Skip to playerSkip to main content
  • 3 months ago

Category

📚
Learning
Transcript
00:13Two things have been given to you
00:16O Lord, those who believe in Allah
00:19O Lord, O Lord, O Lord, O Lord
00:26وَالْتَنْظُرْ نَفْسُمْ مَا قَدَّمَتْ لِغَدْ
00:31ہر شخص یہ دیکھے کہ وہ کل کے لئے کیا کر رہا ہے
00:39اللہ کا اتنا فضل ہے
00:41کہ اللہ کی جو نصیحتیں ہیں جو اللہ کے آرڈرز ہیں
00:47وہ براہ راست
00:50اللہ نے جن الفاظ کے ساتھ
00:54اپنے بندوں سے خطاب کیا ہے
00:56بلکل بیعینی وہی کلام ہمارے پاس
00:59الحمدللہ محفوظ ہے
01:04درمیان میں انسانوں کی رائے کا اس میں دخل نہیں ہے
01:11تو اللہ تعالی ہمیں جن باتوں کا حکم دیتے ہیں
01:15جن کاموں کا حکم دیتے ہیں
01:20اللہ سے ہٹ کر ہمیں کوئی بھی نہ ان باتوں کا حکم دیتا ہے
01:23نہ ان کاموں کا حکم دیتا ہے
01:27صبح اٹھنے سے لے کے رات سونے تک
01:32آپ کچھ سن رہے ہوتے ہیں
01:34کچھ کہہ رہے ہوتے ہیں
01:35کچھ پڑھ رہے ہوتے ہیں
01:36کچھ دیکھ رہے ہوتے ہیں
01:38یہ ہی ہوتا ہے نا
01:40کیا ہو گیا
01:42یہ ہی ہوتا ہے تو بتا دیں یہ ہی ہوتا ہے
01:46کہہ کیا رہے ہوتے ہیں سارا دن
01:47یہ کھانا ہے یہ نہیں کھانا ہے آج مہا جانا ہے وہاں نہیں جانا ہے
01:52This is a good thing
01:53It's not a good thing
01:55It's not a good thing
01:55I don't know
01:55I like
01:57This is a good thing
01:59This is a good thing
02:00This is a good thing
02:0124 hours of self
02:01And insidezel
02:06That gyfer
02:12What do you think?
02:42یہ چیزیں اشارتاً تو ہیں قرآن میں
02:44سراحتاً نہیں ہیں
02:48سراحتاً کیا ہے یہ جو میں نے آیت پڑھی
02:51وہ ایک الگ ہی دنیا کی بات کرتا ہے
02:54یا ایوہ الذین آمنتقوا اللہ
02:57اے لوگو جو ایمان لائے ہو
02:59قرآن میں بہت سے مقامات پر انسانیت سے خطاب ہے
03:03جس میں غیر مسلم بھی مسلم بھی سب داخل ہیں
03:08بہت سے مقامات پر خطاب ہے قرآن میں
03:10صرف ان لوگوں سے جو قرآن کو
03:12اللہ کی کتاب مان چکے ہیں
03:17تو اللہ انہیں بھی حکم دیتا ہے
03:19اتق اللہ اللہ سے ڈرو
03:21اب آپ مجھے بتاؤ یہ حکم
03:23فیزس کی کتابوں میں آپ نے دیکھا
03:25بولے نا یار کیا ہوگیا
03:26ڈان میں پڑھا آپ نے
03:28اخبار پڑھتے ہیں نا روزانہ
03:31جنگ اخبار میں دیکھا کبھی
03:32کہ آج کی پہلی تازہ موٹی سرخی
03:34کہ سب لوگوں کو چاہیے
03:35کہ اللہ سے
03:36ڈریں
03:38اور سوچیں کل کے لیے کیا کر رہے ہیں
03:41اخبار میں ایڈ آتا ہے
03:42کہ روپیہ بچائیے کل کام آئے گا
03:44یہ کل سے ان کی مرادیہ ہوتی ہے
03:46کہ جو واقعی
03:47ہفتے کو
03:48یا اتوار کو
03:49یا پیر کو کام آئے گا پیسہ
03:50یہ اگلے سال
03:51دو ہزار بائیس میں کام آ جائے گا
03:54یہ خبریں تو آتی ہیں
03:56بیما پالیسی والے بتاتے ہیں
03:57کہ کل کے لیے آپ
03:58کیا کر رہے ہیں
04:00انشورنس کمپنیاں بتاتی ہیں
04:01کہ سارا ابھی کھا جاؤ گے
04:02کل کے لیے کچھ نہیں چھوڑا آپ نے
04:03تو آئیے ہماری پالیسی
04:05کا میمبر بنیے
04:07اور بنیے بنیے
04:09بنیے پتہ کسے کہتے ہیں
04:10جو چونی اٹھنی کا حساب رکھتا ہے
04:13تو آپ کو حادثہ ہوا نہیں ہے
04:14لیکن آپ چونی اٹھنی بھی بچا بچا کے
04:16جو کھا سکتے تھے وہ ہمیں دیں
04:19تاکہ کل حادثہ ہو جائے
04:20تو آپ کے کام آئے
04:21نہیں ہو تو ہم پی گئے وہ
04:22یہی تو جوہ ہے یہی تو سٹا ہے
04:24تب ہی تو انشورنس حرام ہے
04:28تو آپ ہمیں
04:30یعنی بنیے بنیے آپ
04:31یہ بنیے کا کام ہے نا
04:32توقل بالکل بھی نہیں ہوتا اس میں
04:35روپیہ بچانا ہے نا کل کے لیے
04:36تو اس کے اور بہت سارے اچھے طریقے ہیں
04:38جس میں بچے گا بھی زیادہ
04:41اور حادثہ نہیں ہو
04:42تو بھی آپ کا فائدہ حادثہ ہو
04:43تو بھی آپ کا فائدہ
04:45خیر یہ ٹاپک نہیں ہے
04:46ابھی انشورنس کو چھڑنا
04:49تو اخباروں میں اشتہار آتا ہے
04:52روپیہ بچائیے کل کام آئے گا
04:54لیکن اس سے پہلے
04:55اللہ سے ڈرو یہ نہیں لکھا ہوتا
04:58یہ لکھا ہوتا
04:59نہیں ہوتا
05:01قرآن کہہ رہا ہے
05:02اے ایمان والو
05:03اللہ سے ڈرو
05:04اور تم میں سے ہر شخص یہ دیکھے
05:06کہ وہ کل کے لیے کیا کر رہا ہے
05:09کل کے لیے کیا تیاری کر رہا ہے
05:11تو میں یہ اس کر رہا تھا
05:12یہ ایک ایسی خبر ہے
05:13جو آپ نے ڈان میں
05:14اور جنگ میں
05:15اور ایسپریس میں
05:16اور کسی بھی نیوز پیپر میں
05:17آپ کو سننے کو پڑھنے کو
05:19نہیں ملتی
05:20آپ گئے ہوتل پہ چائے پینے
05:21اخبار رکھا ہوتا ہے
05:22آپ نے اخبار کھول کے دیکھا
05:23پہلی خبر
05:24کہ کل قیامت کے لیے
05:25آپ کیا تیار کر رہے ہیں
05:26اس پہ غور کریں
05:27وزیراعظم کا قوم سے خطاب
05:29کیا خیال ہے بھئی
05:31اس طرح کی چیزیں
05:32کہیں سننے میں
05:32نہیں آتی
05:36حتیٰ کہ
05:37گھروں میں بھی
05:38ان باتوں کے تذکرے ختم ہو گئے
05:41پہلے زمانے میں
05:42میاں جو بی بی کو
05:42نصیحت کیا کرتا تھا
05:43وہ یہ کرتا تھا
05:44کہ دیکھو بیگم
05:45ہم دونوں نے
05:46ایک دن چلے جانا ہے
05:47ایک قبر پہ
05:48میرا نام لکھاوا ہوگا
05:50مظلوم
05:54وہ تو اپنے آپ کو
05:54مظلوم ہی سمجھتا ہے
05:56ایک قبر پہ
05:56تمہارا نام ہوگا
05:58تمہیں جب دفنائیں گے
05:59تو آسمان پہ
05:59بجلی کڑکے گی
06:01وہ بھی ہوگا نام
06:02میسز فلان
06:04میسز کر کے کچھ بھی ہوگا
06:06وجہ موت
06:07میری قبر پہ واضح ہوگی
06:09تمہاری تصویر بنیفی ہوگی
06:11خیر
06:12تو کبھی ایسا نہیں ہوتا
06:14کہ آج لوگ گھر میں بیٹھ کے
06:15بیگم کو سمجھا رہے ہوں
06:16کہ دیکھو دونوں نے کیا ہے
06:17مرنا ہے
06:18تو آؤ ہم مل بیٹھ کے دیکھتے ہیں
06:20کہ ہم نے کل کے لیے
06:22کیا تیاری کی
06:23یہ تذکرے گھروں میں
06:25بولتے کیوں نہیں
06:26ختم
06:27وہاں بھی بچے کو
06:28سمجھایا جا رہا ہے
06:29بھائی تو پڑھ لے
06:30برنہ کل پتھر اٹھائے گا
06:32گڑے کھو دے گا
06:33پڑھ لے
06:34کل سے آخرت
06:35کسی کی نظر میں
06:37نہیں ہوتی
06:40قرآن کیا کہتا ہے
06:41وَلَا يَحُضُّ عَلَى طُعَامِ الْمِسْكِينَ
06:43جن لوگوں کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا
06:45وہ ایک دوسرے کو
06:47غریبوں کے کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتے
06:49میں اس آیت پر بڑا حیران ہوتا تھا
06:51کہ قرآن سیدھا سیدھا یوں کہہ دے
06:54کہ جن کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا
06:56وہ غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے
06:58ہے بھئی
06:58یہ کہہ دینا
07:00ترغیب دینا تو آسان ہے
07:01کھلانا مشکل ہے نا
07:03تو قرآن یہ کہہ رہا ہے
07:04کہ کھانا کھلانے کی ترغیب
07:06نہیں دیتے
07:07توڑی سی آواز پھر آپ نے کم کرتی
07:08مجھے چیخنا پڑتا ہے نا اس کے لیے
07:11نہیں یہ بہت
07:12نزدیک ہو گیا اس سے
07:14اچھا
07:14تو قرآن
07:15یہ کہہ دینا
07:16کہ جن کا آخرت پر ایمان نہیں ہے
07:19وہ غریبوں کو کھانا نہیں کھلاتے
07:21یہ کہہ دینا
07:21کہ وہ بس جاتے ہیں
07:22سارا ہماری تغنی میں جائے
07:24لیکن قرآن کہہ رہا ہے
07:26کہ
07:29کھانا کھلانے کی ترغیبیں
07:30نہیں دیتے
07:32اصل میں جس کا دنیا پر ایمان ہوتا ہے نا
07:36تو وہ صرف دنیا کماتا نہیں ہے
07:38بلکہ کمانے کی ترغیبیں بھی دیتا ہے
07:41یا آپ اگر اپنے معاشرے میں دیکھیں گے
07:43تو آپ کو پتا چلے گا
07:45جو دنیا پر یقین رکھتا ہے
07:47دنیا پر ایمان رکھتا ہے
07:48وہ دوسروں کو بھی دنیا کی ترغیب دیتا ہے
07:51اپنی بیوی کو
07:51اپنے بچوں کو
07:52اپنے والدین کو
07:53چھوٹے بھائی کو
07:54دوستوں کو
07:54ابے کیا کر رہا ہے
07:55ابے تو پڑھتا کیوں نہیں ہے
07:57ہے بھئی
07:58ابے تو سارے پیسے اڑا دے گا
07:59تو پلوٹ خرید لے
08:00کوئی جائداد بنا لے
08:01کل کام آئے گا
08:02تو دیتے ہیں کہ ترغیب نہیں دیتے
08:05بچوں کو کل کی فکر میں
08:06صبح صبح اٹھایا جاتا ہے
08:09بچے صبح آسانی سے
08:11اٹھ جاتے ہیں سکول کے لیے
08:12ہے
08:14کتنی نین
08:14کیسے
08:15سورے بچے تو گھوڑے بیچ کے سوتے ہیں
08:18لیکن ان کو اٹھائے
08:19ماں بھی اٹھاتی ہے
08:19اس کے لیے
08:20آنے والے
08:21کل کے لیے
08:22تو ہم بھی بچوں کو اٹھاتے ہیں
08:24صبح صبح
08:25کہ بھئی
08:25آج قربان کرو
08:27تو کل کے لیے
08:28تیاری ہے
08:30کل کے لیے
08:31تو آپ نے
08:32صبح بچے کو
08:33اس کو
08:34اصل میں یہ رنگ کے ڈبے لازمی آتے ہیں
08:35جب یہ سکول کا ذکر آئے گا
08:36کیونکہ میں نے
08:37ڈبوں پہ اتنا پیسہ خرچ ہوا ہے
08:38کہ شادی پہ میرا اتنا پیسہ خرچ نہیں ہوا
08:39یہ بتا رہا ہوں میں
08:42تو اپنی ٹھرک بھی نکالتا ہوں
08:44ہر تھوڑے دن ماہ بچے آئے بھی ہوتے ہیں
08:45ابو وہ کلر کے تین ڈبے چاہیے
08:49اتنے تو
08:49ڈبے آپ گھر میں
08:50جو ڈسٹیمپر کرتے ہو نا
08:51اس پہ اتنا خرچہ نہیں ہوا ہوتا
08:53پھر وہ ابو یہ چاہیے
08:54ابو یہ چاہیے
08:55ابو یہ چاہیے
08:57کتابیں چاہیے
08:58پلاسٹک چڑھانی ہے
08:59وہ پیسے چاہیے
08:59پھر اس کے جوتے پھڑ گئے
09:01تو ٹیچر نے کہا
09:01نیا جوتا چاہیے
09:02پھر جناب وہ
09:04ہر مہینے کی پہلی تاریخ
09:05وہ گاڑی والا آگے
09:05کھڑا ہوا ہوتا ہے
09:06مجھے پیسے چاہیے
09:08کرونا میں تین دن مہینے چھٹی
09:09لیکن اس کو پیسے چاہیے
09:14خیر
09:14تو
09:16چلو یہ سب چیزیں ہیں
09:17لیکن رنگ کے ڈبے
09:17اس پہ سب سے زیادہ پیر
09:19کھلتا ہے
09:20رنگ کے ڈبے کیوں چاہیے
09:21کلر کے ڈبے نا
09:22نیلا کلر پیلا
09:23اور کیلے پہ بھر رہے ہوں گے
09:24بیٹھ کے
09:25ہم اس کے پیسے ان کو دے رہے ہیں
09:26اسکول والوں کو
09:26خیر
09:28آپ کیسے پھر نکال کیوں نہیں لیتے
09:29تو نکالنے کے بعد
09:30کوئی ہوم اسکولنگ کا سیٹ اپ
09:31بھو تو نکالیں
09:32کوئی آلٹرنیٹی نہیں ہے
09:32مجبور ہیں
09:33تو ہم تو کہہ رہے ہیں
09:34کوئی ایسا خاندانی آدمی شروع ہو
09:35جو یہ سلیوز کو چینج کریں
09:36اب ہمارے پاس تو ٹائم نہیں ہے نا
09:38سارے کام ہم اکیلے تھوڑی کریں گے
09:40اس کو چینج کرو بھائی
09:41تو دیکھو بچہ کیا نکلتا ہے
09:43یہ بڑے بڑے اللہ میں جو پیدا ہوئے ہیں
09:44یہ ایسے اسکولوں میں تھوڑی پیدا ہوئے ہیں یہ
09:47اسلامی دنیا میں جو بڑے بڑے اللہ میں
09:48دیکھو حافظ ابن حجر رحمت اللہ علیہ
09:51فتح الباری اتنی موٹی ان کی صحیح بخاری کی شرع ہے
09:53اور اتنی تحقیقی کتاب ہے
09:55آج دنیا میں کوئی مسلک کا شخص ایسا نہیں ہے
09:58جو حافظ ابن حجر کا محتاج نہ ہو
10:01شافی تھے
10:01شافی رحمت اللہ تعالیٰ کے مقلت تھے
10:04آج سے سات آٹھ سو سال قرآنی بات کر رہا ہوں میں
10:07اتنا تحقیقی کام کہ آپ
10:10حیران ہو جاؤ کہ کیسے کیا انہوں نے
10:12اسماع الرجال کی بحثیں
10:13اور پہلے لکھا کیسے جاتا تھا
10:15اتنی موٹی موٹی کتابیں یہ لوگ لکھ کے چلے گئے
10:17ہم سے پڑی نہیں جاتی
10:19ہم سے یہ کتابیں پڑی نہیں جاتی
10:21اور یہ لوگ لکھ کے چلے گئے
10:22اور کیسے لکھتے تھے
10:24کبوتر کا جو پر ہوتا ہے
10:26یہ لکڑی سے وہ بنایا
10:27سیاہی میں ڈبو کے
10:28دو لفظ لکھے پھر اس کو ڈبویا پھر لکھا
10:31پھر ڈبویا پھر لکھا
10:31نہ ایسے کاغذ تھے
10:33نہ رات کو روشنیوں کا انتظام تھا
10:35لیکن اتنی بڑی بڑی سیر
10:37اعلام نبلا
10:38اتنی موٹی
10:38جلدوں میں کتاب ہے
10:41ہزاروں حدیث کے راویوں کے
10:43کیسیرت اور ان کے حالات لکھے ہوئے ہیں اس میں
10:45کیسے لکھ لئے بھئی ان لوگوں نے
10:46اتنی صلاحیت کیسے پیدا ہوئی
10:48وجہ اس کی یہ تھی
10:49کہ ان لوگوں کے ہاں یہ سسٹم پڑھائی کا
10:51نہیں تھا
10:53تو یہ بڑے بڑے علامے جو پیدا ہوئے ہیں
10:54علماء میں بھی
10:55اب دینی مدارش کا ریزل بھی کوئی اتنا اچھا نہیں آ رہا
10:58اس کی وجہ ہے کہ
10:58استاذ آئے گا وہ کتاب لے کے
10:59بس وہ پڑھانا شروع کی طلبہ بیٹھ کے
11:01سن رہے ہوتے ہیں
11:02بس وہ
11:03بہت سی جگہوں پر ایک فارمیلیڈی سے پوری ہو رہی ہے
11:05تیچر کی محنت تو بہت ہو رہی ہے
11:07لیکن اس کا آؤٹپٹ نہیں ہے
11:08تو جلدی سے بات سمیٹ کے ختم کرتا ہوں
11:10جو پہلے علماء پڑھا کرتے تھے
11:11جو بڑے بڑے علامے پیدا ہوئے ہیں
11:13ان کا طریقہ یہ ہوتا تھا
11:14کہ ایک فن کو پہلے فوکس کیا کرتے تھے
11:16جیسے بچہ جب پڑھنا شروع کرتا
11:18تو سب سے پہلے اسکول نہیں تھا
11:20نہ مدرسہ
11:21باپ پڑھا
11:21باپ اگر علم ہے تو وہ پڑھائے گا
11:23وہ کہہ کہ جو مجھے آتا ہے پہلے وہ سیکھ لو
11:24پھر جو مجھے نہیں آتا
11:25اس کے لئے میں آپ کو کسی اور استاس کے پاس بھیجوں گا
11:28تو اس میں سب سے پہلے ان کو عربی گریمر سکھائی جاتی تھی
11:30سرفر نہ ہو
11:32اس کے علاوہ کوئی دوسری کتاب نہیں تھی
11:34تاکہ بچہ صرف ایک ہی فن کو فوکس کرے
11:36پھر اس کے بعد عربی عدب پڑھایا جاتا تھا
11:38عربی عدب میں مہارت ہوتی تھی
11:39پھر اس کے بعد ان کو حدیث پڑھائی جاتی تھی
11:42بنیادی کتاب اور تفسیر پھر پڑھائی جاتی تھی
11:44پھر اس کے بعد فقہ کی طرف آتے تھے
11:45پھر جب فقہ کی کتابیں چل رہی ہیں
11:47تو صرف فقہ فقی مسائل کے علاوہ کچھ بھی نہیں
11:49اصول فقہ کی طرف آئے
11:50تو اصول فقہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں
11:53پھر آخر میں جب یہ
11:54اور فقہ کے دوران احادیث بھی چلتی تھی
11:56اس کے بعد پھر
11:57حدیث کا دورہ ہوتا تھا
11:59کہ احادیث جو فقہ سے متعلق تھیں
12:00وہ تو سامنے آگئیں
12:01اب ایک دورہ ہونا چاہیے
12:02کہ تمام احادیث ایک دفعہ نظر سے گزر جائیں
12:06آج چھے چھے کتابیں ایک ساتھ تھوپی بھی ہیں
12:10ایک کتاب سے ابھی دماغ ہٹتا نہیں ہے
12:11دوسرا پیریٹ شروع
12:12ٹھیک ہے نا
12:12اب وہ ٹاپک
12:13اب وہ سبجیک
12:14پھر دیسرا
12:14پھر چوتھا
12:15تو کسی ایک میں بھی
12:15دھنگ سے مہارت حاصل نہیں ہوتی
12:18کچھ بھی نہیں آتا اس کو
12:19میں تو دیکھ رہا ہوں
12:20اردو لکھنا نہیں آتی
12:21اردو نساب کا حصہ ہے
12:22لیکن لڑکوں کو آج کل اردو نہیں لکھنا آتی
12:23تو خیر
12:24ہم بچوں کو صبح اٹھاتے ہیں
12:26آنے والے کل کی
12:27تیاری کے لیے
12:29تو میں یہ اس کر رہا تھا
12:31کہ آپ نے کسی اخبار میں نہیں پڑا
12:32کہ آنے والے کل کی تیاری کریں
12:34اگر پڑا بھی ہے
12:35تو اس حد تک
12:35آپ نے پڑا ہے
12:36کہ روپیہ بچائیے
12:37کل کام آئے گا
12:39بس اس سے آگے نہیں
12:42تو قرآن ہمیں بتاتا ہے
12:44کہ ایک کل وہ ہے
12:45جو غیر یقینی ہے
12:47جس کا آپ کو یقین نہیں ہے
12:49کہ وہ کل آئے گا بھی
12:49کہ نہیں آئے گا
12:51اور ایک کل وہ ہے
12:52جو سو فیصد یقینی ہے
12:56جو سو فیصد یقینی ہے
12:58وہ وہ کل ہے
13:00کہ اگر آج
13:00کوئی سائنسدان بھی کہہ دے
13:03کہ وہ کل نہیں آئے گا
13:04تو آپ اس کو بھی
13:05جھوٹا قرار دے دو
13:06اس کل کو کہا جاتا ہے
13:08موت
13:09یہ ایک ایسا فیوچر ہے
13:10یہ ایک ایسا مستقبل ہے
13:12جس سے ہر شخص کو گزرنا ہے
13:17تو جب لکھا ہوا ہوتا ہے نا
13:18آپ کہیں بورڈ پہ پڑھیں
13:19بینکوں نے ایڈبرٹائزمنٹ کے لیے لکھا ہوتا ہے
13:21کہ روپیہ بچائیے کل کام آئے گا
13:24تو فوراں آپ کا دماغ اس طرف جانا چاہیے
13:26کہ ایک کل
13:28یہ بینک جس کل کی بات کر رہا ہے
13:29وہ کل یقینی
13:32بولو نہیں ہے
13:34اور اگر میں نے بچا کے
13:35اس آنے والے کل کے لیے تیاری کر بھی لی
13:36تو میرا آج بھی تو کل ہی میں شامل ہے
13:39بہت مشکل ہے سمجھانا
13:41بھئی آج بچا کے کل کام آئے گا
13:43تو کل کے بجائے آج ہی کام آ جائے
13:44تو کام ہی لانا ہے نا دنیا میں
13:46کیا ہو گیا کیا
13:47میں کوئی انگلیش میں باتیں کر رہا ہوں
13:49دیکھو آج بچا کے
13:50کل کام جب آئے گا
13:52تو کل بھی تو یہی زندگی ہے
13:54تو آج بھی تو زندگی ہے
13:55آج زیادہ اچھا کھا سکتے ہو
13:56کل زیادہ اچھا نہیں کھا سکتے
13:58کیونکہ کل بوڑے ہو چکے ہوگے
14:00جس نے آج کھا لیا اس کے مزے ہیں
14:01کل کھا لیا تو دو فالٹ ہیں
14:02نمبریں کل بوڑے ہوگے کھانے میں مزا نہیں آئے گا
14:04نمبر دو پتہ نہیں کل گیا والا کل آئے گا
14:06کیوں بھی نہیں آئے گا
14:06اس کے کراچی میں کسی
14:08اللہ نہ کرے کسی ٹرک کی نیچے آگے مر جاؤ
14:10ٹرک اور کراچی کا ایک ساتھ ذکر کرتا ہوں
14:11کیونکہ یہاں
14:13ابھی ملاقات ہی
14:14رینجرز کے بہت بڑے آفیسر سے
14:16انہوں نے بتایا کہ
14:18پاکستان کی ارننگ کا
14:19صرف 65 فیصد کراچی کما کے دیتا ہے
14:21ٹوٹل جتنی ارننگ ہے نا پاکستان کی
14:23ان میں صرف 65 فیصد کہاں سے ہو رہی ہے
14:25ہم نے کہا ہٹو اچھے ہو گیا بھئی ہے تو
14:28اب تو جہاں بھی جائیں
14:29کراچی والے
14:29سب کو چاہیے کہ ان کا احترام کریں
14:31کیا خیال ہے
14:34پورے پاکستان میں
14:35اکیلے کراچی کی ارننگ کتنی ہے
14:3765 فیصد
14:39نہیں لالو کھیت کی نہیں
14:40سب سے زیادہ کورنگی کی ہے
14:43دیکھیں ریپورٹ ہیں جو ہے نا ایسی نہیں ہوتی
14:47کراچی پورے پاکستان میں
14:49سب سے زیادہ ارننگ کراچی کی
14:50اور کتنی
14:5165 فیصد
14:52باقی پورا پاکستان 45 فیصد کماتا ہے
14:56سواری 35 فیصد
14:57پورا پاکستان
14:58اور کراچی میں بھی سب سے زیادہ ارننگ کورنگی سے ہو رہی ہے
15:01کورنگی کے ایریا
15:03ریپورٹ ہے یہ
15:04جی
15:06ہاں چونکہ ساری فیکٹرییاں وہاں پر ہیں نا
15:07تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے
15:09اچھا خیر
15:11تو میں ہی اس کر رہا ہوں
15:12کراچی کہاں سے آ گیا درمیان میں
15:14تو
15:15ٹرک کی بات کر رہا تھا نا
15:18آپ نے کیا کیا
15:19آپ نے کہا
15:19کہ روپیہ بچائیے
15:21بولو
15:22کل کام آئے گا
15:23اچھا جو
15:24جنجرز کے آفیسر نے بتایا
15:25وہ خود کراچی کے نہیں ہیں
15:27وہ خود کراچی کے نہیں ہیں
15:29تو اچھا
15:30اس میں یہ بھی ہے
15:30کہ بعض لوگ قوم پرستی پر لے جاتے ہیں
15:32کہ مازاللہ کراچی کو الگ ہونا چاہیے
15:34یہ نعرے بالکل غلط ہیں
15:36یہ تو پورے ملک میں ہے
15:37دیکھو
15:38کاماتے تو سب ہیں
15:39لیکن ضرورت سب کی ہے
15:40اس کی مثال ایسے ہے
15:41کہ آپ کی باڈی میں
15:42سب سے زیادہ ویلیو کس پارٹ کی ہے
15:44دل کی
15:45تو اب کسی ڈاکٹر نے کہا
15:46اس کی باڈی میں
15:47سب سے زیادہ اہم ترین پارٹ
15:48دل ہے آپ نے کہا
15:49ٹھیک ہے پھر اس کی آنکھیں نکال دو
15:50دل کو سب سے کیا کر دو
15:51الگ کر دو
15:52گھٹنے الگ کر دو
15:53دل الگ کر دو
15:55سب سے زیادہ ہے
15:55تو دل کو ایک الگ
15:57اس کو الگ جینے کا حق دینا چاہیے
15:59تو یہ
15:59جب سب
16:01ایک جسم کی مانند ہوتے ہیں
16:02تو پھر سارے پارٹ
16:03صحیح کام کرتے ہیں
16:04اگر الگ ہوگا
16:06تو پھر یہ نہیں ہوگا جو ابھی
16:07جو کچھ ابھی ہو رہا ہے
16:08کیونکہ ہم بلوچستان سے گیس لیتے ہیں
16:10سمجھ رہے ہیں
16:11وہ کراچی میں پیدا
16:11نہیں ہوتی
16:13تو کراچی اگر 65 فیصد کما کے دے رہا ہے
16:15تو اس میں بلوچستان کی گیس کا بھی
16:17دخل ہے
16:19اگر وہ گیس نہیں ہوگی
16:20تو یہاں کی فیکٹی ہیں کیسے چلیں گی
16:23اور
16:25پنجاب کھلا رہا ہے
16:26یہ جو ہم
16:27سردیوں میں
16:28طبیعت سے کینو کھان کے بجائے پھوڑ رہے ہیں
16:30میں دو پھل پھوڑتا ہوں
16:31اس کے لیے کھانے کا لفظ استعمال کرنا
16:33میں ان پھلوں کی توہین سمجھتا ہوں
16:34ایک آم اور ایک کینو
16:35آم کبھی بھی کھاؤ نہیں
16:36بلکہ ہمیشہ پھوڑو
16:38اور کینو کبھی بھی کھاؤ نہیں
16:39ہمیشہ پھوڑو
16:41کینو تو آم سے بھی زیادہ فائدہ بن چیز ہے
16:42آم تو شگر ہی شگر ہے
16:43لیکن کینو تو
16:44ویٹامین سی کا خزانہ ہے
16:46اور سردیوں میں اللہ نے پیدا کیا
16:47کھاتے چلے جاؤ
16:48پیڑ بھی صحیح
16:48اور آپ کا جو
16:50ایمیون سسٹم ہے
16:50بہت مضبوط ہو جاتا ہے
16:51کینو ایسی چیز ہے
16:52یہ کہاں سے آ رہا ہے بھائی
16:53یہ تو پنجاب سے آ رہا ہے
16:55ٹھیک ہے وہ 35% میں داخل ہے
16:56لیکن یہ جب تک کینو نہیں کھائیں گے
16:57تو یہ 35% کریں گے کیا
16:59اب یہ مار رہیں گے
17:00ہم کیا خیال ہے
17:01تو یہ کراچی اگر
17:0235% کما کے دیر آئے
17:03اور جو فیکٹریوں میں
17:03مزدور کام کر رہے ہیں
17:04تو وہ سردیوں میں
17:05پنجاب سے اگنے والا کینو
17:06کھاتے ہیں
17:07تو ان میں انرجی آتی ہے
17:08ایک انرجی بلوچستان سے آتی ہے
17:09وہاں سے گیس ملتی ہے
17:10ایک یہاں سے آتی ہے
17:11تو ملک
17:14میرا مقصد
17:14اس سے لسانیت
17:15اصبیت پھیلانا نہیں ہے
17:16ماز ایک
17:17117 ممالک ہیں
17:19117 ممالک
17:19جن سے بڑا شہر ہے پاکستان
17:21سوری کراچی
17:22یعنی کراچی
17:24دنیا کے 117 کنٹریز سے زیادہ بڑا ہے
17:26دنیا میں 117 ممالک ایسا
17:28جو کراچی سے چھوٹے ہیں
17:28تو ایسی ہٹو بچو چیز ہے
17:31اور آپ صرف بریانی کو لے کے بیٹھے ہوئے ہیں
17:32کہ کراچی کی بریانی
17:33وہ تو ایک چیز ہے
17:35اچھا کراچی میں
17:35ایک اور مزے کی بات یہ ہے
17:37کہ بہت ساری قومیں
17:39ایک ہی جگہ پہ آپ کو ملیں گی
17:40یہ چیز بھی آپ کو
17:41کراچی کے علاوہ کہیں اور
17:42نہیں ملے گی
17:43آپ بلوچستان میں جائیں
17:44تو ہمارے بلوچ بھائی ملیں گے
17:45بروہی بھائی ملیں گے
17:46کوئٹہ میں جائیں
17:47تو زیادہ تر پشتو
17:48سپیکنگ ملیں گے
17:49آپ پنجاب میں جائیں
17:50تو پنجابی بولنے والے
17:51ادھر صادق آباد کی طرف جائیں
17:53تو سرائیکی بولنے والے
17:54لیکن آپ کراچی میں جائیں
17:55تو ادھر آپ کو
17:56پنجابی بولنے والے
17:57ادھر صادق آباد کی بولنے والے
17:58ادھر پشتو بولنے والے
17:58ادھر اردو بولنے والے
17:59ادھر میمن
18:02ایسی زبان میمنی
18:04سمجھ رہے ہو نا
18:04یہ آپ کو پورے پاکستان میں
18:05یہ نہ کلچر ملے گا
18:06نہ یہ زبان ملے گی
18:07تو
18:08ایک الگی کلچر ملے گا
18:10آپ کو میمنوں کا
18:10اور میمنوں کی
18:11ویریس ٹائپس آف میمن
18:13اس میں آپ کو
18:15کچھی میمن اور
18:18پتہ نہیں کہ مجھے تو
18:24بھی بہت ملیں گے
18:26بلکل الگ الگ
18:26مزاید ملیں گے
18:27پارسی ملیں گے
18:27ہر قوم اور ہر چیز
18:29یہاں ملے گی آپ کو
18:29جوڑیا بزار چلے جاؤ
18:30آپ احران ہو جاؤ گے
18:31جو چیز پوری دنیا میں
18:32کہیں نہیں مل رہی
18:32وہ کراچی میں ملے گی آپ کو
18:34آپ کی بیگم بھاگ گئی ہے
18:35جوڑیا بزار سے ملے گی
18:37ہر چیز ملے گی آپ کو
18:38اچھا خیر
18:39تو
18:49میں یہ اس کر رہا تھا
18:53کہ روپیہ بچائیے
18:54کل کام آئے گا
18:55یہ لکھا ہوا ہوتا ہے
18:56کہ نہیں لکھا ہوا ہوتا
18:57تو آپ
18:58جس کل کے لیے
18:59آج پیسہ بچاؤ گے
19:02اس کل میں دو فالک ہیں
19:03نمبر ایک
19:04آج آپ جوان ہو
19:05کھانے کا مزہ
19:05آج جو آپ کو آئے گا
19:06وہ کل نہیں ہے
19:08آج رہنے کا بھی مزہ
19:09کھانے کا بھی مزہ
19:10پہننے کا بھی مزہ
19:12نہانے کا بھی مزہ
19:13صحیح ہے نا
19:15ہر کام کا آج ہی مزہ ہے
19:17اور
19:18کل جب آپ بڑے ہو جاؤ گے
19:20جو آپ نے آج
19:20بچا بچا کے رکھا
19:22تو جو آپ
19:22پیسہ بچاؤ گے نا
19:23کل وہ
19:24میں جب
19:25ابھی چھوڑو پھر اپنی باتیں
19:26کرنا مناسب نہیں ہے
19:27پھر وہ کچھ لوگ
19:27اس میں
19:28وہ بھی پس جائیں گے بچارے
19:29وہ کہیں گے
19:29ہماری برائی کر دیا
19:30آپ نے بیٹھ گے
19:31اگرچہ میں اشارتاً بات کن لے
19:32کہ ان تک بات پہنچ جائے گی
19:33وہ کہیں گے اچھا
19:34تو
19:35اب دیکھو ایک صاحب تھے
19:37انہوں نے مجھے کہا
19:37کہ
19:38مجھے جوان لڑکے تھے
19:39مجھے بار بار یہ کہہ رہے تھے
19:40کہ میں یہ انویس کر رہا ہوں
19:41میں یوں کروں گا
19:41اور پھر بیس سال کے بعد
19:42اس کا پروفٹ آئے گا
19:43تو میں نے کہا
19:43یار آپ ابھی
19:44ما شاء اللہ ینگ ہو
19:46ابھی آپ اچھی گاڑی رکھو
19:48ٹھیک ہے نا
19:49ابھی آپ اچھا کپڑا پہنو
19:50ابھی آپ اچھی خورا کھاؤ
19:52اللہ نے
19:52یہ ساری ضرورتیں پوری کرنے کے بعد
19:54اللہ نے مزید اگر پیسہ دے دیا
19:55تو تھوڑا بہت
19:56رکھ لو کل کے لیے
19:58تو پہلا فال کیا ہے
19:59کہ کل کا یقین نہیں ہے
20:01کراچی کا کوئی ٹرک
20:02اللہ نہ کرے
20:02کوئی چل کے چلا جائے
20:03تو اس ٹیگر بن کے
20:05سڑک پہ
20:05چپک جاؤ گے
20:07کیونکہ ایسے ٹرک ہے
20:08یہاں پہ
20:09اچھا ان کو نظر بھی نہیں آ رہا ہوتا
20:11یہ بائیکوں والے ان کو
20:12اتنے اوپر ان کے گلاسز ہوتے ہیں نا
20:13پیچھے دیکھنے کے لیے
20:13کہ بائیکوں والے نظر نہیں آتے ان کو
20:16تو کل کا یقین نہیں ہے
20:17اور دوسری بات یہ ہے
20:19کہ آج جو ہے نا آپ کی
20:20وہ آئندہ کل سے
20:21کھانے کے لحاظ سے زیادہ اچھی ہے
20:23تو اس لیے آج ہی کھالو
20:24کیا خیال ہے
20:27تو بچانے کا جو کونسپٹ ہے نا
20:28بچانے کا
20:29شریعت کا بالکل الٹ ہے
20:30ہم بچانا اس کو سمجھتے ہیں
20:32کہ آج نہیں کھایا کل کے لیے رکھ دیا
20:33اسلام اس کو بچانا نہیں کہتا ہے
20:34اسلام اس کو ضائع کرنا کہتا ہے
20:36اسلام کہتا ہے
20:37ایسا آپ کا تھا آپ پہ لگا ہی نہیں
20:38تو وہ آپ کا ہے ہی نہیں
20:40بچانا یہ ہے
20:40کیا ہے بچانا
20:42حدیث میں آتا ہے
20:42رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
20:44گھر تشریف لائے
20:45امی آئیشہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم
20:47نے پوچھا
20:48کہ کچھ کھانے کو ہے
20:50انہوں نے فرمایا
20:51کہ ایک حدیعہ آیا تھا ہمارے گھر میں
20:52کچھ بکری کا پایا تھا
20:53یا کیا تھا
20:54تو میں نے سارا صدقہ کر دیا
20:56ایک تھوڑا سا خر اس کا بچ گیا ہے
20:58مجھے پورے الفاظ یاد نہیں
20:59حدیث کے مفہوم بیان کر رہا ہوں
21:01باقی سارا کیا کر دیا
21:02صدقہ
21:03دیکھو ایسی کنڈیشن میں
21:04ہماری کیا حالت ہوتی ہے
21:05ہم کہتے ہیں
21:06یہ کوئی صدقہ سینٹر کھولا ہے
21:07تم نے
21:07یہی ہوتا نا
21:11قرآن کہہ رہا ہے
21:12جس کا آخرت پر ایمان نہیں ہوتا
21:13وہ کھانا کھلانے کی ترغیب نہیں دیتا
21:15وہ بی بی کو بھی ترغیب نہیں دیتا
21:17بیگم تم نے کیا خیراتی ادارہ
21:18کھول کے رکھا ہے
21:19وہاں سے حدیعہ آیا
21:19اور تم نے اٹھا کے
21:20صدقہ کر دیا
21:22لیکن ہمارے نبی کا
21:23چونکہ آخرت پر ایمان تھا
21:24نہ صرف یہ
21:25کہ اس پر آپ کو غصہ نہیں آیا
21:26بلکہ آپ نے اپریشیٹ کیا
21:28اور ایسے خاندانی طریقے سے
21:30اتنے زبردست الفاظ سے
21:31امی آئیشہ کی حوصلہ وضائی کی
21:32حالکہ اب کھانے کو آپ کے پاس
21:33نہیں ہے
21:34اتنا سا بچ گیا ہے
21:35تو آپ نے فرمایا
21:36کہ اے آئیشہ
21:36تم جو یہ کہہ رہی ہو
21:37کہ سارا صدقہ کر دیا
21:39بچہ صرف یہ ہے
21:40فرمایا نہیں
21:40بچہ وہ ہے جو صدقہ کر دیا
21:42یہ ختم ہونے والا ہے
21:44میں سمجھا پا رہا ہوں اپنی بات
21:47تو جس کا آخرت پر ایمان ہوتا ہے
21:50وہ کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا ہے
21:53کھانا تو محضر ایک علامت ہے
21:54مختل لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ترغیب
21:56خود بھی کرتا ہے
21:57دوسروں کو بھی ترغیب دیتا ہے
22:00تو آج گھروں میں
22:01یہ چیزیں
22:02کیا ہو گئی ہے بھائی
22:03ختم
22:04بچپن سے بچوں کو پیسہ کمانا سکھایا جا رہا ہے
22:07خرچ کرنا
22:09گللک خرید کے دے دیتے ہیں ان کو
22:11گللک ہوتا ہے نا
22:12ابھی کیا کہتے ہیں آج کل نہیں زمان میں اس کو
22:13ہم تو گللک کہتے تھے
22:15گللک ہی کہتے ہیں
22:16کہ اس میں جمع کرو
22:17اس میں جمع کرو
22:17اس میں جمع کرو
22:18کمیٹیاں ڈال رہے ہیں
22:19کمیٹیاں ڈال دال کے پھر نکلے گی
22:21اور عجیب بھیکاری بن ہے یار
22:24میرے پاس عجیب بجیب قسم کے بھیکاری آتے ہیں
22:26میرا دل چاہتا ہے میں ان سے ایسے مانگوں
22:28ان کے حالات سے پتہ چلتا ہے
22:31کہ جی وہ زکاة کے پیسے آپ کے پاس آئے ہوئے ہوں گے
22:33تو اتنے روپے چاہیے ہیں
22:34کیا کرنا ہے یہ ضرورت ہے
22:35فلانی ضرورت ہے یہ ضرورت ہے
22:37تو میں کہتا ہوں آپ کی تو اتنی تنخہ ہے
22:38کہتے ہیں وہ ہم نے کمیٹی ڈالی ہوئی
22:39اصل میں آڑے وقت کے لیے
22:41جس آدمی نے کمیٹی ڈالی ہوئی ہے
22:43اس کا مطلب اس کے پاس تون بھرنے کے لیے
22:44ضرورت سے زیادہ ہے
22:46ابھی تو نکل رہی ہے کمیٹی
22:47کمیٹی کے لیے پیسے نکل رہے ہیں
22:49تو میں بھی بہت ڈھیٹ ہوں
22:50الحمدللہ اس معاملے میں
22:51اللہ نے مجھے بڑا ڈھیٹ بنایا ہے
22:53میری جیب سے پیسہ نکالنا آسان نہیں ہے
22:55یہ بتا دوں
22:55آپ سمجھ رہے ہیں تو نے سخاوت
22:56تو مفتی صاحب کے پاس جب جا کے مانگو
22:59بھیکاری کے لیے
23:00میری جیب سے نکلنے کے اصول بہت
23:01سخت ہے
23:02اپنی مردی سے دے دوں
23:03تو کوئی مستحق نہیں بھی
23:04اپنے پیسے اگر دینا چاہے انسان
23:06دوسروں کی امانتیں
23:07تو غیر مستحق کو نہیں دے سکتا
23:08میں اپنے پیسے
23:08مستحق نہیں بھی
23:09لے جا بھائی
23:10لیکن آپ ٹرائی کر کے دیکھ لیں
23:13ایک کروڑ روپے میرے پاس پڑے ہوئے ہوں
23:15اور آپ آگے مانگ کے
23:16نکلوانے کی کوشش تو کر کے دیکھیں
23:17ایسا آپ کا خاندانی قسم کا انٹرویو ہوگا
23:19کہ آپ بولو گے
23:20ایسا تو ہم جب فوج میں بھرتی ہونے کے لیے گئے تھے
23:22نا آئی اس اس بی کا امتحان دیا تھا
23:23اس وقت بھی ایسا انٹرویو نہیں ہوا تھا
23:24کیوں لے رہا ہے بھائی تو پیسے
23:27ایک صاحب آئے کہ
23:28مجھے بہت شدیت ضرورت ہے
23:29میں بلکل یہ ہو رہا ہوں
23:30اور بہت بہت ایسے
23:31واقعی بڑی ضرورت تھی
23:32ان کو بیماری چل رہی تھی
23:34اور اب میں بہت پریشان ہوں
23:36تو مجھے اتنے لاکھ روپے چاہیے ہیں
23:37اور واقعی ضرورت تھی
23:39تو آپ کوئی زکاة سے بھی تعاون کر دیں
23:41یا صدقے سے کر دیں
23:41یہ ہے جن کے ہاں
23:44کل کا مفہوم بلکل کیا ہے
23:45چینج ہے
23:46ادھر نبی کی حالت کیا ہے
23:47اپنی ضرورت قربان کر کے
23:49کل کے لیے امی آئیشہ نے دے دیا
23:50تو حوصلہ وضائی کر رہے ہیں
23:51چلو آج بھوکے رہ جاتے ہیں
23:52کل اللہ ہمارا پیٹ بھر دے گا
23:54حدیث میں آتا ہے نا
23:55نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
23:56قیامت کے دن
23:57اللہ اعلان کرے گا
23:58کہاں ہیں وہ لوگ
23:59جب میں بھوکا تھا
24:00تو انہوں نے مجھے کھلایا
24:01جب میں پیاسا تھا
24:03تو انہوں نے
24:03مجھے پلایا
24:04کیونکہ قیامت کے دن
24:05لوگ بھوک اور پیاس سے تڑپ رہے ہوں گے
24:07تو لوگ کہیں گے
24:08اے اللہ
24:08تو کہاں سے بھوکا ہو سکتا ہے
24:09تو کہاں سے پیاسا ہو سکتا ہے
24:10تو اللہ کہے گا
24:11میری مخلوق بھوکی تھی
24:13اس مخلوق کا جس جس نے خیال رکھا
24:15تو وہ ایسے تھا
24:16جیسے اس نے میرا خیال رکھا
24:19دیکھو آپ کسی بچے کو
24:20بھوکا ہو کھلا دو
24:21باپ خوش ہوتا ہے
24:21کیونکہ باپ کا اس سے کیا ہے
24:23تعلق
24:24تو اللہ کبھی مخلوق سے تعلق ہے
24:26نبی صلی اللہ علیہ وسلم
24:27جب مشرقین مکہ کو یہ باتیں بتاتے
24:28تو وہ اتراز کرتے
24:31دیکھو کیسے اترازات
24:33اتراز کر کے نا
24:34کسی بھی چیز
24:35پہ آپ اترازات کر کے
24:36جان چھڑا سکتے ہو
24:37وہ کہتے تھے
24:38کہ ہم
24:38اگر اللہ چاہتا ہے
24:39اللہ کو اپنی مخلوق کا
24:40اتنا خیال ہے
24:41تو خود ہی کیوں نہیں کھلا دیتا
24:44نبی صلی اللہ علیہ وسلم
24:45جب مشرقین کو ترغیب دیتے
24:47کہ غریب مسکینوں کو
24:48کھانا کھلایا کرو
24:49تو وہ جواب میں کہتے
24:53اللہ چاہتا ہے
24:53کہ مخلوق کا پیٹ بھرے
24:55تو اللہ خود ہی کیوں
24:55نہیں بھر دیتا
24:56اللہ خود ہی کیوں نہیں کھلا دیتا
24:57ان کو
24:58تو اس لیے ہر اعتراز
25:00ایسا نہیں ہوتا
25:00کہ اس کا جواب دیا جائے
25:01یہ تو بالکل واضح بات ہے
25:03کہ اللہ تو آزماتا ہے
25:03اپنے بندوں کو
25:04نظام ہے
25:05اس کا ایک سسٹم بنائے
25:05تو چاہے تو اللہ
25:09دنیا میں غریب رکھے ہی نہیں
25:11اور امتحان ہو ہی نہیں
25:12قرآن تو یہاں تک کہتا ہے
25:13اگر ہم چاہے
25:13تو سب کو زبردستی ہدایت دے
25:15جنت میں لے جائیں
25:15ہم تو یہ بھی کر سکتے ہیں
25:16اللہ کو شوق تھوڑی ہے
25:17لوگوں کو جہنم میں ڈالنے کا
25:19لیکن اللہ کا ایک نظام ہے
25:20کہ جنت میں وہ جائے گا
25:21جو امتحان میں پورا اترے گا
25:22جو ناکام ہوگا
25:23اس کے لیے جہنم کیا گیا
25:24اگرچہ اللہ اس آگ پہ خوش نہیں ہوتا
25:27تب ہی تو قرآن کہتا ہے
25:28ما یفعالاللہ بی عذابکم
25:29اللہ تمہیں عذاب دے کے
25:30کیا کرے گا
25:30اس کو خوشی تھوڑی ہوتی ہے
25:31ان شکر تم و آمن
25:32تم بشر دے کے
25:33تم شکر کرو اور ایمان لے کر آؤ
25:35تم شکر کرو اور ایمان لے آؤ
25:36تو کیا ضرورت ہے اللہ کو عذاب دینے کی
25:37اللہ اپنے بندوں کو عذاب دے کر
25:39خوش نہیں ہوتا
25:42تو
25:44حدیث میں آتا ہے
25:44قیامت کے دین اعلان ہوگا
25:45کہاں ہیں وہ لوگ
25:47جب میں بھوکا تھا
25:48تو انہوں نے مجھے کھلایا
25:49دیکھو میں پیسہ خرش کرنے پر
25:51زیادہ فوکس کرتا ہوں
25:52اپنے بیانات میں
25:52بدنی عبادت کو میں عام طور پر
25:54زیادہ فوکس نہیں کرتا
25:56بدنی عبادت کرنے والے
25:57مارکیٹ میں
25:58ہول سیل کے حساب سے ملیں گے
25:59دلز میں دولت کی محبت نکل جائے
26:01ایسے آپ کو معاشرے میں
26:02آٹے میں نمک کے برابر ملیں گے
26:04یہ جو دولت ہے نا
26:06پیسہ آج اس کو
26:06لوگوں نے خدا بنا لیا ہے
26:07تب ہی چہروں کی رونکیں ختم ہو گئیں
26:09ہر وقت غریب غریب بنا پھر رہا ہوگا
26:11پیسہ ہی نہیں ہے
26:12جب بھی باگ پیسہ ہی نہیں ہے
26:14گزارہ ہی نہیں ہو رہا
26:17پیسہ ہی نہیں ہے
26:17گزارہ ہی نہیں ہو رہا
26:18یہی رونا ہے
26:18موں سے پتہ نہیں کیا
26:21خوش رہا کرو بھائی
26:23بولا یار
26:23بنتا تو ایک پراتھا تھا
26:24دو کھا لیا ہم نے
26:25بنتا تو ایک بھی نہیں ہے
26:26جو نیچرل خوراک ہے نا
26:27انسان کی دو ٹائم ہے
26:28یہ پراتھے تو
26:29صبح صبح یہ تو گریبی ہے
26:30اللہ گریبیاں بھی کھلا رہا ہے
26:31پھر بھی کہتے ہیں
26:32پیسہ ہی نہیں ہے
26:33کرائے کے گھر میں رہ رہا ہوں
26:34وہی موں سے برستہ رہے گا
26:36ان کو کسی وزیفوں سے
26:37سکون نہیں ملنے والا
26:38یہ پھر سکون کے لیاتے ہیں
26:39وزیفیں بتاؤ
26:39اور تمہارے اندر جو
26:41دنیا کی محبت کے گٹر اُبل رہے ہیں
26:42نا پیسہ
26:42جو تم نے
26:43ہندو تو پتھر کے بنے وے
26:44بت کی عبادت کرتا ہے
26:45آپ نے ان بتوں کو
26:46دل کے اندر داخل کر دیا ہے
26:47یہاں سے نکالو
26:48اور یہ جب تک
26:49روکڑا خرچ نہیں کرو گے
26:50نکلے گا نہیں ہے
26:50یہ بتا دوں
26:51اس کے لیے روکڑا خرچ کرنا
26:52ضرور
26:52زمانی تقریروں سے نہیں ہوگا
26:53نوٹوں کی گھڑیاں نکال نکال کے
26:55حدیعہ دیا کرو
26:55بھائی کو بہن کو
26:56اور صدقہ خیرات کیا کرو
26:58اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
26:59سب سے بہترین صدقہ وہ ہے
27:00تعمل الغنہ و تخش الفقر
27:02کہ تمہیں ڈر ہو کے صدقہ کیا
27:03تو کہی غروبت نہ آ جائے
27:04اور نہیں کیا
27:05تو پیسہ بنا لوں گا مزید
27:07اس ملی جولی کنڈیشن میں
27:09جو پیسہ نکلے گا
27:10اس پہ کیا ملے گا آپ کو
27:11سواب
27:13اور اللہ اس پہ خوش ہوگا
27:14اس پہ مال میں برکتے دے گا
27:15کہ مجھ پہ توقل کرتا ہے
27:17سمجھتے ہوگے نہیں سمجھتے
27:18تو پیسے کو ایسا خدا بنایا ہوا ہے
27:20بھائی بس کرو یار
27:21میرا بنگلہ
27:22میری گاڑی
27:22میرے پیسے
27:23میرا بستر
27:24میری بائیک
27:25ٹھیک ہے
27:26دوستوں یاروں میں تھوڑا بہت
27:27شکر کے طور پر ٹھیک ہے
27:28گاڑی نہیں خریدی ہے
27:29مٹھائی ہو جائے
27:29تو اچھی بات ہے
27:30یہ شکرانے کے طور پر
27:31تو ٹھیک ہے
27:31فخر کرنے کی چیزیں
27:33نہیں ہیں یہ
27:34یہ تو کھلونے ہیں مٹی کے
27:36بچے کو آپ نئی سائیکل
27:36دلا دیں
27:37دوستوں کے سامنے
27:37گھوماتا رہے گا
27:39میری سائیکل
27:40بڑے ہسرے ہوتے ہیں
27:41کہ اس کو کیا ہوگی
27:42اتنے سے کھلونے پر ہسر آئے
27:43تو بالکل جب ہم گاڑیوں پر
27:44فخر کرتے ہیں
27:44دو دو کروڑ کی
27:45تو فرشتے ایسے ہی ہستے ہیں
27:46کہ کھلونے مٹی کا
27:47لوہے سے نکلا لوہا بن جائے گا
27:48تھوڑے دنوں میں
27:49کبال میں بھگے گی یہ
27:51کھلونے
27:51ٹھین لیے جائیں گے آپ سے
27:52مر جاؤ گے
27:52تو یہ گاڑی
27:54آپ کے وارث چلائیں گے
27:55یہ گھر آپ کے وارثوں کے
27:56حصے میں آ جائے گا
27:58تو وہ میرے پاس آئے
27:59اور کہنے لگے
28:00یہ ضرورت
28:00وہ ضرورت
28:01میں مرہ جا رہا ہوں
28:01میں یہ ہو رہا ہوں
28:02تو فلانا ہو رہا ہوں
28:02تو اتنے پیسے چاہیے
28:03تو میں نے کہا
28:04آپ کی گاڑی کتنے کی ہے
28:06گاڑی تو بھائی میری ضرورت ہے
28:08تو میں نے کہا
28:09جو آپ کو بیماری آئی بھی ہے
28:10اس سے زیادہ ضروری ہے گاڑی
28:12یہ لوگوں کی سوچ بتا رہا ہوں
28:13میں اس کو سمجھیں
28:14کیونکہ بیان
28:14جب تک مثال نہ دی جائے
28:15تو جو سمجھانا چاہ رہا ہے
28:17انسان وہ سمجھ میں
28:18نہیں آتا ہے
28:18اس لئے میں وہ
28:19جو ریل مثالیں
28:20جو چل رہی ہے مارکیٹ میں
28:21جس طرح کے لوگوں میں
28:21چل رہا ہے اس آپ کتاب
28:23میں نے کہا آپ
28:24کہہ رہے ہیں
28:24آپ کے پاس پیسے نہیں ہے
28:25کہ میں نے کہا
28:25میرے پاس ہیں پیسے
28:27میرے پاس پیسے ہیں
28:28لیکن آپ کو دینے کے لیے
28:29نہیں ہے
28:31اتنا سچ بولنا بھی
28:32بڑا مشکل کام ہے
28:33میں نے کہا
28:34میرے پاس پیسے ہیں
28:34مگر آپ کو دینے کے لیے
28:35نہیں ہے
28:36آپ کا جو علاج
28:36کینسر ہے یا کچھ بھی ہے
28:37میں اس طرح سے
28:38کسی کا واقعہ بیان کرتا ہوں
28:39کہ اس کے خوابوں میں
28:40بھی نہ آئے
28:40کہ میرا واقعہ بیان ہو رہا ہے
28:41وہ نہیں پہنچے گا
28:42جس کا واقعہ ہے نا
28:42میں کچھ چیزیں
28:43بدل دیتا ہوں اس میں
28:44سمجھ رہے ہیں
28:45تاکہ کسی کے
28:46پردہ دری بھی نہ ہو
28:47اور وہ خود بھی
28:47اپنی بیزتی محسوس کرے
28:49تو اس لئے میں واقعہ
28:50کے جو
28:51اہم پوائنٹ
28:52تو باقی رکھتا ہوں
28:52باقی ساری کردار
28:53اور اہم پوائنٹ
28:54چیزیں چین کر دیتا ہوں
28:55میں
28:55تو میں نے ان سے کہا
28:57کہ آپ اپنی گاڑی
28:58کو بیچ دیں
29:00تو ہے میں تو
29:01بغیر گاڑی کے کیسے
29:01میں نے کہا
29:02W11 بہترین چیز ہے
29:04W11 کیا ہے
29:05میں نے کہا
29:06گاڑی بیچیں
29:07اور یہ پیسہ
29:07آپ علاج پہ لگائیں
29:09اور پھر آپ کے پاس
29:10اگر کنونس کے پیسے
29:11بھی نہ ہو
29:11تو W11 کی قرائے کے لیے
29:13میں آپ کو سکات دینے کے لیے
29:14تیار
29:15یہ تو واقعی پیدل تھوڑی جائے گا
29:16لانڈی ہے
29:17صدر کہیں جا رہے
29:17تو پیدل تھوڑی آئے گا
29:19ویسے تو
29:19اصولی طور پر
29:20جو غیرت بند لوگ ہوتے ہیں
29:20وہ کہتے ہیں
29:21پیدل چلے جائیں گے
29:21W11 کا کرایا بھی
29:22کسی سے نہیں لیں گے
29:23لیکن پھر یہ اس کے لیے
29:24بہت زیادہ تبقل چاہیے
29:25چلو ہم اس کا مقلف نہیں بناتے
29:27تو میں نے کہا
29:28کہ W11 ہے
29:28چنچیاں بھی چل رہی ہیں
29:29اب تو اللہ کا بڑا فضل ہوگی
29:30ایک چنچی سے
29:31یہاں سے پیٹرول پمپے اتریں
29:32دوسری بدل کے
29:33دوسری چنچی کھڑی ہوگی
29:34گروہ مندر پر
29:35ٹن مارا یہاں سے
29:36جیل روڈ کی طرف سے
29:37شارٹ کٹ بناوایا آج کل
29:37ٹھیک ہے نا
29:38پہنچیں آپ پڑے
29:40لیکن اس کے لیے تیار
29:41نہیں ہوتے
29:42لوگوں سے مانگ رہے ہیں
29:44اللہ کی ایک عادت ہے
29:45کہ جس نے مخلوق کے سامنے
29:46ایک دفعہ ہاتھ پھیلا لیا نا
29:48تو بس دنیا میں ہم نے دیکھا ہے
29:49کہ پھر وہ پھیلاتا ہی رہتا ہے
29:53اور حدیث میں آتا ہے
29:53مہین استعافف
29:54جس نے اپنی عزت کی حفاظت کر لی
29:56کیسے
29:56کہ ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا کسی کے سامنے
29:58اس کو کہتے ہیں عزت کی حفاظت
30:00لوگ کہتے ہیں نا
30:00یار آج تک اس ساتھ بھی نے مانگا نہیں ہے کبھی
30:02اچھا لگتا ہے نا یہ جملہ
30:04ورنہ کبھی سوسر سے پیسے مانگ رہا ہے
30:06کبھی سالوں سے مانگ رہا ہے
30:08کبھی کس سے مانگ رہا ہے
30:10تو منگتا بنا رہتا ہے
30:13تو میں نے ان سے کہا
30:15کہ آپ اپنی گاڑی
30:16بولو بیچیں
30:17ادھر ایک ساپ کسی کے
30:18ڈیڑ دو کروڑوں پہ لے کے بھاگ گئے
30:20مجھے کہنے لگے میں کہاں سے دوں
30:21بھائی میرے پاس تو پیسے ہی نہیں ہے
30:22جس سے میں نے قرضہ لیا
30:23میں تو دے ہی نہیں سکتا
30:24میری مدد کریں
30:25میں نے کہاں بالکل دے سکتے ہیں
30:26میں کہاں سے میں نے کہاں اپنا گھر بیچو
30:28دے دو اس کے ڈیڑ کروڑوں
30:29میں نے کہاں گھر بیچ کے روڑ پہ آجاؤں
30:30میں نے کہاں روڑ پہ نہیں آئیں گے
30:31آپ کراہی پہ لے لیں گھر
30:33میں نے کہاں گھر اگر کراہی پہ بھی پورا نہیں ہوتا
30:35کراہیہ بھی جیب سے نہیں نکل رہا
30:36تو پھر ہم آپ کے ساتھ انشاءاللہ تعاون
30:38بولتے کیوں نہیں کریں گے
30:39کیونکہ گھر بیسک ضرورت ہے انسان کے
30:41روڑ پہ تو نہیں رہ سکتا نا
30:43پیسے پہ ساپ بن کے بیٹھے ہوئے
30:45اور کہتے ہیں یہ جو قرض دینے والا
30:46,
30:46,
30:46,
30:46,
30:46,
30:46,
30:47,
30:47,
31:16foreign
31:18So that you guys had some Surah 지난 to get there.
31:21So that, you had to ask me on the show.
31:21That you had some of the time.
31:22You had to ask you on the show.
31:23He used to have a forgiveness.
31:24But you have to ask yourself,
31:25a goodwill of the love of God wasn't.
31:26But when God wants to walk with God.
31:28If you want to leave God, your people would have come to walk.
31:31Then you would have the opportunity to go towards God.
31:31How do I use this?
31:33That is how I am going to get the money.
31:37That is how I am going to get the money for you.
31:41That I am going to receive the money for you.
31:42Because I am going to get the money for you.
31:44Because I am going to pay for you.
31:45I am going to get the money for you.

Recommended