Skip to playerSkip to main content
Meri Pehchan - Female Talk Show

Topic: Islami Muashra ki Numayan Khasosiyat (Part 1 )

Watch All the Episodes || https://www.youtube.com/playlist?list=PLQ74MR5_8Xie-jw5zek0j4dpFiXGR3wN7

Host: Syeda Zainab

Guest: Dr. Imtiyaz Javed Khakvi, Sadia Saeed

#MeriPehchan #SyedaZainabAlam #ARYQtv

A female talk show having discussion over the persisting customs and norms of the society. Female scholars and experts from different fields of life will talk about the origins where those customs, rites and ritual come from or how they evolve with time, how they affect and influence our society, their pros and cons, and what does Islam has to say about them. We'll see what criteria Islam provides to decide over adapting or rejecting to the emerging global changes, say social, technological etc. of today.

Join ARY Qtv on WhatsApp ➡️ https://bit.ly/3Qn5cym
Subscribe Here ➡️ https://bit.ly/aryqtv
Instagram ➡️ https://www.instagram.com/aryqtvofficial
Facebook ➡️ https://www.facebook.com/ARYQTV/
Website ➡️ https://aryqtv.tv/
Watch ARY Qtv Live ➡️ http://live.aryqtv.tv/
TikTok ➡️ https://www.tiktok.com/@aryqtvofficial
Transcript
00:02بسم اللہ الرحمن الرحیم
00:30As-salamu alaykum wa rahmatullahi wa barakatuhu
01:00As-salamu alaykum wa barakatuhu
01:30As-salamu alaykum wa barakatuhu
01:41As-salamu alaykum wa barakatuhu
01:54As-salamu alaykum wa barakatuhu
02:19As-salamu alaykum wa barakatuhu
02:28As-salamu alaykum wa barakatuhu
02:36Innamal mu'minuna iqwa
02:38As-salamu alaykum wa barakatuhu
02:57As-salamu alaykum wa barakatuhu
03:25As-salamu alaykum wa barakatuhu
03:30Wa alaykum wa salam wa rahmatullahi wa barakatuhu
03:48As-salamu alaykum wa barakatuhu
03:53As-salamu alaykum wa barakatuhu
04:07is the sohied. So, this is the sohied. So, this is the sohied.
04:09This is the sohied. What is the sohied? What is the sohied?
04:12What is the sohied that you can say? What is the sohied?
04:15Thank you, Zainab.
04:16Bismillahirrahmanirrahim.
04:17Kul huwallahu aqhad, allahu al-humad.
04:19Sohidhallahu mahu al-hananil-zim.
04:22You have already said that, that means that we've been told about a human dimension is
04:25a part of our relationship.
04:26A human attachment has been made of this human.
04:27A human being made of that human being.
04:28He says that human being is a human being.
04:30He is a human being.
04:34A human being has a human being.
05:05society
05:06It's not a real thing. It's our own.
05:09This is our faith.
05:11This is our faith.
05:12We read the Bible.
05:16We read the Bible.
05:17We read the Bible.
05:18The Bible is not a real thing.
05:29We read the Bible.
05:32We read the Bible.
05:33shriek ہے جو ایک ہے واحد ہے
05:35یقتہ ہے بے مثل ہے
05:37حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
05:39اللہ کے رسول ہے
05:40ایک یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ دیکھیں
05:42اگر کوئی فرد ایسی کسی طاقت کو مانتا ہے
05:45کہ کیوں یہ ہے طاقت جو چل رہی ہے
05:47تو یاد رکھیں وہ توحید نہیں بنتی
05:49توحید اس وقت بنے گی جب آپ
05:51رسالت پر ایمان لاتے ہیں
05:52اللہ نے اس لئے انبیاء کو بھیجا
05:54انبیاء نے پتہ بتایا اللہ کا
05:57یہ وہ وعد اولا شریک ہے
05:58اس کی عبادت کے طریقے بتائے
05:59بندگی کے اتوار عطا کیے
06:01اور خاتم النبیین رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
06:05تشریف لائے
06:05گوئے آپ نے بندوں کو رحمان کا پتہ دیا
06:08آگئی دی شعور دیا
06:10معرفت دی ملایا انہیں
06:12سکھایا کہ زندگی کے آداب کیا ہیں
06:14وہ اللہ کیا چاہتا ہے اپنے بندے سے
06:16وہ ہیں خالق و مالک
06:18گویا رب کو ماننا بھی ہے
06:20اور رب کی بھی ماننا ہے
06:21رب کو مان لیا اس کی اسما کے ساتھ
06:24اس کی صفات کے ساتھ
06:26اس ذات کو مان لیا ہے
06:28وہ اللہ سمد بھی ہے
06:30وہی واحد ہے جو الہا ہے
06:32وہی معبود ہے
06:33وہی محبوب ہے
06:34وہی مطلوب ہے
06:35وہی مقصود ہے
06:36اور اس کی رضا اور اس کی خوشنودی ہی
06:38دنیا و آخرت میں
06:40کامیابی کی زامن ہے
06:42اس کو آپ یوں بھی دیکھیں
06:43دو عالم سے کرتی ہے بے گانہ دیں
06:46جب چیز ہے
06:47لذتِ آشناء
06:49تو جب اس کی معرفت ملتی ہے
06:51جب بندہ رب کو پہچان لیتا ہے
06:53اس کی زندگی بدل جاتی ہے
06:55یہ وہ پہچان ہے
06:57کہ جس نے اس کو نیڈر بنا دیا
06:59بے خوف بنا دیا
07:00دنیا کی پرواہ نہ رہی
07:01اللہ اس سمد وہ بے نیاز ہے
07:03تو وہ اپنے بندے کو بے نیازی
07:05دنیا سے عطا کر دیتا ہے
07:06وہ جتنا اللہ کی بارگاہ میں
07:08نیاز مند ہوتا چلا جاتا ہے
07:10اتنی دنیا سے بے نیازی بڑھتی چلی جاتی ہے
07:12اب نہ اسے کوئی فکر ہے
07:14نہ کوئی اسے پریشانی ہے
07:15اس کا اللہ پر توقل بڑھتا چلا جاتا ہے
07:23اس لیے میں نے کہا
07:24یہ دنیا سے اس کو بے خوف کر دیتا ہے
07:27نیڈر بنا دیتا ہے
07:28اس کے اندر وہ صفات آ جاتی ہیں
07:29جو انسان مطلوب کے لیے چاہیے
07:32جو ایک اچھے معاشرے کے لیے چاہیے
07:34یعنی وہ اپنا مال دینا شروع کر دے گا
07:36اس کے اندر سخاوات آ جائے گی
07:38اسے فکر نہیں ہے اگلے دن کی
07:39کہ رب ہے وہ خالق و مالک
07:41وہ رب العالمین ہے
07:43جب مان لیا کہ رب العالمین ہے
07:45تو فکر کہے گی
07:46میرا رزق کوئی اور لے نہیں سکتا
07:47کسی اور کا میں چھین نہیں سکتا
07:50جو میرے اس سے کہہ وہ مجھے مل کر رہے گا
07:52تو جتنا یقین بڑھتا چلا جاتا ہے
07:54انسان کی زندگی یکصد انقلاب آشنا ہوتی چلی جاتی ہے
07:58بدلتی چلی جاتی ہے
07:59یہ تو ایسا ٹاپک ہے جس پر
08:01جتنا کلام کی اندر بھی کم ہے
08:03اور یہ عقیدہ مصبوط ہو جائے
08:06تو پھر تو بے فکر ہو جائے
08:07انسان اور رب پر یقین ہو جائے
08:09آپ اشارت فرمائے گا
08:11کہ موشری کی جو ایک اور اہم ترین خصوصیت ہے
08:14وہ ہے مساوات
08:16اب یعنی سب انسان تمام انسان برابر ہیں
08:18کیا فرمائیں گی
08:20بہت شکریہ
08:21آپ نے بہت خوبصورت انداز میں ابتدا کی
08:32دیکھئے جہاں تک یہ جو آپ نے بھی ابتدا میں بات کی
08:35کہ اسلامی موشری کی بنیادی کچھ ایسی خصوصیات ہیں
08:39کہ جن کے بارے میں ہمیں پتا تو ہے
08:41لیکن ہم اس پر عمل درامت میں کمی رہتی ہے
08:44مطلب ہم اس پر مکمل طور پر عمل درامت نہیں کرنے پاتے
08:48اور جس طرح سے یہ مساوات کی آپ نے بات کی ہے
08:50تو یہ اتنی خوبصورت چیز ہے
08:53مطلب اتنی واضح ہے لوگوں کے سامنے
08:55دین محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
08:57نے وضاحت کے ساتھ سمجھا دیا
08:59لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں
09:01کہ ہم اس کو اس طرح سے اپنانے نہیں پاتے
09:04جس طرح شریعت نے حکم دیا ہے
09:06اب دیکھیں کہ اسلامی اصولوں میں
09:08اگر ہم دیکھیں
09:09تو کسی بھی چیز پر کسی کو بھی
09:12کسی معاملے میں فضیلت نہیں ہے
09:14یعنی کوئی مالدار
09:16کسی کم تر کے اوپر زور نہیں چلا سکتا
09:18کہ اگر وہ مالدار ہے تو کمزور پر زور چلا ہے
09:20اگر کوئی
09:21کسی اور چیز میں اپنی پاور رکھتا ہے
09:24تو وہ دوسرے کو اس میں کمزور سمجھے
09:25کوئی کسی بڑے منصف پہ تو اس سے نیچے والے پر حکم چلا
09:28یعنی یہ زندگی کے ہر معاملے میں
09:31ہر معاشر میں
09:31اور میں ابتداء یہاں سے کروں گے
09:33کہ دیکھیں
09:33خدبہ حجرت الودا کا اتنا حسین
09:36وہ خدبہ ہے
09:37وہ خدبہ حسین
09:38دینے والے حسین
09:40اور پھر جو وہاں مجمع تھا
09:42وہ یہ خاص مجمع تھا
09:43کہ اس جیسا مجمع
09:44یا اس جیسا خطاب تو پھر ہوئی نہیں سکتا تھا
09:46تو آقا علی صلی اللہ علیہ وسلم نے
09:48فرما دیا کہ خبردار
09:50تمہارا رب ایک ہے
09:51تم سب آدم کی اولاد ہو
09:53پھر آقا علی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
09:55کسی عربی کو عجمی پر
09:57کسی عجمی کو عربی پر
09:58کسی کالے کو گورے پر
10:00کسی گورے کو کالے پر
10:01کوئی فوقیت حاصل نہیں
10:02اگر فوقیت ہے
10:03فضیلت ہے
10:04وہ اسے بنیاد تقویٰ ہے
10:05میار کیا ہے
10:06تقویٰ ہے
10:07اب اگر ہم دیکھیں
10:08تو اس خدبے کا
10:09اگر ہم ایک منظر
10:10ایک جائزہ لیں
10:11تو وہاں پر کون موجود نہیں تھا
10:13علاقے کا گورنر بھی موجود تھا
10:15اس کی ریایہ بھی موجود تھی
10:17کمزور بھی موجود تھا
10:18غریب بھی موجود تھا
10:19حمیر بھی موجود تھا
10:20طاقتور بھی موجود تھا
10:21ہر شخص کھڑا تھا
10:22اور وہ خدبہ
10:24علیہ وسلم نے فرمایا
10:25تو وہ سب کے لیے
10:26تو سرکار دولم صلی اللہ علیہ وسلم
10:28نے اتنا خوبصورت منظر پیش کیا
10:31کہ کسی کو بھی
10:32کسی چیز پر
10:33کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے
10:34تو جب سرکار نے فرما دیا
10:35تو پھر زندگی کے
10:36کسی بھی معاملے میں
10:37کسی پر بھی
10:38کسی کو کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے
10:39بس تقویٰ کا
10:40جو میار ہے
10:41اگر کوئی اس پر ہے
10:42تو صرف فوقیت
10:43اور فضیلت
10:44وہی ایک میار رکھتی ہے
10:45اب اگر ہم دیکھیں
10:46تو اس کی کچھ مثالیں
10:47اگر ہم دیکھیں
10:48تو قبیلہ مقزوم کی
10:50ایک عورت
10:50آپ نے جو بھی
10:52چوری کا عمل کیا
10:53تو ہاتھ کٹنے کا حکم آیا
10:55تو وہ ہاتھ کٹنے کا حکم
10:57یہ نہیں تھا
10:58کہ اگر وہ ایک خاص قبیلے سے
10:59متور گھرانے سے
11:01ایک متور خاندان سے
11:02تو وہ معافی کے لائک ہیں
11:03یا وہ چیز
11:04وہ جب اصول سب کے لیے آ گیا
11:06سو وہ سب کے لیے برابر تھا
11:08سو وہ سزا دی گئی
11:09اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:11کے صحابہ کرام نے
11:12آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:13کو اتنا خوبصورت فالو کیا
11:15کہ حضرت ابو بکر صدیق
11:17رضی اللہ علیہ وآلہ
11:18انہوں نے جب منصب خلافت
11:19کو سمالا
11:20تو اس وقت آپ نے
11:21اپنے پہلے خدبے میں
11:22یہ اعلان کر دیا
11:23کہ سب کے حقوق
11:25یقصہ حفاظت کے مستحق ہیں
11:28جس کے جتنے حقوق ہیں
11:30وہ سب کی حفاظت برابری سے
11:31پھر آپ نے یہ فرمایا
11:33کہ میرے نزدیک
11:34کمزور
11:35اس وقت تک طاقتور ہے
11:37جب تک میں اس کا حق نہ دے دوں
11:38اور جو طاقتور ہے
11:40وہ اس وقت تک کمزور ہے
11:41جب تک میں اس حق کو لے نہ لو
11:43یعنی آپ نے وہ مثال قائم کر دی
11:45اسی طرح حضرت عمر کی مثالیں ہیں
11:47حضرت علی کی
11:48حضرت عثمان کی
11:49یعنی ہمیں پتہ چلتا ہے
11:51کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:52کے صحابہ کرام
11:53نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
11:55کی صیرت کو
11:56اتنی خوبصورتی سے اپنایا
11:58کہ کسی بھی چیز میں
11:59انہوں نے کہیں پر بھی
12:00کوئی بھی فرق نہیں کیا
12:02کہ اگر مولا علی عدالت میں
12:04پیش ہوئے تو
12:05وہ حق پڑھتے سب کچھ تھا
12:07لیکن وہ اس عدالت میں جا کر کھڑے ہوئے
12:09یعنی کسی چیز کا
12:10اسی طرح اگر ہم دیکھیں
12:12تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:13نے مختلف مقامات پر
12:15یہ کام کر کے دکھایا
12:16بتایا
12:17جیسے اگر ہم دیکھیں
12:18تو مسجد نبی کی تعمیر ہوئی
12:20دیگر مسائل
12:20تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:22صحابہ کرام کے شانہ و شانہ رہے
12:23آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:25نے ان کے ساتھ مل کر
12:27ان سارے کاموں میں حصہ لیا
12:28اسی طرح ایک جنگ سے جب واپس ہوئے
12:30تو ہر صحابی نے
12:32اپنے اپنے حصے میں کام لے لیے
12:34آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:35نے فرمایا
12:35چلو میں لکڑیاں لاتا ہوں
12:36لکڑیاں جمع کر کے لاتا ہوں
12:37یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:39نے کسی صورت یہ نہیں
12:41اپنے کردار سے سمجھا دیا
12:43کہ مسائلہ سب کے لیے بہترین
12:45سب کے لیے برابری کا ایک سعودہ ہے
12:47جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
12:49نے وہ ایک خاص خدمے میں بتا دیا
12:51جو ہم بارہا سنتے ہیں
12:52لیکن ہم اس کو اس طرح سے لیتے ہی نہیں ہیں
12:55نہ اس پر اس طرح سے عمل کرتے ہیں
12:57کہ ہمیں سمجھ میں آئے
12:58کہ جب سرکار نے فرما دیا
13:00کہ کوئی کالا ہو گورا ہو
13:02امیر ہو غریب ہو حاکم ہو
13:05محکوم ہو سب برابر ہیں
13:07اس رب کی بارگاہ میں
13:08وہی سب سے بڑی عدالت ہے
13:09وہی قیامت والے دن لگنی ہے
13:11اور وہی پر ہی سارا حساب و کتاب ہونا ہے
13:14تو آج جو ہم لوگوں کی ججمنٹ کرتے ہیں
13:15تو ہمیں اس سے بھی بچنا چاہیے
13:17دوسرا ہمیں سب کے ساتھ برابری کا
13:20ایک اصول قائم کرنا چاہیے
13:22اور اس کی ابتداء اپنی گھر سے کرنی چاہیے
13:25اگر ہم باروالوں کا حق مار کر
13:26باہر درس دے رہے ہیں
13:27تو یہ بھی ہم تو ایک مساوات کی قسم
13:30تو نہیں قائم کر رہے ہیں
13:31یعنی مساوات پر چلی نہیں رہے
13:33تو اللہ رب العزت ہمیں
13:34سرکارت عالم صلی اللہ علیہ وسلم
13:36کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے کی
13:38توفیق عطا فرماتا
13:39یہ ہے اسلام کا جو بتایا ہوا طریقہ ہے
13:44جو مساوات ہے در حقیقت
13:46رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
13:48جو کر کے دکھایا ہے یہ ہے اصل مساوات
13:50مزید بات کریں گے
13:52حاضر ہوتے ہیں اس مقتصر سے وقفے کے بعد
13:54السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
13:57آپ دیکھ رہے ہیں پروگرام میری پہچان
13:59اور میری پہچان میں ایک مرتبہ پھر آپ سب کا خیر مقدم ہے
14:03مہمان شخصیات ہمارے ساتھ رونہ قفروز ہیں
14:06ڈاکٹر امتیاز جعوید خاکوی صاحبہ تشریف فرما ہے
14:09عالمہ سادیہ سعید بھی تشریف فرما ہے
14:12اور اسلامی معاشرے کی جو بنیادی خصوصیات ہیں جناب
14:16اس پر کلام کیا گیا
14:17یعنی اسلام جو ہے
14:19جب ہمیں توحید کا جس طرح سے ابھی بات ہوئی
14:21توحید باری تعالیٰ کے حوالے سے
14:23جب ہم رب سے جڑ جاتے ہیں
14:26جب دین اسلام ہمیں رب کے قریب کر دیتا ہے
14:29تو پھر تمام ہی چیزیں جو اسلام سے خارج ہیں
14:33اس سے انسان دور ہو جاتا ہے
14:35اس سے انسان بچتا ہے
14:36اور پھر ایک بات اور ہے
14:38کہ اپنے رب کے حضور جواب دہی کا خیال ہما وقت رہتا ہے
14:43آپ معاشرے میں دن میں گھر میں بہار گھر سے بہار
14:47کوئی بھی عمل کرتے ہیں
14:48تو پھر آپ کو یہ خوف ہوتا ہے
14:50کہ وہ رب دیکھ رہا ہے
14:52اور ایک دن اس کے حضور حاضر ہونا ہے
14:54ڈاکٹر صاحبہ مزید گفتگو کو آگے بڑھائیں گے
14:57مساواد کی بات ہوئی
14:58کتنا خوبصورت نظام دین اسلام نے ہمیں دیا
15:01ایک اور خوبی جو دین اسلام کی ہے
15:04اسلامی معاشرے کی جو بنیادی خصوصیات میں سے ہیں
15:07وہ قصب حلال
15:08این عبادت کہا گیا
15:09اللہ اکبر
15:10آپ فرمائیے گا
15:11کیا کیا فوائد ہیں
15:12کیا اثرات ہیں
15:13کہیے گا
15:14شکریہ زینب
15:15دیکھیں
15:16اللہ حرب العزت نے اشارت فرمایا
15:17کلونت تیباتیں
15:19وہ عملو سوالیں
15:19تیب چیزوں کو
15:21پاکیزہ چیزوں کو کھاؤ
15:23اور عمل جو ہے
15:24وہ تمہارا صالح ہونا چاہیے
15:26نیک ہونا چاہیے
15:26خیر کے عمل کرو
15:28دیکھیں آج دنیا مانتی ہے
15:30کہ معیشت جو ہے
15:31وہ کسی بھی سوسائیٹی کے لیے
15:32ریڑ کی ہڈی کی ایسیت
15:33بے شک
15:34تو معاشی نظام جب تک نہ دیا جائے
15:37تو ایک معاشرہ پنپ نہیں سکتا
15:39ترقی نہیں کر سکتا
15:40معیشت جتنی مضبوط ہوتی ہے
15:42معاشرہ اتنا زیادہ
15:43ترقی کرتا ہے
15:44نہ موپاتا ہے
15:45اب اللہ کے نبی رسول اکرم
15:47صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
15:49اپنی زندگی کی مثالوں سے
15:51آپ کے فرامین کی روشنی میں
15:54حلال طیب پاکیزہ رزقے
15:57وہ اصول
15:58وہ باؤنڈریز کلیر کر دیئے گئے
15:59بلکل ہے صحیح
16:00کہ قصب حلال کو
16:02اتنی اہمیت دی گئی
16:03کہ جو حرام لکمہ
16:05ایک لکمہ بھی کھاتے ہو
16:06تو نہ تمہاری دعا قبول ہوتی ہے
16:08نہ تمہاری عبادت قبول ہوتی ہے
16:10نہ تمہارا اس سے رشتہ جڑتا ہے
16:12اللہ سے
16:13وہ صدقہ کرے
16:14تو وہ صدقہ بھی قبول نہیں ہوتا
16:16یعنی
16:17یتیموں کا مال کھاتے ہو
16:19وہ بھی حرام ہے
16:20سود کھاتے ہو
16:20وہ بھی حرام ہے
16:21جوہ کرتے ہو
16:22وہ بھی حرام ہے
16:23ان ساری چیزوں کو واضح کر کے
16:25قصب حلال کو پسند فرمایا
16:28اور آج سارے مانتے ہیں
16:30اس بات کو مفکرین
16:32کہ جتنا قصب حلال آتا ہے
16:35رزق وہ برکت لے کر آتا ہے
16:37اور آپ دیکھیں
16:38تو انبیاء کا قام ہے
16:39حضرت دعوت علیہ السلام
16:40اپنے ہاتھ سے زرہ بناتے ہیں
16:42اور پھر اس سے اپنا کھاتے ہیں
16:45اسی طرح
16:45ذکریہ علیہ السلام
16:46بڑائی کا کام کرتے ہیں
16:48انبیاء سے بڑھ کر کوئی ہے
16:49مثالیں ہمارے صاحب نے
16:50نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
16:52نے خود تجارت کے شعبے کو اپنایا
16:54تجارت کو پسند فرمایا
16:56تو اس طریقے سے
16:58ایک ہاتھ کی کمائی کو
17:00عبادت بھی قرار دیا
17:01اسے جہاد بھی قرار دیا
17:03کوئی شخص علال
17:04جو اس کمانے کے لیے
17:05گھر سے باہر نکلتا ہے
17:06ایک طرف تو
17:07اسے مسلمانوں پر فریضہ بھی قرار دیا
17:09دیکھیں ایک معاشرہ
17:10ہمیں وہ دیا
17:11کہ جس میں مرد کو کفیل بنایا
17:13ارے جالو قوام
17:14انہا لینے سائے
17:15کیوں قوام ہے وہ
17:17کیونکہ انہیں دو فضیلتیں دی گئی
17:18ایک بھی جس معنی طور پر
17:19وہ مضبوط ہیں
17:20دوسرا انہوں نے مال کمانا ہے
17:22اور خرچ کرنا ہے
17:23اور یہ ایک خواتین کے بھی
17:25حقوق کی بھی
17:25اس میں بات آ جاتی ہے
17:27کہ خاتون ماں کی صورت میں
17:28ہے تو بیٹے کی ذمہ داری ہے
17:30بیوی کی صورت میں
17:30ہے تو شہر کی ذمہ داری ہے
17:32بیٹی ہے تو باپ کی
17:33ذمہ داری ہے
17:34انہیں ہر صورت
17:35کما کر لانا ہے
17:36اور ان کی کفالت
17:37کو سنبھالنا ہے
17:38and if you can clean it, then you can clean it,
17:40then that you can clean it.
17:41So you can clean it up
17:42and on an owner
17:45and on a piece of you.
17:47David, who can clean it,
17:48if you can clean it,
17:50you can clean it up
17:51one, that one has just
17:52you can clean it up.
17:54That one has no way to clean it.
18:00When you clean it,
18:01you can clean it up.
18:03And in the other hand,
18:33because of halal
18:35is
18:37in the end of the day of the day of the day.
19:06foreign
19:35اللہ کی راہ میں دے دی
19:36کہ یہ مال گھر میں نہ جائے
19:38تو اتنی احتیاط
19:41علامہ اقبال کی والدہ
19:42جب تھوڑا سا بھی شک پڑھا
19:44تو آپ نے بکری کا دودھ دو
19:46کہ آپ علامہ اقبال کو پلاتی تھی
19:48کہ کوئی لکمہ بھی نہ جانے پائے
19:50تو جب تک ہمارے اصلاف
19:51ہمارے بڑے جو ہیں
19:52اس کی احتیاط نہیں کریں گے
19:54تو بچوں تک کیسے جائیں
19:57مجھے ایک دب یہ خیال آ رہا تھا
19:59کہ آپ سوچیں صرف گمان
20:01یا شک کے بنیاد پر
20:04مطلب وہ جو لکمہ ہمارے موں میں گیا
20:06یا وہ قطرہ پانی کا
20:07یا وہ دودھ کا
20:08یا جو بھی غزہ گئی ہے
20:09وہ نکال دی
20:11وہ شخصیات
20:12اور پھر ہمارے پاس
20:14ایسی ایسی مثالیں موجود ہیں
20:15کہ ہمیں معلوم ہے
20:17وہ کمل طور پر معلوم ہے
20:18کہ اس طرح کیسے کمایا ہوا رسک
20:20جو ہے وہ حلال اور طیب نہیں ہے
20:21لیکن اس کو ہم پہ دریکھ کھا بھی رہے ہیں
20:24خرش بھی کر رہے ہیں
20:25اور اسی لیے
20:26ہمارے بیان میں
20:27ہماری گفتار میں
20:28ہمارے لہجے میں
20:29ہماری بات میں
20:29اثر بھی نہیں ہو
20:31اثر بھی نہیں ہو رہا
20:32معاشرے میں
20:32ایک بہت ہی
20:33اسی سے مربوط کرتی ہو
20:35ایک بہت ہی اہم جو خوبی ہے
20:37معاشرے کی
20:38اسلام کی خاص طور پر
20:39اسلامی معاشرے کی
20:40وہ ہے جس طرح
20:41قصب حلال کی بات کی
20:42عمر بالمعروف
20:43و نہیں انی المنکر
20:45اچھائی کا درست دیں
20:46برائی سے روکنا ہے
20:47اس حوالے سے آپ کیا
20:49کہیں گی
20:50کیا روشنی رہ لیں گی
20:57کہ ایک فیگر پیش کی
20:58تو اگر ہم دیکھیں
20:58تو آج کا مسلمان
21:00بے راروی کا شکار ہے
21:02یعنی اس کو کمانے
21:03کا بھی ڈھنگ نہیں ہے
21:04اس کو خرچ کرنے
21:05کا بھی ڈھنگ نہیں ہے
21:06اس کو اپنی چیزوں
21:08کا پتہ ہی نہیں ہے
21:09یا پتہ ہے
21:09تو وہ انجان ہے
21:10تو اگر ہم دین اسلام
21:12میں رہتے ہیں
21:13تو کوئی بھی شخص
21:13جاہل نہیں ہو سکتا
21:14اس کو اپنی اقدار
21:16کا پتہ ہوتا ہے
21:17کہ ہمارے دین اسلام
21:18نے ہمیں کیا کہا ہے
21:19اب یہ جو عمر بالمعروف
21:20نئین ملکر کی بات ہے
21:21تو دیکھیں
21:22یہ نیکی کا حکم دینا
21:24اور برائی سے روکنا
21:25اب اگر ہم اس کا
21:26ایک سیناریو دیکھیں
21:27تو آقا علیہ السلام کی
21:28حدیث مبارکہ بھی
21:29ہماری رہنمائی کرتی ہے
21:30کہ مفہوم حدیث کو
21:31اگر ہم دیکھیں
21:32تو آقا علیہ السلام
21:33نے بھی فرمایا
21:34کہ نیکی کا حکم دو
21:35اور برائی سے روکو
21:37لیکن کیا ہم
21:38نیکی کا حکم دے رہے ہیں
21:39یا کیا ہم
21:40خود عمل کر رہے ہیں
21:42اس پر یہ ایک سوال
21:43بھی تو بنتا ہے نا
21:43کہ کیا ہم
21:45عمل کر رہے ہیں
21:46تو آگے وہ بتا سکتے
21:48اگر ہم خود ہی
21:49اس سے بے بہرہ ہیں
21:49ہم وہ کام ہی نہیں کر رہے
21:51تو ہم کیسے آگے
21:52اس کو پھیلا سکتے ہیں
21:53اور کیسے ہم روک سکتے ہیں
21:54جب ہمیں
21:55ایک چیز بری ہوتے ہوئے
21:57بھی بری نہیں لگ رہی
21:58تو یہ ہماری
21:59اپنی کبزوری ہے نا
22:00یہ ہمارا
22:00اپنا خلل ہے
22:01ڈالاوا
22:02کہ ہمیں وہ بری چیز
22:03بری ہی نہیں لگ رہی
22:04تو ہم اس کو روکیں کیسے
22:06اب اگر ہم دیکھیں
22:06تو نہیں انیل منکر
22:08کو اگر ہم دیکھیں
22:09کہ روکنا
22:10ایک ہے
22:11کہ ایک جگہ
22:12برائی ہو رہی ہے
22:13گناہ ہو رہا ہے
22:14اور وہ
22:15اگر اس شخص سے بھی
22:16سرزد ہو جائے
22:17تو اللہ رب العزت
22:17اس سے فوراں
22:18توبہ اور استغفار کی
22:19توفیق دے
22:19اس سے فوراں
22:20توبہ اور استغفار کر لی
22:21ایک جگہ ہے
22:23کہ جہاں پر
22:24اس کو پتا ہے
22:33جس کو پتا ہو
22:35کہ یہ کام غلط ہے
22:36اور وہ طاقت بھی رکھتا
22:37اس کو روکنے کی
22:38اور نہ روکے
22:39تو اس پر
22:40اللہ رب العزت
22:41دنیا میں بھی
22:42عذاب میں
22:42اسے مبتلا کرے گا
22:43اب وہ عذاب
22:44دو طرح سے ہو سکتے ہیں
22:45عمومی بھی ہو سکتے ہیں
22:46اور انفرادی بھی ہو سکتے ہیں
22:48عام طور پر
22:49اگر ہم دیکھیں
22:49ہمارا خیال نہیں جاتا
22:51کبھی اچانک
22:52توفان کا آ جانا
22:53زلزلوں کا آ جانا
22:54مختلف بیماریوں
22:55کا شکار ہو جانا
22:56اب اگر انفرادی طور پر
22:58دیکھیں
22:58اولاد کا نافرمان ہو جانا
23:00کسی ایسے موزی مرض میں
23:01مبتلا ہو جانا
23:02جس کا سنا ہی نہیں تھا
23:03اچانک مبتلا ہو گیا
23:04یا پھر
23:05کوئی بھی ایسی چیز
23:06آپ کے مال کا مسئلہ
23:07دیگر چیزوں کا مسئلہ
23:08اگر ہم دیکھیں
23:09تو یہ پیچھے کیا ہے
23:10کہ ہم ان اقدار
23:11کو چھوڑتے آ رہے ہیں
23:13کہ ہمیں نیکی کا حکم ہے
23:14اور برائی سے
23:15رک جانے کا حکم ہے
23:16اب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:18نے فرمایا
23:19کہ کوئی اگر
23:20ناجائز کام کو ہوتا
23:22وہ دیکھے
23:22اور اگر اس نے
23:24اس کام کو دیکھا ہے
23:24اور وہ پھر
23:25اس کی طاقت رکھتا ہو
23:26تو وہ ہاتھ سے روکے
23:27ہاتھ سے نہیں روک سکتا
23:29تو زبان سے روکے
23:30اگر فتنے کا خطرہ نہیں ہے
23:31تو زبان سے روکے
23:33اور اگر فتنے کا خطرہ ہے
23:34تو پھر اس کو
23:34دل میں برا جانے
23:35اور یہ سب سے ادنا ہے
23:37سب سے کم تر ایمان کا حصہ ہے
23:39کہ وہ دل میں برا جان رہا ہے
23:41اور پھر اگر ہم دیکھیں
23:42تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
23:43کی حدیث پاک کا مفہوم ہے
23:45کہ اللہ رب العزت نے
23:47پوری بستی اُلٹ دی
23:49کیوں؟
23:49حضرت جبرائیل علیہ
23:50حدیث پاک کا مفہوم ہے
23:51حضرت جبرائیل علیہ السلام
23:53کو اللہ رب العزت نے
23:54وحی بھیجی
23:54کہ فلاں بستی کو اُلٹ دو
23:56تو حضرت جبرائیل علیہ السلام
23:57نے عرضی پیش کی
23:58کہ رب العزت
23:59اس میں ایک شخص ایسا ہے
24:00کہ جو پلک جھپکنے کے برابر
24:02بھی تیری نافرمانی نہیں کی
24:03تو اللہ رب العزت نے فرمایا
24:05اس کے ساتھ پلٹو
24:06کیونکہ اس کے سامنے
24:08برائیاں ہوتی تھی
24:09اور اس کے چہرے کی
24:11ذرہ رنگت نہیں بدلتی تھی
24:12یعنی آپ یہ دیکھیں
24:13کہ برائی ہو رہی ہے
24:15سامنے طاقت بھی
24:16کوئی شخص رکھے
24:17اور نہ رکھے
24:18تو پھر وہ عذاب میں
24:19گرفتار ہوتا ہے
24:20تو کیا آج ہم اپنے اٹھگر دیکھیں
24:22ہم نہیں ہیں
24:22مشکلوں میں گرفتار
24:23ہم رسک کے لیے پریشان
24:25ہم لوگ ہیں
24:26مہنگائی سے پریشان
24:27ہم لوگ ہیں
24:28رویوں سے پریشان
24:29ہم لوگ ہیں
24:30رشتے ہمارے ختم ہو رہے ہیں
24:31لوگوں سے محبتیں ختم ہو رہی ہیں
24:33کیوں
24:34یہ جو ہم نے
24:34ہر چیز کو کہنا شروع کر دیا
24:36جو آرہا ہے وہ ہمارا ہے
24:37جو آرہا ہے وہ ہمارا ہے
24:38اپنی مٹھیوں کو بند کر لیا ہے
24:41ہم کسی کو دینا پسند نہیں کرتے
24:42محبتیں باٹنا پسند نہیں کرتے
24:44اچھائیاں پھیلانا پسند نہیں کرتے
24:45برائی کو روکتے ہوئے
24:47ڈڑتے ہیں
24:47کہ اگر ہم کچھ بول دیں گے
24:48تو اگلا ہمارا ہی دشمن ہو جائے
24:49ہماری ذمہ داری ہے
24:50ہماری ذمہ داری ہے
24:51وہ کر رہے ہیں
24:52تو اس کا عمل اس کے ساتھ ہے
24:53اگر آپ دیکھ رہے ہیں
24:55تو آپ کم سے کم روک تو سکتے ہیں
24:56کہ آپ کا جو فرض ہے
24:58کہ آپ اس چیز کو برا کہیں
24:59آپ اس سے اس شخص کو روکیں
25:01کہ دیکھو تم یہ غلط کام کر رہے ہو
25:02اب رکنا نہ رکنا اس کے معاملے میں
25:05کہ وہ اس سے رب توفیق دے گا
25:06وہ روک جائے
25:07لیکن آپ تو اپنا فرض ادا کریں
25:08اب ہر شخص یہ کہہ کر
25:10اگر قید ہو جائے
25:10کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے
25:12نہ ہمارے یہاں سے کوئی کر رہے
25:13تو نہیں پتہ کل کو آپ کا بچہ
25:14اس جگہ پر جائے
25:16اور ان کاموں میں لگ جائے
25:17تو یہ گھر سے تربیت
25:19اور جب وہ گھر والے ہی
25:20اپنے بچوں کو بٹھا کر بتاتے ہیں
25:22دیکھئے تربیت بہت ضروری ہے
25:24آج ہمارے معاشرے میں
25:25کوئی بھی شخص برا نہ مانے
25:26لیکن میں یہ کہتی ہوں
25:27تربیت کا فقدان ہے
25:28نہیں اوری گھروں پہ تربیت
25:30نہیں پتہ بچوں کو
25:31کہ ہمارے دین اسلام نے
25:32کیا حکم دیا ہے
25:33ہمیں کیا کام کرنے چاہیے
25:34کیا نہیں
25:35وہ ہر چیز کو سمجھتے ہیں
25:36کہ اگر یہ سب کر رہے ہیں
25:38تو وہ صحیح ہے
25:38ایسا نہیں ہے
25:39کہ جو شخص سارے مل کر
25:41کوئی ایک کام کر رہے ہو
25:42تو وہ صحیح ہے
25:42ہاں ٹھیک ہے
25:43صحیح ہو سکتا ہے
25:44لیکن آپ کم سے کم
25:45اس کے ایک جو وہ
25:46یہ نا لیمٹ کو معلوم کریں
25:48حد سے تجاوز نہیں کریں
25:49کہ جس طرح سے
25:50ہم بے دھڑک دوسری چیزوں میں
25:52لگ جاتے ہیں
25:52تو جہاں برائی کو دیکھیں
25:53وہاں روکیں
25:54اور جو اچھائی کا کام ہو
25:56اس کو پھیلانے کی کوشش کریں
25:57اور اللہ رب العزت
25:58ہمیں توفیق دے
25:59کہ ہم اچھائی کے کاموں کو پھیلائیں
26:01اور برائیوں کو روکیں
26:02دین اسلام کی
26:04یہ جو خصوصیات ہیں
26:05اتنا خوبصورت معاشرہ
26:07وجود میں آئے
26:08کہ ہم تصور نہیں کر سکتے
26:10جب اگر ہم یہ تمام چیزیں
26:12جو خصوصیات چیدہ چیدہ بھی
26:13بیان کی گئی ہیں
26:14ایسے معاشرے میں رہیں
26:16تو ہم تو جنت نظیر
26:17معاشرے میں ہوں گے
26:18ایک وقفہ لیتے ہیں
26:19حاضر ہوتے ہیں
26:20السلام علیکم
26:21ورحمت اللہ وبرکاتہ
26:22آپ دیکھ رہے ہیں
26:23پروگرام میری پہچان
26:25اور آج جناب
26:26جس اہم انوان کی طرف
26:28اس میں چونکہ
26:29بہت سارے چیدہ چیدہ نکات ہیں
26:31ہر نکتہ
26:33اپنے اندر
26:33ایک موضوع الگ رکھتا ہے
26:35لیکن چونکہ
26:35معاشرہ ان تمام چیزوں سے
26:37ان تمام باتوں سے
26:38مل کر بنتا ہے
26:39تو آج اسی لئے
26:40ہم یہاں پر
26:41ہم نے یہ موضوع بھی رکھا
26:42کہ کاش
26:43ہمارے اس پروگرام کو دیکھ کر
26:44کہیں نہ کہیں
26:45اس لئے وہ بات ہوئی نا
26:47جیسے امر بالمعروف
26:48اور نہیں ان المنکر
26:49اپنی سی کوشش
26:50یقینی طور پر ہمیں کرنی
26:51ہمارے ساتھ موجود ہیں
26:52ڈاکٹر امتیاز جاوید
26:53خاکوی صاحبہ
26:54اور عالماء سادیہ
26:56سعید صاحبہ بھی
26:57رونہ قفروز ہیں
26:58ڈاکٹر صاحبہ
26:59اب آپ اشارت فرما دیجئے
27:00جس طرح
27:00امر بالمعروف کی بات ہوئی
27:02مساوات کی بات ہوئی
27:04ایک اور معاشرتی
27:05جو اسلامی معاشرے کی
27:15سیکیورت ہے
27:16اس سے پھر پورا معاشرہ
27:17محفوظ رہتا ہے
27:19کیا کہیں گے آپ
27:20شکریہ زینب
27:21دیکھیں
27:21قوانین اور اصول
27:23اور ضوابط جو ہیں
27:24وہ انسانوں کی بہتری کے لیے
27:26ڈیولپ کیے جاتے ہیں
27:27اور ہم جب دین حق کے ماننے والے ہیں
27:29دین مبین
27:30دین اسلام کے
27:31تو دین ہماری
27:32ہر معاملے میں
27:33کچھ قوانین ہمیں دیتا ہے
27:35یہ صرف وہ قانون نہیں ہے
27:37کہ جو آپ کو
27:37یہ عدالت آپ کو دے رہی ہے
27:39یہ تو ہماری پوری زندگی پر آبی ہے
27:41ایک فرد کے لیے
27:42اپنی باؤنڈریز ہیں
27:43اور معاشرے کے لیے بھی
27:44اپنی باؤنڈریز ہیں
27:45کہ اس نے ان باؤنڈریز کے
27:47اندر رہ کر کام کرنا ہے
27:48ابھی آپ فطرت پر چلے جائیں
27:50انسان خود
27:51قوانین کا پابند ہے
27:52اسے بھوک لگے گی
27:53تو اسے کھانا پڑے گا
27:54پیاس لگے گی
27:55تو پانی پینا پڑے گا
27:56یہ قانون ہے اس کا
27:57فطرت میں اس نے بنایا ہے
27:59آپ کو اس پر عمل کرنا پڑے گا
28:01اس کے بغیر آپ کا چارہ ہی نہیں ہے
28:03پھر آپ نظام کائنات پر نگاہ ڈالیں
28:05یہ قوانین ہے
28:06جس کے اندر وقت بھی ہے
28:07جس کے اندر ڈسپلن ہے
28:08نظم و ضبط ہے
28:09سورج کو دیکھیں
28:10چاند کو دیکھیں
28:11زمین کو دیکھیں
28:12پھولوں کو دیکھیں
28:13ہر چلیلنڈ ہے
28:17اتنا نظم و ضبط ہے
28:18اتنے قوانین اور حدود کے اندر
28:21اس کی پاسداری کرتے نظر آتے ہیں
28:23اور انسان جب خالق کے بنائے ہوئے قوانین کو توڑتا ہے
28:27آپ دیکھیں تو نماز قوانین کا مجموعہ ہے
28:29آپ نے ایسے وضع کرنا ہے
28:31ایسے کھڑے ہونا ہے
28:31تب نماز ادا ہوگی
28:33ورنہ نہیں ہوگی
28:34اس کی شرائط ہے
28:35اس کی حصول ہے
28:35روزہ ہے
28:36اس کی اپنی شرائط ہے
28:37حج ہے
28:38اس کی اپنی شرائط ہے
28:39ان کو حدود کے اندر
28:40باؤنڈریز کے اندر رکھ دیا
28:42ایسا کروگے
28:43تو یہ عبادت ہوگی
28:44ورنہ نہیں ہوگی
28:45پھر قوانین سے
28:46باؤنڈریز سے
28:47باہر بھی کچھ اجازتیں دی
28:48کہ درود پاک پڑھتے رہو
28:50وستقفار کرتے رہو
28:51اس سے باہر نکل کر
28:52یہ بھی عبادت اور بندگی کے طریقے ہیں
28:54حلال روزی کماؤ
28:55یہ سب بھی ہے
28:56ہمیں بیسیکلی یہ یاد رکھنا ہے
28:58کہ اس نے وہ حدود واضح کر دی
29:00کہ ان حدود کو توڑ دوگے
29:02تو تم خالق سے گویا بغاوت بھی کر رہے ہو
29:04اور ناشکری بھی کر رہے ہو
29:06صحیح بے شک
29:06ایک ہے انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین
29:09جو قوانین
29:09انسان اپنے معاشرے کے مطابق
29:12تھوڑا بہت بدل سکتا ہے
29:13آج آپ کے ٹریفک کے قوانین ہیں
29:15وہ آپ کی سہولت کے لیے ہیں
29:17اس سے فیسلیٹیٹ ہوتا ہے معاشرہ
29:19لیکن جو اللہ کے بنائے ہوئے قوانین ہیں
29:22ان سے آپ باہر نکلتے ہیں
29:24تو معاشرہ پورا انارکی کا شکار ہوتا ہے
29:26آپ دیکھیں چوری ہے
29:27ڈکیتی ہے
29:28جرائم ہے
29:29جان مال عزت کا محفوظ نہ ہونا
29:31یہ کیا ہے کہ قوانین کی پاسداری نہیں کر رہے
29:33احکام خداوندی کی آپ پرواہ نہیں کر رہے
29:36اس لیے میں نے کہا کہ یہ یاد رکھیں
29:38جب احکام آتے
29:39الہیہ کو پس پچھ ڈال دیتے ہیں آپ
29:41تو پھر آپ اس خالق و مالک سے بغاوت کریں
29:44ناشکری کریں
29:45پھر اس کی پکڑ بڑی سخت ہے
29:47وہ مولت دے رہا ہے
29:48وہ ڈھیل دے رہا ہے
29:49اس لیے دے رہا ہے
29:50کہ آپ توبہ کر لیں
29:51آپ واپس آ جائیں
29:53لیکن اگر آپ توبہ نہیں کرتے
29:54تو اس کا عذاب بڑا سخت ہے
29:56وہ بار بار قرآن مجید میں
29:58اپنے کلام میں بتا رہا ہے
30:00یہ ہیں حدود
30:01یہ ہیں اصول
30:02یہ ہیں حکامات
30:03ان سے رکنا ہے
30:04ان سے بچنا ہے
30:05پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
30:08بھیجا بھی اس لیے گیا
30:09کہ یہ صرف حکامات لفظوں میں نہیں ہیں
30:12انہوں نے پریکٹیکلی
30:13وہ محبوبِ کبریہ
30:15سید المرسلی
30:17بشر کے روپ میں آئے ہیں
30:18اور آپ نے وہ سارے اپنا کر
30:20ان طریقوں کو
30:21امانت داری
30:23صدق و صفاح
30:25ہر چیز کو آپ نے اپنی ذات میں
30:27سے عملاً ثبوت دیا
30:29قرآن نے اگر نظریہ دیا
30:30تو عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم
30:32نے کر کے دکھایا
30:33تو یہ وہ قوانین ہیں
30:35جو حقوق و فرائض کی صورت میں ہیں
30:37معاملات زندگی کی صورت میں ہیں
30:39عبادات کی صورت میں ہیں
30:40ہماری پوری زندگی میں رہاوی ہیں
30:43آپ خلوت میں ہیں
30:44تو آپ کی تنہائی کیسے پاک ہونی چاہیے
30:46آپ مجلس میں ہیں
30:48تو مجلس کی کیا عداب ہیں
30:50تو آپ غور کریں
30:52حقوق و فرائض کا پورا نظام
30:53آپ کی زندگی
30:54اس سے باہر نکل ہی نہیں سکتی
30:56تو عبادات ہیں
30:58یا معاملات
30:58دنیا ہے
30:59یا دین ہے
31:00آپ کو ہر جگہ
31:01ان قوانین کی پاسداری کرنی ہے
31:04اس سے اخلاقیات بھی بہتر ہوں گے
31:06قوانین ایک طرف اخلاقیات کا محافظ بن جاتا ہے
31:09وہی قوانین
31:10ان پر آپ عمل پیراہ ہوتے چاہے جاتے ہیں
31:12اخلاقی آلت بہتر ہو جاتی ہے
31:14معاشرتی آلت بہتر ہو جاتی ہے
31:16آپ طرح زلی سے باہر نکل آتے ہیں
31:18آپ کا امیابی اور
31:19فلاقی طرف کا سفر شروع کر دیتے ہیں
31:21تو ان قوانین کو معمولی نہ سمجھیں
31:24جو اللہ کی عطا کرنا ہے
31:25اس دین پر چلنا
31:27اپنے لئے باہر سے فخر سمجھیں
31:29بے شک
31:29اور یہ پوری مثالیں سامنے ہیں
31:31انبیاء کی
31:31قوانین تو اب ہر چیز
31:33آپ نے اشارت فرمایا
31:35جیسے اسلامی قوانین کی آپ نے بات کی
31:38اور پورا جو ایک قدرت کا نظام ہے
31:39ہم اس وقت پورے اس کے اُلٹ چل رہے ہیں
31:42اسی لئے ہم جو ہے
31:44گراوٹ کا شکار ہے
31:46پستی کا شکار ہے
31:46تنظلی کا شکار ہے
31:48ہر جگہ
31:49یعنی مجھے ایسے معلوم ہوتا ہے
31:51نہ ہم نے دن کو دن سمجھا
31:53نہ ہم نے رات کو اس طرح سے اختیار کیا
31:55نہ ایک دن کی روشنی کو اس طرح
31:57ایک چھوٹی سی بہت معمولی سی بات
31:59بتا رہے ہوں
32:00کہ ہم نے نہ دن کو دن کی طرح استعمال کیا
32:03نہ رات کی طرح
32:05وہ رب کتنا کریم ہے
32:09ہمیں دیا ہے لیکن ہم اسے اپنا ہی نہیں رہے
32:12قوانین بنے ہوئے ہیں
32:14ایمپلیمنٹ نظر نہیں آرہا ہے
32:15تو یہی ہوگا معاشرے کا حال
32:17آپ کیا دکھ بھی ہوتا ہے
32:19تکلیف ہوتی ہے
32:24ایک چیز کے حصول ہے
32:25ان پر چلتے ہیں تو آپ خود
32:27اس کی برکتیں پاتے ہیں
32:28موقعات کی بات کر لیتے ہیں
32:30خوت اور اتحاد کی مخبت کی
32:32یا گانگت کی بات کر لیتے ہیں
32:35سادیہ نمائی خصوصیات
32:36ہر چیزی نمائی یہ
32:38ماشاءاللہ تو آپ اس کی کچھ
32:40وضاحت کیجئے گا فرمائیے گا
32:42بسم اللہ الرحمن الرحیم
32:44دیکھیں دین اسلام میں
32:46یہ جو موقعات ہے
32:48اتحاد ہے یہ ساری چیزیں
32:50ایک بنیادی حیثیت رکھتی ہے
32:52بنیادی حیثیت
32:54اور بنیادی حیثیت کیوں دیکھیں
32:55قرآن پاک میں سورہ حجرات میں پڑھیں
32:57تو اللہ رب العزت نے فرمایا
32:59مومن آپس میں بھائی بھائی ہے
33:01اور پھر آقا علیہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا
33:03کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے
33:05نہ وہ اس پر ظلم کرتا ہے
33:07اور نہ اسے کسی مصیبت میں
33:09بے یار و مددگار چھوڑتا ہے
33:11اب اگر ہم یہ دیکھیں
33:13تو یہ کتنی خوبصورت بات ہے
33:15کہ قرآن پاک کہہ رہا ہے
33:16مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں
33:17اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرما دیا
33:20کہ نہ وہ ظلم کرتا ہے
33:22اور نہ ہی وہ
33:24اس کے کسی مصیبت میں
33:27اس کو بے یار و مددگار چھوڑتا ہے
33:29اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے
33:30خدبہ حجد الویدہ کے موقع پر بھی
33:32فرما دیا تھا کہ
33:34تمہارے اوپر تو مطلب
33:35سب کی جان مال ساری چیزیں
33:38تمہارے اوپر حرام ہیں
33:39تو دیکھیں اگر ہم اس ساری چیز کو دیکھیں
33:42دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
33:43نے اتنی خوبصورت بات کر کے
33:45اس کو سمجھایا ہے کہ
33:47مسلمان جسد واحد کی طرح ہے
33:49تو یہ اتنی مکمل بات ہے
33:52کہ پوری امت ایک جسد
33:54واحد کی طرح ہے
33:55پھر دیکھیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
33:57نے ایک امارت سے تعبیر کیا
33:59کہ مسلمان امارت کی طرح
34:02جس کا ایک سرہ دوسرے کو
34:03مضبوط کرتا ہے
34:05پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
34:06نے اپنی ایک ہاتھ کی انگلیاں
34:08دوسرے ہاتھ میں لے کر پیوز کر کے
34:10بتا دیا
34:11اس طرح سے ہے
34:13تو آپ یہ دیکھیں کہ
34:14اقوت ہو گیا ہے بھائی چارہ ہو گیا
34:16یہ ساری چیزیں کیا ہے
34:17تو آپ اگر دیکھیں کہ موقعات کی
34:19سب سے بہترین مثال
34:25مکہ میں اپنی ہر چیز چھوڑ کر گئے
34:28تو پھر وہاں کے انصار نے
34:29کتنا خوبصورت منظر پیش کیا
34:31کہ اپنے ہر چیز میں
34:33ان کو حصدار ٹھہرا لیا
34:35گھر میں کاروبار میں
34:36یعنی اتنی خوبصورت مثال قائم کی
34:39تو اقلی صلی اللہ علیہ وسلم
34:40نے جس طرح سے یہ فرما دیا
34:42کہ یہ امت جسد واحد کی طرح ہے
34:44تو میں آج کے معاشے سے
34:46اسے کمپیر اس لیے کروں گی
34:48کہ ہمیں نہیں نظر آتا آج کے معاشے میں
34:50ہم آج کے معاشے میں نہیں دیکھتے
34:52کہ کوئی کسی کا درد سمجھ رہا ہو
34:54ایون کے ایک چھوٹی سی مثال ہے
34:57آپ کہیں پر بھی پارکنگ میں
34:58غلط گاڑی کو پارک کر دیں
35:00آپ نے غلط گاڑی پارک کی
35:02آپ سے جو آگے تھا وہ آیا ہے
35:04تو وہ پریشانی میں مبتلہ
35:05جب تک آپ واپس نہیں آئیں گے
35:07آپ کی گاڑی نہیں ہٹے گی
35:08وہ شخص نہیں نکال سکتا
35:09ایک مثال دیا نا
35:11کہ ہم اس شخص کی تکلیف کو نہیں سمجھ رہے
35:13کہ پتہ نہیں اسے کہاں پہنچنا ہے
35:14کتنی جلدی میں کیا ہے
35:16تو ہم جیسے ابھی قانون کی بات ہوئی تھی
35:18آپ نے کی کہ ہم فالو ہی نہیں کرتے
35:20ہم نے اپنے مطابق بنا لیا
35:22ہم ان کو بھی نہیں فالو کرتے
35:23تو ہم نے یہی اتنی سی بات تھی نا
35:26کہ اس کی ایک غلط گاڑی پارک کرنے سے
35:28یا اگر ہم دیکھیں
35:29رشت میں ہم ایمبولینس کو جگہ نہیں دیتے
35:31اور یہ تو ایک عام مثال ہے
35:33کہ وہ ہورن دے دے دے دے دے
35:36یہ وہ چیزیں ہیں
35:37جو آج کے دور میں
35:38اپنے بچوں کو سکھانی ہے
35:40کہ بیٹا یہی تو افضل ترین چیز ہے
35:43کہ اپنے اوپر دوسروں کو فضیلت دے دینا
35:45دوسروں کو اہمیت دے دینا
35:46تو یہ اللہ رب العزت نے
35:49جو دین اسلام عطا کیا ہے
35:50اس میں یہ جو ایک موقعات کا درس
35:53آقا علیہ السلام نے دیا ہے
35:54تو اس میں اگر ہم صرف اس بات کو
35:57یاد رکھیں نا کہ سب آپس میں
35:58مسلمان بھائی بھائی ہیں
35:59اور سب ایک عمارت کی طرح ہیں
36:02ایک جسد واحد کی طرح ہیں
36:03تو پھر عمل درامت بھی ویسے ہی ہوگا
36:05لیکن جب ہم نہیں بتائیں گے
36:07نہیں سمجھائیں گے
36:08نہیں سکھائیں گے
36:09اور نہ بچوں کو عیسار جیسی چیزوں کو سکھائیں گے
36:12تو کبھی بھی ہمارا معاشرہ ترقی کی طرف نہیں جا سکتا
36:15آج ہم دین اسلام سے دور ہوتے جانے ہیں
36:17اگر ہم ان کی اقدار کو مضبوطی سے پکڑنا شروع کر دیں
36:20تو وہ وقت دور نہیں
36:21کہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جائیں
36:23لیکن امید اس بات کی ہے
36:25کہ یہ جو نوجوان نسل ہے
36:26یہ آ بھی رہی ہے دین کی طرف
36:28اور سمجھنے کی کوشش بھی کرتی ہے
36:30تو میری گزارش والدین سے ہے
36:32کہ بچوں کی صحیح تربیت کریں
36:34صحیح دین اور صحیح موقع دیکھ کر
36:37ان کو چیزوں کو ساتھ ساتھ مثالوں سے سمجھاتے جائیں
36:40تاکہ ان کو یہ چیزیں پتا چلیں
36:41کہ اصل میں دین اسلام کی
36:43جو بنیادی اصول ہیں وہ کیا کیا ہیں
36:46سبحان اللہ
36:48دونوں ہی مہمان شخصیات کی جانب سے
36:51ایسی گفتگو کے جو
36:53اصلاحی بھی ہے
36:54فکری بھی ہے
36:55اور در حقیقت اسلام
36:56ہمیں فکر کی ہی دعوت دیتا ہے
36:58اور جو اسلامی محسنے کی
37:00بنیادی خصوصیات ہیں
37:01چند ایک پر ہم نے بات کی ہے
37:03انشاءاللہ اسی موضوع کو
37:05کنٹینیو بھی کریں گے
37:05کیونکہ بہت ہی وسیع موضوع ہے
37:07ڈاکٹر صاحبہ آپ کی آمد کی
37:09بہت شکر گزار ہوں
37:10سادیا آپ تشریف لائی ہیں
37:11آپ کے آمد کا بہت بہت شکریہ
37:13یہ جو ٹاپک ہے
37:15اتنا وسیع ہے
37:16انشاءاللہ اس کو آگے بھی
37:17کنٹینیو کریں گے
37:18ابتداء جہاں سے کی تھی
37:19وہی بات کہ
37:20فرد واحد اگر
37:22اپنی اصلاح کر لے
37:24یعنی کیونکہ ہم ایک ساتھ
37:26یکسر پورے معاشرے کو
37:27نہیں بدل سکتے
37:28لیکن اپنی ذات پر کام کر سکتے ہیں
37:30اپنے عمال کی فکر کر سکتے ہیں
37:32اپنا ایک ایک جو
37:34ہمارا ایکٹ ہے نا
37:35اس کو توجہ کے ساتھ کر سکتے ہیں
37:37تو بہتری یقینی طور پر آئے گی
37:39اپنی ویزبان سیدہ زینب کو دیجئے گا
37:41اجازت
37:41السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ

Recommended