Skip to playerSkip to main content
Dars-e-Bukhari Shareef - Speaker: Mufti Muhammad Akmal

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8XifqqMqj-CSEsTT2kgVuPG2D

#MuftiMuhammadAkmal #DarseBukhariShareef #IslamicInformation

Collect the pearls of wisdom dormant in Sahih Bukhari, Dars-e-Bukhari Shareef is a 30 min long lecture-based program, in which Mufti Muhammad Akmal will explain Ahadith of Sahih Bukhari- the most Acknowledged and authentic collection of the sayings of Prophet Muhammad (PBUH) by Imam Bukhari.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:28بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:32تو پھر کفار کو پتہ چل گیا حضرت اے بودیل آئے جو خزعہ سے تعلق رکھنے والے تھے
00:39سرکار نے ان کو یہ کہا کہ میرا پیغام ان تک پہنچاؤ قریش تک
00:43کہ ہم جنگ کرنے کے لئے نہیں آئے عمرہ کرنے کے لئے آئے ہیں
00:47اور اگر ہم غالب آ جائیں گے تو تم پہلی کمزور ہو تمہارے لئے مسئلہ ہوگا
00:52اور بالفرد اگر میں کامیاب نہیں ہوتا ہم غالب نہیں آتے
00:57تو تم امن میں رہو گے تمہارے لئے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے
01:00اور دوسری بات یہ کہ سرکار نے فرمایا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کا دین غالب نہیں آ جاتا
01:06میں اس کی حفاظت کرتا رہوں گا لڑتا رہوں گا حتیٰ کہ میرا سر تن سے جدہ ہو جائے
01:12بودیل نے یہی اور سرکار نے فرمایا کہ ان کو جا کر کہو
01:15کہ میں تم صلح کی پیشکش کرتا ہوں صلح قبول کر لو امن رہے گا
01:19تو بودیل ان کے پاس پہنچا اور اس نے جا کر یہ ان کو پیغام پہنچایا
01:23جو حلا نے تو کہا ہم تیری بات ہی نہیں سنتے
01:25لیکن بردبار لوگوں نے کہا ٹھے جو ہاں تم بات بیان کرو
01:29اس نے کہا انہوں نے ایک نیک پیشکش کی ہے
01:31میرا مشورہ ہے کہ اس کو قبول کر لیا جائے
01:34تو اروہ بن مسعود جو کفار کے ساتھ تھا اس نے کہا
01:38کہ اگر تم چاہو تو میں جاتا ہوں اور ان سے بات کرتا ہوں
01:41انہوں نے اجازت دی تو اروہ بن مسعود سرکار کے پاس آیا
01:45اور اس نے آ کر تمہید یہ باندھی
01:47کہ دیکھیں اگر آپ غالب آتے ہیں
01:50تو آپ کی قوم کو آپ اجاڑ دیں گے
01:52اور یہ بات کتنی غیر مناسب ہوگی
01:54آج تک ایسا نہیں ہوا عرب میں
01:56کہ کسی نے اپنی ہی قوم کو تباہ و برباد کر دیا ہو
01:59تو گویا کہ یہ پھر تاریخ بن جائے گی
02:01اور آپ پھر آپ کے لیے ماداللہ سمہ ماداللہ بدنامی کا باعث بنے گی
02:05یہ اس کے کہنے کا مقصد تھا
02:06اور اگر فرض کر لیں کہ ہم غالب آ جاتے ہیں
02:09تو پھر یہ جو ہے یہ آپ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے
02:13یہ آپ کا ساتھ نہیں دیں گے
02:16تو اس نے کہا کہ جو میں حدیث یہ الفاظ میں ارز کر دیتا ہوں
02:20اروہ نے کہا کہ محمد یہ بتاؤ
02:22کہ اگر آپ نے اپنی قوم کو جڑ سے اکھار دیا
02:24تو کیا آپ نے اس سے پہلے یہ سنا ہے
02:26کہ کسی عرب نے اپنی قوم کو جڑ سے اکھار دیا ہو
02:30اور اگر دوسری صورت ہوئی
02:32یعنی اگر آپ ہم پر غالب نہ آسکے
02:34تو بے شک اللہ کی قسم میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں
02:39ایسی جماعت دیکھ رہا ہوں جو بھاگ جائیں گے
02:42اور آپ کو چھوڑ کر چلے جائیں گے
02:45تب اس سے حضرت ابو بقر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے
02:49بہت سخت قسم کا جملہ کہا
02:51جو میں پروگرام میں کہنا نہیں چاہتا
02:53اس کو صحیح بہت سخت قسم کا جملہ کہا
02:57اور پھر آپ نے کہنے کے بعد کہا
02:59کہ کیا ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے بھاگ جائیں گے
03:03اور آپ کو چھوڑ دیں گے
03:05تو اس نے پوچھا کہ یہ کون ہیں
03:07لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابو بقر ہیں
03:12اس نے کہا کہ سنو
03:13اس ذات کی قسم جس کے قبضہ و قدرت میں میری جان ہے
03:16اگر تمہارا مجھ پر وہ احسان نہ ہوتا
03:19جس کا بدلہ میں ابھی تک نہیں دے سکا
03:21تو میں اس کا تمہیں ضرور جواب دیتا
03:25کوئی احسان تھا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کا
03:28تو کہا کہ اگر وہ احسان نہ ہوتا
03:30تو پھر میں جس طرح آپ نے سخت جملہ کہا ہے
03:33میں بھی کوئی سخت جملہ کہہ دیتا
03:34لیکن میں آپ کے احسان کی وجہ سے وہ جواب نہیں دیتا
03:38اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کر رہا تھا
03:41وہ جب بھی بات کرتا
03:43تو آپ کی مبارک داڑی کو پکڑتا
03:46لفظ تو یہ ہے
03:47مراد یہ کہ ہاتھ لگاتا تھا
03:49یوں کر کر داڑی شریف تک ہاتھ پہنچا دیا کرتا تھا
03:52اور حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالی عنہ
03:55نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اقدس کے پاس کھڑے ہوئے تھے
03:59ان کے پاس ایک تلوار تھی
04:01اور ان کے سر پر خود تھا
04:03خود معنی وہ جو لوہے کا ایک ہیلمٹ ٹائپ پہنتے ہیں
04:06تاکہ تلوار کا وار سہزکیں
04:08پس جب بھی عروہ اپنا ہاتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک داڑی کی طرف لے جاتا
04:14تو وہ اپنی تلوار کے پچھلے حصے کو اس کے ہاتھ پر مارتے
04:18ایک دن فوراں ہاتھ مارتے
04:20وہ پیشے کر لیتا تھا
04:22اور آپ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک داڑی سے اپنا ہاتھ پیچھے کر
04:28عروہ نے اپنا سر اٹھا کر پوچھا یہ کون ہیں
04:30لوگ نے بتایا یہ حضرت مغیرہ بن شعبہ ہیں
04:33اس نے کہا کہ آپ کے شان میں تھوڑا سا گستاخانہ لفظ کہا
04:37پھر راوی کہتے ہیں کہ عروہ
04:42کنکھیوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کی طرف دیکھ رہا تھا
04:47یعنی وہ یوں چھڑی آنکھوں سے دیکھتا تھا کہ صحابہ ان کے پاس عمل کیا کر رہے ہیں
04:53پھر راوی نے کہا کہ اللہ کی قسم جب بھی رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
04:57لعاب دہن اقدس اپنے مہ سے نکالتے
05:01تو وہ صحابہ اس کو زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے
05:04وہ کسی نہ کسی صحابہ کی ہتیلی میں آتا
05:07اور وہ اس کو اپنے چہرے اور بدن پر مل لیتا تھا
05:11رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اقدس میں
05:14کبھی میل پیدا نہیں ہوا کبھی سمیل پیدا نہیں ہوئی
05:18آپ ہمیشہ صاف ستر پاکیزہ تھے
05:20اور آپ کا پسین مبارکہ گلاب کی خوشبو کی طرح تھا
05:24جہاں سے سرکار تشریف لے جاتے
05:26وہ گلی مہک جایا کرتی تھی
05:29اور صحابہ سمجھ جاتے تھے
05:30کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے گزرے ہیں
05:34ایسی آپ کا لعاب دہن اقدس
05:37پاکیزہ خوشبو دار معطر اور برکات سے بھرپور تھا
05:42جیسے آپ کو بتایا تھا کہ ایک کونہ تھا کھارا پانی تھا اس کا
05:45عرص کی گئے حسول اللہ اس کا پانی کھارا ہے
05:47آپ نے لعاب دہن اقدس اس میں ڈال دیا
05:51ایک دم میٹھا ہو گیا پانی
05:52تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم کے جسد اقدس سے جو چیز تشریف لاتی
05:57صحابہ اس کو ببرکت سمجھتے تھے
06:00اس کو زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے
06:02اور اس کو لے کے اپنے چہروں پر تبرکن
06:04اور اپنے ہاتھوں پر مل لیا کرتے تھے
06:06تاکہ برکت حاصل ہو
06:07اور جب آپ کو حکم دیتے تو وہ سب اس کی تعمیل میں
06:11ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے
06:15جیسے مثلا میں پانی تو پھلاؤ
06:17تو کوئی یہاں بھاگتا ہے
06:19کوئی وہاں بھاگتا ہے
06:19اروہ سب کو یہ مشاہدہ کر رہا تھا
06:21اور جب آپ وضو کرتے تو وہ آپ کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو لینے کے لیے
06:26اس طرح جھپٹتے تھے
06:28گویا کہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے
06:31یعنی سرکار جب جیسے چہرہ دھویا جو پانی ٹپکتا اس کو زمین پر نہیں گرنے دیتے تھے
06:35ہر ایک ہیوں ہاتھ بڑھاتا تھا
06:37سب کے ہاتھ ٹکرارے اور لیتے تھے
06:39اور ایک روایت میں ہے
06:40یہاں تو نہیں ہے
06:41دوسری روایت کے اندر ہے
06:42کہ جس کو برہراست پانی ملا
06:44تو اس نے وہ پانی لے لیا
06:45جس کو نہیں ملا
06:46وہ دوسرے کے پانی سے تھوڑا سے مساح کر کے
06:49اس کو اپنے چہرے پر مل لیا کرتا تھا
06:51اس کا مطلب ہے کہ
06:52رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
06:54جو وضو فرماتے ہیں
06:56یہ وضو فرمانا آپ کا صرف ایک
06:59اللہ کے حکم کی تکمیل میں
07:01اور ہماری تعلیم کی غرض سے تھا
07:03یہ اس لئے نہیں تھا
07:05کہ آپ کے بدن اقدس پہ کوئی نجاست حکمیہ تھی
07:08اور اس کو دور کرنا مقصود تھا
07:10اس کو یوں سمجھ دیجئے
07:12کہ نجاست کی دو قسمیں ہوتی ہیں
07:14ایک ایسی نجاست ہوتی ہے
07:15جس کو آپ دیکھ سکتے ہیں
07:16اس کے کوئی سمیل وغیرہ ہوتی ہے
07:18اس کا اثر ہوتا ہے
07:19اس کا رنگ ہوتا ہے
07:20جیسے پشاب
07:22اس کو نجاست حقیقیہ کہتے ہیں
07:24اور ایک ایسی نجاستیں
07:26جس کا تعریف شریعت نے پیش ضرور کیا ہے
07:28لیکن نہ وہ نظر آتی ہے
07:30نہ اس کا وہ ہاتھ پہ کوئی اثر وغیرہ آتا ہے
07:33نہ کوئی سمیل ہے
07:34نہ رنگ وغیرہ ہے
07:36جیسے بے وضو پر
07:38اگر کوئی بے وضو آدمی بیٹھا ہو
07:40تو کیا اس کے جسم سے بے وضو ہونے کی وجہ سے
07:43کوئی سمیل آتی ہے
07:44یا آپ اس کے ہاتھ پہیوں ہاتھ پہنیں تو کیا
07:46کوئی گندگی محسوس ہوتی ہے نہیں
07:48ایسی کوئی حالت جنابت میں ہو
07:50ایسی کوئی بہن حالت حیض و نفاس میں ہو
07:53اگر صاف سترے کپڑے پہنے ہوئے پتہ بھی نہیں چلے گا
07:55اسے کہتے ہیں نجاست حکمیہ
07:58جب ہم وضو کرتے ہیں
07:59تو یہ جو نجاست حکمیہ ہوتی ہے
08:01یہ بہتی ہے
08:02وضو کرنے کا حکم کیوں ہے
08:04جب میرے جسم پہ کوئی گندگی نہیں ہے
08:07اور نماز کا وقت آگیا
08:14تو پہلے ان چار آزہ کو دھو
08:15یعنی تین آزہ کو دھو ایک کم اصح کرو
08:17تو اس کا مطلب ہے کہ یہ وضو کرنے کا حکم کیوں ہے
08:20تاکہ نجاست حکمیہ دور ہو
08:23اب جو نجاست حکمیہ دور کرنے کے لئے
08:25پانی استعمال ہوتا ہے
08:26اس کو مائے مستعمل کہتے ہیں
08:29جسے وضو کیا
08:30اب جو پانی ٹپک رہا ہے
08:31آپ کے جس ہم سے اس کو مائے مستعمل کہتے ہیں
08:33اگرچہ ناپاک تو نہیں ہوتا
08:35لیکن بہرحال اس کے ساتھ
08:36نجاست حکمیہ بہتی ہے
08:40تو یہ مستعمل ہے
08:42اسی لئے اس پانی کو کوشش کرنے چاہیے
08:44کہ کپڑوں پہ نہ گرے
08:45اگر مسجد کا فرش کے اوپر وضو کر کے آئیں
08:48تو وہ ٹپک نہ نہیں چاہیے
08:49اس کو تو مقروح تحریمی لکھا ہے علمانے کے گناہ ہے
08:52کہ گناہوں کی اور نجاست حکمیہ کی
08:55آلودگی سے بھرپور یہ پانی
08:57آپ مسجد کے فرش پہ گرا رہے ہیں
08:59تو مقروح ہے گناہ گار ہوں گے
09:01لیکن رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
09:06وہ مستعمل نہیں ہے
09:08وہ صحابہ لے کے اپنے چہروں پہ مل رہے ہیں
09:11اگر وہ مستعمل ہوتا
09:13ماذا اللہ ثم ماذا اللہ
09:14تو سرکار منع فرما دیتے ہیں
09:16تو خلاص کلام یہ ہے
09:18کہ وہ پانی طیب ہے طاہر ہے
09:19نبی کریم کا معاملہ سب سے جدہ گانہ ہے
09:22یہاں میں یہ غزرور عرض کر دیتا ہوں
09:24کہ رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم پر قیاس کر کے
09:28کوئی اپنے لئے ایسا نہیں کر سکتا
09:30مثال کے طور پر کوئی پیر صاحب ہے
09:32ان کے بڑے مریدین ہیں
09:34اب وہ وضو کر رہے ہیں
09:35تو مریدین نے کہا
09:37چلو صحابہ نے بھی سرکار کے وضو کے پانی کو لے کر
09:39اپنے چہرے پہ ملتا ہم بھی کر لیں
09:41اور پیر صاحب بھی راضی رہے ہیں
09:43کہ ہاں چلو چلو تم بھی ایسا کر لو
09:45بالکل غلط
09:46پیر صاحب کے جسم سے لگ کر جو پانی گرے گا
09:49وہ مستعمل ہوگا
09:50اور اس پانی کو اپنے چہرے پہ ملنا
09:52قپڑوں پہ گرنے دینا
09:54مگروع تنظیحی ہے
09:56تحریمی نہیں ہے
09:56تنظیحی ہے
09:57شریعت نے اس کو بالکل پسند نہیں کیا
09:59یہ جائز نہیں ہوگا
10:00یہ رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم کا خاصہ ہے
10:03اس کا مطلب یہ ہوا
10:04کہ عروہ بن مسعود نے ایک نتیجہ نکالا
10:07کہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے
10:10لعابِ دہنِ اقدس کو زمین پر نہیں گرنے دیتے
10:13اپنے ہاتھوں پہ لیتے ہیں
10:15وضو کے پانی کو زمین پر نہیں گرنے دیتے
10:17ہاتھوں پہ لے کے مل لیتے ہیں
10:20وہ اپنے نبی کے خون کو زمین پر گرتا ہوا
10:23کیسے دیکھ سکتے ہیں
10:25یہ تو جانِ قربان کر دیں گے
10:27رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
10:29اور صحابہ اکرام سب ایسے ہی تھے
10:31کہ رحمتِ قونین صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے
10:33اپنی جانِ قربان کرنے کے لیے تیار تھے
10:36جانِ سار لوگ تھے
10:38تو لہٰذا
10:39اس نے یہ مشاہدہ کیا
10:41اور یہ بھی اس نے دیکھا
10:43کہ جب آپ بات کرتے
10:44تو وہ سب آپ کے سامنے
10:46اپنی آوازوں کو پست کر دیتے
10:49اور وہ آپ کی تعظیم کی وجہ سے
10:52آپ کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے تھے
10:54تو چند اصاف
10:56اس نے صحابہ اکرام کے مشاہدہ کیے
10:58کہ لعابِ دہانِ اقدس مو سے نکلے
11:00تو وہ برکت کے لیے لے لیتے ہیں
11:03وضو کا پانے نہیں گرنے دیتے
11:05آوازیں اونچی نہیں کرتے
11:07سرکار بات کرتے ہیں
11:08تو آوازیں پست کر لیتے ہیں
11:09غور سے سننے لگ جاتے ہیں
11:11کوئی حکم دیتے ہیں
11:12تو ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں
11:16اور آپ کو نظر بھر کے دیکھتے نہیں ہیں
11:19بلکہ سر جھکا کر رکھتے ہیں
11:20اتنی عدب
11:21اتنا عدب
11:22اتنی تعظیم
11:22اب یہ مشاہدہ اس طرح پر ذہن میں محفوظ کر لیا
11:25پھر عروہ اپنے قوم کی طرف واپس گیا
11:28اور کہا کہ
11:28اے لوگو
11:29اللہ کی قسم
11:30میں کئی بادشاہوں کے پاس گیا ہوں
11:33اور میں نے قیسر و قصرہ
11:34اور نجاشی کے پاس گیا ہوں
11:37یعنی
11:38رومی
11:38جو عیسائیوں کے بادشاہ ہیں
11:40اور آتش پرستوں کے بادشاہ ہیں
11:42ان کے پاس بھی گیا ہوں
11:43عیسائی بادشاہوں
11:45نجاشی
11:45عیسائی بادشاہوں کے پاس گیا ہوں
11:47اور اللہ کی قسم
11:49میں نے ہرگز نہیں دیکھا
11:50کہ کوئی کسی بادشاہ کے
11:52اس کے لوگ
11:53اتنی تعظیم کرتے ہوں
11:55جتنی تعظیم
11:56محمد کے
11:57اصحاب
11:58محمد کی کرتے ہیں
11:59اب اس نے بتایا
12:01کہتے ہیں کہ
12:02جب وہ لعاب دہن اغدس زبان سے نکالتے ہیں
12:06تو وہ ان میں سے کسی شخص کے ہاتھ میں آ جاتا ہے
12:10اور وہ اس کو اپنے چہرے اور اپنے بدن پر برکت کے لیے
12:13مل لیتا ہے
12:14اور جب وہ ان کو کسی کام کا حکم دیتے ہیں
12:16تو وہ سب اس کی تکمیل میں
12:18تعمیل میں
12:19ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں
12:22اور جب وہ وضو کرتے ہیں
12:24تو وہ ان کے وضو کا بچاوہ پانی لینے کے لیے
12:26اس طرح جھپٹتے ہیں
12:28گویا کہ ایک دوسرے کو قتل کر دیں گے
12:31اور جب وہ بات کرتے ہیں
12:32تو ان کے سامنے وہ سب اپنی آوازوں کو نیچے کر دیتے ہیں
12:36پست کر دیتے ہیں
12:37اور وہ ان کے تعظیم کے لیے
12:39ان کو نظر بھر کر نہیں دیکھتے
12:42اور انہوں نے تم کو ایک نیک پشکش کی ہے
12:45تم اس کو قبول کر لو
12:48یعنی اس نے سمجھایا
12:49کہ یہ صلح میں ہی آفیت ہے
12:51ورنہ ایسے میں لوگوں کو دیکھ رہا ہوں
12:53جو ان کے لیے جانے قربان کر دیں گے
12:56وہ تمہیں چھوڑیں گے نہیں
12:56اپنے نبی کے تحفظ کے لیے
12:58سب کچھ قربان کر دیں گے
12:59اور جب اتنا جوش ہو
13:01کسی کے اندر اتنا جذبہ ہو
13:03اور اتنا اخلاص ہو
13:04تو بس پھر ان کو شکست دینا بہت مشکل ہوتا ہے
13:08پھر بنو کنانا کے ایک مرد نے کہا
13:11کہ مجھے بھی ان کے پاس جانے دو
13:13تو لوگوں نے کہا
13:14کہ تم بھی ان کے پاس جاؤ
13:15جب اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
13:18اور آپ کے اصحاب کو جھانک کر دیکھا
13:20تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
13:23نے فرمایا
13:24یہ فلان شخص ہے
13:26سرکار نے اس کو پہچانا
13:27اور فرمایا فلان شخص ہے
13:29یہ ایسی قوم کا فرد ہے
13:31جو بیت اللہ کی قربانی کے اونٹوں کی تعظیم کرتی ہے
13:35اس لئے قربانی کے اونٹ اس کے سامنے کر دو
13:39چنانچہ صحابہ اکرام نے قربانی کے اونٹ اس کے سامنے کر دیئے
13:44اور صحابہ اس کے سامنے بلند آواز سے
13:46لبائک اللہم لبائک
13:48یعنی تلبیہ پڑنے لگے
13:49یہ اس لئے تھا
13:51تاکہ یہ ظاہر ہو جائے
13:52کہ ہم کوئی جنگ کرنے نہیں آئے
13:53جانور ساتھ لے کر آئیں قربانی کے عمرہ کریں گے
13:56پھر جانوروں کو زباہ کریں گے
13:58تو یہ دیکھ کر وہ چونکہ
14:00وہ ایسی تعظیم کرتے ہیں
14:02یہ ایسی قوم سے فرد ہے جو
14:05قربانی کے جانوروں کی تعظیم کرتے ہیں
14:07تو ضرور اس کے اوپر ایک اچھا اثر مرتب ہوگا
14:10چنانچہ جب اس شخص نے یہ منظر دیکھا
14:12تو کہا سبحان اللہ
14:13ان لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت سے نہیں روکنا چاہیے
14:17یعنی اس کے اوپر ایک بہترین نفسیاتی اثر سرکار نے ڈالا
14:20تو رحمت کونین صلی اللہ علیہ وسلم
14:22ایک بہترین ماہر نفسیات بھی تھے
14:24آپ اپنے کلام سے
14:25اپنے تکلم سے
14:26بعض اوقات سامنے والے پر غالب آ جاتے تھے
14:28کبھی آپ نے
14:29افوہ درگزر کا ایسا مظاہرہ کیا
14:31سامنے والے کی شدید ترین زیادتی کے باوجود
14:35کہ وہی شرمندہ ہو گیا
14:37اور دیکھنے والوں نے ایک نفسیاتی اثر قبول کیا
14:39مصبت نفسیاتی اثر
14:40اور وہ سرکار کی تائید میں ہو گئے
14:42یہ عمل بھی ایسے ہی تھا
14:45چھوٹا چاہے جب وہ اپنے اصحاب کی طرف واپس گیا
14:48تو اس نے کہا
14:48کہ میں نے قربانی کے اونٹ دیکھے
14:50ان کو ہار ڈالے ہوئے تھے
14:52اور ان میں اشعار کیا ہوا تھا
14:55قربانی کے اونٹوں کی دو نشانیاں تھیں
14:57کہ یا تو وہ جوتیوں کا ایک ہار بنا کے
15:00وہ گلے میں ڈال دیا کرتے تھے
15:01وعد وقت
15:02اور یا پھر اس کے کوہان کو
15:04تھوڑا سا چیرہ لگاتے تھے
15:06جو اس بات کے علامت تھی
15:07کہ یہ قربانی کے جانور ہیں
15:09اور مقصود یہ ہوتا تھا
15:10کہ ان کی تعظیم کی جائے
15:11ان کو تنگ نہ کیا جائے
15:13پس میں نہیں سمجھتا
15:15کہ اب اس نے آگے کہا
15:16کہ پس میں نہیں سمجھتا
15:17کہ ان لوگوں کو بیت اللہ کی زیارت سے روکا جائے
15:20پھر ان میں سے ایک اور شخص کھڑا ہو گیا
15:22اور اس نے بھی قریش سے
15:24سرکار کے پاس جانے کی اجازت طلب کی
15:26یہ انشاءاللہ نیکس پروگرام میں بیان کریں گے
15:28وآخر دعوانا
15:30ان الحمدللہ رب العالمين

Recommended