#kpk #emergency #governorrule #maulanafazlurrehman #government #opposition #talks #negotiations #cmkpk #cmbalochistan #pakistan #india #SecurityForces #afghanistan #afghantaliban #afghanistangovt #pakistan #afghanrefugees #fieldmarshal #arynews #bordertalks
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Follow the ARY News channel on WhatsApp: https://bit.ly/46e5HzY
Subscribe to our channel and press the bell icon for latest news updates: http://bit.ly/3e0SwKP
ARY News is a leading Pakistani news channel that promises to bring you factual and timely international stories and stories about Pakistan, sports, entertainment, and business, amid others.
Category
🗞
NewsTranscript
00:00. . . . .
00:31foreign
00:32foreign
00:39foreign
01:02federal government
01:03and Pishawar
01:05and they have
01:06a special development package
01:08that has been announced
01:08that is about 160
01:09Arab rupiah
01:10that has been announced
01:12which is obviously
01:14the 3% NFC
01:17which has been about 120 Arab
01:19and 160 Arab package
01:21which has been announced
01:22which is the ARDC
01:25implementation strategy
01:26and what are these
01:28and what are these
01:29and what are these
01:30and what are these
01:31and what are these
01:32what are these
01:33and what are these
01:35those that have been performed
01:36were not done
01:37which was the first
01:38which is the first
01:38forces of the Past
01:38which was the first
01:38Developmental strategy
01:39who could not be done
01:42or what are these
01:46what do we hope to see
01:46that we can see
01:47that we can have no time frame
01:48or not
01:48today we have joined
01:52that we have
01:53which are the popular
01:53of the news
01:54that we have been
01:54we have been
01:55and thank you
01:58for the time
01:58that you've been
02:00time diya um a r dc آج کل کافی discussions کے حوالے سے چاہے social media ہو
02:08چاہے سیاستدان ہو um ایک طرف تو امید بھی ہے دوسری طرف سوالات بھی
02:13ہیں کوشش کریں گے کہ اس program میں جو سوالات ہیں جو لوگوں کے اور خصوصی
02:18طور پر structure کے حوالے سے تاکہ تھوڑی clarity جو ہے وہ آ سکے تو میرا
02:24سب سے پہلے سوال تو یہ ہے کہ جو a r dc جو ہے وہ بنائی گئی ہے
02:29obviously جو خیبر پختونخواہ کے قوائلی علاقے تھے اس کو جو 3% nfc تھا
02:36وہ بھی نہیں ملا اور پھر جو ایک area developmental strategy تھی وہ بھی
02:40اس طرح implement نہیں اسے کی provincial government کی کوتھائیاں اور capacity
02:45issues اب جو vision آپ لے کے سامنے آئے ہیں obviously اس میں tier wise آپ
02:50نے decide کیا ہوگا کہ چیزیں کس طرح جو ہے وہ آگے پڑیں گی تھوڑا یہ
02:54road map جو ہے وہ سمجھا دیں کہ how would this proceed now
03:00بہت شکریہ فردوس صاحب دیکھیں آپ کو معلوم ہے کہ emergency لگنے
03:06کے بعد اور governor rاج لگنے کے بعد اس صوبے میں صوبے اسمبلی رہی نہیں
03:11اور یہاں پہ حکومت بھی نہیں تھی تو اس کے علاوہ آپ کو معلوم ہے کہ
03:17local bodies کا بھی کوئی نظام نہیں ہے جے تو لوگوں کو جو ان کی نمائنگی کا
03:22حق تھا تو وہ ان کو نہیں مل رہا تھا تو یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک ایسا
03:28نظام بنایا جائے جس میں لوگوں کی say ہو ان کی بات اس میں شامل ہو وہ
03:33خود decide کریں کہ ان کے لیے کیا کیا جائے تو اس لیے یہ ایک نظام
03:38بنایا گیا یہ بہت ہی آسان نظام ہے لوگ اس کو ویسے ہی confuse کر رہے ہیں
03:42ایک وہ لوگ ہیں چالیس لوگ جو کہ ان بارہ ازلا سے لیے گئے ہیں وہ
03:48مختلف قبیلوں کے سربراہان ہیں بڑے لوگ ہیں اور ان کے اپنے علاقوں
03:53میں ایک اچھی reputation ہے ان کو ان کے قبیلوں نے nominate کر کے ہمیں
03:58دے دیا اب وہ ان علاقوں میں recommending body ہیں ان projects کے لیے جو
04:04کہ یہ ہماری ہمارا secretariat وہ projects بنائے گا اور وہ وہاں پہ وہ
04:09projects پھر execute ہوں گے جا کے تو یہ اس کو بھی دیکھیں گے monitoring
04:13کا بھی ایک نظام ہوگا کہ وہ بہتر طریقے سے ہو رہا ہے یا نہیں
04:17ہو رہا تو ایک تو یہ لوگ آگئے پھر یہ یہ کہاں بیجیں گے اپنے
04:22projects ان کے جو آئیں گے یہ district level پہ جو کچھ بنے گا یہ پھر
04:26ہمارے secretariat میں آئے گا یہ secretariat کا بڑا آفس پشاور میں ہے
04:30اس کا ایک آفس جو ہے وہ ڈی ای خان میں ہے اور ایک آفس جو ہے وہ دوسری
04:35طرف مومند میں رکھا گیا ہے تاکہ لوگوں کو دور دور کے سفر بھی نہ
04:39کرنے پڑے اور ان کے قریب ہی یہ secretariat موجود ہو اگر ان کے علاقے
04:45میں کوئی کام ہونا ہے تو وہ پشاور بھی نہ آنا پڑے ان کو اب یہ
04:49خان سے بندہ پشاور آئے گا تو یہ ایک بہت مشکل سفر ہے تو یہ جب
04:54اس secretariat میں آئیں گے یہاں پہ projects بنیں گے ان کے کہنے کے
04:58مطابق جو انہوں نے decide کیے ہوں گے اپنے علاقے کے لیے وہ پھر
05:02یہاں پہ بن کے اپرویل کے لیے وزیراعظم کے پاس جائیں گے تمام
05:06کے تمام بیوروکریٹک ہرڈرز اس سے نکال دیے گئے ہیں یہ تری تین
05:11سٹیپس ہیں ان تین سٹیپس میں اب یہ لوگ بہتر جانتے ہیں کہ کس کے
05:15علاقے میں پینے کے پانی کا مسئلہ ہے کس کے علاقے میں سڑک چاہیے
05:19کس کے علاقے میں آئی ٹی پارک کی سہولت چاہیے کس کے علاقے میں
05:22ای لیبریریز چاہیے کس کے علاقے میں دانش سکول چاہیے اور کس کے
05:27علاقے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع چاہیے تاکہ ان کو اپنے پیروں
05:32پہ کڑا کیا جائے کیونکہ یہ نوجوان جب روزگار پہ لگ جائیں گے تو وہ
05:36جو مین پاور مل رہی تھی بدمنی پیلانے والے لوگوں کو تو وہ سلسلہ بھی
05:41بند ہو جائے گا تو یہ ہمارا روڈ میپ ہے اس کے علاوہ اس کے پیرلل ایک
05:46اور چیز چلے گی یہ ڈیولپمنٹ کا کام ہے اس کے علاوہ پیرلل جو چیز
05:50چلے گی وہ ہوگی سیکیورٹی سیکیورٹی کے لیے پاک فوج فرنٹیر
05:55کانسٹیبلری پولیس پولیس آپ کو معلوم ہے کہ اس سے پہلے جو صوبائی
06:00حکومتی تو وہ پولیس کو فری ہینڈ نہیں دے رہی تھی کہ وہ اتنا کھل
06:05کے جائے اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کارروائیاں کرے اب یہ جب یہ کام
06:08نہیں ہو رہا تو یہ خود کیا جائے اور وزیراعظم صاحب نے بھی پھر اس میں
06:12بہت زیادہ انٹرسٹ لیا اور انہوں نے اس کو اپنے پاس رکھا یہ علاقے اب ان
06:17کا انچارج منسٹر آپ کو معلوم ہے وہ وزیراعظم صاحب ہیں یہ علاقے آئینی
06:22طور پہ وزیراعظم صاحب کے انڈر ہیں اور ان علاقوں میں فنڈ کون سا لگے
06:27گا ایک تو صوبے کی طرف سے جو پراجیکٹس آر لیڈی ای ڈی پی میں ریفلیکٹ
06:31ہوئے ہیں وہ بھی یہاں پہ چلیں گے ان کو مزید تیز کیا جائے گا ان کو
06:35بہترین طریقے سے ایگزیکیوٹ کیا جائے گا اور وہ جو پہلے اس میں صرف یہ دیکھا
06:39جائے گا کہ اگر کوئی نیڈ بیسس کی بجائے کوئی پولٹیکل بیسس پہ کچھ اور
06:43ہوا ہے تو اس میں بھی ذرا اس کو دیکھا جائے گا کہ اگر کئی غلط تو کچھ
06:48نہیں ہو رہا تھا ایک تو یہ فنڈ اس میں لگیں گے ایک وزیراعظم صاحب اس کے
06:53لئے سپیشل فنڈنگ کریں گے انہوں نے کہا ہے کہ پیسوں کی کمی نہیں ہوگی
06:57وزیراعظم کی سطح پہ فنڈنگ ہوگی اس علاقے کے لیے تیسری چیز جو بہت اہم
07:01ہے جو پاک فوج ہیں ان کو بھی وزیراعظم صاحب نے اس میٹنگ میں کہہ
07:05دیا تھا جب کونسل میں تھے کہ آپ بھی اپنے پراجیکٹس یہاں پہ چلائیں
07:09تو میں دو تین دنوں سے دیکھ رہا ہوں کہ پاک فوج اس کے لئے بہت تیزی
07:13سے پلان کر رہی ہے کہ جو جو پراجیکٹس ان کے تھے وہ بھی ہوں گے تو یہ
07:17دیکھیں یہ ایک پورا نظام ہے پہلے ہم یہاں پہ جب صوبائی حکومت
07:21تھی تو صرف صوبائی حکومت کے ریسورسز یہاں پہ لگتے تھے اب صرف صوبائی
07:31حکومت کے ریسورسز ہوں گے صوبائی کے وسائل جو کہ نفسی میں آئیں گے وہ ان
07:36ازلا کو ڈائریکٹ جائیں گے جو وفاق سے وزیراعظم صاحب دیں گے وہ بھی
07:42اس میں جائیں گے اور جو پاک فوج لگائے گی وہ بھی اس میں جائیں گے
07:45تو میرا خیال ہے کہ لوگوں کے پاس بھی اس وقت یہ ایک چانس ہے کہ اگر وہ
07:49اس کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو وہ اپنے لئے بہت کچھ حاصل کر لیں گے یہ میرا
07:53خیال ہے کہ اس کے بعد کوئی ایسا چانس مشکل ہی ہے کبھی آئے
07:56اچھا محمود جان صاحب آپ نے ایک explanation تو جو ہے دی ہے جو کافی
08:01detail ہے usually جب development کی بات ہوتی ہے تو ہم نے دیکھا ہے کہ
08:05پچھلے کئی سالوں سے obviously جو قبائل ہیں آپس میں بھی ان کا
08:11conflict جو ہے وہ رہا ہے اور development schemes کے اوپر ہمیشہ سے جو
08:15سب سے بڑا problem جو ہے وہ سامنے آیا وہ یہی ہے کہ competing ہوتی ہے
08:20کہ بھئی ہمیں کیوں نہیں ملا اور ان ملک صاحب کو کیوں ملا ہے اس
08:23ملک صاحب کو جو ہے وہ کیوں ملا ہے تو جو ARDC کی membership ہے یہ
08:27تقریباً 48 ارکان پر جو ہے وہ مشتمل ہے کیا future کے اندر
08:32planning ہے کہ جتنے tribes ہیں سب کو کوئی representation جو ہے وہ مل سکے
08:38دیکھیں یہ جو ARDC ہے یہ ایک ایسی body ہے کہ اس میں اوپر کے قبائل
08:45کے اہم لوگ لیا گئے ہیں اور ان کا بنیادی کام یہی ہوگا کہ
08:49اپنے لوگوں کو مطمئن رکھے اس کو کام کو آگے لے کے بڑھایا جا
08:54سکے تو یہ مقامی سطح پر اپنے لوگوں کو مطمئن رکھیں گے اور یہ
08:59جو ان کی ضروریات ہیں اب جو بڑا لوگوں کا علاقہ ہوگا زیادہ لوگ
09:04جہاں ہوں گے تو ان کے projects جو ہیں وہ priority base پہ ہوں گے اس
09:09کے علاوہ اگر چھوٹی سطح پہ بھی کچھ چاہیے ہوگا تو لوگ recommend
09:12کریں گے تو وہ بھی اس میں شامل ہوتے جائیں گے تو یہ locally جو ہیں لوگ
09:16اپنا کرتے رہیں گے اور اس کو چونکہ ایک قبیلہ کوئی قبیلہ شاید
09:20اس میں نہیں رہا ایسا کہ جس کا بندہ اس میں نہ ہو تو قبیلے کے لوگ
09:26اپنا خود وہ کریں گے ایک دوسرا جو ان کو task دیا گیا ہے وہ یہ کہا
09:31گیا ہے کہ جب عزیر اعظم صاحب نے ان سے ملاقات کی تو وہاں پہ ان
09:35کو سرکاری طور پہ بتایا گیا کہ آپ لوگوں نے صرف ترکیاتی کام کو
09:41نہیں دیکھنا آپ نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ اگر جس علاقے میں تو امن ہے تو
09:45وہاں تو کام آسانی سے ہو رہے لیکن اگر کسی علاقے میں کوئی ایسے لوگ
09:48موجود ہیں جو بدمنی پیلا رہے ہیں تو آپ نے جا کے ان سے بات کرنی ہے
09:53اور انہیں یہ کہنا ہے کہ آپ ہمارے علاقے سے نکل جائیں آپ نے ان سے
09:57لڑنا نہیں ہے آپ امن لشکر نہیں ہیں آپ ان کے ساتھ لڑائی کر کے اپنے
10:03لیے کوئی مسئلہ نہیں بنائیں گے بس آپ ان کے پاس جائیں گے ان کو
10:06مجبور کریں گے کہ وہ اس علاقے سے نکل جائیں یا سرنڈر ہو جائیں
10:10تو اگر وہ سرنڈر بھی ہوتے ہیں تو اس کے لیے بھی کوئی ایک طریقہ
10:13نکالا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ نہیں نکلیں گے پھر یہ جو قبائل
10:17ہیں ان کو پھر مدد کرنی ہوگی سیکیورٹی فورسز کو کہ جہاں پہ وہ
10:21چھپے ہوئے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں تو اگر ان کے خلاف کاروائی ہوتی
10:25ہیں تو اس میں بھی پھر یہ لوگ مدد کریں گے یہ بتائیں گے اپنے
10:28لوگوں کو کہیں گے کہ یہ تو نہیں جا رہے لیکن اگر ابھی ان کے
10:33پیچھے کوئی سیکیورٹی فورسز آئیں گی لین فورسمنٹ ایجنسیز آئیں
10:36گی یہ سب آئیں گے تو پھر کم از کم کسی کو شکوا بھی نہیں
10:40ہونا چاہیے کیونکہ اب تو نمائندگی ہی انہیں دے دی گئی ہے اختیار بھی
10:46ان کے پاس ہے تو وہ اونرشپ لے رہے ہیں اپنے علاقوں کا تو یہ دو
10:50چیزیں پیرلل چلیں گی ایک ترقی اور ایک یہ جو انٹیلیجنس بیسٹ
10:56آپریشن ہوں گے اور یہ بھی کہا گیا ان کو کہ کوئی بڑا آپریشن نہیں
11:00ہوگا لیکن ہم ان کو چن چن کے ان کے پیچھے جائیں گے تو ضرور
11:03کیونکہ ایک ان کو یہ بھی کلیریٹی دی گئی کہ اگر آپ تعاون کریں
11:08گے تو آپ اگر ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے اور اس طریقے سے یہ کام
11:12چلائیں گے تو اگلے تین مہینے میں یہ علاقہ مکمل طور پہ دہشت
11:17گردوں سے صاف کر دیا جائے گا اور اس کے بعد یہاں پہ کسی کے لیے
11:22ممکن نہیں ہوگا کہ وہ پھر دوبارہ دہشت گردی کر سکے ایک ایسا
11:25میکنزم پلائن کیا گیا ہے تو اب قبائل کے اپنے اختیار میں ہے
11:30کہ وہ کیا کرتے ہیں اس ترقی کو ایکسپٹ کرتے ہیں اپنے علاقے
11:34کو آباد کرتے ہیں اپنے نوجوانوں کو پیروں پہ کڑا کرتے ہیں
11:37دہشت گردوں کو نکالنے میں مدد کرتے ہیں یا ان کو سرنڈر کرواتے
11:42ہیں جو بھی ہو ان کو ان کے لیے کوئی طریقے کار بناتے ہیں یا اگر وہ
11:46یہ چانس بھی مس کر گئے تو میرا خیال ہے کہ یہ ان کے لیے بہت بڑا
11:50مسئلہ بنے گا کیونکہ اس کے بعد کونسی ایسی کلیریٹی آئی گی جو اس وقت
11:54موجود ہے جی جی بالکل ایک چھوٹے سی بریک کا ٹائم ہوا ہے واپس آ کر
11:59اور سمجھنا چاہوں گا کہ جو سٹیٹمنٹس آئی ہیں آپ نے بھی ابھی ایک
12:03پروسس جو ہے وہ بتایا کہ کام جو ہے وہ کیسے کرے گا ناظرین ہمارے
12:07کے ساتھ رہیے ہیں محبو جان صاحب دو سوال آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں جو اس
12:21وقت صحافی بھی پوچھ رہے ہیں اور سوشل میڈیا کی زیند بھی بنے ہوئے ہیں
12:25آلدھو اس کے جواب جو ہے وہ آپ کے پلیٹ فارم سے جو ہے وہ آ چکے ہیں لیکن میں
12:30چاہتا ہوں کہ مزید جو ہے اس میں کلیریٹی آئے ایک تو یہ بات جو ہے وہ ہو رہی ہے
12:35کہ خیبر پختونخواہ سے جو ہے وہ انتظامی جو ہے وہ پورا طریقے سے ان
12:40ایریاز کو جو ہے وہ کٹ دیا گیا ہے اور اب یہ کیپی کا حصہ ہی نہیں
12:44رہے لیکن ایک یہ کرٹیسزم جو ہے وہ سامنے آ رہی ہے دوسرا جو آہ تالیبان
12:50کے ساتھ جو باتچیت والی ایک کلپ جو ہے وہ وائرل ہوئی تھی اس کے حوالے سے
12:54دوبارہ جو ہے وہ بتائیں کہ یہ دونوں چیزیں کس قسم کی جو ہے وہ
12:58انکلیریٹی سپیٹ کری اور اوفیشل موقف جو ہے وہ کیا ہے
13:03لیکن اس وقت جو اس کے لیے سیکیٹیریٹ بنا ہے اس کے جو سرکاری
13:07افسر ہیں وہ سارے کے سارے جو ہیں خیبر پختونخواہ کے ساتھ ان کا
13:11تعلق ہے وہ جو یہاں کام کریں گے وہ سارے کے سارے خیبر پختونخواہ
13:16کے جو ریسورسز ہیں وہ اسی صوبے کے ان کے لیے یعنی لاجسٹکلی جو
13:20استعمال ہو رہا ہے اس علاقے کو ترقی کے لیے لے جانا تو یہ ایک
13:24mechanism ہے جو کہ emergency صورتحال میں ایک abnormal علاقوں کے لیے
13:29بنتا ہے جو کہ normal علاقے نہیں ہوتے اور جو normal علاقے ہوتے
13:34وہ normal چیزیں چل لے ہوتی ہیں یہ ایک انتظامی تقسیم ہے اور یہ
13:38اس وقت واپس آ جائے گی یہ اپنی پرانی جگہ پہ جب صوبہ اپنی
13:44حالت پہ آ جائے گا لیکن ایک چیز اور ہے کہ یہ جو نظام بنا ہے ترقی
13:51کا اور دیشتگردی کو ختم کرنے کا یہ اس کی ٹائم لین نہیں ہے اس کی
13:55ٹائم لین اس لیے نہیں ہے کہ دو گول مقرر کیے گئے ہیں پہلا گول یہ
14:00ہے کہ علاقے میں مکمل ترقی ہونی چاہیے جو جتنا پلان کیا گیا ہے اس
14:05میں کوئی کام باقی نہیں رہنا چاہیے اور اس کے علاوہ جو دیشتگردی
14:10ہیں تو دیشتگردی مکمل خاتمے تک یہ یہ جو سیٹ اپ ہے یہ اپنی جگہ پہ
14:15موجود رہے گا اور صوبے سے کاٹ کے اگر آپ دیکھیں تو صوبے سے اس
14:19کو کیسے کاٹا جا سکتا ہے NFC کے تروجو صوبے کو پیسے آئیں گے ان
14:23پیسوں میں سے ان ظلوں کو پیسے ملیں گے تو اگر یہ صوبے سے کٹ جائے
14:27گا تو پھر اس کے لیے فنڈنگ کہاں سے ہوگی لوگ اس بات کو نہیں
14:30سمجھتے یہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جیسے کہ آپ کے گھر میں دو سائیڈز
14:36ہیں ایک بالکل ٹھیک ٹاک ہے ایک سیلاب زدہ ہو گیا ہے اس سیلاب زدہ
14:40کے لیے آپ نے کچھ ریسورسز زیادہ ڈیورڈ کر کے وہاں لگا دیے کہ میں
14:44اس ایریا کو بھی اسی کے برابر لانا چاہتا ہوں جو یہ باقی اپنا گھر
14:49کا حصہ ہے کوئی کمرہ گر گیا تھا اس کو بنانے کے لیے یہ ایک نظام
14:53ہے تو یہ ساری چیزیں جب فنڈ آپ دیکھیں کہ صوبے ہی کا انعزلہ کو
14:57اپنا حصہ ملے گا سرکاری افسر بھی وہی والے ہیں مشینری بھی یہی
15:01والی ہیں تو یہ یہ جو کنفیجن وہ لوگ پہلا رہے ہیں آپ کو بھی
15:05معلوم ہے کہ جو اس وقت سوشل میڈیا چلا کے اس سے اپنے فائدے جن
15:09کے پولیٹیکل جن کے پولیٹیکل ایفیلیشنز ہیں کسی نہ کسی کے ساتھ
15:14ایفیلیشنز ہیں اور وہ یہ بھی ہیں کہ وہ آپ کو معلوم ہے کہ گرم
15:18گرم باتیں کر کے اور خامخا کے کنفیجنز بنا کے ان کے ویلاکس
15:23چلتے ہیں اور لوگ اسے دیکھتے ہیں وہ پیسے کماتے ہیں تو وہ اگر ان
15:27کو اس وقت اس بات کا احساس نہیں کہ گر بننے جا رہا ہے تو گر کے
15:32بننے میں اپنا ہاتھ اور کردار ادا کریں لیکن اگر وہ نہیں کر رہے
15:35تو ان کا ضمیر یہ مانے تو وہ ٹھیک ہے وہ جانے اور ان کا ضمیر
15:38جانے کے لیے جو دوسرے والے بیانات کی آپ نے بات کی وہ ان کی
15:41ذاتی رہے ہیں اب ایک بندہ شمالی وزیرستان سے ممبر ہے اور وہ اس
15:47کو اپنے طریقے سے حل کرنے کی اگر کوئی بات کرتا ہے تو اس کے انٹریو
15:51کو بھی تور مڑور کے پیش کیا گیا اس نے جو زیادہ باتیں کی تو وہ
15:55ہٹا کے اپنی مرضی کی باتیں اس میں لائی گئی حالانکہ ان کو جو
15:58منڈیٹ ملا ہے منڈیٹ یہ ہے کہ آپ ان سے صرف ایک بات کریں کہ آپ
16:04یہاں سے چلے جائیں مذاکرات میں آپ کے دیکھنے والوں کو کلیر کرنے
16:08کے لیے بتا دوں مذاکرات کچھ لے کچھ دے پہ ہوتے ہیں ان عراقین کے
16:12پاس تو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ جن سے بات کریں تو ان کو کچھ دے
16:16بھی وہ صرف ان کو یہ کہیں گے آپ چلے جائیں اس کے بدلے میں اگر وہ
16:20دہشتگرد جوابی کچھ کہیں کہ نہیں ہم یہاں سے نکلیں گے لیکن ہمیں
16:25فلان علاقہ دیا جائے علاقہ نہیں ملے گا ہمیں وہاں پہ آزادی سے
16:29اپنا اسلحہ لے کے چلنے کی اجازت دی جائے وہ نہیں ملے گا اس کے
16:33علاوہ اگر وہ چیک پوسٹوں کے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں وہ نہیں
16:36ہوگا تو کوئی بھی کونسل کا ممبر جو ہے وہ ایسا کوئی وعدہ کرنے کی
16:41پوزیشن میں ہے ہی نہیں تو وہ اگر کسی سے بات کرتا ہے یا جو بھی کرتا
16:46ہے مقصد اس نے اپنا وہ والا کام کرنا ہے جو اسے دیا گیا ہے کہ
16:50اپنے علاقے میں جو صاف علاقہ ہے وہ تو ہے دوسرے علاقے کو صاف
16:55کرنے میں مدد کریں ان کو یہاں سے نکالیں نہیں نکالیں گے تو پھر
16:59ہم ان کے پیچھے آئیں گے اچھا میں ایک آخری سوال جو ہے وہ پوچھنا
17:02چاہتا ہوں کیونکہ کیونکہ ٹائم کی کمی ہے ایک امپورٹنٹ سوال جو
17:05ہے کہ ان اجزاء میں جو ایک بہت بڑا مسئلہ ہے وہ ڈس انفورمیشن
17:10کمبیٹ کرنے کا ہے کیونکہ بہت سارے رومرز اور جھوٹ جو ہے وہ پھیلائے
17:14جاتا ہے آبیسلی آپ کا اپنا کمیونکیشن سے جو ہے وہ تعلق ہے کیا
17:19سوچا ہے آپ نے کہ یہ ڈس انفورمیشن کیسے کمبیٹ جو ہے وہ کریں
17:22گے اس کے لیے تو ایک کلیر کٹ میسج دے دیا گیا ہے کہ دیکھیں اس
17:28علاقے کے جو لوگ ہیں وہ اس بات کو سمجھ جائیں کہ ان کے پاس آخری
17:32چانس ہے وہ اس چانس کو اویل کریں لیکن پھر بھی اگر کوئی اپنے ان
17:37حرکتوں سے باز نہیں آتا تو جو باقی پاکستان میں جو اس کو
17:41ڈس انفورمیشن کے خلاف جو قوانین ہیں تو پھر وہ قوانین اگر حرکت
17:44میں آئیں گے اور اگر کسی نے ایسا کچھ کیا کہ جو نظام کو نقصان
17:48پہنچا رہا ہو لوگوں کے لیے ہونے والے کام کو خراب کر رہا ہو
17:51تو پھر اس سے اس طرح بھی نمٹا جائے گا جس طرح کہ آپ نے دیکھا
17:55کہ ماضی میں بھی یہاں پہ یہاں پہ بھی اسلامباد میں بھی باقی جگہوں
17:59پہ بھی جن لوگوں نے جھوڑ پہلایا ان کو پھر اس کی قیمت بھی
18:03ادا کرنی پڑی کیونکہ یہ گر ہے یہ اس گر میں اگر عرب و
18:06کرب و رپے لگ رہے ہیں اور وہ اس کو آباد کیا جا رہا ہے اور
18:10ایک شخص باہر بیٹھ کے یا کہ یہی پہ بیٹھ کے اگر کوئی غلط خبر
18:14پہلا رہا ہے تو اس کو بھی نہیں چھوڑا جائے گا جس طرح دہشتگرد کو
18:18نہیں چھوڑا جائے گا اسی طرح ڈس انفارمیشن پہلانے والے کو بھی
18:21نہیں چھوڑا جائے گا یہ بہت کلیر کٹ ہے یہ پالیسی بہت کلیر
18:24کٹ ہے جی بہت شکریہ آپ کے ٹائم کا محمود جان صاحب ناظرین
18:27گفتگو نے ترجمان کی سنی جو ہے آر ڈی سی کو جو ہے وہ ریپریزنٹ
18:31کرتے ہیں ایک لائے عمل انہوں نے بتایا ہے اور یہ بھی کہا ہے ساتھ
18:35میں ایک اندیہ دیا کہ آخری موقع ہے قبائل کے ساتھ اس اس ایریا میں
18:39رہنے والوں کے ساتھ جو ماضی میں آبیوسلی اس طرح ان کے
18:43ڈیویلیپمنٹ کی نیدز جو ہے وہ پوری نہیں ہوگی اور اس موقع سے
18:47فائدہ تو ہٹانا چاہیے لیکن مور ایمپورٹنٹی ایک ماحول بھی
18:51create کرنا چاہیے کہ جس میں یہ ڈیویلیپمنٹ آگے ہو سکے
18:54پروگرام میں گفتگو کا جل سلسلہ جاری رہے گا لیکن رہے گا
18:57پورٹر ٹانکس