سوال کر رہی ہوں
56:07انٹیروگیٹ کیوں کروں گی
56:08اس نے جوابا جذبت ہوتے ہوئے
56:10اپنے شہر سے کہا
56:11تم سوال بھی مت کرو
56:12اس نے دو ٹوک انداز میں کہا
56:14تم سیسٹر ایگنس سے کوئی جھگڑا تو نہیں کر کے آئے
56:16اس نے اس کی بات پر آرگو کرنے کی بڑا ہے
56:19اس سے اس بات کے بارے میں پوچھا
56:21جس کے حوالے سے سے تشویش تھے
56:25نہیں
56:25اس نے آنکھیں ملائے بغیر اپنی بیوی سے جھوٹ بولا
56:27اس سے سچ بولنے کا مطلب
56:29گھر میں ایک نئی جھگڑے کا آغاز تھا
56:31تینک گوڑ میں سوچ رہی تھی
56:32تم سیسٹر ایگنس کے ساتھ جھگڑا کرنے گئے تھے
56:34میں بے وکوف نہیں ہوں
56:35ہاں لیکن تم بعض دفعہ بہت عجیب ریاکٹ کرتے ہو
56:38وہ چند لمحے اپنی بیوی کا چہرہ دیکھتا رہا
56:41پھر وہ بہت خاموشی تو واشم چلا گیا
56:43باربی ڈول آہستہ آہستہ چڑھیا کو بولتی گئی تھی
56:45اس کے باپ کے سکول کے چکر کے بعد
56:47دوبارہ کبھی کسی نے باربی ڈول سے
56:49چڑھیا کا ذکر نہیں کیا تھا
56:50صرف چڑھیا کی کچھ فرن تھیں
56:52جو باربی ڈول سے وقتاں فوقتاں چڑھیا کے بارے میں
56:55پوچھتی رہتے ہیں لیکن آہستہ آہستہ ان کے سوال بھی
56:57ختم ہو گئے تھے چڑھیا بہت خاموشی تھے
56:59ان سب کی زندگی سے نکل گئی تھی
57:01آج کے لئے اتنا ہی نیکس اپیسر لے کر
57:03کل بھی رہوں گی تب تک کے لیے
57:05اللہ حافظ

Recommended